কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪১৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کی مسلسل تلاوت۔
4132: سعید بن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ میں ابن عباس اور ابن عمر (رض) سے سنا : کہ ہم وضو، ٹوٹنے کے بعد پانی چھوئے بغیر قرآن پڑھ لیتے ہیں۔ الجامع لعبد الرزاق۔
4132 - عن سعيد بن جبير قال سمعت ابن عباس وابن عمر قالا: "إنا لنقرأ من القرآن بعد الحدث لانمس ماء" "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کی مسلسل تلاوت۔
4133: (مسند عبداللہ بن عمرو (رض) عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مجھے) فرمایا : ایک مہینے میں ایک قرآن پڑھ لیا کر۔ میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اچھا پچیس دنوں میں قرآن پڑھ لیا کر۔ میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ فرمایا : اچھا بیس دنوں میں پڑھ لیا کر۔ عرض کیا : میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ فرمایا : پندرہ دنوں میں قرآن پڑھ لیا کر۔ عرض کیا : میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ فرمایا : دس دن میں قرآن پڑھ لیا کر۔ میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔ فرمایا : پانچ دنوں میں قرآن پڑھ لیا کر۔ میں نے عرض کیا : میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں فرمایا : (پس اس سے زیادہ) نہیں۔ رواہ ابن عساکر۔
4133 - "مسند عبد الله بن عمر" عن عبد الله بن عمرو قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقرأ القرآن في شهر، فقلت إني أقوى، قال: اقرأ في كل خمس وعشرين، قلت إني أقوى، قال: اقرأه في عشرين، قلت إني أقوى، قال: اقرأه في خمس عشرة، قلت إني أقوى، قال: اقرأه في عشر، قلت إني أقوى، قال: اقرأه في خمس، قلت إني أقوى قال: لا ". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سات راتوں میں ختم قرآن
4134: عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : قرآن کیسے پڑھو ؟ فرمایا : سات راتوں میں پڑھ لیا کر۔ میں مسلسل کم کرواتا رہا حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
ایک دن اور ایک رات میں پڑھ لیا کرو۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
ایک دن اور ایک رات میں پڑھ لیا کرو۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4134 - عن عبد الله بن عمرو "أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم، كيف أقرأ القرآن؟ قال: اقرأه في سبع ليال، فما زلت أناقصه حتى قال: اقرأه في كل يوم وليلة ". "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سات راتوں میں ختم قرآن
4135: عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے قرآن پاک جمع کرلیا میں اس کو ایک رات میں پڑھ لیا کرتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک ماہ میں پڑھ لیا کر۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! چھوڑئیے مجھے، میں اپنی طاقت اور جوانی کو کام میں لاؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیس دنوں میں پڑھ لیا کر۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! چھوڑیے مجھے، میں اپنی طاقت اور جوانی کو کام میں لاؤں۔ فرمایا : دس دنوں میں پڑھ لیا کر۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! چھوڑئیے مجھے، میں اپنی طاقت و جوانی کو کام میں لاؤں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار فرما دیا۔ (مسند ابی یعلی، ابن عساکر)
4135 - عن عبد الله بن عمرو قال: "جمعت القرآن، فقرأت به في ليلة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقرأه في شهر، قلت يا رسول الله دعني أستمتع من قوتي وشبابي، قال اقرأه في عشرين، قلت يا رسول الله دعني أستمتع من قوتي وشبابي، قال: اقرأه في عشر، قلت يا رسول الله دعني استمتع من قوتي وشبابي، قال: اقرأه في سبع ليال قلت: يا رسول الله دعني استمتع من قوتي وشبابي فأبى". "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سات راتوں میں ختم قرآن
4136: (ابن مسعود (رض)) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں قرآن میں ہمیشہ نظر رکھا کرو۔ ابن ابی داؤد فی المصاحف۔
4136 - "ابن مسعود" عن ابن مسعود قال: "أديموا النظر في المصحف". "ابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سات راتوں میں ختم قرآن
4137: (مغیرہ بن شعبہ (رض)) ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے ملنے کی اجازت چاہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج رات مجھ سے قرآن کا کچھ حصہ چھوٹ گیا ہے اور میں اس پر کسی کو ترجیح نہیں دیتا۔ ابن ابی داؤد فی المصاحف۔
4137 - "المغيرة بن شعبة" استأذن رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بين مكة والمدينة، فقال: "قد فاتني الليلة حزبي من القرآن، وإني لا أوثر عليه شيئا". "ابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سات راتوں میں ختم قرآن
4138: (معاذ (رض)) عبدالرحمن بن غنم فرماتے ہیں میں نے حضرت معاذ (رض) سے دریافت کیا کیا جنبی (جس پر غسل فرض ہو) قرآن پڑھ سکتا ہے ؟ فرمایا : ہاں اگر وہ پڑھنا چاہے تو پڑھ لے۔ میں نے عرض کیا : اور حائضہ ؟ فرمایا : ہاں (پڑھ سکتی ہے) میں نے عرض کیا : نافسہ (بچہ جنم دینے والی عورت ایام ناپاکی میں) فرمایا : ہاں (پڑھ سکتی ہے) ۔ کوئی بھی اللہ کا ذکر چھوڑے اور نہ اس کی کتاب کی تلاوت کسی بھی حال میں میں نے عرض کیا : لوگ تو ناپسند خیال کرتے ہیں ؟ فرمایا : جو اس کو ناپسند کرتا ہے وہ بچنے کے لیے کرتا ہے اور جو اس سے منع کرتا ہے اور وہ بغیر علم کے ایسا کرتا ہے اور جو اس سے منع کرتا ہے وہ بغیر علم کے ایسا کرتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی کسی بات سے منع نہیں فرمایا۔ رواہ ابن جریر۔ کلام : اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
4138 - "معاذ" عن عبد الرحمن بن غنم قال قلت لمعاذ: "أيقرأ الجنب؟ قال: نعم إن شاء، قلت والحائض؟ قال: نعم، قلت والنفساء؟ قال نعم، لا يدعن أحد ذكر الله، ولا تلاوة كتابه على حال: قلت فإن الناس يكرهونه، قال: من كرهه إنما كرهه تنزيها عنه، ومن نهى عنه فإنما يقول بغير علم، ما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شيء من ذلك". "ابن جرير" وسنده ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سات راتوں میں ختم قرآن
4139: (ابو امامہ (رض)) ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حج کرنے کے بعد میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ اکثر و بیشتر لا اقسم بیوم القیامۃ کی تلاوت فرماتے تھے اور جب آپ (آخری آیت) الیس ذلک بادر علی ان یحییٰ الموتی کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے ؟ پڑھتے تو میں آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنتا تھا، بلی و انا علی ذلک من الشاھدین۔ کیوں نہیں اور میں اس پر شاہد ہوں۔ رواہ ابن النجار۔
4139 - "أبو أمامة" عن أبي أمامة قال: "صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد حجته، فكان يكثر قراءة: {لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ} فإذا قال: {أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى} سمعته يقول: بلى وأنا على ذلك من الشاهدين ". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سات راتوں میں ختم قرآن
4140: حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد میں اعتکاف کیا۔ آپ اپنے معتکف میں تھے کہ آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآن پڑھتے سنا۔ آپ نے اپنے معتکف کا پردہ اٹھایا اور فرمایا : خبردار ! ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کررہا ہے۔ لہٰذا کوئی کسی کو ایذا نہ دے۔ اور قرآن پڑھتے ہوئے نماز میں یا غیر نماز میں ایک دوسرے سے اپنی آواز بلند نہ کرے۔ الجامع لعبد الرزاق۔
4140 - عن أبي سعيد: "اعتكف رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فسمعهم يجهرون بالقراءة وهو في قبة له فكشف الستور فقال: ألا إن كلكم يناجي ربه، فلا يؤذ بعضكم بعضا، ولا يرفعن بعضكم على بعض في القراءة، أو قال في الصلاة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سات راتوں میں ختم قرآن
4141: (ابوہریرہ (رض)) حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم پست آواز میں قرآن پڑھتے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : میں جس سے مناجات کرتا ہوں اس کو سناتا ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! میں تم کو سنا ہے کہ تم تیز آواز میں قرآن پڑھتے ہو ؟ عرض کیا : میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور اونگھنے والوں کو جگاتا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا : اے بلال میں تم کو سنا ہے کہ تم کچھ سورت سے کچھ یوں قرآن پڑھتے ہو ؟ عرض کیا : یہ (سارا) پاکیزہ کلام ہے جو اللہ پاک ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ تب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سب صحیح ہو۔ رواہ ابن عساکر۔
4141 - "أبو هريرة" عن أبي هريرة قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعتك يا أبا بكر تخافت بالقراءة، قال: قد أسمعت من ناجيت وقال: سمعتك يا عمر تجهر بقراءتك، قال: أنفر الشيطان، وأوقظ الوسنان، وسمعتك يا بلال من هذه السورة، ومن هذه السورة، قال كلام طيب يجمع الله بعضه إلى بعض، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: كلكم قد أصاب ". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت معتدل آواز سے ہو۔
4142: (مراسیل سعید (رح) بن المسیب) حضرت سعید بن السمیب (رح) (مشہور عبادت گذار ثقہ تابعی) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حضرت ابوبکر پر گذر ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے اور پست آواز میں قراءت کر رہے تھے حضرت عمر پر گذر ہوا تو وہ بلند اواز میں قراءت کر رہے تھے اور حضرت بلال (رض) کے پاس سے گذرے تو وہ ملا جلا کر قرآن پڑھ رہے تھے۔ صبح ہوئی تو سب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد جمع ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوبکر ! میں تمہارے پاس سے گزرا تھا تم پست آواز میں قرات کر رہے تھے۔ عرض کیا : جی ہاں۔ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں اس کو سنا رہا تھا جس سے میں سرگوشی کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : تھوڑی سی آواز بلند رکھا کرو۔ پھر آپ نے فرمایا : اے عمر میں تمہارے پاس سے گذرا تھا تم تیز آواز کے ساتھ قرآن پڑھ رہے تھے ؟ عرض کیا : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں رحمن کو سنا رہا تھا، شیطان کو بھگا رہا تھا اور اونگھتے ہوئے لوگوں کو جگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا : کچھ آواز پست رکھا کرو۔ پھر فرمایا : اے بلال میں تمہارے پاس سے گذرا تم کبھی اس سورت سے اور کبھی اس سورت سے پڑھ رہے تھے ؟ عرض کیا جی ہاں آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں میں اچھے کو اچھے کے ساتھ ملا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا : ہر سورة کو اسی طرح پڑھو۔ مصنف عبدالرزاق۔
فائدہ : ۔۔ مراسیل سے مراد وہ احادیث ہیں جن کو تابعی صحابہ کے واسطے چھوڑ کر نبی سے روایت منسوب کرتا ہے۔
فائدہ : ۔۔ مراسیل سے مراد وہ احادیث ہیں جن کو تابعی صحابہ کے واسطے چھوڑ کر نبی سے روایت منسوب کرتا ہے۔
4142 - "مراسيل سعيد بن المسيب" عن ابن المسيب قال: "مر النبي صلى الله عليه وسلم بأبي بكر وهو يصلي وهو يخافت، ومر بعمر وهو يجهر ومر ببلال وهو يخلط، فأصبحوا، فاجتمعوا عنده، فقال: مررت بك يا أبا بكر وأنت تخافت بقراءتك، قال أجل، بأبي أنت وأمي إني أسمع من أناجي، قال إرفع شيئا، قال: ومررت بك يا عمر وأنت تجهر بقراءتك، قال أجل بأبي أنت وأمي أسمع الرحمن، وأطرد الشيطان، وأوقظ الوسنان، قال أخفض شيئا، قال: مررت بك يا بلال وأنت تقرأ من هذه السورة ومن هذه السورة، قال أجل بأبي أنت وأمي أخلط الطيب بالطيب، قال: اقرأ كل سورة على نحوها ". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت معتدل آواز سے ہو۔
4143: (مراسیل طاؤس) حضرت طاؤس (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے اچھی تلاوت والا کون ہے ؟ فرمایا : جب تو اس کی قراءت سے تو تجھے محسوس ہو کہ وہ خدا سے ڈر رہا ہے۔ (الجامع لعبدالرزاق)
4143 - "مراسيل طاووس" عن طاووس قال: "سئل النبي صلى الله عليه وسلم من أحسن الناس قراءة؟ فقال: إذا سمعت قراءته رأيت أنه يخشى الله". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت معتدل آواز سے ہو۔
4144: (مراسیل عطاء) حضرت عطاء (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات ابوبکر (رض) کو سنا وہ نماز میں پست آواز میں قراءت کر رہے تھے۔ حضرت عمر (رض) کو سنا وہ بلند آواز میں قرآت کر رہے تھے۔ حضرت بلال (رض) کو سنا وہ مختلف سورتوں سے ملا جلا کر پڑھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : ابے ابوبکر ! میں نے تجھے پڑھتے ہوئے سنا تم پست آواز میں پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : میں اپنے رب سے مناجات کررہا تھا۔ اس لیے پست آواز میں پڑھ رہا تھا۔ آپ نے حضرت عمر (رض) کو فرمایا : اے عمر ! میں نے تم کو سنا تم بلند آواز میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : میں شیطان کو بھگا رہا تھا اور سونے والوں کو جگا رہا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا : اے بلال ! میں نے تم کو سنا کبھی اس سورت سے اور کبھی اس سورت سے پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : میں اچھے کو اچھے کے ساتھ ملا رہا تھا۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر ایک نے اچھا کیا۔ الجامع لعبد الرزاق۔
4144 - "مراسيل عطاء" عن عطاء "أن النبي صلى الله عليه وسلم استمع ليلة أبا بكر، فإذا هو يخافت بالقراءة في صلاته، واستمع عمر فإذا هو يرفع صوته، واستمع بلالا فإذا هو يأخذ من هذه السورة، ومن هذه السورة فقال استمعت إليك يا أبا بكر فإذا أنت تخفض صوتك، قال أخفض صوتي بنجاء ربي، قال: واستمعت إليك يا عمر فإذا أنت ترفع صوتك قال أنفر الشيطان، وأوقظ النائم، وقال واستمعت إليك يا بلال فإذا أنت تأخذ من هذه السورة، ومن هذه السورة، قال أخلط الطيب بالطيب أجمع بعضه إلى بعض، قال كل قد أحسن ". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت معتدل آواز سے ہو۔
4145: (مراسیل الزہری (رح)) حضرت زہری (رح) سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن حذافہ (رض) کے پاس سے گذرے وہ بلند آواز میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حذفہ مجھے مت سنا بکہ اللہ کو سنا۔ (رواہ عبدالرزاق)
4145 - "مراسيل الزهري" عن الزهري قال: "مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بعبد الله بن حذافة وهو يصلي يجهر بصوته، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: لا تسمعني يا حذافة وأسمع الله ". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت معتدل آواز سے ہو۔
4146: حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة رحمن تلاوت فرمائی حتی کہ اس سورت کو ختم کردیا پھر فرمایا : کیا بات ہے میں تم کو خاموش دیکھ رہا ہوں۔ جن تم سے زیادہ اچھا جواب دینے والے تھے۔ میں جب بھی ان پر یہ آیت پڑھتا۔ فبای آلاء ربکما تکذبان) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے ؟ تو جن کہتے : ولا بشیء من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد، اے رب ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلا سکتے پس تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔ الحسن بن سفیان۔
4146 - عن جابر قال، "قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم الرحمن حتى ختمها فقال: ما لي أراكم سكوتا للجن كانوا أحسن ردا منكم ما قرأت عليهم هذه الآية من مرة {فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ} إلا قالوا: ولا بشيء من نعمك ربنا نكذب فلك الحمد". "الحسن بن سفيان". مر برقم/2823/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت معتدل آواز سے ہو۔
4147: (مسند قیس بن ابی صعصعہ) آپ کا نام عمرو بن زید ہے۔ آپ صحابی رسول ہیں۔ قیس بن ابی صعصعہ سے مروی ہے انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں کتنے دنوں میں قرآن پڑھوں۔ فرمایا پندرہ دنوں میں۔ انھوں نے عرض کیا : میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر ہفتہ میں پڑھ لیا کرو۔ عرض میں اس سے زیادہ اپنے کو قوی پاتا ہوں۔ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چپ ہوگئے۔ پھر آپ چلے گئے۔ قیس (رض) فرتے ہیں اب میں پندرہ راتوں میں ختم قرآن کرتا ہوں اور کاش کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رخصت قبول کرلی ہوتی۔ (ابن مندہ، ابن عساکر)
4147 - "مسند قيس بن أبي صعصعة" واسمه عمرو بن زيد، عن قيس بن أبي صعصعة أنه قال: "يا رسول الله في كم أقرأ القرآن؟ قال: في كل خمس عشرة، قال فإني أجدني أقوى من ذلك، قال ففي كل جمعة قال: فإني أجدني أقوى من ذلك، فسكت وهو مغضب، ثم رجع فقال اقرأ في خمس عشرة ليلة، ثم قال: يا ليتني قبلت رخصة رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ابن منده كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلاوت معتدل آواز سے ہو۔
4148: یحییٰ بن سعید سے مروی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے جمعہ میں سبح اسم ربک الاعلی پڑھا تو سبحان ربی الاعلی کہا۔ پھر (دوسری رکعت میں) ھل اتاک حدیث الغاشیہ پڑھی۔ شعب الایمان للبیہقی۔
4148 - عن يحيى بن سعيد أن أبا موسى الأشعري "قرأ في الجمعة {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} فقال سبحان ربي الأعلى و {هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ} ". "هب". 1
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔ قرآن کے حقوق کے بیان میں۔
4149: (مسند صدیق (رض)) حضرت ابی ملیکہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رح) سے سوال کیا گیا حروف قرآن کی تفسیر کیا ہے ؟ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : کون سا آسماں مجھے سایہ دے گا، کون سی زمین مجھے چھپائے گی، میں کہاں جاؤں گا اور کیا کروں گا اگر میں نے کتاب اللہ کے حرف کے بارے میں وہ بات کہی جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں درست نہیں۔ ابن الانباری فی المصاحف۔
فائدہ 3068 نمبر حدیث کے ذیل میں حرف قرآن کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ اس مذکورہ حدیث میں اس بات کی سختی سے ممانعت کی طرف اشارہ ہے جو بات معلوم نہ ہو قرآن کے بارے میں قطعا نہ کہی جائے ورنہ یہ ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ کے زمرے میں شمار ہوگا۔ عافانا اللہ منہ۔
فائدہ 3068 نمبر حدیث کے ذیل میں حرف قرآن کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ اس مذکورہ حدیث میں اس بات کی سختی سے ممانعت کی طرف اشارہ ہے جو بات معلوم نہ ہو قرآن کے بارے میں قطعا نہ کہی جائے ورنہ یہ ومن اظلم ممن افتری علی اللہ الکذب اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ کے زمرے میں شمار ہوگا۔ عافانا اللہ منہ۔
4149 - "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي مليكة قال: "سئل أبو بكر عن تفسير حرف من القرآن؟ فقال: أي سماء تظلني وأي أرض تقلني وأين أذهب وكيف أصنع إذا قلت في حرف من كتاب الله بغير ما أراد تبارك وتعالى". "ابن الأنباري في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔ قرآن کے حقوق کے بیان میں۔
4150: حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا ارشاد عالی ہے اگر میں کتاب اللہ میں ایسی کوئی بات کہوں جو میں نے سنی نہ ہو تو کون سا آسمان مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے چھپائے گی ؟ مسدد۔
4150 - عن أبي بكر الصديق قال: "أي سماء تظلني وأي أرض تقلني إذا قلت في كتاب الله ما لا أسمع". "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔ قرآن کے حقوق کے بیان میں۔
4151: قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اگر میں اپنی رائے سے قرآن میں کچھ کہوں تو کون سا آسمان ہے جو مجھے سایہ دے گا اور کون سی زمین ہے جو مجھے چھپالے گی۔ شعب الایمان للبیہقی۔
4151 - عن القاسم بن محمد أن أبا بكر الصديق قال "أي سماء تظلني وأي أرض تقلني إذا قلت في كتاب الله برأيي". "هب".
তাহকীক: