কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪১৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔ قرآن کے حقوق کے بیان میں۔
4152: لیث بن سعد روایت کرتے ہیں ابو الازہر سے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا :

مجھے ایک آیت حفظ کرنے سے زیادہ پسند ہے کہ اس کو تجوید کے ساتھ اچھی طرح پڑھوں۔ (ابو عبید فی فضائل القرآن، کتاب الاشراف لابن ابی الدنیا، الایضاح للانباری)
4152 - عن الليث بن سعد عن أبي الأزهر "أن أبا بكر الصديق قال: لأن أعرب آية من القرآن أحب إلي من أحفظ آية". "أبو عبيد في فضائل القرآن وابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف وابن الأنباري في الإيضاح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔ قرآن کے حقوق کے بیان میں۔
4153: (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں جنبی اور حائضہ کو قرآن نہ پڑھنا چاہیے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند الدارمی)
4153 - "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: "لا يقرأ الجنب والحائض القرآن" "ش والدارمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔ قرآن کے حقوق کے بیان میں۔
4154: حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے پڑھا : وفاکھۃ وابا (جنتیوں کے لیے میوے اور چارے ہوں گے) پھر فرمایا : فاکھۃ، تو ہم نے جان لیا، یہ ابا کیا ہے ؟ پھر فرمایا : ٹھہرو۔ ہم کو تکلف (از خود معنی بیان) لازم نہیں ہے کہ تو ضرور ابا کے معنی جان لے جو تم کو معلوم ہو اس پر عمل کرو اور جس کو نہیں جانتے اس کو اس کے جاننے والے کے سپرد کردو۔ (السنن لسعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ، ابو عبید فی فضائلہ ابن سعد، عبد بن حمید، ابن المنذر، المصاحف لابن الانباری، مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیہقی، ابن مردویہ۔
4154 - عن أنس قال قرأ عمر: " {وَفَاكِهَةً وَأَبّاً} فقال هذه الفاكهة قد عرفناها فما الأب؟ ثم قال مه نهينا عن التكلف وفي لفظ: ثم قال إن هذا لهو التكلف يا عمر، فما عليك ألا تدري ما الأب، اتبعوا ما بين لكم من هذا الكتاب، واعملوا به، وما لم تعرفوه فكلوه إلى عالمه". "ص ش وأبو عبيد في فضائله وابن سعد وعبد بن حميد وابن المنذر وابن الأنباري في المصاحف ك هب وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔ قرآن کے حقوق کے بیان میں۔
4155: ابو وائل سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) سے " ابا " کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ہمیں اس کو ضرور جاننے کا مکلف نہیں کیا گیا اور نہ اس کا حکم دیا گیا۔ رواہ ابن مردویہ۔
4155 - عن أبي وائل أن عمر سئل عن قوله {وَأَبّاً} ما الأب؟ ثم قال ما كلفنا هذا، وما أمرنا بهذا". "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے مطلب اخذ میں نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا۔
4156: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں یہ قرآن (اللہ کا) کلام جو اس کی جگہیں ہیں وہاں اس کو رکھو۔ اور اس میں اپنی خواہشات کی اتباع نہ کرو۔ (احمد فی الزھد، البیہقی فی الاسماء والصفات)
4156 - عن عمر قال: "إن هذا القرآن كلام فضعوه على مواضعه ولا تتبعوا فيه أهواءكم". "حم في الزهد ق في الأسماء والصفات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے مطلب اخذ میں نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا۔
4157: ابی ملیکہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں ایک اعرابی مدینہ آیا (جو اس وقت اسلامی دنیا کا دارالخلافہ تھا) اعرابی نے کہا : جو اللہ نے محمد پر نازل کیا ہے مجھے کون سکھائے گا ؟ ایک شخص نے ایک دیہاتی کو سورة برأت سکھائی اور یہ آیت یوں پڑھائی ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہ اور ورسولہ کو ورسولہ زیر کے ساتھ پڑھا۔ جس کے معنی یہ ہوگئے کہ اللہ مشرکین اور رسول سے بری ہے۔ چنانچہ اعرابی نے کہا : کیا اللہ رسول سے بری ہے ؟ اس اعرابی نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! میں مدینہ میں آیا، مجھے قرآن کا کچھ علم نہیں تھا۔ سو میں نے کہا مجھے کون قرآن سکھائے گا ؟ اس شخص نے مجھے سورة برات سکھائی اور یوں پڑھائی ان اللہ بریء من المشرکین ورسولہ۔ میں نے کہا اگر اللہ ہی رسول سے بری ہو تو میں اور زیادہ رسول سے بری ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اعرابی یہ آیت یوں نہیں ہے اعرابی نے پوچھا : اور کیسے ہے یا امیر المومنین ! فرمایا : ان اللہ و بریء من المشرکین و رسولہ ہے جس کا معنی ہے اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہیں۔ اعرابی نے کہا : اللہ کی قسم میں بھی مشرکین سے بری ہوں جن سے اللہ اور اس کا رسول بری ہیں۔

پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حکم جاری کیا کہ کوئی شخص قرآن نہ پڑھائے سوائے زبان کے جاننے والے عالم کے۔ اور پھر آپ نے ابو الاسود (رح) کو نحو (عربی گرامر) لکھنے کا حکم فرمایا۔ ابن الانباری فی الوقت والابتداء۔
4157 - عن أبي مليكة قال: "قدم أعرابي في زمان عمر فقال: من يقرئني مما أنزل الله على محمد؟ فأقرأه رجل براءة، فقال إن الله بريء من المشركين ورسوله بالجر، فقال الأعرابي: أو قد برئ الله من رسوله إن يكن الله برئ من رسوله فأنا بريء منه، فبلغ عمر مقالة الأعرابي فدعاه فقال: يا أعرابي أتبرأ من رسول الله؟ وقال: يا أمير المؤمنين إني قدمت المدينة ولا علم لي القرآن، فسألت من يقرئني؟ فأقرأني هذا سورة {بَرَاءَةٌ} فقال: {أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ} فقلت أو قد برئ الله من رسوله؟ فإن يكن الله بريء من رسوله فأنا أبرأ منه؟ فقال عمر ليس هكذا يا أعرابي، قال فكيف يا أمير المؤمنين قال: إن الله بريء من المشركين ورسوله، فقال الأعرابي: وأنا والله أبرأ ممن برئ الله ورسوله منه، فأمر عمر بن الخطاب أن لا يقرئ الناس إلا عالم باللغة، وأمر أبا الأسود فوضع النحو". "ابن الأنباري في الوقف والإبتداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے مطلب اخذ میں نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا۔
4158: حضرت عمر (رض) کا فرمان ہے : یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ پس میں تم کو نہ پاؤں کہ اپنی خواہشات کے ساتھ اس پر جھک جاؤ (کہ اس کی تفسیر و تشریح اپنی خواہشات کے مطابق کرنے لگو) ۔ الدارمی، الروعی الجہمیۃ لعثمان بن سعید، الاسماء والصفات للبیہقی)
4158 - عن عمر قال:"إن هذا القرآن كلام الله، فلا أعرفنكم ما عطفتموه على أهوائكم". "الدارمي وعثمان بن سعيد في الرد على الجهمية ق في الأسماء والصفات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے مطلب اخذ میں نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا۔
4159: حضرت حسن سے مروی ہے کہ یہ لوگ مصر میں (گورنر) عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے ملاقات کرنے گئے۔ انھوں نے کہا : ہم کتاب اللہ کے کچھ احکام دیکھتے ہیں جن پر عمل کرنے کا حکم ہے عمل نہیں کیا جا رہا ہے وہ آپ سے اس بارے میں ملنے آئے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان سب کو جمع کرکے میرے پاس لاؤ۔ حضرت عبداللہ ان سب کو حضرت عمر کے پاس لے آئے۔ حضرت عمر نے ان میں سب سے ادنی (کمتر) شخص کو آگے کیا اور پوچھا : میں تجھے اللہ کا اور اسلام کے حق کا واسطہ دیتا ہوں، بتا کیا تو نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں۔ پوچھا : کیا اس میں کچھ یاد بھی ہے ؟ عرض کیا : نہیں۔ پوچھا : کیا اپنی آنکھ میں کچھ یاد رکھا ؟ (یعنی نگاہوں اور خیالوں میں کچھ یاد ہے ؟ ) عرض کیا نہین۔ فرمایا : اچھا کچھ الفاظ قرآن کے یاد ہیں ؟ عرض کیا نہیں۔ فرمایا : کیا کچھ اثرات قرآن کے محفوظ کیے ہیں۔ عرض کیا : نہیں۔ پھر شروع سے آخر تک سب لوگوں سے آپ نے ہی سوالات کیے۔ لیکن سب سے یہی جواب ملے۔ پھر حضرت عمر (رض) فرمانے لگے۔ عمر کی ماں عمر کو گم کردے۔ کیا تم لوگ (اپنی اس حالت کے باوجود) اپنے امیر کو اس کا مکلف کرتے ہو کہ وہ سب لوگوں کو کتاب اللہ پر جمع ہونے کا مکلف کردے۔ ہمارے رب کو معلوم ہے کہ ہم سے سیئات (چھوٹے) گناہ سرزد ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے فرمایا :

ان تجتنبوا کبائر ماتنہون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما۔

اگر ان بڑے گناہوں سے بچو، جن سے تم کو روکا جاتا ہے تو ہم تم سے تمہاری (چھوٹی) برائیاں معاف کردیں گے اور تم کو اچھے ٹھکانے میں داخل کردیں گے۔

پھر پوچھا کیا اہل مدینہ کو علم ہے کہ تم کس بارے میں یہاں آئے ہو ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : اگر ان کو بھی علم ہوجاتا تو تم کو سبق سکھاتا۔ (رواہ ابن جریر)
4159 - عن الحسن "أن ناسا لقوا عبد الله بن عمرو بمصر، فقالوا نرى أشياء من كتاب الله أمر أن يعمل بها لا يعمل بها، فأردنا أن نلقى أمير المؤمنين في ذلك فقدم وقدموا معه، فلقي عمر، فقال: يا أمير المؤمنين أن ناسا لقوني بمصر، فقالوا إنا نرى أشياء من كتاب الله أمر أن يعمل بها لا يعمل بها فأحبوا أن يلقوك في ذلك، فقال أجمعهم لي فجمعهم له، فأخذ أدناهم رجلا، فقال: أنشدك بالله وبحق الإسلام عليك أقرأت القرآن كله؟ فقال: نعم: قال فهل أحصيته في نفسك؟ قال: لا، قال فهل أحصيته في بصرك؟ قال: لا، قال فهل أحصيته في لفظك هل أحصيته في أثرك؟ ثم تتبعهم حتى أتى على آخرهم، قال: ثكلت عمر أمه، أتكلفونه أن يقيم الناس على كتاب الله؟ قد علم ربنا أنه سيكون لنا سيئات وتلا {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلاً كَرِيماً} هل علم أهل المدينة فيم قدمتم؟ قالوا لا قال لو علموا لوعظت بكم. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے مطلب اخذ میں نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا۔
4160: عبادہ بن نسی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے : قرآن کے نسخون کی خریدو فروخت مت کرو۔ رواہ ابن ابی داود)
4160 - عن عبادة بن نسي أن عمر كان يقول: "لا تبيعوا المصاحف، ولا تشتروها"."ابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4161: ابن عمر (رض) کے غلام سے مروی ہے کہ صبیغ العراق نے مسلمان لشکروں میں قرآن کے متعلق چند غیر ضروری چیزوں کے بارے میں سوالات کرنا شروع کیے۔ حتی کہ وہ (اس طرح کے فضول) سوالات کرتا ہوا مصر میں آگیا۔ آخرت حضرت عمرو بن العاص (رض) نے اس کو حضرت عمر بن خطاب (رض) امیر المومنین کے پاس بھیج دیا۔ اور ایک قاصد کو (اس کے بارے میں) خط دے کر بھیجا۔ جب قاصد خط لے کر آپ (رض) کے پاس پہنچا اور آپ نے خط پڑھا تو پوچھا کہاں ہے وہ شخص ؟ عرض کیا : سواری پر ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : دیکھو اگر وہ چلا گیا تو تجھے بڑی سخت سزا دون گا لہٰذا جلدی اس کو لے کر آ ! چنانچہ قاصد (جلدی کے ساتھ) اس کو لے کر حاضر ہوا۔

آپ (رض) نے اس سائل صبیغ عراقی سے پوچھا : تو کس چیز کے بارے میں سوال کرتا پھر رہا ہے ؟ اس نے اپنے سوالات بیان کیے۔

راوی ابن عمر کے غلام کہتے ہیں حضرت عمر (رض) نے میرے اس ایک شخص کو چھڑی لانے کے لیے بھیجا۔ چنانچہ پھر چھڑی کے ساتھ اس کو اس قدر مارا اس قدر مارا کہ اس کی کمر (بھڑوں کا) چھتہ بنا کر چھوڑا۔ پھر اس کو چھوڑا اور وہ کچھ عرصہ بعد صحت یاب ہوگیا پھر بلا کر پہلے کی طرح خوب مارا۔ پھر چھوڑ دیا حتی کہ وہ صحت یاب ہوگیا۔ پھر بلایا تاکہ سہ بارہ اس کو سزا دیں۔ اس بار صبیغ عراقی نے کہا : یا امیر المومنین اگر آپ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو اچھی طرح قتل کردیجیے اور اگر میری دوا دارو کرنا چاہتے ہیں تو وہ میں بالکل صحت یاب ہوں۔ آخر حضرت عمر (رض) نے اس کو اپنے وطن جانے کی اجات مرحمت فرما دی۔ اور وہاں کے امیر حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو لکھ بھیجا۔ اس شخص کے ساتھ کوئی نہ اٹھے بیٹھے۔

لوگوں سے یہ قطع تعلقی اس کو (حضرت عمر (رض) کی دی گئی سزا سے بھی زیادہ) سخت دشوار گذری۔ چنانچہ ابو موسیٰ اشعری (رض) نے حضرت عمر (رض) کو لکھا کہ وہ شخص درست ہوگیا ہے۔ تب حضرت عمر (رض) نے ابو موسیٰ (رض) کو لکھا کہ اس کو لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے کی اجازت دے دو ۔ (الدارمی، ابن عبدالحکیم، ابن عساکر)
4161 - عن مولى ابن عمر "أن صبيغا العراقي جعل يسأل عن أشياء من القرآن في أجناد المسلمين، حتى قدم مصر، فبعث به عمرو بن العاص إلى عمر بن الخطاب، فلما أتاه الرسول بالكتاب، فقرأه، فقال: أين الرجل؟ قال في الرحل، قال عمر أبصر أن يكون ذهب فتصيبك مني العقوبة الموجعة فأتاه، فقال له عمر: عم تسأل؟ فحدثه، فأرسل عمر إلي يطلب الجريد، فضربه بها حتى ترك ظهره دبرة1 ثم تركه حتى برأ، ثم عاد له، ثم تركه حتى برأ، ثم دعا به ليعود له، فقال صبيغ يا أمير المؤمنين إن كنت تريد قتلي فاقتلني قتلا جميلا، وإن كنت تريد أن تداويني فقد والله برأت، فأذن له إلى أرضه، وكتب له إلى أبي موسى الأشعري أن لا يجالسه أحد من المسلمين، فاشتد ذلك على الرجل فكتب أبو موسى إلى عمر أن قد حسنت هيئته، فكتب أن ائذن للناس في مجالسته. "الدارمي وابن عبد الحكم كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4162: حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کو لے کر دشمن کی سرزمین میں سفر کرنے سے منع فرمایا ہے کہیں دشمن اس کو نہ لے لے (اور بےحرمتی کرے) چنانچہ حضرت عمر (رض) نے یہ حکم تمام (اسلامی) شہروں میں لکھ بھیجا۔ (رواہ ابن ابی داود)
4162 - عن ابن عمر قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يسافر بالقرآن إلى أرض العدو مخافة أن ينالوا منه شيئا، وكتب به عمر إلى الأمصار". "ابن أبي داود". ومر برقم/2840/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4163: اسیر بن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو یہ بات پہنچی کہ (امیر لشکر) سعد (رض) نے یہ حکم دیا ہے کہ جو قرآن پڑھ لے میں اس کو سردار بنا دوں گا۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : افسوس ! افسوس ! کیا کتاب اللہ ان رتبوں کی محتاج ہے۔ (ابو عبید، علی بن حرب الطائی فی الثانی من حدیثہ)
4163 - عن أسير بن عمر وقال بلغ عمر بن الخطاب أن سعدا قال: "من قرأ القرآن ألحقته في العين1 فقال عمر: أف أف، أيعطى على كتاب الله عز وجل؟ " "أبو عبيد وعلي بن حرب الطائي في الثاني من حديثه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4164: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : قرآن کو اچھی طرح (تجوید کی رعایت کے ساتھ) پڑھو جس طرح تم اس کو حفظ کرتے ہو۔ (ابو عبید و ابن الانباری فی الایضاح)
4164 - عن عمر قال: "تعلموا إعراب القرآن كما تعلموا حفظه". "أبو عبيد وابن الأنباري في الإيضاح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4165: حضرت ابو الاسود سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کے قرآن کا ایک نسخہ پایا جو اس نے باریک قلم کے ساتھ لکھا ہوا تھا۔ پوچھا : یہ کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا یہ (اتنا سا پورا قرآن ہے۔ حضرت عمر (رض)) کو یہ بات ناگوار لگی اور اس شخص کو مارا اور فرمایا کتاب اللہ کی عظمت کرو۔ چنانچہ جب آپ مصحف (بڑا لکھا ہوا قرآن) دیکھتے تو خوش ہوجاتے۔ (ابو عبید)
4165 - عن أبي الأسود "أن عمر بن الخطاب وجد مع رجل مصحفا قد كتبه بقلم دقيق، فقال: ما هذا؟ فقال: القرآن كله فكره ذلك وضربه، وقال: عظموا كتاب الله، وكان إذا رأى مصحفا سره". "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4166: ابی کنانہ قرشی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے مغیرہ بن شعبہ کو لکھا کہ مجھے تمہاری طرف سے ایسی بات پہنچی ہے کہ اگر تم اس سے پہلے ہی مرجاتے تو تمہارے لیے بہت اچھا ہوتا۔ اور (امیر شہر) حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو لکھا کہ جو لوگ قرآن کو ظاہراً (بغیر دیکھے یاد داشت کے بل پر) پڑھتے ہیں ان کا مجھے بتاؤ۔ ابن سعد (رض) ۔

فائدہ : اس حدیث کی شرح و توضیح بندہ پر واضح نہ ہوسکی۔ کسی صاحب علم کی نظری روایت گذرے تو بندہ کو ضرور مطلع کرے جزاہ الہو خیر الجزاء۔ محمد اصغر۔ دار الاشاعت۔
4166 - عن أبي كنانة القرشي قال: "كتب عمر مع الأشعري إلى المغيرة ابن شعبة أنه بلغني عنك ما لو مت قبله كان خيرا لك وكتب عمر إلى أبي موسى أن اكتب إلي من قرأ القرآن ظاهرا "2. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4167: ابراہیم تیمی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) ایک مرتبہ بالکل تنہا تھے، چنانچہ آپ (رض) اپنے جی میں کچھ سوچنے لگے۔ پھر حضرت ابن عباس (رض) کو بلایا اور فرمایا : یہ امت کیسے منتشر ہوسکتی ہے جب کہ ان کی کتاب ایک ہے، نبی ایک ہے اور قبلہ بھی ایک ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے عرض کیا : یا امیر المومنین ہم پر قرآن نازل ہوا ہم نے اس کو پڑھا اور سمجھ لیا کہ کس بارے میں نازل ہوا ہے۔

اب ہمارے بعد ایسی قوم آئے گی جو قرآن پڑھے گی لیکن اس کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ کس بارے میں نازل ہوا ہے۔ چنانچہ ہر قوسم کی الگ رائے ہوگی تو ان میں اختلاف پیدا ہوگا یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے ان کو جھڑکا اور ڈانٹ دیا۔ چنانچہ حضرت ابن عباس (رض) لوٹ گئے۔ (پھر بعد میں بلایا اور ان کی بات کو صحیح سمجھا پھر فرمایا : اپنی بات دہراؤ (السنن لسعید، شعب الایمان للبیہقی، الجامع للخطیب)

فائدہ : اللہ پاک ہمیں اپنی رائے سے کلام اللہ میں لاف زنی کرنے سے بچائے۔

حضرت ابن عباس (رض) دور عمر (رض) میں نوعمر لڑکے تھے لیکن حضرت عمر (رض) کو ان کے علم پر اعتماد تھا۔ اسی وجہ سے بھری محفل میں جہاں بڑے بڑے اکابر صحابہ ہوتے تھے وہاں بھی آپ (رض) ان کو بلاتے اور ان کی رائے کو اہمیت دیتے تھے۔

اسی وجہ سے جب آپ کے دل میں یہ سوال پیدا ہوا تو ان کو بلایا اور بالآخر اس کو درست قرار دیا۔
4167 - عن إبراهيم التيمي قال، "خلا عمر بن الخطاب ذات يوم فجعل يحدث نفسه، فأرسل إلى ابن عباس، فقال: كيف تختلف هذه الأمة وكتابها واحد ونبيها واحد وقبلتها واحدة؟ قال ابن عباس: يا أمير المؤمنين إنا أنزل علينا القرآن، فقرأناه وعلمنا فيما نزل، وإنه يكون بعدنا أقوام يقرؤون القرآن لا يعرفون فيم نزل، فيكون لكل قوم فيه رأي، فإذا كان لكل قوم فيه رأي اختلفوا، فإذا اختلفوا اقتتلوا، فزبره عمر، وانتهره وانصرف ابن عباس، ثم دعاه بعد فعرف الذي قال، ثم قال إيها أعد". "ص هب خط في الجامع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4168: سلیمان بن یسار (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) کچھ لوگوں کے پاس پہنچے دیکھا کہ وہ قرآن پڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ فرمایا : ہم قرآن پڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں۔ فرمایا : ایک دوسرے سے پوچھ کر صحیح پڑھتے رہو اور غلطی نہ کرو۔ السنن لسعید بن منصور، ابن الانباری فی الایضاح، شعب الایمان للبیہقی)
4168 - عن سليمان بن يسار قال: "خرج عمر على قوم يقرؤون القرآن ويتراجعون فيه، فقال: ما هذا؟ قالوا نقرأ القرآن، ونتراجع قال تراجعوا ولا تلحنوا". "ص وابن الأنباري في الإيضاح هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4169: سائب بن یزید سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب تشریف لائے تو ان کو کہا گیا :

یا امیر المومنین ! ہم ایک ایسے آدمی سے ملے ہیں جو قرآن کی مشکل آیات کے بارے میں سوال کرتا پھر رہا ہے (جن کی صحیح تشریح خدا ہی کو معلوم ہے) تو حضرت عمر (رض) نے فورا دعا کی : اے اللہ ! مجھے اس شخص پر قدرت دیدے۔

چنانچہ حضرت عمر (رض) ایک مرتبہ یونہی بیٹھے لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے کہ اچانک وہی شخص آگیا، اس پر کپڑے اور ایک چھوٹا سا عمامہ تھا۔ جب آپ (رض) فارغ ہوگئے تو اس شخص نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! والذاریات ذروا فالحاملات وقرا بکھیرنے والیوں کی قسم ! جو اڑا کر بکھیرتی ہیں۔ پھر بوجھ اٹھاتی ہیں۔ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے فرمایا : کیا تو ہی وہ شخص ہے ؟ پھر آپ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے کاندھوں سے کپڑا گرا کر اتنا مارا اتنا مارا کہ اس کے سر سے عمامہ گرگیا۔ پھر فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے، اگر میں تجھے گنجا سر پاتا تو تیری گردن ہی اڑا دیتا۔ پھر آپ نے حکم فرمایا : اس کو کپڑے پہناؤ اور سوار کرکے اس کو یہاں سے نکالو اور اس کے شہر پہنچا کر آؤ۔ پھر وہاں کا خطیب کھڑے ہو کر اعلان کردے کہ صبیغ علم کی تلاش میں نکلا تھا لیکن خطا کھا گیا۔

(چنانچہ آپ (رض) کے حکم کی تعمیل کی گئی اور اس کی وجہ سے) وہ شخص جو کہ اپنی قوم کا سردار تھا مسلسل ذلت کا شکار رہا اور اسی حال میں مرگیا۔ (ابن الانباری فی المصاحف نصر المقدس فی الحجۃ، اللالکانی ابن عساکر)

فائدہ : قرآن کی جن آیات کی تشریح و توضیح صحیح احادیث وغیرہ میں منقول نہیں ہے ان کی توضیح کی کھوج میں لگنا ممنوع ہے۔ جس سے عقائد میں خلل پڑتا ہے۔ اور ایسی کھوج کرنے والوں کو اللہ نے گمراہ قرار دیا ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔ حضرت عمر (رض) کا یہ فرمان کیہ اگر تو گنجے سر والا ہوتا تو تیری گردن اڑا دیتا اس سے سر منڈوانے کی ممانعت مقصود نہیں بلکہ اس زمانے میں ایک گمراہ فرقہ حروریہ تھا جو سر منڈواتا تھا اور بہت اختلاف کا شکار تھا ان کی پیش گوئی حدیث میں بھی کی گئی تھی۔
4169 - عن السائب بن يزيد قال: "أتى عمر بن الخطاب فقيل: يا أمير المؤمنين إنا لقينا رجلا يسأل عن تأويل مشكل القرآن، فقال عمر: اللهم أمكني منه، فبينما عمر ذات يوم جالس يغدي الناس إذ جاء وعليه ثياب وعمامة صغراء، حتى إذا فرغ قال: يا أمير المؤمنين {وَالذَّارِيَاتِ ذَرْواً فَالْحَامِلاتِ وِقْراً} فقال عمر أنت هو، فقام إليه وحسر عن ذراعيه فلم يزل يجلده حتى سقطت عمامته، فقال: والذي نفس عمر بيده لو وجدتك محلوقا لضربت رأسك، ألبسوه ثيابا واحملوه على قتب، وأخرجوه حتى تقدموا به بلاده، ثم ليقم خطيب، ثم يقول: إن صبيغا ابتغى العلم فأخطأه، فلم يزل وضيعا في قومه حتى هلك، وكان سيد قومه". "ابن الأنباري في المصاحف ونصر المقدسي في الحجة واللالكائي كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4170: سلیمان بن یسار (رح) سے مروی ہے کہ بنی تمیم کا ایک شخص جس کو صبیغ بن عسل کہا جاتا تھا مدینہ آیا۔ اس کے پا چند کتابیں تھیں وہ لوگوں سے قرآن کے متشابہات (جن کے صحیح معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں مثلا سورتوں کے پہلے کلمات ص، کفہیعص اور ان کے علاوہ جن کے لفظی معنی تو معلوم ہیں لیکن ان کی حقیقت اللہ ہی کو معلوم ہے۔ ) کے بارے میں سوالات کرنے لگا۔ حضرت عمر (رض) کو اس کی خبر پہنچی تو اس کو بلوایا اور کھجور کی دو چھڑیاں اس کے لیے تیار کرلیں۔ چنانچہ جب وہ آیا تو آپ نے پوچھا تم کون ہو ؟ اس نے کہا : میں اللہ کا بندہ صبیغ ہوں۔ آپ (رض) نے فرمایا : اور میں اللہ کا بندہ عمر ہوں۔ پھر آپ نے اشارہ کیا اور ان دو چھڑیوں کے ساتھ اس کو مارنا شروع کردیا حتی کہ اس کو زخمی کردیا اور خون اس کے چہرے پر بہنے لگا۔ آخر اس نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! بس کافی ہے اللہ کی قسم ! جو میرے سر میں (خناس) تھا وہ نکل گیا ہے۔ (مسند الدارمی، نصر و الاصبہانی معا فی الحجۃ ابن الانباری، اللالکانی، ابن عساکر)
4170 - عن سليمان بن يسار "أن رجلا من بني تميم، يقال له صبيغ بن عسل قدم المدينة، وكان عنده كتب، فجعل يسأل عن متشابه القرآن، فبلغ ذلك عمر، فبعث إليه، وقد أعد له عراجين النخل فلما دخل عليه قال: من أنت؟ قال: أنا عبد الله صبيغ، قال عمر وأنا عبد الله عمر وأومأ إليه، فجعل يضربه بتلك العراجين، فما زال يضربه حتى شجه وجعل الدم يسيل على وجهه، فقال: حسبك يا أمير المؤمنين فقد والله ذهب الذي أجد في رأسي". "الدارمي ونصر والأصبهاني معا في الحجة وابن الأنباري واللالكائي كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4171: ابو العدبس سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : ہم عمر بن خطاب (رض) کے پاس تھے۔ ایک شخص آپ (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا : یا امیر المومنین ! ما الجوار الکنس (سپرد کرتے ہیں اور غائب ہوجاتے ہیں) سے کیا مراد ہے۔ حضرت عمر (رض) نے چھڑی اس کے عمامہ پر ماری اور اس کو سر سے گرا دیا۔ اور فرمایا : کیا تو حروری تو نہیں ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے اگر میں تجھے گنجا سر پاتا تو تیرے سر کی کھال بھی اتار دیتا۔ الکنی للحاکم۔
4171 - عن أبي العدبس1 قال: "كنا عند عمر بن الخطاب فأتاه رجل، فقال يا أمير المؤمنين: ما {الْجَوَارِ الْكُنَّسِ} فطعن عمر بمخصرة معه في عمامة الرجل، فألقاها عن رأسه، فقال عمر: احروري والذي نفس عمر بن الخطاب بيده لو وجدتك محلوقا لأنحيت القمل عن رأسك" "الحاكم في الكنى".
tahqiq

তাহকীক: