কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৪১৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4172: حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے صبیغ الکوفی کو قرآن کے حرف کے بارے میں پوچھنے پر اس قدر مارا کہ خون اس کی پیٹھ سے تیز بہہ رہا تھا (رواہ ابن عساکر)
4172 - عن أنس "أن عمر بن الخطاب جلد صبيغا الكوفي في مسالة عن حرف من القرآن، حتى اضطربت الدماء في ظهره". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4173: ابی عثمان الہذی سے مروی ہے وہ صبیغ سے روایت کرتے ہیں صبیغ کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے والمرسلات، والذاریات، والنازعات (وغیرہ) کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : سر سے کپڑا ہٹاؤ۔ اس نے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ بال دو رخ سنورے ہوئے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا : اگر تو نجگے سر والا ہوتا تو میں یہ سر ہی اڑا دیتا جس میں تیری دو آنکھیں ہیں۔ پھر آپ (رض) نے اہل بصرہ کو (جہاں صبیغ رہتا تھا) لکھا کہ صبیغ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بند کردو۔ ابو عثمان (رح) کہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ حال تھا کہ اگر ہم سو آدمی جمع ہوتے اور صبیغ آجاتا تو ہم وہاں سے سب جدا ہوجاتے۔ (الحجۃ لنصر المقدسی، ابن عساکر)
4173 - عن أبي عثمان النهدي عن صبيغ أنه سأل عمر بن الخطاب عن المرسلات والذاريات والنازعات، فقال له عمر: "ألق ما على رأسك فإذا له ضفيرتان، فقال له: وجدتك محلوقا لضربت الذي فيه عيناك، ثم كتب إلى أهل البصرة أن لا تجالسوا صبيغا، قال أبو عثمان: فلو جاء ونحن مائة لتفرقنا عنه". "نصر المقدسي في الحجة كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کریم سے متعلق فضول سوالات سے اجتناب کرنا
4174: محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت موسیٰ اشعری (رض) کو لکھا کہ صبیح سے قطع تعلقی کردو۔ اور اس کے عطیات اور وظیفے بند کردو۔ (ابن الانباری فی المصاحف۔
4174 - عن محمد بن سيرين قال: "كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري أن لا تجالسوا صبيغا، وأن يحرم عطاءه ورزقه. "ابن الأنباري في المصاحف كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4175: حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس تھے کہ ایک شخص آیا اور وہ سوال کرنے لگا کہ قران مخلوق ہے یا غیر مخلوق ؟ حضرت عمر (رض) اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور اس کو کپڑوں کے ساتھ کھینچ کر حضرت علی (رض) کے قریب کردیا اور فرمایا : اے ابو الحسن ! آپ سن رہے ہیں یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ حضرت علی (رض) نے پوچھا : یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ مجھ سے قرآن کے بارے میں سوال کررہا تھا کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ ایسا کلمہ ہے جس کا بعد میں بہت شور ہوگا۔ اگر میں والی ہوتا آپ کی جگہ تو اس کی گردن اڑا دیتا۔ الحجۃ لنصر۔
4175 - عن أبي هريرة قال: "كنا عند عمر بن الخطاب إذا جاءه رجل يسأله عن القرآن أمخلوق هو أم غير مخلوق؟ فقام عمر فأخذ بمجامع ثوبه حتى قاده إلى علي بن أبي طالب، فقال يا أبا الحسن ألا تسمع ما يقول هذا؟ قال وما يقول؟ قال جاء يسألني عن القرآن؟ أمخلوق هو أم غير مخلوق؟ فقال علي هذه كلمة وسيكون لها عزة لو وليت من الأمر ما وليت لضربت عنقه". "نصر في الحجة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4176: محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کا فرمان ہے : کچھ قرآن کا تجوید کے ساتھ پڑھنا کچھ قراءتوں کے حفظ کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ ابن الانباری فی الایضاح۔
4176 - عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد قال "قال أبو بكر وعمر لبعض إعراب القرآن أحب إلينا من حفظ بعض حروفه". "ابن الأنباري في الإيضاح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4177: شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جس نے قرآن پڑھا اور تجوید کے ساتھ پڑھا اس کو اللہ کے ہاں ایک شہید کا اجر ہے۔ ابن الانباری۔
4177 - عن الشعبي قال قال عمر: "من قرأ القرآن فأعرب كان عند الله أجر شهيد". "ابن الأنباري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4178: سعد بن ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنے بعض گورنروں کو لکھا : لوگوں کو عطیات ان کے قرآن پڑھے ہونے کے حساب سے دو ۔ چنانچہ ان لوگوں نے جن کو صرف فوج میں جانے کی رغبت تھی وہ بھی سیکھنے لگے ہیں۔ تب آپ نے حکم فرمایا کہ لوگوں کو مودت و محبت اور (رسول کی) سحابیت پر عطیات دو ۔ ابو عبید۔
4178 - عن سعد بن إبراهيم أن عمر بن الخطاب كتب إلى بعض عماله "أن أعط الناس على تعلم القرآن فكتب إليه أنك كتبت أن أعط الناس على تعلم القرآن فتعلمه من ليست له رغبة إلا رغبة الجند فكتب إليه أن أعط الناس على المودة والصحابة". "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4179: حضرت مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا :

اے علم اور قرآن والو ! علم اور قرآن پر پیسے وصول نہ کرو۔ ورنہ زانی لوگ تم سے پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (الجامع للخطیب (رح))

اے علم اور قرآن والو ! علم اور قرآن پر پیسے وصول نہ کرو۔ ورنہ زانی لوگ تم سے پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (الجامع للخطیب (رح))
4179 - عن مجاهد قال قال عمر بن الخطاب: "يا أهل العلم والقرآن لا تأخذوا للعلم والقرآن ثمنا فتسبقكم الزناة إلى الجنة". "خط في الجامع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4180: اسحاق بن بشر القریشی کہتے ہیں ہمیں ابن اسحاق نے خبر دی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا۔ اور عرض کیا النازعات غرقا (جو ڈوب کر کھینچنے والے ہیں) کی حقیقت کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تم کون ہو ؟ جواب دیا میں اہل بصرہ میں سے قبیلہ بنی تمیم کی شاخ بنی سعد سے تعلق رکھتا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا : تم ظالم قوم میں سے ہو۔ تم کو تمہارے عامل (گورنر) کے پاس روانہ کرتا ہوں وہ تمہیں سزا دے گا۔ پھر آپ نے چھڑی کے ساتھ اس کی ٹوپی اتار کر دیکھا کہ بڑے بڑے بال ہیں۔ پھر فرمایا : خدانخواستہ اگر تم گنجے سر والے ہوتے تو میں کچھ نہ پوچھتا (اور تمہاری گردن مار دیتا) پھر آپ (رض) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) (گورنر) بصرہ کو لکھا کہ اصبغ بن علیم تمیمی ان چیزوں کے تکلفات میں پڑگیا ہے جن کی اس کو ضرورت نہیں اور جس کا اس کو حکم دیا گیا تھا اس چیز کو اس نے ضائع کردیا ہے۔ میرا یہ خط تم کو ملے تو اس کے ساتھ خریدو فروخت نہ کرنا، مریض ہوجائے تو اس کی عیادت نہ کرنا اور مرجائے تو اس کے جنازے میں حاضر نہ ہونا۔

پھر آپ (رض) اہل مجلس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اللہ عزوجل نے تم کو پیدا کیا ہے اور وہ تمہارے ضعف اور تمہاری کمزوری کو خوب جانتا ہے، چنانچہ اس نے تم میں سے اپنا ایک رسول بھیجا اور (اس کے توسط) تم پر کتاب نازل کی، اس میں تمہارے لیے کچھ حدود مقرر فرمائیں اور تم کو حکم دیا کہ ان حدود سے ہرگز تجاوز نہ کرنا، کچھ فرائض مقرر کیے اور ان کی اتباع کا حکم دیا اور کچھ محرمات رکھے اور تم کو ان ارتکاب سے منع کیا اور کچھ چیزوں کو چھوڑ دیا ان کو بھولے سے ہرگز نہیں چھوڑا، پس تم ان کے تکلفات میں نہ پڑو، ان کو تم پر رحمت کرتے ہوئے چھوڑا ہے۔

راوی کہتے ہیں : چنانچہ اصبغ بن علیم کہتا تھا : میں بصرہ آیا اور پچیس دن وہاں ٹھہرا اور (لوگ مجھ سے اس قدر متنفر ہوگئے کہ) مجھے کسی سے مل جانے سے مرجانا اچھا لگتا تھا۔ آخر اللہ نے اصبغ کے دل میں توبہ کا خیال پیدا کیا۔ چنانچہ اصبغ کہتے ہیں : میں ابو موسیٰ اشعری کے پاس آیا۔ آپ (رض) منبر پر تھے میں نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے مجھ سے منہ پھیرلیا۔ میں نے عرض کیا : اے منہ پھیرنے والے ! میری توبہ اس ذات نے قبول کرلی جو تجھ سے اور عمر سے بھی بہتر ہے۔ پس میں اللہ عزوجل سے اپنے ان گناہوں کی توبہ کرتا ہوں جن کے ساتھ میں نے امیر المومنین عمر (رض) اور مسلمانوں کو ناراض کر رکھا تھا۔

حضرت ابو موسیٰ (رض) نے یہ بات حضرت عمر (رض) کو لکھ بھیجی تو حضرت عمر (رض) نے جواب بھیجا اس نے سچ کہا لہٰذا تم اپنے بھائی کے ساتھ (اچھا) معاملہ کرو۔ نصر فی الحجۃ۔
4180 - عن إسحاق بن بشر القريشي قال أخبرنا ابن إسحاق قال جاء رجل إلى عمر بن الخطاب، فقال: "يا أمير المؤمنين ما {وَالنَّازِعَاتِ غَرْقاً} فقال عمر من أنت؟ قال امرؤ من أهل البصرة من بني تميم ثم أحد بني سعد، قال من قوم جفاة، أما إنك لتحملن إلى عاملك ما يسوءك ولهزه حتى فرت قلنسوته، فإذا هو وافر الشعر، فقال أما إني لو وجدتك محلوقا ما سألت عنك، ثم كتب إلى أبي موسى، أما بعد فإن الأصبغ بن عليم التميمي تكلف ما كفي وضيع ما ولي، فإذا جاءك كتابي هذا فلا تبايعوه، وإن مرض فلا تعودوه وإن مات فلا تشهدوه، ثم التفت إلى القوم، فقال: إن الله عز وجل، خلقكم وهو أعلم بضعفكم فبعث إليكم رسولا من أنفسكم وأنزل عليكم كتابا، وحد لكم فيه حدودا أمركم أن لا تعتدوها، وفرض عليكم فرائض، أمركم أن تتبعوها، وحرم حرما نهاكم أن تنتهكوها وترك أشياء، لم يدعها نسيانا، فلا تكلفوها وإنما تركها رحمة لكم، قال فكان الأصبغ بن عليم يقول قدمت البصرة فأقمت بها خمسة وعشرين يوما، وما من غائب أحب إلي أن ألقاه من الموت، ثم إن الله ألهمه التوبة وقذفها في قلبه، فأتيت أبا موسى، وهو على المنبر، فسلمت عليه فأعرض عني فقلت أيها المعرض إنه قد قبل التوبة من هو خير منك ومن عمر، إني أتوب إلى الله عز وجل مما أسخط أمير المؤمنين وعامة المسلمين، فكتب بذلك إلى عمر، فقال صدق، اقبلوا من أخيكم". "نصر في الحجة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4181: (مسند عثمان (رض) ولید بن مسلم کہتے ہیں میں نے مالک (رح) سے قرآن پاک کے اجزاء کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے مجھے ایک قرآن پاک نکال کر دکھایا اور فرمایا : میرے والد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عثمان (رض) کے دور میں قرآن کو جمع کیا تھا اور تبی اس کو اجزاء (پاروں میں) تقسیم کیا تھا۔ (البیہقی)
4181 - "ومن مسند عثمان رضي الله عنه" عن الوليد بن مسلم قال: "سألت مالكا عن تفضيض المصاحف، فأخرج إلينا مصحفا، فقال: حدثني أبي عن جدي أنهم جمعوا القرآن على عهد عثمان، وأنهم فضضوا المصاحف". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4182: (مسند علی (رض)) عبداللہ بن مسلم کہتے ہیں میں اور دو شخص میرے علاوہ حضرت علی (رض) کے پاس داخل ہوئے۔ آپ (رض) بیت الخلاء میں گئے اور پھر نکلے اور پانی کا برتن لیا اور پانی کو چھوا (ہاتھ دھوے) اور قرآن پڑھنے لگے۔

ہمیں یہ بات عجیب اور ناپسند لگی تو آپ (رض) نے فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حاجت کی جگہ جا کر قضاء حاجت کرتے پھر نکل کر ہمارے ساتھ گوشت کھاتے پھر قرآن کی تلاوت کرتے اور تلاوت سے کوئی چیز ان کو روکتی نہ تھی اور نہ جنات۔ (ابو داؤد الطیالسی، الحمیدی، العدنی، ابو داود، الترمذی، البیہقی فی السنن، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن خزیمۃ، الطحاوی، مسند ابی یعلی، ابن حبان الدارقطنی، الآجری فی اخلاق حملۃ القرآن، مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیہقی، السنن لسعید بن منصور) ۔

فائدہ : قرآن کو بغیر چھوئے تلاوت کرنا بغیر پانی کے بھی درست ہے۔
4182 - "ومن مسند علي رضي الله عنه" عن عبد الله بن سلمة قال: "دخلت على علي بن أبي طالب أنا ورجلان، فدخل المخرج1 ثم خرج فأخذ حفنة من ماء فتمسح بها ثم جعل يقرأ القرآن فرآنا أنكرنا ذلك، فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يدخل الخلاء، فيقضي الحاجة ثم يخرج فيأكل معنا اللحم، ثم يقرأ القرآن ولا يحجزه عن القرآن شيء، ليس الجنابة". "ط والحميدي والعدني د ت ق هـ وابن جرير وابن خزيمة والطحاوي ع حب قط والآجري في أخلاق حملة القرآن ك هب ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4183: عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : قرآن کی ایک سورت میں ہمارا اختلاف وگیا۔ میں نے کہا : اس سورت کی پینتیس آیات ہیں (یا) چھتیس آیات ہیں۔ چنانچہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کے ساتھ سرگوشی کر رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا : ہمارا قرآن میں اختلاف ہوگیا ہے۔ یہ سن کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کو حکم دیتے ہیں کہ قرآن کو اسی طرح پڑھو جس طرح تم کو سکھایا گیا ہے۔ مسند احمد، ابن منیع، مسند ابی یعلی، السنن لسعید بن منصور۔
4183 - عبد الله بن مسعود قال: "تمارينا في سورة من القرآن فقلت: خمس وثلاثون آية، ست وثلاثون آية، فانطلقنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدنا عليا يناجيه، فقلنا له اختلفنا في القراءة، فاحمر وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال علي: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، يأمركم أن تقرؤوا القرآن كما علمتم". "حم وابن منيع ع ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4184: ابراہیم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کسی چھوٹی چیز میں قرآن لکھنے کو ناپسند کرتے تھے۔

السنن لسعید بن منصور، شعب الایمان للبیہقی۔
4184 - عن إبراهيم عن علي: "أنه كان يكره أن يكتب المصحف في الشيء الصغير". "ص هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4185: حضرت علی (رض) کا فرمان ہے : جو اسلام میں پیدا ہوا اور قرآن پڑھا تو اس کے لیے ہر سال بیت المال میں سے دو سو دینار وظیفہ ہے چاہے تو دنیا میں لے لے چاہے آخرت میں لے۔ شعب الایمان للبیہقی۔
4185 - عن علي قال: "من ولد في الإسلام فقرأ القرآن فله في بيت المال في كل سنة مائتا دينار، إن أخذها في الدنيا، وإلا أخذها في الآخرة". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4186: سالم بن ابی الجعد (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ہر شخص کے لیے دو دو ہزار (درہم) مقرر فرمائے تھے جو قرآن پڑھ لے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
4186 - عن سالم بن أبي الجعد: "أن عليا فرض لمن قرأ القرآن ألفين ألفين". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4187: زاذان اور ابی البختری سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھے کون سی زمین اٹھائے گی اگر میں کتاب اللہ میں اسی کوئی بات کہوں جو میرے علم میں نہیں۔ العلم لابن عبداللہ۔
4187 - عن زاذان وأبي البحتري عن علي بن أبي طالب قال: "أي أرض تقلني إذا قلت في كتاب الله ما لا أعلم". "ابن عبد البر في العلم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4188: ابراہیم بن ابی الفیاض البرقی سے مروی ہے کہ ہمیں سلیمان بن بزیع نے خبر دی ہے کہ مالک بن انس عن یحییٰ بن سعید الانصاری عن سعید بن المسیب کی سند کے ساتھ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے۔

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کے بعد بھی ہمارے سامنے نئے نئے مسائل پیدا ہوں گے جن کے بارے میں قرآن نازل نہ ہوگا اور نہ ان کے متعلق ہم نے آپ سے کچھ سنا ہوگا (تب ہم کیا کریں ؟ ) فرمایا : اس کے لیے تم مومنوں میں سے عالموں یا فرمایا عابدوں کو جمع کرنا اور اس مسئلہ کو باہمی مشاورت کے ساتھ طے کرنا اور محض کسی ایک کی رائے پر فیصلہ نہ کرنا۔ العلم لابن عبداللہ۔

کلام : ابن عبدالبر فرماتے ہیں امام مالک کے واسطے سے یہ حدیث معروف نہیں ہے مگر اسی سند کے ساتھ۔ اور حقیقت امام مالک کی حدیث میں اس روایت کی کوئی اصل نہیں ہے۔ اور نہ ہی کسی اور کی حدیث میں۔

نیز اس روایت کے راوی ابراہیم البرقی اور سلیمان بن بزیع قوی راوی نہیں ہیں۔ (الخطیب فی رواۃ مالک (رح))

نیز یہ روایت امام مالک سے منقول ہونا ثابت نہیں ہے۔ الدارقطنی فی غرائب مالک۔

نیز فرمایا : یہ حدیث صحیح نہیں ابراہیم اس کو سلیمان سے روایت کرنے میں متفرد ہیں اور امام مالک سے پہلے کے دونوں راوی ضعیف ہیں۔

میزان میں ہے ابو سعید بن یونس نے فرمایا کہ مالک (رح) سے روایت کرنے والا سلیمان بن بزیع منکر الحدیث ہے۔ (میزان الاعتدال 2/ 197)

خطیب (رح) نے ابن عبدالبر کا کلام لسان میں حکایت کیا ہے اور اس میں قلت سے اپنی رائے کا اضافہ نہیں کیا۔ اور مالک کی حدیث سے اس راوی کا منکر ہونا واضح ہے۔

مولف سیوطی (رح) فرماتے ہیں ابن عبدالبر کا یہ کہنا کہ مالک کے علاوہ کسی اور کی حدیث میں بھی اس روایت کی کوئی اصل نہیں تو اس بات میں شبہ ہے کیونکہ یہی روایت میں نے ایک دوسرے طریق سے بھی پائی ہے۔

علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں : احمد، شباب العصفری، نوح بن قیس، ولید بن صالح، محمد بن حنفیہ کی سند کے ساتھ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر ہم کو کوئی مسئلہ پیش آجائے جس میں امر یا نہی کسی چیز کا بیان نہ ہو تو اس کے متعلق آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا : اپنے فقہاء اور عبادت گذاروں سے مشورہ کرنا اور کسی خاص شخص کی رائے کو جاری نہ کرنا۔

کلام : علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں اس روایت کو ولید سے صرف نوح روایت کرتا ہے۔ اور نوح سے امام مسلم اور چاروں ائمہ (ترمذی، نسائی، ابو داود، اور ابن ماجہ) نے روایت نقل کی ہے۔ نیز الکاشف میں منقول ہے کہ نوح کو ثقہ کہا گیا ہے اور وہ حسن حدیث ہے میزان میں کہا ہے کہ وہ صالح الحال ہے، نیز امام احمد اور ابن معین نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ امام نسائی نے فرمایا لاباس بہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور ولید کو ابن حبان نے ثقات میں شمار کیا ہے خلاصہ کلام اس طریق سے یہ روایت حسن اور صحیح ہے۔
4188 - عن إبراهيم بن أبي الفياض البرقي أن سليمان بن بزيع عن مالك بن أنس عن يحيى بن سعيد الأنصاري عن سعيد بن المسيب عن علي بن أبي طالب قال "قلت يا رسول الله الأمر ينزل بنا بعدك لم ينزل به القرآن ولم نسمع فيه منك شيئا؟ قال: أجمعوا له العالمين أو قال العابدين من المؤمنين، واجعلوه شورى بينكم ولا تقضوا فيه برأى واحد ". "ابن عبد البر في العلم" وقال هذا حديث لا يعرف من حديث مالك إلا بهذا الإسناد ولا أصل له في حديث مالك عنده ولا في حديث غيره وإبراهيم البرقي وسليمان بن بزيع ليسا بالقويين خط في رواة مالك وقال لا يثبت هذا عن مالك قط في غرائب مالك وقال لا يصح تفرد به إبراهيم عن سليمان ومن دون مالك ضعيف.

وقال في الميزان سليمان بن بزيع عن مالك قال أبو سعيد بن يونس منكر الحديث، وحكى في اللسان كلام ابن عبد البر خط قط ولم يزد عليه قلت فإن كان المنكر كونه من حديث مالك فواضح.

وأما قول ابن عبد البر لا أصل له في حديث غيره أيضا ففيه نظر فقد وجدت له طريقا آخر.

قال طس: ثنا أحمد، ثنا شباب العصفري، ثنا نوح بن قيس عن الوليد بن صالح عن محمد بن الحنفية عن علي قال قلت يا رسول الله: "إن نزل بنا أمر ليس فيه بيان أمر ولا نهي فما تأمرنا؟ قال: شاوروا الفقهاء، والعابدين ولا تمضوا فيه خاصة، قال طس: لم يروه عن الوليد إلا نوح انتهى، ونوح روى له مسلم والأربعة، قال في الكاشف: وثق وهو حسن الحديث، وقال في الميزان: صالح الحال، وثقه حم وابن معين، وقال "ن": ليس به بأس، والوليد ذكره "حب" في الثقات فالحديث عن هذه الطريق حسن صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4189: حضرت علی (رض) کلام اللہ کو چھوٹی چیز میں لکھنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابو عبید، ابن ابی داود،

فائدہ : ہمارے زمانہ میں قرآن کے چھوٹے چھوٹے نسخے جو متعارف ہیں ان سے احتراز کرنا چاہیے بڑے نسخے میں جس میں کتاب اللہ کی تعظیم ہے استعمال کرنے چاہئیں۔
4189 - عن علي قال: "إنه كان يكره أن يكتب المصحف في الشيء الصغير". "أبو عبيد وابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کلام کا اللہ خالق ہے۔
4190: حضرت علی (رض) کا فرمان ہے قرآن کو چھوٹے چھوٹے نسخوں میں نہ لکھو۔ (رواہ ابن ابی داود)
4190 - عن علي قال: "لا تكتبوا المصاحف صغارا". "ابن أبي داود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4191: حضرت علی (رض) کا فرمان ہے : (بغیر وضوء) قرآن پڑھنے میں کوئی حرج نہیں جب تک جنبی نہ ہو۔ جنبی حالت میں نہیں، اور ایک حرف بھی نہیں۔ الجامع لعبدالرزاق، ابن جریر، السنن للبیہقی۔
4191 - عن علي قال: "اقرؤوا القرآن ولا حرج ما لم يكن أحدكم جنبا فإن كان جنبا فلا ولا حرفا واحدا". "عب وابن جرير ق".
tahqiq

তাহকীক: