কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪১৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4192: ایاس بن عامر سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے مجھے فرمایا : اے بیمار بھائی ! اگر تو زندہ رہا تو (دیکھے گا کہ) قرآن کو تین قسم کے لوگ پڑھیں گے، ایک قسم اللہ عزوجل کے لیے پڑھے گی۔ دوسری دنیا کے لیے اور تیسری قسم محض اختلاف اور جھگڑے کے لیے پڑھے گی۔ پس اگر ہوسکے تو اسی قسم میں سے بننا جو اللہ عزوجل کے لیے قرآن پڑھے۔ (الآجری فی الاخلاق حملۃ القرآن، نصر المقدسی فی الحجۃ)
4192 - عن إياس بن عامر قال: قال لي علي: "يا أخا عك إنك إن بقيت فستقرأ القرآن ثلاثة أصناف صنف لله عز وجل، وصنف للدنيا وصنف للجدال، فإن استطعت أن تكون ممن يقرأه لله عز وجل فافعل". "الآجري في أخلاق حملة القرآن ونصر المقدسي في الحجة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4193: (مسند ابی بن کعب (رض)) حضرت ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں : میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھایا اس نے ہدیہ میں مجھے ایک کمان پیش کی۔ یہ بات میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم نے وہ کمان لے لی تو سمجھو کہ تم نے جہنم کی ایک کمان لے لی۔ حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں لہٰذا میں نے وہ کمان واپس کردی۔ (ابن ماجہ، الرویانی، السنن للبیہقی ضعیف السنن لسعید بن منصور)
4193 - "ومن مسند أبي بن كعب رضي الله عنه" علمت رجلا القرآن فأهدى إلي قوسا، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "إن أخذتها أخذت قوسا من نار، فرددتها". "هـ والروياني ق وضعفه ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4194: حضرت ابی (رض) نے ایک آدمی کو قرآن کی ایک سورت سکھائی اس آدمی نے آپ (رض) کو ایک کپڑا یا قمیص ہدیہ کی۔ حضرت ابی (رض) بن کعب نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم نے وہ کپڑا لے لیا تو سمجھو آگ کا کپڑا پہن لیا۔ (عبد بن حمید) روایت کے سب راوی ثقہ ہیں۔
4194 - أيضا أنه علم رجلا سورة من القرآن فأهدى إليه ثوبا أو خميصة فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "إنك إن أخذته ألبست ثوبا من النار". "عبد بن حميد" ورواته ثقات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4195: ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ جب تم قرآنوں کو سجانے اور مساجد کو مزین کرنے لگ جاؤگے تو تم پر بد دعا لازم ہے (ابن ابی داؤد فی المصاحف)
4195 - عن أبي بن كعب قال: "إذا حليتم مصاحفكم وزوقتم مساجدكم فعليكم الدعاء1" "ابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4196: عطیہ بن قیس سے مروی ہے : اہل شام کا ایک قافلہ اپنے لیے قرآن کا نسخہ لکھنے کے لیے مدینہ آیا۔ وہ لوگ اپنے ساتھ طعام اور سالن (یعنی خوردونوش) کا سامان بھی لے کر آئے۔
جو لوگ ان کے لیے قرآن پاک لکھتے تھے وہ ان کو اپنا طعام کھلاتے تھے۔ حضرت ابی (رض) ان پر قرآن پڑھتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابی (رض) سے پوچھا : تم نے اہل شام کا کھانا کیسا پایا ؟ عرض کیا : میرا خیال تھا کہ جب تک قوم کا کام پورا نہ ہوگا ان کا کھانا سالن وغیرہ کچھ نہ چکھوں گا۔ رواہ ابن ابی داود۔
جو لوگ ان کے لیے قرآن پاک لکھتے تھے وہ ان کو اپنا طعام کھلاتے تھے۔ حضرت ابی (رض) ان پر قرآن پڑھتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابی (رض) سے پوچھا : تم نے اہل شام کا کھانا کیسا پایا ؟ عرض کیا : میرا خیال تھا کہ جب تک قوم کا کام پورا نہ ہوگا ان کا کھانا سالن وغیرہ کچھ نہ چکھوں گا۔ رواہ ابن ابی داود۔
4196 - عن عطية بن قيس2 قال: "انطلق ركب من أهل الشام إلى المدينة يكتبون مصحفا لهم، فانطلقوا معهم بطعام وإدام وكانوا يطعمون الذين يكتبون لهم، فكان أبي يمر عليهم يقرأ القرآن فقال عمر: يا أبي كيف وجدت طعام الشام؟ قال لأوشك إذا ما نسيت أمر القوم ما أصبت لهم طعاما ولا إداما". "ابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4197: (مسند انس (رض) بن مالک) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں ایک شخص کا دوسرے سے جھگڑا ہوگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کو فرمایا : تم کھڑے ہوجاؤ۔ تمہارے پاس کوئی شہادت نہیں ہے۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں لوٹنے والا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم قرآن کو مذاق ٹھہراتے ہوئے بیشک وہ شخص قرآن پر ایمان ہی نہیں لایا جس نے اس کے محرمات کو حلال جانا۔ (رواہ ابونعیم)
فائدہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ماننا فرض ہے جس کا خدا نے حکم دیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ چونکہ اس نے نبی کی نافرمانی کرکے خدا کے فرمان کو ٹھکرایا اسی وجہ سے اس کو مذکورہ فرمان فرمایا۔
فائدہ : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ماننا فرض ہے جس کا خدا نے حکم دیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ چونکہ اس نے نبی کی نافرمانی کرکے خدا کے فرمان کو ٹھکرایا اسی وجہ سے اس کو مذکورہ فرمان فرمایا۔
4197 - "ومن مسند أنس بن مالك" "وقع رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم في رجل فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: قم لا شهادة لك، قال: يا رسول الله فلست أعود قال: أصبحت تهزأ بالقرآن ما آمن بالقرآن من استحل محارمه ". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4198: انس (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ باہر نکلے اور بلند آواز کے ساتھ پکارا :
اے حامل قرآن ! اپنی آنکھوں کو گریہ وزاری کا سرمہ پہنچاؤ جب سرکش لوگ ہنستے ہوں، اور رات کے وقت کھڑے ہو کر گذارو جب اور لوگ سو رہے ہوں۔ دن کو روزہ رکھو جب اور لوگ کھا پی رہے ہوں۔ جو تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کردے، جو تجھ سے کینہ رکھے اس سے کینہ نہ رکھو اور جو تمہارے ساتھ جہالت کرے تم اس کے ساتھ جہالت نہ برتو۔ (الدیلمی، ابن منبہ)
ق
اے حامل قرآن ! اپنی آنکھوں کو گریہ وزاری کا سرمہ پہنچاؤ جب سرکش لوگ ہنستے ہوں، اور رات کے وقت کھڑے ہو کر گذارو جب اور لوگ سو رہے ہوں۔ دن کو روزہ رکھو جب اور لوگ کھا پی رہے ہوں۔ جو تجھ پر ظلم کرے اس کو معاف کردے، جو تجھ سے کینہ رکھے اس سے کینہ نہ رکھو اور جو تمہارے ساتھ جہالت کرے تم اس کے ساتھ جہالت نہ برتو۔ (الدیلمی، ابن منبہ)
ق
4198 - عن أنس قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فنادى بأعلى صوته: "يا حامل القرآن أكحل عينيك بالبكاء، إذا ضحك البطالون، وقم بالليل إذا نام النائمون، وصم إذا أكل الآكلون واعف عمن ظلمك، ولا تحقد فيمن يحقد ولا تجهل فيمن يجهل". "الديلمي وابن منده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4199: قرآن سے دنیا نہ کمائے
(مسند طفیل بن عمرو الدوسی) ذی النور عن اسماعیل بن عیاش، عبد ربہ بن سلیمان کی سند کے ساتھ حضرت طفیل بن عمرو دوسی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے ابی بن کعب (رض) نے قرآن پڑھایا، میں نے ان کو ہدیہ میں ایک کمان پیش کی، وہ صبح کو کمان کاندھے پر لٹکائے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تشریف لے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا :
اے ابی یہ کمان کس نے تم کو دی ؟ انھوں نے طفیل بن عمرو الدوسی کا نام لیا اور بتایا کہ میں نے ان کو قرآن پڑھایا تھا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو پھر تم نے جہنم کا ایک ؟ ؟؟ ؟ لیا ہے۔ ابی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اور ہم ان کا کھانا کھاتے ہیں ؟ فرمایا کھانا تو تیرے علاوہ کسی اور کے لیے بنایا ہو اور تم حاضر ہوجاؤ تو تب تمہارے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر وہ کھانا خاص تمہارے لیے بنایا گیا ہو تو تب اگر تم نے کھایا تو اپنے آخرت کے حصے سے کھایا۔ (البغوی)
کلام : حدیث غریب ہے، عبد ربہ بن سلیمان بن زیتون اہل حمص سے ہیں اور ان کا سماع حضرت طفیل (رض) سے ثابت نہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
(مسند طفیل بن عمرو الدوسی) ذی النور عن اسماعیل بن عیاش، عبد ربہ بن سلیمان کی سند کے ساتھ حضرت طفیل بن عمرو دوسی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے ابی بن کعب (رض) نے قرآن پڑھایا، میں نے ان کو ہدیہ میں ایک کمان پیش کی، وہ صبح کو کمان کاندھے پر لٹکائے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تشریف لے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت کیا :
اے ابی یہ کمان کس نے تم کو دی ؟ انھوں نے طفیل بن عمرو الدوسی کا نام لیا اور بتایا کہ میں نے ان کو قرآن پڑھایا تھا۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو پھر تم نے جہنم کا ایک ؟ ؟؟ ؟ لیا ہے۔ ابی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اور ہم ان کا کھانا کھاتے ہیں ؟ فرمایا کھانا تو تیرے علاوہ کسی اور کے لیے بنایا ہو اور تم حاضر ہوجاؤ تو تب تمہارے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اور اگر وہ کھانا خاص تمہارے لیے بنایا گیا ہو تو تب اگر تم نے کھایا تو اپنے آخرت کے حصے سے کھایا۔ (البغوی)
کلام : حدیث غریب ہے، عبد ربہ بن سلیمان بن زیتون اہل حمص سے ہیں اور ان کا سماع حضرت طفیل (رض) سے ثابت نہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
4199 - "ومن مسند الطفيل بن عمرو الدوسي" ذي النور عن إسماعيل بن عياش قال: حدثني عبد ربه بن سليمان عن الطفيل بن عمرو الدوسي، قال: "أقرأني أبي بن كعب القرآن، فأهديتا له قوسا فغدا إلى النبي صلى الله عليه وسلم متقلدها، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: من سلحك هذه القوس يا أبي؟ فقال: الطفيل بن عمرو الدوسي، أقرأته القرآن، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: تقلدها شلوة1 من جهنم، فقال يا رسول الله: "إنا نأكل من طعامهم، فقال: أما طعام صنع لغيرك فحضرت فلا بأس أن تأكله وأما ما صنع لك فإنك إن أكلته فإنما تأكل بخلاقك". "البغوي" وقال: حديث غريب وعبد ربه بن سليمان بن زيتون أحسبه من أهل حمص ولم يسمع من الطفيل "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4200: (مسند عبادۃ ابن الصامت) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر اوقات (دینی فرائض میں) مشغول رہتے تھے۔ جب کوئی شخص ہجرت کرکے آپ کی خدمت میں آتا تو آپ قرآن پڑھانے کے لیے اس کو ہم میں سے کسی شخص کے سپرد کردیتے۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو میرے سپرد کیا۔ جو گھر میں میرے ساتھ بھی رہتا تھا، میں اس کو عشاء کا کھانا کھلاتا اور پھر قرآن پڑھاتا۔ پھر وہ اپنے گھر لوٹ گیا اور اس نے خیال کیا کہ میرا اس پر کوئی حق ہے۔ لہٰذا اس نے ایک کمان مجھے ہدیہ میں پیش کی۔ میں نے اس سے اچھی لکڑی کی کمان نہیں دیکھی تھی۔ اور نہ اس سے زیادہ اچھی لچک والی ! چنانچہ میں یہ کمان لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا۔ اور پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ فرمایا یہ تو نے انگارہ اپنے کاندھوں کے درمیان لٹکا رکھا ہے۔ الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
4200 - "ومن مسند عبادة بن الصامت" "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يشغل فإذا قدم الرجل مهاجرا على رسول الله صلى الله عليه وسلم دفعه إلى رجل منا يعلمه القرآن، فدفع إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا كان معي في البيت أعشيه عشاء البيت وكنت أقرئه القرآن، فانصرف إلى أهله فرأى أن عليه حقا فأهدى إلي قوسا، لم أر أجود منها عودا، ولا أحسن منها عطفا فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت ما ترى يا رسول الله؟ فقال: جمرة بين كتفيك إن تعلقتها، أو قال تقلدها "."طب ك ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4201: (مسند عبداللہ بن رواحۃ) حضرت عکرمہ (رح) روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے فرمایا کہ ہم کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔ رواہ مستدرک الحاکم۔
4201 - "ومن مسند عبد الله بن رواحة" عن عكرمة عن عبد الله بن رواحة قال: "نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقرأ أحدنا القرآن وهو جنب" "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4202: (مسند ابن عباس (رض)) ابن عباس (رض) کا فرمان ہے : قرآن کا نسخہ خرید لو مگر فروخت نہ کرو (الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی داؤد فی المصاحف)
4202 - "ومن مسند ابن عباس" عن ابن عباس قال: "اشتر المصاحف ولا تبعها". "عب وابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4203 ۔ ابن عباس (رض) سے قرآن کے نسخے بیچنے (والوں کے بارے میں) سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں وہ اپنے ہاتھ کی اجرت لیتے ہیں۔ رواہ ابن ابی داود۔
4203 - عن ابن عباس أنه سئل عن بيع المصاحف؟ قال: "لا بأس إنما يأخذون أجور أيديهم". "ابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4204: عطاء (رح) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا : کیا میں اپنے بچھونے پر قرآن پاک رکھ سکتا ہوں، جس پر میں جماع کرتا ہوں، محتلم ہوتا ہوں اور میرا پسینہ بھی اس پر گرتا ہے۔ فرمایا : ہاں الجامع لعبد الرزاق۔
4204 - عن عطاء أن رجلا قال لابن عباس: "أضع المصحف على فراش أجامع عليه وأحتلم عليه
وأعرق عليه؟ قال نعم". "عب".
وأعرق عليه؟ قال نعم". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4205: (مسند ابن عمر (رض)) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ قرآن کو دشمن کی زمین میں سفر پر نہ لے جایا جائے۔ کہیں وہ اس کو لے لیں۔ (اور بےحرمتی کریں) ابن ابی داؤد فی المصاحف۔
4205 - "ومن مسند ابن عمر" "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يسافر بالمصاحف إلى أرض العدو مخافة أن ينالوها". "ابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4206: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن لے کر دشمن کی سرزمین میں سفر کرنے سے منع فرمایا اس خوف سے کہ کہیں دشمن اس کو چھین لے۔ (روا ابن ابی داود)
4206 – "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يسافر بالمصاحف إلى أرض الشرك، مخافة أن يتناول منه شيء". "ابن أبي داود"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4207: حضرت نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) کے سامنے مفصل (قرآن کی طویل سورت) کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا قرآن کی کون سی سورت مفصل نہیں ہے، لہٰذا یوں کہا کرو مختصر سورت چھوٹی سورت (بڑی سورت) (ابن ابی داؤد فی المصاحف)
4207 - عن نافع قال: "ذكر عند ابن عمر المفصل، قال وأي القرآن ليس بمفصل، ولكن قولوا قصار السور وصغار السور". "ابن أبي داود في المصاحف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4208: (مسند ابن مسعود (رض)) ابن مسعود (رض) نے فرمایا : قرآن کے نسخے صرف مصری لوگ (جو اچھا لکھتے تھے) لکھیں۔ (رواہ ابن ابی داود)
4208 - "ومن مسند ابن مسعود" عن ابن مسعود قال: "لا يكتب المصاحف إلا مصري". "ابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حالت جنابت میں قرآن پڑھنا جائز نہیں۔
4209: ابن مسعود (رض) کا فرمان ہے : قرآن کا تجوید کے ساتھ پڑھو اور جو قرآن نہیں ہے اس کو قرآن کے ساتھ نہ ملاؤ۔ رواہ ابن ابی داود۔
4209 - عن ابن مسعود قال: "جودوا القرآن، ولا تخلطوا به ما ليس منه". "ابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو اچھی تجوید کے ساتھ پڑھنا
4210: مسروق (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس ایک قرآن لایا گیا جو سونے کے ساتھ آراستہ و مزین تھا۔ آپ (رض) نے فرمایا : سب سے اچھی چیز جس کے ساتھ قرآن کو مزین کیا جائے وہ اس کی اچھی تلاوت ہے۔
4210 - عن مسروق قال: "كان عبد الله بن مسعود يكره التفسير في المصحف". "ابن أبي داود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو اچھی تجوید کے ساتھ پڑھنا
4211: حضرت شقیق (رح) فرماتے ہیں : اسی طرح ایک شخص عبداللہ بن مسعود (رض) کی خدمت میں آیا اور پوچھا : کیا قرآن کو الٹا پڑھا جاسکتا ہے۔ فرمایا : الٹے دل کا شخص ہی الٹا قرآن پڑھ سکتا ہے۔ رواہ ابن ابی داود۔
4211 - عن شقيق قال: "مر على عبد الله بن مسعود بمصحف قد زين بالذهب، فقال إن أحسن ما زين به المصحف تلاوته في الحق قال وجاء رجل إلى عبد الله بن مسعود، فقال الرجل: يقرأ القرآن منكوسا؟ قال ذاك منكوس القلب". "ابن أبي داود".
তাহকীক: