কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪২১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو اچھی تجوید کے ساتھ پڑھنا
4212: ابن مسعود (رض) کی خدمت میں کوفہ کے کچھ لوگ حاضر ہوئے۔ آپ (رض) نے ان کو سلام کیا۔ ان کو تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا اور یہ کہ وہ قرآن میں اختلاف نہ کریں، نہ اس میں باہم جھگڑا کریں، بیشک قرآن مختلف حکموں کا حامل نہیں ہوسکتا۔ اور اگر کثرت کے ساتھ اس کو پڑھا جائے تو وہ بھولتا ہے اور ختم ہوتا ہے۔ فرمایا : کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس میں ایک ہی شریعت بیان کی گئی ہے جو اسلام ہے۔ اسلام کے فرائض، حدود اور اوامر اس میں بیان کیے گئے ہیں۔ اگر دو قراءتوں میں ایسا ہو کہ ایک قراءت ایک حکم دیتی ہے دوسری قراءت اس سے منع کرتی ہے تو یہ اصل اختلاف ہے۔ لیکن قرآن میں ایسا نہیں بلکہ قرآن تمام قراءتوں کو اتفاق کے ساتھ جامع ہے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ فقہ و علم کے ساتھ تمہارے اندر بہترین لوگ پیدا ہوچکے ہیں۔ اگر مجھے یہ اونٹ ایسے کسی شخص کے پاس پہنچا سکتے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی تعلیمات کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو میں ضرور اس کا ارادہ کرتا تاکہ اس کے علم سے اپنے علم میں اضافہ کرلوں۔
مجھے معلوم ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر سال ایک مرتبہ قرآن پڑھا گیا۔ میں جب بھی آپ کو قرآن سناتا تھا آپ فرماتے تھے : میں قرآن اچھا پڑھتا ہوں۔ پس جو مجھ سے میری قراءت سیکھ لے وہ اس سے اعراض کرکے اس کو نہ چھوڑے بیشک جس نے قرآن کی ایک قراءت کا بھی انکار کردیا اس نے پورے قرآن کا انکار کردیا ۔ رواہ ابن عساکر۔
نوٹ : 3068 نمبر حدیث کے ذیل میں قراءت قرآن کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
مجھے معلوم ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہر سال ایک مرتبہ قرآن پڑھا گیا۔ میں جب بھی آپ کو قرآن سناتا تھا آپ فرماتے تھے : میں قرآن اچھا پڑھتا ہوں۔ پس جو مجھ سے میری قراءت سیکھ لے وہ اس سے اعراض کرکے اس کو نہ چھوڑے بیشک جس نے قرآن کی ایک قراءت کا بھی انکار کردیا اس نے پورے قرآن کا انکار کردیا ۔ رواہ ابن عساکر۔
نوٹ : 3068 نمبر حدیث کے ذیل میں قراءت قرآن کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
4212 - عن ابن مسعود "إنه أتاه ناس من أهل الكوفة فقرأ عليهم السلام: وأمرهم بتقوى الله، وأن لا يختلفوا في القرآن، ولا يتنازعون فيه، فإنه لا يختلف ولا ينسى ولا ينفذ لكثرة الرد، أفلا ترون أن شريعة الإسلام فيه واحدة حدودها وفرائضها وأمر الله فيها، ولو كان شيء من الحرفين يأتي بشيء ينهى عنه الآخر كان ذلك الإختلاف ولكنه جامع لذلك كله، وإني لأرجو أن يكون قد أصبح فيكم من الفقه والعلم من خير ما في الناس، ولو أعلم أحدا تبلغنيه الإبل هو أعلم بما نزل على محمد لقصدته، حتى أزداد علما إلى علمي، فقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: كان يعرض عليه القرآن كل عام مرة، فعرض عام توفي فيه مرتين فكنت إذا قرأت عليه أخبرني أني محسن، فمن قرأ علي قراءتي فلا يدعها رغبة عنها، ومن قرأ على شيء، من هذه الحروف فلا يدعه رغبة عنه، فإن من جحد بحرف منه جحد به كله". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو اچھی تجوید کے ساتھ پڑھنا
4213: ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں جب ہم آپ سے دس آیات سیکھ لیتے تھے تو بعد کی دس آیات اس وقت تک نہ سیکھتے تھے جب تک ہمیں پہلی دس آیات کی حقیقت معلوم نہ ہوجاتی تھی۔ پوچھا گیا : یعنی عمل نہ کرلیتے تھے جب تک ؟ فرمایا : ہاں۔ رواہ ابن عساکر۔
4213 - عن ابن مسعود قال: "كنا إذا تعلمنا من نبي الله صلى الله عليه وسلم عشر آيات من القرآن لم نتعلم العشر التي بعدها حتى نعلم ما فيه، فقيل لشريك من العمل؟ قال نعم". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو اچھی تجوید کے ساتھ پڑھنا
4214: (مسند عوف بن مالک الاشجعی) عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ان کے ساتھ ایک شخص رہتا تھا جس کو انھوں نے قرآن پڑھایا تو اس نے پھر ایک کمان ہدیہ کی۔ عوف (رض) نے نبی سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عوف ! کیا تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرنا چاہتا ہے کہ تیرے کاندھوں کے درمیان جہنم کا انگارہ ہو۔ الکبیر للطبرانی۔
4214 - "ومن مسند عوف بن مالك الأشجعي" عن عوف بن مالك: "أنه كان معه رجل يعلمه القرآن فأهدى له قوسا فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: أتريد أن تلقى الله يا عوف يوم القيامة وبين كتفيك جمرة من جهنم؟ " "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو اچھی تجوید کے ساتھ پڑھنا
4215: (مسند نامعلوم) ابو عبدالرحمن السلمی (رح) بن حبیب (رض) فرماتے ہیں مجھے ایسے ایک صحابی نے بتایا جو ہم کو قرآن پڑھاتا تھا کہ جب ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن کی دس آیات سیکھ لیتے تھے تو جب تک ہم ان میں موجود علم اور عمل کو حاصل نہ کرلیتے تھے، اگلی دس آیات نہ سیکھتے تھے ۔ یوں ہم نے علم و عمل دونوں پا لیے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
4215 - "ومن مسند من لم يسم" عن أبي عبد الرحمن السلمي1 قال: "حدثنا من كان يقرينا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أنهم كانوا يقترئون من رسول الله صلى الله عليه وسلم، عشر آيات ولا يأخذون في العشر الأخرى حتى يعلموا ما في هذه من العلم والعمل فعلمنا العلم والعمل". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کو اچھی تجوید کے ساتھ پڑھنا
4216: حضرت علی (رض) کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں کوئی ایک آیت یا اس سے زیادہ نازل ہوتی تو مومنین کا ایمان اور خشوع بڑھ جاتا ۔ وہ آیت ان کو جس بات سے روکتی وہ اس سے رک جاتے تھے۔ (الامالی لابی بکر محمد بن اسماعیل الوراق، المواعظ للعسکری، ابن مردویہ)
روایت کی سند حسن (عمدہ) ہے۔
روایت کی سند حسن (عمدہ) ہے۔
4216 - عن علي قال: "كانت السورة إذا نزلت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أو الآية أو أكثر زادت المؤمنين إيمانا وخشوعا، ونهتهم فانتهوا" "أبو بكر محمد بن إسماعيل الوراق في أماليه والعسكري في
المواعظ ابن وسنده حسن.
المواعظ ابن وسنده حسن.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن کے حصے ۔۔۔ پارے
4217: (مسند اوس ثقفی (رض)) اوس بن حذیفہ ثقفی (رض) فرماتے ہیں ہم قبیلہ بنوثقیف کا ایک وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو۔ اخلافیس حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کے ہاں ٹھہر گئے اور مالک یین کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبہ میں ٹھہرایا۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے تھے۔ زیادہ دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے کبھی ایک پاؤں پر کبھی دوسرے پاؤں پر کھڑے ہوجاتے تھے۔ اکثر آپ قریش کی تکالیف کا ذکر فرماتے تھے کہ ہم مکہ میں انتہائی کمزور حالت میں تھے، پھر جب مدینہ آئے تو ہم نے قوم (قریش) سے انصاف لیا، پس جنگ کا ڈول کبھی ہم پر گھوم جاتا اور کبھی ان پر۔
ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقررہ وقت سے کچھ دیر سے تشریف لائے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ جس وقت تشریف لاتے تھے اس سے کچھ تاخیر ہوگئی ؟ فرمایا : مجھ پر قران کا کچھ حصہ نازل ہوا تھا تو میں نے چاہا کہ نکلنے سے پہلے اس کو آگے پڑھا دوں یا فرمایا پورا کردوں۔ خیر صبح کو ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ سے قرآن کے حصوں کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کیسے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پڑھتے ہیں ؟ انھوں نے کہا : ہم تین تین، پانچ پانچ، سات سات، نو نو، گیارہ گیارہ، اور تیرہ تیرہ آیات اور پوری پوری سورت کرکے پڑھتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔ (ابو داؤد الطیالسی ، مسند احمد، ابن جریر، الکبیر للطبرانی، ابو نعیم)
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے تھے۔ زیادہ دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے کبھی ایک پاؤں پر کبھی دوسرے پاؤں پر کھڑے ہوجاتے تھے۔ اکثر آپ قریش کی تکالیف کا ذکر فرماتے تھے کہ ہم مکہ میں انتہائی کمزور حالت میں تھے، پھر جب مدینہ آئے تو ہم نے قوم (قریش) سے انصاف لیا، پس جنگ کا ڈول کبھی ہم پر گھوم جاتا اور کبھی ان پر۔
ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقررہ وقت سے کچھ دیر سے تشریف لائے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ جس وقت تشریف لاتے تھے اس سے کچھ تاخیر ہوگئی ؟ فرمایا : مجھ پر قران کا کچھ حصہ نازل ہوا تھا تو میں نے چاہا کہ نکلنے سے پہلے اس کو آگے پڑھا دوں یا فرمایا پورا کردوں۔ خیر صبح کو ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ سے قرآن کے حصوں کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کیسے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پڑھتے ہیں ؟ انھوں نے کہا : ہم تین تین، پانچ پانچ، سات سات، نو نو، گیارہ گیارہ، اور تیرہ تیرہ آیات اور پوری پوری سورت کرکے پڑھتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔ (ابو داؤد الطیالسی ، مسند احمد، ابن جریر، الکبیر للطبرانی، ابو نعیم)
4217 - "من مسند أوس الثقفي" عن أوس بن حذيفة الثقفي قال قدمنا وفد ثقيف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزل الأخلافيون على المغيرة ابن شعبة، وأنزل المالكيين قبته، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتينا فيحدثنا بعد العشاء الآخرة حتى يراوح بين قدميه من طول القيام، فكان أكثر ما يحدثنا اشتكاء قريش يقول: "كنا بمكة مستضعفين فلما قدمنا المدينة انتصفنا من القوم، فكانت سجال الحرب علينا ولنا، فاحتبس علينا ليلة عن الوقت الذي كان يأتينا فيه، ثم أتانا، فقلنا يا رسول الله احتبست عنا الليلة عن الوقت الذي كنت تأتينا فيه؟ فقال: إنه طرأ2 علي حزبي من القرآن، فأحببت أن لا أخرج حتى أقرأه، أو قال حتى أقضيه، فلما أصبحنا سألنا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أحزاب القرآن كيف يحزبونه؟ فقالوا: ثلاث، وخمس، وسبع، وتسع، وإحدى عشرة، وثلاث عشرة وحزب المفصل". "ط حم وابن جرير طب وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ختم قرآن کے آداب
4218: (مسند ابی (رض)) عکرمہ بن سلیمان کہتے ہیں میں نے اسماعیل بن عبداللہ بن قسطنطین کے سامنے قرآن پڑھا جب میں سورة والضحی پر پہنچا تو فرمایا اب ہر سورت کے ختم پر اللہ کی بڑائی بیان کرو (اللہ اکبر کہو یا اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کہو) کیونکہ میں نے عبداللہ بن کثیر سے قرآن پڑھا اور میں والضحی پر پہنچا تو انھوں نے مجھے ایسا ہی فرمایا اور بتایا کہ انھوں نے محامد (رح) سے قرآن پڑھا تو انھوں نے بھی ایسا فرمایا اور فرمایا کہ میں نے ابن عباس (رض) سے قرآن پڑھا تو انھوں نے بھی ایسا فرمایا اور فرمایا کہ میں نے ابن عباس (رض) سے قرآن پڑھا تو انھوں نے بھی ایسا فرمایا اور فرمایا کہ میں نے حضرت ابی (رض) سے قرآن پڑھا تو انھوں نے بھی ایسا ہی فرمایا اور فرمایا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی حکم فرمایا ہے۔ (مستدرک الحاکم ابن مردویہ ، شعب الایمان للبیہقی)
4218 - "من مسند أبي" عن عكرمة بن سليمان: قرأت على إسماعيل بن عبد الله بن قسطنطين فلما بلغت والضحى قال لي: "كبر عند خاتمة كل سورة حتى تختم فإني قرأت على عبد الله بن كثير فلما بلغت والضحى قال: كبر حتى تختم، وأخبر أنه قرأ على مجاهد فأمره بذلك وأخبر أن ابن عباس أمره بذلك، وأخبر ابن عباس أن أبي بن كعب أمره بذلك، وأخبر أبي أن النبي صلى الله عليه وسلم أمره بذلك". "ك وابن مردويه هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ختم قرآن کے آداب
4219: (مسند انس (رض) بن مالک) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن ختم فرماتے تو اپنے گھر والوں کو جمع کرکے دعا کرتے تھے۔ راہ ابن النجار۔
4219 - "ومن مسند أنس بن مالك" عن أنس بن مالك قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا ختم جمع أهله ودعا". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ختم قرآن کے آداب
4220: (مرسل علی بن الحسین (رح)) (زین العابدین (رح)) حضرت علی بن حسین (رض) المعروف زین العابدین (رح) جب قرآن پاک ختم فرما لیتے تو کھڑے ہو کر اللہ کی خوب حمدو ثناء کرتے۔ پھر یہ دعا پڑھتے۔
الحمد لله رب العالمين ، والحمد لله الذی خلق السموات والارض وجعل الظلمات والنور ، ثم الذين کفروا بربهم يعدلون ، لا إله الا اللہ ، وکذب العادلون بالله ، وضلوا ضلال بعيدا ، لا إله الا اللہ وکذب المشرکون بالله من العرب والمجوس واليهود والنصاری والصابئين ، ومن ادعی لله ولدا أو صاحبة أو ندا أو شبيها أو مثلا أو سميا أو عدلا ، فأنت ربنا أعظم من أن تتخذ شريكا فيما خلقت ، (والحمد لله الذی لم يتخذ صاحبة ولا ولدا ، ولم يكن له شريك في الملک ، ولم يكن له ولی من الذل وکبره تكبيرا) اللہ اکبر کبيرا والحمد لله كثيرا و سبحان اللہ بكرة واصيلا ، و (الحمد لله الذی انزل علی عبده الکتاب ولم يجعل له عوجا قيما) قرأها إلى قوله (ان يقولون الا کذبا) (الحمد لله الذی له ما في السموات وما في الارض وله الحمد في الاخرة وهو الحکيم الخبير ، يعلم ما يلج في الارض) الآية و (الحمد لله فاطر السموات والارض) الآيتين و (الحمد لله وسلام علی عباده الذين اصطفی أ إله مع اللہ خير أما يشرکون) بل اللہ خير وأبقی واحکم واکبر واجل و اعظم مما يشرکون (والحمد لله بل أكثرهم لا يعلمون) صدق اللہ ، وبلغت رسله وأنا علی ذلکم من الشاهدين ، اللهم صل علی جميع الملائكة والمرسلين ، وارحم عبادک المؤمنين ، من أهل السموات والارض ، واختم لنا بخير وافتح لنا بخير وبارک لنا في القرآن العظيم ، وانفعنا بالآيات والذکر الحکيم ، ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم ۔(شعب الایمان للبیہقی عن علی بن الحسین مرسلا)
بیہقی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث منقطع ہے اور اس کی سند کمزور ہے۔ محدثین نے فضائل اور دعاؤں کے بارے میں بہت تساہل سے کام لیا ہے اور اکثر غیر مستند اور مبنی بر کذب احادیث بھی درج کردی ہیں۔
الحمد لله رب العالمين ، والحمد لله الذی خلق السموات والارض وجعل الظلمات والنور ، ثم الذين کفروا بربهم يعدلون ، لا إله الا اللہ ، وکذب العادلون بالله ، وضلوا ضلال بعيدا ، لا إله الا اللہ وکذب المشرکون بالله من العرب والمجوس واليهود والنصاری والصابئين ، ومن ادعی لله ولدا أو صاحبة أو ندا أو شبيها أو مثلا أو سميا أو عدلا ، فأنت ربنا أعظم من أن تتخذ شريكا فيما خلقت ، (والحمد لله الذی لم يتخذ صاحبة ولا ولدا ، ولم يكن له شريك في الملک ، ولم يكن له ولی من الذل وکبره تكبيرا) اللہ اکبر کبيرا والحمد لله كثيرا و سبحان اللہ بكرة واصيلا ، و (الحمد لله الذی انزل علی عبده الکتاب ولم يجعل له عوجا قيما) قرأها إلى قوله (ان يقولون الا کذبا) (الحمد لله الذی له ما في السموات وما في الارض وله الحمد في الاخرة وهو الحکيم الخبير ، يعلم ما يلج في الارض) الآية و (الحمد لله فاطر السموات والارض) الآيتين و (الحمد لله وسلام علی عباده الذين اصطفی أ إله مع اللہ خير أما يشرکون) بل اللہ خير وأبقی واحکم واکبر واجل و اعظم مما يشرکون (والحمد لله بل أكثرهم لا يعلمون) صدق اللہ ، وبلغت رسله وأنا علی ذلکم من الشاهدين ، اللهم صل علی جميع الملائكة والمرسلين ، وارحم عبادک المؤمنين ، من أهل السموات والارض ، واختم لنا بخير وافتح لنا بخير وبارک لنا في القرآن العظيم ، وانفعنا بالآيات والذکر الحکيم ، ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم ۔(شعب الایمان للبیہقی عن علی بن الحسین مرسلا)
بیہقی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث منقطع ہے اور اس کی سند کمزور ہے۔ محدثین نے فضائل اور دعاؤں کے بارے میں بہت تساہل سے کام لیا ہے اور اکثر غیر مستند اور مبنی بر کذب احادیث بھی درج کردی ہیں۔
4220 - "مرسل علي بن الحسين" "كان إذا ختم القرآن حمد الله بمحامد وهو قائم، ثم يقول: الحمد لله رب العالمين، والحمد لله الذي خلق السموات والأرض وجعل الظلمات والنور، ثم الذين كفروا بربهم يعدلون، لا إله إلا الله، وكذب العادلون بالله، وضلوا ضلالا بعيدا، لا إله إلا الله وكذب المشركون بالله من العرب والمجوس واليهود والنصارى والصابئين، ومن ادعى لله ولدا أو صاحبة أو ندا أو شبيها أو مثلا أو سميا أو عدلا، فأنت ربنا أعظم من أن تتخذ شريكا فيما خلقت، {وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَداً وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيراً} الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا، و {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَابَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجَا قَيِّماً} قرأها إلى قوله {إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِباً} {الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ} الآية و {الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} الآيتين و {قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى آللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ} بل الله خير وأبقى وأحكم وأكبر وأجل وأعظم مما يشركون {الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْلَمُونَ} صدق الله، وبلغت رسله وأنا على ذلكم من الشاهدين، اللهم صل على جميع الملائكة والمرسلين، وارحم عبادك المؤمنين، من أهل السموات والأرض، واختم لنا بخير وافتح لنا بخير وبارك لنا في القرآن العظيم، وانفعنا بالآيات والذكر الحكيم، ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم". "هب عن علي بن الحسين مرسلا"
وقال هذا حديث منقطع وإسناده ضعيف، وقد تساهل أهل الحديث في قبول ما روي من الدعوات وفضائل الأعمال، ما لم يكن من رواية من يعرف بوضع الحديث والكذب في الرواية - انتهى.
وقال هذا حديث منقطع وإسناده ضعيف، وقد تساهل أهل الحديث في قبول ما روي من الدعوات وفضائل الأعمال، ما لم يكن من رواية من يعرف بوضع الحديث والكذب في الرواية - انتهى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ختم قرآن کے آداب
4221: زر بن حبیش سے مروی ہے میں نے شروع سے آخر تک پورا قرآن حضرت علی (رض) سے پڑھا جب میں حامیم (حم سے شروع ہونے والی سورتوں) پر پہنچاتو فرمایا : تو قرآن کی دلہنوں تک پہنچ گیا ہے۔ جب میں حمعسق کی بائیسویں آیت والذین آمنوا وعملوا الصالحات فی روضات الجنات پر پہنچا تو آپ (رض) رو پڑے حتی کہ آپ کی آواز بلند ہوگئی پھر آسمان کی طرف سر اٹھا دیا اور مجھے فرمایا اے زر ! میری دعا پر آمین کہتا جا۔ پھر دعا کی :
اللہم انی اسالک اخبات المخبتین، و اخلاص المومنین، ومرافقہ الابرار و استحقاق حقائق الایمان، والغنیمۃ من کل بر والسلامۃ من کل اثم و وجوب رحمتک ، وعزائم مغفرتک، والفوز بالجن، والنجاۃ من النار۔
اے اللہ میں عاجزی کرنے والوں کی عاجزی مانگتا ہوں، یقین والوں کا ایمان مانگتا ہوں، نیکوں کا ساتھ مانگتا ہوں، ایمان کے حقائق مانگتا ہوں، ہر نیکی کا حصول چاہتا ہوں، ہر برائی سے پناہ چاہتا ہوں، تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزیں اور تیری یقینی مغفرت مانگتا ہوں، جنت کی کامیابی اور جہنم سے نجات کا سوال کرتا ہون۔
پھر فرمایا : اے زر ! تو بھی ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کر، مجھے میرے محبوب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تھا کہ ختم قرآن کے موقع پر ان کلمات کو پڑھا کروں۔ رواہ ابن النجار۔
اللہم انی اسالک اخبات المخبتین، و اخلاص المومنین، ومرافقہ الابرار و استحقاق حقائق الایمان، والغنیمۃ من کل بر والسلامۃ من کل اثم و وجوب رحمتک ، وعزائم مغفرتک، والفوز بالجن، والنجاۃ من النار۔
اے اللہ میں عاجزی کرنے والوں کی عاجزی مانگتا ہوں، یقین والوں کا ایمان مانگتا ہوں، نیکوں کا ساتھ مانگتا ہوں، ایمان کے حقائق مانگتا ہوں، ہر نیکی کا حصول چاہتا ہوں، ہر برائی سے پناہ چاہتا ہوں، تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزیں اور تیری یقینی مغفرت مانگتا ہوں، جنت کی کامیابی اور جہنم سے نجات کا سوال کرتا ہون۔
پھر فرمایا : اے زر ! تو بھی ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کر، مجھے میرے محبوب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تھا کہ ختم قرآن کے موقع پر ان کلمات کو پڑھا کروں۔ رواہ ابن النجار۔
4221 - عن زر بن حبيش قال: "قرأت القرآن من أوله إلى آخره على علي بن أبي طالب، فلما بلغت الحواميم قال: لقد بلغت عرائس القرآن، فلما بلغت رأس ثنتين وعشرين آية من حمعسق {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ} الآية بكى حتى ارتفع نحيبه، ثم رفع رأسه إلى السماء وقال: يا زر أمن على دعائي، ثم قال: اللهم إني أسألك إخبات المخبتين، وإخلاص الموقنين، ومرافقة الأبرار واستحقاق حقائق الإيمان، والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم ووجوب رحمتك، وعزائم مغفرتك، والفوز بالجنة، والنجاة من النار يا زر إذا ختمت فادع بهذه فإن حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرني أن أدعو بهن عند ختم القرآن". "ابن النجار"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تفسیر کے بیان میں۔ (سورة البقرہ)
4222: (مسند عمر (رض)) شعبی (رح) سے مروی ہے ، وہ فرماتے ہیں : جب حضرت عمر (رض) مقام روجاء میں اترے تو وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہاں پڑے ہوئے پتھروں کی طرف بھاگ بھاگ کر جا رہے ہیں۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پتھروں پر نماز پڑھی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : سبحان اللہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں گذرتے ہوئے سوار ہی رہے تھے۔ ایک وادی سے گذرے تو نماز کا وقت ہوگیا آپ نے وہاں نماز پڑھ لی اور بس پھر آپ (رض) نے فرمایا : میں یہود کے پاس ان کے وعظ کے دن جاتا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ کہنے لگے تمہارے ساتھیوں میں سے تم ہمارے ہاں سب سے زیادہ با عزت ہو۔ کیونکہ تم ہمارے پاس آتے ہو۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے کہا : وہ تو میں صرف اس لیے تمہارے پاس آجاتا ہوں کہ میں اللہ کی کتابوں پر تعجب کرتا ہوں کہ وہ اس طرح ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں تو رات قرآن کی تصدیق کرتی ہے اور قران توراۃ کی۔
چنانچہ اسی طرح میں ایک دن یہودیوں کے ساتھ بات چیت کررہا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے قریب سے گذرے۔ پھر میں نے یہودیوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھا کہ تم اپنی کتاب میں کیا پڑھتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یا نہیں ؟ یہودیوں نے کہا : ہاں وہ اللہ کے رسول ہیں۔ میں نے ان کو کہا : اللہ کی قسم تم تو ہلاک ہوگئے۔ تم جاننے بوجھنے کے باوجود کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ان کی اتباع نہیں کرتے۔ یہودیوں نے کہا : ہم کیوں ہلاک ہوں۔ ہم نے ان سے پوچھا تھا کہ تمہارے پاس وحی کون سا فرشتہ لے کر آتا ہے تو انھوں (یعنی آپ علیہ السلام) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) ۔ تو وہ ہمارے دشمن فرشتے ہیں کیونکہ وہ سختی و ہلاکت کے فرشتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اچھا تمہارے نزدیک کون سا فرشتہ اچھا ہے ؟ یہود نے جواب دیا میکائیل (علیہ السلام) جو رحمت اور بارش وغیرہ لے کر آتے ہیں۔ حضرت عمر فرماتے ہیں : میں نے ان سے پوچھا : اچھا ان دونوں کا ان کے رب کے ہاں کیا مقام ہے۔ کہنے لگے : ایک خط کے دائیں جانب رہتا ہے اور دوسرا بائیں جانب۔ میں نے کہا : جبرائیل (علیہ السلام) کو یہ ہرگز روا نہیں ہے کہ وہ میکائیل (علیہ السلام) سے دشمنی رکھیں اور نہ میکائیل (علیہ السلام) کے لیے حلال ہے کہ وہ جبرائیل (علیہ السلام) کے دشمن سے دوستی رکھیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ دونوں فرشتے اور ان کے پروردگار سلامتی والے ہیں ان کے لیے جو ان سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے لیے دشمن ہیں جو ان سے دشمنی رکھیں۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اس کے بعد میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاض رہوا میرا ارادہ تھا کہ جو کچھ میں نے یہودیوں سے بات چیت کی ہے اس کی خبر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے ہی فرمایا : کیا میں تم کو وہ آیت نہ سناؤں جو ابھی ابھی نازل ہوئی ہے ؟ میں نے عرض کیا : ضرور ! یا رسول اللہ۔ چنانچہ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
من کان عدوا للہ وملائکتہ ورسولہ و جبرائیل ومیکل فان اللہ عدو للکافرین۔
جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں یہود کے پاس سے صرف اس لیے اٹھا تھا تاکہ آپ کو اس بات کی خبر دوں جو میری ان کی ایک دوسرے کے ساتھ ہوئی ۔ لیکن یہاں آ کر پتہ چلا کہ اللہ پاک مجھ سے سبت لے گئے ہیںَ
راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمر (رض) نے ہم کو فرمایا : اسی وجہ سے میں اللہ کے دین میں پتھر سے زیادہ سخت ہوں۔ (کہ اللہ کا دین حرف بحرف حق اور سچ ہے) ۔ السنن للبیہقی، ابن راہویہ ، ابن جریر ابن ابی حاتم۔
کلام : اس روایت کی سند صحیح ہے۔ لیکن امام شعبی (رح) نے حضرت عمر (رض) کو نہیں پایا۔ مگر سفیان بن عیینہ نے اپنی تفسیر میں اس روایت کو حضرت عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے نیز اس روایت کے اور بھی کئی طرق ہیں جو مراسیل میں آئیں گے۔
چنانچہ اسی طرح میں ایک دن یہودیوں کے ساتھ بات چیت کررہا تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے قریب سے گذرے۔ پھر میں نے یہودیوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھا کہ تم اپنی کتاب میں کیا پڑھتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یا نہیں ؟ یہودیوں نے کہا : ہاں وہ اللہ کے رسول ہیں۔ میں نے ان کو کہا : اللہ کی قسم تم تو ہلاک ہوگئے۔ تم جاننے بوجھنے کے باوجود کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ان کی اتباع نہیں کرتے۔ یہودیوں نے کہا : ہم کیوں ہلاک ہوں۔ ہم نے ان سے پوچھا تھا کہ تمہارے پاس وحی کون سا فرشتہ لے کر آتا ہے تو انھوں (یعنی آپ علیہ السلام) نے فرمایا : جبرائیل (علیہ السلام) ۔ تو وہ ہمارے دشمن فرشتے ہیں کیونکہ وہ سختی و ہلاکت کے فرشتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اچھا تمہارے نزدیک کون سا فرشتہ اچھا ہے ؟ یہود نے جواب دیا میکائیل (علیہ السلام) جو رحمت اور بارش وغیرہ لے کر آتے ہیں۔ حضرت عمر فرماتے ہیں : میں نے ان سے پوچھا : اچھا ان دونوں کا ان کے رب کے ہاں کیا مقام ہے۔ کہنے لگے : ایک خط کے دائیں جانب رہتا ہے اور دوسرا بائیں جانب۔ میں نے کہا : جبرائیل (علیہ السلام) کو یہ ہرگز روا نہیں ہے کہ وہ میکائیل (علیہ السلام) سے دشمنی رکھیں اور نہ میکائیل (علیہ السلام) کے لیے حلال ہے کہ وہ جبرائیل (علیہ السلام) کے دشمن سے دوستی رکھیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ دونوں فرشتے اور ان کے پروردگار سلامتی والے ہیں ان کے لیے جو ان سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے لیے دشمن ہیں جو ان سے دشمنی رکھیں۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اس کے بعد میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاض رہوا میرا ارادہ تھا کہ جو کچھ میں نے یہودیوں سے بات چیت کی ہے اس کی خبر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے ہی فرمایا : کیا میں تم کو وہ آیت نہ سناؤں جو ابھی ابھی نازل ہوئی ہے ؟ میں نے عرض کیا : ضرور ! یا رسول اللہ۔ چنانچہ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
من کان عدوا للہ وملائکتہ ورسولہ و جبرائیل ومیکل فان اللہ عدو للکافرین۔
جو شخص خدا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں یہود کے پاس سے صرف اس لیے اٹھا تھا تاکہ آپ کو اس بات کی خبر دوں جو میری ان کی ایک دوسرے کے ساتھ ہوئی ۔ لیکن یہاں آ کر پتہ چلا کہ اللہ پاک مجھ سے سبت لے گئے ہیںَ
راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمر (رض) نے ہم کو فرمایا : اسی وجہ سے میں اللہ کے دین میں پتھر سے زیادہ سخت ہوں۔ (کہ اللہ کا دین حرف بحرف حق اور سچ ہے) ۔ السنن للبیہقی، ابن راہویہ ، ابن جریر ابن ابی حاتم۔
کلام : اس روایت کی سند صحیح ہے۔ لیکن امام شعبی (رح) نے حضرت عمر (رض) کو نہیں پایا۔ مگر سفیان بن عیینہ نے اپنی تفسیر میں اس روایت کو حضرت عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے نیز اس روایت کے اور بھی کئی طرق ہیں جو مراسیل میں آئیں گے۔
4222 - "من مسند عمر رضي الله عنه" عن الشعبي قال: "نزل عمر بالروحاء، فرأى ناسا يبتدرون أحجارا فقال: ما هذا؟ فقالوا يقولون إن النبي صلى الله عليه وسلم صلى إلى هذه الأحجار، فقال: سبحان الله ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا راكبا، مر بواد فحضرت الصلاة فصلى ثم حدث فقال: إني كنت أغشى اليهود يوم دراستهم، فقالوا: ما من أصحابك أحد أكرم علينا منك. لأنك تأتينا، قلت وما ذاك إلا إني أعجب من كتب الله كيف يصدق بعضها بعضا، كيف تصدق التوراة الفرقان والقرآن التوراة، فمر النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أكلمهم يوما فقلت نعم، فقلت أنشدكم بالله وما تقرؤون من كتابه أتعلمون أنه رسول الله؟ قالوا: نعم فقلت: هلكتم والله، تعلمون أنه رسول الله ثم لا تتبعونه، فقالوا: لم نهلك، ولكن سألناه من يأتيه بنبوته؟ فقال: عدونا جبريل لأنه ينزل بالغلظة والشدة والحرب والهلاك ونحو هذا، فقلت: ومن سلمكم من الملائكة؟ فقالوا: ميكائيل، ينزل بالقطر والرحمة وكذا، قلت وكيف منزلتهما من ربهما؟ قالوا: أحدهما عن يمينه، والآخر من الجانب الآخر فقلت إنه لا يحل لجبريل أن يعادي ميكائيل، ولا يحل لميكائيل أن يسالم عدو جبريل، وإني أشهد أنهما وربهما سلم لمن سالموا وحرب لمن حاربوا ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم، وأنا أريد أن أخبره، فلما لقيته قال: ألا أخبرك بآيات أنزلت علي؟ فقلت: بلى يا رسول الله فقرأ: {مَنْ كَانَ عَدُوّاً لِجِبْرِيلَ} حتى بلغ {الْكَافِرِينَ} قلت يا رسول الله والله ما قمت من عند اليهود إلا إليك لأخبرك بما قالوا لي وقلت لهم، فوجدت الله قد سبقني، قال عمر: فلقد رأيتني وأنا أشد في دين الله من الحجر". "ق وابن راهويه وابن جرير وابن أبي حاتم" وسنده صحيح لكن الشعبي لم يدرك عمر، وروى سفيان بن عيينة في تفسيره عن عكرمة نحوه، وله طرق أخرى مرسلة تأتي في المراسيل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تفسیر کے بیان میں۔ (سورة البقرہ)
4223: من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا۔ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے۔ اس آیت کی تفسیر کے بارے میں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : (اس سے مراد) خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن ابی حاتم۔
4223 - عن عمر في قوله: {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً} قال: "النفقة في سبيل الله". "ش وعبد بن حميد وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تفسیر کے بیان میں۔ (سورة البقرہ)
4224: جب : من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا نازل ہوئی تو حضرت ابن الدحداح (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے ؟ فرمایا : ہاں۔ تو حضرت ابن الدحداح (رض) نے فرمایا : میرے دو باغ ہیں، ایک اونچی زمین میں ہے اور دوسرا نیچی زمین میں۔ چنانچہ دونوں میں سے سب سے اچھا باغ میں اپنے رب کو قرضے میں دیتا ہوں۔ حضرت ابن الدحداح (رض) فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو یتیم تمہارے زیر پرورش ہے وہ اس کا ہوا۔ پھر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
کتنے خوشے جنت میں ابو الدحداح کے لیے جھکے ہوں گے۔ (الجامع لعبد الرزاق ابن جریر، الاوسط للطبرانی)
کلام : اس روایت میں ایک راوی اسماعیل بن قیس نامی ضعیف ہے۔
کتنے خوشے جنت میں ابو الدحداح کے لیے جھکے ہوں گے۔ (الجامع لعبد الرزاق ابن جریر، الاوسط للطبرانی)
کلام : اس روایت میں ایک راوی اسماعیل بن قیس نامی ضعیف ہے۔
4224 - لما نزلت {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً} قال ابن الدحداح: "استقرضنا ربنا من أموالنا يا رسول الله؟ قال نعم: قال: فإن لي حائطين: أحدهما بالعالية، والآخر بالسافلة، فقد أقرضت ربي خيرهما فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هو لليتيم الذي عندكم، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رب عذق لابن الدحداح في الجنة مذلل ". "عب وابن جرير طس" وفيه إسماعيل بن قيس ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ تفسیر کے بیان میں۔ (سورة البقرہ)
4225: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : الذین اذا اصابتہم مصیبۃ قالو انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ لوگ جب ان پر مصیبت نازل ہوتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ان کی بہترین قیمت (اور بدلہ) اولئک علیہم صلوات من ربہم۔ انہی لوگوں پر ان کے پروردگار کی طرف سے رحمتیں ہیں اور اس پر چھونگا (دکاندار جو چونگا بعد میں بطور گاہک کو خوش کرنے کے لیے ڈال دیتے ہیں) واولئک ھم المہتدون، اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں، کا پروانہ ہے۔ (وکیع السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، الغراء لابن ابی الدنیا، ابن المنذر، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، و سند)
4225 - عن عمر قال: "نعم العدلان ونعم العلاوة {الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ} نعم العدلان {وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ} نعم العلاوة. "وكيع2 ص وعبد بن حميد، وابن أبي الدنيا في الغراء وابن المنذر ك ق ورسته".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں طاغوت سے مراد شیطان ہے۔
4226: حضرت عمر (رض) کا فرمان ہے " بالجبت والطاغوت " جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔ (الفریابی ، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم)
4226 - عن عمر في قوله تعالى: {بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ} قال: "الجبت السحر والطاغوت الشيطان". "الفريابي ص وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرآن میں طاغوت سے مراد شیطان ہے۔
4227: حضرت عمر (رض) نے ایک مرتبہ دریافت فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی :
ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب الخ (البقرہ : 266، مکمل آیت)
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لیے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے منے بچے بھی ہوں تو (اچانک) اس باغ پر آگ بھرا ہوا بگولہ جلے اور وہ جل ( کر راکھ کا ڈھیر و) جائے اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
لوگوں نے جواب دیا : اللہ زیادہ جانتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر (رض) غضبناک ہوگئے۔ پھر فرمایا : یوں کہو : ہم جانتے یں یا نہیں جانتے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے عرض کیا : میرے دل میں اس سے متعلق کچھ بات ہے امیر المومنین ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ اس مالدار کی مثال ہے جو اچھے اور نیک عمل کرے پھر اللہ اس کے پاس شیطان کو بھیجے اور وہ برے اعمال میں غرق ہوجائے اور اس کے تمام نیک اعمال تباہ و برباد ہوجائیں۔ ابن المبارک فی الزھد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم)
ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب الخ (البقرہ : 266، مکمل آیت)
بھلا تم میں کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور اس میں اس کے لیے ہر قسم کے میوے موجود ہوں اور اسے بڑھاپا آپکڑے اور اس کے ننھے منے بچے بھی ہوں تو (اچانک) اس باغ پر آگ بھرا ہوا بگولہ جلے اور وہ جل ( کر راکھ کا ڈھیر و) جائے اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو (اور سمجھو)
لوگوں نے جواب دیا : اللہ زیادہ جانتا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر (رض) غضبناک ہوگئے۔ پھر فرمایا : یوں کہو : ہم جانتے یں یا نہیں جانتے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے عرض کیا : میرے دل میں اس سے متعلق کچھ بات ہے امیر المومنین ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ اس مالدار کی مثال ہے جو اچھے اور نیک عمل کرے پھر اللہ اس کے پاس شیطان کو بھیجے اور وہ برے اعمال میں غرق ہوجائے اور اس کے تمام نیک اعمال تباہ و برباد ہوجائیں۔ ابن المبارک فی الزھد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، مستدرک الحاکم)
4227 - عن عمر قال: "فيم ترون أنزلت هذه الآية {أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ} ؟ فقالوا: الله أعلم، فغضب عمر فقال: قولوا نعلم أو لا نعلم، فقال ابن عباس: في نفسي منها شيء يا أمير المؤمنين، فقال عمر: قل يا ابن أخي، ولا تحقر نفسك، فقال ابن عباس: ضرب مثلا لعمل، فقال عمر أي عمل؟ فقال لعمل، فقال عمر: لرجل غني يعمل بالحسنات ثم بعث الله إليه بشيطان فعمل بالمعاصي حتى أغرق أعماله كلها".
"ابن المبارك في الزهد وعبد بن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم ك".
"ابن المبارك في الزهد وعبد بن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4228: حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی الہ عنہ نے فرمایا : میں نے گزشتہ رات یہ آیت ایود احدکم ان تکون (البقرہ : 266) پڑھی اور اس نے رات کو مجھے جگا کر رکھا۔ بتاؤ اس سے کیا مراد ہے ؟ حاضرین میں سے کسی نے کہا : اللہ زیادہ جانتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ اللہ زیادہ جانتا ہے۔ میرے پوچھنے کا مطلب ہے کہ اگر کسی کو اس کے بارے میں کچھ علم ہو اور اس نے اس کے متعلق کچھ سنا ہو تو وہ بتائے۔ لیکن تمام لوگ خاموش رہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے مجھے دیکھا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے مجھے فرمایا : اے بھتیجے ! کہو اور اپنے آپ کو حقیر مت خیال کرو۔ میں نے عرض کیا : اس سے اعمال مراد ہے۔ فرمایا اور اس عمل سے کیا مراد ہے ؟ میں اپنے دل میں آنے والی کہنا چاہتا تھا مگر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے ! تو نے سچ کہا : اس سے عمل مراد ہے۔ ابن آدم بڑھاپے میں اس کے اہل و عیال زیادہ ہوجاتے ہیں تو وہ باغات (اور مال و دولت) کا زیادہ محتاج ہوجاتا ہے اور اسی طرح وہ قیامت کے دن اپنے اعمال کا بہت زیادہ محتاج ہوگا۔ تو نے سچ کہا، بھتیجے ! ) عبد بن حمید، ابن المنذر۔ (
فائدہ : یعنی جس طرح انسان اپنے بڑھاپے میں جب وہ کمانے سے محتاج ہوتا ہے اور اہل و عیال کی کثرت ہوتی ہے تو وہ مال و دولت کا زیادہ محتاج ہوتا ہے اب اگر اس کا مال و دولت تباہ ہوجائے تو اس کا کیا حال ہوگا یونہی انسان دنیا میں نیک اعمالوں کو بد اعمالوں کی بھینٹ چڑھا دے تو قیامت کے دن وہ مفلس کیا کرے گا جبکہ اس دن عمل کی اشد ضرورت ہوگی۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے مجھے فرمایا : اے بھتیجے ! کہو اور اپنے آپ کو حقیر مت خیال کرو۔ میں نے عرض کیا : اس سے اعمال مراد ہے۔ فرمایا اور اس عمل سے کیا مراد ہے ؟ میں اپنے دل میں آنے والی کہنا چاہتا تھا مگر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے ! تو نے سچ کہا : اس سے عمل مراد ہے۔ ابن آدم بڑھاپے میں اس کے اہل و عیال زیادہ ہوجاتے ہیں تو وہ باغات (اور مال و دولت) کا زیادہ محتاج ہوجاتا ہے اور اسی طرح وہ قیامت کے دن اپنے اعمال کا بہت زیادہ محتاج ہوگا۔ تو نے سچ کہا، بھتیجے ! ) عبد بن حمید، ابن المنذر۔ (
فائدہ : یعنی جس طرح انسان اپنے بڑھاپے میں جب وہ کمانے سے محتاج ہوتا ہے اور اہل و عیال کی کثرت ہوتی ہے تو وہ مال و دولت کا زیادہ محتاج ہوتا ہے اب اگر اس کا مال و دولت تباہ ہوجائے تو اس کا کیا حال ہوگا یونہی انسان دنیا میں نیک اعمالوں کو بد اعمالوں کی بھینٹ چڑھا دے تو قیامت کے دن وہ مفلس کیا کرے گا جبکہ اس دن عمل کی اشد ضرورت ہوگی۔
4228 - عن ابن عباس قال: "قال عمر بن الخطاب: قرأت الليلة آية أسهرتني: {أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ} ما عنى؟ فقال بعض القوم: الله أعلم، فقال: إني أعلم أن الله أعلم، ولكن إنما سألت إن كان عند أحد منكم علم وسمع فيها بشيء أن يخبر بما سمع فسكتوا، فرآني وأنا أهمس، قال: قل يا ابن أخي، ولا تحقر نفسك قلت عنى بها العمل قال وما عنى بها العمل؟ قلت شيء ألقي في روعي فقلته فتركني، وأقبل وهو يفسرها صدقت يا ابن أخي، عنى بها العمل، ابن آدم أفقر ما يكون إلى جنته إذا كبر سنه، وكثرت عياله، وابن آدم أفقر ما يكون إلى عمله يوم القيامة، صدقت يا ابن أخي". "عبد بن حميد وابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4229: حضرت عمر (رض) جب اس آیت کی تلاوت کرتے : واذکروا نعمتی التی انعمت علیکم۔ میری نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی ہیں۔
تو فرماتے ! یہ قوم تو گذر گئی۔ یعنی اس کے خاص اہل اور اس آیت سے خصوصی طور پر مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ (ابن المنذر و ابن ابی حاتم)
تو فرماتے ! یہ قوم تو گذر گئی۔ یعنی اس کے خاص اہل اور اس آیت سے خصوصی طور پر مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ (ابن المنذر و ابن ابی حاتم)
4229 - عن عمر أنه كان إذا تلا: {اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ} ، قال: "مضى القوم، فإنما يعني به أنتم". "ابن المنذر وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4230: یتلونہ حق تلاوتہ وہ لوگ اس (کتاب اللہ) کی تلاوت کرتے ہیں جیسا اس کا حق ہے۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا جب جنت کے ذکر پر پہنچے تو اللہ سے جنت کا سوال کرے اور جب جہنم کے تذکرے پر پہنچے تو جہنم سے اللہ کی پناہ مانگے۔ (ابن ابی حاتم)
4230 - عن عمر في قوله تعالى: {يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ} قال: "إذا مر بذكر الجنة سأل الله الجنة، وإذا مر بذكر النار تعوذ بالله من النار". "ابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4231: عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) جب یہ آیت تلاوت کرتے :
خالص منافق اور مخلص مومن
ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیاۃ الدنیا سے و من الناس من یشری نفسہ مکمل آیت تک۔ (البقرہ : 204 تا 207)
اور کوئی شخص تو ایساے جس کی گفتگو دنیا کی زدگی میں تم کو دل کش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے اور حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی پیدا کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کرے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔ اور اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے۔ اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے۔
جب مذکورہ آیت تلاوت فرماتے تو کہتے ان دونوں نے ایک دوسرے سے قتال کیا ہے۔ عبد بن حمید۔
فائدہ : دوسرے شخص سے مراد حضرت صہیب (رض) ہیں اور پہلے سے کوئی کافر و مشرک مکہ۔ جب حضرت صہیب (رض) مکہ سے ہجرت مدینہ کے لیے نکلے تو قریش کے کچھ کافر آپ (رض) نے فرمایا : میرے ترکش میں جس قدر تیر ہیں وہ ختم ہوجائیں پھر میری تلوار ٹوٹ جائے اس تک تم میرے قریب نہیں آسکتے اور تم جانتے ہو میں تم میں سب سے زیادہ تیر انداز ہوں اگر تم چاہو تو میں تم کو مال دوں تم میرا راستہ چھوڑ دو ۔ انھوں نے مال لیا۔ یہی دو شخص مراد ہیں۔
خالص منافق اور مخلص مومن
ومن الناس من یعجبک قولہ فی الحیاۃ الدنیا سے و من الناس من یشری نفسہ مکمل آیت تک۔ (البقرہ : 204 تا 207)
اور کوئی شخص تو ایساے جس کی گفتگو دنیا کی زدگی میں تم کو دل کش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنے مافی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے اور حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی پیدا کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کرے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا۔ اور اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے۔ اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے۔
جب مذکورہ آیت تلاوت فرماتے تو کہتے ان دونوں نے ایک دوسرے سے قتال کیا ہے۔ عبد بن حمید۔
فائدہ : دوسرے شخص سے مراد حضرت صہیب (رض) ہیں اور پہلے سے کوئی کافر و مشرک مکہ۔ جب حضرت صہیب (رض) مکہ سے ہجرت مدینہ کے لیے نکلے تو قریش کے کچھ کافر آپ (رض) نے فرمایا : میرے ترکش میں جس قدر تیر ہیں وہ ختم ہوجائیں پھر میری تلوار ٹوٹ جائے اس تک تم میرے قریب نہیں آسکتے اور تم جانتے ہو میں تم میں سب سے زیادہ تیر انداز ہوں اگر تم چاہو تو میں تم کو مال دوں تم میرا راستہ چھوڑ دو ۔ انھوں نے مال لیا۔ یہی دو شخص مراد ہیں۔
4231 - عن عكرمة أن عمر بن الخطاب: كان إذا تلا هذه الآية: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} إلى قوله {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ} "قال اقتتل الرجلان". "عبد بن حميد".
তাহকীক: