কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৪২৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4232: حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو طواف سے فراغت کے بعد مقام ابراہیم پر تشریف لائے اور فرمایا : ھذا مقام ابینا ابراہیم یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے والد ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوئے تھے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یا رسول اللہ ! ہم اس مقام کو جائے نماز نہ بنالیں (یعنی ہمیشہ یہاں دوران حج وعمرہ دو رکعت ادا کرلیا کریں) تو اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا۔
واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی۔ اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔ سفیان بن عیینہ فی جامعہ۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یا رسول اللہ ! ہم اس مقام کو جائے نماز نہ بنالیں (یعنی ہمیشہ یہاں دوران حج وعمرہ دو رکعت ادا کرلیا کریں) تو اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا۔
واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی۔ اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔ سفیان بن عیینہ فی جامعہ۔
4232 - عن عمر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يطوف بالبيت يوم الفتح، فلما فرغ أتى المقام فقال هذا مقام إبراهيم، قال عمر: أفلا تتخذه مصلى يا رسول الله؟ فأنزل الله {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّىً} . "سفيان بن عيينة في جامعه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4233 (مسند عثمان (رض) حضرت ابو الزبیر (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے عرض کیا :
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا۔ (البقرہ : 240)
اور جو لوگ مرجاویں اور چھوڑ جائیں اپنی عورتیں تو وہ وصیت کریں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک بغیر نکالے گھر کے۔
تو فرمایا : اس (حکم) کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ میں نے عرض کیا : پھر اس کو لکھا کیوں نہیں۔ فرمایا : اے بھتیجے ! میں کوئی چیز اس کی جگہ سے بدل نہیں سکتا۔ بخاری، السنن للبیہقی۔
فائدہ : پہلے اسلام میں یہی حکم تھا کہ جن عورتوں کے شوہر وفات پاجائیں وہ سال بھر ان کے گھر میں رہیں۔ بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور عدت سال کے بجائے چار ماہ دس دن کردی گئی۔ اور اگر ان چار ماہ دس دنوں میں عورت کا حمل ظاہر ہوجائے تو وضع حمل تک عدت دراز ہوجائے گی یعنی وہ وضع حمل تک شادی نہیں کرسکے گی۔ اور رہا خرچ اور نفقہ وغیرہ کا سال تو وہ چونکہ اللہ نے شوہر کی وراثت میں اس کا حصہ مقرر کردیا اس کے لیے خرچ اور نفقہ کا بند و بست اس میراث سے کرے گی۔
اور حضرت ابو الزبیر (رح) کا پوچھنا کہ اس کو لکھا یا چھوڑا کیوں نہیں۔ اس کا مطلب تھا یا تو اس مقام پر یہ وضاحت کردیتے اس آیت کو لکھتے ہی نہیں۔ چونکہ حضرت عثمان (رض) نے قرآن کو جمع فرمایا تھا اور غیر قرآن تفسیر وغیرہ کو نکال دیا تھا اور خالص قرآن لکھا رہنے دیا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے یہ سوال کیا۔ غفر اللہ خطایای۔
والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا۔ (البقرہ : 240)
اور جو لوگ مرجاویں اور چھوڑ جائیں اپنی عورتیں تو وہ وصیت کریں اپنی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ایک برس تک بغیر نکالے گھر کے۔
تو فرمایا : اس (حکم) کو دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ میں نے عرض کیا : پھر اس کو لکھا کیوں نہیں۔ فرمایا : اے بھتیجے ! میں کوئی چیز اس کی جگہ سے بدل نہیں سکتا۔ بخاری، السنن للبیہقی۔
فائدہ : پہلے اسلام میں یہی حکم تھا کہ جن عورتوں کے شوہر وفات پاجائیں وہ سال بھر ان کے گھر میں رہیں۔ بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور عدت سال کے بجائے چار ماہ دس دن کردی گئی۔ اور اگر ان چار ماہ دس دنوں میں عورت کا حمل ظاہر ہوجائے تو وضع حمل تک عدت دراز ہوجائے گی یعنی وہ وضع حمل تک شادی نہیں کرسکے گی۔ اور رہا خرچ اور نفقہ وغیرہ کا سال تو وہ چونکہ اللہ نے شوہر کی وراثت میں اس کا حصہ مقرر کردیا اس کے لیے خرچ اور نفقہ کا بند و بست اس میراث سے کرے گی۔
اور حضرت ابو الزبیر (رح) کا پوچھنا کہ اس کو لکھا یا چھوڑا کیوں نہیں۔ اس کا مطلب تھا یا تو اس مقام پر یہ وضاحت کردیتے اس آیت کو لکھتے ہی نہیں۔ چونکہ حضرت عثمان (رض) نے قرآن کو جمع فرمایا تھا اور غیر قرآن تفسیر وغیرہ کو نکال دیا تھا اور خالص قرآن لکھا رہنے دیا تھا۔ اس وجہ سے انھوں نے یہ سوال کیا۔ غفر اللہ خطایای۔
4233 - "ومن مسند عثمان رضي الله عنه" عن أبي الزبير قال: "قلت لعثمان بن عفان {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجاً} الآية قال: قد نسختها الآية الأخرى. قلت فلم تكتبها أو تدعها؟ قال يا ابن أخي لا أغير شيئا منه من مكانه". "خ ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4234: فویل لہم مما کسبت ایدیہم وویل لہم مما یکسبون۔ البقرہ۔
ترجمہ : پس ہلاکت ہے ان کے لیے اس سے جو ان کے ہاتھ لکھتے ہیں اور ہلاکت ہے اس سے جو وہ کماتے ہیں۔ حضرت عثمان (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں ویل پہاڑ ہے۔ اور یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی کیونکہ انھوں نے توراۃ کو بدل ڈالا۔ جو اچھا لگا اس میں بڑھا دیا جو برا لگا مٹا دیا اور انھوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام بھی توراۃ سے مٹا ڈالا۔ رواہ ابن جریر۔
ترجمہ : پس ہلاکت ہے ان کے لیے اس سے جو ان کے ہاتھ لکھتے ہیں اور ہلاکت ہے اس سے جو وہ کماتے ہیں۔ حضرت عثمان (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں ویل پہاڑ ہے۔ اور یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی کیونکہ انھوں نے توراۃ کو بدل ڈالا۔ جو اچھا لگا اس میں بڑھا دیا جو برا لگا مٹا دیا اور انھوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام بھی توراۃ سے مٹا ڈالا۔ رواہ ابن جریر۔
4234 - عن عثمان بن عفان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، في قوله تعالى {فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ} قال "الويل جبل في النار، وهو الذي أنزل في اليهود، لأنهم حرفوا التوراة، زادوا فيها ما أحبوا، ومحوا منها ما كانوا يكرهون، ومحوا اسم محمد صلى الله عليه وسلم من التوراة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4235: (علی (رض)) لا ینال عہدی الظالمین۔ البقرہ۔
ترجمہ : میرا عہد ظالم لوگ نہ پاسکیں گے۔ حضرت علی (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
لا طاعۃ الا فی معروف۔
اطاعت صرف نیکی (کے کام) میں ہے۔ وکیع فی تفسیر، ابن مردویہ۔
ترجمہ : میرا عہد ظالم لوگ نہ پاسکیں گے۔ حضرت علی (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
لا طاعۃ الا فی معروف۔
اطاعت صرف نیکی (کے کام) میں ہے۔ وکیع فی تفسیر، ابن مردویہ۔
4235 – "علي رضي الله عنه" عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ} قال: "لا طاعة إلا في المعروف". "وكيع في تفسيره وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن آدم قیامت کے دن اعمال کا زیادہ محتاج ہوگا
4236: و اذ یرفع ابراہیم القواعد الخ ۔ البقرہ۔
ترجمہ : اور جب ابراہیم بیت (اللہ) کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
حضرت علی (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں۔
آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : (بیت اللہ کی تعمیر کے وقت) ایک بادل آیا اور بیت اللہ کے حصے پر چھا گیا اس بادل میں ایک سر تھا جو کہہ رہا تھا بیت اللہ کو اس حصے پر اٹھاؤ۔ چنانچہ ہم نے اسی حصے پر اس کو اٹھایا۔ رواہ الدیلمی۔
ترجمہ : اور جب ابراہیم بیت (اللہ) کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔
حضرت علی (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں۔
آپ (علیہ السلام) نے فرمایا : (بیت اللہ کی تعمیر کے وقت) ایک بادل آیا اور بیت اللہ کے حصے پر چھا گیا اس بادل میں ایک سر تھا جو کہہ رہا تھا بیت اللہ کو اس حصے پر اٹھاؤ۔ چنانچہ ہم نے اسی حصے پر اس کو اٹھایا۔ رواہ الدیلمی۔
4236 - عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم في قوله تعالى: {وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ} الآية، قال: "جاءت سحابة على تربيع البيت فيها رأس يتكلم: ارتفاع البيت على تربيع، فرفعناه على تربيعه". "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4237: فتلی آدم من ربہ کلمات۔
پھر آدم نے اپنے رب (کی طرف) سے (چند) کلمات پائے۔ (جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی) سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو ہند میں اتارا، حواء کو جدہ میں اتارا، ابلیس کو میسان میں اتارا اور سانپ کو اصفہان میں۔ اس وقت سانپ کے اونٹ کی مانند چارپائے ہوتے تھے۔ آدم (علیہ السلام) ہند میں سو سال تک اپنے گناہ پر روتے رہے۔ پھر اللہ پاک نے ان کی طرف جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور ارشاد فرمایا :
اے آدم ! کیا میں تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا ؟ کیا میں نے خود تجھ میں روح نہیں پھونکی ؟ کیا میں نے ملائکہ سے تجھے سجدہ کرا کے عظمت نہیں بخشی ؟ کیا اپنی امت میں سے حواء کے ساتھ تیری شادی نہیں کی ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : ضرور ! کیوں نہیں۔ فرمایا : پھر یہ رونا کیسا ہے ؟ عرض کیا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ مجھے رحمن کے پڑوس سے نکال دیا گیا، فرمایا : تم ان کلمات کو لازم پکڑ لو۔ اللہ پاک تمہاری توبہ قبول فرما لیں گے اور تمہارے گناہ کو بخش دیں گے :
اللہم انی اسالک بحق محمد و آل محمد، سبحانک، لا الہ الا انت عملت سوءا و ظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم اللہم انی اسالک بحق محمد وآل محمد عملت سوءا وظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم۔
اے اللہ ! میں تجھ سے محمد اور آل محمد کے حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں، تو پاک ذات ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھ سے برا عمل ہوا اور اپنی جان پر ظلم ہوا، پس میری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے۔
پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کلمات آدم نے اپنے رب سے پائے تھے۔ رواہ الدیلمی۔
کلام : روایت موضوع ہے۔ اس کی سند بےکار ہے جس میں ایک راوی حمادبن عمر النصی ہے جو عن السری عن خالد کے طریق سے روایت کرتا ہے۔ یہ دونوں راوی بالکل واہی اور غیر معتبر ہیں۔
پھر آدم نے اپنے رب (کی طرف) سے (چند) کلمات پائے۔ (جن سے ان کی توبہ قبول ہوئی) سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو ہند میں اتارا، حواء کو جدہ میں اتارا، ابلیس کو میسان میں اتارا اور سانپ کو اصفہان میں۔ اس وقت سانپ کے اونٹ کی مانند چارپائے ہوتے تھے۔ آدم (علیہ السلام) ہند میں سو سال تک اپنے گناہ پر روتے رہے۔ پھر اللہ پاک نے ان کی طرف جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور ارشاد فرمایا :
اے آدم ! کیا میں تجھے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا ؟ کیا میں نے خود تجھ میں روح نہیں پھونکی ؟ کیا میں نے ملائکہ سے تجھے سجدہ کرا کے عظمت نہیں بخشی ؟ کیا اپنی امت میں سے حواء کے ساتھ تیری شادی نہیں کی ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا : ضرور ! کیوں نہیں۔ فرمایا : پھر یہ رونا کیسا ہے ؟ عرض کیا : میں کیوں نہ روؤں جبکہ مجھے رحمن کے پڑوس سے نکال دیا گیا، فرمایا : تم ان کلمات کو لازم پکڑ لو۔ اللہ پاک تمہاری توبہ قبول فرما لیں گے اور تمہارے گناہ کو بخش دیں گے :
اللہم انی اسالک بحق محمد و آل محمد، سبحانک، لا الہ الا انت عملت سوءا و ظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم اللہم انی اسالک بحق محمد وآل محمد عملت سوءا وظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم۔
اے اللہ ! میں تجھ سے محمد اور آل محمد کے حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں، تو پاک ذات ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھ سے برا عمل ہوا اور اپنی جان پر ظلم ہوا، پس میری توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے۔
پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کلمات آدم نے اپنے رب سے پائے تھے۔ رواہ الدیلمی۔
کلام : روایت موضوع ہے۔ اس کی سند بےکار ہے جس میں ایک راوی حمادبن عمر النصی ہے جو عن السری عن خالد کے طریق سے روایت کرتا ہے۔ یہ دونوں راوی بالکل واہی اور غیر معتبر ہیں۔
4237 - عن علي قال سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن قول الله: {فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ} فقال: "إن الله أهبط آدم بالهند، وحواء بجدة وإبليس بميسان، والحية بأصبهان، وكان للحية قوائم كقوائم البعير ومكث آدم بالهند مائة سنة باكيا على خطيئته، حتى بعث الله تعالى إليه جبريل وقال: يا آدم ألم أخلقك بيدي؟ ألم أنفخ فيك من روحي؟ ألم أسجد لك ملائكتي؟ ألم أزوجك حواء أمتي؟ قال بلى، قال: فما هذا
البكاء؟ قال: وما يمنعني من البكاء وقد أخرجت من جوار الرحمن، قال فعليك بهذه الكلمات، فإن الله قابل توبتك وغافر ذنبك قل: اللهم إني أسألك بحق محمد وآل محمد، سبحانك، لا إله إلا أنت، عملت سوءا وظلمت نفسي فتب علي إنك أنت التواب الرحيم، اللهم إني أسألك بحق محمد وآل محمد عملت سوءا وظلمت نفسي فتب علي إنك أنت التواب الرحيم، فهؤلاء الكلمات التي تلقى آدم". "الديلمي" وسنده واه وفيه حماد بن عمر النصيبي عن السري عن خالد واهيان.
البكاء؟ قال: وما يمنعني من البكاء وقد أخرجت من جوار الرحمن، قال فعليك بهذه الكلمات، فإن الله قابل توبتك وغافر ذنبك قل: اللهم إني أسألك بحق محمد وآل محمد، سبحانك، لا إله إلا أنت، عملت سوءا وظلمت نفسي فتب علي إنك أنت التواب الرحيم، اللهم إني أسألك بحق محمد وآل محمد عملت سوءا وظلمت نفسي فتب علي إنك أنت التواب الرحيم، فهؤلاء الكلمات التي تلقى آدم". "الديلمي" وسنده واه وفيه حماد بن عمر النصيبي عن السري عن خالد واهيان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4238: قولوا للناس حسنا۔ (البقرہ)
ترجمہ : لوگوں سے اچھی (طرح ) بات کرو۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : یعنی تمام لوگوں سے (مسلمان ہوں یا کافر) اچھی طرح بات کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی۔
ترجمہ : لوگوں سے اچھی (طرح ) بات کرو۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : یعنی تمام لوگوں سے (مسلمان ہوں یا کافر) اچھی طرح بات کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی۔
4238 - عن علي في قوله تعالى : (وقولوا للناس حسنا) قال : يعنى الناس كلهم.
(هب).
(هب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4239: فولوا وجوھکم شطر المسجد الحرام۔
ترجمہ : اپنے چہرے مسجد حرام کی حصے کی طرف کرلو۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں شطر سے مراد جہتے یعنی مسجد حرام کی جہت کرلو۔ (عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، المجالس للدینور (رح)، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
ترجمہ : اپنے چہرے مسجد حرام کی حصے کی طرف کرلو۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں شطر سے مراد جہتے یعنی مسجد حرام کی جہت کرلو۔ (عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، المجالس للدینور (رح)، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)
4239 - عن علي في قوله تعالى: {شَطْرَ الْمَسْجِدِ} قال "شطره قبله". "عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم والدينوري في المجالس ك ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4240:
علی الذین یطیقونہ فدیۃ۔ البقرہ۔
ترجمہ : اور جو طاقت نہیں رکھتے (روزے کی) ان پر فدیہ ہے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اس سے وہ بوڑھا شخص مراد ہے جو (قریب المرگ ہو اور روزے کی طات نہ رکھتا ہو تو وہ روزہ نہ رکھے بلکہ ہر دن مسکین کو کھانا کھلا دے۔ رواہ ابن جریر۔
فائدہ : یعنی جس شخص کی زندگی کی امدی دم توڑ گئی ہو اور وہ فی الوقت روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا وہ صدقہ فطر کے برابر یعنی تقریبا پونے دو سیر غلہ (گندم) صدقہ کردے یا ایک مسکین کو دو وت کا کھانا کھلا دے۔
علی الذین یطیقونہ فدیۃ۔ البقرہ۔
ترجمہ : اور جو طاقت نہیں رکھتے (روزے کی) ان پر فدیہ ہے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اس سے وہ بوڑھا شخص مراد ہے جو (قریب المرگ ہو اور روزے کی طات نہ رکھتا ہو تو وہ روزہ نہ رکھے بلکہ ہر دن مسکین کو کھانا کھلا دے۔ رواہ ابن جریر۔
فائدہ : یعنی جس شخص کی زندگی کی امدی دم توڑ گئی ہو اور وہ فی الوقت روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا وہ صدقہ فطر کے برابر یعنی تقریبا پونے دو سیر غلہ (گندم) صدقہ کردے یا ایک مسکین کو دو وت کا کھانا کھلا دے۔
4240 - عن علي في قوله تعالى: {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ} قال: "الشيخ الكبير الذي لا يستطيع الصوم يفطر، ويطعم كل يوم مسكينا". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4241: واتموا الحج والعمرۃ للہ۔ البقرہ۔
ترجمہ : حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔
حضرت علی (رض) اس کی تشریح میں فرماتے ہیں : یعنی اپنے گھر سے احرام باندھ کر چلو، وکیع ، مصنف ، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، التفسیر لابن جریر، ابن ابی حاتم الطحاوی، النحاس فی ناسخہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی۔
ترجمہ : حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔
حضرت علی (رض) اس کی تشریح میں فرماتے ہیں : یعنی اپنے گھر سے احرام باندھ کر چلو، وکیع ، مصنف ، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، التفسیر لابن جریر، ابن ابی حاتم الطحاوی، النحاس فی ناسخہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی۔
4241 - عن علي في قوله تعالى: {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ} قال: "أن تحرم من دويرة أهلك".
"وكيع ش وعبد بن حميد وابن
جرير في التفسير وابن المنذر وابن أبي حاتم والطحاوي والنحاس في ناسخه ك ق".
"وكيع ش وعبد بن حميد وابن
جرير في التفسير وابن المنذر وابن أبي حاتم والطحاوي والنحاس في ناسخه ك ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4242 ۔ فماستیسر من الھدی ۔ البقرہ۔
ترجمہ : جو قربانی آسانی کے ساتھ میسر آئے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اس سے مراد بکری (یا اس کے مثل جانور) ہے۔ (موطا امام مالک مالک مصنف ابن ابی شیبہ، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر فی التفسیر ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، نسائی)
ترجمہ : جو قربانی آسانی کے ساتھ میسر آئے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اس سے مراد بکری (یا اس کے مثل جانور) ہے۔ (موطا امام مالک مالک مصنف ابن ابی شیبہ، السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر فی التفسیر ، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، نسائی)
4242 - عن علي في قوله تعالى: {فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ} قال: "شاة" "مالك ش ص وعبد بن حميد وابن جرير في التفسير وابن المنذر وابن أبي حاتم ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4243: ففدیۃ من صیام او صدقۃ او نسک۔ البقرہ : 196 ۔
ترجمہ : تو بدلہ دے روزے یا خیرات یا قربانی سے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں روزہ تین دنیں صدقہ تین صاع چھ مسکینوں کو دینا ہے اور قربانی بکری کی ہے۔
فائدہ۔ یہ حج وعمرہ کے بیان کے ذیل میں ہے۔ یعنی اگر کوئی حالت احرام میں مریض ہوجائے یا اس کے سر میں کوئی چوٹ یا کسی قسم کا درد ہو تو بقدر ضرورت احرام کے مخالف کام کرلے مثلا بال کٹوا لے اور اس مخالف احرام فعل کے ارتکاب میں مذکورہ تین طرح کے بدلوں میں سے کوئی ایک ادا کردے۔
ترجمہ : تو بدلہ دے روزے یا خیرات یا قربانی سے۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں روزہ تین دنیں صدقہ تین صاع چھ مسکینوں کو دینا ہے اور قربانی بکری کی ہے۔
فائدہ۔ یہ حج وعمرہ کے بیان کے ذیل میں ہے۔ یعنی اگر کوئی حالت احرام میں مریض ہوجائے یا اس کے سر میں کوئی چوٹ یا کسی قسم کا درد ہو تو بقدر ضرورت احرام کے مخالف کام کرلے مثلا بال کٹوا لے اور اس مخالف احرام فعل کے ارتکاب میں مذکورہ تین طرح کے بدلوں میں سے کوئی ایک ادا کردے۔
4243 - عن علي أنه سئل عن قوله تعالى: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} فقال: "الصيام ثلاثة أيام، والصدقة ثلاثة آصع1 على ستة مساكين، والنسك شاة".
"ابن جرير في التفسير".
"ابن جرير في التفسير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4244: فاذا امنتم فمن تمتع بالعمرۃ الی الحج۔ البقرہ : 196 ۔
ترجمہ : پس جب مامون ہوجاؤ تو جو شخص فائدہ اٹھائے عمرہ کے ساتھ حج کی طرف۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں اگر وہ عمرہ کو اس قدر موخر کرے کہ حج کے ساتھ ملا دے تو اس پر قربانی ہے۔ رواہ ابن جریر۔
ترجمہ : پس جب مامون ہوجاؤ تو جو شخص فائدہ اٹھائے عمرہ کے ساتھ حج کی طرف۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں اگر وہ عمرہ کو اس قدر موخر کرے کہ حج کے ساتھ ملا دے تو اس پر قربانی ہے۔ رواہ ابن جریر۔
4244 - عن علي في قوله: {فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ} قال: "فإن أخر العمرة حتى يجمعها مع الحج فعليه الهدي". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4245: فصیام ثلاثۃ ایام فی الحج۔
ترجمہ : پس ایام حج میں تین روزے ہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں ایام حج میں تین ایام سے مراد یوم التویہ سے قبل اور یوم الترویہ اور یوم عرفہ ہے۔ پس اگر ان دنوں میں نہ ر کھ سکے تو ایام تشریق میں روزے رکھے۔ التاریخ للخطیب، عبد بن حمید، ابن جریر فی التفسیر، ابن ابی حاتم۔
فائدہ : یعنی جو شخص حج وعمرہ اکٹھا کرے جس طرح کے ہمارے دیار کے لوگ جو خارج حرم ہیں کرتے ہیں ان پر بطور شکرانے کے قربانی ہے، بکری یا بڑے جانور کا ساتواں حصہ۔ اگر طاقت سے باہر ہو تو دس روزے رکھے اس طرح کہ سات ، آٹھ اور نو ذی الحجہ کو تین روزے رکھے۔ اور سات ایام حج کے بعد۔ تین روزے ایام حج میں ضروری ہیں۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اگر عرفہ سے قبل تین روزے نہ رکھ پائے تو عرفہ کے بعد ایام تشریق میں رکھ لے۔ اور جو شخص میات کے اندر یعنی حرم میں رہتا ہو اس کے لیے افراد حج کا حکم ہے یعنی صرف حج کرنا۔ اس کے لیے یہ قربانی یا اس کے متبادل کا حکم نہیں۔
ترجمہ : پس ایام حج میں تین روزے ہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے ہیں ایام حج میں تین ایام سے مراد یوم التویہ سے قبل اور یوم الترویہ اور یوم عرفہ ہے۔ پس اگر ان دنوں میں نہ ر کھ سکے تو ایام تشریق میں روزے رکھے۔ التاریخ للخطیب، عبد بن حمید، ابن جریر فی التفسیر، ابن ابی حاتم۔
فائدہ : یعنی جو شخص حج وعمرہ اکٹھا کرے جس طرح کے ہمارے دیار کے لوگ جو خارج حرم ہیں کرتے ہیں ان پر بطور شکرانے کے قربانی ہے، بکری یا بڑے جانور کا ساتواں حصہ۔ اگر طاقت سے باہر ہو تو دس روزے رکھے اس طرح کہ سات ، آٹھ اور نو ذی الحجہ کو تین روزے رکھے۔ اور سات ایام حج کے بعد۔ تین روزے ایام حج میں ضروری ہیں۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اگر عرفہ سے قبل تین روزے نہ رکھ پائے تو عرفہ کے بعد ایام تشریق میں رکھ لے۔ اور جو شخص میات کے اندر یعنی حرم میں رہتا ہو اس کے لیے افراد حج کا حکم ہے یعنی صرف حج کرنا۔ اس کے لیے یہ قربانی یا اس کے متبادل کا حکم نہیں۔
4245 - عن علي في قوله: {فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ} قال: "قيل يوم التروية2 يوم، ويوم التروية، ويوم عرفة، فإن فاتته
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4246: فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ ۔ البرہ : 203 ۔
ترجمہ : پھر جو چلا گیا جلدی دو ہی دن میں تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے یں جو جلدی چلا گیا دو دن میں اس کا یہ گناہ بخش دیا جائے گا اور جو ٹھہر گیا تیسرے دن تک اس پر کوئی گناہ نہیں اس کی مغفرت کردی جائے گی۔ رواہ ابن جریر۔
فائدہ : یعنی منی میں تین دن ٹھہرنا افضل ہے لیکن اگر کوئی دو دن ٹھہرا تب بھی جائز ہے اور اگر تین دن ٹھہرا تو یہ افضل ہے۔ اس پر کا ہے کا گناہ۔
ترجمہ : پھر جو چلا گیا جلدی دو ہی دن میں تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
حضرت علی (رض) فرماتے یں جو جلدی چلا گیا دو دن میں اس کا یہ گناہ بخش دیا جائے گا اور جو ٹھہر گیا تیسرے دن تک اس پر کوئی گناہ نہیں اس کی مغفرت کردی جائے گی۔ رواہ ابن جریر۔
فائدہ : یعنی منی میں تین دن ٹھہرنا افضل ہے لیکن اگر کوئی دو دن ٹھہرا تب بھی جائز ہے اور اگر تین دن ٹھہرا تو یہ افضل ہے۔ اس پر کا ہے کا گناہ۔
4246 - عن علي في قوله تعالى: {فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ} قال: "غفر له ومن تأخر فلا إثم عليه قال: غفر له". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4247: حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
واذا یل لہ اتق اللہ۔ ومن الناس من یشری نفسہ تک۔
پھر فرمایا : رب کعبہ کی قسم ان دونوں نے (نیکی و بدی کے ساتھ) قتال کیا۔ (وکیع، عبد بن حمید، فی تاریخہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم)
نوٹ : حدیث 4231 پر یہ حدیث بمعہ ترجمہ قرآنی آیات کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔
واذا یل لہ اتق اللہ۔ ومن الناس من یشری نفسہ تک۔
پھر فرمایا : رب کعبہ کی قسم ان دونوں نے (نیکی و بدی کے ساتھ) قتال کیا۔ (وکیع، عبد بن حمید، فی تاریخہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم)
نوٹ : حدیث 4231 پر یہ حدیث بمعہ ترجمہ قرآنی آیات کے ساتھ ملاحظہ فرمائیں۔
4247- عن علي أنه قرأ هذه الآية: {وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ} إلى قوله: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ} فقال: "اقتتلا ورب الكعبة". "وكيع وعبد بن حميد في تاريخه وابن جرير وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4248: فان فاء وا۔ البقرہ 226 ۔
ترجمہ : پس اگر وہ لوٹیں۔
فائدہ : حضرت علی (رض) نے فرمایا : الفئی لوٹنے سے مراد جماع ہے۔ (عبد بن حمید) یعنی اگر شوہر بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھالے تو چار مہینے کے اندر فاء وا لوٹ گئے یعنی جماع کرلیا یا راضی ہوگئے۔ تو طلاق نہ ہوگی۔
ترجمہ : پس اگر وہ لوٹیں۔
فائدہ : حضرت علی (رض) نے فرمایا : الفئی لوٹنے سے مراد جماع ہے۔ (عبد بن حمید) یعنی اگر شوہر بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھالے تو چار مہینے کے اندر فاء وا لوٹ گئے یعنی جماع کرلیا یا راضی ہوگئے۔ تو طلاق نہ ہوگی۔
4248 - عن علي: في قوله تعالى: {فَإِنْ فَاءُوا} قال: "الفيء الجماع". "عبد بن حميد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4249: حضرت علی (رض) سے منقول ہے الفئی سے مراد رضا مندی ہے۔ ابن المنذر۔
تین طلاق کے بعد عورت حلال نہیں۔
تین طلاق کے بعد عورت حلال نہیں۔
4249 - عن علي قال: "الفيء الرضا". "ابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৫০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4250: فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد۔ البقرہ۔
ترجمہ : پس اگر اس کے بعد طلاق دی تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں حتی کہ دوسرے سے نکاح کرے۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا اس سے مراد تیسری طلاق ہے۔ ابن المنذر ۔
ترجمہ : پس اگر اس کے بعد طلاق دی تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں حتی کہ دوسرے سے نکاح کرے۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا اس سے مراد تیسری طلاق ہے۔ ابن المنذر ۔
4250 - عن علي: في قوله: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ} قال: "هذه الثالثة". "ابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৫১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم (علیہ السلام) کا سو سال تک رونا۔
4251: حتی تنکح زوجا غیرہ۔ البرہ۔
ترجمہ : حتی کہ وہ اس کے غیر شوہر سے نکاح کرے۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا :
اس وقت تک حلال نہ ہوگی حتی کہ اس کو بقرہ کی طرح ہلا ڈالے۔
فائدہ : یعنی پہلا شوہر تین طلاق دے دے اور عورت دوسرے شوہر سے نکاح کر کلے تو جب یہ دوسرا شور اچھی طرح جماع نہ کرے کہ جس طرح کنواری عورت کو شور اچھی طرح رغبت کے ساتھ جماع کرتا ہے اس طرح اسی مطلقہ کو خوب ہلا نہ ڈالے وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی۔
ترجمہ : حتی کہ وہ اس کے غیر شوہر سے نکاح کرے۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا :
اس وقت تک حلال نہ ہوگی حتی کہ اس کو بقرہ کی طرح ہلا ڈالے۔
فائدہ : یعنی پہلا شوہر تین طلاق دے دے اور عورت دوسرے شوہر سے نکاح کر کلے تو جب یہ دوسرا شور اچھی طرح جماع نہ کرے کہ جس طرح کنواری عورت کو شور اچھی طرح رغبت کے ساتھ جماع کرتا ہے اس طرح اسی مطلقہ کو خوب ہلا نہ ڈالے وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی۔
4251 - عن علي في قوله : (حتى تنكح زوجا غيره) قال : لا تحل له حتى يهزها هزيز البكر...
তাহকীক: