কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ২৮৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2866 ۔۔ اگر تو چاہتا ہے کہ اس کے بدلے جہنم کی آگ کی ایک کمان اپنی گردن میں ڈالے تو قبول کرلے۔ (مسند احمد، ابن منیع، عبد بن حمید الکبیر للطبرانی (رح)، المستدرک للحاکم السنن لسعید السنن للبیہقی (رح) ابو داؤد ابن ماجہ، المسند لابی یعلی بروایت عبادۃ بن الصامت (رض) ۔
2866 – "إن كنت تحب أن تطوق بها طوقا من نار فاقبلها". (حم) وابن منيع وعبد بن حميد طب (ك ص ق د هـ ع) عن عبادة بن الصامت مثل قصة أبي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2867 ۔۔۔ اگر تو چاہتا ہے کہ اللہ تجھے آگ کی ایک کمان گردن میں ڈالے تو قبول کرلے۔ (الحلیہ بروایت ابی الدرداء (رض) )

ابی الدرداء (رض) سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
2867 – "إن أردت أن يقلدك الله قوسا من نار فخذها". (حل) عن أبي الدرداء مثله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2868 ۔۔۔ جس نے قرآن کی تعلیم پر ایک کمان لے لی، اللہ تعالیٰ اسے آگ کی ایک کمان گردن میں ڈالے گا۔ (الکبیر للطبرانی (رح) بروایت ابی الدرداء (رض))
2868 – "من يأخذ على تعليم القرآن قوسا قلده الله قوسا من النار" (طب) عن أبي الدرداء.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2869 ۔۔۔ جس نے قرآن کی تعلیم پر اجرت لی، اس نے اپنی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں جلد وصول کرلیا۔ اب قیامت کے دن قرآن اس سے جھگڑے گا۔ (ابو نعیم بروایت ابن عباس (رض))
2869 – "من أخذ على تعليم القرآن أجرا فقد تعجل حسناته في الدنيا والقرآن يحاجه يوم القيامة". (أبو نعيم) عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2870 ۔۔۔ قرآن تین حصوں میں ہے۔ حلال، اس کی اتباع کرو، حرام، اس سے اجتناب کرو۔ متشابہ، جس کا معنی تم پر مشتبہ ہوجائے، اسے اس کے عالم کے سپرد کردو۔ الدیلمی بروایت معاذ (رض)۔
2870 – "علم القرآن على ثلاثة أجزاء حلال فاتبعه وحرام فاجتنبه ومتشابه يشكل عليك فكله إلى عالمه". (الديلمي) عن معاذ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2871 ۔۔۔ جس نے اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی اور وہ باوضو تھا تو اسے چاہیے کہ دوبارہ وضوء کرلے۔ (الدیلمی بروایت ابوہریرہ (رض))
2871 – "من فسر القرآن برأيه وهو على وضوء فليعد وضوءه". (الديلمي) عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2872 ۔۔۔ میری امت کی ہلاکت کتاب اور دودھ میں ہے۔ کتاب میں یوں کہ وہ اسے پڑھتے ہیں اور اپنی طرف سے اس کی غلط تاویل کرتے ہیں اور دودھ میں یوں کہ اس کو اتنا پسند کرتے ہیں کہ اس کے لیے دیہاتوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ اور پھر جمعوں جماعتوں کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ (مسند احمد، شعب الایمان، ابو نصر السجزی فی الابانۃ بروایت عقبہ بن عامر)
2872 – "هلاك أمتي في الكتاب واللبن، أما الكتاب فيقرؤون القرآن ويتألونه [ويتأولونه؟؟] على غير تأويله ويحبون اللبن فيبدون (1) ويدعون الجماعات والجمع". (حم هب) أبونصر السجزي في الابانة عن عقبة بن عامر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2873 جنبی حالت میں قرآن مت پڑھ۔ (البزار بروایت علی (رض) و ابی موسیٰ (رض))
2873 – "لا تقرأ القرآن وأنت جنب". (البزار عن علي وأبي موسى) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2874 قرآن کو ناپاکی کی حالت میں مت چھو۔ (ابن ابی داؤد فی المصاحف بروایت عثمان بن العاص)
2874 – " لا تمس المصحف وأنت غير طاهر". (ابن أبي داود في المصاحف عن عثمان بن العاص) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2875 اللہ لعنت کرے اس پر جس نے یہ کیا۔ قرآن کو اسی کی جگہ رکھو۔ (الحکیم بروایت عمر بن عبدالعزیز)

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمین پر پڑے ہوئے قرآن کے ٹکڑے کے پاس سے گذرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے مرتکب پر لعنت فرمائی۔
2875 – "لعن الله من فعل هذا لا تضعوا كتاب الله إلا موضعه" (الحكيم) عن عمر بن عبد العزيز قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بكتاب في الأرض قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2876 ۔۔۔ کتاب کو پاؤں کے ساتھ مت مٹاؤ (ابو نصر السجزی فی الابانۃ)

حدیث غریب ہے۔
2876 – "لا تمحوا كتاب الله بالأقدام". (أبو نصر السجزي) في الابانة وقال غريب عن معاذ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2877 ۔۔ اے حامل قرآن ! قرآن کے ساتھ زینت اپنا۔ اللہ تجھے مزین کرے گا۔ اور لوگوں کے لیے اس کو زینت مت بنا، اللہ تجھے ذلیل و معیوب کردے گا۔ حاملِ قرآن کو چاہیے کہ رات کو طویل نماز پڑھے۔ اور لوگوں میں طویل حزن و ملال والا ہو جبکہ لوگ خوش ہوں اور قہق ہے مار رہے ہوں۔
2877 – "يا حامل القرآن تزين بالقرآن يزينك الله ولا تزين به للناس فيشينك الله وينبغي لحامل القرآن أن يكون أطول الناس ليلا إذا كان الناس ناموا وأن يكون أطول الناس حزنا إذا الناس فرحوا". (الديلمي عن ابن مسعود) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2878 ۔۔۔ ایک دوسرے پر اپنی آواز بلند نہ کرو۔ یہ بات نمازی کو ایذاء پہنچاتی ہے۔ (الخطیب بروایت جابر (رض))
2878 – "لا يجهر بعضكم على بعض فإن ذلك يؤذي المصلي". (الخطيب عن جابر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
2879 ۔۔۔ ہاں میں اس کو بطن سے پڑھتا ہوں اور تم اس کو پشت سے پڑھتے ہو۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا بطن سے پڑھنے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا میں اس کو پڑھتا ہوں اور غور و فکر کرتا ہوں اور اس پر عمل کرتا ہوں اور تم پڑھتے ہو تو یوں استغنائی اشارہ فرماتے ہوئے فرمایا۔ (محمد بن نصر عن عمیر بن ھانی)

صحابہ کرام (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا بات ہے ! کہ ہم خلوت میں جب قرآن پڑھتے ہیں تو وہ کیفیات محسوس نہیں کرتے جو آپ کرتے ہیں ؟ تب آپ نے یہ فرمایا۔
2879 – "أجل أنا اقرأه لبطن وأنتم تقرؤونه لظهر قالوا يا رسول الله ما البطن؟ (1) قال اقرأ (2) اتدبره واعمل بما فيه وتقرؤونه أنتم هكذا وأشار بيده فأمرها". (محمد بن نصر عن عمير بن هانئ) قال: قالوا يا رسول الله إنا لنجد للقرآن منك ما لا نجده من أنفسنا إذا نحن خلونا قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاملین قرآن کی تین قسمیں
2880 ۔۔ حاملین قرآن تین طرح کے ہیں۔ ایک، جس نے اس کو ذریعہ تجارت بنا لیا۔ دوسرا، جس نے اس کو فخر و مباہات کا ذریعہ بنا لیا وہ منبر پر گانے بجانے کی طرح خوب فخر کرتا ہے کہتا ہے اللہ کی قسم مجھ سے غلطی نہیں ہوسکتی کوئی ایک حرف بھی مجھ سے چھوٹ نہیں سکتا۔ تو یہ گروہ میری امت کے بدترین گروہ ہیں۔ اور ایک اور گروہ نے اس کو اٹھایا اور اس کا سینہ اس کے ساتھ ٹھنڈا ہو اور اس کے دل میں اس کا الہام ہوا اور اس نے اپنے دل کو محراب بنا لیا۔ پس یہ عافیت میں ہے لیکن اس کا نفس مصیبت میں ہے۔ اور ایسے لوگ میری امت میں کبریت احمر کی طرح قلیل التعداد ہیں۔ (ابو نصر السجزی فی الابانۃ وا بن السنی والدیلمی بروایت الحسین عن انس (رض))

ابو نصر کہتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے اور اس کو مومل بن عبدالرحمن کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا۔ اور اس میں کلام ہے۔ البتہ حسن سے ان کا قول محفوظ ہے۔
2880 – "حملة القرآن ثلاثة: أحدهم اتخذه متجرا، والآخر يزهو به حتى لهو أزهى به من مزامير (3) على منبر فيقول: والله لا ألحن ولا يعييني فيه حرف فتلك الطائفة شرار أمتي، وحمله آخر فسر له (1) جوفه وألهمه قلبه فاتخذ قلبه محرابا، منه في عافية ونفسه منه في بلاء فأولئك أقل في أمتي من الكبريت الأحمر". (أبو نصر السجزي في الإبانة وابن السني والديلمي عن الحسن عن أنس) قال أبو نصر غريب لم يروه غير مؤمل بن عبد الرحمن وفيه مقال والمحفوظ عن الحسن قوله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاملین قرآن کی تین قسمیں
2881 ۔۔ حاملین علم دنیا میں انبیاء کے خلفاء اور آخرت میں شداء ہیں۔ (الخطیب بروایت ابن عمر (رض))
2881 – "حملة العلم في الدنيا خلفاء الأنبياء وفي الآخرة من الشهداء". (الخطيب عن ابن عمر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاملین قرآن کی تین قسمیں
2882 ۔۔۔ قرآن کے قاری تین ہیں۔ ایک وہ شخص، جس نے قرآن پڑھا اور اس کو سامان رزق بنا لیا بادشاہوں کے ہاں اس کی حرمت کو پامال کیا۔ لوگوں کو اس کے ذریعہ مائل کیا۔ دوسرا وہ شخص جس نے قرآن پڑھا اس کے حروف کو خوب خوب سیدھا کیا۔ لیکن اس کی قائم کردہ حدود کو ضائع کردیا۔ تو قارئین قرآن کے یہ گروہ بہت ہیں اللہ ان کو برکت نہ دے۔ اور ایک وہ شخص ہے جس نے قرآن سیکھا اور اس کو اپنے دل کے مرض کی دواء بنایا۔ پس قرآن نے اس کی راتوں کو بیدار رکھا اس کے دنوں کو پیاسا رکھا۔ وہ لوگ مسجدوں میں کھڑے رہتے ہیں۔ اپنے لباس میں سہارا لیے اس میں غور و فکر کرتے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بلاؤں اور خطرات کو ٹال دیتے ہیں۔ دشمنوں کو دفع کردیتے ہیں۔ آسمان سے بارش نازل کرتے ہیں۔ پس اللہ کی قسم ! یہ قراء کبریت احمر سے زیادہ نایاب ہیں۔ (الصحیح لابن حبان فی الضعفاء، ابو نصر السجزی فی الابانۃ والدیلمی بروایت بریدہ)

سجزی (رح) فرماتے ہیں حدیث میں ضعف ہے۔ اس کو احمد بن متیم کے سوا کسی نے روایت نہیں کیا اور وہ بھی متکلم فیہ ہے۔ (شعب الایمان بروایت الحسن (رح))
2882 – "قراء القرآن ثلاثة: رجل قرأ القرآن فاتخذه بضاعة فاستحرمه (2) الملوك واستمال به الناس، ورجل قرأ القرآن فأقام حروفه وضيع حدوده كثر هؤلاء من قراء القرآن لا كثرهم الله تعالى ورجل قرأ القرآن فوضع دواء القرآن على داء قلبه فاسهر به ليله واظمأ به نهاره وقاموا (3) في مساجدهم وحبوا به (4) تحت برانسهم فهؤلاء يدفع الله بهم البلاء ويزيل (5) من الأعداء وينزلغيث السماء فوالله لهؤلاء (1) من القراء أعز من الكبريت الأحمر". (حب في الضعفاء وأبو نصر السجزي في الابانة والديلمي عن بريدة) وقال السجزي: غريب لم يروه غير أحمد بن متيم (2) وفيه مقال، (هب عن الحسن قوله) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل چہارم تفسیر کے بیان میں مذکورہ فصل قرآن اور اس کے فضائل سے متعلق ساتویں باب کی فصلوں میں سے مذکورہ باب حرف الہمزہ کی دوسری کتاب کتاب الاذکار میں سے ہے۔

کتاب الاذکار قسم الاقوال میں سے ہے۔ جو کہ کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال کی ایک قسم ہے۔
2883 ۔ سورة فاتحہ۔ الحمد للہ رب العالمین۔ یعنی سورة فاتحہ بار بار پڑھی جانے والی سات آیتیں ہیں جو مجھے قرآن عظیم کے ساتھ عطا کی گئی ہیں۔ بخاری، ابو داؤد بروایت سعید بن المعلی۔

تشریح :۔۔ نماز کی ہر رکعت میں سورة فاتحہ تلاوت کی جاتی ہے۔ اس لیے اس کو " السبع المثانی " بار بار پڑھی جانے والی سات آیات کا نام دیا گیا۔
2883- "الحمد لله رب العالمين، هي السبع المثاني، الذي أوتيت والقرآن العظيم". "خ د عن سعيد بن المعلى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل چہارم تفسیر کے بیان میں
2884:۔۔ السبع المثانی سے مراد فاتح الکتاب ہے۔ (المستدرک للحاکم بروایت حضرت ابی بن کعب (رض)۔

تشریح :۔۔ سورة فاتحہ کو فاتحۃ الکتاب اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ کتاب اللہ کے لیے بمنزلہ دروازہ کے ہے اسی سے کتاب اللہ کا افتتاح ہوتا ہے۔
2884- "السبع المثاني فاتحة الكتاب". "ك عن أبي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل چہارم تفسیر کے بیان میں
2885:۔۔ سورة فاتحہ میں " مغضوب علیہم " جن پر غضب (خداوندی) کیا گیا سے مراد قوم یہود ہے۔ اور " الضالین " گمراہ ہوجانے والے سے مراد نصاری ہیں۔ ترمذی بروایت عدی بن حاتم (رض) ۔

تشریح : ۔۔ یہود سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہٹ دھرمی سے انکار کرتے تھے اس وجہ سے ان پر خدا کا غضب اترا جبکہ نصاری جہالت کی وجہ سے حق سے منحرف ہوگئے، یہود کو ہٹ دھرمی کا یہ ثمرہ ملا کہ حق کی طرف ان کا آنا بہت محال ہوگیا جبکہ نصاری سے جب بھی جہالت کی دبیز تہ ہٹی وہ حق کی طرف آتے گئے۔ مذکورہ تین احادیث سورة فاتحہ سے متعلق وارد ہوئی ہیں جو مستند اسناد سے مروی ہیں۔
2885- "اليهود مغضوب عليهم، والنصارى ضُلّال"."ت عن عدي بن حاتم".
tahqiq

তাহকীক: