কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ২৮৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل چہارم تفسیر کے بیان میں
2886:۔۔ سورة بقرہ : بنی اسرائیل کو کہا گیا " ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطۃ " (بقرۃ :58) (شہر کے) دروازے میں (عاجزی کے ساتھ) جھکتے ہوئے اور مغفرت (مغفرت) کہتے ہوئے داخل ہو "
لیکن انھوں نے بات کو بدل دیا اور انی سرینوں کے بل اکڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے داخل ہوئے حبۃ فی شعیرۃ و حبۃ فی شعیرۃ ) گندم جو میں، جندم جو میں، مسند احمد ، بخاری و مسلم، ابو داود، ترمذی بروایت حضرت ابو ہریرہ (رض) ۔
(اصل کے حاشیہ اور منتخب کنز العمال اور نسخہ انتظامیہ کے حواشی میں ابو سعید ہے)
تشریح :۔۔ مذکورہ فرمان قوم بنی اسرائیل سے متعلق نازل ہوا تھا جب کہ وہ ایک ہی قسم کا کھانا من وسلوی کھاتے کھاتے اکتا گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ کر خدا سے دائی کرائی کہ ان کو دیگر اقسام کے کھانے بھی عطا کئے جائیں۔ تب پروردگار نے ان کو شہر میں داخل ہونے کا حکم فرمایا۔ یہ لوگ خدا کے حکم کا تمسخر اڑاتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے۔
لیکن انھوں نے بات کو بدل دیا اور انی سرینوں کے بل اکڑتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے داخل ہوئے حبۃ فی شعیرۃ و حبۃ فی شعیرۃ ) گندم جو میں، جندم جو میں، مسند احمد ، بخاری و مسلم، ابو داود، ترمذی بروایت حضرت ابو ہریرہ (رض) ۔
(اصل کے حاشیہ اور منتخب کنز العمال اور نسخہ انتظامیہ کے حواشی میں ابو سعید ہے)
تشریح :۔۔ مذکورہ فرمان قوم بنی اسرائیل سے متعلق نازل ہوا تھا جب کہ وہ ایک ہی قسم کا کھانا من وسلوی کھاتے کھاتے اکتا گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے کہہ کر خدا سے دائی کرائی کہ ان کو دیگر اقسام کے کھانے بھی عطا کئے جائیں۔ تب پروردگار نے ان کو شہر میں داخل ہونے کا حکم فرمایا۔ یہ لوگ خدا کے حکم کا تمسخر اڑاتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے۔
2886- "بقرة" قيل لبني إسرائيل {وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّداً وَقُولُوا حِطَّةٌ} . فبدلوا، فدخلوا يزحفون على استاههم، وقالوا حبة في شعيرة. "حم ق د ت عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ معتدل امت ہے
2887:۔۔ وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا۔ (بقرۃ : 143)
اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔ (اور رسول تم پر گواہ بنیں) قیامت کے روز نوح اور اس کی امت آئے گی اللہ پاک نوح (علیہ السلام) کو فرمائیں گے : کیا تم نے پیغام رسالت پہنچا دیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے جی ہاں اے پروردگار ! پروردگار ان کی قوم سے پوچھیں گے کیا تم کو پیغام مل گیا تھا ؟ وہ کہیں گے : نہیں ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا۔ پروردگار حضرت نوح (علیہ السلام) سے دریافت فرمائیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) محمد( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کا نام لیں گے۔ یہی مذکورہ فرمان الٰہی کا مطلب ہے۔ پھر امت کو بلایا جائے گا اور تم پیغمبر کے حق میں پیغام رسالت پہنچانے کی گواہی دوگے اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت ابو سعید (رض) ۔
اس حدیث کی مزید وضاحت ذیل کی حدیث سے ہوتی ہے۔
اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔ (اور رسول تم پر گواہ بنیں) قیامت کے روز نوح اور اس کی امت آئے گی اللہ پاک نوح (علیہ السلام) کو فرمائیں گے : کیا تم نے پیغام رسالت پہنچا دیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے جی ہاں اے پروردگار ! پروردگار ان کی قوم سے پوچھیں گے کیا تم کو پیغام مل گیا تھا ؟ وہ کہیں گے : نہیں ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا۔ پروردگار حضرت نوح (علیہ السلام) سے دریافت فرمائیں گے : کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) محمد( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کا نام لیں گے۔ یہی مذکورہ فرمان الٰہی کا مطلب ہے۔ پھر امت کو بلایا جائے گا اور تم پیغمبر کے حق میں پیغام رسالت پہنچانے کی گواہی دوگے اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت ابو سعید (رض) ۔
اس حدیث کی مزید وضاحت ذیل کی حدیث سے ہوتی ہے۔
2887- "يجيء نوح وأمته، فيقول الله: هل بلغت؟ فيقول: نعم، أي رب، فيقول لأمته: هل بلغكم؟ فيقولون: لا، ما جاءنا من نبي، فيقول: لنوح من يشهد لك، فيقول: محمد وأمته، وهو قوله تعالى: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ} ، والوسط: العدل، فتدعون فتشهدون له بالإبلاغ، ثم أشهد عليكم". "حم خ ت ن هـ عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ معتدل امت ہے
2888: قیامت کے روز ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ فقط ایک امتی ہوگا اور کسی نبی کے ساتھ دو امتی ہوں گے اور کسی نبی کے ساتھ تین امتی ہوں گے۔ اور کسی کے ساتھ اس سے زیادہ ہوں گے پس اس نبی سے کہا جائے گا کیا تم نے اپنی قوم کو پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہے گا جی ہاں، پھر اس کی قوم کو بلایا جائے گا۔ ان سے پوچھا جائے گا : کیا تم کو اس نے پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے نہیں۔ تب پیغمبر سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا کون گواہ ہے ؟ وہ کہے گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی امت۔ پس محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی امت کو بلایا جائے گا۔ ان سے پوچھا جائے گا کیا اس پیغمبر نے قوم تک پیغام خداوندی پہنچا دیا تھا ؟ امت محمدیہ عرض کرے گی جی اں ! امت محمدیہ سے پوچھا جائے گا : تمہیں اس بات کا کیسے علم نے اپنی قوم تک پیغام خداوندی پہنچا دیا تھا ؟ امت محمدیہ عرض کرے گی جی ہاں ! امت محمدیہ سے پوچھا جائے گا : تمہیں اس بات کا کیسے علم ہوا ؟ وہ کہیں گے ہمارے نبی نے ہمیں خبر دی تھی کہ تمام رسولوں نے اپنی قوموں تک پیغام خداوندی پہنچا دیا ہے۔ لہٰذا ہم نے اپنے پیغمبر (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کی تصدیق کی۔ پس یہی اس فرمانِ باری (وکذلک جعلناکم) کا مطلب ہے۔ (مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ بروایت ابو سعید خدری (رض))
2888- "يجيء النبي، يوم القيامة، ومعه الرجل، والنبي ومعه الرجلان، ويجيء النبي ومعه الثلاثة، وأكثر من ذلك، فيقال له: هل بلغت قومك؟ فيقول: نعم فيدعى قومه، فيقال لهم: هل بلغكم هذا، فيقولون لا، فيقال له: من يشهد لك؟ فيقول: محمد وأمته، فيدعى محمد وأمته، فيقال لهم: هل بلغ هذا قومه؟ فيقولون نعم، فيقال وما علمكم؟ فيقولون: جاءنا نبينا فأخبرنا: أن الرسل قد بلغوا، فصدقناه، فذلك قوله: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً} ". "حم ن هـ عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ معتدل امت ہے
2889: حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۔ (بقرہ : 187)
حتی کہ رات کے سیاہ دھاگہ سے صبح کا سفید دھاگہ واضح ہوجائے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تب تو تمہارا تکیہ بڑا طویل و عریض ہے۔ اس سے مراد توراۃ کی تاریکی اور دن کی سفیدی ہے۔ (مسند احمد، ابو داود، بروایت عدی (رض) بن حاتم)
روزے کے متعلق جب مذکورہ حاکم نازل ہوا کہ اس وقت تک کھانے پینے کی اجازت ہے۔ تو ایک صحابی اس کا لفظی معنی مراد لیتے ہوئے اپنے تکیے کے نیچے دو دھاگے ایک سفید اور سیا رکھ کر سو گئے کہ جب تک یہ ایک دوسرے سے ممتاز نہ ہوجائیں کھانے پینے کی گنجائش ہے۔
صبح کو جب یہ واقعہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گوش گذار کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا تکیہ تو بہت لمبا چوڑا ہے جس کے نیچے رات اور دن آگئے۔ اس سے مراد صبح کی شفق کا رات کی تاریکی سے ممتاز ہونا ہے۔
حتی کہ رات کے سیاہ دھاگہ سے صبح کا سفید دھاگہ واضح ہوجائے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تب تو تمہارا تکیہ بڑا طویل و عریض ہے۔ اس سے مراد توراۃ کی تاریکی اور دن کی سفیدی ہے۔ (مسند احمد، ابو داود، بروایت عدی (رض) بن حاتم)
روزے کے متعلق جب مذکورہ حاکم نازل ہوا کہ اس وقت تک کھانے پینے کی اجازت ہے۔ تو ایک صحابی اس کا لفظی معنی مراد لیتے ہوئے اپنے تکیے کے نیچے دو دھاگے ایک سفید اور سیا رکھ کر سو گئے کہ جب تک یہ ایک دوسرے سے ممتاز نہ ہوجائیں کھانے پینے کی گنجائش ہے۔
صبح کو جب یہ واقعہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گوش گذار کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا تکیہ تو بہت لمبا چوڑا ہے جس کے نیچے رات اور دن آگئے۔ اس سے مراد صبح کی شفق کا رات کی تاریکی سے ممتاز ہونا ہے۔
2889- "إن وسادك إذا لعريض طويل، إنما هو سواد الليل وبياض النهار". "حم د عن عدي بن حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ معتدل امت ہے
2890: آل عمران۔
وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا۔ آل عمران : 97 (اور لوگوں پر اللہ کے لیے اس کے گھر کا حج ہے۔ جو شخص اس کی راہ کی طاقت رکھتا ہو۔ )
نبی (علیہ السلام) نے فرمایا : السبیل توشہ اور سواری ہے۔ (الشافعی، ترمذی، ابن عمر (رض) سنن البیہقی عائش (رض) )
تشریح : یعنی جو شخص آنے جانے کے خرچ اور سواری کی طاقت رکھتا ہو اور پیچھے رہ جانے والے اہل و عیال کے خرچ کا بند و بست کرکے بیت اللہ کو جاسکتا ہو اس پر حج فرض ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے فقہی کتب ملاحظہ فرمائیں۔
وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا۔ آل عمران : 97 (اور لوگوں پر اللہ کے لیے اس کے گھر کا حج ہے۔ جو شخص اس کی راہ کی طاقت رکھتا ہو۔ )
نبی (علیہ السلام) نے فرمایا : السبیل توشہ اور سواری ہے۔ (الشافعی، ترمذی، ابن عمر (رض) سنن البیہقی عائش (رض) )
تشریح : یعنی جو شخص آنے جانے کے خرچ اور سواری کی طاقت رکھتا ہو اور پیچھے رہ جانے والے اہل و عیال کے خرچ کا بند و بست کرکے بیت اللہ کو جاسکتا ہو اس پر حج فرض ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے فقہی کتب ملاحظہ فرمائیں۔
2890- "آل عمران" "السبيل الزاد والراحلة". "الشافعي ت عن ابن عمر" "هق عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2891: القنطار سے مراد ہزار اوقیہ ہے۔ المستدرک للحاکم بروایت انس (رض)۔
تشریح : ومنہم من ان تامنہ بقطار یودہ الیک ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک۔ آل عمران : 75 ۔
اور بعض اہل کتاب وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے (قنطار) ڈھیر مال کا تو ادا کردیں تجھ کو اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ایک اشرفی تو ادا نہ کریں۔
اوقیہ سات مثقاق کا ایک مقرر وزن وتا ہے۔ جو رطل کا بارہواں حصہ بنتا ہے۔
حدیث کا خلاصہ ہے یہ ہے کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاری میں سے کچھ تو ایسے امانت دار ہیں کہ اگر ان کے پاس ہزار اوقیہ کے برابر سونا بھی امانتا رکھوا دیا جائے تو واپس کردیں گے۔
تشریح : ومنہم من ان تامنہ بقطار یودہ الیک ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک۔ آل عمران : 75 ۔
اور بعض اہل کتاب وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے (قنطار) ڈھیر مال کا تو ادا کردیں تجھ کو اور بعضے ان میں وہ ہیں کہ اگر تو ان کے پاس امانت رکھے ایک اشرفی تو ادا نہ کریں۔
اوقیہ سات مثقاق کا ایک مقرر وزن وتا ہے۔ جو رطل کا بارہواں حصہ بنتا ہے۔
حدیث کا خلاصہ ہے یہ ہے کہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاری میں سے کچھ تو ایسے امانت دار ہیں کہ اگر ان کے پاس ہزار اوقیہ کے برابر سونا بھی امانتا رکھوا دیا جائے تو واپس کردیں گے۔
2891- "القنطار ألف أوقية". "ك عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2892: قنطار بارہ ہزار اوقیہ ہے اور ہر اوقیہ آسمان و زمین کے درمیان کے خزانے سے بہتر ہے۔ (ابن حبان، ابن ماجہ بروایت ابوہریرہ (رض) )
تشریح : یعنی جو امانت واپس کردی جائے اس کا ثواب آسمان و زمین کے درمیان کے خزانے کو راہ خدا میں خیرات کرنے سے بہتر ہے۔
تشریح : یعنی جو امانت واپس کردی جائے اس کا ثواب آسمان و زمین کے درمیان کے خزانے کو راہ خدا میں خیرات کرنے سے بہتر ہے۔
2892- "القنطار اثنتا عشرة ألف أوقية، كل أوقية خير مما بين السماء والأرض". "حب هـ عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2893: قنطار بارہ ہزار دینار ہیں۔ ابن جریر بروایت مرسلا از حسن۔
کلام : اس روایت کو سنداً ضعیف کہا گیا ہے۔ دیکھیے ضعیف الجامع 4144 ۔
کلام : اس روایت کو سنداً ضعیف کہا گیا ہے۔ دیکھیے ضعیف الجامع 4144 ۔
2893- "القنطار ألف أوقية ومائتاأوقية". "ابن جرير عن أبي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2894: قنطار بارہ ہزار دینار ہیں۔ ابن جریر بروایت مرسلا از حسن۔
کلام : ضعیف ہے۔ ضعیف الجامع 4142 ۔
کلام : ضعیف ہے۔ ضعیف الجامع 4142 ۔
2894- "القنطار ألف ومائتا دينار". "ابن جرير عن الحسن مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2895: سورة الانعام۔ اللہ پاک یہود پہ لعنت فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربیوں کو حرام قرار دیا تو انھوں نے اس کو پگھلا کر فروخت کیا اور اس کے پیسے سے کھانے لگے۔
مسند، بخاری، مسلم، ابن ماجہ، ترمذی، ابو داود، نسائی بروایت جابر (رض)، بخاری، مسلم بروایت ابوہریرہ، (رض) ، مسند احمد، بخاری مسلم، نسائی ابن ماجہ، عمر (رض)۔
تشریح : ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہما الا ما حملت ظہورہما او الحوایا او مااختلط بعظم۔ اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ان کی چربی مگر جو لگی ہو پشت پر یا آنتوں پر یا جو چربی ملی ہو ہڈی کے ساتھ۔
اللہ عزوجل نے یہود بنی اسرائیل پر بطور سزا مذکورہ جگہوں کے علاوہ گائے اور بکری کی چربی حرام قرار دی تھی۔ مگر انھوں نے اس کو پگھلا کر تیل بنایا اور اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھانے پینے لگے۔ جیسے کہ آجکل بعض لوگ اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو مختلف حیلے بہانوں سے استعمال کرتے ہیں۔ ان پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ حدیث میں لعنت فرمائی ہے۔
مسلمانوں کے لیے مذکورہ چربی بالکل حلال ہے جو کہ یہود کے لیے حرام کی گئی تھی۔
مسند، بخاری، مسلم، ابن ماجہ، ترمذی، ابو داود، نسائی بروایت جابر (رض)، بخاری، مسلم بروایت ابوہریرہ، (رض) ، مسند احمد، بخاری مسلم، نسائی ابن ماجہ، عمر (رض)۔
تشریح : ومن البقر والغنم حرمنا علیہم شحومہما الا ما حملت ظہورہما او الحوایا او مااختلط بعظم۔ اور گائے اور بکری میں سے حرام کی تھی ان کی چربی مگر جو لگی ہو پشت پر یا آنتوں پر یا جو چربی ملی ہو ہڈی کے ساتھ۔
اللہ عزوجل نے یہود بنی اسرائیل پر بطور سزا مذکورہ جگہوں کے علاوہ گائے اور بکری کی چربی حرام قرار دی تھی۔ مگر انھوں نے اس کو پگھلا کر تیل بنایا اور اس کو فروخت کرکے اس کی قیمت کھانے پینے لگے۔ جیسے کہ آجکل بعض لوگ اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو مختلف حیلے بہانوں سے استعمال کرتے ہیں۔ ان پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ حدیث میں لعنت فرمائی ہے۔
مسلمانوں کے لیے مذکورہ چربی بالکل حلال ہے جو کہ یہود کے لیے حرام کی گئی تھی۔
2895- "الأنعام" "قاتل الله اليهود، إن الله عز وجل لما حرم عليهم الشحوم جملوها ثم باعوها، فأكلوا أثمانها". "حم ق-4- عن جابر" "ق عن أبي هريرة حم ق ن هـ عن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2896: طوفان موت ہے۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ بروایت عائشہ (رض)۔
تشریح : فارسلنا علیہم الطوفان۔ الاعراف : 133 ۔ پھر ہم نے بھیجا ان پر طوفان۔
فاخذہم الطوفان وھم ظالمون : العنکبوت : 14 پھر پکڑا ان کو طوفان اور وہ ظالم تھے۔
مذکورہ آیات میں طوفان سے مراد موت کو قرار دیا گیا ہے۔
کلام : حدیث ضعیف ہے۔ ضعیف الجامع 3660
تشریح : فارسلنا علیہم الطوفان۔ الاعراف : 133 ۔ پھر ہم نے بھیجا ان پر طوفان۔
فاخذہم الطوفان وھم ظالمون : العنکبوت : 14 پھر پکڑا ان کو طوفان اور وہ ظالم تھے۔
مذکورہ آیات میں طوفان سے مراد موت کو قرار دیا گیا ہے۔
کلام : حدیث ضعیف ہے۔ ضعیف الجامع 3660
2896- "الطوفان الموت". "ابن جرير وابن أبي حاتم وابن مردويه عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2897: (سورة الاعراف) اصحاب الاعراف و قوم ہے جو اپنے آباء و اجداد کی معصیت کی وجہ سے خدا کی راہ میں قتل ہوئے۔ لہٰذا جہنم میں جانے سے ان کو خدا کی راہ میں مرنے نے روک لیا اور جنت میں جانے سے ان کے ان کے آباء و اجداد کی معصیت نے روک لیا۔
السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید ابن منیع، الحارث، الطبرانی فی الکبیر، السنن للبیہقی بروایت عبدالرحمن المزنی۔
کلام : مذکورہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھیے ضعیف الجامع 884 ۔
السنن لسعید بن منصور، عبد بن حمید ابن منیع، الحارث، الطبرانی فی الکبیر، السنن للبیہقی بروایت عبدالرحمن المزنی۔
کلام : مذکورہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھیے ضعیف الجامع 884 ۔
2897- "الأعراف" "أصحاب الأعراف قوم قتلوا في سبيل الله،
2897- "الأعراف" "أصحاب الأعراف قوم قتلوا في سبيل الله،
بمعصية آبائهم، فمنعهم من النار قتلهم في سبيل الله، ومنعهم من الجنة معصية آبائهم".
"ص وعبد بن حميدوابن منيع والحارث "طب هق في البعث عن الرحمن المزني".
2897- "الأعراف" "أصحاب الأعراف قوم قتلوا في سبيل الله،
بمعصية آبائهم، فمنعهم من النار قتلهم في سبيل الله، ومنعهم من الجنة معصية آبائهم".
"ص وعبد بن حميدوابن منيع والحارث "طب هق في البعث عن الرحمن المزني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2898: جب حواء (علیہا السلام) حاملہ ہوئیں تو ابلیس ان کے پاس آیا۔ حضرت حواء کا کوئی بچہ زندہ نہ بچتا تھا، ابلیس نے آپ کو کہا، بچے کا نام عبدالحارث رکھ دینا، پھر و بچہ جیے گا، حضرت حواء نے بچے کا نام عبدالحارث رکھا تو واقعی و جیا۔ یہ شیطان کے بہکانے سے ہوا۔ (مسند احمد، ترمذی، مستدرک الحاکم ایضا بروایت حضرت سمرۃ بن جندب) ۔
تشریح مع کلام : فلما تغشٰھا حملت حملا خفیفا فمرت بہ۔ الاعراف : 189 ۔ جب مرد نے عورت کو ڈھانکا تو حمل رہا ہلکا سا حمل تو چلتی پھرتی رہی اس کے ساتھ۔
اس آیت کی تفسیر میں مذکورہ روایت نقل کی جاتی ہے۔ صرف امام ترمذی (رح) نے اس کو مرفوع روایت کیا ہے جس کے متعلق امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ تین وجہ سے معلول ہے (لہذا اس سے دلیل پکڑنا درست نہیں)
اس کے علاوہ باقی آثار ہیں اور غالباً وہ اہل کتاب سے ماخوذ ہیں۔ چنانچہ آیت میں جو آگے فرمان ہے کہ پھر وہ ماں باپ بچے کی پیدائش کے بعد شرک کرنے لگتے ہیں اس سے مراد حضرت آدم اور حضرت حواء (علیہا السلام) نہیں ہوسکتے کیونکہ پیغمبروں سے شرک جیسا بڑا گناہ سرزد ہونا محال ہے۔ شروع آیت میں حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) نہیں ہوسکتے کیونکہ پیغمبروں سے شرک جیسا بڑا گناہ سرزد ہونا محال ہے۔ شروع آیت میں حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) ہی کا ذکر ہے بعد میں علم سے جنس کی طرح تحویل ہوئی ہے جیسا کہ قرآن پاک میں بعض مقامات پر ایسا وا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔ تفسیر عثمانی بذیل۔ سورة الاعراف : 189
تشریح مع کلام : فلما تغشٰھا حملت حملا خفیفا فمرت بہ۔ الاعراف : 189 ۔ جب مرد نے عورت کو ڈھانکا تو حمل رہا ہلکا سا حمل تو چلتی پھرتی رہی اس کے ساتھ۔
اس آیت کی تفسیر میں مذکورہ روایت نقل کی جاتی ہے۔ صرف امام ترمذی (رح) نے اس کو مرفوع روایت کیا ہے جس کے متعلق امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں یہ تین وجہ سے معلول ہے (لہذا اس سے دلیل پکڑنا درست نہیں)
اس کے علاوہ باقی آثار ہیں اور غالباً وہ اہل کتاب سے ماخوذ ہیں۔ چنانچہ آیت میں جو آگے فرمان ہے کہ پھر وہ ماں باپ بچے کی پیدائش کے بعد شرک کرنے لگتے ہیں اس سے مراد حضرت آدم اور حضرت حواء (علیہا السلام) نہیں ہوسکتے کیونکہ پیغمبروں سے شرک جیسا بڑا گناہ سرزد ہونا محال ہے۔ شروع آیت میں حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) نہیں ہوسکتے کیونکہ پیغمبروں سے شرک جیسا بڑا گناہ سرزد ہونا محال ہے۔ شروع آیت میں حضرت آدم و حواء (علیہما السلام) ہی کا ذکر ہے بعد میں علم سے جنس کی طرح تحویل ہوئی ہے جیسا کہ قرآن پاک میں بعض مقامات پر ایسا وا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔ تفسیر عثمانی بذیل۔ سورة الاعراف : 189
2898- "لما حملت حواء طاف بها إبليس، وكان لا يعيش لها ولد، فقال: سميه عبد الحارث، فإنه يعيش، فسمته عبد الحارث، فعاش، وكان ذلك من وحي الشيطان وأمره". "حم ت ك والضياء عن سمرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2899: سورة الانفال ۔ آگاہ رو ! طاقت پھینکنے میں ہے۔ آگاہ رہو ! طاقت پھینکنے میں ہے۔ آگاہ رہو، طاقت پھینکنے میں ہے۔ (مسند احمد، مسلم، ابوداود، ابن ماجہ بروایت عقبہ بن عامر (رض))
ترمذی میں یہ اضافہ منقول ہے، خبردار ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے لیے زمین فتح فرمائے گا۔ اور تم مشقت سے بچ جاؤ گے۔ پس کوئی شخص اپنے تیر وکمان اور دیگر اسلحہ جات سے کھیلنا نہ بھولے۔
تشریح : وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی (الانفال : 17) (اور اے محمد ! جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو و تم نے نہیں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔
مذکورہ آیت میں رمی سے متعلق فرمان باری کی توضیح و شرح مذکورہ بالا روایت میں کی گئی ہے۔
ترمذی میں یہ اضافہ منقول ہے، خبردار ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے لیے زمین فتح فرمائے گا۔ اور تم مشقت سے بچ جاؤ گے۔ پس کوئی شخص اپنے تیر وکمان اور دیگر اسلحہ جات سے کھیلنا نہ بھولے۔
تشریح : وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی (الانفال : 17) (اور اے محمد ! جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو و تم نے نہیں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔
مذکورہ آیت میں رمی سے متعلق فرمان باری کی توضیح و شرح مذکورہ بالا روایت میں کی گئی ہے۔
2899- "الأنفال" "ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي، ألا إن القوة الرمي". "حم م د هـ عن عقبة بن عامر". زاد "ت2 " ألا إن الله سيفتح لكم الأرض، وستكفون المؤنة، فلا يعجزن أحدكم أن يلهو بأسهمه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2900: اے ابی جب میں نے تم کو پکارا تو کس چیز نے تمہیں مجھے جواب دینے روکا اللہ تعالیٰ نے جو مجھ پر وحی فرمائی ہے، کیا اس میں یہ حکم نہیں پاتے۔
استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم۔ الانفال : 24 ۔ اللہ اور رسول کی پکار کا جواب دو جب وہ تمہیں پکاریں اس کام کے لیے جس میں تمہاری زندگی ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، مستدرک الحاکم بروایت ابوہریرہ (رض) ۔
تشریح : حضرت ابی (رض) نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آواز دی وہ نماز کی وجہ سے جواب نہ دے پائے تو بعد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ ارشاد فرمایا۔
استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم۔ الانفال : 24 ۔ اللہ اور رسول کی پکار کا جواب دو جب وہ تمہیں پکاریں اس کام کے لیے جس میں تمہاری زندگی ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، مستدرک الحاکم بروایت ابوہریرہ (رض) ۔
تشریح : حضرت ابی (رض) نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آواز دی وہ نماز کی وجہ سے جواب نہ دے پائے تو بعد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یہ ارشاد فرمایا۔
2900- "ما منعك يا أبي أن تجيبني إذ دعوتك؟ ألم تجد فيما أوحى الله إلي أن {اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} ". "حم ت ك عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2901: سورة التوبہ۔ " حج اکبر کا دن قربانی کا دن ہے " ترمذی بروایت علی (رض)۔
2901- "التوبة" "يوم الحج الأكبر يوم النحر". "ت عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2902: " چھوڑو اے عمر ! مجھے اختیار دیا گیا تھا چنانچہ میں نے اختیار کرلیا۔ مجھے کہا گیا :
استغفر لہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم۔ " التوبہ : 80 ۔
تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہے) اگر ان کے لیے ستر دفعہ بھی بخشش مانگوگے تو بھی خدا ان کو نہ بخشے گا۔
پھر فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ ستر دفعہ سے زیادہ استغفار کرنے پر اس کی مغفرت ہوجائے گی تو زیادہ بھی استغفار کرتا۔ (ترمذی، نسائی برویت عمر (رض))
تشریح : رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیص میں اس کو کفن دلایا اور اپنا لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈالا، نماز جنازہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی۔ حضرت عمر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دامن مبارک پکڑ کر التجاء کی کہ اس منافق کو اس قدر اعزاز نہ بخشیں تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔
پھر بعد میں ارشاد خداوندی نازل ہوا :
اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مرجائے تو کبھی اس کے (جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ (سورة التوبہ : 84)
استغفر لہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم۔ " التوبہ : 80 ۔
تم ان کے لیے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہے) اگر ان کے لیے ستر دفعہ بھی بخشش مانگوگے تو بھی خدا ان کو نہ بخشے گا۔
پھر فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ ستر دفعہ سے زیادہ استغفار کرنے پر اس کی مغفرت ہوجائے گی تو زیادہ بھی استغفار کرتا۔ (ترمذی، نسائی برویت عمر (رض))
تشریح : رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیص میں اس کو کفن دلایا اور اپنا لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈالا، نماز جنازہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی۔ حضرت عمر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دامن مبارک پکڑ کر التجاء کی کہ اس منافق کو اس قدر اعزاز نہ بخشیں تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا۔
پھر بعد میں ارشاد خداوندی نازل ہوا :
اور (اے پیغمبر) ان میں سے کوئی مرجائے تو کبھی اس کے (جنازے) پر نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر (جا کر) کھڑے ہونا۔ (سورة التوبہ : 84)
2902- "أخر عني يا عمر، إني خيرت فاخترت، فقد قيل لي:
{اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} لو أعلم أني لو زدت على السبعين غفر له لزدت". "ت ن عن عمر".
{اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ} لو أعلم أني لو زدت على السبعين غفر له لزدت". "ت ن عن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2903: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا اور فرمایا :
استغفرلہم او لا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ۔ التوبہ : 80 ۔
چنانچہ میں ستر سے زیاد مرتبہ بھی استغفار کروں گا۔ مسلم بروایت ابن عمر (رض)۔
استغفرلہم او لا تستغفرلہم ان تستغفرلہم سبعین مرۃ۔ التوبہ : 80 ۔
چنانچہ میں ستر سے زیاد مرتبہ بھی استغفار کروں گا۔ مسلم بروایت ابن عمر (رض)۔
2903- "إنما خيرني الله فقال {اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً} وسأزيد على السبعين". "م عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت داری کا حکم
2904: السائحون سے مراد صائمون یعنی روزہ دار ہیں۔ (مستدرک الحاکم بروایت ابوہریرہ (رض)) ۔
تشریح : فرمان الہی ، التائبون العبدون الحامدوان السائحون ۔ الخ
توبہ کرنے والے، ، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے۔
یعنی قرآنی آیت میں، السائحون، سے مراد الصائمون روزہ دار ہیں۔
کلام : یہ روایت معلول ہے دیکھیے، ذخیرۃ الحفاظ، 3282، ضعیف الجامع 3330 ۔
تشریح : فرمان الہی ، التائبون العبدون الحامدوان السائحون ۔ الخ
توبہ کرنے والے، ، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے۔
یعنی قرآنی آیت میں، السائحون، سے مراد الصائمون روزہ دار ہیں۔
کلام : یہ روایت معلول ہے دیکھیے، ذخیرۃ الحفاظ، 3282، ضعیف الجامع 3330 ۔
2904- "السائحون هم الصائمون". "ك عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2905: سورة یونس۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تو وہ بولا میں ایمان لایا اس بات پر کہ کوئی معبود نہیں سوائے اس ذات کے جس پر بنی اسرائیل پر ایمان لائے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا اے محمد ! آپ مجھے اس وقت دیکھتے کہ میں نے سمندر کی کیچڑ اٹھائی اور اس کے منہ میں ٹھونسنے لگا اس ڈر سے کہ کہیں اس پر خدا کی رحمت نہ آجائے۔ مسند احمد، ترمذی بروایت ابن عباس۔
کلام : الجامع المصنف 42 میں اس روایت پر جرح کی گئی ہے۔
کلام : الجامع المصنف 42 میں اس روایت پر جرح کی گئی ہے۔
2905- "يونس" "لما أغرق الله فرعون {قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرائيلَ} قال جبريل: يا محمد لو رأيتني وأنا آخذ من حال البحر، فأدسه في فيه، مخافة أن تدركه الرحمة". "حم ت عن ابن عباس"
তাহকীক: