কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ২৯০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2906: مجھے جبرائیل نے کہا : آپ مجھے اس وقت دیکھتے میں سمندر کی کیچڑ لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا اس ڈر سے کہ کہیں اس کو رحمت الہی نہ پہنچ جائے۔ مسند احمد، مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض) ۔
کلام : ضعیف ہے۔ ذخیرۃ الحفاظ 3730
کلام : ضعیف ہے۔ ذخیرۃ الحفاظ 3730
2906- "قال لي جبريل1 لو رأيتني وأنا آخذ من حال البحر، فأدسه في في فرعون مخافة أن تدركه الرحمة" "حم ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2907: سورة الاسراء۔ زوال شمس سے مراد سورج کا ڈھلنا ہے۔ مسند الفردوس للدیلمی بروایت ابن عمر (رض)۔
تشریح : سورة الاسراء آیت 87 میں نمازوں کے اوقات کا ذکر ہے۔ فرمان الہی ہے :
اقم الصلوۃ لدولک الشمس الی غسق الیل وقرآن الفجر۔ الاسراء : 87
(اے محمد) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔
مذکورہ حدیث میں " دلوک " لفظ کی تشریح ہے کہ اس کے معنی زوال اور ڈھلنے کے ہیں۔
کلام : ضعیف الجامع 3176 پر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
تشریح : سورة الاسراء آیت 87 میں نمازوں کے اوقات کا ذکر ہے۔ فرمان الہی ہے :
اقم الصلوۃ لدولک الشمس الی غسق الیل وقرآن الفجر۔ الاسراء : 87
(اے محمد) سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک (ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی) نمازیں اور صبح کو قرآن پڑھا کرو۔
مذکورہ حدیث میں " دلوک " لفظ کی تشریح ہے کہ اس کے معنی زوال اور ڈھلنے کے ہیں۔
کلام : ضعیف الجامع 3176 پر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
2907- "سبحان" "زوال الشمس دلوكها". "فر عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2908: ہر انسان کی قسمت (کا پرندہ) اس کی گردن میں ہے۔ ابن جریر بروایت جابر (رض)۔
تشریح : فرمان الہی ہے :
وکل انسان الزمنہ طائرہ فی عنقہ۔ الاسراء : 13 ۔
اور ہر آدمی کو ہم نے اس کے اعمال (بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دئیے ہیں۔
یعنی ہر انسان کے عمل اس کی گردن میں آویزاں ہیں جو قیامت میں کھلی کتاب کی شکل میں ہوں گے۔
تشریح : فرمان الہی ہے :
وکل انسان الزمنہ طائرہ فی عنقہ۔ الاسراء : 13 ۔
اور ہر آدمی کو ہم نے اس کے اعمال (بصورت کتاب) اس کے گلے میں لٹکا دئیے ہیں۔
یعنی ہر انسان کے عمل اس کی گردن میں آویزاں ہیں جو قیامت میں کھلی کتاب کی شکل میں ہوں گے۔
2908- "طائر كل إنسان في عنقه". "ابن جرير عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2909: ہر بندے کی قسمت اس کی گردن میں ہے۔ عبد بن حمید بروایت جابر (رض)۔
2909- "طير كل عبد في عنقه". "عبد بن حميد عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2910: سورة الکہف۔ جس بچے کو خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا جس دن اس کو پیدا کیا گیا کافر پیدا کیا گیا۔ اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے والدین کو بھی سرکشی اور کفر میں مبتلا کردیتا ۔ مسلم، ترمذی، ابوداود، بروایت ابی (رض) ۔
تشریح : سورة الکہف آیت 84 میں اس واقعہ کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) دونوں جا رہے تھے راستے میں ایک بچہ ملا جس کو حضرت خضر (علیہ السلام) نے قتل کردیا۔ اس طرح کے دو اچھنبے واقعے اور پیش آئے بعد میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بچہ قتل کرنے کی وجہ بتائی کہ اگر وہ مزید زندہ رہتا تو اپنے والدین کو بھی کفر میں مبتلا کردیتا۔
تشریح : سورة الکہف آیت 84 میں اس واقعہ کا ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) دونوں جا رہے تھے راستے میں ایک بچہ ملا جس کو حضرت خضر (علیہ السلام) نے قتل کردیا۔ اس طرح کے دو اچھنبے واقعے اور پیش آئے بعد میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بچہ قتل کرنے کی وجہ بتائی کہ اگر وہ مزید زندہ رہتا تو اپنے والدین کو بھی کفر میں مبتلا کردیتا۔
2910- "الكهف" "الغلام الذي قتله الخضر طبع يوم طبع كافرا، ولو عاش لأرهق أبويه طغيانا وكفرا". "م ت د عن أبي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2911: سورة مریم۔ الرود سے مراد دخول ہے۔ کوئی نیک بچے گا نہ فاجر مگر جہنم (کے راستے) میں ضرور داخل ہوگا۔ پس وہ مومنین پر ٹھنڈی اور باعث سلامتی ہوجائے گی، جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوئی تھی۔ حتی کہ مومنوں کی ٹھنڈک کی وجہ سے جہنم کی چیخیں نکلیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ متقین کو اس سے نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں اوندھے منہ چھوڑ دیں گے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ، مستدرک الحاکم بروایت جابر (رض))
تشریح : فرمان الہی ہے :
وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتما مقضیا۔
اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اس کو اس پر گزرنا ہوگا یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔
ثم ننجی الذی اتقو و نذر الظالمین فیھا جثیا۔ مریم 71 ۔ 72 ۔
پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔
مذکورہ حدیث اس آیت کریمہ کی تشریح ہے۔ جس میں ہر شخص کے پس صراط سے گزرنے کا ذکر ہے۔
کلام : علامہ البانی (رح) نے ضعیف الجامع 6106 پر اس روایت کو ضعیف شمار کیا ہے۔
تشریح : فرمان الہی ہے :
وان منکم الا واردھا کان علی ربک حتما مقضیا۔
اور تم میں کوئی (شخص) نہیں مگر اس کو اس پر گزرنا ہوگا یہ تمہارے پروردگار پر لازم اور مقرر ہے۔
ثم ننجی الذی اتقو و نذر الظالمین فیھا جثیا۔ مریم 71 ۔ 72 ۔
پھر ہم پرہیزگاروں کو نجات دیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پڑا ہوا چھوڑ دیں گے۔
مذکورہ حدیث اس آیت کریمہ کی تشریح ہے۔ جس میں ہر شخص کے پس صراط سے گزرنے کا ذکر ہے۔
کلام : علامہ البانی (رح) نے ضعیف الجامع 6106 پر اس روایت کو ضعیف شمار کیا ہے۔
2911- "مريم" "الورود الدخول، لا يبقى بر ولا فاجر إلا دخلها، فتكون على المؤمنين بردا وسلاما، كما كانت على إبراهيم، حتى إن للنار ضجيجا من بردهم، {ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيّاً} ."حم هـ في تفسيره ك عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2912: جب پروردگار عزوجل کسی بندہ سے محبت فرماتے ہیں تو جبرائیل کو فرماتے ہیں :
میں فلاں شخص کو محبوب رکھتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو۔ چنانچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آسمان میں اعلان کرتے ہیں۔ پھر اس کی محبت زمین والوں (کے دلوں) میں اترجاتی ہے۔ پس یہی فرمان باری عز اسمہ :
ان الذین امنوا وعملوا الصالحات سیجعل لہم الرحمن ودا۔ مریم : 96 ۔
بےشک جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے خدا ان کی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کردے گا۔
آگے فرمایا : اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے نفرت فرماتے ہیں تو جبرائیل (علیہ السلام) کو فرماتے ہیں : میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں۔
چنانچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آسمان میں اس کا اعلان فرما دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے زمین (والوں کے دلوں میں) اس سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ ترمذی بروایت بوہریرہ (رض) ۔
میں فلاں شخص کو محبوب رکھتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو۔ چنانچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آسمان میں اعلان کرتے ہیں۔ پھر اس کی محبت زمین والوں (کے دلوں) میں اترجاتی ہے۔ پس یہی فرمان باری عز اسمہ :
ان الذین امنوا وعملوا الصالحات سیجعل لہم الرحمن ودا۔ مریم : 96 ۔
بےشک جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے خدا ان کی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کردے گا۔
آگے فرمایا : اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے نفرت فرماتے ہیں تو جبرائیل (علیہ السلام) کو فرماتے ہیں : میں فلاں شخص سے بغض رکھتا ہوں۔
چنانچہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آسمان میں اس کا اعلان فرما دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے زمین (والوں کے دلوں میں) اس سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ ترمذی بروایت بوہریرہ (رض) ۔
2912- "إذا أحب الله عز وجل عبدا نادى جبرئيل: أني قد أحببت فلانا فأحبه، فينادي في السماء، ثم تنزل له المحبة في أهل الأرض، فذلك قوله تعالى: {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدّاً} . وإذا أبغض الله عبدا نادى جبرئيل: أني قد أبغضت فلانا فينادي في السماء، ثم تنزل له البغضاء في الأرض". "ت عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرعون کا ایمان غیر معتبر ہے :
2913: سورة المومنون : تم میں سے ہر شخص کے دو گھر ہیں۔ ایک جنت میں اور دوسرا جہنم میں۔ پس جب وہ مر کر جہنم میں داخل ہوتا ہے تو اہل جنت اس کے گھر کے وارث بن جاتے ہیں۔ یہی فرمان باری ہے :
اولئک ھم الوارثوان۔ المومنون : 10
یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں۔ ابن ماجہ بروایت ابوہریرہ (رض)۔
اولئک ھم الوارثوان۔ المومنون : 10
یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں۔ ابن ماجہ بروایت ابوہریرہ (رض)۔
2913- "المؤمنون" " ما منكم من أحد إلا وله منزلان، منزل في الجنة، ومنزل في النار، فإذا مات فدخل النار ورث أهل الجنة منزله فذلك قوله: {هُمُ الْوَارِثُونَ} . " " هـ عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رملہ فلسطین کا ذکر :
2914: " الربوۃ " سے مراد الرملہ ہے۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ بروایت مرۃ البھری (رض) ۔
تشریح و کلام : فرمان الہی ہے :
وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ واوینہما الی ربوۃ ذات قرار و معین۔ المومنون : 50
اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا۔ اور ان کو رہنے کے لائق ایک اونچی جگہ میں جہاں نتھرا ہوا پانی جاری تھا پناہ دی تھی۔
آیت میں ربوۃ مقام کا جو ذکر ہے اس سے رملہ فلسطین کا شہر مراد ہے۔ یہی حدیث کا مطلب ہے لیکن اس روایت کو ضعیف الجامع 3148 پر ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
شاید یہ وہی ٹیلہ یا اونچی زمین ہو جہاں وضع حمل کے وقت حضرت مریم تشریف رکھتی تھیں۔ چنانچہ سورة مریم کی آیات " فناداھا من تحتہا ان لا تحزنی قد جعل ربک تحتک سریا وھزی الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطبا جن یا " دلالت کرتی ہیں کہ وہ جگہ بلند تھی۔ نیچے چشمہ یا نہر بہہ رہی تھی۔ اور کھجور کا درخت نزدیک تھا (کذا فسرہ ابن کثیر (رح)) لیکن عموماً مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح کے بچپن کا واقعہ ہے۔ ایک ظالم بادشاہ ہیرودوس نامی نجومیوں سے سن کر کہ حضرت عیسیٰ کو سرداری ملے گی، لڑکپن ہی میں ان کا دشمن ہوگیا اور قتل کے درپے تھا۔ حضرت مریم الہام ربانی سے ان کو لے کر مصر چلی گئیں اور اس ظالم کے مرنے کے بعد پھر شام واپس چلی آئیں۔ چنانچہ انجیل متی میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے اور مصر کا اونچا ہونا باعتبار رود نیل کے ہے ورنہ غرق ہوجاتا اور ماء معین ورود نیل ہے بعض نے ربوہ (اونچی جگہ) سے مراد شام یا فلسطین لیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ جس ٹیلہ پر ولادت کے وقت موجود تھیں وہیں اس خطرہ کے وقت بھی پناہ دی گئی ہو۔ واللہ اعلم۔ بہرحال اہل اسلام میں کسی نے ربوہ سے مراد کشمیر نہیں لیا۔ نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی قبر کشمیر میں بتلائی۔ البتہ ہمارے زمانہ کے بعض زائغین نے ربوہ سے کشمیر مراد لیا ہے اور وہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتلائی ہے جس کا کوئی ثبوت تاریخی حیثیت سے نہیں۔ محض کذب و دروغ بیانی ہے۔ محلہ خان یار شہر سری نگر میں جو قبر یوز آسف کے نام سے مشہور ہے اور جس کی بابت تاریخ اعظمی کے مصنف نے محض عام افواہ نقل کی ہے کہ لوگ اس کو کسی نبی کی قبر بتاتے ہیں وہ کوئی شہزادہ تھا اور دوسرے ملک سے یہاں آیا " اس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتانا پرلے درجہ کی بےحیائی اور سفاہت ہے۔ ایسی اٹکل پچو قیاس آرائیوں سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حیات کو باطل ٹھہرانا بجز خبط اور جنون کے کچھ نہیں اگر اس قبر کی تحقیق مطلوب ہو اور یہ کہ یوز آسف کون تھا تو جناب منشی حبیب اللہ صاحب امرتسری کا رسالہ دیکھو جو خاص اس موضوع پر نہایت تحقیق و تدقیق سے لکھا گیا ہے اور جس میں اس مہمل خیال کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ عنا و عن سائر المسلمین احسن الجزاء۔ بحوالہ تفسیر عثمانی۔
کلام : حدیث بالا ضعیف ہے۔ دیکھئے ضعیف الجامع 3138 ۔
تشریح و کلام : فرمان الہی ہے :
وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ واوینہما الی ربوۃ ذات قرار و معین۔ المومنون : 50
اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ) اور ان کی ماں کو (اپنی) نشانی بنایا تھا۔ اور ان کو رہنے کے لائق ایک اونچی جگہ میں جہاں نتھرا ہوا پانی جاری تھا پناہ دی تھی۔
آیت میں ربوۃ مقام کا جو ذکر ہے اس سے رملہ فلسطین کا شہر مراد ہے۔ یہی حدیث کا مطلب ہے لیکن اس روایت کو ضعیف الجامع 3148 پر ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
شاید یہ وہی ٹیلہ یا اونچی زمین ہو جہاں وضع حمل کے وقت حضرت مریم تشریف رکھتی تھیں۔ چنانچہ سورة مریم کی آیات " فناداھا من تحتہا ان لا تحزنی قد جعل ربک تحتک سریا وھزی الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطبا جن یا " دلالت کرتی ہیں کہ وہ جگہ بلند تھی۔ نیچے چشمہ یا نہر بہہ رہی تھی۔ اور کھجور کا درخت نزدیک تھا (کذا فسرہ ابن کثیر (رح)) لیکن عموماً مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح کے بچپن کا واقعہ ہے۔ ایک ظالم بادشاہ ہیرودوس نامی نجومیوں سے سن کر کہ حضرت عیسیٰ کو سرداری ملے گی، لڑکپن ہی میں ان کا دشمن ہوگیا اور قتل کے درپے تھا۔ حضرت مریم الہام ربانی سے ان کو لے کر مصر چلی گئیں اور اس ظالم کے مرنے کے بعد پھر شام واپس چلی آئیں۔ چنانچہ انجیل متی میں بھی یہ واقعہ مذکور ہے اور مصر کا اونچا ہونا باعتبار رود نیل کے ہے ورنہ غرق ہوجاتا اور ماء معین ورود نیل ہے بعض نے ربوہ (اونچی جگہ) سے مراد شام یا فلسطین لیا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ جس ٹیلہ پر ولادت کے وقت موجود تھیں وہیں اس خطرہ کے وقت بھی پناہ دی گئی ہو۔ واللہ اعلم۔ بہرحال اہل اسلام میں کسی نے ربوہ سے مراد کشمیر نہیں لیا۔ نہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی قبر کشمیر میں بتلائی۔ البتہ ہمارے زمانہ کے بعض زائغین نے ربوہ سے کشمیر مراد لیا ہے اور وہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتلائی ہے جس کا کوئی ثبوت تاریخی حیثیت سے نہیں۔ محض کذب و دروغ بیانی ہے۔ محلہ خان یار شہر سری نگر میں جو قبر یوز آسف کے نام سے مشہور ہے اور جس کی بابت تاریخ اعظمی کے مصنف نے محض عام افواہ نقل کی ہے کہ لوگ اس کو کسی نبی کی قبر بتاتے ہیں وہ کوئی شہزادہ تھا اور دوسرے ملک سے یہاں آیا " اس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قبر بتانا پرلے درجہ کی بےحیائی اور سفاہت ہے۔ ایسی اٹکل پچو قیاس آرائیوں سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حیات کو باطل ٹھہرانا بجز خبط اور جنون کے کچھ نہیں اگر اس قبر کی تحقیق مطلوب ہو اور یہ کہ یوز آسف کون تھا تو جناب منشی حبیب اللہ صاحب امرتسری کا رسالہ دیکھو جو خاص اس موضوع پر نہایت تحقیق و تدقیق سے لکھا گیا ہے اور جس میں اس مہمل خیال کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ عنا و عن سائر المسلمین احسن الجزاء۔ بحوالہ تفسیر عثمانی۔
کلام : حدیث بالا ضعیف ہے۔ دیکھئے ضعیف الجامع 3138 ۔
2914- "الربوة الرملة". "ابن جرير وابن أبي حاتم وابن مردويه عن مرة البهزي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رملہ فلسطین کا ذکر :
2915: سورة النور۔ فاحشائیں وہ عورتیں جو اپنا نکاح بغیر گواہوں کے خود ہی کرلیتی ہیں۔ ترمذی بروایت ابن عباس (رض) ۔
کلام : ضعیف الترمذی 188 ۔ ضعیف الجامع 3375 ۔
کلام : ضعیف الترمذی 188 ۔ ضعیف الجامع 3375 ۔
2915- "النور" "البغايا اللاتي ينكحن أنفسهن بغير بينة". "ت عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رملہ فلسطین کا ذکر :
2916: سورة النحل ۔ بلقیس کے ماں باپ میں سے ایک جن تھا۔ (ابو الشیخ فی العظمۃ، ابن مردویہ فی التفسیر، ابن عساکر بروایت ابوہریرہ (رض)) ۔
کلام : ضعیف ہے۔ ذخیرۃ الحفاظ 121 ۔ ضعیف الجامع 175 ۔ الضعیفۃ 1818 ۔
کلام : ضعیف ہے۔ ذخیرۃ الحفاظ 121 ۔ ضعیف الجامع 175 ۔ الضعیفۃ 1818 ۔
2916- "النمل" "أحد أبوي بلقيس كان جنيا"."أبو الشيخ في العظمة وابن مردويه في التفسير
وابن عساكر عن أبي هريرة".
وابن عساكر عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رملہ فلسطین کا ذکر :
2917: سورة القصص : میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کونسی مدت پوری کی تھی ؟ فرمایا : دونوں میں سے کامل اور تام۔ (مسند ابی یعلی، مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض)۔
تشریح : سورة القصص میں آیت 22 سے 28 تک میں اس واقعہ کا ذکر ہے جس کی طرف حدیث میں اشارہ ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس مہر پر کردیا تھا کہ تم آٹھ سال تک میرا کام کاج کروگے۔ اور اگر تم دس سال پورے کردو تو تمہاری مرضی میری طرف سے کوئی دباؤ نہیں۔ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال پورے فرمائے۔
تشریح : سورة القصص میں آیت 22 سے 28 تک میں اس واقعہ کا ذکر ہے جس کی طرف حدیث میں اشارہ ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس مہر پر کردیا تھا کہ تم آٹھ سال تک میرا کام کاج کروگے۔ اور اگر تم دس سال پورے کردو تو تمہاری مرضی میری طرف سے کوئی دباؤ نہیں۔ لہٰذا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال پورے فرمائے۔
2917- "القصص" "سألت جبرئيل أي الأجلين قضى موسى؟ قال أكملهما وأتمهما". "ع1 ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رملہ فلسطین کا ذکر :
2918: سورة الروم۔ البضع تین سے نو تک پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ (طبرانی فی الکبیر، ابن مردویہ بروایت دینار بن مکرم۔
تشریح : سورة الروم کی ابتدائی آیات میں سے بضع سنین کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہیں چند سال ، اس چند سے یعنی بضع سے کیا مراد ہے اس کا مطلب حدیث بالا میں بیان کیا گیا ہے۔
تشریح : سورة الروم کی ابتدائی آیات میں سے بضع سنین کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہیں چند سال ، اس چند سے یعنی بضع سے کیا مراد ہے اس کا مطلب حدیث بالا میں بیان کیا گیا ہے۔
2918- "الروم" "البضع ما بين الثلاث إلى التسع" "طب وابن مردويه عن دينار بن مكرم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رملہ فلسطین کا ذکر :
2919: کیا نہیں شمار کیا تم نے اے ابوبکر ؟ بضع تو تین سے نو سال پر بولا جاتا ہے ، ترمذی بروایت ابن عباس (رض) عنھما۔
تشریح : فرمان باری ہے :
الم تر ان الفلک تجری فی البحر بنعمۃ اللہ لیریکم من ایتہ۔ لقمان : 31
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا کی نعمت (مہربانی) سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔
اس آیت میں سمندر میں کشتیوں کا چلنا اور نہ ڈوبنا خدا کی نعمت قرار دیا۔ اس نعمت کے لفظ پر حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ اور سب سے بڑی نعمت جہنم سے خلاصی اور جنت میں دخول ہے۔ اور بیشک یہی سب سے بڑی نعمت ہے جس کے طفیل خدا کا دیدار بھی میسر ہوگا اور اس کی رضاء حاصل ہوگی۔
کلام : ضعیف الجامع 5296
تشریح : فرمان باری ہے :
الم تر ان الفلک تجری فی البحر بنعمۃ اللہ لیریکم من ایتہ۔ لقمان : 31
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا کی نعمت (مہربانی) سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔
اس آیت میں سمندر میں کشتیوں کا چلنا اور نہ ڈوبنا خدا کی نعمت قرار دیا۔ اس نعمت کے لفظ پر حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ اور سب سے بڑی نعمت جہنم سے خلاصی اور جنت میں دخول ہے۔ اور بیشک یہی سب سے بڑی نعمت ہے جس کے طفیل خدا کا دیدار بھی میسر ہوگا اور اس کی رضاء حاصل ہوگی۔
کلام : ضعیف الجامع 5296
2919- "ألا أحطت2 يا أبا بكر؟ فإن البضع ما بين الثلاث إلى التسع". "ت عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رملہ فلسطین کا ذکر :
2920: سورة لقمان، نعمت کی تکمیل میں سے جنت میں داخل ہونا اور آگ سے نجات پانا ہے۔ ترمذی عن معاذ (رض)
2920- "لقمان" "من تمام النعمة دخول الجنة والفوز من النار". "ت عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
2921: پانچ چیزیں ہیں جن کا علم صرف اللہ کو ہے۔ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔ وہ بارش کب برسائے گا، وہی جانتا ہے جو (ماؤں کے) رحموں میں ہے اور کوئی نفس یہ نہیں جانتا کل وہ کیا کمائے گا۔ (اور اسے کل کیا کچھ پیش آئے گا) اور کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ کس جگہ مرے گا۔ (مسند احمد، الرویانی، بروایت بریدہ (رض) ۔
تشریح : سورة لقمان کی آخری آیات کی ترجمان یہ حدیث ہے۔
تشریح : سورة لقمان کی آخری آیات کی ترجمان یہ حدیث ہے۔
2921- "خمس لا يعلمهن إلا الله، إن الله عنده علم الساعة، وينزل الغيث، ويعلم ما في الأرحام، وما تدرى نفس ماذا تكسب غدا، وما تدري نفس بأي أرض تموت". "حم والروياني عن بريدة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
2922: غیب کی چابیاں ہیں۔ جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ کوئی نہیں جانتا کہ کل کو کیا ہوگا سوائے اللہ کے نیز اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ رحموں میں کیا ہے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب واقع ہوگی کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ کل کو کیا کمائے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ کون سی زمین میں مرے گا۔ سوائے اللہ کے اور یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب ہوگی سوائے اللہ کے۔ (مسند احمد، بخاری بروایت ابن عمر (رض))
2922- "مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها إلا الله: لا يعلم أحد
ما يكون في غد إلا الله، ولا يعلم أحد ما يكون في الأرحام إلا الله، ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله ولا تدري نفس أي شيء تكسب غدا، ولا تدري نفس بأي1 أرض تموت إلا الله ولا يعلم أحد متى يجيء المطر إلا الله تعالى". "حم خ عن ابن عمر".
ما يكون في غد إلا الله، ولا يعلم أحد ما يكون في الأرحام إلا الله، ولا يعلم متى تقوم الساعة إلا الله ولا تدري نفس أي شيء تكسب غدا، ولا تدري نفس بأي1 أرض تموت إلا الله ولا يعلم أحد متى يجيء المطر إلا الله تعالى". "حم خ عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حضرت عائشہ (رض) سے محبت
2923: میں تجھے ایک بات ذکر کروں گا اور تو اس میں فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا حتی کہ اپنے والدین سے مشورہ نہ کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
یا ایہا النبی قل لازواجک۔ الی قولہ عظیما۔ ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت عائشہ (رض)۔
تشریح : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) کو مخاطب ہو کر مذکورہ ارشاد فرمایا تھا کہ خدا کا یہ حکم نازل ہوا ہے اس میں غور کرکے والدین سے مشورہ کرکے مجھے جواب دینا فرمان الہی کا ترجمہ ہے :
اے پیغمبر ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواہش رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے دوں اور اچھی طرح سے رخصت کروں۔ اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (جنت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکی کرنے والی ہیں ان کے لیے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ بعض بیویوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فدہ ابی و امی سے زیادہ نان و نفقہ کا مطالبہ کیا تھا۔ (احزاب :28 ۔ 29)
جس کی وجہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنگ دل ہوئے تو عرش والے کو بھی بیویوں کا مطالبہ ناگوار گزرا اس لیے فرمان نازل کیا۔
چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عائشہ (رض) سے بہت محبت تھی اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا کہ فیصلہ میں جلدی نہ کرنا اور والدین سے مشورہ کرلینا کیونکہ وہ یہی مشورہ دیں گے کہ اللہ و رسول کو نہ چھوڑو۔ بلکہ تھوڑی دنیا پر قناعت کرلو۔ چنانچہ حضرت عائشہ (رض) نے فورا فرمایا اس میں مشاورت کی کیا ضرورت میں آپ کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتی، زندگی جیسے بھی گزرے گزار لوں گی۔ اس جواب پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فداہ ابی و امی بہت خوش ہوئے۔
یا ایہا النبی قل لازواجک۔ الی قولہ عظیما۔ ترمذی، نسائی، ابن ماجہ بروایت عائشہ (رض)۔
تشریح : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عائشہ (رض) کو مخاطب ہو کر مذکورہ ارشاد فرمایا تھا کہ خدا کا یہ حکم نازل ہوا ہے اس میں غور کرکے والدین سے مشورہ کرکے مجھے جواب دینا فرمان الہی کا ترجمہ ہے :
اے پیغمبر ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواہش رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے دوں اور اچھی طرح سے رخصت کروں۔ اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (جنت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکی کرنے والی ہیں ان کے لیے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔ بعض بیویوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فدہ ابی و امی سے زیادہ نان و نفقہ کا مطالبہ کیا تھا۔ (احزاب :28 ۔ 29)
جس کی وجہ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنگ دل ہوئے تو عرش والے کو بھی بیویوں کا مطالبہ ناگوار گزرا اس لیے فرمان نازل کیا۔
چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عائشہ (رض) سے بہت محبت تھی اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا کہ فیصلہ میں جلدی نہ کرنا اور والدین سے مشورہ کرلینا کیونکہ وہ یہی مشورہ دیں گے کہ اللہ و رسول کو نہ چھوڑو۔ بلکہ تھوڑی دنیا پر قناعت کرلو۔ چنانچہ حضرت عائشہ (رض) نے فورا فرمایا اس میں مشاورت کی کیا ضرورت میں آپ کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتی، زندگی جیسے بھی گزرے گزار لوں گی۔ اس جواب پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فداہ ابی و امی بہت خوش ہوئے۔
2923- "الأحزاب" "إني ذاكر لك أمرا، ولا عليك ألا تعجلي حتى تستأمري أبويك، إن الله تعالى قال: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} إلى قوله {عَظِيماً} ". "ت2 ن هـ عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساٹھ سال کی زندگی بڑی مہلت ہے۔
2924: سورة فاطر۔ جب قیامت کا روز ہوگا نداء دی جائے گی : کہاں ہیں ساٹھ سال عمر والے ؟ اور یہ وہی عمر ہے جس کے بارے میں فرمان الہی ہے :
اولم نعمرکم ما یتذکر فیہ من تذکر۔ فاطر : 37
کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا۔ (الحکیم، المعجم الکبیر للطبرانی، شعب الایمان للبیہقی بروایت ابن عباس (رض)۔
کلام : یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے ضعیف الجامع 668 ۔
اولم نعمرکم ما یتذکر فیہ من تذکر۔ فاطر : 37
کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا۔ (الحکیم، المعجم الکبیر للطبرانی، شعب الایمان للبیہقی بروایت ابن عباس (رض)۔
کلام : یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے ضعیف الجامع 668 ۔
2924- "فاطر" "إذا كان يوم القيامة نودي أين أبناء الستينوهو العمر الذي قال الله تعالى: {أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ} ". "الحكيم طب هب عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساٹھ سال کی زندگی بڑی مہلت ہے۔
2925: ہمارا مسابق تو سابق ہے۔ ہمارا میانہ رو نجات یافتہ ہے۔ اور ہمارا ظالم مغفرت پائے گا۔ (ابن مردویہ والبیہقی فی البعث بروایت عمر (رض))
تشریح : فرمان الہی ہے : ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینامن عبادنا فمنہم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32
پھر ہم نے ان لوگوں (امت محمدیہ) کو کتاب کا وارث بنایا جن کو اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔
مذکورہ حدیث اسی فرمان الہی کی تفسیر ہے۔
کلام : اس حدیث پر ضعف کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے دیکھئے الجامع المصنف 23 ۔ ضعیف الجامع 3199
تشریح : فرمان الہی ہے : ثم اورثنا الکتب الذین اصطفینامن عبادنا فمنہم ظالم لنفسہ ومنہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32
پھر ہم نے ان لوگوں (امت محمدیہ) کو کتاب کا وارث بنایا جن کو اپنے بندوں میں سے منتخب کیا تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔
مذکورہ حدیث اسی فرمان الہی کی تفسیر ہے۔
کلام : اس حدیث پر ضعف کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے دیکھئے الجامع المصنف 23 ۔ ضعیف الجامع 3199
2925- "سابقنا سابق، ومقتصدنا ناج، وظالمنا مغفور له". "ابن مردويه والبيهقي في البعث عن عمر".
তাহকীক: