কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ২৯২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساٹھ سال کی زندگی بڑی مہلت ہے۔
2926: سورة السجدۃ۔ لوگوں نے پہلے کہہ لیا لیکن پھر اکثروں نے انکار کردیا۔ پس جو موت تک اس پر ثابت قدم رہے وہی لوگ استقامت والے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ۔ بروایت انس (رض))

تشریح : فرمان الہی ہے :

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملائکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون۔ حم السجدۃ : 30 ۔

جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کوشی مناؤ۔

مذکورہ بالا حدیث اسی فرمان ایزدی کی تشریح و تفسیر ہے۔

کلام : ضعیف الجامع 4079 ۔
2926- "السجدة" "قد قال الناس ثم كفر أكثرهم، فمن مات عليها فهو ممن استقام". "ش4 عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساٹھ سال کی زندگی بڑی مہلت ہے۔
2927: سورة الواقعہ۔ اگر کوئی فرش کی بالائی سے پھینکا جائے تو وہ سو سال کے عرصہ میں نیچے پہنچ کر جگہ پکڑے گا۔ یہی فرمان الہی ہے۔ وفرش مرفوعۃ (واقعہ 34) اور اونچے بچھونے۔ المعجم الکبیر بروایت حضرت ابی امامۃ (رض) ۔

کلام : ضعیف الجامع 4826 پر اس روایت کو ضعیف شمار کیا ہے۔
2927- "واقعة" "لو طرح فراش من أعلاها لهوى إلى قرارها مائة خريف"، يعني {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ} ."طب عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ساٹھ سال کی زندگی بڑی مہلت ہے۔
2928: (نئی جوانی پر) اٹھائی گئی وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بوڑھی چندھیائی اور پیپ زدہ آنکھوں والی تھیں۔ ترمذی بروایت انس (رض)۔

فرمان الہی ہے :

انا انشانھن انشاء۔ فجعلنھن ابکارا، عربا اترابا۔ لاصحب الیمین۔ 35 ۔ 37

ہم نے اٹھا لیا ان عورتوں کو ایک اچھی اٹھان پر کیا ان کو کنواریاں پیار دلانے والیاں (اور) ہم عمر اصحاب الیمین کے لیے۔

مذکورہ آیت کی تشریح و تفسیر ہی سے متعلق حدیث بالا وارد ہوتی ہے۔

کلام : روایت سندا ضعیف کے درجہ میں ہے دیکھیے ضعیف الجامع 1997
2928- "إن من المنشآت اللاتي كن في الدنيا عجائز عمشا رمصا". "ت عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادبار نجوم کی تفسیر :
2929: سورة طور۔ فجر کی نماز سے پہلے دو رعکت (سنتیں) ادبار النجوم (ستاروں کا پیٹھ دے کر چلے جانا) ہے اور مغرب کے بعد دو رکعت (سنتیں) ادبار السجود (سجدہ کے بعد والی) ہیں۔ مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض)۔

تشریح : فرمان الہی ہے : وسبح بحمد ربک حین تقوم۔ ومن اللیل فسبحہ وادبار النجوم۔ (الطور : 48 ۔ 49 ۔

اور پاکی بیان کر اپنے رب کی خوبیاں جس وقت تو اٹھتا ہے۔ اور کچھ رات میں لوگ اس کی پاکی اور پیٹھ پھیرتے وقت تاروں کے۔

دوسری جگہ فرمان باری ہے :

ومن اللیل فسبحہ وادبار السجود۔ ق : 40

اور کچھ رات میں بول اس کی پاکی۔ اور پیچھے سجدہ کے۔

مذکورہ فرمان نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان دو فرمودات الہیہ کی تفسیر ہے۔ یعنی ستاروں کے جانے (ادبار النجوم) کے بعد پاکی بیان کر یعنی صبح کی دو سنتیں ادا کر۔ اور (ادبار السجود) سجدہ کے بعد یعنی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد پاکی بیان کر یعنی دو سنتیں ادا کر۔ (مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض))

کلام : ضعیف الجامع 3165 ۔
2929- "الطور" "الركعتان قبل صلاة الفجر إدبار النجوم، والركعتان بعد المغرب إدبار السجود". "ك عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادبار نجوم کی تفسیر :
2930: ادبار النجوم فجر سے پہلے دو رکعات ہیں اور ادبار السجود مغرب کے بعد دو رکعات ہیں (الخطیب التاریخ بروایت ابن عباس (رض))

کلام : ضعیف الجامع 248 ۔ ضعیف الترمذی 645 ۔ الضعیفۃ 2178
2930- "إدبار النجوم الركعتان قبل الفجر، وإدبار السجود الركعتان بعد المغرب" "1 عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادبار نجوم کی تفسیر :
2931: سورة القمر۔ مہینے کا آخری بدھ دائمی منحوس دن ہے۔ (وکیع فی الغرر۔ ابن مردویہ فی التفسیر، التاریخ للخطیب بروایت ابن عباس (رض))

تشریح : فرمان الہی ہے :

کذبت عاد فکیف کان عذابی ونذر۔ انا ارسلنا علیہم ریحا صرصرا فی یوم نحس مستمر (سورة قمر : 18، 19)

عاد نے بھی تکذیب کی تھی ۔ سو (دیکھ لو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔ ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی۔

یہ دن اگرچہ بدھ کا ہو لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر بدھ یا مہینے کا آخری بدھ منحوس ہوجائے۔ یہ منحوس ہونا صرف عاد قوم ک لیے ہی تھا۔ کیونکہ اس روز و تباہ و برباد ہوئے۔ اب اگر اس دن کسی قوم یا فرد کو خدا کی نعمتیں ملیں تو یہی دن اس کے لیے باعث خیر اور نیک فال ہوگا۔ اور حدیث بالا سراسر ضعیف اور من گھڑت ہے۔

کلام : حدیث مذکور موضوع اور من گھڑت ہے۔ دیکھئے اسنی المطالب 2 ۔ الاتقان 595 ۔ تحذیر المسلمین 127 ۔ التنزیہ 2/55 ۔ ضعیف الجامع۔ 3 ۔ الضعیفہ 1581 ۔ الکشف الالہی 119 ۔ کشف الخفاء 3 ۔ الآلی 1/485 ۔ الموضوعات 2/ 73، النواقح 8 ۔
2931- "اقترب" "آخر أربعاء في الشهر يوم نحس مستمر". "وكيع في الغرر2 وابن مردويه في التفسير خط عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادبار نجوم کی تفسیر :
2932: سورة القلم۔ العتل الزنیم سے مراد فاحش اور لئیم (کمینہ) انسان ہے۔ ابن ابی حاتم بروایت مرسلا موسیٰ بن عقبہ۔

تشریح : سورة القلم کی ابتدائی آیات میں کافر کی صفات میں مذکورہ الفاظ آئے ہیں۔ جن کی تشریح حدیث میں کی گئی۔

کلام : ضعیف الجامع 3847 ۔
2932- "ن والقلم" "العتل الزنيم الفاحش اللئيم". "ابن أبي حاتم عن موسى بن عقبة مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادبار نجوم کی تفسیر :
2933: العتل ہر بڑے پیٹ والا، بڑے حلق والا، بہت کھانے پینے والا، مال جمع کرنے والا اور مال میں بخل کرنے والا ہے۔ (ابن مردویہ بروایت ابو الدرداء (رض))

کلام : ضعیف الجامع 3848 ۔
2933- "العتل كل رحيب"الجوف، وثيق الحلق4 أكول شروب جموع للمال، منوع له. "ابن مردويه عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا دیدار :
2934: سورة المدثر۔ مجھ سے وحٰ ایک زمانہ تک منقطع رہی۔ ایک مرتبہ میں جا رہا تھا کہ آسمان سے ایک آواز سنی۔ میں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی۔ دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حراء میں مجھے ملا تھا ۔ آسمان و زمین کے درمیان ایک (عظیم) تخت پر (جلوہ افروز) ہے۔ میں گھبراہٹ کے مارے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اور زمین بوس ہوگیا۔ پھر میں (اس فرشتے کے جانے کے بعد) خدیجہ (رض) کے پاس آیا اور بولا : وترونی و ترونی۔ مجھے چادر اوڑھاؤ۔ چنانچہ مجھے چادر اوڑھا دی گئی پھر جبرائیل (علیہ السلام) (دو بار) تشریف لائے اور مجھے لات لگا کر کہنے لگے :

یا ایہا المدثر قم فانذر وربک فکبر وثیابک فطھر والرجز فاھجر۔ (سورة المدثر ابتدائی آیات)

اے (محمد) جو چادر لپیٹے پڑے ہو۔ اٹھو اور (لوگوں کو) ڈراؤ۔ اور اپنے پروردگار کی تعریف بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور ناپاکی سے دور رہو۔ (الطیالسی، مسند احمد، صحیح مسلم بروایت جابر (رض))
2934- "المدثر" "فتر عني الوحي فترة، فبينا أنا أمشي سمعت صوتا من السماء، فرفعت بصري

قبل السماء، فإذا أنا بالملك الذي أتاني في غار حراء على سرير، بين السماء والأرض، فجثت منه فرقا، حتى هويت إلى الأرض، فأتيت خديجة فقلت دثروني دثروني، فدثرت، فجاء جبرئيل فقال برجله: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} ". "الطيالسي حم م عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا دیدار :
2935: الصعود : آگ کا ایک پہاڑ ہے ، کافر اس پر ستر سال تک چڑھے گا، پھر اسی طرح (اتنے عرصے میں ) اترے گا۔

تشریح : سورة المدثر کی 17 نمبر آیت میں کافر سے متعلق فرمان الہی ہے : سارھقہ صعودا۔ ہم اسے صعود پر چڑھائیں گے۔ اس صعود کی تشریح مذکورہ بالا حدیث میں فرمائی گئی ہے۔

کلام : ضعیف الترمذی 657 ۔ ضعیف الجامع 3552 ۔ پر اس کو ضعیف شمار کیا گیا ہے۔
2935- "الصعود جبل من نار، يتصعد فيه الكافر سبعين خريفا، ثم يهوي فيه كذلك أبدا". "حم ت حب ك عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا دیدار :
2936: سورة النازعات۔ فرعون نے دو کلمات (کفر) کہے تھے۔ ایک ما علمت لکم من الہ غیر (القصص : 38) میں اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں جانتا۔ اور دوسرا کلمہ انا ربکم الاعلی (النازعات : 24) میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ ان دونوں کلمات کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا۔ فاخذہ اللہ نکال الآخرۃ والاولی۔ پھر اللہ نے اس کو پکڑ لیا آخرت اور دنیا کے عذاب میں۔ (ابن عساکر بروایت ابن عباس (رض))

کلام : ضعیف الجامع 4267 ۔
2936- "النازعات" "كلمتان قالهما فرعون ما علمت لكم من إله غيري إلى قوله {أنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى} كان بينما أربعون عاما، فأخذه الله نكال الآخرة والأولى"."ابن عساكر عن ابن عباس –1".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا دیدار :
2937: سورة المطففین۔ ویل (للمکذبین) (جھٹلانے والوں کے لیے ویل ہے) ویل جہنم میں ایک وادی ہے۔ کافر اس پر ستر سال تک نیچے گرتا رہے گا پھر جا کر وہ اس کی گہرائی میں گرے گا۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن حبان، مستدرک الحاکم بروایت ابو سعید خدری (رض) )

کلام : ضعیف الترمذی 617 ۔ ضعیف الجامع 6148 ۔
2937- "المطففين" "ويل، واد في جهنم يهوي فيه الكافر أربعين خريفا، قبل أن يبلغ قعره". "حم ت حب ك عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار کے دل میں سیاہ نقطہ
2938: " الران " جس کا اللہ نے اپنے فرمان میں ذکر کیا : کلا بل ران علی قلوبہم ماکانوا یکسبون۔ مطففین : 14 ۔

دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے یں۔ ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، مستدرک الحاکم، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، شعب للبیہقی، بروایت ابوہریرہ (رض))

تشریح : تفسیر روح المعانی میں اس آیت کے ذیل میں یہ حدیث مکمل ذکر کی گئی ہے جس سے اس کا مطلب یونہی طرح سمجھ آجاتا ہے فرمان نبوی (علیہ السلام) ہے، بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے پس اگر وہ توبہ کرلے اور اس گناہ کو چھوڑ کر اللہ سے استغفار کرلے تو اس کا صیقل و صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ (بجائے توبہ و استغفار کے) دوبارہ گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ زیادہ ہوجاتا ہے حتی کہ ہوتے ہوتے اس کا پورا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ پس یہی ران ہے یعنی زنگ۔
2938- الران2 الذي ذكر الله" {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} . "حم ت ك ن هـ حب هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار کے دل میں سیاہ نقطہ
2939: سورة البروج۔ " الیوم الموعود " (جس دن کا وعدہ کیا گیا) وہ قیامت کا دن ہے۔ اور الشاھد (حاضر ہونے والا) جمعہ کا دن ہے۔ (جو تمام لوگوں کے پاس حاضر ہوجاتا ہے) اور المشہود (جس دن لوگ (عرفہ) میں داخل ہوتے ہیں) وہ عرفہ کا دن ہے۔ اور جمعہ کا دن اللہ نے ہمارے لیے ذخیرہ کہا ہے (جو کسی اور قوم کو نہیں ملا) اس طرح صلوۃ الوسطی عصر کی نماز بھی ہمارے لیے ذخیرہ کر رکھی تھی۔ (الطبرانی فی الکبیر بروایت ابو مالک اشعری (رض))
2939- "البروج" "اليوم الموعود يوم القيامة، والشاهد يوم الجمعة، والمشهود يوم عرفة، ويوم الجمعة ذخره الله لنا، وصلاة الوسطى صلاة العصر". "طب عن أبي مالك الأشعري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار کے دل میں سیاہ نقطہ
2940: الیوم الموعود : قیامت کا دن ہے۔ الیوم المشہود عرفہ کا دن ہے اور الشاہد جمعہ کا دن ہے۔ اور اس سے افضل کسی دن پر سورج طلوع ہوتا ہے نہ غروب۔ اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں کوئی بندہ مسلمان اللہ سے خیر کی دعا نہیں کرتا مگر اللہ اس کو ضرور قبول فرماتے ہیں اور کسی چیز سے پناہ نہیں مانگتا مگر اللہ پاک اسے ضرور پناہ عطا فرماتے ہیں۔ (ترمذی، السنن للبیہقی بروایت ابوہریرہ (رض))

تشریح : وہ خیر کی گھڑی جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان ہے اور عصر اور مغرب کے درمیان۔

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 6597 میں ضعف کے حوالہ سے اس روایت پر کلام کیا گیا ہے۔
2940- "اليوم الموعود يوم القيامة، واليوم المشهود يوم عرفة، والشاهد يوم الجمعة، وما طلعت الشمس، ولا غربت، على يوم أفضل منه، فيه ساعة لا يوافقها عبد مسلم، يدعو الله بخير، إلا استجاب الله له، ولا يستعيذ من شيء إلا أعاذه الله منه". "ت هق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار کے دل میں سیاہ نقطہ
2941: الشاھد عرفہ کا دن ہے اور جمعہ کا دن اور المشہود قیامت کا دن جس کا وعدہ کیا گیا ہے (مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی بروایت ابوہریرہ (رض) )

کلام : حدیث ضعیف ہے ضعیف الجامع 3427 ۔
2941- "الشاهد يوم عرفة، ويوم الجمعة والمشهود هو الموعود، يوم القيامة". "ك هق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار کے دل میں سیاہ نقطہ
2942: سورة الطارق : اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو چار اشیاء کا ضامن بنایا ہے (کہ ان کی حفاظت کریں) نماز، زکوۃ ، روزہ اور جنابت سے غسل کرنا اور سرائر ہیں۔ جن کے متعلق فرمان باری ہے :

یوم تبلی السرائر۔ سورة الطارق۔

جس دن رازوں کو کھول دیا جائے گا۔ شعب الایمان للبیہقی بروایت ابو الدرداء (رض) ۔
2942- "الطارق" "ضمن الله خلقه أربعا: الصلاة والزكاة وصوم رمضان والغسل من الجنابة، وهن السرائر، التي قال الله: {يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ} ". "هب عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار کے دل میں سیاہ نقطہ
2943: سورة الفجر : دس راتوں سے مراد اضحی ، قربانی والے ماہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ وتر عرفہ کا دن ہے شفع قربانی کا دن ہے۔ (مستدرک الحاکم، مسند احمد ، بروایت جابر (رض))

تشریح : فرمان الہی ہے :

والفجر ولیال عشر والشفع والوتر :

قسم ہے دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی۔

یعنی ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتوں کی قسم ہے اور شفع (جفت) کی یعنی قربانی کے دن کی جو دس ذوالحجہ ہوتا ہے اور طاق عرفہ کی قسم ہے جو ذوالحجہ ہوتا ہے۔

کلام : دیکھئے ضعیف الجامع 3862 ۔
2943- "الفجر" "العشر عشر الأضحى، والوتر يوم عرفة،

والشفع يوم النحر". "حم ك عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار کے دل میں سیاہ نقطہ
2944: عشرہ سے مراد عشرۃ ذی الحجہ ہے۔ وتر عرفہ کا دن ہے اور شفع قربانی کا دن ہے (مسند احمد، بروایت جابر (رض)) ۔

کلام : ضعیف الجامع 1508 ۔
2944- "إن العشر عشر الأضحى، والوتر يوم عرفة، والشفع يوم النحر". "حم1 عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گناہ گار کے دل میں سیاہ نقطہ
2945: سورة الشمس۔ " لوگوں میں سب سے بدبخت قوم ثمود کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا تھا اور آدم کا وہ بیٹا (قابیل) جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا۔ زمین پر کوئی خون نہیں بہایا جاتا مگر اس کا گناہ اس کو بھی ملتا ہے کیونکہ وہی پہلا شخص ہے جس نے قتل کی سنت جاری کی۔ (الطبرانی فی الکبیر مستدرک الحاکم، حلیہ، بروایت ابن عمر (رض))

کلام : ضعیف الجامع 878 ۔ الضعیفۃ 1987 ۔
2945- "الشمس" "أشقى الناس عاقر ناقة ثمود، وابن آدم الذي قتل أخاه، ما سفك على أرض من دم إلا لحقه منه، لأنه أول من سن القتل". "طب ك حل عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক: