কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ২৯৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلف صالحین کے اقوال کا لحاظ کرنا :
2966: جہد البلاء قتل الصبر۔ اشد ترین مصیبت ظلما قتل کیا جانا ہے۔ (ابو عصمان الصابونی المائتین، فردوس للدیلمی بروایت انس (رض))

تشریح : جبکہ یہ روایت قلۃ الصبر کے الفاظ کے ساتھ بھی منقول ہے جس کے معنی ہوں گے عظیم ترین مصیب صبر کا فقدان ہے۔

کلام : ضعیف الجامع 2640 ۔

تفسیر (قرآن کریم) زوائد جامع صغیر۔
2966- "جهد البلاء قتلالصبر". "أبو عثمان الصابوني في المائتين فر عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلف صالحین کے اقوال کا لحاظ کرنا :
2967: سورة فاتحہ۔ الصراط المستقیم یعنی سیدھا راستہ دین اسلام ہے۔ حج کا راستہ ہے اور راہ خدا میں غزوہ و جہاد کرنا ہے (الفردوس للدیلمی بروایت جابر (رض))
2967- "الفاتحة" "الصراط المستقيم، دين الإسلام وطريق الحج والغزو في سبيل الله". "الديلمي عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلف صالحین کے اقوال کا لحاظ کرنا :
2968: اے عدی بن حاتم ! کیا تو اس بات سے بھاگتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنا پڑے گا ؟ بتا کیا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے ؟ کیا تو اللہ اکبر کہنے سے بھاگ رہا ہے بتا کیا اللہ سے بڑی کوئی شے ہے ؟ (یاد رکھ) یہود پر غضب خداونعدی اترا (اور وہ مغضوب علیہم کے مصداق ٹھہرے) اور نصاری راہ راست سے بھٹکے (اور وہ الضالین کے مصداق ٹھہرے) الطبرانی فی الکبیر بروایت عدی بن حاتم۔
2968- "يا عدي بن حاتم ما أفرك1 أن يقال لا إله إلا الله فهل من إله إلا الله؟ ما أفرك أن يقال الله أكبر؟ فهل شيء أكبر من الله؟ إن المغضوب عليهم اليهود وإن الضالين النصارى". "حم طب عن عدي بن حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رب العالمین سے ہم کلامی
2969: تیرے رب نے فرمایا ہے : اے ابن آدم ! تجھ پر سورة فاتحہ کی سات آیات نازل کی گئی ہیں۔ تین میرے لیے ہیں اور تین تیرے لیے جبکہ ایک آیت میرے اور تیرے درمیان ہے۔

الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ ملک یوم الدین میرے لیے ہیں اور ایاک نعبد وایاک نستعین میرے اور تیرے درمیان ہے، تیری طرف سے تو عبادت ہے اور مجھ پر تیری مدد لازم ہے۔ اور اھدنا الصراط المستقیم، صراط الذین انعمت علیہم، غیر المغضوب علیہم ولا الضالین تیرے لیے ہیں۔ الامام الطبرانی فی الصغیر، بروایت ابی بن کعب (رض)۔
2969- "قال ربكم ابن آدم أنزلت عليك سبع آيات ثلاث لي وثلاث لك وواحدة بيني وبينك فأما التي لي {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} وأما التي بيني وبينك {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} منك العبادة وعلي العون لك، وأما التي لك {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ} ". "طس عن أبي بن كعب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رب العالمین سے ہم کلامی
2970: سورة البقرۃ ۔ یہ تو رات کی تاریکی اور دن کی سفیدی ہے یعنی فرمان الہی۔ الخیط الابیض من الخیط الاوسود۔ (سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہوجائے) بخاری، مسلم، ترمذی، مسنداحمد بروایت عدی بن حاتم (رض) ۔

نوٹ : اس روایت کی تشریح اسی جلد میں حدیث نمبر 2889 پر ملاحظہ فرمائیں۔
2970- "البقرة" "إنما ذلك سواد الليل وبياض النهار" يعني قوله تعالى: {الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} . "خ م ت حم عن عدي بن حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رب العالمین سے ہم کلامی
2971: الرفث کے معنی الاعرابہ اور تعریض للنساء بالجماع کے ہیں یعنی عورتوں سے فحش کلام کرنا اور صحبت و جماع کے لیے ان کے درپے ہونا اور فسوق تمام قسم کے گناہوں کو شامل ہے اور " الجدال " کسی شخص کا اپنے ساتھ والے سے جھگڑنا۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت ابن عباس (رض)۔

تشریح : فرمان ایزدی عزوجل ہے :

فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج۔ بقرہ : 197 ۔

پھر جس نے لازم کرلیا ان (ایام حج) میں حج تو بےحجاب ہونا جائز نہیں عورت سے اور نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا حج کے زمانہ میں۔

مذکورہ آیت میں رفث فسوق اور جدال تین الفاظ آئے ہیں جن کی تشریح مذکورہ حدیث میں کی گئی ہے۔

کلام : ضعیف الجامع 3157 ۔
2971- "الرفث الإعرابة2 والتعريض للنساء بالجماع والفسوق

المعاصي كلها والجدال جدال الرجل صاحبه". "طب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رب العالمین سے ہم کلامی
2972: مومن کی نیکی بیس لاکھ تک بڑھا دی جاتی ہے (الدیلمی بروایت ابوہریرہ (رض)) ۔
2972- "حسنة المؤمن تضاعف إلى ألفي ألف حسنة". "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکالیف گناہوں کا کفارہ ہے
2973: القنطار سو رطل ہیں اور رطل بارہ اوقیہ ہے اور اوقیہ سات دینار ہیں اور دینار چوبیس قیراط کا ہے۔ الدیلمی بروایت جابر (رض)

نوٹ : 2891 پر روایت کی تشریح ملاحظہ فرمائیں۔

کلام : اس روایت کے روایت میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہیں جن کو امام بخاری نے منکر الحدیث قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس بنا پر یہ روایت محل کلام اور ضعیف ہے۔
2973- "القنطار مائة رطل والرطل اثنتا عشرة أوقية والأوقية سبعة دنانير والدينار أربعة وعشرون قيراطا". "الديلمي عن جابر وفيه الخليل بن مرة". قال البخاري: منكر الحديث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکالیف گناہوں کا کفارہ ہے
2974: سورة النساء۔ اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ بندہ کو یوں دیتا ہے کہ اس کو بخار، بڑھاپا اور سامان گم ہونا وغیرہ پیش آجاتا ہے۔ کوئی سامان اپنی آستین (جیب) میں رکھتا ہے پھر دیکھتا ہے تو گم پاتا ہے لیکن پھر اس کو پالیتا ہے۔ اس طرح (معمولی تکالیف میں) وہ مومن اپنے گناہوں سے یوں نکل آتا ہے جس طرح بھٹی سے سرخ سونا (صاف ستھرا) نکال لیا جاتا ہے۔ ابن جریر بروایت عائشہ (رض)۔

تشریح : فرمان الہی ہے : من یعمل سوءا یجز بہ۔ جو کوئی برا عمل کرے گا اس کی سزا پائے گا۔ اس آیت کے بارے میں عائشہ (رض) نے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ بالا فرمان جواب دیا۔
2974- "النساء" "يا عائشة ذلك مثابة الله العبد بما يصيبه من الحمى والكبر والبضاعة يضعها في كمه فيفقدها فيفزع لها فيجد في كمه حتى إن المؤمن ليخرج من ذنوبه كما يخرج التبر الأحمر من الكير". "ابن جرير عن عائشة" أنها سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن هذه الآية {مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ} قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکالیف گناہوں کا کفارہ ہے
2975: سورة المائدہ : جس کے پاس گھر اور خادم ہو وہ بادشاہ ہے۔ الزبیر بن بکر فی الموفقیات۔ ابن جریر بروایت مرسلا زید بن اسلم۔
2975- "المائدة" "من كان له بيت وخادم فهو ملك". "الزبير ابن بكار في الموفقيات وابن جرير عن زيد بن أسلم مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکالیف گناہوں کا کفارہ ہے
2976: اے اہل مدینہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب کی حرمت نازل کردی ہے۔ پس جو شخص یہ آیت جانتا ہو اور اس کے پاس شراب ہو وہ اس میں سے نہ پیے۔ شعب الایمان للبیہقی بروایت ابوہریرہ (رض)۔

شراب کی حرمت میں حکمت و تدبیر الہی

تشریح : فرمان الہی ہے :

یا ایہا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون۔ انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ و عن الصلوۃ فھل انتم منتہون (المائدۃ؛ 90 ۔ 91) ۔

اے ایمان والو ! شراب اور جوا اور بت اور پانے (ی سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے یں۔ سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ۔ شیطان توبہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور بغض ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیے۔

انصاب اور ازلام کی تفسیر اسی سورت کی ابتداء میں وما ذبح علی النصب وان تستقسموا بالازلام کے تحت میں گزر چکی ہے۔

اس آیت سے پہلے بھی بعض آیات خمر (شراب) کے بارہ میں نازل ہوچکی تھیں۔ اول یہ آیت نازل ہوئی۔ یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر و منافع للناس واثمہما اکبر من نفعہما (بقرہ : رکوع 27) گو اس سے نہایت واضح اشارہ تحریم خمر کی طرف کیا جا رہا تھا مگر چونکہ صاف طور اس کے چھوڑنے کا حکم نہ تھا اس لیے حضرت عمر (رض) نے س کر کہا اللہم بین لنا بیانا شافیا اس کے بعد دوسری آیت آئی۔ یا ایہا الذین آمنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری الی آخر الایۃ (نساء رکوع 6) اس میں بھی تحریم خمر کی تصریح نہ تھی۔

گو نشہ کی حالت میں نماز کی ممانعت ہوئی اور یہ قرینہ اسی کا تھا کہ غالبا یہ چیز عنقریب کلیۃ حرام ہونے والی ہے۔ مگر چونکہ عرب میں شراب کا رواج انتہاء کو پہنچ چکا تھا اور اس کو دفعۃ چھڑا دینا مخاطبین کے لحاظ سے سہل نہ تھا اس لیے نہایت حکیمانہ تدریج سے اولا قلوب میں اس کی نفرت بٹھلائی گئی اور آہستہ آہستہ حکم تحریم سے مانوس کیا گیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس دوسری آیت کو سن کر پھر وہی لفظ کہے اللہم بین لنا شافیا آخر کار مائدہ کی یہ آیتیں جو اس وقت ہمارے سامنے ہیں۔ یا ایہا الذین امنوا سے فھل انتم منتہون، تک نازل کی گئیں جس میں صاف صاف بت پرستی کی طرح اس گندی چیز سے بھی اجتناب کرنے کی ہدایت کی تھی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) فھل انتم منتہون سنتے ہی چلا اٹھے۔ انتہینا انتہینا۔ لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے، مے خانے برباد کردئیے۔ مدینے کی گلی کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہتی پھرتی تھی۔ سارا عرب اس گندی شراب کو چھوڑ کر مغفرت ربانی اور محبت و اطاعت نبوی کی شراب طہور سے مخمور ہوگیا اور ام الخبائث کے مقابلہ پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ جاد ایسا کامیاب ہوا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ جس چیز کو قرآن کریم نے اتنا پہلے اتنی شدت سے روکا تھا آج سب سے بڑے شراب خور ملک امریکہ وغیرہ اس کی خرابیوں اور نقصانات کے محسوس کرکے اس کے مٹا دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ فللہ الحمد والمنتہ۔
2976- "يا أهل المدينة إن الله تعالى يعرض عن الخمر تعريضا لا أدري لعله سينزل فيها أمرا، ثم قال: بعد يا أهل المدينة إن الله تعالى قد أنزل إلي تحريم الخمر فمن كتب هذه الآية وعنده منها شيء فلا يشربها". "هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکالیف گناہوں کا کفارہ ہے
2977: تمہاری قوم کی اونٹنیوں نے صحیح کانوں والے بچے جنے ہوں کیا تم چھری لے کر ان کے کان کاٹ دوگے پھر کہوگے یہ بحیرہ اس کا دودھ ہے۔ بتوں کے نام اور ان کی کھالیں کاٹ دوگے اور کہوگے یہ حروم (حرام ) ہیں پھر تم ان کو اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر حرام کرلوگے، جس کو اللہ نے تمہارے لیے حلال کیا ہے۔ اللہ کا بازوتمہارے بازو سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ کی چھری تمہاری چھری سے زیادہ تیز ہے۔ (مسند احمد، الطبرانی فی الکبیر ابن حبان، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، بروایت ابی الاحوص عن ابیہ)

تشریح : مشرکین عرب کسی جانور کا دودھ بتوں کے نام وقف کردیا کرتے تھے اس کو بحیرہ کہتے تھے۔ اور کسی جانور کو بت کے نام وقف کرکے اس کا کھانا اور اس سے کسی بھی طرح کا نفع اٹھانا اپنے اوپر حرام کرلیتے تھے۔ اس کی ممانعت مذکورہ حدیث میں کی گئی ہے۔ یہ حدیث سورة المائد کی آیت نمبر 103 کی تشریح ہے۔ جبکہ آیت میں اور بھی انواع مذکور ہیں جن کو مشرکین اپنے لیے حرام تصور کرتے تھے۔ مذکورہ آیت کی تفسیر میں مزید تفصیل ملاحظہ کیجیے۔ آخر میں حدیث میں سمجھایا گیا ہے کہ اگر یوں کان کاٹ کر یا کھال کاٹ کر کوئی چیز حرام کی جاسکتی ہے تو کیا خدا یہ نہیں کرسکتا اس کا بازو اور اس کی چھری تمہارے بازو اور تمہاری چھری سے زیادہ طاقتور ہیں۔
2977- "هل تنتج إبل قومك صحاحا آذانها فتعمد إلى موسى فتقطع آذانها فتقول هذه بحيرة وتنشق1جلودها وتقول هذه حرم2 فتحرمها عليك وعلى أهلك ما أعطاه الله لك حل، ساعد الله أشد من ساعدك وموسى الله أحد من موساك". "حم طب "حب –3" ك ق عن أبي الأحوص عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکالیف گناہوں کا کفارہ ہے
2978: عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے مناظرہ کیا اور اپنے رب پر غالب آگئے اور اللہ ہی نے ان کو (غالب آنے کے لیے) صحت دلیل تلقین فرمائی تھی۔ لقولہ : ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ الخ الدیلمی برویت ابوہریرہ (رض) ، واذ قال اللہ یعیسی ابن مریم، ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ قال سبحانک ما یکون لی ان اقول مالیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوب۔ ما قلت لہم لہم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم وکنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علی کل شیء شہید ان تعذبہم فانہم عبادک و ان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم۔ المائدہ : 116 ۔ 118

اور اس وقت کو بھی یاد رکھو جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو ؟ وہ کہیں گے تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بیشک تو علام الغیوب ہے۔ میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگراں تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ اور اگر بخش دے تو (تیری مذکورہ حدیث انہی آیات کی تفسیر و تشریح ہے۔
2978- "إن عيسى حاج ربه فحج عيسى ربه وإن الله لقاه حجته لقوله: {أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ} " إلى آخر الآية. "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৭৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2979: جب قیامت کا دن ہوگا انبیاء اور ان کی امتوں کو بلایا جائے گا۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بلایا جائے گا اللہ پاک ان کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کا اقرار فرمائیں گے۔ اللہ پاک فرمائیں گے۔

یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک وعلی والدتک اذ ایدتک بروح القدس۔

جب خدا (عیسیٰ سے) فرمائے گا : اے عیسیٰ بن مریم ! میرے ان احسانوں کو یاد کر جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیے جب میں نے روح القدس (جبرئیل) سے تمہاری مدد کی۔

پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے :

ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ۔

کیا تم نے لوگوں کو کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ؟

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کا انکار فرمائیں گے کہ میں نے ہرگز ایسا نہیں کہا تھا۔ پھر نصاری کو بلایا جائے گا اور ان سے سوال کیا جائے گا وہ کہیں گے : جی ہاں انہی نے ہم کو حکم دیا تھا۔ (اس بات کو سن کر غم و غصہ کی وجہ سے) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بال (کھڑے ہو کر) اس قدر لمبے ہوجائیں گے کہ آپ کے سر اور بدن کے ایک ایک بال کو ایک فرشتہ تھامے گا پھر اللہ تعالیٰ کے روبرو ہزار سال تک ان کا حساب کتاب ہوگا حتی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حجت نصاری پر غالب آجائے گی۔ پھر نصاری کے لیے (ایک صلیب بلند کی جائے گی جس کے پیچھے چل کر وہ جہنم میں داخل ہوجائیں گے۔ (ابن عساکر بروایت ابی بردہ بن ابی موسیٰ عن ابی موسیٰ اشعری (رض))
2979- "إذا كان يوم القيامة دعي بالأنبياء وأممها4 ثم يدعى بعيسى فيذكره الله نعمته عليه فيقر بها فيقول: {يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ} الآية، ثم يقول: {أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ} ، فينكر أن يكون قال ذلك، فيؤتى بالنصارى فيسألون فيقولون: نعم هوأمرنا بذلك فيطول شعر عيسى حتى يأخذ كل ملك من الملائكة بشعرة من شعر رأسه وجسده فيحاسبهم1 بين يدي الله عز وجل ألف عام حتى ترفع عليهم الحجة ويرفع لهم الصليب وينطلق بهم إلى النار". "كر –2عن أبي بردة بن أبي موسى عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2980: سورة الانعام : بہرحال یہ آنے والا تھا لیکن بعد میں ٹال دیا گیا۔ (مسند احمد ترمذی بروایت سعد (رض) بن ابی وقاص۔

فائدہ : جب فرمان الہی نازل ہوا :

قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم۔ الانعام : 65 ۔

کہہ دے اس کو قدرت ہے اس پر کہ عذاب بھیجے تم پر۔

تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر مذکورہ فرمان ارشاد فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تم پر عذاب بھیجنے پر پوری طرح قادر ہے لیکن اس کی رحمت ہے کہ اس نے تم پر بھیجنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

کلام : امام ترمذی (رح) نے اس روایت کو حسن اغریب قرار دیا ہے یعنی ایک طریق سے یہ روایت حسن ہے اور قابل اعتبار۔
2980- "الأنعام" "أما إنها كائنة ولم يأت تأويلها بعد". "حم ت حسن غريب عن سعد بن أبي وقاص" قال لما نزلت {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِنْ فَوْقِكُمْ} قال النبي صلى الله عليه وسلم فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2981: لم یلبسوا ایمانہم بظلم کا یہ مطلب نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو ظلم سے مراد شرک ہے۔ کیا تم نے لقمان (علیہ السلام) کی بات نہیں سنی۔ ان الشرک لظلم عظیم۔ بخاری، مسلم بروایت ابن مسعود (رض)۔

فائدہ : فرمان الہی ہے :

الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولئک لہم الامن وھم مہتدون۔

جو لوگ یقین لے آئے اور نہیں ملایا اپنے ایمان میں کوئی ظلم انہی کے واسطے ہے دلجمعی اور وہی ہیں سیدھی راہ پر۔

جب مذکورہ فرمان باری نازل ہوا تو صحابہ نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم میں سے کون ایسا شخص ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو ؟ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہاں ظلم سے شرک مراد ہے یعنی ایمان لانے کے بعد شرک سے کلی اجتناب برتا۔ یونہی حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو فرمایا تھا : اے بیٹے شرک نہ کرنا۔ اللہ کی قسم شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ سورة لقمان : 13
2981- ليس كما تقولون {لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} بشرك أو لم تسمعوا إلى قول لقمان {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ} . "خ م عن ابن مسعود" قال "لما نزلت {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قلنا يا رسول الله أينا لا يظلم نفسه" قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2982: ہلاکت ہو بنی اسرائیل کی۔ اللہ نے ان پر چربیوں کو حرام کیا۔ انھوں نے ان کو نرم کیا اور اس کو فروخت کرکے اس کے پیسے سے کھانے لگے۔ یونہی تم (مسلمانوں) پر اللہ نے شراب حرام فرمائی ہے۔ (الطبرانی فی الکبیر بروایت عمر (رض))

یہود کے نقش قدم پر چلنے کی ممانعت

فائدہ : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے تم بھی ان کے قدم بقدم چلوگے اگر وہ (یہود) ایک سوراخ میں گھسے تھے تم بھی اس میں گھسوگے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے آج مسلمان بھی شراب کو مختلف ناموں اور مختلف شکلوں میں استعمال کرنے لگے ہیں۔ نشہ آور شے ہر طرح حرام ہے اس سے احتراز واجب ہے۔
2982- "الويل لبني إسرائيل إنه حرم عليهم الشحوم فيطرونهثم يبيعونه ثم يأكلون ثمنه وكذلك الخمر عليكم حرام". "طب عن ابن عمر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2983: یہود پر اللہ لعنت فرمائے۔ یہود پر اللہ لعنت فرمائے۔ گائے اور بکریوں کی جو چربیاں ان پر حرام کی گئی تھیں انھوں نے ان کو لے کر پگھلایا اور اپنی کھانے والی اشیاء کے بدلے فروخت کردیا۔ (یاد رکھو) شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ شراب حرام ہے اور اس کی قیمت بھی حرام ہے۔ (مسند احمد بروایت عبدالرحمن بن غنم)
2983- "لعن الله اليهود، لعن الله اليهود لعن الله اليهود –4"

انطلقوا إلى ما حرم عليهم من شحوم البقر والغنم فاذابوه فباعوه1 ما يأكلون وإن الخمر حرام وثمنها حرام، وإن الخمر حرام وثمنها حرام، وإن الخمر حرام وثمنها حرام". "حم عن عبد الرحمن بن غنم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2984: اللہ یہود پر لعنت فرمائے ان پر بکریوں کی چربی حرام کی گئی تو وہ اس کی قیمت کھانے لگے۔ (مسند ابی یعلی ہشیم بن کلیب الشاشی، مستدرک الحاکم، سنن سعید بن منصور بروایت اسامہ بن زید (رض))
2984- "لعن الله اليهود يحرمون شحوم الغنم ويأكلون أثمانها". "ع والهيثم بن كليب الشاسي2 ك ص عن أسامة بن زيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৮৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2985: اللہ عزوجل نے مغرب میں ایک دروازہ بنایا ہے اس دروازے کا عرض (چوڑائی) ستر سال کی مسافت کے بقدر ہے۔ وہ باب التوبہ ہے۔ وہ بند نہیں ہوگا جب تک کہ سورج مغرب کی جانب سے طلوع نہ ہو اور یہی فرمان باری عزوجل ہے :

یوم یاتی بعض آیات ربک لاینفع نفسا ایمانہا۔ الانعام : 158 ۔

جس روز تمہارے پروردگار کی نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہ لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ (ابن زنجویہ بروایت صفوان بن عسال)
2985- "إن الله عز وجل جعل في المغرب بابا مسيرة عرضه سبعون عاما للتوبة لا يغلق ما لم تطلع الشمس من قبله وذلك قوله تعالى: {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لا يَنْفَعُ نَفْساً إِيمَانُهَا} ". "ابن زنجويه عن صفوان بن عسال".
tahqiq

তাহকীক: