কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ২৯৮৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2986: اے عائشہ (رض) ! ان الذین فرقوا دینہم وکانوا شیعا۔ الانعام : 159 ۔
جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اور ہوگئے بہت سے فرقے۔ ایسے لوگ بدعت والے اور خواہش پرست لوگ ہیں۔ ان کی کوئی توبہ نہیں (گمراہی پر قائم رہتے ہوئے) میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ (الطبرانی فی الصغیر بروایت عمر (رض))
جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں اور ہوگئے بہت سے فرقے۔ ایسے لوگ بدعت والے اور خواہش پرست لوگ ہیں۔ ان کی کوئی توبہ نہیں (گمراہی پر قائم رہتے ہوئے) میں ان سے بری ہوں اور وہ مجھ سے بری ہیں۔ (الطبرانی فی الصغیر بروایت عمر (رض))
2986- "يا عائشة إن الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعا هم أصحاب البدع وأصحاب الأهواء ليس لهم توبة أنا منهم بريء وهم مني براء". "طس عن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسیٰ (علیہ السلام) پر انعامات الہیہ
2987: اے عائشہ (رض) ! جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور وہ بہت سے گروہوں میں بٹ گئے وہ بدعت اور گمراہی میں پڑنے والے ہیں۔ (گمراہیوں میں پڑے ہوئے) ان کی کوئی توبہ قبول نہیں جب کہ ہر گناہ گار کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے سوائے ان اصحاب البدعت اور خواہش پرستوں کے۔ میں ان سے بری ہوں وہ مجھ سے بری ہیں۔ (الحکیم ابن ابی حاتم، ابو الشیخ فی التفسیر، حلیۃ الاولیاء، شعب للبیہقی بروایت عمر (رض))
2987- "يا عائشة إن الذين فرقوا دينهم وكانوا شيعا هم34
أصحاب البدع وأصحاب الضلالة من هذه الأمة ليست لهم توبة يا عائشة إن لكل صاحب ذنب توبة إلا أصحاب الأهواء والبدع أنا منهم بريء وهم مني براء". "الحكيم وابن أبي حاتم وأبو الشيخ في التفسير حل هب عن عمر".
أصحاب البدع وأصحاب الضلالة من هذه الأمة ليست لهم توبة يا عائشة إن لكل صاحب ذنب توبة إلا أصحاب الأهواء والبدع أنا منهم بريء وهم مني براء". "الحكيم وابن أبي حاتم وأبو الشيخ في التفسير حل هب عن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اصحاب الیمین، اصحاب الشمال
2988: سورة الاعراف۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق پیدا فرمائی اور فیصلہ فرما دیا اور پیغمبروں سے عہد لیا۔ اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ اللہ نے اہل یمین کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیا اور اصحاب شمال کو بائیں ہاتھ میں لیا اور رحمن کے دونوں ہاتھ یمین (صاحب برکت) یں۔ پھر فرمایا : اے اصحاب الیمین (انہوں نے جواب میں عرض کیا) لبیک ربنا وسعدیک۔ حاضر ہیں ہم اے پروردگار ! اور تمام بھلائیاں تجھ ہی سے ہیں۔ پروردگار نے فرمایا : الست بربکم۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے پروردگار ! بیشک آپ ہی ہمارے پروردگار ہیں۔ (اصل نسخہ میں آئندہ کا اضافہ نہیں لیکن منتخب کنز العمال میں یہ اضافہ موجود ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے اصحاب الشمال ! انھوں نے عرض کیا : حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار ! اور تو ہی تمام سعادتوں کا سرچشمہ ہے۔ فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ عرض کیا : کیوں نہیں۔ آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے اصحاب الاعراف ! انھوں نے بھی عرض کیا لبیک ربنا وسعدیک۔ فرمایا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ عرض کیا کیوں نہیں۔ آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ منتخب کنز العمال۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کردیا۔ کسی نے ان میں سے کہا : اے پروردگار : ہمیں (اچھوں اور بروں کو) ایک دوسرے کے ساتھ کیوں خلط ملط کردیا ؟ ارشاد خداوندی ہوا : تمام لوگوں کے سامنے ان کے اپنے اپنے اعمال ہیں جن پر ہر ایک کاربند ہے۔ (یہ سب سوال و جواب میں نے اس لیے کیا) کہیں تم قیامت کے دن کہو ہم اس سے غافل تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں لوٹا دیا۔ پس اہل جنت جنت ہی کے اہل ہیں اور اہل جہنم جہنم ہی کے لائقیں۔ کسی نے سوال کیا یا رسول اللہ ! (جب جنت اور جہنم ہر ایک کے لیے اس کے اہل لکھے جا چکے ہیں) پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا : ہر قوم اپنے مرتبہ (جنت یا جہنم) کے مطابق ہی عمل کرتی ہے۔ (عبد بن حمید، الضعفاء للعقیلی، العظمت لابی الشیخ، ابن مردویہ بروایت ابی امامہ (رض) )
نوٹ : اس حدیث مضمون کی مکمل تفصیل سورة الاعراف 172 پر تفاسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 2789 پر یہ روایت معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کی گئی ہے اور اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کردیا۔ کسی نے ان میں سے کہا : اے پروردگار : ہمیں (اچھوں اور بروں کو) ایک دوسرے کے ساتھ کیوں خلط ملط کردیا ؟ ارشاد خداوندی ہوا : تمام لوگوں کے سامنے ان کے اپنے اپنے اعمال ہیں جن پر ہر ایک کاربند ہے۔ (یہ سب سوال و جواب میں نے اس لیے کیا) کہیں تم قیامت کے دن کہو ہم اس سے غافل تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو آدم (علیہ السلام) کی پشت میں لوٹا دیا۔ پس اہل جنت جنت ہی کے اہل ہیں اور اہل جہنم جہنم ہی کے لائقیں۔ کسی نے سوال کیا یا رسول اللہ ! (جب جنت اور جہنم ہر ایک کے لیے اس کے اہل لکھے جا چکے ہیں) پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا : ہر قوم اپنے مرتبہ (جنت یا جہنم) کے مطابق ہی عمل کرتی ہے۔ (عبد بن حمید، الضعفاء للعقیلی، العظمت لابی الشیخ، ابن مردویہ بروایت ابی امامہ (رض) )
نوٹ : اس حدیث مضمون کی مکمل تفصیل سورة الاعراف 172 پر تفاسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 2789 پر یہ روایت معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کی گئی ہے اور اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
2988- "الأعراف" "خلق الله تعالى الخلق وقضى القضية وأخذ ميثاق النبيين وعرشه على الماء فأخذ أهل اليمين بيمينه وأخذ أهل الشمال بيده الأخرى وكلتا يدي الرحمن يمين فقال: يا أصحاب اليمين فاستجابوا له [فقالوا –1لبيك ربنا وسعديك قال: ألست بربكم قالوا: بلى فخلط2 بعضهم ببعض فقال قائل منهم: ربنا لم خلطت بيننا قال لهم: أعمال من دون ذلك هم لها عاملون أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين ثم ردهم في صلب آدم فأهل الجنة أهلها وأهل النار أهلها قيل يا رسول الله فما الأعمال قال: يعمل كل قوم بمنزلتهم". "عبد بن حميد والحكيم عق طب وأبو الشيخ في العظمة وابن مردويه عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৮৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اصحاب الیمین، اصحاب الشمال
2989: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا اور ان کا فیصلہ کردیا (کہ کون جنت یا جہنم میں جائے گا تو) پھر اہل یمین (جنت والوں) کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیا اور اہل شمال (جہنم والوں) کو بائیں ہاتھ میں لیا پھر فرمایا : اے اصحاب الیمین۔ اصحاب الیمین نے جواب دیا لبیک وسعدیک۔ فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ بولے : بیشک آپ ہمارے رب ہیں۔ پھر فرمایا : اے اصحاب الشمال : اصحاب الشمال بولے : لبیک وسعدیک۔ فرمایا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ عرض کیا بیشک آپ ہمارے رب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو بہم خلط ملط کردیا۔ ایک نے سوال کیا : یا رب ! ان کو آپس میں ملا جلا کیوں دیا۔ فرمایا : ہر ایک کے اپنے اپنے اعمال ہیں (جن سے وہ ممتاز ہوجائیں گے) اب تم یہ نہ کہہ سکوگے قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے لا علم تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سب کو آدم کی پشت میں واپس کردیا۔ (الطبرانی فی الکبیر بروایت ابی امامہ (رض) )
کلام : دیکھئے 2789 ذخیرۃ الحفاظ۔
کلام : دیکھئے 2789 ذخیرۃ الحفاظ۔
2989- "لما خلق الله الخلق وقضى القضية أخذ أهل اليمين بيمينه وأهل الشمال بشماله فقال: يا أصحاب اليمين قالوا لبيك وسعديك قال: ألست بربكم قالوا: بلى قال: يا أصحاب الشمال قالوا لبيك وسعديك قال: ألست بربكم قالوا: بلى ثم خلط بينهم فقال قائل: يا رب لم خلطت بينهم؟ قال لهم: أعمال من دون ذلك هم لها عاملون أن تقولوا يوم القيامة إنا كنا عن هذا غافلين ثم ردهم في صلب آدم". "طب عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اصحاب الیمین، اصحاب الشمال
2990: اللہ پاک موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے۔ یقیناً سنی ہوئی خبر کا حال خود آنکھوں دیکھا جیسا نہیں ہوتا۔ اللہ پاک نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خبر دی کہ ان کی قوم گمراہ ہوچکی ہے۔ تب (غص میں) توراۃ کی تختیاں نہیں پھینکی لیکن جب واپس آ کر خود دیکھا اور ان کا معائنہ کیا تو (غصہ کے مارے) توراۃ کی تختیاں پھینک دیں۔ (مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض))
نوٹ : سورة الاعراف آیت 150 پر یہ واقعہ مذکور ہے۔
نوٹ : سورة الاعراف آیت 150 پر یہ واقعہ مذکور ہے۔
2990- "يرحم الله موسى ليس المعاين كالمخبر أخبره ربه أن قومه فتنوا فلم يلق الألواح فلما رآهم وعاينهم ألقى الألواح". "ك1 عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حواء (علیہا السلام) کی نذر :
2991: حضرت حواء کا بچہ زندہ نہ رہتا تھا۔ پھر آپ نے نذر مانی کہ اگر اس کا بچہ جئے گا تو اس کا نام عبدالحارث رکھیں گی۔ چنانچہ ان کا بچہ زندہ رہا اور حواء نے اس کا نام عبدالحارث رکھ دیا۔ اور یہ سب شیطان کے بہکاوے کی وجہ سے تھا۔ مستدرک الحاکم بروایت سمرۃ (رض) ۔
نوٹ : اسی جلد کے گزشتہ صفحات میں حدیث 2898 پر اس حدیث کی مکمل تفصیل و تشریح ملاحظہ فرمائیں۔
نوٹ : اسی جلد کے گزشتہ صفحات میں حدیث 2898 پر اس حدیث کی مکمل تفصیل و تشریح ملاحظہ فرمائیں۔
2991- "كانت حواء لا يعيش لها ولد فنذرت لئن عاش لها ولد لتسمينه عبد الحارث فعاش لها ولد فسمته عبد الحارث وإنما كان ذلك عن وحي من الشيطان". "ك عن سمرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حواء (علیہا السلام) کی نذر :
2992: سورة البراءۃ : المتربصون وہ گناہ گار ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ الدیلمی بروایت عبداللہ بن جراد۔
فائدہ : سورة برأت 98 میں اللہ پاک بد و منافقین کی مذمت کرتے ہوئے ذکر فرماتے ہیں کہ وہ تم مسلمانوں پر مصیبت پڑنے کے منتظر رہتے ہیں یتربص بکم الدوائر ایسے لوگ فقط نام کے مسلمان ہیں ورنہ وہ خدا کے ہاں منافق اور جہنم کے مستحق ہیں۔
فائدہ : سورة برأت 98 میں اللہ پاک بد و منافقین کی مذمت کرتے ہوئے ذکر فرماتے ہیں کہ وہ تم مسلمانوں پر مصیبت پڑنے کے منتظر رہتے ہیں یتربص بکم الدوائر ایسے لوگ فقط نام کے مسلمان ہیں ورنہ وہ خدا کے ہاں منافق اور جہنم کے مستحق ہیں۔
2992- "براءة" "المتربصون هم الآثمون عليهم لعنة الله". "الديلمي عن عبد الله بن جراد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حواء (علیہا السلام) کی نذر :
2993 ۔ سورة یونس : اللہ عزوجل قیامت کے دن ایک منادی کو کھڑا کریں گے جو اہل جنت کو نداء دے گا جس کی نداء اول و آخر سب لوگ سنیں گے۔ وہ کہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے تم سے حسنی اور زیادتی کا وعدہ فرمایا تھا۔ جیسا کہ فرمان الہی ہے :
للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ : یونس : 26 ۔
جن لوگوں نے نیکوکاری کی تھی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید بران) اور بھی ۔
پس حسنی جنت ہے اور زیادتی رحمن کے چہرے کی زیارت ہے۔ ابن جریر بروایت ابی موسیٰ (رض) ۔
اللہ تعالیٰ نے تم سے حسنی اور زیادتی کا وعدہ فرمایا تھا۔ جیسا کہ فرمان الہی ہے :
للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ : یونس : 26 ۔
جن لوگوں نے نیکوکاری کی تھی ان کے لیے بھلائی ہے اور (مزید بران) اور بھی ۔
پس حسنی جنت ہے اور زیادتی رحمن کے چہرے کی زیارت ہے۔ ابن جریر بروایت ابی موسیٰ (رض) ۔
2993- "يونس" "إن الله عز وجل يبعث يوم القيامة مناديا ينادي أهل الجنة بقول يسمع أولهم وآخرهم إن الله تعالى وعدكم الحسنى وزيادة فالحسنى الجنة والزيادة النظر إلى وجه الرحمن". "ابن جرير عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حواء (علیہا السلام) کی نذر :
2994: جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا، اے محمد ! آپ مجھے دیکھتے کہ میں ایک ہاتھ سے فرعون کو ڈبو رہا تھا اور دوسرے سے اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس ڈر سے کہ کہیں اس کے کلمہ پڑھنے کی وجہ سے اس کو خدا کی رحمت نہ پہنچ جائے اور اس کی بخشش کردی جائے۔ (ابن جریر، شعب الایمان للبیہقی بروایت ابوہریرہ (رض))
نوٹ : یہی روایت گزشتہ صفحات میں رقم الحدیث 2905 کے تحت گزر چکی ہے۔
نوٹ : یہی روایت گزشتہ صفحات میں رقم الحدیث 2905 کے تحت گزر چکی ہے۔
2994- "قال جبريل يا محمد لو رأيتني وأنا أغطسه بإحدى يدي وأدس من الحال في فيه مخافة أن تدركه رحمة الله فيغفر له يعني فرعون". "ابن جرير هب عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حواء (علیہا السلام) کی نذر :
2995: جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہے تھے اس ڈر سے کہ کہیں وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لے جس کی وجہ سے اللہ اس پر رحم نہ فرما دیں۔ (ابن جریر، مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض))
2995- "إن جبريل جعل يدس في فم فرعون الطين خشية أن يقول لا إله إلا الله فيرحمه الله". "ابن جرير ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حواء (علیہا السلام) کی نذر :
2996: مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! تیرا پروردگار اس قدر کسی پر غضب ناک نہیں ہوا جس قدر کہ فرعون پر ہوا جب اس نے یہ کہا : انا ربکم الاعلی، میں تمہارا سب سے بڑا پروردگار ہوں۔ پس جب وہ غرق ہونے لگا اور اس نے خدا کو پکارنا چاہا تو میں اس کا منہ بند کرنے لگا اس ڈر سے کہ کہیں اس کو رحمت الہی نہ پہنچ جائے۔ ابن عساکر بروایت عمر (رض)۔
2996- قال لي جبريل: "يا محمد ما غضب ربك عز وجل على أحد غضبه على فرعون إذ قال ما علمت لكم من إله غيري وإذ حشر فنادى فقال أنا ربكم الأعلى فلما أدركه الغرق واستغاث أقبلت أحشو فاه مخافة أن تدركه الرحمة". "ابن عساكر عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حواء (علیہا السلام) کی نذر :
2997: جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہے تھے اس ڈر سے کہ کہیں وہ لا الہ الا اللہ نہ کہہ لے (مستدرک الحاکم بروایت ابن عباس (رض))
2997- "جعل جبريل يدس الطين في فم فرعون مخافة أن يقول لا إله إلا الله". "ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حواء (علیہا السلام) کی نذر :
2998: سورة ھود۔ الاواہ کے معنی سے مراد خشوع کرنے والا اور عاجزی کرنے والا ہے۔ (ابن جریر بروایت عبداللہ بن شداد بن الھاد مرسلا۔
فائدہ : فرمان الہی ہے :
ان ابراہیم لحلیم اواہ منیب۔ سورة ھود : 75 ۔
بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے۔
اس آیت میں اواہ کا لفظ آیا ہے۔ اسی کی تشریح مذکورہ بالا حدیث میں مقصود ہے۔
فائدہ : فرمان الہی ہے :
ان ابراہیم لحلیم اواہ منیب۔ سورة ھود : 75 ۔
بےشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے۔
اس آیت میں اواہ کا لفظ آیا ہے۔ اسی کی تشریح مذکورہ بالا حدیث میں مقصود ہے۔
2998- "هود" "الأواه الخاشع المتضرع". "ابن جرير عن عبد الله بن شداد بن الهاد" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৯৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومنین اور کافرین کی شفاعت کرنے والے
2999 سورة ابراہیم۔ جب اللہ پاک اولین و آخرین کو جمع فرمائیں گے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما کر فارغ ہوجائیں گے تو مومنین عرض کریں گے : ہمارا پروردگار ہمارے درمیان فیصلہ فرما چکا ہے۔ پس کون ہمارے رب کے ہاں ہماری شفاعت کا بیڑہ اٹھائے گا ؟ پھر آپس میں کہیں گے : چلو آدم (علیہ السلام) کے پاس چلتے ہیں۔ وہ ہمارے والد ہیں۔ اللہ نے ان کو اپنے دس مبارک سے پیدا فرمایا ہے اور ان کو ہم کلام ہونے کا شرف بخشا ہے۔
لہذا تمام مومنین ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور ان سے بات چیت کریں گے کہ و چل کر ان کی شفاعت کریں ! حضرت آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے۔ تم نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ چنانچہ (وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو) نوح (علیہ السلام) ان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بھیجیں گے۔ ابراہیم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کا پتہ بتائیں گے۔ موسیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دیں گے پھر مومنین جیسی کے پاس آئیں گے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے : میں تم کو نبی امی کے پاس جانے کا کہتا ہوں (انشاء اللہ وہاں سے تم ناامید نہ ہوں گے) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : چنانچہ مومنین میرے پاس آئیں گے۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اپنے سامنے کھڑے ہونے کی اجازت مرحمت فرمائیں گے۔
چنانچہ میرے بیٹھنے کی جگہ ایسی خوشبو سے معطر ہوجائے گی جو کبھی کسی نے نہ سونگھی ہوگی۔ پھر میں اپنے پروردگار عزوجل کے حضور میں حاضر ہوں گا (منتخب میں ہے پھر میں اپنے پروردگار کی ثناء بیان کروں گا۔ پس پروردگار مجھے سفارش کا موقعہ عنایت فرمائیں گے۔ اور مجھے سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک نور سے منور فرما دیں گے۔
پھر کافر کہیں گے کہ مومنوں کو تو ان کا سفارشی مل گیا ہمارا کون سفارشی بنے گا ؟ پس وہ ابلیس ہی ہوسکتا ہے جس نے ہمیں گمراہ کیا ہے چنانچہ وہ ابلیس کے پاس آئیں گے اور اس کو کہیں گے : مومنوں نے تو اپنے لیے سفارشی پا لیا پس تو بھی کھڑا ہو اور ہمارے لیے سفارش کر۔ کیونکہ تو نے ہی ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکایا تھا۔ چنانچہ وہ اٹھے گا تو اس کی جگہ سخت ترین بدبو سے متعفن ہوجائے گی۔ ایسی بدبو کبھی کسی نے نہ سونگھی ہوگی۔ پھر وہ جہنم میں جانے کے لیے بہت موٹا ہوجائے گا۔ فرمان الہی ہے :
ویقول الشیطان لما قضی الامر ان اللہ وعکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم (ابراہیم :22)
جب (حساب کتاب کا) فیصلہ ہوچکے تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ ابن المبارک، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابن عساکر بروایت عقبہ (رض) بن عامر) ۔
کلام : علامہ عداء الدین ہندی (مولف کنز العمال) فرماتے ہیں : اس روایت میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد ضعیف ہے۔
امت کے بہترین لوگ
3000: میری امت کے بہترین لوگ جیسا کہ مجھے ملاء اعلی (فرشتوں کی جماعت) نے خبر دی وہ لوگیں۔ جو اپنے پروردگار کی رحمت کی فراختی اور خشادگی پر کھلے بندوں ہنستے اور خوش ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے عذاب کے ڈر سے چھپ چھپ کر روتے ہیں۔ پاکیزہ گھروں یعنی مساجد میں صبح و شام اللہ کا ذکر کر رتے ہیں۔ شوق اور ڈر میں اپنی زبانوں کے ساتھ اس کو پکارتے ہیں۔ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس سے مانگتے ہیں دلوں کے ساتھ خدا کے حضور بار بار متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کا بوجھ لوگوں پر ہلکا ہے۔ اپنی جانوں پر زیادہ ہے۔ زمین پر عاجزی کے ساتھ ننگے پاؤں یوں چلتے ہیں جیسے چیونٹی رینگتی ہے نہ اکڑ نہ اتراہٹ۔ اطمینان اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔ وسیلہ (وطفیل انبیاء و بزرگان دین) کے ذریعے خدا کی بارگاہ میں قرب حاصل کرتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ خدا کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں۔ موٹا چھوٹا پہنتے ہیں۔ اللہ کی جانب سے ان پر فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ نگہبان آنکھ ان کی حفاظت کرتی ہے۔
بندوں کو اندر سے جانتے ہیں۔ زمین اور کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں۔ ان کی جانیں دنیا میں جبکہ دل آخرت میں اٹکے ہوتے ہیں۔ ان کو آگے کے سوا کوئی فکر نہیں۔ انھوں نے قبروں کے لیے سامان سفر تیار کرلیا ہے۔ آخرت کے سفر کے لیے پروانہ (ویزا) حاصل کرلیا ہے۔
خدا کے آگے کھڑے ہونے کے لیے مستعد ہوچکے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ذلک لمن خاف مقامی و خاف وعید۔
یہ انعام اس شخص کے لیے ہے جو میرے آگے کھڑا ہونے سے ڈرا اور میری سزا سے سے ڈرا۔ (حلیۃ الاولیاء، مستدرک الحاکم ابن النجار، بروایت عیاض بن سلیمان)
کلام : امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث منکر اور ناقابل اعتبار ہے۔ اس کا راوی عیاض کا کچھ علم نہیں وہ کون ہے ؟ جبکہ ابن النجار (رح) فرماتے ہیں کہ ابوموسی مدینی نے ان (عیاض راوی) کو صحابہ کرام میں شمار کیا ہے۔ امام حاکم نے اس کو روایت کیا ہے حافظ نے اس پر گرفت فرمائی ہے اور اس کو غلط قرار دیا ہے۔
لہذا تمام مومنین ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور ان سے بات چیت کریں گے کہ و چل کر ان کی شفاعت کریں ! حضرت آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے۔ تم نوح (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ چنانچہ (وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے تو) نوح (علیہ السلام) ان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بھیجیں گے۔ ابراہیم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کا پتہ بتائیں گے۔ موسیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا حوالہ دیں گے پھر مومنین جیسی کے پاس آئیں گے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے : میں تم کو نبی امی کے پاس جانے کا کہتا ہوں (انشاء اللہ وہاں سے تم ناامید نہ ہوں گے) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : چنانچہ مومنین میرے پاس آئیں گے۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے اپنے سامنے کھڑے ہونے کی اجازت مرحمت فرمائیں گے۔
چنانچہ میرے بیٹھنے کی جگہ ایسی خوشبو سے معطر ہوجائے گی جو کبھی کسی نے نہ سونگھی ہوگی۔ پھر میں اپنے پروردگار عزوجل کے حضور میں حاضر ہوں گا (منتخب میں ہے پھر میں اپنے پروردگار کی ثناء بیان کروں گا۔ پس پروردگار مجھے سفارش کا موقعہ عنایت فرمائیں گے۔ اور مجھے سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک نور سے منور فرما دیں گے۔
پھر کافر کہیں گے کہ مومنوں کو تو ان کا سفارشی مل گیا ہمارا کون سفارشی بنے گا ؟ پس وہ ابلیس ہی ہوسکتا ہے جس نے ہمیں گمراہ کیا ہے چنانچہ وہ ابلیس کے پاس آئیں گے اور اس کو کہیں گے : مومنوں نے تو اپنے لیے سفارشی پا لیا پس تو بھی کھڑا ہو اور ہمارے لیے سفارش کر۔ کیونکہ تو نے ہی ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکایا تھا۔ چنانچہ وہ اٹھے گا تو اس کی جگہ سخت ترین بدبو سے متعفن ہوجائے گی۔ ایسی بدبو کبھی کسی نے نہ سونگھی ہوگی۔ پھر وہ جہنم میں جانے کے لیے بہت موٹا ہوجائے گا۔ فرمان الہی ہے :
ویقول الشیطان لما قضی الامر ان اللہ وعکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم (ابراہیم :22)
جب (حساب کتاب کا) فیصلہ ہوچکے تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ ابن المبارک، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابن عساکر بروایت عقبہ (رض) بن عامر) ۔
کلام : علامہ عداء الدین ہندی (مولف کنز العمال) فرماتے ہیں : اس روایت میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد ضعیف ہے۔
امت کے بہترین لوگ
3000: میری امت کے بہترین لوگ جیسا کہ مجھے ملاء اعلی (فرشتوں کی جماعت) نے خبر دی وہ لوگیں۔ جو اپنے پروردگار کی رحمت کی فراختی اور خشادگی پر کھلے بندوں ہنستے اور خوش ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے عذاب کے ڈر سے چھپ چھپ کر روتے ہیں۔ پاکیزہ گھروں یعنی مساجد میں صبح و شام اللہ کا ذکر کر رتے ہیں۔ شوق اور ڈر میں اپنی زبانوں کے ساتھ اس کو پکارتے ہیں۔ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس سے مانگتے ہیں دلوں کے ساتھ خدا کے حضور بار بار متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کا بوجھ لوگوں پر ہلکا ہے۔ اپنی جانوں پر زیادہ ہے۔ زمین پر عاجزی کے ساتھ ننگے پاؤں یوں چلتے ہیں جیسے چیونٹی رینگتی ہے نہ اکڑ نہ اتراہٹ۔ اطمینان اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔ وسیلہ (وطفیل انبیاء و بزرگان دین) کے ذریعے خدا کی بارگاہ میں قرب حاصل کرتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ خدا کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں۔ موٹا چھوٹا پہنتے ہیں۔ اللہ کی جانب سے ان پر فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ نگہبان آنکھ ان کی حفاظت کرتی ہے۔
بندوں کو اندر سے جانتے ہیں۔ زمین اور کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں۔ ان کی جانیں دنیا میں جبکہ دل آخرت میں اٹکے ہوتے ہیں۔ ان کو آگے کے سوا کوئی فکر نہیں۔ انھوں نے قبروں کے لیے سامان سفر تیار کرلیا ہے۔ آخرت کے سفر کے لیے پروانہ (ویزا) حاصل کرلیا ہے۔
خدا کے آگے کھڑے ہونے کے لیے مستعد ہوچکے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ذلک لمن خاف مقامی و خاف وعید۔
یہ انعام اس شخص کے لیے ہے جو میرے آگے کھڑا ہونے سے ڈرا اور میری سزا سے سے ڈرا۔ (حلیۃ الاولیاء، مستدرک الحاکم ابن النجار، بروایت عیاض بن سلیمان)
کلام : امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث منکر اور ناقابل اعتبار ہے۔ اس کا راوی عیاض کا کچھ علم نہیں وہ کون ہے ؟ جبکہ ابن النجار (رح) فرماتے ہیں کہ ابوموسی مدینی نے ان (عیاض راوی) کو صحابہ کرام میں شمار کیا ہے۔ امام حاکم نے اس کو روایت کیا ہے حافظ نے اس پر گرفت فرمائی ہے اور اس کو غلط قرار دیا ہے۔
2999- "إبراهيم" "إذا جمع الله الأولين والآخرين فقضى بينهم وفرغ من القضاء قال المؤمنون: قد قضى بيننا ربنا تعالى فمن يشفع لنا إلى ربنا فيقولون انطلقوا بنا إلى آدم فإنه أبونا وخلقه الله بيده وكلمه فيأتونه فيكلمونه أن يشفع لهم فيقول لهم آدم عليكم بنوح فيأتون نوحا فيدلهم على إبراهيم فيدلهم على موسى ثم يأتون موسى فيدلهم على عيسى ثم يأتون عيسى فيقول أدلكم على النبي الأمي فيأتوني فيأذن الله لي أن أقوم إليه فيفور2 مجلسي من أطيب ريح شمها أحد قط حتى آتيعلى ربي عز وجل فيشفعني ويجعل لي نورا من شعر رأسي إلى ظفر قدمي ثم يقول الكافرون هذا وجد المؤمنون من يشفع لهم فمن يشفع لنا ما هو إلا إبليس هو الذي أضلنا فيأتون إبليس فيقولون: قد وجد المؤمنون من يشفع لهم فقم أنت فاشفع لنا فأنت أضللتنا فيقوم فيفور من مجلسه من أنتن ريح شمها أحد قط ثم يعظم لجهنم {وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ} إلى آخر الآية". "ابن المبارك وابن جرير وابن أبي حاتم" "طب وابن مردويه كر عن عقبة بن عامر" وفيه عبد الرحمن بن زياد ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3000: میری امت کے بہترین لوگ جیسا کہ مجھے ملاء اعلی (فرشتوں کی جماعت) نے خبر دی وہ لوگیں۔ جو اپنے پروردگار کی رحمت کی فراختی اور خشادگی پر کھلے بندوں ہنستے اور خوش ہوتے ہیں۔ جبکہ اس کے عذاب کے ڈر سے چھپ چھپ کر روتے ہیں۔ پاکیزہ گھروں یعنی مساجد میں صبح و شام اللہ کا ذکر کر رتے ہیں۔ شوق اور ڈر میں اپنی زبانوں کے ساتھ اس کو پکارتے ہیں۔ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس سے مانگتے ہیں دلوں کے ساتھ خدا کے حضور بار بار متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کا بوجھ لوگوں پر ہلکا ہے۔ اپنی جانوں پر زیادہ ہے۔ زمین پر عاجزی کے ساتھ ننگے پاؤں یوں چلتے ہیں جیسے چیونٹی رینگتی ہے نہ اکڑ نہ اتراہٹ۔ اطمینان اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں۔ وسیلہ (وطفیل انبیاء و بزرگان دین) کے ذریعے خدا کی بارگاہ میں قرب حاصل کرتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ خدا کی راہ میں قربانیاں دیتے ہیں۔ موٹا چھوٹا پہنتے ہیں۔ اللہ کی جانب سے ان پر فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ نگہبان آنکھ ان کی حفاظت کرتی ہے۔
بندوں کو اندر سے جانتے ہیں۔ زمین اور کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں۔ ان کی جانیں دنیا میں جبکہ دل آخرت میں اٹکے ہوتے ہیں۔ ان کو آگے کے سوا کوئی فکر نہیں۔ انھوں نے قبروں کے لیے سامان سفر تیار کرلیا ہے۔ آخرت کے سفر کے لیے پروانہ (ویزا) حاصل کرلیا ہے۔
خدا کے آگے کھڑے ہونے کے لیے مستعد ہوچکے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ذلک لمن خاف مقامی و خاف وعید۔
یہ انعام اس شخص کے لیے ہے جو میرے آگے کھڑا ہونے سے ڈرا اور میری سزا سے سے ڈرا۔ (حلیۃ الاولیاء، مستدرک الحاکم ابن النجار، بروایت عیاض بن سلیمان)
کلام : امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث منکر اور ناقابل اعتبار ہے۔ اس کا راوی عیاض کا کچھ علم نہیں وہ کون ہے ؟ جبکہ ابن النجار (رح) فرماتے ہیں کہ ابوموسی مدینی نے ان (عیاض راوی) کو صحابہ کرام میں شمار کیا ہے۔ امام حاکم نے اس کو روایت کیا ہے حافظ نے اس پر گرفت فرمائی ہے اور اس کو غلط قرار دیا ہے۔
بندوں کو اندر سے جانتے ہیں۔ زمین اور کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں۔ ان کی جانیں دنیا میں جبکہ دل آخرت میں اٹکے ہوتے ہیں۔ ان کو آگے کے سوا کوئی فکر نہیں۔ انھوں نے قبروں کے لیے سامان سفر تیار کرلیا ہے۔ آخرت کے سفر کے لیے پروانہ (ویزا) حاصل کرلیا ہے۔
خدا کے آگے کھڑے ہونے کے لیے مستعد ہوچکے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ذلک لمن خاف مقامی و خاف وعید۔
یہ انعام اس شخص کے لیے ہے جو میرے آگے کھڑا ہونے سے ڈرا اور میری سزا سے سے ڈرا۔ (حلیۃ الاولیاء، مستدرک الحاکم ابن النجار، بروایت عیاض بن سلیمان)
کلام : امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں یہ حدیث منکر اور ناقابل اعتبار ہے۔ اس کا راوی عیاض کا کچھ علم نہیں وہ کون ہے ؟ جبکہ ابن النجار (رح) فرماتے ہیں کہ ابوموسی مدینی نے ان (عیاض راوی) کو صحابہ کرام میں شمار کیا ہے۔ امام حاکم نے اس کو روایت کیا ہے حافظ نے اس پر گرفت فرمائی ہے اور اس کو غلط قرار دیا ہے۔
3000- "خيار أمتي فيما أنبأني الملأ الأعلى قوم يضحكون جهرا في سعة رحمة ربهم، ويبكون سرا من خوف عذاب ربهم، يذكرون ربهم بالغداة والعشي في البيوت الطيبة المساجد، ويدعونه بألسنتهم رغبا ورهبا ويسألونه بأيديهم خفضا ورفعا ويقبلون بقلوبهم عودا4 ومؤنتهم على الناس خفيفة، وعلى أنفسهم ثقيلة، يدبون في الأرض حفاة على أقدامهم كدبيب النمل5 بلا مرج ولا بذخ، يمشون بالسكينة، ويتقربون بالوسيلة، يقرأون القرآن، ويقربون القربان، ويلبسون الخلقان، عليهم من الله شهود حاضرة، وعين حافظة،يتوسمون العباد، ويتفكرون في البلاد، أرواحهم في الدنيا، وقلوبهم في الآخرة، ليس لهم هم إلا أمامهم، أعدوا الجهاز لقبورهم، والجواز لسبيلهم، والاستعداد لمقامهم، ثم تلا {ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ} . "حل ك وتعقب وابن النجار عن عياض بن سليمان1" وكانت له صحبة قال الذهبي هذا حديث عجيب منكر وعياض لا يدري من هو قال ابن النجار ذكره أبو موسى المديني في الصحابة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3001: مومن گواہی دیتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جانتا ہے کہ محمد اپنی قبر میں (بقید حیات وسالم جسم) ہیں اور یہ فرمان باری عزوجل کا مطلب ہے :
یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیاۃ الدنیا وفی الاخرۃ۔ ابراہیم :27 ۔
خدا مومنوں کے دلوں کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا۔ (صحیح ابن حبان بروایت براء (رض))
یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیاۃ الدنیا وفی الاخرۃ۔ ابراہیم :27 ۔
خدا مومنوں کے دلوں کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا۔ (صحیح ابن حبان بروایت براء (رض))
3001- "المؤمن إذا شهد أن لا إله إلا الله وعرف محمدا في قبره، فذلك قول الله: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} ". "حب عن البراء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3002: (وہ پانی) اس کے منہ کے قریب کیا جائے گا وہ اس سے کراہت کرے گا۔ جب وہ پانی اس کے منہ کے قریب ہوگا اس کا چہرہ جھلس جائے گا اور اس کے سر کی کھال گرجائے گی جب اس کو پیے گا تو اس کی آنتیں کٹ کٹ کر اس کے پاخانہ کے مقام سے نکل جائیں گی۔ (ترمذی، مستدرک الحاکم، بروایت ابی امامہ (رض) )
فائدہ : فرمان الہی ہے : ویبقی من ماء صدید : ابراہیم : 17
اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا (اور وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیے گا)
مذکورہ حدیث اسی آیت مبارکہ کی تفسیر ہے۔ (اعاذنا اللہ من ماء جہنم)
کلام : امام ترمذی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ وقال غریب۔
فائدہ : فرمان الہی ہے : ویبقی من ماء صدید : ابراہیم : 17
اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا (اور وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پیے گا)
مذکورہ حدیث اسی آیت مبارکہ کی تفسیر ہے۔ (اعاذنا اللہ من ماء جہنم)
کلام : امام ترمذی نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ وقال غریب۔
3002- "يقرب إلى فيه فيكرهه، فإذا دنا منه شوى وجهه ووقعت فروة رأسه، فإذا شربه قطع أمعاءه، حتى يخرج من دبره". "ت2 غريب ك عن أبي أمامة" في قوله تعالى: {وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ} قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3003: (ایک وقت) اہل جہنم کہیں گے : چلو ہم صبر کرتے ہیں۔ پھر وہ پانچ سو سال صبر کریں گے۔ لیکن جب دیکھیں گے کہ یہ صبر ان کے کسی کام کا نہیں تو پھر کہیں گے آؤ ہم چیخ و پکار کریں۔ چنانچہ وہ پانچ سو سال تک چیخ و پکار کرتے رہیں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ ان کا رونا دھونا کبھی انیں کچھ فائدہ نہیں دے رہا ہے تب وہ کہیں گے، فرمان الہی ہے :
سواء علینا اجزعنا ام صبرنا مالنا محیص : ابراہیم : 21)
اب ہم گھبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (چھٹکارے اور ) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے (الطبرانی فی الکبیر روایت کعب (رض) بن مالک)
سواء علینا اجزعنا ام صبرنا مالنا محیص : ابراہیم : 21)
اب ہم گھبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے۔ کوئی جگہ (چھٹکارے اور ) رہائی کی ہمارے لیے نہیں ہے (الطبرانی فی الکبیر روایت کعب (رض) بن مالک)
3003- "يقول أهل النار: هلموا فلنصبر فيصبرون خمسمائة عام، فلما رأوا ذلك لا ينفعهم، قالوا: هلموا فلنجزع، فيبكون خمسمائة عام،فلما رأوا ذلك لا ينفعهم قالوا {سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ} ". "طب عن كعب بن مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3004: سورة النحل۔ قیامت سے قبل مغرب کی طرف تم پر ایک سیاہ بادل چھا جائے گا جیسے تلوار کی ڈھال ہو۔ وہ آسمان کی طرف بلند ہوتا ہوا پھیلتا رہے گا حتی کہ سارے آسمان کو بھر دے گا۔ پھر ایک منادی نداء دے گا اے لوگو !
اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ۔ النحل :1
خدا کا حکم (عذاب) آپہنچا تو اس کے لیے جلدی مت کرو۔
پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے : دو شخص کپڑا پھیلائیں گے لیکن اس کو لپیٹ نہ پائیں گے۔ کوئی شخص اپنے حوض کی لیپائی کرے گا لیکن کبھی اس سے کچھ پی نہ سکے گا اور کوئی شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہے گا مگر کبھی بھی اس کو پی نہ سکے گا (کیونکہ اس سے پہلے ہی خدا کا عذاب ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت عقبہ (رض) بن عامر)
اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ۔ النحل :1
خدا کا حکم (عذاب) آپہنچا تو اس کے لیے جلدی مت کرو۔
پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے : دو شخص کپڑا پھیلائیں گے لیکن اس کو لپیٹ نہ پائیں گے۔ کوئی شخص اپنے حوض کی لیپائی کرے گا لیکن کبھی اس سے کچھ پی نہ سکے گا اور کوئی شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہے گا مگر کبھی بھی اس کو پی نہ سکے گا (کیونکہ اس سے پہلے ہی خدا کا عذاب ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت عقبہ (رض) بن عامر)
3004- "النحل" "يطلع عليكم قبل الساعة سحابة سوداء من المغرب مثل الترس، فما تزال ترتفع إلى السماء، وتنتشر حتى تملأ السماء، ثم ينادي مناد يا أيها الناس: {أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ} فو الذي نفسي بيده إن الرجلين لينشران الثوب فما يطويانه، وإن الرجل ليمدر1 حوضه فما يسقى منه شيئا أبدا، وإن الرجل ليحتلب ناقته فما يشربه أبدا". "طب عن عقبة بن عامر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3005: قیامت سے قبل تم پر مغرب کی جانب سے ایک سیاہ بادل ڈھال کی مانند آئے گا، وہ آسمان کی طرف بلند ہوتا جائے گا حتی کہ سارا آسمان اس بادل سے چھپ جائے گا۔ پھر ایک منادا نداء دے گا اے لوگو ! لوگ اس آواز کو سن کر متوجہ ہوں گے اور ایک دوسرے کو کہیں گے ہم نے یہ آواز سنی ؟ کوئی ہاں کرے گا اور کوئی شک کرے گا۔ وہی آواز پھر بلند ہوگی، اے لوگو ! تم نے سنا ؟ لوگ کہیں گے : ہاں ہاں۔ چنانچہ نداء آئے گی اے لوگو ! اتی امر اللہ فلا تستعجلوہ (النحل :1) اللہ کا حکم (عذاب) آپہنچا ہے پس جلدی نہ کرو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے دو شخصوں نے کپڑا کھولا ہوگا (جس طرح کپڑا فروش خریدار کو معائنہ کرانے کے لیے تھان کھولتے ہیں) پھر وہ لپیٹ نہ پائیں گے۔ ایک شخص نے اپنے حوض کا چونا کیا ہوگا لیکن وہ اس سے پانی پی نہ سکے گا اور ایک شخص نے اپنی اونٹنی کا دودھ نکالا ہوگا لیکن وہ پی نہ پائے گا اس طرح تمام لوگ اپنے اپنے روز مرہ کے کاموں مشغول ہوں گے (کہ حکم عذاب آجائے گا) ۔ (مستدرک الحاکم بروایت عقبہ (رض) بن عامر)
3005- "تطلع عليكم قبل الساعة سحابة سوداء من قبل المغرب مثل الترس فلا تزال ترتفع إلى السماء حتى تملأ السماء، ثم ينادي مناد: يا أيها الناس فيقبل الناس بعضهم على بعض، هل سمعتم؟ فمنهم من يقول نعم ومنهم من يشك، ثم ينادي الناس الثانية فيقول للناس: هل سمعتم؟ فيقولون نعم ثم ينادي يا أيها الناس {أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلا تَسْتَعْجِلُوهُ} فو الذي نفسي بيده إن الرجلين لينشران الثوب فما يطويانه وإن الرجل ليمدر حوضه فما يسقي منه شيئا وإن الرجل ليحلب ناقته فما يشربه ويشغل2 الناس". "ك عن عقبة بن عامر".
তাহকীক: