কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৩০০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3006: سورة الاسراء : اس (وقت پڑھے جانے والے قرآن) پر دن اور رات کے ملائکہ حاضر ہوتے ہیں۔ (ترمذی حسن صحیح بروایت ابوہریرہ (رض))
فائدہ : تہجد میں پڑھے جانے والے قرآن کی فضیلت مذکورہ حدیث صحیح میں بیان کی گئی ہے۔ فرمان الہی ہے :
ان قرآن الفجر کان مشہودا : الاسراء : 78 ۔
بےشک صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے۔
اس وقت رات کے فرشتے انسان کے اعمال نامہ دن کے فرشتوں کے حوالہ کرکے واپس جاتے ہیں۔ گویا اس مقرت وقت میں دن اور رات کے ملائکہ اکٹھے ہوجاتے ہیں اور تہجد میں قرآن سنتے ہیں۔ اسی وجہ سے منقولے کہ تہجد صالحین کا شعار ہے۔ ہر نیک انسان کو اسے اپنی زندگی کا جزو لازم پڑھا جانے والا بنانا چاہیے۔
فائدہ : تہجد میں پڑھے جانے والے قرآن کی فضیلت مذکورہ حدیث صحیح میں بیان کی گئی ہے۔ فرمان الہی ہے :
ان قرآن الفجر کان مشہودا : الاسراء : 78 ۔
بےشک صبح کے وقت قرآن کا پڑھنا موجب حضور (ملائکہ) ہے۔
اس وقت رات کے فرشتے انسان کے اعمال نامہ دن کے فرشتوں کے حوالہ کرکے واپس جاتے ہیں۔ گویا اس مقرت وقت میں دن اور رات کے ملائکہ اکٹھے ہوجاتے ہیں اور تہجد میں قرآن سنتے ہیں۔ اسی وجہ سے منقولے کہ تہجد صالحین کا شعار ہے۔ ہر نیک انسان کو اسے اپنی زندگی کا جزو لازم پڑھا جانے والا بنانا چاہیے۔
3006- "سبحان" "يشهده ملائكة الليل والنهار". "ت حسن صحيح عن أبي هريرة" في قوله تعالى: {إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوداً} .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3007: سورة الکہف : خضر (علیہ السلام) نے لڑکے کو دیکھا تو اس کا سر تھام کر اس کی گردن کو جھٹکا دیا اور اسے قتل کردیا اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا۔ فرمان الہی ہے :
اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس۔ سورة الکہف۔
(موسیٰ نے) کہا آپ نے ایک بےگناہ شخص کو (ناحق) بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (ابوداود بروایت ابی ذر (رض))
اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس۔ سورة الکہف۔
(موسیٰ نے) کہا آپ نے ایک بےگناہ شخص کو (ناحق) بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (ابوداود بروایت ابی ذر (رض))
3007- "الكهف" "أبصر الخضر غلاما فتناول رأسه فقلعه، فقال موسى: {أَقَتَلْتَ نَفْساً زَكِيَّةً} " الآية. "د عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3008: وہ لڑکا جس کو حضرت خضر (علیہ السلام) نے قتل کیا وہ کافر پیدا ہوا تھا اور اس کے والدین کو اس کی محبت دلوں میں جاگزیں ہوگئی تھی۔ (السنن لدار قطنی، بروایت ابن عباس (رض) عن ابی (رض))
3008- "الغلام الذي قتله الخضر طبع كافرا، وألقى على أبويه محبة منه". "ط عن ابن عباس عن أبي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3009: اللہ پاک موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائیں، اگر آپ جلدی نہ فرماتے تو (خضر) اس سے زیادہ قصے بیان فرماتے۔ (مستدرک الحاکم، بروایت ابن عباس (رض))
3009- "يرحم الله موسى: لو لم يعجل لقص من حديثه غير الذي قص". "ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3010: قیامت کے روز ایک انتہائی لمبے چوڑے، بہت زیادہ کھانے اور پینے والے شخص کو حاضر کیا جائے گا۔ لیکن وہ اللہ کے ہاں مچھر کے پر سے زیادہ وزن نہیں رکھے گا۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو :
فلا نقیم لہم یوم القیامۃ وزنا : الکہف : 105 ۔
پس ہم قیامت کے دن ن کے لیے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ (الکامل لابن عدی، شعب الایمان للبیہقی، بروایت ابوہریرہ (رض))
کلام : روایت ضعیف ہے کیونکہ ابن عدی کی کتاب الکامل ضعیف احادیث پر مشتمل ہے۔ نیز ذخیرۃ الحفاظ 4639 پر بھی اس روایت کا ضعف ملاحظہ فرمائیں۔ جبکہ شعب الایمان میں صحیح ضعیف وغیرہ ہر طرح کی روایات ہیں۔
فلا نقیم لہم یوم القیامۃ وزنا : الکہف : 105 ۔
پس ہم قیامت کے دن ن کے لیے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ (الکامل لابن عدی، شعب الایمان للبیہقی، بروایت ابوہریرہ (رض))
کلام : روایت ضعیف ہے کیونکہ ابن عدی کی کتاب الکامل ضعیف احادیث پر مشتمل ہے۔ نیز ذخیرۃ الحفاظ 4639 پر بھی اس روایت کا ضعف ملاحظہ فرمائیں۔ جبکہ شعب الایمان میں صحیح ضعیف وغیرہ ہر طرح کی روایات ہیں۔
3010- "ليؤتين يوم القيامة بالعظيم الطويل الأكول الشروب فلا يزن عند الله جناح بعوضة اقرأوا إن شئتم {فَلا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْناً} ". "عد هب1 عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت کے بہترین لوگ
3011: سورة مریم۔ بچوں نے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کو کہا آؤ کھیلیں کو دیں ! یحییٰ (علیہ السلام) نے (جو اس وقت تک بچے تھے) فرمایا کیا ہم کھیل کود کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ؟ آو ہم نماز پڑھنے چلتے ہیں۔ پس یہی فرمان خداوندی ہے :
واتیناہ الحکم صبیا : مریم : 12
اور ہم نے ان (یحییٰ (علیہ السلام)) کو لڑکپن میں ہی دانائی عطا کی تھی۔ (التاریخ للحاکم بروایت نہشل بن سعید عن الضحاک عن ابن عباس (رض))
واتیناہ الحکم صبیا : مریم : 12
اور ہم نے ان (یحییٰ (علیہ السلام)) کو لڑکپن میں ہی دانائی عطا کی تھی۔ (التاریخ للحاکم بروایت نہشل بن سعید عن الضحاک عن ابن عباس (رض))
3011- "مريم" "قال الغلمان ليحيى بن زكريا اذهب بنا نلعب فقال يحيى: أللعب خلقنا؟ اذهبوا نصل فهو قول الله تعالى {وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيّاً} ". "ك في تاريخه عن نهشل بن سعيد عن الضحاك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مومن کی قبر کی حالت :
3012: سورة طہ ۔ مومن کی قبر کے اندر ایک سبز باغ ہوتا ہے۔ جو ستر ہاتھ تک کشادہ کردیا جاتا ہے۔ اور چودہویں رات کے چاند کی مانند اس کے لیے قبر روشن کردی جاتی ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی۔ فان لہ معیشۃ ضنکا (طہ : 124) اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی۔ یہ عذاب قبر کے بارے میں ہے۔ قسم ہے میری جان کے مالک کی۔ اس پر ننانوے اژدھے ایسے مسلط کردیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اژد ہے کے نو سر ہوں گے۔ وہ اس پر دھنکارتے رہیں گے، ڈستے رہیں گے اور اس کو ہر بار بار گوشت آتا رہے گا (اور وہ اس کو کھاتے رہیں گے) الحکیم بروایت ابوہریرہ (رض)۔
کلام : یہ روایت حکیم ترمذی کی ہے جو انھوں نے نوادر الاصول میں بیان فرمائی ہے اور غیر مستند ہے۔
کلام : یہ روایت حکیم ترمذی کی ہے جو انھوں نے نوادر الاصول میں بیان فرمائی ہے اور غیر مستند ہے۔
3012- "طه" "إن المؤمن في قبره في روضة خضراء يرحب
له سبعون ذراعا، وينور له فيه كليلة البدر، أتدرون فيم أنزلت هذه الآية {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً} ، في عذاب القبر والذي نفسي بيده إنه ليسلط عليه تسعة وتسعون حية لكل حية منها تسعة رؤوس، ينفخن في جسمه ويلسعنه ويخدشنه، إلى يوم القيامة". "الحكيم عن أبي هريرة".
له سبعون ذراعا، وينور له فيه كليلة البدر، أتدرون فيم أنزلت هذه الآية {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكاً} ، في عذاب القبر والذي نفسي بيده إنه ليسلط عليه تسعة وتسعون حية لكل حية منها تسعة رؤوس، ينفخن في جسمه ويلسعنه ويخدشنه، إلى يوم القيامة". "الحكيم عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی تعداد میں کثرت
3013: سورة حج : کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے ؟ (روح المعانی میں ہے صحابہ کرام (رض) نے جوابا عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں) پھر فرمایا یہ دن وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو فرمائی گے : اے آدم (علیہ السلام) ! کھڑا ہو اور جہنم کا حصہ نکال۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے اے پروردگار ! جہنم کا حصہ کتنا ہے ؟ پروردگار فرمائیں گے : ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم کا حصہ ہیں اور ایک جنت کے لیے ہے۔
یہ بات مسلمانوں کو شاق گزری تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سیدھے سیدھے رہو، قریب قریب رہو اور مجھ سے خوشخبری سنو ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگوں میں ایسے ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں تل یا جانور کے ہاتھ میں معمولی گھاس۔ اور یقین کرو تمہارے ساتھ دو ایسی چیزیں پیدا کی گئی ہیں جو کسی کے ساتھ بھی ہوں اس کو کثیر تعداد کردیتی ہیں۔ یاجوج ماجوج اور جن و انس کے کفار۔ (اور نو سو ننانوے انہی میں سے ہوں گے اور ایک مسلمانوں میں سے ہوگا انشاء اللہ) عبد بن حمید، مستدرک الحاکم بروایت انس) ۔
فرمایا : جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی : یا ایہا الناس اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم۔ الحج : 1
اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو، بیشک قیامت کا جھٹکا عظیم شے ہے۔
تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ بالا ارشاد صادر فرمایا۔ (مسند احمد، السنن الترمذی حسن صحیح، الطبرانی فی الکبیر، مستدرک الحاکم، بروایت عمران بن حصین مستدرک ابن عباس (رض))
یہ بات مسلمانوں کو شاق گزری تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سیدھے سیدھے رہو، قریب قریب رہو اور مجھ سے خوشخبری سنو ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگوں میں ایسے ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں تل یا جانور کے ہاتھ میں معمولی گھاس۔ اور یقین کرو تمہارے ساتھ دو ایسی چیزیں پیدا کی گئی ہیں جو کسی کے ساتھ بھی ہوں اس کو کثیر تعداد کردیتی ہیں۔ یاجوج ماجوج اور جن و انس کے کفار۔ (اور نو سو ننانوے انہی میں سے ہوں گے اور ایک مسلمانوں میں سے ہوگا انشاء اللہ) عبد بن حمید، مستدرک الحاکم بروایت انس) ۔
فرمایا : جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی : یا ایہا الناس اتقوا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم۔ الحج : 1
اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو، بیشک قیامت کا جھٹکا عظیم شے ہے۔
تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ بالا ارشاد صادر فرمایا۔ (مسند احمد، السنن الترمذی حسن صحیح، الطبرانی فی الکبیر، مستدرک الحاکم، بروایت عمران بن حصین مستدرک ابن عباس (رض))
3013- "الحج" "أتدرون أي يوم هذا1 يوم يقول الله عز وجل لآدم: يا آدم قم فابعث بعث النار، فيقول: يا رب وما بعث النار؟ قال من كل ألف تسع مائة وتسعة وتسعون إلى النار وواحد إلى الجنة، فكبر ذلك على المسلمين، فقال: سددوا وقاربوا وأبشروا، فو الذي نفسي بيده ما أنتم في الناس إلا كالشامة في جنب البعير، أو كالرقمة في ذراع الدابة، وإن معكم لخليقتين ما كانتا مع شيء. قط2 إلا كثرتاه، ياجوج وماجوج ومن هلك من كفرة الإنس والجن". "عبد بن حميد ك عن أنس" قال لما نزلت: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} قال فذكره "حم ت حسن صحيح" "طب ك عن عمران بن حصين ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی تعداد میں کثرت
3014: اللہ عزوجل قیامت کے دن ایک منادی کو کھڑا فرمائیں گے جو نداء دے گا : اے آدم ! اللہ پاک آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی اولاد میں سے جہنم کے لیے حصہ نکالیے۔ آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے : اے پروردگار ! کتنے میں سے کتنا ؟ کہا جائے گا : ہر سو میں سے ننانوے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جانتے ہو لوگوں میں تمہاری کیا نسبت ہے ؟ تم لوگوں میں (تعداد کے اندر یوں ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں تل۔ (مسند احمد بروایت ابن مسعود رضی الہ عنہ)
امت محمدیہ کی کثرت
فائدہ : دوسری روایات میں آیا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں میں سب سے زیادہ تعداد والی ہے، جب یہ قیامت کے روز سامنے آئے گی تو افق کو بھر دے گی۔ جبکہ مذکورہ حدیث میں قلت کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے کہا گیا ہے کہ یہ سب دوسری قوموں کی نسبت اونٹ کے جسم میں تل کے برابر ہیں۔ دوسرے تمام کفار اور یاجوج ماجوج اور جن کفار یہ سب اس قدر تعداد میں ہوں گے جیسے تل کے مقابلے میں پورا جسم۔ پھر تمام مسلمانوں میں امت محمدیہ کے مسلمان اسی قدر زیادہ ہیں جیسے ایک تل کے مقابلہ میں پورا جسم۔ دیگر تمام انبیاء کے مسلمان امتی تل کی مانند ہیں اور امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتمی پورے جسم کے مانند ہیں۔ الحمد للہ علی ذلک۔
امت محمدیہ کی کثرت
فائدہ : دوسری روایات میں آیا ہے کہ امت محمدیہ تمام امتوں میں سب سے زیادہ تعداد والی ہے، جب یہ قیامت کے روز سامنے آئے گی تو افق کو بھر دے گی۔ جبکہ مذکورہ حدیث میں قلت کی طرف اشارہ ہے۔ دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے کہا گیا ہے کہ یہ سب دوسری قوموں کی نسبت اونٹ کے جسم میں تل کے برابر ہیں۔ دوسرے تمام کفار اور یاجوج ماجوج اور جن کفار یہ سب اس قدر تعداد میں ہوں گے جیسے تل کے مقابلے میں پورا جسم۔ پھر تمام مسلمانوں میں امت محمدیہ کے مسلمان اسی قدر زیادہ ہیں جیسے ایک تل کے مقابلہ میں پورا جسم۔ دیگر تمام انبیاء کے مسلمان امتی تل کی مانند ہیں اور امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتمی پورے جسم کے مانند ہیں۔ الحمد للہ علی ذلک۔
3014- "إن الله عز وجل يبعث يوم القيامة مناديا: يا آدم إن الله يأمرك أن تبعث بعثا من ذريتك إلى النار، فيقول آدم: يا رب ومن كم؟ فيقال له: من كل مائة تسعة وتسعون، هل تدرون ما أنتم في الناس؟ "ما أنتم في الناس –1" إلا كالشامة في جنب البعير". "حم عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی تعداد میں کثرت
3015: قیامت کے روز اللہ عزوجل آدم (علیہ السلام) کو فرمائیں گے، کھڑے ہو اور اپنی اولاد میں سے (ہر ہزار میں سے) نو سو ننانوے جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے نکال دے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری امت دیگر امتوں میں کالے بیل کے جسم میں سفید بال کی مانند ہے۔ مسند احمد بروایت ابو الدرداء (رض) ۔
3015- "إن الله تعالى يقول يوم القيامة لآدم: قم فجهز من ذريتك تسع مائة وتسعة وتسعين إلى النار، وواحدا إلى الجنة، والذي نفسي بيده ما أمتي في الأمم إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود". "حم عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی تعداد میں کثرت
3016: اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز فرمائیں گے : اے آدم ! اٹھ اور اپنی اولاد میں سے (ہزار میں سے) نوسوننانے جہنم کے لیے اور ایک جنت کے لیے نکال۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد کو سن کر صحابہ کرام (رض) بہت رنجیدہ خاطر ہوئے اور رونے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے سر اٹھاؤ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میری امت دیگر امتوں کے مقابلہ میں یوں ہے جیسے سیاہ بیل کے جسم میں سفید بال۔ الطبرانی فی الکبیر بروایت ابو الدرداء (رض) ۔
فائدہ : ان دونوں حدیثوں میں امت محمدیہ کی نسبت سفید بال کی بتائی گئی ہے۔ یہاں تمام اقوام کے تمام لوگوں جن و انس اور یاجوج ماجوج کے مقابلہ میں یہ نسبت ملحوظ ہے۔ اس سے سابقہ تشریح مزید واضح ہوجاتی ہے۔
فائدہ : ان دونوں حدیثوں میں امت محمدیہ کی نسبت سفید بال کی بتائی گئی ہے۔ یہاں تمام اقوام کے تمام لوگوں جن و انس اور یاجوج ماجوج کے مقابلہ میں یہ نسبت ملحوظ ہے۔ اس سے سابقہ تشریح مزید واضح ہوجاتی ہے۔
3016- " يقول الله تبارك وتعالى يوم القيامة: "يا آدم قم فجهز من ذريتك تسعمائة وتسعة وتسعين إلى النار، وواحدا إلى الجنة، فكبا2 أصحابه وبكوا فقال ارفعوا رؤسكم، فو الذي نفسي بيده ما أمتى في الأمم إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود". "طب عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی تعداد میں کثرت
3017: ہاں اور جو شخص ان مقامات پر سجدہ نہ کرے تو وہ ان کی تلاوت بھی نہ کرے۔ ابو داؤد بروایت عقبہ (رض) بن عامر۔
فائدہ : حضرت عقبہ (رض) نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا سورة حج میں دو سجدے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ باالا ارشاد صادر فرمایا۔
فائدہ : حضرت عقبہ (رض) نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا سورة حج میں دو سجدے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ باالا ارشاد صادر فرمایا۔
3017- "نعم ومن لم يسجدهما فلا يقرأهما". "د عن عقبة بن عامر" أنه قال: يا رسول الله في سورة الحج سجدتان قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابلیس کو سب سے پہلے آگ کا لباس پہنایا جائے گا :
3018: سورة الفرقان۔ سب سے پہلے جس شخص کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا وہ ابلیس ہے۔ اس کے کاندھے پر وہ لباس ڈال دیا جائے گا اور وہ اس کو اپنے پیچھے پیچھے کھینچتا چلا جائے گا اور اس کے پیروکار اس کے پیچھے پیچھے ہوں گے۔ ابلیس یہ نداء دیتا ہوگا ہائے ہلاکت و بربادی ! اس کے پیروکار بھی یہی پکارتے ہوں گے۔ ہائے ہلاکت و بربادی ! حتی کہ شیطان ابلیس جہنم کے کنارے جا کھڑا ہوگا اور وہ اس کے پیروکار اپنی تباہی و بربادی کو کوس رہے ہوں گے۔ تب ان کو کہا جائے گا۔
لا تدعوا الیوم ثبورا واحد وادعوا ثبورا کثیرا۔ الفرقان۔ 14 ۔
آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکاروا ۔ مسند احمد ، مصنف ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید بروایت انس (رض)
کلام : روایت محل کلام ہے ، دیکھئے الضعیفہ 1143
لا تدعوا الیوم ثبورا واحد وادعوا ثبورا کثیرا۔ الفرقان۔ 14 ۔
آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکاروا ۔ مسند احمد ، مصنف ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید بروایت انس (رض)
کلام : روایت محل کلام ہے ، دیکھئے الضعیفہ 1143
3018- "الفرقان" "أول من يكسي حلة من النار إبليس فيضعها على حاجبيه ويسحبها من خلفه، وذريته من بعده، وهو ينادي: يا ثبوراه وينادون: يا ثبورهم حتى يقف على النار فيقول: يا ثبوراه ويقولون: يا ثبورهم فيقال لهم: {لا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوراً وَاحِداً وَادْعُوا ثُبُوراً كَثِيراً} ". "حم ش وعبد بن حميد عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابلیس کو سب سے پہلے آگ کا لباس پہنایا جائے گا :
3019: القرن، قرن چالیس سال کا عرصہ کہلاتا ہے ، ابن جریر بروایت ابن سیرین (رح) مرسلا
فائدہ : فرمان الٰہی ہے
اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان بہت سے زمانے والوں کو ہلاک کیا۔
آیت بالا میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے بہت سے زمانے والوں کو ہلاک کیا۔ اس کے لیے لفظ قرون استعمال کیا جو قرن کی جمع ہے اور قرن کے بارے میں حدیث بالا میں وضاحت کی گئی ہے کہ قرن چالیس سال کا عرصہ ہوتا ہے۔
فائدہ : فرمان الٰہی ہے
اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان بہت سے زمانے والوں کو ہلاک کیا۔
آیت بالا میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے بہت سے زمانے والوں کو ہلاک کیا۔ اس کے لیے لفظ قرون استعمال کیا جو قرن کی جمع ہے اور قرن کے بارے میں حدیث بالا میں وضاحت کی گئی ہے کہ قرن چالیس سال کا عرصہ ہوتا ہے۔
3019- "القرن أربعون سنة". "ابن جرير عن ابن سيرين" 1مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابلیس کو سب سے پہلے آگ کا لباس پہنایا جائے گا :
3020: سورة القصص۔ اللہ عزوجل نے توراۃ کے زمین پر نازل کرنے کے بعد آسمانی عذاب کے ساتھ کس قسم، اہل زمانہ، امت اور کسی بستی والوں کو ہلاک نہیں کیا۔ سوائے اس ایک بستی کے جس کے اہل کو اللہ عزوجل نے بندروں کی شکل کردی تھی۔ کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں پڑھا :
ولقد اتینا موسیٰ الکتاب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی : القصص : 43 ۔
اور ہم نے پہلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی۔ (نسائی، ابن المنذر، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ بروایت ابی سعید (رض))
ولقد اتینا موسیٰ الکتاب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی : القصص : 43 ۔
اور ہم نے پہلی امتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی۔ (نسائی، ابن المنذر، مستدرک الحاکم، ابن مردویہ بروایت ابی سعید (رض))
3020- "القصص" "ما أهلك الله عز وجل قوما ولا قرنا ولا أمة ولا أهل قرية بعذاب من السماء منذ أنزل التوراة على وجه الأرض، غير القرية التي مسخت قردة، ألم تر إلى قوله تعالى {وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُونَ الْأُولَى} ". "ن –2" وابن المنذر ك وابن مردويه عن أبي سعيد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابلیس کو سب سے پہلے آگ کا لباس پہنایا جائے گا :
3021: اگر تم سے سوال کیا جائے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کون سی مدت پوری کی تھی ؟ تو کہو دونوں میں سے بہتر اور کامل اور اگر سوال کیا جائے کہ موسیٰ نے دونوں بہنوں میں کس سے شادی کی تھی ؟ تو کہو چھوٹی سے، جو موسیٰ کو بلانے آئی تھی اور اسی نے اپنے والد (شعیب (علیہ السلام)) کو کہا تھا : اے اباجان اس کو مزدوری پر رکھ لیجیے۔ الرویانی بروایت ابو ذر (رض) ۔
نوٹ : سورة القصص آیت 22 تا 28 پر اس واقعہ کی مکمل تفصیلات ملاحظہ فرمائیں۔
نوٹ : سورة القصص آیت 22 تا 28 پر اس واقعہ کی مکمل تفصیلات ملاحظہ فرمائیں۔
3021- "إن سئلت أي الأجلين قضى موسى؟ فقل خيرهما وأوفرهما، وإن سئلت أي الامرأتين تزوج؟ فقل الصغرى منهما التي
جاءت1 وقالت: يا أبت استأجره". "الروياني عن أبي ذر".
جاءت1 وقالت: يا أبت استأجره". "الروياني عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابلیس کو سب سے پہلے آگ کا لباس پہنایا جائے گا :
3022: اگر اس دن فرعون کہہ دیتا یہ بچہ (موسیٰ) میری بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے جس طرح تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ جیسا کہ اس کی بیوی (آسیہ) نے کہا تھا تو اللہ پاک ضرور اس کو بھی ہدایت سے نواز دیتے جیسے اس کی بیوی کو نوازا تھا۔ لیکن جو اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے ہی ہدایت سے محروم کردیا گیا تھا اللہ نے اسے محروم ہی رکھا۔ فی المبتداء الاسحاق بن بشر، ابن عساکر بروایت ابن عباس (رض)۔
فائدہ : فرمان عزوجل ہے :
وقالت امرات فرعون قرۃ عین لی ولک۔ القصص : 9
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ بچہ) میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
اس کے جواب میں فرعون نے کا تھا کہ تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا میرے لیے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ہے۔ کیونکہ یہ پیغمبر کی بےادبی تھی۔ بےادب محروم ماند از فضل رب۔
اس وجہ سے اللہ نے اس کی گستاخی کی بدولت اس کو ہدایت سے محروم کردیا۔ اللہ پاک ہمیں انبیاء و اولیاء کی بےادبی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
فائدہ : فرمان عزوجل ہے :
وقالت امرات فرعون قرۃ عین لی ولک۔ القصص : 9
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ بچہ) میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
اس کے جواب میں فرعون نے کا تھا کہ تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا میرے لیے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں ہے۔ کیونکہ یہ پیغمبر کی بےادبی تھی۔ بےادب محروم ماند از فضل رب۔
اس وجہ سے اللہ نے اس کی گستاخی کی بدولت اس کو ہدایت سے محروم کردیا۔ اللہ پاک ہمیں انبیاء و اولیاء کی بےادبی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
3022- "لو قال فرعون يومئذ هو قرة عين لي كما هو لك مثل ما قالت امرأته لهداه الله، كما هداها، ولكن أحب الله أن يحرمه للذي سبق في علم الله". "إسحاق بن بشر في المبتدأ وابن عساكر عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابلیس کو سب سے پہلے آگ کا لباس پہنایا جائے گا :
3023: سورة لقمان۔ کیا تم جانتے ہو تمام نعمت کیا ہے ؟ تمام نعمت (نعمت کی انتہاء) جنت کا داخلہ اور جہنم سے نجات ہے۔ (الطبرانی فی الکبیر بروایت معاذ (رض))
نوٹ : حدیث 2920 پر یہ روایت گزر چکی ہے تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
نوٹ : حدیث 2920 پر یہ روایت گزر چکی ہے تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
3023- "لقمان" "أتدري ما تمام النعمة؟ تمام النعمة دخول الجنة، والنجاة من النار". "طب عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار سے گناہ مٹ جاتا ہے۔
3024: ابن عباس (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : فرمان الہی : واسبغ علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ (لقمان : 20) اور اللہ نے تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں۔ کا کیا مطلب ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب ارشاد فرمایا :
ظاہری نعمتیں تو اسلام اور تمہارا اچھا اخلاق اور خدا کا تمہیں دیا ہوا رزق ہے۔ جبکہ باطنی نعمتیں اے عباس کے فرزند ! وہ ہیں کہ پروردگار نے تمہارے عیوب لوگوں سے پردہ میں رکھے۔ نیز یہ کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : میں نے مومن کی وفات کے بعد اس کے مال کا ایک تہائی حصہ اس کے لیے چھوڑ دیا ہے (کہ وہ چاہے تو اس کو راہ خدا میں وصیت کرجائے) جس کے بدلے میں اس کے گناہوں کو بخش دوں گا۔ نیز پروردگار فرماتے ہیں : میں مومن مردوں اور عورتوں کو اس کے لیے استغفار میں لگا دیتا ہوں اور اس کے ایسے ایسے گناہ چھپا لیتا ہوں کہ اگر اس کے گھر والوں کو بھی اس کا علم ہوجائے تو وہ اس کو چھوڑ دیں (یہ خدا کی باطنی نعمتیں ہیں) (ابن مردویہ، شعب الایمان للبیہقی، الدیلمی، ابن النجار بروایت ابن عباس (رض))
ظاہری نعمتیں تو اسلام اور تمہارا اچھا اخلاق اور خدا کا تمہیں دیا ہوا رزق ہے۔ جبکہ باطنی نعمتیں اے عباس کے فرزند ! وہ ہیں کہ پروردگار نے تمہارے عیوب لوگوں سے پردہ میں رکھے۔ نیز یہ کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : میں نے مومن کی وفات کے بعد اس کے مال کا ایک تہائی حصہ اس کے لیے چھوڑ دیا ہے (کہ وہ چاہے تو اس کو راہ خدا میں وصیت کرجائے) جس کے بدلے میں اس کے گناہوں کو بخش دوں گا۔ نیز پروردگار فرماتے ہیں : میں مومن مردوں اور عورتوں کو اس کے لیے استغفار میں لگا دیتا ہوں اور اس کے ایسے ایسے گناہ چھپا لیتا ہوں کہ اگر اس کے گھر والوں کو بھی اس کا علم ہوجائے تو وہ اس کو چھوڑ دیں (یہ خدا کی باطنی نعمتیں ہیں) (ابن مردویہ، شعب الایمان للبیہقی، الدیلمی، ابن النجار بروایت ابن عباس (رض))
3024- "أما الظاهرة فالإسلام وما حسن من خلقك، وما أسبغ عليك من الرزق، وأما الباطنة يا ابن عباس، فما ستر عليك من عيوبك، إن الله عز وجل يقول: إني جعلت للمؤمن ثلث ماله بعد وفاته، أكفر بها خطاياه بعد موته، وجعلت المؤمنين والمؤمنات يستغفرون له، وسترت عليه عيوبه التي لو علم بها أهله دون عبادي لنبذوه". "ابن مردويه "هب-2" والديلمي وابن النجار عن ابن عباس" أنه قال: يا رسول الله قول الله {وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً} . "قال فذكره –3".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استغفار سے گناہ مٹ جاتا ہے۔
3025: (جبرئیل (علیہ السلام) انسانی شکل میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اس دیگر صحابہ کرام بھی خدمت میں موجود تھے انہی کی تعلیم کے لیے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یا رسول اللہ ! مجھے قیامت کا بتائیے کب آئے گی ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذیل کا فرمان ارشاد فرمایا :
سبحان اللہ ! یہ غیب کی پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا : ان اللہ عندہ علم الساعۃ، وینزل الغیث، ویعلم ما فی الارحام، وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا و ما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم۔ خبیر۔ لقمان : آخری آیت۔
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے۔
مذکورہ آیت تلاوت فرما کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تم کو قیامت کی علامات بتا دیتا ہوں نہ کہ حتمی وقت۔ وہ یہ کہ تو باندی کو دیکھے گا کہ وہ اپنے آقا کو جنے گی۔ (یعنی اولاد ماں پر یوں حکم چلائے گی گویا وہ ان کی باندی ہے نہ کہ ماں) اور تم بکریوں کے چرواہوں کو دیکھوگے کہ وہ بلند وبالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔ اور تم ننگوں اور بھوکوں کو لوگوں کا سردار بنتے دیکھوگے۔ پس یہ قیامت کی علامات اور اس کی نشانیاں ہیں۔ (مسند احمد، مسند البزار بروایت ابن عباس (رض)، مسند احمد بروایت ابی عامر (رض) وابی مالک (رض) ، ابن عساکر بروایت ابن تمیم (رض) ۔
سبحان اللہ ! یہ غیب کی پانچ چیزوں میں سے ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا : ان اللہ عندہ علم الساعۃ، وینزل الغیث، ویعلم ما فی الارحام، وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا و ما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم۔ خبیر۔ لقمان : آخری آیت۔
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے۔
مذکورہ آیت تلاوت فرما کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) کو فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تم کو قیامت کی علامات بتا دیتا ہوں نہ کہ حتمی وقت۔ وہ یہ کہ تو باندی کو دیکھے گا کہ وہ اپنے آقا کو جنے گی۔ (یعنی اولاد ماں پر یوں حکم چلائے گی گویا وہ ان کی باندی ہے نہ کہ ماں) اور تم بکریوں کے چرواہوں کو دیکھوگے کہ وہ بلند وبالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔ اور تم ننگوں اور بھوکوں کو لوگوں کا سردار بنتے دیکھوگے۔ پس یہ قیامت کی علامات اور اس کی نشانیاں ہیں۔ (مسند احمد، مسند البزار بروایت ابن عباس (رض)، مسند احمد بروایت ابی عامر (رض) وابی مالک (رض) ، ابن عساکر بروایت ابن تمیم (رض) ۔
3025- "سبحان الله، خمس من الغيب لا يعلمهن إلا الله {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} ولكن إن شئت حدثتك بمعالم لها دون ذلك إذا رأيت الأمة ولدت ربتها، ورأيت أصحاب الشاء يتطاولون بالبنيان ورأيت الحفاة الجياع العالة كانوا رؤس الناس، فذلك من معالم الساعة ومن أشراطها". "حم بز عن ابن عباس" "إن جبريل قال يا رسول الله: حدثني متى الساعة؟ قال فذكره" "حم عن أبي عامر وأبي مالك" "ابن عساكر عن ابن تميم".
তাহকীক: