কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি
হাদীস নং: ৩৫৯২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔۔۔ ازا الاکمال
3592: جس نے صبح کے وقت لا الہ الا اللہ کہا پھر شام کے وقت بھی کہا تو ایک منادی آسمان سے نداء دے گا : آخری کلمہ کو پہلے کے ساتھ ملاؤ اور دونوں کے درمیان جو بھی (گناہ وغیرہ) ہے اس کو چھوڑ دو ۔ الدیلمی عن جابر (رض)۔
3592- "من قال: لا إله إلا الله صباحا، ثم قالها مساء نادى مناد من السماء ألا أقرنوا الآخرة بالأولى، ثم ألقوا ما بينهما". "الديلمي عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔۔۔ ازا الاکمال
3593: جس نے صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے :
اعوذ بکلمات اللہ التامات التی لایجاوزھن بر ولا فاجر، من شر ماخلق و برا و ذرا۔
میں اللہ کے تمام کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جن سے نہ کوئی نیک تجاوز کرسکتا ہے اور نہ فاجر۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اللہ نے پیدا کی اور ظاہر کی۔
ان کلمات کی بدولت وہ شخص جن و انس سب کے شر سے محفوظ رہے گا اور اگر کوئی شی اس کو ڈس لے تو اس کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ تکلیف ہوگی حتی کہ شام ہو۔ اور اگر شام کے وقت یہ کلمات کہے تو صبح تک یہی فضیلت حاصل ہوگی۔ ابو الشیخ عن عبدالرحمن بن عوف۔
اعوذ بکلمات اللہ التامات التی لایجاوزھن بر ولا فاجر، من شر ماخلق و برا و ذرا۔
میں اللہ کے تمام کلمات کے ساتھ اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جن سے نہ کوئی نیک تجاوز کرسکتا ہے اور نہ فاجر۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اللہ نے پیدا کی اور ظاہر کی۔
ان کلمات کی بدولت وہ شخص جن و انس سب کے شر سے محفوظ رہے گا اور اگر کوئی شی اس کو ڈس لے تو اس کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ تکلیف ہوگی حتی کہ شام ہو۔ اور اگر شام کے وقت یہ کلمات کہے تو صبح تک یہی فضیلت حاصل ہوگی۔ ابو الشیخ عن عبدالرحمن بن عوف۔
3593- "من قال حين يصبح: أعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر، من شر ما خلق وبرأ وذرأ، إلا عصم من شر الثقلين، الجن والإنس، وإن لدغ لم يضره شيء حتى يمسي وإن قالها حين يمسي كان كذلك حتى يصبح". "أبو الشيخ عن عبد الرحمن بن عوف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔۔۔ ازا الاکمال
3594: جس شخص نے سبحان اللہ وبحمدہ سو بار پڑھا طلوع شمس سے قبل اور پھر غروب شمس سے قبل تو یہ اس کے لیے سو اونٹ قربان کرنے سے افضل ہوگا۔ (الدیلمی عن ابن عمرو) ۔
3594- "من قال: سبحان الله وبحمده، مائة مرة، قبل طلوع الشمس، ومائة قبل غروبها، كان أفضل من مائة بدنة". "الديلمي عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔۔۔ ازا الاکمال
3595: جس شخص نے صبح کے وقت پھر شام کے وقت تین تین مرتبہ یہ کلمات پڑھے : رضیت باللہ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد نبیا۔ تو اللہ پر قیامت کے دن اس کا یہ حق ہوگا کہ اس کو راضی کرے۔ (عبدالرزاق، مسند احمد، ابو داود، نسائی، ابن ماجہ، ابن سعد، الرویانی، البغوی، مستدرک الحاکم (ق) البیہقی فی حل عن ابی سلام عن رجل خادم لل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن قانع عن ابی سئلان عن سابق خادم لل نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔
کلام : ضعیف الجامع 5734
کلام : ضعیف الجامع 5734
3595- "من قال حين يصبح وحين يمسي ثلاث مرات: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبمحمد نبيا، كان حقا على الله أن يرضيه يوم القيامة". "عب حم د ن هـ وابن سعد والروياني والبغوي ك ق في حل
عن أبي سلام عن رجل خدم النبي صلى الله عليه وسلم" "ابن قانع عن أبي سلام عن سابق خادم صلى الله عليه وسلم"
عن أبي سلام عن رجل خدم النبي صلى الله عليه وسلم" "ابن قانع عن أبي سلام عن سابق خادم صلى الله عليه وسلم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔۔۔ ازا الاکمال
3596: جس شخص نے صبح و شام کے وقت یہ کہا :
اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک و انا علی عہدک ووعدک ما استطعت فاغفر لی انہ لا یغفر الذنوب الا انت۔
پس اگر وہ اسی دن یا اسی رات مرگیا تو اس کی مغفرت ہوجائے گی۔ اور وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ابن سعد عن شداد بن اوس۔
اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک و انا علی عہدک ووعدک ما استطعت فاغفر لی انہ لا یغفر الذنوب الا انت۔
پس اگر وہ اسی دن یا اسی رات مرگیا تو اس کی مغفرت ہوجائے گی۔ اور وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ابن سعد عن شداد بن اوس۔
3596- "من قال حين يصبح وحين يمسي: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، فإن مات من يومه أو ليلته غفر له، أو دخل الجنة". "ابن سعد عن شداد بن أوس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صبح و شام کی دعائیں۔۔۔ ازا الاکمال
3597: جس شخص نے صبح کے وقت تین مرتبہ یہ کلمہ پڑھا : اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم۔ پھر سورة الحشر کی آخری تین آیات پڑھیں تو اللہ پاک ستر ہزار فرشتے اس پر مقرر فرمائیں گے کہ وہ اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہیں حتی کہ شام ہو۔ نیز اگر وہ اسی دن مرا تو شہید مرے گا۔ اور جس نے یہ وظیفہ شام کے وقت پڑھا تو یہی ثواب ہوگا۔ (مسند احمد، ترمذی حسن غریب، الکبیر للطبرانی، ابن السنی، شعب الایمان للبیہقی عن معقول بن یسار)
کلام : روایت قدرے ضعیف ہے امام ترمذی اس کو حسن غریب بتاتے ہیں جبکہ ذیل کی کتب میں اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ (ضعیف الجامع 5732 ۔ ضعیف الترمذی 560)
کلام : روایت قدرے ضعیف ہے امام ترمذی اس کو حسن غریب بتاتے ہیں جبکہ ذیل کی کتب میں اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ (ضعیف الجامع 5732 ۔ ضعیف الترمذی 560)
3597- "من قال حين يصبح ثلاث مرات: أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم، وقرأ ثلاث آيات من آخر سورة الحشر، وكل الله به سبعين ألف ملك، يصلون عليه حتى يمسي، وإن مات في ذلك اليوم مات شهيدا، ومن قالها حين يمسي كان كذلك بتلك المنزلة" "حم ت حسن غريب، طب وابن السني، هب عن معقل بن يسار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3598: جس نے صبح کے وقت کہا :
اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وانا علی عہدک ووعدک ما استطعت، اعوذبک من شر ما صنعت، ابوء لک بنعمتک علی وابوء بذ نبی فاغفرلی، فانہ لایغفر الذنوب الا انت۔
اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں جس قدر مجھ سے ہوسکے۔ پروردگار ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کیے کے شر سے میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے یقیناً تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔
پھر اگر وہ اسی دن مرگیا تو شہید مرے گا اور رات کو کہا اور اسی رات مرگیا شہید مرے گا۔ (مسند ابی یعلی، ابن السنی، عن سلیمان بن بریدہ عن ابیہ)
اللہم انت ربی لا الہ الا انت خلقتنی وانا عبدک وانا علی عہدک ووعدک ما استطعت، اعوذبک من شر ما صنعت، ابوء لک بنعمتک علی وابوء بذ نبی فاغفرلی، فانہ لایغفر الذنوب الا انت۔
اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدہ پر قائم ہوں جس قدر مجھ سے ہوسکے۔ پروردگار ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کیے کے شر سے میں اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے یقیناً تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔
پھر اگر وہ اسی دن مرگیا تو شہید مرے گا اور رات کو کہا اور اسی رات مرگیا شہید مرے گا۔ (مسند ابی یعلی، ابن السنی، عن سلیمان بن بریدہ عن ابیہ)
3598- "من قال إذا أصبح: اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أعوذ بك من شر ما صنعت، أبوء لك بنعمتك علي وأبوء بذنبي فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، فإن قالها نهارا، فمات من يومه ذلك مات شهيدا، وإن قالها ليلا فمات من ليلته تلك مات شهيدا". "ع وابن السني عن سليمان بن بريدة عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3599: جس نے صبح اور شام دونوں وقت چار چار مرتبہ یہ دعا پڑھی اور (اسی دن یا رات) مرگیا تو جنت میں داخل ہوگا :
اللہم انی اہشدک وملائکتک وحملۃ عرشک و جمیع خلقک ، انک انت اللہ لا الہ الا انت وحدہ لا شریک لک و ان محمدا عبدک ورسولک۔
اے اللہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں، تیرے ملائکہ کو گواہ بناتا ہوں، تیرے حاملین عرش کو گواہ بناتا ہوں، تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ بیشک تو اللہ ہے تیرے سوال کوئی معبود نہیں تو تنہا ہے، تیرے ساتھ کوئی شریک نہیں، نیز میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ابن عساکر عن انس (رض)۔
اللہم انی اہشدک وملائکتک وحملۃ عرشک و جمیع خلقک ، انک انت اللہ لا الہ الا انت وحدہ لا شریک لک و ان محمدا عبدک ورسولک۔
اے اللہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں، تیرے ملائکہ کو گواہ بناتا ہوں، تیرے حاملین عرش کو گواہ بناتا ہوں، تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ بیشک تو اللہ ہے تیرے سوال کوئی معبود نہیں تو تنہا ہے، تیرے ساتھ کوئی شریک نہیں، نیز میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ابن عساکر عن انس (رض)۔
3599- "من قال حين يصبح وحين يمسي أربع مرات: اللهم إني أشهدك وملائكتك وحملة عرشك وجميع خلقك، أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك، وأن محمدا عبدك ورسولك، أربعا غدوة وأربعا عشية، ثم مات دخل الجنة". "ابن عساكر عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3600: جس نے صبح کے وقت تین مرتبہ کہا : اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق تو شام تک اس کو بچھو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور جس نے شام کے وقت تین مرتبہ کہا تو صبح تک اس کو بچھو کوئی نقصان نہیں سکتا۔ (الکامل لابن عدی، الا بانہ لابی نصر السجزی) عن ابی ہر ہرہ (رض) ۔
3600- "من قال حين يصبح: أعوذ بكلمات الله التامات منشر ما خلق، ثلاث مرات لم تضره عقرب حتى يمسي، ومن قالها حتى يمسي لم تضره حتى يصبح". "عد وأبو نصر السجزي في الابانة عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3601: جس نے صبح کے وقت یہ پڑھا : ماشاء اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ اشھد ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ تو اس کو اس دن کی بھلائی دی جائے گی اور اس دن کے شر سے محفوظ رکھا جائے۔ اور جس نے وقت پڑھا اس کو اس رات کی بھلائی ملے گی اور اس رات کا شر اس سے دفع کردیا جائے گا۔ ابن السنی عن ابوہریرہ (رض)۔
3601- "من قال حين يصبح: ما شاء الله لا حول ولا قوة إلا بالله أشهد أن الله على كل شيء قدير، رزق خير ذلك اليوم، وصرف عنه شره، ومن قالها من الليل رزق خير تلك الليلة، وصرف عنه شرها". "ابن السني عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3602: جس نے صبح کے وقت تین مرتبہ یہ دعا مانگی :
اللہم اصبحت منک فی نعمۃ و عافیۃ وستر، فاتم علی نعمتک و عافیتک و سترک فی الدنیا والاخرۃ۔
اے اللہ ! میں تری نعمت، عافیت اور تیری پردہ پوشی میں صبح (و شام) کرتا ہوں پس دنیا و آخرت میں مجھ پر اپنی نعمت، عافیت اور پردہ پوشی تام عطا فرما۔
جو شخص صبح و شام تین تین بار یہ دعا مانگا کرے تو اللہ پر اس کا حق ہے کہ اس کو یہ چیزیں تام کردے۔ (ابن السنی عن ابن عباس (رض))
اللہم اصبحت منک فی نعمۃ و عافیۃ وستر، فاتم علی نعمتک و عافیتک و سترک فی الدنیا والاخرۃ۔
اے اللہ ! میں تری نعمت، عافیت اور تیری پردہ پوشی میں صبح (و شام) کرتا ہوں پس دنیا و آخرت میں مجھ پر اپنی نعمت، عافیت اور پردہ پوشی تام عطا فرما۔
جو شخص صبح و شام تین تین بار یہ دعا مانگا کرے تو اللہ پر اس کا حق ہے کہ اس کو یہ چیزیں تام کردے۔ (ابن السنی عن ابن عباس (رض))
3602- "من قال إذا أصبح: اللهم أصبحت منك في نعمة وعافية وستر، فأتم علي نعمتك وعافيتك وسترك في الدنيا والآخرة، ثلاث مرات إذا أصبح وأمسى، كان حقا على الله عز وجل أن يتم عليه". "ابن السني عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3603: جس نے صبح کے وقت دس مرتبہ کہا :
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔
تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹائیں جائیں گی، دس درجے بلند کیے جائیں گے، اور یہ کلمات اس کے لیے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے، شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب بنیں گے حتی کہ شام ہو ۔ اور جس نے مغرب کی نماز کے بعد دس مرتبہ کہا تو صبح تک اس کو یہ فضیلت حاصل ہوگی۔ ابن حبان عن ابی ایوب (رض) ۔
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔
تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹائیں جائیں گی، دس درجے بلند کیے جائیں گے، اور یہ کلمات اس کے لیے چار غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے، شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب بنیں گے حتی کہ شام ہو ۔ اور جس نے مغرب کی نماز کے بعد دس مرتبہ کہا تو صبح تک اس کو یہ فضیلت حاصل ہوگی۔ ابن حبان عن ابی ایوب (رض) ۔
3603- "من قال إذا أصبح: لا إله إلا الله، وحده لا شريك له له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، عشر مرات كتب له بهن عشر حسنات، ومحي له بهن عشر سيئات، ورفع له بهن عشر درجات وكن له عدل عتاقة أربع رقاب، وكن له حرزا من الشيطان، حتى يمسي، ومن قالهن إذا صلى المغرب دبر الصلاة فمثل ذلك حتى يصبح" "حب عن أبي أيوب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3604: جس نے صبح کی نماز پڑھ کر یہ ورد پڑھا :
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔
اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹائی جائیں گی، دس درجات بلند کیے جائیں گے۔ یہ کلمات دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور شام تک شیطان سے حفاظت کا سب ہوں گے۔ اور جس نے یہ کلمات شام کو کہے تو بھی یہی ثواب ہے حتی کہ صبح ہو۔ (ابن حبان عن ابی ایوب (رض))
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔
اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹائی جائیں گی، دس درجات بلند کیے جائیں گے۔ یہ کلمات دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہوں گے اور شام تک شیطان سے حفاظت کا سب ہوں گے۔ اور جس نے یہ کلمات شام کو کہے تو بھی یہی ثواب ہے حتی کہ صبح ہو۔ (ابن حبان عن ابی ایوب (رض))
3604- "من قال دبر صلاته إذا صلى: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، كتب له بهن عشر حسنات، ومحي بهن عشر سيئات، ورفع له بهن عشر درجات، وكن له عتق عشر رقاب، وكن له حرسا من الشيطان حتى يمسي، ومن قالهن حين يمسي كان له مثل ذلك حتى يصبح". "حب عن أبي أيوب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3605: جس نے صبح و شام تین تین بار یہ پڑھا : اللہم انی امسیت (اور صبح کے وقت اصبحت) اشد انہا ما اصبحت بنا من عافیۃ و نعمۃ فمنک وحد لا شریک لک فلک الحمد۔ اے اللہ میں شہادت دیتا ہوں کہ ہمیں جو بھی نعمت اور عافیت میسر ہے وہ تیری طرف سے ہے صرف تیری طرف سے، تیرا کوئی شریک نہیں پس تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔
تو اس نے اس دن یا رات میں جو بھی نعمتیں اس کو میسر ہیں سب کا شکر ادا کردیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ عن بکیر بن الاخلص مرسلا) ۔
تو اس نے اس دن یا رات میں جو بھی نعمتیں اس کو میسر ہیں سب کا شکر ادا کردیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ عن بکیر بن الاخلص مرسلا) ۔
3605- "من قال حين يمسي ويصبح ثلاثا: اللهم إني أمسيت أشهد، وإذا أصبح قال: اللهم أصبحت أشهد أنها ما أصبحت بنا من عافية ونعمة فمنك وحدك لا شريك لك، فلك الحمد، لم يسأل عن نعمة كانت في ليلته تلك، ولا يومه إلا وقد أدى شكرها". "ش عن بكير بن الأخنس" مرسلا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3606: اے فاطمہ ! کیا بات ہے میں تمہیں صبح و شام یہ کہتے ہوئے نہیں سنتا :
یا حی یا قیوم برحمتک استغیث، اصلح لی شانی کلہ، ولا تکلنی الی نفسی۔
اے حیی (زندہ) اے قائم کرنے والے تیری رحمت کے ساتھ میں تجھے پکارتا ہوں میرے تمام خیالات درست کر اور مجھے اپنے نفس کے حوالہ نہ کر۔
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 6453 ۔
یا حی یا قیوم برحمتک استغیث، اصلح لی شانی کلہ، ولا تکلنی الی نفسی۔
اے حیی (زندہ) اے قائم کرنے والے تیری رحمت کے ساتھ میں تجھے پکارتا ہوں میرے تمام خیالات درست کر اور مجھے اپنے نفس کے حوالہ نہ کر۔
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 6453 ۔
3606- "يا فاطمة ما لي لا أسمعك بالغداة والعشي تقولين: يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث، أصلح لي شأني كله، ولا تكلني إلى نفسي". "الخطيب عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت کی موت
3607: اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ اپنی امت کو کہو کہ وہ صبح و شام اور سوتے وقت دس دس بار یہ پڑھا کریں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ یہ چیز نیند کے وقت ان کی دنیاوی مصیبتیں دفع کردے گی، شام کے وقت شیطان کے مکر و فریب کو دفع کردے گی اور صبح کے وقت میں اس پر اپنا غضب ٹھنڈا کردوں گا۔ (الدیلمی عن ابی بکر)
3607- "يقول الله عز وجل: قل لأمتك يقولوا: لا حول ولا قوة إلا بالله عشرا، عند الصباح، وعشرا عند المساء، وعشرا عند النوم يدفع عنهم عند النوم بلوى الدنيا، وعند المساء مكايدة الشيطان، وعند الصباح أسوأ غضبي". "الديلمي1 عن أبي بكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھٹی فصل۔۔۔ جامع دعاؤں کے بیان میں ۔
3608: اللهم إني أسألک رحمة من عندک تهدي بها قلبي وتجمع بها أمري وتلم بها شعثي وتصلح بها غائبي وترفع بها شاهدي وتزکي بها عملي وتلهمني بها رشدي وترد بها ألفتي وتعصمني بها من کل سوء اللهم أعطني إيمانا ويقينا ليس بعده کفر ورحمة أنال بها شرف کر امتک في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألک الفوز في القضاء ونزل الشهداء وعيش السعداء والنصر علی الأعداء اللهم إني أنزل بک حاجتي وإن قصر رأيي وضعف عملي افتقرت إلى رحمتک فاسألك يا قاضي الأمور ويا شافي الصدور کما تجير بين البحور أن تجيرني من عذاب السعير ومن دعوة الثبور ( دعوة الثبور (2) ومن فتنة القبور اللهم ما قصر عنه رأيي ولم تبلغه نيتي ولم تبلغه مسألتي من خير وعدته أحدا من خلقک أو خير أنت معطيه أحدا من عبادک فإني أرغب إليك فيه وأسألک برحمتک رب العالمين اللهم ذا الحبل الشديد والأمر الرشيد أسألک الأمن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود مع المقربين الشهود الرکع السجود الموفين بالعهود إنک رحيم ودود وإنک تفعل ما تريد اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين سلما لأوليائك وعدوا لأعدائك نحب بحبک من أحبک ونعادي بعداوتک من خالفک اللهم هذا الدعاء وعليك الإجابة وهذا الجهد وعليك التکلان اللهم اجعل لي نورا في قلبي ونورا في قبري ونورا من بين يدي ونورا من خلفي ونورا عن شمالي ونورا من فوقي ونورا من تحتي ونورا في سمعي ونورا في بصري ونورا في شعري ونورا في بشري ونورا في لحمي ونورا في دمي ونورا في عظامي اللهم أعظم لي نورا وأعطني نورا واجعل لي نورا سبحان الذي تعطف (1) بالعز وقال به سبحان الذي لبس المجد وتکرم به سبحان الذي لا ينبغي التسبيح إلا له سبحان ذي الفضل والنعم سبحان ذي المجد والکرم سبحان ذي الجلال والإکرام ۔
ترجمہ : اے اللہ ! میں تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اس کی بدولت تو میرے دل کو ہدایت بخش، میرے معاملات کو ٹھیک کر، میری پریشانی کو مبدل ب آرام کر، میرے غائب کی اصلاح کر، میرے حاضر کو رفعت عطا کر، میرے عمل کو پاکیزہ بنا، میری ہدایت مجھے سمجھا، میری الفت چین کو واپس کر، ہر برائی سے مری حفاظت کر، اے اللہ ! مجھے ایسا ایمان اور یقین عطا کر جس کے بعد کفر نہ لوٹے، ایسی رحمت عطا کر جس کی بدولت میں دنیا و آخرت کی عزت و کرامت حاصل کرلوں، اے اللہ ! میں تجھ سے تقدیر کی کامیابی کا سوال کرتا ہوں، شہیدوں کی سی مہمان نوازی مانگتا ہوں، سعادت مندوں کی زندگی طلب کرتا ہوں دشمنوں پر مدد مانگتا ہوں اے اللہ ! میرے تیرے حضور میں اپنی حاجت رکھتا ہوں اگرچہ میری رائے کوتاہ ہے، میرا عمل کمزور ہے، میں تری رحمت کا محتاج ہوں اے تمام فیصلوں کو نمٹانے والے ! اے سینوں کو شفاء بخشنے والے ! جسے تو منجدہار کے بیچ پناہ دیتا ہے مجھے بھی جہنم کے عذاب سے پناہ دے، ہلاکت کی دعا سے پناہ دے، قبر کے عذاب سے پناہ دے، اے اللہ ! جس بات سے میری رائے کمزور ہے اور اس کو میرا خیال نہیں پہنچا اور میں نے اس کا سوال نہیں کیا خواہ کوئی بھی ایسی خیر ہو، جس کا تو نے کسی سے وعدہ کیا ہو، یا کسی کو بھی وہ خیر عطا کی ہو پس میں بھی اس میں رغبت رکھتا ہوں اور تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں، تیری رحمت کی بدولت اے رب العالمین اے اللہ ! مضبوط رسی والے ! درست کام والے ! میں تجھ سے امن کا سوال کرتا ہوں وعید والے دن اور جنت کا سوال کرتا ہوں ہمیشگی والے دن، ان مقربین خاص کے ساتھ جو تیرے حضور میں جھکنے والے ہیں، پیشانی ٹیکنے والے ہیں، اپنے عہد و پیمان کو پورا کرنے والے ہیں۔ بیشک تو مہربان ہے محبت کرنے والا ہے اور تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ ! ہم کو ہدایت قبول کرنے والا اور ہدایت کی راہ دکھانے والا بنا نہ کہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا۔ ہمیں اپنے اولیاء کا دوست بنا، اپنے دشمنوں کا دشمن بنا، ہم تیری محبت کے ساتھ ان سے محبت کریں جن کو تو محبوب رکھا ہے اور تیری دشمنی کے ساتھ دشمنی کریں تیرے دشمنوں سے۔ اے اللہ ! یہ ہماری تجھ سے دعا ہے اور تجھ پر اس کی قبولیت ہے۔ یہ ہماری محنت و کاوش ہے اور تجھ پر ہماری بھروسہ ہے۔ اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا کر، میری قبر کو منور کر، میرے آگے نور کر، میرے پیچھے نور کر، میرے بائیں نور کر، میرے دائیں نور کر، میرے اوپر اور نیچے نور کر، میرے کانوں میں میری آنکھوں میں، میرے بالوں میں، میرے چہرے میں، میرے گوشت میں، میرے خون میں اور میری ہڈیوں میں نور ہی نور کردے۔ اے اللہ ! میرے لیے نور کو زیادہ کر اور مجھے نور عطا فرما۔ اور مجھے سراپا نور بنا دے، پس پاک ہے وہ ذات جو عزت و کرامت کے ساتھ مہربان ہوا اور اسی کا معاملہ کیا، پاک ہے وہ ذات جس نے بزرگی کا لباس پہنا اور اس کے ساتھ مکرم اور معزز ہوا۔ پاک ہے وہ ذات کہ پاکی بیان کرنا اسی کے لیے ہے۔ پاک ہے فضل اور نعمت عطا کرنے والی ذات، پاک ہے بزرگی اور کرامت والی ذات، پاک ہے بزرگی اور کرم والا۔ (ترمذی، الصلاۃ محمد بن نصر، الکبیر للطبرانی، البیہقی فی الدعوات عن ابن عباس (رض))
کلام : امام ترمذی فرماتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے دیکھئے ترمذی کتاب الدعوات رقم الحدیث 3415 ۔
ترجمہ : اے اللہ ! میں تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اس کی بدولت تو میرے دل کو ہدایت بخش، میرے معاملات کو ٹھیک کر، میری پریشانی کو مبدل ب آرام کر، میرے غائب کی اصلاح کر، میرے حاضر کو رفعت عطا کر، میرے عمل کو پاکیزہ بنا، میری ہدایت مجھے سمجھا، میری الفت چین کو واپس کر، ہر برائی سے مری حفاظت کر، اے اللہ ! مجھے ایسا ایمان اور یقین عطا کر جس کے بعد کفر نہ لوٹے، ایسی رحمت عطا کر جس کی بدولت میں دنیا و آخرت کی عزت و کرامت حاصل کرلوں، اے اللہ ! میں تجھ سے تقدیر کی کامیابی کا سوال کرتا ہوں، شہیدوں کی سی مہمان نوازی مانگتا ہوں، سعادت مندوں کی زندگی طلب کرتا ہوں دشمنوں پر مدد مانگتا ہوں اے اللہ ! میرے تیرے حضور میں اپنی حاجت رکھتا ہوں اگرچہ میری رائے کوتاہ ہے، میرا عمل کمزور ہے، میں تری رحمت کا محتاج ہوں اے تمام فیصلوں کو نمٹانے والے ! اے سینوں کو شفاء بخشنے والے ! جسے تو منجدہار کے بیچ پناہ دیتا ہے مجھے بھی جہنم کے عذاب سے پناہ دے، ہلاکت کی دعا سے پناہ دے، قبر کے عذاب سے پناہ دے، اے اللہ ! جس بات سے میری رائے کمزور ہے اور اس کو میرا خیال نہیں پہنچا اور میں نے اس کا سوال نہیں کیا خواہ کوئی بھی ایسی خیر ہو، جس کا تو نے کسی سے وعدہ کیا ہو، یا کسی کو بھی وہ خیر عطا کی ہو پس میں بھی اس میں رغبت رکھتا ہوں اور تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں، تیری رحمت کی بدولت اے رب العالمین اے اللہ ! مضبوط رسی والے ! درست کام والے ! میں تجھ سے امن کا سوال کرتا ہوں وعید والے دن اور جنت کا سوال کرتا ہوں ہمیشگی والے دن، ان مقربین خاص کے ساتھ جو تیرے حضور میں جھکنے والے ہیں، پیشانی ٹیکنے والے ہیں، اپنے عہد و پیمان کو پورا کرنے والے ہیں۔ بیشک تو مہربان ہے محبت کرنے والا ہے اور تو جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ ! ہم کو ہدایت قبول کرنے والا اور ہدایت کی راہ دکھانے والا بنا نہ کہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا۔ ہمیں اپنے اولیاء کا دوست بنا، اپنے دشمنوں کا دشمن بنا، ہم تیری محبت کے ساتھ ان سے محبت کریں جن کو تو محبوب رکھا ہے اور تیری دشمنی کے ساتھ دشمنی کریں تیرے دشمنوں سے۔ اے اللہ ! یہ ہماری تجھ سے دعا ہے اور تجھ پر اس کی قبولیت ہے۔ یہ ہماری محنت و کاوش ہے اور تجھ پر ہماری بھروسہ ہے۔ اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا کر، میری قبر کو منور کر، میرے آگے نور کر، میرے پیچھے نور کر، میرے بائیں نور کر، میرے دائیں نور کر، میرے اوپر اور نیچے نور کر، میرے کانوں میں میری آنکھوں میں، میرے بالوں میں، میرے چہرے میں، میرے گوشت میں، میرے خون میں اور میری ہڈیوں میں نور ہی نور کردے۔ اے اللہ ! میرے لیے نور کو زیادہ کر اور مجھے نور عطا فرما۔ اور مجھے سراپا نور بنا دے، پس پاک ہے وہ ذات جو عزت و کرامت کے ساتھ مہربان ہوا اور اسی کا معاملہ کیا، پاک ہے وہ ذات جس نے بزرگی کا لباس پہنا اور اس کے ساتھ مکرم اور معزز ہوا۔ پاک ہے وہ ذات کہ پاکی بیان کرنا اسی کے لیے ہے۔ پاک ہے فضل اور نعمت عطا کرنے والی ذات، پاک ہے بزرگی اور کرامت والی ذات، پاک ہے بزرگی اور کرم والا۔ (ترمذی، الصلاۃ محمد بن نصر، الکبیر للطبرانی، البیہقی فی الدعوات عن ابن عباس (رض))
کلام : امام ترمذی فرماتے ہیں یہ روایت ضعیف ہے دیکھئے ترمذی کتاب الدعوات رقم الحدیث 3415 ۔
3608- "اللهم إني أسألك رحمة من عندك، تهدي بها قلبي، وتجمع بها أمري وتلم بها شعثي وتصلح بها غائبي، وترفع بها شاهدي، وتزكي بها عملي، وتلهمني بها رشدي، وترد بها ألفتي وتعصمني بها من كل سوء، اللهم أعطني إيمانا ويقينا ليس بعده كفر، ورحمة أنال بها شرف كرامتك في الدنيا والآخرة، اللهم إني أسألك الفوز في القضاء ونزل الشهداء وعيش السعداء والنصر على الأعداء، اللهم إني أنزل بك حاجتي وإن قصر رأيي وضعف عملي افتقرت إلى رحمتك، فاسألك يا قاضي الأمور ويا شافي الصدور كما تجير1 بين البحور، أن تجيرني من عذاب السعير ومن دعوة الثبور2 ومن فتنة القبور، اللهم ما قصر عنه رأيي ولم تبلغه نيتي ولم تبلغه مسألتي من خير وعدته أحدا من خلقك أو خير أنت معطيه أحدا من عبادك، فإني أرغب إليك فيه، وأسألك برحمتك رب العالمين، اللهم ذا الحبل الشديد والأمر الرشيد، أسألك الأمن يوم الوعيد والجنة يوم الخلود مع المقربين الشهود الركع السجود الموفين بالعهود إنك رحيم ودود، وإنك تفعل ما تريد، اللهم اجعلنا هادين مهتدين غير ضالين ولا مضلين، سلما لأوليائك وعدوا لأعدائك نحب بحبك من أحبك ونعادي بعداوتك من خالفك، اللهم هذا الدعاء وعليك الإجابة وهذا الجهد وعليك التكلان، اللهم اجعل لي نورا في قلبي ونورا في قبري، ونورا من بين يدي، ونورا من خلفي، ونورا عن شمالي ونورا من فوقي، ونورا من تحتي، ونورا في سمعي، ونورا في بصري ونورا في شعري، ونورا في بشري، ونورا في لحمي، ونورا في دمي ونورا في عظامي، اللهم أعظم لي نورا وأعطني نورا واجعل لي نورا سبحان الذي تعطف1 بالعز وقال به، سبحان الذي لبس المجد وتكرم به، سبحان الذي لا ينبغي التسبيح إلا له، سبحان ذي الفضل والنعم سبحان ذي المجد والكرم، سبحان ذي الجلال والإكرام". "ت ومحمد بن نصر في الصلاة" "طب والبيهقي في الدعوات عن ابن عباس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع دعاؤں کے بیان میں ۔
3609: اللهم إني أعوذ بک من علم لا ينفع وقلب لا يخشع ودعاء لا يسمع ونفس لا تشبع ومن الجوع فإنه بئس الضجيع (1) ومن الخيانة فإنها بئست البطانة ( 2) ومن الکسل والبخل والجبن ومن الهرم وإن أرد إلى أرذل العمر ومن فتنة الدجال و عذاب القبر وفتنة المحيا والممات اللهم إنا نسألک قلوبا أواهة مخبتة منيبة في سبيلک اللهم نسألک عزائم مغفرتک ومنجيات أمرک والسلامة من کل إثم والغنيمة من کل بر والفوز بالجنة والنجاة من النار۔
ترجمہ : اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو روئے نہ، ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو، بھوک سے بیشک وہ برا ساتھی ہے، خیانت سے وہ بری نیت ہے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، بڑھاپے سے، انتہائی بڑھاپے کی عمر سے ، دجال کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ ! ہم تجھ سے ایسے دلوں کا سوال کرتے ہیں جو رجوع کرنے والے ہیں، عاجزی کرنے والے ہیں اور تیری راہ میں لگنے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم تجھ سے تیری کامل مغفرت کا سوال کرتے ہیں، تیرے نجات دینے والے امر کا سوال کرتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں ہر نیکی کے حصول کا سوال کرتے ہیں، جنت کی کامیابی کا اور جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔ مستدرک الحاکم عن ابن مسعود (رض)۔
ترجمہ : اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو روئے نہ، ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو، بھوک سے بیشک وہ برا ساتھی ہے، خیانت سے وہ بری نیت ہے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، بڑھاپے سے، انتہائی بڑھاپے کی عمر سے ، دجال کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ ! ہم تجھ سے ایسے دلوں کا سوال کرتے ہیں جو رجوع کرنے والے ہیں، عاجزی کرنے والے ہیں اور تیری راہ میں لگنے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم تجھ سے تیری کامل مغفرت کا سوال کرتے ہیں، تیرے نجات دینے والے امر کا سوال کرتے ہیں، ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں ہر نیکی کے حصول کا سوال کرتے ہیں، جنت کی کامیابی کا اور جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔ مستدرک الحاکم عن ابن مسعود (رض)۔
3609- "اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع، وقلب لا يخشع ودعاء لا يسمع، ونفس لا تشبع ومن الجوع فإنه بئس الضجيع1 ومن الخيانة فإنها بئست البطانة2 ومن الكسل والبخل والجبن ومن الهرم وإن أرد إلى أرذل العمر، ومن فتنة الدجال وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات، اللهم إنا نسألك قلوبا أواهة مخبتة منيبة في سبيلك، اللهم نسألك عزائم مغفرتك ومنجيات أمرك، والسلامة من كل إثم والغنيمة من كل بر، والفوز بالجنة، والنجاة من النار". "ك عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع دعاؤں کے بیان میں ۔
3610: اللهم إني أسألک من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما أعلم وأعوذ بک من الشر کله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألک من خير ما سألک عبدک ونبيك وأعوذ بک من شر ما استعاذ منه عبدک ونبيك اللهم إني أسألک الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بک من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل کل قضاء قضيته لي خيرا
ترجمہ : اے اللہ ! میں تجھ سے ہر طرح کی مکمل خیر کا سوال کرتا ہوں وہ جلد ہو یا بدیر، میرے علم میں ہو یا نہیں میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر طرح کے مکمل شر سے وہ جلد ہو یا بدیر، جو میرے علم میں ہے یا نہیں۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہر اس خیرکا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی نے کیا۔ اور ہر اس شی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ مانگی۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی نے کیا۔ اور ہر اس شئی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ مانگی۔ اے اللہ ! میں جنت کا سوال کرتا ہوں اور ہر اس نیک عمل کا اور قول کا جو جنت کے قریب کردے۔ اور تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے اور ہر اس برے عمل اور قول سے جو جہنم کے قریب کردے۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر فیصلہ جو تو نے میرے لیے کردیا اس کو خیر والا بنا۔ ابن ماجہ عن عائشۃ (رض)۔
ترجمہ : اے اللہ ! میں تجھ سے ہر طرح کی مکمل خیر کا سوال کرتا ہوں وہ جلد ہو یا بدیر، میرے علم میں ہو یا نہیں میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر طرح کے مکمل شر سے وہ جلد ہو یا بدیر، جو میرے علم میں ہے یا نہیں۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہر اس خیرکا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی نے کیا۔ اور ہر اس شی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ مانگی۔ اے اللہ ! میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور نبی نے کیا۔ اور ہر اس شئی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس سے تیرے بندے اور نبی نے پناہ مانگی۔ اے اللہ ! میں جنت کا سوال کرتا ہوں اور ہر اس نیک عمل کا اور قول کا جو جنت کے قریب کردے۔ اور تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے اور ہر اس برے عمل اور قول سے جو جہنم کے قریب کردے۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر فیصلہ جو تو نے میرے لیے کردیا اس کو خیر والا بنا۔ ابن ماجہ عن عائشۃ (رض)۔
3610- "اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله، ما علمت منه وما لم أعلم، وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم، اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك، وأعوذ بك من شر ما استعاذ منه عبدك ونبيك، اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل، وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل، وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا". "هـ عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع دعاؤں کے بیان میں ۔
3611: اللهم بعلمک الغيب وقدرتک علی الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللهم وأسألک خشيتک في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الإخلاص في الرضا والغضب وأسألک القصد في الفقر والغنی وأسألک نعيما لا ينفد وأسألک قرة عين لا تنقطع وأسألک الرضا بالقضاء وأسألک برد العيش بعد الموت وأسألک لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مذلة اللهم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهدين۔
ترجمہ : اے اللہ ! اپنے غیب کے علم اور مخلوق پر اپنی قدرت کے طفیل مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میرے لیے زندگی بہتر ہو اور جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے تو مجھے موت دے دے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے خشیت کا سوال کرتا ہوں غیبوبۃ میں اور حضور میں۔ اے اللہ ! میں تجھ سے کلمہ اخلاص کا سوال کرتا ہوں رضا میں اور ناراضگی میں۔ اے اللہ میں تجھ سے میانہ روی اور اعتدال کا سوال کرتا ہوں فقر میں اور مالداری میں ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو، ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو منقطع نہ ہو۔ اے اللہ ! میرے تیرے ہر فیصلہ پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تجھ سے موت کے بعد اچھی زندگی کا سوال کرتا ہوں۔ اور تجھ سے تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا سوال کرتا ہوں۔ تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں کسی ضرر رساں تکلیف اور گمراہ کن تاریک فتنے کے بغیر ۔ اے اللہ ! ہم کو ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما اور ہادی اور ہدایت یافتہ بنا ۔ ترمذی مستدرک الحاکم عن عمار (رض) بن یاسر۔
ترجمہ : اے اللہ ! اپنے غیب کے علم اور مخلوق پر اپنی قدرت کے طفیل مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میرے لیے زندگی بہتر ہو اور جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے تو مجھے موت دے دے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے خشیت کا سوال کرتا ہوں غیبوبۃ میں اور حضور میں۔ اے اللہ ! میں تجھ سے کلمہ اخلاص کا سوال کرتا ہوں رضا میں اور ناراضگی میں۔ اے اللہ میں تجھ سے میانہ روی اور اعتدال کا سوال کرتا ہوں فقر میں اور مالداری میں ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو ختم نہ ہو، ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں جو منقطع نہ ہو۔ اے اللہ ! میرے تیرے ہر فیصلہ پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تجھ سے موت کے بعد اچھی زندگی کا سوال کرتا ہوں۔ اور تجھ سے تیرے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا سوال کرتا ہوں۔ تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں کسی ضرر رساں تکلیف اور گمراہ کن تاریک فتنے کے بغیر ۔ اے اللہ ! ہم کو ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما اور ہادی اور ہدایت یافتہ بنا ۔ ترمذی مستدرک الحاکم عن عمار (رض) بن یاسر۔
3611- "اللهم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق، أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي، اللهم وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة، وأسألك كلمة الإخلاص في الرضا والغضب، وأسألك القصد في الفقر والغنى، وأسألك نعيما لا ينفد، وأسألك قرة عين لا تنقطع، وأسألك الرضا بالقضاء، وأسألك برد العيش بعد الموت، وأسألك لذة النظر إلى وجهك، والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة، ولا فتنة مذلة، اللهم زينا بزينة الإيمان، واجعلنا هداة مهدين". "ت ك عن عمار بن ياسر"1
তাহকীক: