কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৪৯ টি
হাদীস নং: ৩১১৪৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشحالی کا زمانہ سو سال
31132 ۔۔۔ فرمایا میرے بعد میری امت کی خوشحالی کا زمانہ سو سال ہے عرض کیا کہ اس کی کوئی نشانی بھی ہے ؟ فرمایا زمین میں دھنسنا ، زنا کا عام ہونا ، صورتوں کا مسخ ہونا اور باہر سے لائے ہوئے شیاطین کو لوگوں پر چھوڑ دینا۔ (احمدمستدرک اور تابع ذکر کیا عبادہ بن صامت (رض) کی روایت سے)
31132 مدة رخاء أمتي من بعدي مائة سنة ، قيل : يا رسول الله ! فهل لذلك من آية ؟ قال : نعم الخسف ، والقذف ، والمسخ وإذسال الشياطين المجلبة على الناس.(طب ، ك وتعقب - عن عبادة بن الصامت).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৪৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشحالی کا زمانہ سو سال
31133 ۔۔۔ فرمایا فتنے ظاہر ہوں گے اس میں آدمی اپنے بھائی اور والد سے جدا ہوجائے گا اس سے لوگوں کے دلوں میں فتنہ پیدا ہوگا ان سے قیامت کے دن تک کے لیے یہاں تک ایک شخص کو نماز پڑھنے کی وجہ سے عار دلائی جائے گی جس طرح زانیہ کو زنا کی وجہ سے عار دلائی جاتی ہے۔ طبرانی بروایت ابن عمر (رض) عنھما
31133 ستكون فتن يفارق الرجل فيها أخاه وأباه ، تطير الفتنة في قلوب الرجال منهم إلى يوم القيامة حتى يعير الرجل فيها بصلاته كما تعير الزانية بزناها (نعيم بن حماد في الفتن (طب - عن ابن عمرو).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৪৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشحالی کا زمانہ سو سال
31134 ۔۔۔ فرمایا فتنہ پیدا ہوگا اس کے بعد پھر اتفاق ہوجائے گا پھر اتفاق پیدا ہوگا اس کے بعد جو فتنہ ہوگا اس کے بعد اتفاق کی کوئی صورت نہ ہوگی اس میں آوازیں اٹھیں گی آنکھیں پھٹی رہ جائیں گی عقلیں زائل ہوں گی حتی کہ ایک بھی عقلمند نظر نہ آئے گا۔ الدیلمی بروایت حذیفہ (رض)
31134 ستكون فتنة بعدها جماعة ، ثم تكون بعدها جماعة ، ثم تكون فتنة لا تكون بعدها جماعة ، ترفع فيها الاصوات وتشخص الابصار وتذهل العقول ، فلا تكاد ترى رجلا.(الديلمي - عن حذيفة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৪৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشحالی کا زمانہ سو سال
31135 ۔۔۔ فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ قرآن کے صرف نقوش ہی باقی رہ جائیں گے اور اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ جائے گا نام تو مسلمانوں کا رکھ لیں گے لیکن وہ اسلام سے بہت دور ہوں گے ان کی مساجد ظاہرآباد ہوں گی لیکن اندر سے خراب ہوں گی اس زمانہ کے علماء آسمان کے نیچے سب سے بدترین علماء ہوں گے انہی سے فتنہ کا ظہور ہوگا انھیں میں لوٹے گا۔ مستدرک فی تاریخ بروایت ابن عمر الدیلمی بروایت معاذ
31135 سيأتي على الناس زمان ما يبقى من القرآن إذا رسمه ولا من الاسلام إلا اسمه ، يتسمون به وهم أبعد الناس منه ، مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى ، فقهاء ذلك الزمان شر فقهاء تحت ظل السماء ، منهم خرجت الفتنة ، واليهم تعود. (ك في تاريخه - عن ابن عمر ، الديلمي عن معاذ).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৪৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشحالی کا زمانہ سو سال
31136 ۔۔۔ عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام ہی باقی رہ جائے گا اور قرآن بھی صرف حروف کے نقوش باقی رہے گا اس زمانہ کے علماء آسمان کے نیچے بدترین علماء ہوں گے انہی سے فتنہ ظاہر ہوگا اور انہی کی طرف لوٹ کرجائے گا۔ (عدی ابن کامل شعب الایمان بیہقی بروایت علی )
کلام :۔۔۔ ذخیرة الحفاظ 6583
کلام :۔۔۔ ذخیرة الحفاظ 6583
31136 يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقي من الاسلام إلا اسمه ولا يبقي من القرآن إذا رسمه ، مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى ، علماؤهم شر من تحت أديم السماء ، من عندهم تخرج التفنة وفيه تعود.(عد ، هب - عن علي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৪৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشحالی کا زمانہ سو سال
31137 ۔۔۔ عنقریب اسلام مٹ جائے گا اس کا نام ہی باقی رہے گا قرآن مٹ جائے گا اس کے نقوش باقی رہ جائیں گے۔ (الدیلمی بروایت ابی ہریرة)
31137 يوشك الاسلام أن يدرس فلا يبقي إلا اسمه ، ويدرس القرآن فلا يبقى إلا رسمه.(الديلمي - عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৪৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خوشحالی کا زمانہ سو سال
31138 ۔۔۔ فرمایا پس تمہارا کیا حال ہوگا جب فتنہ میں مبتلا کئے جاؤ گے کئی سالوں تک گرفتار ہوگے اس میں بچے نوجواں ہوں گے جوان بوڑھے اگر کسی سال فتنہ ختم ہوجائے تو کہا جائے گا ایک سال چھوڑ دیا جب تمہارے قاریوں کی تعداد بڑھ جائے گی اور علماء کی تعداد کم ہوجائے گی امراء کی تعداد بڑھ جائے گی امانتدار لوگوں کی قلت ہوگی اور اعمال آخرت کے ذریعہ دنیا طلب کی جائے گی ، اور علم کو غیر اللہ کے لیے حاصل کیا جائے گا۔ حلیة الاولیاء بروایت ابن مسعود (رض)
31138 كيف أنتم إذا التقتكم فتنة ؟ فتتخذ سنة يربو فيها الصغير ويرهم فيها الكبير ، وإذا ترك منها شئ قيل : تركت سنة ، وإذا كثر قراؤكم وقلت علماؤكم وكثرت أمراؤكم ، وقلت أمناؤكم ، والتمست الدنيا بعمل الاخرة ، وتفقه لغير الله.(حل - عن ابن مسعود).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31139 ۔۔۔ فرمایا اس زمانہ تمہارا کیا حال ہوگا جو عنقریب تمہارے اوپر آئے گا اس میں لوگوں کو خوب آزمائش میں ڈالا جائے گا وہ لوگ رہ جائیں گے جن کی حیثیت جھاگ کی سی ہوگی ان کی عہد کی پابندی اور امانتداری کمزور ہوجائے گی اور آپس میں اس طرح اختلاف ہوگا۔ انگلیوں کو ایکدوسرے میں ڈال کر دکھایا عرض کیا ہمارے لیے کیا حکم ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ زمانہ آجائے فرمایا کہ معروف پر عمل کرو منکرات کو ترک کردو اپنے خواص کی اصلاح کی طرف توجہ کرو عوام کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ ابن ماجہ ونعیم بن جساد فی العتن طبرانی بروایت ابن عمر (رض) عنھما
31139 كيف بكم بزمان يوشك أن يأتي عليكم يغربل الناس فيه غربلة وتبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا وكانوا هكذا ؟ وشبك بين أصابعه ، قالوا : كيف بنا يا رسول الله ! إذا كان ذلك ؟ قال : تأخذون مما تعرفون وتدعون ما تنكرون وتقبلون على أمر خاصتكم وتذرون أمر عامتكم.(ه ونعيم بن حماد في الفتن ، طب عن ابن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31140 ۔۔۔ فرمایا اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا ؟ جب تم کمزور ایمان والوں میں زندگی گذراو گے جن میں وعدہ عہد کی پابندی امانتداری کمزور ہوچکی ہوگی اور آپس میں اختلاف کرکے اس طرح ہوجائیں گے انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر کھایا عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو ہی علم ہے فرمایا معروفات پر عمل کرو اور منکرات کو ترک کرو اللہ کے دین میں رنگ بدلنے سے اجتناب کرو اپنے نفس کی اصلاح کی فکر کرو عام لوگوں کا معاملہ چھوڑو۔ ) طبرانی بروایت سہل بن سعد الشیرازی فی لالقاب بروایت حسن مرسلا ذخیرة الحفاظ 4410)
31140 كيف بك إذا بقيت في حثالة من الناس قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا فصاروا هكذا ؟ وشبك بين أصابعه ، قال : الله تعالى ورسوله أعلم ، قال : اعمل بما تعرب ودع ما تنكر ! وإياك والتلون في دين الله ! وعليك بخاصة نفسك ودع عوامهم. (طب - عن سهل بن سعد ، الشيرازي في الالقاب - عن الحسن مرسلا).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31141 ۔۔۔ فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا کمزور ایمان والے لوگوں میں وہ آپس میں اختلاف کرکے اس طرح ہوجائیں گے۔ ( انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرکے دکھایا) فرمایا معروف باتوں پر عمل کرو اور منکرات کو ترک کرو۔ طبرائی بروایت عبادہ بن الصامت (رض)
31141 كيف أنت إذا كنت في حثالة من الناس واختلفوا حتى يكونوا هكذا ؟ وشبك بين أصابعه ، خذ ما تعرف ودع ما تنكر.(طب - عن عبادة بن الصامت).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31142 ۔۔۔ فرمایا تمہارا کیا معاملہ ہوگا اس زمانہ میں جب لوگوں کے عہد کی پابندی ایمان اور امانتداری کمزوری ہوگی اور اس میں اختلاف کر کے اس طرح گتھم گتھا ہوں گے انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرکے دکھایا عرض کیا یارسول اللہ ! ہم اس وقت کیا کریں ؟ فرمایا صبر سے کام لو اور لوگوں کے ساتھ اخلاقی برتاؤ کروالبتہ خلاف شرع افعال میں ان کی مخالفت کرو یعنی ان کا ساتھ مت دو ۔ نسائی سعید بن منصوربروایت ثوبان (رض)
31142 كيف أنتم في قوم مرجت عهودهم وأيمانهم وأماناتهم وصالروا هكذا ؟ وشبك بين أصابعه ، قالوا : كيف نصنع يا رسول الله ؟ قال : اصبروا وخالقوا الناس بأخلاقهم وخالفوهم في أعمالهم.(ن ، ص عن ثوبان).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31143 ۔۔۔ فرمایا تمہارا کیا معاملہ ہوگا اس آخری زمانہ میں جب بہت کم حیثیت کے لوگ رہ جائیں گے ان کی وعدہ کی پابندی نذر کی ایفاء بہت کمزور ہوچکی ہوگی۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے فرمایا معروف پر عمل کرو منکرات کو ترک کرو ہر شخص خاص اپنے اعمال کی اصلاح کی کوشش کرے اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دے۔ طبرانی بروایت سہل بن سعد
31143 كيف ترون إذا أخرتم في زمان حثالة من الناس قد مرجت عهودهم ونذورهم فاشتبكوا وكانوا هكذا ؟ وشبك بين أصابعه ، قالوا : الله ورسوله أعلم ، قال : تأخذون ما تعرفون وتدعوت ما تنكرون ، ويقبل أحدكم على خاصة نفسه ويذر أمر العامة.(طب - عن سهل بن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31144 ۔۔۔ تمہارا کیا حال ہوگا ! اے عوف جب یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ایک فرقہ جنت میں باقی جہنم میں نے عرض کیا ایسا کب ہوگا یارسول اللہ ! فرمایا جب رذیل لوگ زیادہ ہوجائیں باندیاں مالک بن جائیں کمینے لوگ منبر پر بیٹھ جائیں قرآن کو گانے کی طرز پر پڑھا جائے مساجد میں غیر ضروری زیب وزنیت اختیار کی جائے منبروں کو بہت اونچا کیا جائے مال غنیمت کو ذاتی دولت سمجھاجانے لگے زکوۃ کو تاوان امانت کو مال غنیمت اور دین کا علم غیر اللہ کے لیے سیکھا جانے لگے آدمی ماں کی نافرمانی اور بیوی کی اطاعت کرنے لگے اور باپ کو اپنے سے دور کرے اور امت کا آخری طبقہ پہلے لوگوں پر لعنت کرے اور قبیلہ کا سردار فاسق کو بنایا جائے اور قوم کا بڑا ان کے کمینہ بن جائے اور آدمی کا اکرام اس کے شر سے بچنے کے لیے ہو اس زمانہ میں ایسا ہوگا تو لوگ گھبرا کر ملک شام اور ایک شہر جس کا نام دمشق ہے جو شام کے بہترین شہروں میں سے ہے وہاں پہنچ کر اپنے دشمنوں سے قلعہ بند ہوجائیں گے عرض کیا گیا کیا دشمن شام کو فتح کریں گے ؟ فرمایا ہاں کچھ عرصہ کے لیے اس کے بعد فتنے پھوٹ پڑیں گے پھر ایک فتنہ ظاہر ہوگا غبار آلود اندھیرا پھر پے درپے فتنے ظاہر ہوتے رہیں گے یہاں تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص ظاہر ہوگا جس کا نام مہدی ہے تم ان کا زمانہ پالو تو ان کی اتباع کرو اور صراط مستقیم پرچلنے والے لوگوں میں داخل ہوجاؤ۔ طبرانی بروایت عوف بن مالک
31144 كيف أنت يا عوف ! إذا افترقت هذه الامة على ثلاث وسبعين فرقة ، واحدة منها في الجنة وسائرهن في النار ؟ قلت : ومتى ذلك يا رسول الله ؟ قال : إذا كثرت الشرط ، وملكت الاماء ، وقعدت الجملا على المنابر ، واتخذ القرآن مزامير ، وزخرفت المساجد ، ورفعت المنابر ، واتخذ الفئ دولا والزكاة مغرما والامانة مغنما ، و
تفقه في الدين لغى رالله ، وأطاع الرجل امرأته وعق أمه وأقصى أباه ، ولعن آخر هذه الامة أولها ، وساد القبيلة فاسقهم وكان زعيم القوم أرذلهم ، وأكرم الرجل اتقاء شره ، فيومئذ يكون ذاك فيه ، يفزع الناس يومئذ إلى الشام وإلى مدينة يقال لها دمشق من خير مدن الشام فتحصنهم من عدوهم ، قيل : وهل تفتح الشام ؟ قال : نعم وشيكا ، تقع الفتن بعد فتحها ثم تجئ فتنة غبراء مظلمة ، ثم تتبع الفتن بعضها بعضا حتى يخرج رجل من أهل بيتي يقال له المهدي ، فان أدركته فاتبعه وكن من المهتدين (طب - عن عوف بن مالك)
تفقه في الدين لغى رالله ، وأطاع الرجل امرأته وعق أمه وأقصى أباه ، ولعن آخر هذه الامة أولها ، وساد القبيلة فاسقهم وكان زعيم القوم أرذلهم ، وأكرم الرجل اتقاء شره ، فيومئذ يكون ذاك فيه ، يفزع الناس يومئذ إلى الشام وإلى مدينة يقال لها دمشق من خير مدن الشام فتحصنهم من عدوهم ، قيل : وهل تفتح الشام ؟ قال : نعم وشيكا ، تقع الفتن بعد فتحها ثم تجئ فتنة غبراء مظلمة ، ثم تتبع الفتن بعضها بعضا حتى يخرج رجل من أهل بيتي يقال له المهدي ، فان أدركته فاتبعه وكن من المهتدين (طب - عن عوف بن مالك)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31145 ۔۔۔ فرمایا تم صاف کئے جاؤ گے جس طرح کھجور کو ردی کھجور سے صاف کرکے نکالا جاتا ہے۔ ابن عساکر بروایت ابوہریرہ (رض)
31145 - لتنتقين كما ينتقى التمر من حثالته. (ابن عساكر - عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31146 ۔۔۔ فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ تم میں سے اچھے لوگ اٹھالئے جائیں گے یکے بعد دیگرے حتیٰ کہ اس جیسے لوگ باقی رہ جائیں گے۔ بخاری فی تاریخہ طبرانی سعید بن منصور بروایت رویفع بن ثابت
راوی کا بیان ہے یہ اس موقع پر ارشاد فرمایا کہ آپ کے سامنے پکی اور نیم پختہ کھجوریں رکھی گئیں آپ نے اور صحابہ (رض) نے تناول فرمایا حتی کہ گھٹلیاں باقی رہ گئیں ان گٹھلیوں کی طرف کرکے یہ ارشاد فرمایا۔
راوی کا بیان ہے یہ اس موقع پر ارشاد فرمایا کہ آپ کے سامنے پکی اور نیم پختہ کھجوریں رکھی گئیں آپ نے اور صحابہ (رض) نے تناول فرمایا حتی کہ گھٹلیاں باقی رہ گئیں ان گٹھلیوں کی طرف کرکے یہ ارشاد فرمایا۔
31146 أتدرون ما هذا ؟ تذهبون الخير فالخير حتى لا يبقى منكم إلا مثل هذه.(خ في تاريخه ، حب ، ك ، طب ، ص - عن رويفع بن ثابت).قال : قرب لرسول الله ص تمر ورطب فأكلوا منه حتى لم يبق منه إلا نواة قال - فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31147 ۔۔۔ فرمایا کہ میری امت ہلاک نہ ہوگی یہاں تک ان میں تمایز، تمایل اور معامع ظاہر نہ ہوجائے عرض کیا گیا یارسول اللہ ! تمایز کیا ہے ؟ فرمایا وہ (قومی جماعتی) عصبیت جو میرے لوگ اسلام میں پیداکریں گے پوچھا گیا تمایل کیا ہے ؟ فرمایا ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر حملہ آو ر ہوگا اور ان کی جان ومال کو حلال کرلیا جائے گا پوچھا گیا معامع کیا ہے فرمایا ایک شہر والے دوسرے شہر والوں پر حملہ آور ہوں گے یہاں تک گردنیں آپس میں گڈمڈ ہوں گی۔ (مستدرک اس کی تابع لائی گئی حذیفہ (رض) کی روایت سے نعیم بن حماد فی النقن بروایت ابوہریرہ (رض))
31147 لن تفنى أمتي حتى يظهر فيهم التمايز والتمايل والمعامع ، قيل : يا رسول الله ! ما التمايز ؟ قال : عصبية يحدثها الناس بعدي في الاسلام ، قال : فما التمايل ؟ قال : تميل القبيلة على القبيلة فتستحل حمرتها ، قيل : فما المعامع ؟ قال : سير الامصار بعضها إلى بعض حتى تختلف أعناقهم في الحرب. (ك وتعقب عن حذيفة ، نعيم بن حماد في الفتن عن أبي هريرة).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৫৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31148 ۔۔۔ فرمایا کہ تم خیر پر قائم رہو گے جب تک تمہارے دیہاتی شہریوں سے مستغنی رہے پھر قحط اور بھوک ان کو ہنکا کرلے آئیں گے یہاں تک دو تمہارے ساتھ ہوں گے شہر میں ان کرنے والوں کی کثرت کی وجہ سے تم ان کو روک نہیں سکو گے۔ وہ کہیں گے ایک مدت سے ہم بھوک اور پیاس کے ستائے ہوئے ہیں اور تم بھرے پیٹ ہو ایک مدت سے ہم قسمت کے مارے ہوئے ہیں اور تم نعمتوں میں ہو لہٰذا آج ہمارے ساتھ غمخواری کرو پھر زمین تم پر تنگ ہوجائے گی یہاں تک شہری لوگ دیہایتوں پر غبطہ کریں گے زمین کی تنگی کی وجہ سے زمین تمہیں لے کر جھک جائے گی جس سے ہلاک ہونے والے ہلاک ہوجائیں گے اور باقی رہنے والے باقی رہیں گے یہاں گردنیں آزاد کی جائیں گی پھر زمین تمہیں لے کر سکون میں آئے گی اور باقی رہنے والے باقی رہیں گے پھر گردنیں آزاد کی جائیں گی پھر زمین تمہیں لے کر سکون میں آجائے گی لوگ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم آزاد کرتے ہیں اے ہمارے رب ! ہم آزاد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں جھٹلائیں گے تم نے جھوٹ بولا تم نے جھوٹ بولا میں آزاد کرتا ہوں ضرور آزمایا جائے گا اس امت کے آخری طبقہ کو زلزلہ پتھر اور ٹکڑیوں کی برسات چہروں کا مسخ ہونازمین میں دھنسنا بجلی کی کڑک وغیرہ کے ذریعہ جب کہا جائے گا کہ لوگ ہلاک ہوگئے لوگ ہلاک ہوگئے کہنے والے تو ہلاک ہورہی گئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی امت کو عذاب میں مبتلا نہیں فرماتے جب تک کے وہ عذر نہ کریں صحابہ (رض) نے عرض کیا عذر کیا ہے ؟ فرمایا کہ گناہوں کا اعتراف تو کرے لیکن توبہ نہ کرے اور ان کا دل مطمئن ہو اس پر جو کچھ اس میں ہیں نیکی اور گناہ جیسے درخت مطمئن ہوتا ہے اپنے اوپر لگے ہوئے پھلوں سے یہاں تک کسی نیکو کار کو نیکی میں اضافہ کی قدرت نہیں اور کسی بدکار کو توبہ کی توفیق نہیں ہوتی یہ اس وجہ سے ہوگا کہ ارشاد باری ہے :
کلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون
ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ لگے ہوئے گناہوں کے۔
نعیم بن حماد فی الفتن مستدرک وتعقب عن ابن عمر (رض) اخرجہ الحاکم فی المستدرک کتاب الفتن والملاحم
کلا بل ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون
ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ لگے ہوئے گناہوں کے۔
نعیم بن حماد فی الفتن مستدرک وتعقب عن ابن عمر (رض) اخرجہ الحاکم فی المستدرک کتاب الفتن والملاحم
31148 لن تنفكوا بخير ما استغنى أهل بدوكم عن أهل حضركم ولتسوقنهم السنين والسنات حتى يكونوا معكم في الديار ولا تمنعوا منهم لكثرة من يستر عليكم منهم ، يقولون : طال ما جعنا وشبعتم وطال ما شقينا ونعمتم فواسونا اليوم ! ولتستصعبن بكم الارض حتى يغبط أهل حضركم أهل بدوكم من استطعاب الارض ، ولتميلن بكم الارض ميلة يهلك فيها من هلك ويبقى من بقي حتى يعتق الرقاب ثم تهدأ بكم الارض بعد ذلك حتى يندم المعتقون ، ثم تميل بكم الارض من بعد ذلك ميلة أخرى فيهلك فيها من هلك ويبقى من بقي حتى تعتق الرقاب ثم تهدأ بكم الارض فيقولون : ربنا نعتق ربنا نعتق ، فيكذبهم الله : كذبتم ، كذبتم ، كذبتم ، أنا أعتق ولتبتلين أخريات هذه الامة بالرجف فان تابوا تاب الله عليهم ، وإن عادوا أعاد الله عليهم الرجف والقذف والخذف والمسخ والخسف والصواعق ، فإذا قيل : هلك الناس هلك الناس هلك الناس فقد هلكوا ، ولن يعذب الله أمة حتى تغدر قالوا : وما غدذها ؟ قال : يعترفون بالذنوب ولا يتوبون ولتطمئن قلوبهم بما فيها من برها وفجورها كما تطمئن الشجرة بما فيها حتى لا تسطيع محسن أن يزداد إحسانا ولا يستطيع مسئ استعتابا ، وذلك بأن الله عزوجل قال : (كلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون).
نعيم بن حماد في الفتن ، وتعقب - عن ابن عمرو)
نعيم بن حماد في الفتن ، وتعقب - عن ابن عمرو)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৬০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31149 ۔۔۔ فرمایا کہ لوگوں ایک زمانہ آنے والا ہے اگر ایک پتھر آسمان سے زمین کی طرف گرے تو ضرور کسی فاسق عورت یا منافق مرد پر گرے گا۔ (ابن عساکر فی تاریخہ بروایت انس (رض))
تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ پوری زمین فاسق اور بدکردار مردو عورتوں سے بھرجائے گی۔
تشریح۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ پوری زمین فاسق اور بدکردار مردو عورتوں سے بھرجائے گی۔
31149 ليأتين على الناس زمان لو وقع حجر من السماء إلى الارض ما وقع إلا على امرأة فاجرة أو رجل منافق. (كر في تاريخه - عن أنس).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৬১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31150 ۔۔۔ فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ مال و دولت اور اولاد کے کم ہونے والے پر غبطہ کریں گے جس طرح آج مال و دولت اور اولاد کی زیادتی پر غبطہ ہوتا ہے یہاں تک آدمی کسی کی قبر پر گذرے گا تو اس پر لوٹ پوٹ ہوگا جس طرح جانور اپنے باڑہ میں لوٹ پوٹ ہوتا ہے اور کہے گا اے کاش ! میں صاحب قبر کی جگہ ہوتا اس کو اللہ تعالیٰ سے ملنے کا کوئی شوق یا اعمال صالحہ جو آگے بھیجے اس کے ثمرات کا کوئی شوق نہیں ہوگا بلکہ آفات و مصائب سے تنگ ہو کر یہ تمنا کرے گا۔ طبرانی بروایت ابن مسعود (رض)
31150 ليأتين على الناس زمان يغبطون فيه الرجل بخفة الحاذ كما يغبطونه اليوم بكثرة المال والولد حتى يمر أحدكم بقبر أخيه فيتمعك عليه كما تتمعك الدابة في مراغها ، ويقول : يا ليتني مكانه ، ما به شوق إلى الله ولا عمل صالح قدمه إلا مما ينزل به من البلاء.
(طب - عن ابن مسعود).
(طب - عن ابن مسعود).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১১৬২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کم درجہ کے لوگوں کا زمانہ
31151 ۔۔۔ فرمایا اس ہو عرب کا ایک شران کے قریب آچکا ہے عنقریب تم میں سے کوئی اپنے بھائی یا کسی رشتہ دار کی قبر پر جائے گا اور تمنا کرے گا اے کاش ! کے میں اس کی جگہ ہوتا اور جو کچھ مصائب دیکھ رہاہوں ان کو نہ دیکھتا ۔ الخطیب بروایت ابوہریرہ (رض)
31151 ويل للعرب من شر قد اقترب ! يوشك أحدكم أن يسعى إلى قبر أخيه أو قبر رحمه فيقول : يا ليتني مكانك ! ولا أعاين.ما أعاين.(الخطيب - عن أبي هريرة).
তাহকীক: