কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৪৯ টি
হাদীস নং: ৩১২৬৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےعمل قاری کا حال
31251 ۔۔۔ فرمایا کہ اس قرآن کا وارث ہوگی ایک قوم جو قرآن دودھ پینے کی طرح سے حلق میں سنوار کر پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ ابوالنصر السجزی فی الا بانة والدیلمی بروایت ابن مسعود (رض)
31252 يرث هذا القرآن قوم يشربونه شرب اللبن لا يخلف تراقيهم.(أبو نصر السجزى في الابانة والديلمي - عن ابن مسعود).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৬৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےعمل قاری کا حال
31252 ۔۔۔ فرمایا خارجیوں کو قتل کریں گے دونوں فرقیوں میں جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب ہیں یا جو اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔ (ابویعلی والخطیب بروایت ابی سعید
31253 يقتل المارقين أحب الفئتين إلى الله وأقرب الفئتين من الله (ع والخطيب - عن أبي سعيد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৬৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےعمل قاری کا حال
31253 ۔۔۔ میرے بعد ایک قوم ہوگی جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کی حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین اسلام سے صاف طورپر نکل جائیں گے پھر اس طرف واپس نہیں لوٹیں گے یہاں تک تیر کمان میں واپس لوٹ آئے خوشخبری ہے ان کو قتل کرنے والوں کے لیے یا جس کو خارجی قتل کرے بدترین مقتول ہیں جن پر آسمان کا سایہ ہے یا زمین نے ان کو چھپایا ہے جہنم کے کتے ہیں۔ (طبرانی بروایت عبداللہ بن خباب بن ارت (رض) وفیہ محمد بن عمر الکلاعی وھو ضعیف )
31254 يكون من بعدي قوم يقرؤن القرآن لا يجاوز تراقيهم ، يمرقون من الدين ثم لا يعودون فيه حتى يعود السهم إلى فوقه ، طوبى لمن قتلهم وطوبى لمن قتلوه ! شر قتلى أظلتهم السماء وأقلتهم الارض ، كلاب أهل النار.(طب - عن عبد الله بن خباب ابن الارت)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৬৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےعمل قاری کا حال
31254 ۔۔۔ فرمایا میری امت میں ایک قوم ہوگی ان کی زبان قرآن پر سخت پھسلنے والی ہوگی جب ان کو دیکھوتو قتل کرڈالو۔ (مستدرک بروایت ابی بکرہ (رض))
31255...يكون في أمتى قوم أحداء ذلفة ألسنتهم بالقرآن ، فإذا رأيتموهم فأنيموهم.(ك - عن أبي بكرة)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৬৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےعمل قاری کا حال
31255 ۔۔۔ فرمایا عنقریب ایک قوم ظاہر ہوگی وہ قرآن توپڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین سے اس طرح صاف ہو کر نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے خوشخبری ہے ان کے لیے جو ان کو قتل کرے یا وہ ان کو قتل کریں اے یمامی تمہاری ہی سرزمین میں ان کا ظہور ہوگا وہ نہروں کے درمیان قتال کریں گے میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہاں تو کوئی نہر نہیں ہے فرمایا عنقریب ہوگی۔ (طبرانی بروایت طلق بن علی (رض))
31256 يوشك أن يجئ قوم يقرؤن القرآن لا يجاوز تراقيهم ، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ، طوبى لمن قلتهم وطوبى لمن قتلوهم ! أما ! إنهم سيخرجون بأرض قومك يا يمامي يقاتلون بين الانهار ! [ قتل : بأبي وأمي ] ما بها أنهار ، قال : إنها ستكون (طب عن طلق بن علي)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৬৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےعمل قاری کا حال
31256 ۔۔۔ فرمایا جن کو حروریہ مل جائے انھیں قتل کر ڈالے ۔ مستدرک فی تایخہ بروایت ابی مسعود
31257 من لقي الحرورية فليقتلهم.(ك في تاريخه - عن ابن مسعود).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৬৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےعمل قاری کا حال
31257 ۔۔۔ فرمایا جس کو حروریہ (خارجی فرقہ) قتل کرے شہید ہے۔ ابوالشیخ بروایت عمر (رض) ذخیرة الالفاظ 5485 ۔
31258 من قتله الحرورية فهو شهيد. (أبو الشيخ - عن عمر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31258 ۔۔۔ (مسند سعد بن تمیم السکونی والد بلال) سعد بن زید بن سعد الا شھلی نے کہا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نجران کی بنی ہوئی ایک تلوار ہدیہ میں ملی آپ نے محمد بن مسلمہ کو عطا کردی اور فرمایا کہ اس کے ذریعہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جب مسلمانوں آپس میں لڑنے لگیں تو اس تلوار کو پتھر پر مارو اور اپنے گھر میں داخل ہوجاؤ اور پھینکے ہوئے ٹاٹ بن جاؤ یہاں تک کوئی گناہ گار ہاتھ تمہیں قتل کردے یاطبعی موت آجائے۔ (البغوی والدیلمی ابن عساکر)
31259- "مسند سعد بن تميم السكوني والدبلال" عن سعد بن زيد ابن سعد الأشهلي قال: أهدي إلى النبي صلى الله عليه وسلم سيف من نجران فأعطاه محمد ابن مسلمة وقال: جاهد بهذا في سبيل الله! فإذا اختلفت أعناق الناس فاضرب به الحجر ثم ادخل بيتك فكن حلسا 1 ملقى حتى تقتلك كف خاطئة أو تأتيك منية قاضية. "البغوي والديلمي، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31259 ۔۔۔ فرمایا اے ابوذر تمہارے کیا حال ہوگا جب ادنی درجہ کے لوگوں میں زندگی گذارو اور انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر دکھایا عرض کیا میرے لیے کیا حکم ہے ؟ فرمایا صبر کہ صبر کر اور لوگوں سے معاملہ کر ان کے مزاج کے مطابق اور ان کے اعمال کی مخالفت کر۔ (ابن ماجہ مستدرک وتعقب البیھقی فی الزھد)
31260- يا أبا ذر! كيف أنت إذا كنت في حثالة؟ وشبك بين أصابعه، قال: ما تأمرني يا رسول الله؟ قال: اصبر اصبر اصبر! خالقوا الناس بأخلاقهم وخالفوهم في أعمالهم. "هـ، ك وتعقب، ق في الزهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31260 ۔۔۔ ابوذرغفاری (رض) فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابوذر جب لوگوں کو سخت بھوک ستائے گی تجھے بستر سے اٹھ کر مسجد آنے کی قدرت نہ ہوگی تو تم کیا کروگے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے فرمایا سوال کرنے سے بچتے رہو پھر فرمایا اے ابوذر بناؤ اگر لوگوں میں موت کی کثرت ہونے لگے حتیٰ کہ گھر قبر بن جائے تو کیا تمہارا کیا حال ہوگا ؟ عرض کیا اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہے ارشاد فرمایا صبر سے کام لو پھر فرمایا اے ابوذر ، بتاؤ اگر مسلمان ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے یہاں تک زیتون کا پتھرخون میں غرق ہوجائے تو تمہارا کیا حال ہوگا ؟ عرض کیا اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھر کا دروازہ بندکرکے بیٹھ جاؤ عرض کیا اگر لوگ مجھے گھر کے اندر بھی نہ چھوڑیں تو کیا کروں ؟ فرمایا ان کے پاس آجاؤ جن میں سے تم ہو عرض کیا اپنا اسلحہ تھام لوں ارشاد فرمایا کہ پھر تم بھی اس خون ریزی میں شریک ہوجاؤ گے لیکن اگر تمہیں خوف ہو کر ان کی تل اور کی شعاعیں تمہیں پہنچے گی تو اپنے چہرہ پر چادر ڈال لوتا کہ وہ (قاتل ) اپنا گناہ اور تمہارے گناہ اپنی سر لے کر جہنمی بن جائے۔ (ابن ابی شیبہ داؤد الطیالسی احمد ابوداؤد ابن ماجہ وابن منیع والرویانی ابن حابان مستدرک بیہقی سعید بن منصور)
31261- عن أبي ذر قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا ذر! أرأيت إن أصاب الناس جوع شديد لا تستطيع أن تقوم من فراشك إلى مسجدك كيف تصنع؟ قال: الله ورسوله أعلم، قال: تعفف! قال: يا أبا ذر! أرأيت إن أصاب الناس موت شديد يكون البيت فيه العبد - يعني القبر - كيف تصنع؟ قال: الله ورسوله أعلم، قال: اصبر؟ قال: يا أبا ذر! أرأيت إن قتل الناس بعضهم بعضا يعني حتى تغرق حجارة الزيت من الدماء كيف تصنع؟ قال: الله ورسوله أعلم، قال: اقعد في بيتك وأغلق عليك بابك! قال: فإن لم أترك؟ قال: فائت من أنت منهم فكن فيهم! قال؛ فآخذ سلاحي؟ قال: تشاركهم فيما هم فيه ولكن إن خشيت أن يروعك شعاع السيف فألق من طرف ردائك على وجهك كي يبوء بإثمه وإثمك ويكون من أصحاب النار. "ش، ط، حم، د، هـ وابن منيع والروياني، حب، ك، ق ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31261 ۔۔۔ ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابوذرتمہارا کیا حال ہوگا جب مال غنیمت کے سلسلہ میں تم پر اوروں کو ترجیح دیجائے تو میں نے عرض کیا پھر تلوار لے کر ان کو سیدھا کرونگا یہاں تک حق ظاہر ہوجائے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں اس سے اچھی بات نہ بتلادوں کہ صبر سے کام لو یہاں تک ۔ (موت کے بعد) مجھ سے ملاقات ہوجائے۔ (رواہ ابن النجار)
31262- عن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف أنت وقد استؤثر عليك بالفيء؟ فقلت: إذا آخذ سيفي فأجلدهم به حتى يظهر الحق قال: فأدلك على خير من ذلك: تصبر حتى تلقاني. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31262 ۔۔۔ حضرت سھل بن سعد الساعدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے فرمایا تمہارا کیا حال ہوگا جب تم بھوسے سے بھی کم حیثیت لوگوں میں زندگی گذارو گے ؟ امانتدار ی وعدہ عہد کی پابندی بجھ چکی ہوگی اور آپس میں اس طرح دست وگریباں ہوں گے انگلیوں کو آپس میں داخل کرکے دکھایا صحابہ (رض) عرض کیا جب وہ زمانہ آجائے توہم کیا کریں ؟ ارشاد فرمایا کہ معروفات پر عمل کرو منکرات کو تراک کرو پھر عبداللہ بن عمر بن عاص نے عرض کیا اس زمانہ میں میرے لیے کیا حکم ہے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرمایا میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تاکید کرتا ہوں صرف اپنے اعمال کی اصلاح کی فکر وعوام کے معاملات کو چھوڑ دو ۔ رواہ بیہقی
31263- عن سهل بن سعد الساعدي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأصحابه: كيف أنتم إذا بقيتم في حثالة من الناس مرجت أماناتهم وعهودهم وكانوا هكذا؟ ثم أدخل أصابعه بعضها في بعض، قالوا: فإذا كان كذلك كيف نفعل يا رسول الله؟ قال: خذوا ما تعرفون ودعوا ما تنكرون! ثم قال عبد الله بن عمرو بن العاص: ما تأمرني به يا رسول الله إذا كان ذلك؟ قال: آمرك بتقوى الله! وعليك بنفسك وإياك وعامة الأمور. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31263 ۔۔۔ ابن سیر ین رحمتہ اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ابومسعود انصاری (رض) نے فرمایا کہ ہمارے حکام اس مقام پر پہنچ گئی کہ مجھے دو باتوں کا اختیار دیا کہ یا تو ایسی باتوں پر قائم رہوں جو میری چاہت کے بالکل خلاف ہیں جس سے میری عزت خاک میں مل جائے یا یہ کہ اپنی تلوار ہاتھ میں لوں اور قتال کرتے ہوئے قتل ہوجاؤں اور جہنم میں داخل ہوں تو میں نے اس کو اختیار کیا کہ ان باتوں پر قائم رہوں جو میری طبیعت کے خلاف ہیں جس سے میری عزت خاک میں مل گئی میں نے تلوار ہاتھ میں نہیں لی جس سے قتال کرتے ہوتے قتل ہوجاؤں اور جہنم میں داخل ہوجاؤں ۔ (نعیم فی النفتن)
31264- عن ابن سيرين قال قال أبو مسعود الأنصاري: أصبح أمرائي يخيروني أن أقيم على ما أرغم أنفي وقبح وجهي أو آخذ سيفي فأقاتل فأقتل فأدخل النار، فاخترت أن أقيم على ما أرغم أنفي وقبح وجهي ولا آخذ سيفي فأقاتل فأقتل فأدخل في النار. "نعيم في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31264 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا میں جانتاہوں فتنے کو قریب ہے کہ ہو وہ چیزیں جو اس سے پہلے تھی اس کے ساتھ جیسے خرگوش کا بھڑک کر بھاگنا اکسائے جانے پر اور مجھے اس کے نکلنے کی جگہ بھی معلوم ہے قریب ہے کہ میں اپنا ہاتھ روکوں تو وہ مجھے قتل کرنے کے لیے آجائے۔ نعیم فی الفتن۔
31265- عن أبي هريرة قال: إني لأعلم فتنة يوشك أن تكون التي قبلها معها كنفجة 1 أرنب. وإني لأعلم المخرج منها أن أمسك بيدي حتى يجيء من يقتلني. "نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31265 ۔۔۔ چندب بن سفیان جیلہ کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عنقریب میرے بعد فتنے ظاہرہوں گے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح لوگوں سے اس طرح ٹکڑائے گا جیسے دوسانڈوں کے سر آپس میں ٹکراتے ہیں آدمی اس صبح مومن ہے توشام کو کافر اور شام کو مومن ہے تو صبح کو کافری ایک مسلمان نے پوچھا کہ یارسول اللہ ہم اس زمانہ میں کیا کریں ؟ فرمایا کہ اپنے گھروں میں داخل ہو اور بےنام ونشان بن جاؤ، ایک مسلمان نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر وہ ہم میں سے کسی کے گھر میں گھس آئے تو کیا کیا جائے فرمایا اپنے ہاتھ کو روک لے اور اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ بنے قاتل نہ بنے کیونکہ آدمی اسلام کے فتنہ میں مبتلا ہو کر اپنے مسلمان بھائی کا مال ۔ (ناحق) کھاتا ہے اور اس کا خون بہتاتا ہے اپنے رب کی نافرمانی کرتا ہے اور خالق کا انکار کرتا ہے اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے۔ ابن ابی شیبة
31266- عن جندب بن سفيان عن رجل بجيلة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سيكون بعدي فتن كقطع الليل المظلم تصدم الرجل كصدم جباه فحول الثيران، يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا، فقال رجل من المسلمين: يا رسول الله! فكيف نصنع عند ذلك؟ قال: ادخلوا بيوتكم وأخملوا ذكركم! قال رجل من المسلمين: يا رسول الله! أفرأيت إن دخل على أحدنا بيته؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فليمسك بيديه وليكن عبد الله المقتول ولا يكن عبد الله القاتل! فإن الرجل يكون في فتنة الإسلام فيأكل مال أخيه ويسفك دمه ويعصي ربه ويكفر خالقه فتجب له جهنم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل فی الوصیة فی الفتن
31266 ۔۔۔ عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ فرمایا جو لوگ اپنے دین کی حفاظت کے لیے (فتنہ سے) بھاگتے ہیں ان کا حشر عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) کے ساتھ ہوگا۔ نعیم بن حماد فی الفتن
31267- عن عبد الله بن عمرو قال: الذين يفرون بدينهم يجتمعون إلى عيسى ابن مريم. "نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৭৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت اور بدعہدی
31267 ۔۔۔ عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد بیٹھے ہوئے تھے تو فتنہ کا تذکرہ شروع ہوا ۔ آپ کے پاس فتنہ کا ذکر کیا گیا توراوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تم دیکھو لوگوں کو کہ ان میں عہد کی پابندی ختم ہوگئی ہے اور امانت داری کمزور ہوگئی ہے اور آپس میں اس طرح دست وگربیان ہونے لگے ہیں۔ (انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرکے دکھایا) راوی کہتے ہیں کہ میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اس زمانہ میں کیا عمل کروں ؟ اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اپنے گھرکولازم پکڑلو اور اپنی زبان پر قابو رکھو اور اچھی باتوں پر عمل کرو منکرات کو ترک کرو صرف اپنے نفس کی اصلاح کی فکر کرو اور لوگوں کا معاملہ چھوڑ دو ۔ (ابن ابی شیبہ)
31268- عن عبد الله بن عمرو قال: بينا نحن حول رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ ذكر الفتنة - ذكرت عنده - قال فقال: إذا رأيت الناس مرجت عهودهم وخفت أماناتهم وكانوا هكذا - وشبك بين أصابعه - قال: فقمت إليه فقلت: كيف أفعل عند ذلك! جعلني الله فداك! قال: فقال لي: إلزم بيتك وأمسك عليك لسانك وخذ بما تعرف ودع ما تنكر! وعليك بخاصة نفسك وذر عنك أمر العامة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৮০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت اور بدعہدی
31269 ۔۔۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا فتنے ہوں گے تو کیا عرب ان سے محفوظ رہ سکیں گے ان کے قاتلین آگ میں ہوں گے زبان کی مار تلوار کی مار سے سخت ہوگی۔ ابن ابی شیبہ۔
31269- عن ابن عمرو قال: تكون فتنة - أو فتن - تستنظف العرب؟ قتلاها في النار، اللسان فيها أشد من وقع السيف. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৮১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت اور بدعہدی
31268 ۔۔۔ عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں میں زندگی گذارو جن کی حیثیت بھوسے کی طرح ہوگی کہ عہد کی پابندی کمزور ہوگی اور آپس میں اس طرح ست گریباں ہوں گے انگلیوں کو آپس میں داخل کرکے دکھایا عرض کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے حکم فرمائیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ معروف پر عمل کرو منکرات کو چھوڑ دو اور خاص اپنے نفس کی اصلاح کی فکر کرو لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دو جب جنگ صفین کا دن ہوا تو ان سے ان کے والد عمرو نے کہا اے عبداللہ نکلو قتال میں حصہ لوعرض کیا اے ابا جان آپ مجھے نکل کر قتال کرنے کا حکم دے رہے ہیں جب کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ ارشادات سن چکاہوں جو انھوں نے مجھ سے عہد لیتے ہوئے فرمایا تو عمر وبن عاص نے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا یہ آخری بات نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے ہاتھ پکڑ کہ میرے ہاتھ تھما دیا تھا کہ اپنے باپ کی اطاعت کروتو انھوں نے کہا اللھم بلی ہاں ضرور ایسا ہوا۔ رواہ ابن عساکر
31270- عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف بك إذا بقيت في حثالة من الناس قد مرجت عهودهم ومواثيقهم وكانوا هكذا؟ فخالف بين أصابعه، قال: فأمرني بأمر يا رسول الله! قال: تأخذ ما تعرف وتدع ما تنكر وتعمل بخاصة نفسك وتدع الناس وعوام أمرهم! فلما كان يوم صفين قال له أبوه عمرو: يا عبد الله! اخرج فقاتل! فقال: يا أبتاه! أتأمرني أن أخرج فأقاتل وقد سمعت ما سمعت يوم عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم ما عهد! فقال: أنشدك بالله! يا عبد الله ألم يكن آخر ما عهد إليك رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أخذ بيدك فوضعها في يدي ثم قال: أطع أباك!قال: اللهم بلى. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১২৮২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خیانت اور بدعہدی
31269 ۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ فتنہ کے زمانہ میں بہترین لوگ سیاہ بکری والے ہیں جو ان کو پہاڑی گھاٹیوں اور وادیوں میں چراتے ہیں اور برے لوگ وہ ہیں جو کسی اونچی جگہ سوار ہیں یافصیح خطیم نعیم
31271- عن ابن مسعود قال: خير الناس في الفتنة أهل شاء سود يرعين في شعف الجبال ومواقع القطر، وشر الناس فيها كل راكب موضع وكل خطيب مصقع. "نعيم".
তাহকীক: