কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৪০৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معطم بن عدی
34083 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے پھر وہ مجھ سے ان بدبودار لوگوں کے بارے میں بات کرتے تو میں ان کو چھوڑ دیتا یعنی بدر کے قیدی۔ (احمدبن حنبل بخاری، ابوداؤد بروایت جیبر بن مطعم)
34083- "لو كان المطعم بن عدي حيا ثم كلمني في هؤلاء النتنى لأطلقتهم له يعني أساري بدر. " حم، خ، د - عن جبير ابن مطعم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابورغال
34084 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہ ابورغال کی قبر ہے اور وہ حرم میں ہوتے تھے اس کا دفاع کرکے تھے، جب وہ نکلے تو ان کو وہ سزاء پہنچی جو ان کی قوم کو اس جگہ پہنچی تھی ، ان کو وہیں دفن کردیا گیا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک سونے کی چھڑی دفن کی گئی ہے اگر تم لوگ اس کو چوری کروگے تو تمہیں بھی وہی سزا پہنچے گی۔ (ابو داؤد بروایت ابن عمر)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :6084
34084- "هذا قبر أبي رغال وكان بهذا الحرم يدفع عنه، فلما خرج أصابته النقمة التي أصابت قومه بهذا المكان فدفن فيه، وآية ذلك أنه دفن معه غصن من ذهب، إن أنتم نبشتم عنه أصبتموه معه. " د - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تبع
34085 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تبع کو گالی مت دو کیونکہ وہ مسلمان ہوچکے ہیں۔ (احمد بن حنبل بروایت سہل بن سعد)
34085- "لا تسبوا تبعا، فإنه كان قد أسلم. " حم - عن سهل ابن سعد".ق - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تبع
34086 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں کہ تبع نبی تھے یا نہیں ؟ اور مجھے معلوم نہیں کہ ذو القرنین نبی تھے یا نہیں ؟ اور مجھے معلوم نہیں کہ حدود اس شخص کے لیے جس پر حدجاری ہوکفارات ہیں یا نہیں ؟ (مستدرک حاکم عقیلی فی الضعفاء بروایت ابوہریرة)
34086 ما أدرى تبع أنبيا كان أم لا ؟ وما أدري ذا القرنين أنبيا كان أم لا ؟ وما أدري الحدود كفارات لاهلها أم لا ؟ (ك ، هق عن ابي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تبع
34087 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں کہ تبع نبی تھے یا نہیں ؟ اور مجھے معلوم نہیں کہ عزیز نبی تھے یا نہیں ؟ اور مجھے معلوم نہیں کہ حدود اس شخص کے لیے جس پر حدود جاری ہوں کفارات ہیں یا نہیں۔ (مستدرک حاکم، عقیلی فی الضعفاء بروایت ابوہریرة)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :4991
34087 ما ادري تبع أنبيا كان أم لا ، وما أدري عزيز أنبيا كان أم لا ، وما أدري الحدود كفارات لاهلها أم لا (ك ، هق عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن عامر ابوخزاعة
34088 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتوں کو کھینچ رہا ہے اور یہ پہلا شخص ہے جس نے سوائب (اونٹی) کو آزاد چھوڑا اور بحرہ (اونٹنی کا بچہ) کے کان کاٹے۔ (احمد بن حنبل عقیلی فی الضعفاء بروایت ابوہریرة) سوائب :۔۔۔ یہ سائبہ کی جمع ہے جس کو عرب کے ہاں آزاد چھوڑا دیاجاتا تھا اس کو نہ پانی سے نہ کسی چراگاہ سے روکاجاتا تھا، اور نہ اس پر سواری کی جاتی تھی۔ بحیرة۔۔۔ سائبہ اونٹنی جب بچہ دیتی تو اس کے کان کاٹ دیتے تھے اور اس کے بھی وہی احکام ہوتے تھے جو سائبہ کے لیے تھے اس کو بحیرة کہتے تھے، یہ دونوں کام سب سے پہلے عمروبن عامر خزاعی نے کیے تھے جس کا ذکر حدیث میں کہا گیا ہے۔
34088 رأيت عمرو بن عامر الخزاعي يجر قصبه في النار وكان أول من سيب السوائب وبحر البحيرة حم ،فكانوا إذا ولدت إبلهم سقبا بحروا أذنه : أي شقوها وقالوا : اللهم إن عاش ففتي ، وإن مات فذكي ، فإذا مات أكلوه وسموه البحيرة ، وقيل : كانوا إذا تابعت الناقة بين عشر إناث لم يركب ظهرها ولم يجز وبرها ، ولم يشرب لبنها إلا ولدها أو ضيف ، وتركوها مسيبة لسبيلها وسموها السائبة ، فما ولدت بعد ذلك من أثنى شقوا أذنها وخلوا سبيلها ، وحرم منها ما حرم من أمها وسموها البحيرة.

النهاية 1 / 100.ق عن أبي هريرة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمرو بن عامر ابوخزاعة
34089 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک پہلاوہ شخص جس نے سوائب کو آزاد کیا اور بتوں کی عبادت کی ابو خزاعہ عمرو بن عامر ہے اور میں نے اس کو جہنم میں دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتوں کو کھینچ رہا ہے۔ (احمدبن حنبل بروایت بن مسعود)
34089- "إن أول من سيب السوائب وعبد الأصنام أبو خزاعة عمرو بن عامر وإني رأيته في النار يجر أمعاءه فيها. " حم - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪০৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوطالب
34090 ۔۔۔ رسول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام بھلائی کہ میں اس کی امید اپنے رب سے کرتا ہوں۔ ( ابن سعید تاریخ ابن عساکر بروایت عباس)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :4212 ۔
34090- "كل الخير أرجوه من ربي. " ابن سعد وابن عساكر - عن العباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوطالب
34091 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک وہ (ابوطالب) جہنم کے پایاب پانی میں ہیں۔ جہنم کی آگ ان کے پاوں تک ہی ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے درجے میں ہوئے (یعنی ابوطالب) ۔ (احمدبن حنبل عقیلی فی الصعفاء بروایت عباس بن عبدالمطلب مسلم 357 اور 358)
34091- "إنه في ضحضاح من النار، و - لولا أنا لكان في الدرك الأسفل - يعني أبا طالب. " حم، ق - عن العباس ابن عبد المطلب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوطالب
34092 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید ان کو (ابوطالب ) میری سفارش قیامت کے دن دن فائدہ دے۔ پس ان کو جہنم میں پایا پانی (کی مقدار) میں کردیا جائے گا (آگ) ان کے ٹخنوں تک پہنچے گی جس سے ان کا دماغ ابلے گا یعنی ابوطالب۔ (احمد بن حنبل عقیلی شی الصنعنا ، بروایت ابوسعید)
34092- "لعله تنفعه شفاعتي يوم القيامة فيجعل في ضحضاح من النار يبلغ كعبيه يغلى منه دماغه - يعني أبا طالب. " حم، ق - عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوطالب
34093 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ (ابوطالب ) جہنم کے پایاب پانی (کی مقدار ) میں ہیں ، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے نچلے درجے میں ہیں یعنی ابوطالب ۔ (عقیلی ضعفاء بروایت عباس مسلم :(357 اور 358)
34093- "هو في ضحضاح من نار، ولولا أنا لكان في الدرك الأسفل من النار - يعني أبا طالب. " ق - عن العباس". ق - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوجہل
34094 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ نے ابوجہل کو ہلاک کہا، پس تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچ فرمایا اور اپنے دین کی مدد کی ۔ (عقیلی فی الصنفاء بروایت ابن مسعود)۔ کلام : ۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع : 1621 ۔
34094- "إن الله قتل أبا جهل، فالحمد لله الذي صدق وعده ونصر دينه. " عق - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمروبن لحی بن قمعة
34095 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے عمر وبن لحی بن قمعہ بن خندف جو بنوکعب کے بھائی ہیں کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی آنتوں کو کھینچ رہے ہیں۔ (مسلم بروایت ابوہریرة)
34095- "رأيت عمرو بن لحي بن قمعة بن خندف أخا بني كعب وهو يجر قصبه في النار. " م - عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمروبن لحی بن قمعة
34096 ۔۔۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہلا وہ شخص جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کو بدلاعمرو بن قمعہ بن خندف ابوخزاعہ ہے۔ (طبرانی بروایت ابن عسی)
34096- أول من غير دين إبراهيم عمرو بن لحي بن قمعة بن خندف أبو خزاعة. "طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34097 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر جہنم پیش کی گئی، میں نے اس میں عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف کو دیکھا جو جہنم میں اپنی آنتوں و کھینچ رہا ہے اور وہ پہلا شخص ہے جس نے عہدابراہیم کو بدلا، سوائب (ٕاونٹیاں) آزاد چھوڑیں اور بحیرہ (اونٹنی کے بچے) کے کان کاٹ کر چھوڑے اور اونٹوں کو آزاد چھوڑا اور بتوں کو متعین کیا اور اس کے سب سے زیادہ مشابہ جو میں نے دیکھا وہ اکشم بن ابی الجون ہے پس اکشم نے عرض کیا یارسول اللہ (کیا) یہ مجھے نقصان کرے گا، تو (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) فرمایا : نہیں ! کیونکہ آپ مسلمان ہیں اور وہ کافر تھا۔ (احمدبن حنبل ابن ابن شیبہ مستدرک حاکم بروایت ابوہریرة)
34097- "عرضت علي النار فرأيت فيها عمرو بن لحي بن قمعة بن خندف يجر قصبه في النار، وهو أول من غير عهد إبراهيم، سيب السوائب وبحر البحائر وحمى الحامي ونصب الأوثان وأشبه من رأيت به أكثم بن أبي الجون، فقال أكثم: يا رسول الله! يضرني؟ قال: لا، إنك مسلم وإنه كافر. " حم، ش، ك - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34098 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت اپنی تمام ترخوبیوں کے ساتھ میرے سامنے پیش کی گئے میں نے اس سے انگور کا ایک خوشہ بیا وہ میں تمہارے پاس لارہا تھا پس میرے اور اس کے درمیان حائل کردیا گیا اور اگر وہ میں تمہارے پاس لے آتا تو جو (ٕلوگ ) آسمان اور زمین سے درمیان ہیں وہ اس سے کھاتے اور اس میں سے (ٕکچھ) کم نہ ہوتاپھر میرے سامنے جہنم لائی گئی سو جب میں نے اس کی گرمائش محسوس کی تو میں اس سے پیچھے ہٹا اور بہت زیادہ جنہیں میں نے اس (جہنم) میں دیکھا وہ عورتیں تھیں کہ اگر (کوئی بات) امانت رکھی جائی تو وہ اس کو پھیلاتیں اور اگر سوال کرتیں کو اصرا ر کرتیں اور اگر (ان سے ) مانگاجاتاتو کنجوسی کرتیں اور میں نے اس میں عمرو بن لحیی کو دیکھا جو جہنم میں اپنی آنتوں کو کھینچ رہا ہے اور اس کے سب سے زیاد ہ مشابہ جو میں نے دیکھامعبدبن کثم کعبی کو تو معبد نے عرض کیا ! اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا مجھ پر اس کی مشابہت کی وجہ سے کس چیز کا ڈر کیا جاتا ہے اور وہ اس ذات کی قسم ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں آپ مسلمان ہیں اور وہ کافر تھا اور وہ پہلا شخص تھا جس نے عرب کو بتوں کی عبادت پر ابھارا ۔ (احمد بن حنبل عبدبن حمید مسند ابویعلی شاشی سعید بن منصور بروایت جابر)
34098- "عرضت علي الجنة بما فيها من الزهرة فتناولت منها قطفا من عنب لآتيكم به، فحيل بيني وبينه ولو أتيتكم به لأكل منه من بين السماء والأرض ولا ينقص منه، ثم عرضت علي النار فلما وجدت سفعها تأخرت عنها؛ وأكثر من رأيت فيها النساء اللاتي إن ائتمن أفشين، وإن سألن الحفن ، وإن سئلن بخلن، ورأيت فيها عمرو بن لحي يجر قصبه في النار، وأشبه من رأيت به معبد بن أكثم الكعبي، فقال معبد: يا رسول الله! أيخشى علي من شبهه وهو والذي، قال: لا، أنت مؤمن وهو كافر، وكان أول من حمل العرب على عبادة الأصنام. " حم وعبد بن حميد، ع والشاشي، ص - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
مالک بن انس (رض)
34099- "يوشك أن يضرب الناس أكبادا الابل يطلبون العلم فلا يجدون أحدا أعلم من عالم المدينة. " ت ، ك - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
34099 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب لوگ دور دور کا سفرکریں گے اور علم تلاش کریں گے اور مدینہ کے عالم سے بڑا عالم کسی کونہ پائیں گے ۔ (ترمذی مستدرک حکام بروایت ابوہریرہ)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الترمذی :502 ضعیف الجامع :6448 ۔
34100- "يخرج الناس من المشرق والمغرب في طلب العلم فلا يجدون عالما أعلم من عالم المدينة. " طب - عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکٹھے چند قبائل کا ذکر ۔۔۔ اکمال
34101 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے ، انھوں نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا پھر میں زمین کے مشرق اور مغرب اور اس کی نرم اور سخت جگھوں میں گوماسو میں نے عرب سے بہتر کوئی قبیلہ نہ پایا ، پھر اللہ نے مجھے حکم دیا پھر میں مضر میں سو میں نے کنانہ سے بہتر کوئی قبیلہ نہ پایا، پھر اللہ نے مجھے حکم دیا پھر میں کنانہ میں گھوما سو میں نے قریش سے بہتر کوئی قبیلہ نہ پایا ، پھر اللہ نے مجھے حکم دیا پھر میں قریش میں گھوما سو میں نے نبی ہاشم سے بہتر کوئی قبیلہ نہ پایا، پھر مجھے حکم دیا پھر میں نے نبی ہاشم میں سے چناسو میں نے آپ کی ذات سے بہتر کوئی ذات نہ پائی۔ (حکیم بروایت جعفر بن محمد بن ابیہ معضلا)
34101- "أتاني جبريل فقال: يا محمد! إن الله بعثني فطفت شرق الأرض وغربها وسهلها وجبلها فلم أجد حيا خيرا من العرب، ثم أمرني فطفت في العرب فلم أجد حيا خيرا من مضر، ثم أمرني فطفت في مضر فلم أجد حيا خيرا من كنانة، ثم أمرني فطفت في كنانة فلم أجد حيا خيرا من قريش، ثم أمرني فطفت في قريش فلم أجد حيا خيرا من بني هاشم، ثم أمرني أختار في أنفسهم فلم أجد فيها نفسا خيرا من نفسك. "الحكيم - عن جعفر ابن محمد عن أبيه معضلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪১১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکٹھے چند قبائل کا ذکر ۔۔۔ اکمال
34102 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلم (قبیلہ) اللہ تعالیٰ اس کو سلامت رکھے اور غفار (قبیلہ ) اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے۔ (طبرانی بروایت ابن عباس)
34102- "أسلم سالمها الله! وغفار غفر الله لها. " طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক: