কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৪৪৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت
34463 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری وقت ان امتوں میں جو گذر گئی عصر کی نماز کے درمیان سے سورج کے غروب ہونے تک جیسا ہے اور تمہاری مثال اور یہود و نصاری کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کچھ مزدور اجرت پرلے لے وہ کہے : کون میرے لیے صبح سے نصف النھار تک ایک ایک قیراط پر کام کرے گا ؟ تو یہود نے کام کیا پھر اس نے کہا : کون میرے لیے نصف النہار سے عصر کی نماز تک ایک ایک قیراط پر کام کرے گا ؟ پھر نصاری نے کام کیا۔ پھر اس نے کہا : کون عصر سے غروب شمس تک دودو قیراط پر کام کرے گا سو تم وہ ہو ۔ تویہواد اور نصاری غصہ ہوگئے۔ اور انھوں نے کہا : ہمیں کیا ہے کہ کام زیادہ کیا اور بدلہ کم ملا ؟ تو انھوں نے کہا : کیا میں نے تمہیں تمہارے حق میں سے کچھ بھی کم دیا ہے ؟ انھوں کہا : نہیں تو فرمایا یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہتاہوں اپنا فضل دیتاہوں ۔ (مالک احمدبن حنبل بخاری ترمذی بروایت ابن عمر)
34463- "إنما أجلكم فيما خلا من الأمم كما بين صلاة العصر إلى مغارب الشمس، وإنما مثلكم ومثل اليهود والنصارى كمثل رجل استأجر أجراء فقال: من يعمل لي من غدوة إلى نصف النهار على قيراط قيراط؟ فعملت اليهود؛ ثم قال: من يعمل لي من نصف النهار إلى صلاة العصر على قيراط قيراط؟ فعملت النصارى، ثم قال: من يعمل من العصر إلى أن تغيب الشمس على قيراطين قيراطين؟ فأنتم هم، فغضبت اليهود والنصارى وقالوا: ما لنا أكثر عملا وأقل عطاء؟ قال: هل ظلمتكم من حقكم شيئا؟ قالوا: لا، قال: فذاك فضلي أوتيه من أشاء. " مالك، حم، خ ت - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت
34464 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں کی اور یہود و نصاری کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ایک قوم کو اجرت کے لیے لے کہ وہ اس کے لیے رات تک کام کریں تو انھوں نے نصف النہار تک کام کیا پھر انھوں نے کہا ہمیں آپ کی اس اجرت کی کوئی ضرورت نہیں جو آپ نے ہمارے لیے متعین کی ہے اور جو کچھ ہم نے کام کیا تو (وہ) آپ کے لیے ہے تو اس نے ان سے کہا (پورا) کام مت کرو اپنا باقی کام پورا کرلو اور اپنی پوری اجرت لے لو تو انھوں نے انکار کیا اور چھوڑ دیا پھر اس شخص نے ان کے بعد دوسروں کو اجرت پر لیا تو اس نے کہا : اپنے دن کا بقیہ حصہ کام کرو تمہاری وہ اجرت ہے جو میں نے تمہارے لیے متعین کی ہے تو انھوں نے کام کیا تو جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو انھوں نے کا : کیا تیرے لیے وہ کام ہے جو ہم نے کیا اور تیرے لیے وہ اجرت ہے جو اس کام میں تو نے ہمارے لیے رکھی تو اس نے کہا : اپنا بقیہ کام پورا کرلو دن کا تھوڑا حصہ ہی باقی ہے تو انھوں نے انکار کیا پھر اس شخص نے اور لوگوں کو اجرت پر لیا کہ وہ اس کے لیے ان کے دن کا بقیہ حصہ کام کریں تو انھوں نے ان کے دن کا بقیہ حصہ کام کیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا اور انھوں نے دونوں جماعتوں کی اجرت پوری لے لی، سو یہ تمہاری مثال اور اس نور کی مثال ہے جو انھوں نے قبول کیا۔ (بخاری بروایت ابوموسی)
34464- "مثل المسلمين واليهود والنصارى كمثل رجل استأجر قوما يعملون له عملا إلى الليل، فعملوا إلى نصف النهار فقالوا: لا حاجة لنا إلى أجرك الذي شرطت لنا؛ وما عملنا فلك، فقال لهم: لا تفعلوا، اكملوا بقية عملكم وخذوا أجركم كاملا، فأبوا وتركوا، فاستأجر آخرين بعدهم فقال: اعملوا بقية يومكم ولكم الذي شرطت لكم من الأجر، فعملوا حتى إذا كان حين صلاة العصر قالوا: ألك ما عملنا ولك الأجر الذي جعلت لنا فيه، فقال: أكملوا بقية عملكم فإنما بقي من النهار شيء يسير، فأبوا فاستأجر قوما أن يعملوا له بقية يومهم، فعملوا بقية يومهم حتى غابت الشمس واستكملوا أجر الفريقين كليهما، فذلك مثلهم ومثل ما قبلوا من هذا النور. " خ - عن أبي موسى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34465 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت کو خوشخبری دو بجلی کی چمک کی دین کی بلندی کی مدد کی اور زمین میں غلبہ حاصل کرنے کی ۔ جو کوئی ان سے آخرت کا کام دنیا کے لیے کرے گا تو اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ (احمدبن حنبل ابن حبان مستدرک حاکم بیہقی بروایت ابی)
34465- "بشر هذه الأمة بالسناء والدين والرفعة والنصر والتمكين في الأرض! فمن عمل منهم عمل الآخرة للدنيا لم يكن له في الآخرة من نصيب." حم، حب، ك، هب - عن أبي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34466 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تبارک وتعالی قیامت کے دن مخلوق کو جمع فرمائیں گے تو امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ کی اجازت دیں گے پس وہ اللہ کے لیے لمباسجدہ کریں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ اپنے سروں کو اٹھاؤ ہم نے تمہارے برابر کفار جہنم سے تمہارے بدلے کردئیے ہیں۔ (ابن ماجہ طبرانی بروایت ابوموسی)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :458 ضعیف ابن ماجہ :933
34466- "إذا جمع الله تبارك وتعالى الخلائق يوم القيامة أذن لأمة محمد في السجود فيسجدون له طويلا ثم يقال لهم: ارفعوا رؤسكم فقد جعلنا عدتكم من الكفار فداء لكم من النار. " هـ، طب - عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34467 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت سفید پیشانی روشن اعضاء والی ہے۔ (سمویہ ضیاء بروایت جابر ذخیرة الحفاظ : 730)
34467- " أمتي الغر المحجلون. " سمويه والضياء - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34468 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے میری امت کے بارے میں ان باتوں سے درگذر فرمایا جس کا وسوسہ ان کے دلوں میں ہو جب تک وہ کر نہ لیں یا بات نہ کریں اور ان سے (درگزر فرمایا) جس پر وہ مجبور ہوں ۔ (بیہقی بروایت ابوہریرہ)
34468- "إن الله تجاوز لي عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل أو تكلم. " حم؛ ن، ت عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34469 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگذر فرمایا جن کا ان کے دلوں میں وسوسہ ہو جب تک وہ کر نہ لیں یا بات نہ کریں۔ (بیہقی بروایت ابوہریرة)
34469- "إن الله تجاوز عن أمتي عما توسوس به صدورهم ما لم تعمل أو تكلم به وما استكرهوا عليه. " هق - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34470 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ مجھے اپنے امت کے بارے میں اس بات سے عاجز نہ کریں گے کہ اس کو آدھے دن یعنی پانچ سو سال موخر کریں ، یہ امت یا اس کی بادشاہت سو سال تک باقی رہے گی۔ (حلیة الاولیاء بروایت سعد)
34470- "إن الله لن يعجزني في أمتي أن يؤخرها نصف يوم خمسمائة عام. " حل - عن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34471 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے وہ جو سفارش کریں گے ربیعہ اور مضر سے زیادہ ہیں اور میری امت میں سے وہ جو جہنم کے لیے دشوار ہوں گے یہاں تک کہ وہ جہنم کے کناروں میں سے ایک کنارے میں ہوں گے اور نہیں ہے کوئی دو مسلمان جن کے چار بچے فوت ہوگئے ہوں مگر اللہ تعالیٰ ان دونوں کو اپنے رحمت کے فضل سے جنت میں داخل فرمائیں گے ان کو بھی یا (فرمایا) تین یا (فرمایا) دو (احمدبن حنبل مستدرک حاکم بروایت عاصم بن اقیش اور اس کے علاوہ اس کا کوئی راوی نہیں ابن ماجہ نے اس کا ابتدائی حصہ روایت کیا ہے)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :2000 النافلہ :65
34471- "إن من أمتي لمن يشفع لأكثر من ربيعة ومضر، وإن من أمتي لمن يعظم للنار حتى يكون زاوية من زواياها وما من مسلمين يموت لهما أربعة من الولد إلا أدخلهما الله الجنة بفضل رحمته إياهم أو ثلاثة أو اثنان. " حم، ك - عن الحارث بن أقيش، وما له غيره وروى هـ صدره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34472 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میری امت میں سے وہ جو لوگوں کی جماعت کی سفارت کریں گی اور بعض وہ ہیں جو قبیلے کی سفارش کریں گے اور بعض وہ ہیں جو عصبہ کی سفارش کریں گے اور بعض وہ ہیں جو ایک آدمی کی سفارش کریں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (احمد بن حنبل ترمذی بروایت ابوسعید)
34472- "إن من أمتي لمن يشفع للفئام من الناس ومنهم من يشفع للقبيلة ومنهم من يشفع للعصبة ومنهم من يشفع للرجل - حتى يدخلوا الجنة. " حم، ت عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34473 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ امت امت مرحومہ ہے اس پر کوئی عذاب نہیں ، اس کا عذاب اس کے ہاتھوں میں ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو مسلمانوں میں سے ہر شخص کو مشرکین میں سے ایک شخص دیا جائے سو کہا جائے گا یہ جہنم سے تیرے بدلے ہے۔ (ابن ماجہ بروایت انس)
34473- "إن هذه الأمة أمة مرحومة لا عذاب عليها؛ عذابها بأيديها، فإذا كان يوم القيامة دفع إلى كل رجل من المسلمين رجل من المشركين فيقال: هذا فداؤك من النار. " هـ - عن أنس
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34474 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم امتوں میں سے سب سے آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کئے جائیں گے کہا جائے گا کہاں ہے امی امت اور اس کا نبی ؟ سو ہم بعد میں لوٹنے والے پہلے ہیں۔ (ابن ماجہ بروایت ابن عباس)
34474- "نحن آخر الأمم وأول من يحاسب يقال أين الأمة الأمية ونبيها؟ فنحن الآخرون الأولون." هـ - عن ابن عباس ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34475 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم بعد میں آنیوالے قیامت کے دن سبقت کرنے والے ہیں علاوہ اس بات کے کہ انھیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب دی گئی پھر یہ ان کا وہ دن ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر متعین کیا اس میں انھوں نے اختلاف کیا سوا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت دی لوگ ہمارے اس میں تابع ہیں یہود کل اور نصاری پرسوں۔ (احمد بن حنبل بیہقی نسائی بروایت ابوہریرة)
34475- "نحن الآخرون السابقون يوم القيامة بيد أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا وأوتيناه من بعدهم، ثم هذا يومهم الذي فرض الله عليهم فاختلفوا فيه فهدانا الله له، فالناس لنا فيه تبع اليهود غدا والنصارى بعد غد. " حم، ق، ن - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34476 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے میں اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ تم جنتیوں کے آدھے ہو اور وہ یہ کہ جنت میں مسلمان نفس ہی داخل ہوگا اور تم اہل شرک میں کالے بیل کی کھال میں سفید بال کی طرح ہو (یا فرمایا) سرخ بیل کی کھال میں کا لے بال کی طرح ہو۔ (بیہقی بروایت ابن مسعود)
34476- "والذي نفس محمد بيده! إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة، وذلك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود أو كالشعرة السوداء في جلد الثور الأحمر." ق عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34477 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کے چوتھائی ہو ؟ کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کی تہائی ہو ؟ کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ تم جنتیوں کے نصف ہو ؟ جنت میں مسلمان نفس ہی داخل ہوگا اور تم شرک میں کالے بیل کی کھال میں سفید کی طرح ہو یا (فرمایا) سرخ بیل کی کھال میں کالے بال کی طرح ہو۔ (احمد بن حنبل ترمذی ، ابن ماجہ بروایت ابن مسعود)
34477- "أترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة؟ أترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة أترضون أن تكونوا شطر أهل الجنة؟ إن الجنة لا تدخلها إلا نفس مسلمة وما أنتم في الشرك إلا كشعرة بيضاء في جلد الثور الأسود أو كالشعرة السوداء في جلد الثور الأحمر." حم، ت؛ هـ - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34478 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے نہیں ہے کوئی بندہ جو ایمان لائے پھر میانہ روی سے چلے مگر وہ اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگا اور میں اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ تم اور تمہارے اولاد میں سے جو نیک ہیں جنت میں گھروں کو لوٹ جائیں اور میرے رب تعالیٰ نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرے گا۔ (ابن ماجہ بروایت رفاعہ الجھنی)
34478- "والذي نفس محمد بيده! ما من عبد يؤمن ثم يسدد إلا سلك به في الجنة وأرجو أن لا يدخلها حتى تبوؤا أنتم ومن صلح من ذرياتكم مساكن في الجنة، ولقد وعدني ربي تعالى أن يدخل من أمتي سبعين ألفا بغير حساب. " هـ - عن رفاعة الجهني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34479 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تبارک وتعالی فرماتے ہیں اے آدم تو وہ عرض کرتے ہیں لبیک وسعد یک والخیر فی یدیک (میں حاضر ہوں اور سعادت مندی تیری ہے ور بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے تو ( اللہ تعالیٰ ) فرمائیں گے جہنم میں بھیجے ہوئے لوگوں کو نکالو ! تو (آدم (علیہ السلام)) کہیں گے : جہنم میں کتنے لوگ بھیجے گئے ؟ تو ( اللہ تعالیٰ ) فرمائیں گے ہر ہزار میں سے نوسوننانوے تو اس وقت بچے بوڑھے ہوجائیں اور حمل والیاں حمل رکھ دیں گی اور لوگوں کو آپ بےہوشی کی حالت میں دیکھیں گے حالانکہ وہ بےہوش نہ ہوں گے اور لیکن اللہ کا عذاب ہے ہی سخت ۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اور ہم میں سے وہ ایک کون ہوگا (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) فرمایا : خوش ہوجاؤ تم میں سے ایک ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ہزار اس ذات کی قسم جس کی قبضہ میں میری جان ہے میں اس بات کی امید رکھتا ہوں کہ تم جنتیوں کے چوتھائی ہوگے میں اس بات کی امیدرکھتا ہوں کہ تم جنتیوں کے تہائی ہوگے میں امید رکھتا ہوں کہ تم جنتیوں کے آدھے ہوگے تو لوگوں میں نہیں ہو مگر سفید بیل کی کھال میں کالے بال کی طرح یا (یہ فرمایا) کہ گدھے کے بازو میں دانہ کی طرح۔ (احمد بن حنبل بیہقی بروایت ابوسعید)
34479- "يقول الله تعالى: يا آدم! فيقول: لبيك وسعديك والخير في يديك! فتقول: أخرج بعث النار قال: وما بعث النار؟ قال: من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين، فعنده يشيب الصغير وتضع كل ذات حمل حملها وترى الناس سكارى وما هم بسكارى ولكن عذاب الله شديد، قالوا: يا رسول الله! وأينا ذلك الواحد؟ قال: أبشروا فإن منكم رجلا ومن يأجوج ومأجوج ألف والذي نفسي بيده! أرجو أن تكونوا ربع أهل الجنة أرجو أن تكونوا ثلث أهل الجنة أرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة، ما أنتم في الناس إلا كالشعرة السوداء في جلد ثور أبيض أو كشعرة بيضاء في جلد ثور أسود أو كالرقمة في ذراع الحمار. " حم؛ ق - عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سجدہ
34480 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : اے عیسیٰ میں تیرے بعد ایک ایسی امت بھیجنے والاہوں کہ اگر ان کو وہ چیز ملے جو ان کو اچھی لگتی ہو تو وہ تعریف کریں اور شکراداکریں۔ اور اگر ان کو وہ چیز پہنچے جو ان کو ناپسند ہو تو وہ صبر کریں اور اجر کا مراقبہ کریں اور نہ کوئی بردباری ہوگی اور نہ کوئی علم ہوگا (عیسیٰ (علیہ السلام)) نے عرض کیا : اے رب ! ان کے لیے یہ کیسا ہوگا اور نہ کوئی بردباری ہوگی نہ کوئی علم تو ( اللہ تعالیٰ ) فرمائیں گے میں ان کو اپنے حلم اور علم سے عطاء کروں گا۔ (احمدبن حنبل ، طبرانی مستدرک، حاکم ، بیہقی بروایت ابودرداء )۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :4057 ۔
34480- "قال الله تعالى لعيسى: يا عيسى! إني باعث من بعدك أمة إن أصابهم ما يحبون حمدوا وشكروا، وإن أصابهم ما يكرهون صبروا واحتسبوا ولا حلم ولا علم، قال، يا رب! كيف يكون لهم هذا ولا حلم ولاعلم؟ قال: أعطيهم من حلمي وعلمي. " حم، طب، ك، هب عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوتلواروں کا جمع نہ ہونا
34481 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت پر اللہ تعالیٰ دوتلواریں ہرگز جمع نہیں کریں گے کہ ایک تلوار ان سے ہو اور دوسری تلوار ان کے دشمن سے ہو۔ (ابوداؤد بروایت عوف بن مالک)
34481- "لن يجمع الله على هذه الأمة سيفين سيفا منها وسيفا من عدوها. " د - عن عوف بن مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوتلواروں کا جمع نہ ہونا
34482 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میں قسم کھاؤں توحانث نہیں ہوں گا کہ میرے بعد میں آنے والی امت سے پہلے کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (طبرانی بروایت عبداللہ بن عبدالثمالی)۔ کلام :۔۔۔ ضعیف ہے ضعیف الجامع :4796
34482- "لو أقسمت لبررت لا يدخل الجنة قبل سابق أمتي." طب - عن عبد الله بن عبد الثمالي".
tahqiq

তাহকীক: