কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৪৫৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین تہائی جنت کا حقدار
34543 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت سے تین چیزیں معاف ہیں خطاء بھول اور وہ کام جس پر مجبور کئے گئے ہوں۔ (عبدالرزاق بروایت حسن مرسلا)
34543- "ثلاث لا يهلك عليهن ابن آدم: الخطأ والنسيان وما أكره عليه. " عب - عن قتادة مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین تہائی جنت کا حقدار
34544 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں باتیں ایسی ہیں کہ انسان ان کی وجہ سے ہلاک نہیں ہوگا خطا بھول اور جس پر مجبور کیا جائے۔ (بروایت قتادة)
34544- "مغفور لأمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تتكلم بالشرك. " الخطيب - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین تہائی جنت کا حقدار
34545 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے لیے معاف کی گئی ہیں وہ باتیں جو ان کے دل میں ہوں جب تک کہ شرک کی بات نہ کریں۔ (خطیب بغدادی بروایت عائشہ)
34545- "إن الله لا يعجز هذه الأمة من نصف يوم، وإذا رأيت بالشام مائدة رجل وأهل بيته فعند ذلك تفتح القسطنطينية. " طب - عن أبي ثعلبة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین تہائی جنت کا حقدار
34546 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس امت کو آدھے دن سے عاجز نہیں کرے گا جب آپ شام میں ایک شخص کے دستر خوان اور اس کے اہل بیت کو دیکھیں تو اس کے پاس قسطنطنیہ فتح کیا جائے ۔ (طبرانی بروایت ابوثعلبہ)
34546- "لا يعجز الله هذه الأمة من نصف يوم، إذا رأيت الشام مائدة رجل واحد وأهل بيته، فعند ذلك فتح القسطنطينية. " حم - عن أبي ثعلبة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تین تہائی جنت کا حقدار
34547 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا زندگی ان امتوں کے مقابلہ میں جو تم سے پہلے گذری ہیں عصر کی نماز کے درمیان سے سورج کے غروب ہونے تک (وقت) کی طرح ہے تو رات والوں کو توراۃ دی گئی تو انھوں نے کام کیا یہاں تک کہ نصف النھار ہوگیا پھر وہ عاجز ہوگئے تو ان کو ایک ایک قیراط دیا گیا پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی تو انھوں نے عصر کی نماز تک کام کیا پھر وہ عاجز آگئے تو ان کو ایک ایک قیراط دیا گیا پھر ہمیں قرآن دیا گیا تو ہم نے شورج کے غروب ہونے تک کام کیا تو ہمیں دودوقیراط دئیے گئے اہل کتاب نے کہا : اے ہمارے رب ! ان لوگوں کو آپ نے دو دوقیراط دئیے اور ہمیں آپ نے ایک ایک قیراط دیا اور ہم نے زیادہ کام کیا اللہ عزوجل نے فرمایا : کیا میں نے تمہارے اجر میں سے کوئی کمی کی ؟ تو انھوں نے عرض کیا : نہیں تو ( اللہ تعالیٰ نے) فرمایا : وہ میرا فضل ہے میں جسے چاہتا ہوں دیتاہوں۔ (طبرانی بخاری بروایت سالم بن عبداللہ عن ابیہ)
34547- "إنما بقاؤكم فيما سلف قبلكم من الأمم كما بين صلاة العصر إلى غروب الشمس ، أوتي أهل التوراة التوراة فعملوا حتى إذا انتصف النهار ثم عجزوا فأعطوا قيراطا قيراطا، ثم أوتي أهل الإنجيل الإنجيل فعملوا إلى صلاة العصر ثم عجزوا فأعطوا قيراطا قيراطا، ثم أوتينا القرآن فعملنا إلى غروب الشمس فأعطينا قيراطين قيراطين، فقال أهل الكتاب: أي ربنا! أعطيت هؤلاء قيراطين قيراطين وأعطيتنا قيراطا قيراطا ونحن كنا أكثر عملا! قال الله عز وجل: هل ظلمتكم من أجركم من شيء؟ قالوا: لا، قال: فهو فضلي أوتيه من أشاء. " طب، خ - عن سالم بن عبد الله عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر وثواب
34548 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امتوں میں سے ایک امت کی مثال چند مزدوروں کی مثال کی طرح بیان کی گئی جنہیں ایک شخص نے اجرت پر لیا کہ وہ اس کے لیے پورا ایک دن کام کریں گے اور ان کے لیے ایک ایک قیراط متعین کیا تو انھوں نے کام کیا یہاں تک کہ جب نصف النھار ہوا تو وہ تھک گئے پس انھوں نے آدمی سے کہا کہ ہمارا حساب کریں تو اس نے ان کا حساب کیا تو ان کے لیے آدھا آدھا قیراط اور چند رتی بناتو اس شخص نے کہا : میرے لیے کون رات تک میرا کام ایک ایک قیراط پر پورا کرے گا ؟ تو اس شخص سے دوسرے لوگوں نے معاملہ کرلیا پھر انھوں نے کام کیا یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کے قریب وقت ہوگیا تو وہ تھک گئے تو انھوں نے کہا : ہمارا حساب کریں تو اس نے ان کا حساب کیا تو ان کے لیے آدھا آدھا قیراط بنا اور آدمی نے یہ چاہا کہ اس کام کو رات سے پہلے پورا کردیا جائے تو اس نے ایک قوم کو اس بات پر اجرت پر لیا کہ وہ رات تک اس کا بقایا کام دودوقیراط پر پورا کریں میں امید رکھتا ہوں کہ ان شاء اللہ تم دو دو قیراط والے ہوجاؤ۔ (طبرانی بروایت حبیب بن سلیمان بن سمرة عن ابیہ عن جدہ)
34548- "من الأمم أمة ضرب لهم مثل كمثل أجراء ائتجرهم رجل يعملون له يوما كله وجعل لهم قيراطا قيراطا، فعملوا حتى إذا انتصف النهار سئموا فقالوا للرجل: حاسبنا، فحاسبهم فكان لهم نصف قيراط نصف قيراط وأحب فقال: من يكمل لي عملي إلى الليل على قيراط قيراط؟ فبايعه قوم آخرون فعملوا حتى إذا كان قريبا من صلاة العصر سئموا فقالوا: حاسبنا، فحاسبهم فكان لهم نصف قيراط نصف قيراط، وأحب الرجل أن يقضى له عمله قبل الليل فائتجر قوما على أن يكملوا ما غبر من عمله إلى الليل على قيراطين قيراطين، إني أرجو إن شاء الله أن تكونوا أنتم أصحاب القيراطين. " طب - عن حبيب بن سليمان بن سمرة عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر وثواب
34549 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابراہیم خلیل الرحمن (علیہ السلام) نے جنت کو خواب کی حالت میں دیکھا صبح ہوئی تو انھوں نے اپنی قوم کو بیان کیا اے قوم میں نے گزشتہ رات اس حالت میں کہ سونے والادیکھتا ہے ایسی جنت دیکھی جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی امت کے لیے تیاری کی گئی ہے جس کے باغیچے لالہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور اس کے درخت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور اس کے پھل سبحان ال والحمد اللہ ہے تو ان کی قوم نے ان عرض کیا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی امت کون ہے۔ (بزار بروایت ابو امامہ)
34549- "إن إبراهيم خليل الرحمن رأى الجنة فيما يرى النائم فأصبح فقصها على قومه فقال: يا قوم! إني رأيت البارحة فيما يرى النائم جنة عرضها السماوات والأرض أعدت لمحمد وأمته، حدائقها شهادة أن لا إله إلا الله، وأشجارها محمد رسول الله، وثمارها سبحان الله والحمد لله، فقال له قومه: يا خليل الله! من محمد وأمته؟ " بز - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر وثواب
34550 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جوہر اونچی جگہ اور وادی پر کھڑے ہوں گے لا الہ اللہ کی شہادت کا اعلان کریں گے ان کی اجزاء انبیاء (علیہم السلام) کی جزاء ہے۔ (دیلمی بروایت انس)
34550- " أوحى الله إلى موسى بن عمران أن في أمة محمد لرجالا يقومون على كل شرف وواد ينادون بشهادة أن لا إله إلا الله، جزاؤهم على جزاء الأنبياء." الديلمي - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر وثواب
34551 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک میں اور میری امت بیشک کے ڈھیر پر اونچے ہوں گے تمام مخلوق پر اوپر ہوں گے تمام امتوں میں سے ہر مسلمان یہ ہی خواہش کرے گا کہ وہ ہم میں سے ہو ہر وہ نبی جس کو اس کی قوم نے جھٹلایا ہوگا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت قیامت کے دن اس کے لیے اس بات کی گواہ ہوگی کہ انھوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچائے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم پر گواہ ہوں گے۔ (دیلمی بروایت جابر)
34551- "إني وأمتي لمشرفون على كوم من مسك مشرفون على الخلائق، ما من أحد من الأمم من المؤمنين إلا ود أنه منا وما من نبي كذبه قومه إلا وأمة محمد شهداء له يوم القيامة أنه قد بلغ رسالات ربه والرسول شهيد عليكم. " الديلمي - عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر وثواب
34552 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے میری امت میں وہ لوگ بنائے کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رکھوں۔ (ابوداؤد حلیة الاولیاء بروایت ابوسعید، طبرانی بروایت عبدالرحمن بن سھل بن حنیف)
34552- "الحمد لله الذي جعل في أمتي من أمرت أن أصبر نفسي معهم. " د، حل - عن أبي سعيد، طب - عن عبد الرحمن بن سهل بن حنيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر وثواب
34553 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب قتال کا وقت آگیا اور ہمیشہ میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قتال کرتی رہے گی لوگوں پر غالب ہوگی اور اللہ تعالیٰ ان کے لیے چند قوموں کے دل ٹیڑھا کریں گے پس وہ ان سے قتال کریں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ان سے روزی دے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی پر ہوں گے اور اس دن مسلمانوں کا عمدہ گھر شام ہوگا اور گھوڑا کہ اس کی پیشانی میں قیامت کے دن تک خیر ہے اور اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی کی کہ میں اٹھالیا جاؤں گا رہنے والا نہیں ہوں اور تم میرے پیچھے آؤ گے گروہ در گروہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارے گا اور قیامت سے پہلے سخت آفتیں اور چند سالوں کے بعد زلزلیں ہوں گے۔ (احمدبن حنبل، دارمی، نسانی ، بغوی، طبرانی ، ابن حبان مستدرک حاکم سعید بن منصور بروایت سلمہ بن نفیل کندی)
34553- "الآن جاء القتال! ولا يزال من أمتي أمة يقاتلون على الحق ظاهرة على الناس، ويزيغ الله لهم قلوب أقوام فيقاتلونهم ويرزقهم الله منهم حتى يأتي أمر الله وهم على ذلك، وعقر دار المؤمنين يومئذ الشام، والخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة وهو يوحي إلي أني مقبوض غير ملبث وأنتم تتبعوني، أفنادا يضرب بعضكم رقاب بعض، وبين يدي الساعة موتان شديد وبعد سنوات الزلازل. " حم، والدارمي، ن والبغوي، طب، حب، ك، ص - عن سلمة بن نفيل الكندي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر وثواب
34554 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اب قتال کا وقت آگیا اور میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے راستہ میں قتال کرتی رہے گی وہ لوگ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے جو ان کے مخالفت ہوں گے اللہ ایک قوم کے دل کو ٹیڑھا کریں گے تاکہ ان کو ان سے روزی دیں، اور وہ ان سے قتال کریں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے گی گھوڑے کہ ان کی پیشانی پر قیامت تک کے لیے ہمیشہ خیر باندھی گئی ہے اور لڑائی اپنا اسلحہ نہیں رکھے گی (لڑائی ہوتی رہے گی) یہاں تک کہ یا جوج ماجوج نکل آئیں۔ (طبرانی بروایت سمہ بن نفیل)
34554- "الآن جاء القتال! ولا تزال طائفة من أمتي يقاتلون في سبيل الله، لا يضرهم من خالفهم؛ يزيغ الله قلوب قوم ليرزقهم منهم، ويقاتلونهم حتى تقوم الساعة، ولا يزال الخيل معقودا في نواصيها الخير إلى يوم القيامة، ولا تضع الحرب أوزارها حتى يخرج يأجوج ومأجوج." طب - عن سلمة بن نفيل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجر وثواب
34555 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انھوں نے جھٹلایا اب قتال کا وقت آگیا : اب قتال کا وقت آگیا ہمیشہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کے دلوں کو ٹیڑھا کرتے رہیں گے تم ان سے قتال کروگے اور تمہیں اللہ تعالیٰ ان سے روزی دے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی پر ہوں گے اور اسلام کا عمدہ گھر شام میں ہے۔ (ابن سعد بروایت سلمہ بن نفیل حضر می)
34555- "كذبوا، الآن جاء القتال! الآن جاء القتال! لا يزال الله يزيغ قلوب أقوام تقاتلونهم ويرزقكم الله منهم حتى يأتي أمر الله وهم على ذلك، وعقر دار الإسلام بالشام. " ابن سعد - عن سلمة بن نفيل الحضرمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غالب رہنے والی جماعت
34556 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیشہ میری امت میں سے ایک جماعت حق پر غالب ہوگی ان کو وہ لوگ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے جو ان کو ذلیل کریں یا (فرمایا) ان سے علیحدہ ہوں یہاں تک اللہ کا حکم آجائے۔ (روبانی ، تاریخ ابن عساکر بروایت عمران بن حصین)
34556- "لن تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق، لا يضرهم من خذلهم أو فارقهم حتى يأتي أمر الله. " الروياني، كر - عن عمران بن حصين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غالب رہنے والی جماعت
34557 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیشہ اس کام کے ساتھ حق پر ایک جماعت رہے گی ان کو ان لوگوں کا مخالف ہونا نقصان نہیں پہنچاسکے گا جوان کے مخالف ہوں یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کا حکم آجائے گا اور وہ لوگ اس پر ہوں گے۔ (احمد بن حنبل ابن جریر بروایت ابوہریرة)
34557- "لا يزال بهذا الأمر عصابة على الحق لا يضرهم خلاف من خالفهم حتى يأتيهم أمر الله وهم على ذلك. " حم وابن جرير - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غالب رہنے والی جماعت
34558 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ دین ہر اس شخص پر ہمیشہ غالب رہے گا جو اس سے دشمنی کرے یا (فرمایا) جو اس کے مخالف ہو اس کو کوئی چیز کبھی بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ (ابن حریر بروایت معاویہ)
34558- " لا يزال هذا الدين ظاهرا على كل من ناواه أو خالفه، لا يضره شيء أبدا. " ابن جرير - عن معاوية".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غالب رہنے والی جماعت
34559 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمیشہ میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قتال کرتی رہی گی قیامت کے دن تک غالب ہوگی (تاریخ ابن عساکر بروایت جابر، ابن قانع ، تاریخ ابن عساکر بر، ابن حبان ، بروایت قتادہ بروایت انس ، امام بخاری نے فرمایا قتادہ بروایت انس کی ہے صحیح قتادہ بروایت مطرف بن عمران ہے)
34559- " لا يزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين إلى يوم القيامة. " كر - عن جابر، ابن قانع وابن عساكر، حب - عن قتادة عن أنس، قال خ: هذا حديث خطأ، إنما هو قتادة عن مطرف ابن عمران".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غالب رہنے والی جماعت
34560 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ایک جماعت حق پر قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے۔ (طحاوی عبد ابن حمید بروایت زید بن ارقم)
34560- "لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق حتى يأتي أمر الله. " ط وعبد بن حميد - عن زيد بن أرقم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غالب رہنے والی جماعت
34561 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا مت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہیگی ان لوگوں پر جو ان سے لڑیں گے غالب ہوں گی ان کو وہ لوگ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے جو ان سے دشمنی کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے اور وہ اسی پر ہوں گے عرض کیا گیا (اے اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور وہ کہاں ہوں گے (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیت المقدس میں) ۔ (احمد بن حنبل طبرانی سعید بن منصور بروایت ابوامامہ)
34561- "لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين على من يغزوهم قاهرين. لا يضرهم من ناواهم حتى يأتي أمر الله وهم كذلك،قيل: يا رسول الله! وأين هم؟ قال: ببيت المقدس. "حم؛ طب، ص - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৪৫৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غالب رہنے والی جماعت
34562 ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہیگی۔ (احمد بن حنبل سعید بن منصور بروایت زید بن ارقم )
34562- " لا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين. " حم، ص - عن زيد بن أرقم".
তাহকীক: