কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৬৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میرا خلیل ابوبکر (رض) ہیں
35643 ۔۔۔ (مسند ربیعہ بن کعب الاسلمی ) میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا مجھے ایک زمین عطیہ میں دی گئی اور ابوبکر (رض) کو ایک زمین دی گئی دنیا اگئی ہم نے آپس میں اختلاف کیا ایک کھجور پر ابوبکر (رض) نے کہا یہ میری حد میں ہے میں نے کہا میری حد میں میرے اور ابوبکر (رض) کے درمیان کچھ آوازیں بلند ہوگئیں ابوبکر (رض) نے ایک ناپسندیدہ کہا پھر اس پر نادم ہوئے مجھ سے فرمایا اے ربیعہ تو بھی مجھے ایساکلمہ کہدے تاکہ بدلہ برابر ہوجائے میں نے کہا میں ایسا نہیں کرونگا ابوبکر (رض) نے فرمایا تو بدلہ لے یا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے پاس بلاکر لاؤنگا میں نے کہا میں ایسا نہیں کرونگا بیان کیا ابوبکر (رض) زمین چھوڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے میں بھی ان کے پیچھے پیچھے پہنچ گیا بنو اسلم کے بھی کچھ لوگ حاضر ہوئے انھوں نے کہا اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے کس بنیاد پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تمہارے خلاف مدد طلب کررہا ہے انھوں نے خود ہی تو جو کچھ کہنا تھا کہ دیا میں نے کہا جانتے بھی ہو یہ کون ہیں ؟ یہ ابوبکر صدیق (رض) ہیں وہ ثانی اثنین ہیں وہ اسلام میں سب سے قدیم ہیں تو احتیاط کوا گروہ دیکھے کہ تم ان کے خلاف میری مدد کررہے ہو تو وہ ناراض ہوں گے ان کے ناراض ہونے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہوں گے اور ان دونوں کے ناراض ہونے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا اس طرح ربیعہ ہلاک ہوجائے گا انھوں نے کہا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ میں نے کیا تم واپس چلے جاؤ ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے میں بھی اکیلا پیچھے پیچھے پہنچ ہوگیا انھوں نے پورا واقعہ بیان کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف سر اٹھایا اور پوچھا اے ربیعہ تمہارا صدیق اکبر (رض) کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ایسا ایسا ہوا اس دور انھوں نے مجھے ایک ناپسندیدہ کلمہ کہا پھر مجھ سے فرمایا تم بھی مجھے ایس کہہ لو تاکہ بدلہ ہوجائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں تمہیں جواب میں ویسا کلمہ نہیں کہنا چاہیے البتہ کہو غفر اللہ لک یا ابابکر اے ابوبکر اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے ابوبکر (رض) روئے ہوئے واپس چلے گئے۔ (طبرانی بروایت ربیعہ اسلمی)
35643- "مسند ربيعة بن كعب الأسلمي" كنت أخدم النبي صلى الله عليه وسلم فأعطاني أرضا وأعطى أبا بكر أرضا، وجاءت الدنيا فاختلفنا في عذق نخلة فقال أبو بكر: هي في حدي، وقلت أنا: هي في حدي، فكان بيني وبين أبي بكر كلام، فقال أبو بكر كلمة كرهتها وندم،فقال لي: يا ربيعة رد علي مثلها حتى تكون قصاصا، فقلت: لا أفعل، فقال أبو بكر: لتقولن أو لأستعدين عليك رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت: ما أنا بفاعل، قال: ورفض الأرض، فانطلق أبو بكر إلى النبي صلى الله عليه وسلم فانطلقت أتلوه، فجاء أناس من أسلم فقالوا: يرحم الله أبا بكر! في أي شيء يستعدي عليك رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الذي قال لك ما قال! فقلت: أتدرون من هذا؟ هذا أبو بكر الصديق وهو ثاني اثنين وهو ذو شيبة في الإسلام، فإياكم يلتفت فيراكم تنصروني عليه فيغضب فيأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فيغضب لغضبه فيغضب الله لغضبهما فيهلك ربيعة، قالوا: فما تأمرنا؟ قلت، ارجعوا، فانطلق أبو بكر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وتبعته وحدي حتى أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فحدثه الحديث كما كان، فرفع إلي رأسه فقال: " يا ربيعة! ما لك وللصديق"؟ قلت: يا رسول الله! كان كذا وكذا فقال لي كلمة كرهتها فقال لي: قل لي كما قلت لك حتى يكون قصاصا، قال: أجل فلا ترد عليه ولكن قل: " غفر الله لك يا أبا بكر"! فولى أبو بكر وهو يبكي. "طب - عن ربيعة الأسلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میرا خلیل ابوبکر (رض) ہیں
35644 ۔۔۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو ابوبکر (رض) سے آگے چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا تم ایسے شخص سے آگے چلتے ہو جو تم سے بہتر ہے ابوبکر (رض) ان تمام لوگوں میں بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غریب ہوتا ہے۔ (ابن عساکر ابور اس کی سند جس ہے)
35644- "مسند أبي الدرداء" رأى النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يمشي أمام أبي بكر فقال: " أتمشي أمام من هو خير منك! إن أبا بكر خير من طلعت عليه الشمس وغربت". "كر، وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میرا خلیل ابوبکر (رض) ہیں
35645 ۔۔۔ سہل بن یوسف بن سہل بن مالک اپنے والد سے اپنے دادا سے جو کعب بن مالک کے بھائی تھے نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجة الوداع سے واپس تشریف لائے منبر پر تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا اے لوگو ابوبکر (رض) نے کبھی میرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی۔ (ابن مندہ نے نقل کرکے کہا غریب ہے۔ (للا نفررفہ الامن الرجہ ابن عساکر)
35645- عن سهل بن يوسف بن سهل بن مالك عن أبيه عن جده أخي كعب بن مالك قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم من حجة الوداع صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: يا أيها الناس! إن أبا بكر لم يسؤني قط. "ابن منده وقال: غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میرا خلیل ابوبکر (رض) ہیں
35646 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میرے والد نے کہا تم جانتے ہوئے ابوبکر (رض) کو عتیق کیوں کہا جاتا ہے ان کی ذاتی شرافت کی بناء پر فرمایا نہیں بلکہ جاہلیت کے زمانہ میں جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوتاوہ زندہ نہیں بچنا اس لیے جب ابوبکر (رض) پیدا ہوا تو ان کو کعبہ کے پاس لے کر آئی اور دعا کی یا الھی التعیق لاالہ الا انت ھیہ لی من الموت بتایا اس وقت سونے کی ایک ہتھیلی ظاہر جس پر کنگن نہیں تھے اس وقت ایک قائل کہہ رہا تھا۔تو ولد عتیق کے حمل سے کامیاب ہے جوتوراة میں صدیق کے نام سے معروف ہے اللہ تعالیٰ اس کو (بچن میں) موت سے بچایا اور ان کو زمین کے شب سے بہتر شخص کا وزیر بنایا دونوں نہ زندگی میں جداہوں گے نہ موت کے بعدنہ کل قیامت کو اللہ کے سامنے جداہوں گے۔ (ابوعلی حسن بن احمدالبناء فی مشیختہ وابن نجار وسندہ جید)
35646- عن ابن عباس قال: قال أبي: تدرون لم سمي أبو بكر الصديق "عتيقا" قلت لعتق وجهه أو لعتق نسبه، قال: ليس كما تظن، كانت أمه في الجاهلية إذا ولد لها الولد لم يعش، فلما ولد أبو بكر جاءت به إلى الكعبة وقالت: يا إلهي العتيق يا لا إله إلا أنت! هبه لي من الموت، قال: فخرج كف من ذهب لا معصم لها وإذا بقائل يقول:

فزت بحمل الولد العتيق ... يعرف في التوراة بالصديق

قد وهبه الله من الموت وجعله وزير خير أهل الأرض، فلن يفترقا حيين ولن يفترقا ميتين ولن يفترقا غدا عند الله تعالى.

"أبو علي الحسن بن أحمد البناء في مشيخته وابن النجار، وسنده جيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا نام عبداللہ ہے
35647 ۔۔۔ عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) کا نام عبداللہ بن عثمان تھا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بشارت دی کہ انست عتیق اللہ من النار تو ان کا نام عتیق ہوگیا۔ (ابونعیم ابن کثیر نے کہا اس کی سندجید سے)
35647- عن عبد الله بن الزبير قال: كان اسم أبي بكر عبد الله بن عثمان، فلما قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أنت عتيق الله من النار" سمي "عتيقا". "أبو نعيم، قال ابن كثير: إسناده جيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا نام عبداللہ ہے
35648 ۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے ابوبکر (رض) کے مال نے جتنا فائدہ پہنچا سی اور کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا یہ سن کر ابوبکر (رض) روپڑے اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اور میرا مال تو آپ ہی کا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35648- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى اله عليه وسلم: " ما نفعني مال قط ما نفعني مال أبي بكر"، فبكى أبو بكر ثم قال: هل أنا ومالي إلا لك يا رسول الله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا نام عبداللہ ہے
35649 ۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے توجہ فرمایا آپ کے دائیں طرف ابوبکر (رض) تھے اے ابوبکر آپ کو مبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو سلام کہا گیا ہے جبرائیل (علیہ السلام) نے اتر کر کہا اے محمد یہ آپ کے دائیں جانب چادر میں ملبوس کون ہے میں نے کہا ابوبکر جس نے مجھ پر مال خرچ کیا فتح مکہ سے پہلے اور میری تصدیق کی اور اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی۔ فرمایا اے محمد اس کو سلام سنا دو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور ان سے پوچھو اپنے اس فقیری میں مجھ سے راضی ہیں یا ناراض ابوبکر (رض) بہت دیرتک روتے رہے پھر کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر پر اضی ہوں ۔ ابونعیم نے فضائل صحابہ کرام (رض) میں ابن کثیر نے کہا اس میں شدید غرابت ہے طبرانی کا شیخ عبدالرحمن معاویہ القیی ان کا شیخ محمد بن نصر الفارسی کا کسی اور نے ذکر نہیں کیا۔
35649- عن أبي هريرة قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فالتفت وأبو بكر الصديق عن يمينه وقال: "هنيئا لك يا أبا بكر تحية من عند الله إياك! هبط جبريل فقال: يا محمد! من هذا المتخلل بالعباءة عن يمينك؟ فقلت: هذا أبو بكر، أنفق ماله علي قبل الفتح وصدقني وزوجني ابنته، فقال: يا محمد! أقرئه السلام من الله وقل له: أراض أنت عني في فقرك هذا أم ساخط"؟ فبكى أبو بكر طويلا ثم قال: رضيت وسلمت لقضاء الله وقدره يا رسول الله. "أبو نعيم في فضائل الصحابة، قال ابن كثير: فيه غرابة شديدة وشيخ الطبراني عبد الرحمن بن معاوية العتبي وشيخه محمد بن نصر الفارسي لا أعرفهما ولم أر أحدا ذكرهما".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا نام عبداللہ ہے
35650 ۔۔۔ موسیٰ بن عبدالرحمن الصنعانی نے ابن جریج سے روایت کی انھوں نے عطاء سے انھوں نے ابن عباس (رض) سے ابوبکر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی وہ اس وقت اٹھارہ سال کے تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیس سال کے وہ دونوں تجارت کی غرض سے ملک شام جارہے تھے ایک مقام پر اترے وہاں بیری کا ایک درخت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سایہ میں بیٹھ گئے اور ابوبکر (رض) ایک راھب کے پاس گئے جس کا نام بحیرا تھا ایک بات پوچھنے کے لیے توراھب نے پوچھا درخت کے سایہ میں کون بیٹھا ہے ؟ بتایا یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں تو راھب نے کہا اللہ کی قسم یہ نبی ہیں اس درخت کے سایہ میں عیسیٰ بن مریم کے بعد محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی اور انھیں بیٹھا اس وقت سے ابوبکر (رض) کے دل میں یقین اور تصدیق بیٹھ گئی جب نبی ہونے کی خبردی تو آپ کی پیروی شروع کردی۔ (ابن مندہ ابن عساکر مغنی میں کہا ہے موسیٰ بن عبدالرحمن الصعنانی دجال ہے ابن حبان نے کہا کہ وضع علی ابن جریج عن عطا عن ابن عباس کتاب فی التفسیر)
35650- عن موسى بن عبد الرحمن الصنعاني عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس أن أبا بكر الصديق صحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ابن ثمان عشرة والنبي صلى الله عليه وسلم ابن عشرين وهم يريدون الشام في تجارة حتى إذا نزلوا منزلا فيه سدرة قعد رسول الله صلى الله عليه وسلم في ظلها ومضى أبو بكر إلى راهب يقال له بحيراء يسأله عن شيء فقال له: من الرجل الذي في ظل السدرة؟ فقال له: ذلك محمد بن عبد الله ابن عبد المطلب، فقال: هذا والله نبي! ما استظل تحتها بعد عيسى ابن مريم إلا محمد، ووقع في قلب أبي بكر اليقين والصدق، فلما نبئ النبي صلى الله عليه وسلم اتبعه. "ابن منده، كر، قال في المغنى: موسى ابن عبد الرحمن الصنعاني دجال، قال حب: وضع على ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس كتابا في التفسير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا نام عبداللہ ہے
35651 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ عراق سے ایک شخص آیا اس کے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان عورتوں کی طرف سے رشتہ داری تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مرحبا اس شخص کو مبارک ہو جس نے مال غنیمت حاصل کیا اور سلامت رہا کہا یارسول اللہ آپ کے نزدیک سب سے محبوب کون ہے ؟ آپ نے فرمایا عائشہ (رض) وہ آپ کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں۔ عرض کیا میرا مقصد عورتوں کے متعلق سوال نہیں بلکہ مردوں کے متعلق سوال ہے تو فرمایا پھر ان کے والد ۔ (یہ روایت 35687 پر آرہی ہے بروایت نسائی)
35651- عن ابن عباس قال: قدم رجل من أهل العراق وبينه وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم قرابة من النساء فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مرحبا برجل غنم وسلم"! فقال: يا رسول الله! من أحب الناس إليك؟ قال: "عائشة " - وهي خلفه جالسة، قال: لم أعن من النساء، إنما عنيت من الرجال، قال: "فأبوها إذن". " ... ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا نام عبداللہ ہے
35652 ۔۔۔ ابو واقد روایت کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے منبر کے ستون جنت میں ہیں اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کو دنیا کی نعمتوں اور حکومت یا آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا ہے تو انھوں نے آخرت کو اختیار کیا تو ابوبکر (رض) نے کہا ہم آپ پر اپنی جان مال قربان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو بناتالیکن تمہارے نبی اللہ کے خلیل ہیں۔ (رواہ ابونعیم)
35652- عن أبي واقد قال: حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن قوائم منبري رواتب في الجنة وأن عبدا من عبيد الله خير بين الدنيا ونعيمها وملكها وبين الآخرة فاختار الآخرة، فقال أبو بكر: نفديك يا رسول الله بأنفسنا وأموالنا! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا، ولكن صاحبكم خليل الله". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا نام عبداللہ ہے
35653 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مصاحبت اختیار کی وہ اٹھارہ سال کے تھے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیس سال کے وہ ملک شام تجارتی غرض سے جارہے تھے راستہ میں ایک مقام پر قیام کیا اس جگہ بیری کا درخت تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے سایہ میں بیٹھ گئے ابوبکر (رض) بحیراراھب سے ایک بات پوچھنے کے لیے گئے تو راھب نے پوچھا درخت کے سایہ میں کون شخص ہے ؟ بتایا وہ محمد بن عبداللہ ہے توراھب نے کہا اللہ کی قسم یہ نبی ہیں اس درخت کے سایہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی نہیں بیٹھا اس واقعہ نے اوبکر (رض) کے دل میں تصدیق اور یقین بیٹھادیا جب نبی دیا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نبوت کی اطلاع دی تو صدیق اکبر (رض) نے پیروی شروع کردی۔ (ابونعیم)
35653- عن ابن عباس أن أبا بكر الصديق صحب رسول الله وهو ابن ثمان عشرة والنبي صلى الله عليه وسلم ابن عشرين سنة وهم يريدون الشام في تجارة حتى إذا نزلوا منزلا فيه سدرة قعد رسول الله صلى الله عليه وسلم في ظلها ومضى أبو بكر إلى راهب يقال له بحيراء يسأله عن شيء فقال له: من الرجل الذي في ظل السدرة؟ فقال: ذلك محمد بن عبد الله فقال: هذا والله نبي! ما استظل تحتها بعد عيسى إلا محمد، فوقع من ذلك في قلب أبي بكر اليقين والتصديق، فلما نبئ النبي صلى الله عليه وسلم اتبعه. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35654 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں ایک دن بیٹھی ہوئی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) آپ کے ساتھ گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے میرے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا اس وقت میرے والد تشریف لائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو چاہے یا جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ ایسے شخص کو دیکھے جو جہنم سے آزاد ہے وہ ابوبکر (رض) کو دیکھے ان کا نام ولادت کے وقت ان کے گھر والوں نے عبداللہ بن عثمان رکھا تھا لیکن ان پر عتیق نام غالب آگیا ۔ (ابویعلی وابرنعیم فی المعرفہ اس میں صالح بن موسیٰ صلجی ضعیف ہیں)
35654- عن عائشة قالت: إني لجالسة ذات يوم ورسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه بفناء البيت والستر بيني وبينهم إذ أقبل أبي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه: " من أراد - وفي لفظ: من سره – أن ينظر إلى عتيق من النار فلينظر إلى أبي بكر، وإن اسمه الذي سماه به أهله حيث ولد " عبد الله بن عثمان" فغلب عليه اسم "العتيق". "ع وأبو نعيم في المعرفة؛ وفيه صالح بن موسى الطلحي ضعيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35655 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابوبکر عتیق اللہ من النار ہیں اسی دن سے ان کا نام عتیق پڑگیا۔ ترمذی اور کہا یہ غریب ہے اس سند میں اسحاق مذکور ہیں۔ (طبرانی حاکم ابن مندہ)
35655- عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أبو بكر عتيق الله من النار"، فمن يومئذ سمي "عتيقا". "أبو نعيم؛ وفيه إسحاق بن يحيى بن طلحة متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35656 ۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ابوبکر عتیق اللہ من النار ہیں، اسی دن سے ان کا نام عتیق پڑگیا ۔ ترمذی (ارکہا یہ غریب ، اس سند میں اسحاق مذکور ہیں۔ طبرانی ، حاکم، ابن مندہ) ۔
35656- عن عائشة أن أبا بكر دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: " يا أبا بكر! أنت عتيق الله من النار"، فمن يومئذ سمي "عتيقا". "ت وقال: غريب، وفيه إسحاق المذكور؛ طب، ك وابن منده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35657 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ اسراء معراج کی رات کے بعد صبح کو لوگوں نے اس موضوع پر گفتگو شروع کی کچھ وہ لوگ بھی مرتد ہوگئے جو آپ پر ایمان لائے تھے وہ فتنہ میں مبتلا ہوگئے ۔ ابوبکر (رض) نے کہا میں تو اس سے بھی بعید باتوں کی تصدیق کرتا ہوں صبح وشام آسمانی خبر آنے کی تصدیق کرتا ہوں اس وجہ سے کا نام صدیق رکھ گیا۔ (ابونعیم اس میں محمد بن کثیر مصیصی اس کو امام احمد نے انتہائی ضعیف قرار دیا ہے۔ (ابن معین نے صدوق کہا ہے نسائی وغیرہ نے کہا لیس بالقوی )
35657- عن عائشة قالت: لما أسري بالنبي صلى الله عليه وسلم أصبح يحدث بذاك الناس، فارتد ناس ممن كان آمن به وصدق وفتنوا، فقال أبو بكر: إني لأصدقه فيما هو أبعد من ذلك، أصدق بخبر السماء في غدوة أو روحة؛ فلذلك سمي أبو بكر "الصديق". "أبو نعيم؛ وفيه محمد بن كثير المصيصي ضعفه أحمد جدا، وقال ابن معين: صدوق، وقال ن وغيره: ليس بالقوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35658 ۔۔۔ (مسند عبداللہ بن عمر (رض)) اس دوران کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس ابوبکر صدیق (رض) بھی تھے ان پر ایک عباء تھا جس کے دونوں اطراف کو لکڑی سے جوڑا گیا اس وقت جبرائیل (علیہ السلام) ئے ار ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام کہا اور پوچھا یا رسول اللہ کیا وجہ ہے کہ ابوبکر (رض) پر عباء ہے جس کو سینہ لکڑی سے جوڑا گیا فرمایا اے جبرائیل انھوں نے اپنا مال مجھ پر خرچ کیا فتح مکہ سے پہلے تو کہا ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچا دو اور کہو کہ رب تعالیٰ پوچھ رہا ہے کہ اس فقر کی حالت میں مجھ سے راضی ہیں یا ناراض تو ابوبکر (رض) روپڑے اور کہا کیا میں اپنے رب پر ناراض ہوں گا میں اپنے رب سے راضی ہوں میں اپنے رب سے راضی ہوں۔ (ابونعیم فی فضائل الصحابہ)
35658- "مسند عبد الله بن عمر" بينا النبي صلى الله عليه وسلم جالس وعنده أبو بكر الصديق عليه عباءة قد خلها على صدره بخلال إذ نزل عليه جبريل فأقرأه من الله السلام وقال له: يا رسول الله! مالي أرى أبا بكر عليه عباءة قد خلها على صدره بخلال! فقال: " يا جبريل؟ أنفق ماله علي قبل الفتح"، قال: فأقرئه من الله السلام وقل له: يقول لك ربك: أراض أنت عني في فقرك أم ساخط؟ فبكى أبو بكر وقال: على ربي أغضب! أنا عن ربي راض! أنا عن ربي راض. "أبو نعيم في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35659 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو اختیار دیا کہ جو نعمت اللہ کے پاس ہے اس کو اختیار کرے یا دنیا کو تو انھوں نے جو اللہ کے پاس ہے اس کو اختیار کیا تو اس بات کو ابوبکر (رض) کے علاوہ کسی نے نہیں سمجھا تو ابوبکر (رض) روپڑے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صبرکروائے ابوبکر مسجد میں کھولنے والے تمام دروازے بندکردئیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے میرے علم میں صحابہ کرام (رض) میں ابوبکر (رض) سے زیادہ کسی کا مجھ پر احسان نہیں۔ (یحییٰ بن سعید الاموی فی مغاریہ)
35659- عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن عبدا من عباد الله قد خير بين ما عند الله وبين الدنيا فاختار ما عند الله" فلم يفقهها أحد إلا أبو بكر فبكى، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: " على رسلك يا أبا بكر! سدوا هذه الأبواب الشوارع في المسجد إلا باب أبي بكر، فإني لا أعلم امرءا أفضل عندي يدا في الصحابة من أبي بكر". "يحيى بن سعيد الأموي في مغازيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35660 ۔۔۔ اسحاق بن طلحہ سے روایت ہے کہ میں ام المومنین عائشہ (رض) کے پاس گیا ان کے پاس عائشہ بنت طلحہ بھی تھیں وہ اپنی ماں ام کلثوم بنت ابی بکر (رض) سے کہہ رہی تھی اس میں تجھ سے بہتر ہوں اور میرے باپ تیرے باپ سے بہتر ہیں ماں اس کو ڈاٹنے لگی تو عائشہ (رض) نے کہا کیا میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں ؟ انھوں نے کہا ہاں ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انت عتیق اللہ من النار یعنی تم اللہ کی طرف سے آگ سے آزاد ہو اسی دن سے ان کا نام عتیق ہوگیا اور طلحہ (رض) داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا تم اے طلحہ ان لوگوں میں سے ہو جنہوں نے شہادت کا مرتبہ حاصل کیا۔ (ابن مندہ ابن عساکر)
35660- عن إسحاق بن طلحة قال: دخلت على أم المؤمنين عائشة وعندها عائشة بنت طلحة وهي تقول لأمها أم كلثوم بنت أبي بكر: أنا خير منك وأبي خير من أبيك، فجعلت أمها تسبها فقالت عائشة: ألا أقضي بينكما؟ قالت: بلى! قالت: فإن أبا بكر دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له يا أبا بكر! أنت عتيق الله من النار، فمن يومئذ سمي "عتيقا"، ودخل طلحة بن عبيد الله فقال: أنت يا طلحة ممن قضى نحبه. "ابن منده، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35661 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو عبد الرحمن بن ابی بکر (رض) سے فرمایا کہ ایک شانہ کی ہڈی لے آؤ تاکہ اس پر ابوبکر کے لیے تحریر لکھ دوں تاکہ میرے بعد اس پر اختلاف نہ ہو جب عبدالرحمن کھڑے ہوئے تو ارشاد فرمائی اللہ اور مومنین ابوبکر کے بارے میں اختلاف کرنے سے انکار کردیں گے۔ (بزار)
35661- عن عائشة قالت: لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعبد الرحمن بن أبي بكر: ايتني بكتف حتى أكتب لأبي بكر كتابا لا يختلف عليه من بعدي، فلما قام عبد الرحمن قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أبى الله والمؤمنون أن يختلف على أبي بكر الصديق. "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35662 ۔۔۔ حبیب بن ابی ثابت عبداللہ عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں آپ کے محبوب کون ہے تو فرمایا عائشہ (رض) کہا گیا مردوں کے متعلق سوال ہے تو فرمایا ان کے والد۔ (ٕرواہ ابن عساکر)
35662- عن حبيب بن أبي ثابت عن عبد الله بن عمر قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أحب الناس إليك؟ قال: "عائشة"، قيل: إنما نعني من الرجال، قال: "أبوها". "كر".
tahqiq

তাহকীক: