কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৬৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کو جنت کی بشارت
35663 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے تکبیر کہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سن لیا تو غصہ سے سراٹھا کر دیکھا اور فرمایا ابن ابی قحافہ کہاں ہے۔ (ترمذی ابن عساکر)
35663- عن ابن عمر قال: كبر عمر فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم تكبيره فاطلع رأسه مغضبا فقال: أين ابن أبي قحافة. "الواقدي، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35664 ۔۔۔ (مسندربیعہ) ابوصالح مولیٰ ام ہانی (رض) سے روایت ہے کہ ام بانی (رض) نے بیان کیا مجھ سے ربیعہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر صدیق (رض) سے فرمایا اے ابوبکر اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام صدیق رکھا ہے۔ (مسندفردوس)
35664- "مسند نبعة" عن أبي صالح مولى أم هانئ عن أم هانيء قالت: حدثتني نبعة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بكر: " يا أبا بكر إن الله سماك" "الصديق". "فر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35665 ۔۔۔ ام ھانی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ معراج کی رات کے بعد میں قریش کو معراج کی خبردینے کے لیے نکلا تو انھوں نے میری تکذیب کی جب کہ ابوبکر (رض) نے تصدیق کی اس دن سے ان کا نام صدیق ہوگیا۔ (ابونعیم فی المعرفہ اس میں عبدالاعلی ابن ابی مساور متروک ہے)
35665- عن أم هانيء قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما أسري به: إني أريد أن أخرج إلى قريش فأخبرهم، فكذبوه وصدقه أبو بكر فسمي يومئذ "الصديق". "أبو نعيم في المعرفة، وفيه عبد الأعلى ابن أبي المساور متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35666 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں صدقہ لائے آپ نے قبول کرلیا اور کہا یارسول اللہ میرا صدقہ ہے اللہ کے لیے دوبارہ صدقہ کرنا بھی میرے اوپر لازم ہے اس کے بعد عمر (رض) نے صدقہ لایا اس کو ظاہر کیا اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا صدقہ ہے اور میرے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس اعادہ ہے اے عمرتم نے اپنے کمان میں تانت لگایا ہے بےجوڑتم دونوں کے صدقہ میں وہی فرق ہے جو تم دونوں کے کلمہ میں ہے (حلیة الاولیاء ابن کثیر نے کہا اس کی سندجید ہے اور اس کو مرسلات میں سے شمار کیا گیا ہے)
35666- عن الحسن أن أبا بكر أتى النبي صلى الله عليه وسلم بصدقة فأخذها فقال: يا رسول الله! هذه صدقتي ولله عندي معاد، وجاء عمر بصدقته فأظهرها فقال: يا رسول الله! هذه صدقتي ولي عند الله معاد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا عمر! وترت قوسك بغير وتر، ما بين صدقتيكما كما بين كلمتيكما". "حل قال ابن كثير: إسناده جيد ويعد من المرسلات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35667 ۔۔۔ (مسند عبدالرحمن بن ابی بکر (رض)) دیلمی نے مسندفردوس میں کہا ہمیں ابولمنصور بن خیبروں نے خبردی ان کو خبردی ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الجاحظ نے ان کو خبر دی ابوالعلاء الواسطی نے ان کو خبردی احمد بن عمویہ نے ان کو حدیث بیان کی محمد بن جعفر بن احمدبن لیث نے ان کو خبردی عبداللہ بن جعفر ہمدانی نے ان کو خبردی عبداللہ بن محمد جیہان نے ان کو حدیث بیان کی عبداللہ بن بکر بن السہمی نے ان کو حدیث بیان کی مبارک بن فضالہ نے ان کو حدیث بیان کی ثابت بیانی نے عبدالرحمن بن ابی لیلی سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔
35667- "مسند عبد الرحمن بن أبي بكر" قال الديلمي في مسند الفردوس: أنبأنا أبو منصور بن خيرون أنبأنا أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت الحافظ أنبأنا أبو علاء الواسطي أنبأنا أحمد بن عمرويه حدثنا محمد بن جعفر بن أحمد بن الليث حدثنا عبد الله بن جعفر الهمداني حدثنا عبد الله بن محمد بن جيهان حدثنا عبد الله بن بكر السهمي حدثنا مبارك بن فضالة حدثنا ثابت البناني عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: حدثني عمر بن الخطاب أنه ما سابق أبا بكر إلى خير قط إلا سبقه به. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35668 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی بکرصدیق (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز سے فارغ ہو کر صحابہ کرام (رض) کی طرف متوجہ ہوئے پوچھا آج کے دن کس نے روزہ رکھا عمر (رض) نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو روزہ کا خیال نہ رہا اس لیے صبح بغیر روزہ کے ہوں ابوبکر (رض) نے کہا میں رات کو روزہ کی نیت کی تھی اس لیے روزہ سے ہوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے کسی بیماری کی عیادت کی ہے ؟ عمر (رض) نے کہا ہم تو نماز کے بعد یہیں پر ہیں عیادت کیسے کرتے ؟ ابوبکر (رض) نے کہا مجھے رات خبرملی تھی عبدالرحمن بن عوف بیمار ہیں اس لیے میں اس راستہ پر آیا تاکہ صبح کے وقت ان کے حالات معلوم کروں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے عمر (رض) کے کہا ہم تو نماز کے بعد سے یہیں ہیں ابوبکر (رض) نے کہا میں مسجد میں داخل ہوا ایک سائل تھا عبدالرحمن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا وہ لے کر میں نے سائل کود یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہیں جنت کی بشارت ہو عمر (رض) نے سانس لیاہائے جنت تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ایک کلمہ ہے جس سے عمر (رض) راضی ہوگیا ان کا خیال یہ ہے کہ انھوں نے بھی کسی خبرکا ارادہ کیا ابوبکر (رض) اس میں سبقت لے گئے۔ (رواہ ابن عساکر)
35668- عن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح ثم أقبل على أصحابه بوجهه قال: "من أصبح منكم اليوم صائما"؟ قال عمر: يا رسول الله! لم أحدث نفسي بالصوم البارحة فأصبحت مفطرا: فقال أبو بكر: لكن حدثت نفسي بالصوم فأصبحت صائما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "هل منكم اليوم أحد عاد مريضا"؟ قال عمر: يا رسول الله! لم نبرح فكيف نعود المريض! فقال أبو بكر: بلغني أن أخي عبد الرحمن بن عوف شاك فجعلت طريقي عليه لأنظر كيف أصبح، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "هل منكم أحد أطعم اليوم مسكينا"؟ فقال عمر: يا رسول الله؟ صلينا ثم لم نبرح، فقال أبو بكر: دخلت المسجد فإذا سائل فوجدت كسرة من خبز الشعير في يد عبد الرحمن فأخذتها فدفعتها إليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أنت فأبشر بالجنة"! فتنفس عمر فقال: واها للجنة! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمة أرضى بها عمر، عمر زعم أنه لم يرد خيرا قط إلا سبقه إليه أبو بكر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35669 ۔۔۔ حارث سے روایت ہے کہ میں نے علی (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا مردوں میں سب سے پہلے ابوبکر (رض) نے اسلام قبول کیا سب سے پہلے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی ہے وہ علی (رض) ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
35669- عن الحارث قال: سمعت عليا يقول: أول من أسلم من الرجال أبو بكر، وأول من صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم علي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35670 ۔۔۔ حسن (رض) نے علی (رض) سے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو نماز پڑھانے کا حکم فرمایا میں وہاں موجود تھا نہ غائب تھا نہ مجھے کوئی بیماری لاحق تھی ہم نے اپنی دنیا کے لیے اسی کو پسند کیا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے دین کے لیے پسند کیا۔ (رواہ عساکر)
35670- عن الحسن عن علي قال: لقد أمر النبي صلى الله عليه وسلم أبا بكر أن يصلي بالناس وإني لشاهد وما أنا بغائب ومابي مرض، فرضينا لدنيانا ما رضي به النبي صلى الله عليه وسلم لديننا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35671 ۔۔۔ (مسندعلی (رض)) عون بن ابی حجیفہ اپنے والد سے وہ علی بن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے تمہارے بارے میں تین مرتبہ منازعت کی اللہ تعالیٰ نے انکار کیا مگر یہ کہ ابوبکر (رض) کو مقدم کیا جائے۔ (ابن النجار)
35671- "مسند علي" عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا علي! نازلت ربي فيك ثلاثا فأبى أن يقدم إلا أبا بكر ". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35672 ۔۔۔ محمد بن کعب قرظی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج سے واپسی پر ذاطوی تک پہنچے تو کہا اے جبرائیل مجھے ان کی تکذیب کا اندیشہ ہے تو جبرائیل نے جواب دیا کہ وہ کیسے جھٹلائیں گے جب کہ ان میں ابوبکر (رض) موجود ہیں۔ (الزبیر ابن نجار)
35672- عن محمد بن كعب القرظي قال: لما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أسري به فبلغ ذا طوى قال: يا جبريل! إني أخاف أن يكذبوني، قال: وكيف يكذبونك وفيهم أبو بكر الصديق. "الزبير ابن بكار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35673 ۔۔۔ زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسان بن ثابت (رض) سے پوچھا کہ کیا تم نے ابوبکر صدیق (رض) کے بارے میں بھی کوئی شعر کہا ہے ؟ عرض کیا ہاں فرمایا سناؤ تاکہ میں سنوں تو کہا۔ وثانی اثنین فی المغار المنیف وقد کاف العدوبہ اذ یصعد الخبل وکان دف رسول اللہ قد علموا من البربہ لم یعدل بہ املا یعنی وہ دو میں دوسرا تھا جب دونوں غار حراء میں دشمنوں نے ان پر چکر لگایا جب پہاڑ پرچڑھے ہوئے تھے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے لیکن ان سب کو معلوم تھا کہ مرتبہ میں مخلوق میں سے کوئی ان کا برابر نہیں۔ یہ اشعار سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے یہاں آپ کے نواجذظاہر ہوگئے اور فرمایا تم نے سچ کہا وہ ایسا ہی ہے جیسے تم نے کہا ۔ (ابن النجار)
35673- عن الزهري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لحسان: " هل قلت في أبي بكر قيلا"؟ قال: نعم، قال: "قل وأنا أسمع"، قال:

وثاني اثنين في الغار المنيف وقد ... طاف العدو به إذ يصعد الجبلا

وكان ردف رسول الله قد علموا ... من البرية لم يعدل به رجلا

فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه وقال: "صدقت يا حسان"! هو كما قلت. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35674 ۔۔۔ یزید بن اصم سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے پوچھا میں بڑا ہوں یا تم ؟ تو عرض کیا آپ بڑے ہیں مکرم ہیں البتہ عمر میں بڑا ہوں (خلیفہ بن خیاط ابن کثیر نے کہا یہ روایت انتہائی غریب ہے مشہور اس کے خلاف ہے یعنی یہ حضرت عباس (رض) کے متعلق ہے کیونکہ ابوبکر (رض) عمر میں آپ سے چھوٹے تھے ابن ابی شیبہ)
35674- عن يزيد بن الأصم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بكر: أنا أكبر أو أنت؟ قال: أنت أكبر وأكرم وأنا أسن منك. "خليفة بن خياط، قال ابن كثير: غريب جدا والمشهور خلافه، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ نے صدیق نام رکھا
35675 ۔۔۔ صلہ بن زفر سے روایت ہے کہ علی (رض) کے سامنے جب ابوبکر (رض) کا تذکرہ ہوتا تو فرماتے سابق بالخیر کا تذکرہ ہورہا ہے سابق کا تذکرہ ہورہا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جب بھی کسی خیر کے کام میں مسابقت ہوئی تو ابوبکر (رض) ہم سے آگے بڑھ گئے۔ (طبرانی الاوسط)
35675- عن صلة بن زفر قال: كان علي إذا ذكر عنده أبو بكر قال: السباق يذكرون! السباق يذكرون! والذي نفسي بيده! ما استبقنا إلى خير قط إلا سبقنا إليه أبو بكر. "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت علی (رض) کی گواہی
35676 ۔۔۔ ابوالزنا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے علی (رض) سے کہا اے امیر المومنین کیا وجہ ہے کہ مہاجرین اور انصار ابوبکر (رض) کو مقدم رکھتے ہیں حالانکہ آپ کے مناقب ان سے زیادہ ہیں آپ ان سے پہلے مسلمان ہوئے اور بھی آپ کو سبقت حاصل ہے علی (رض) نے فرمایا اگر تم قریشی ہو تو میرے خیال میں تمہارا تعلق عائدہ سے ہے اس نے اقرار کیا ہاں فرمایا اگر مومن اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کردیتا اگر تو زندہ رہاتو تجھے میری طرف سے تنبیہ ہوگی ارے تیرا ناس ہو کہ ابوبکر (رض) سے چار دفعہ سبقت لے گئے امامت میں سبقت لے گئے امامت کی تقدیم ہجرت کی تقدیم ہے اور غار میں سبقت کی اور ابتداء اسلام میں سبقت ہے ارے تیرا ناس ہو اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی مذمت کی مگر ابوبکر (رض) کی تعریف کی ۔ (خیثمہ ابن عساکر)
35676- عن أبي الزناد قال: قال رجل لعلي: يا أمير المؤمنين! ما بال المهاجرين والأنصار قدموا أبا بكر وأنت أوفى منه منقبة وأقدم منه سلما وأسبق سابقة؟ قال: إن كنت قرشيا فأحسبك من عائذة؛ قال: نعم، قال: لولا أن المؤمن عائذ الله لقتلتك، ولئن بقيت لتأتينك مني روعة حصراء، ويحك! إن أبا بكر سبقني إلى أربع: سبقني إلى الإمامة، وتقديم الإمامة وتقديم الهجرة وإلى الغار، وإفشاء الإسلام، ويحك! إن الله ذم الناس كلهم ومدح أبا بكر فقال: {إِلاّ تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ} - الآية. "خيثمة، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35677 ۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا ابوبکر عمر (رض) دونوں نماز جنازہ کے لیے حاضر ہوئے ابوبکر (رض) نے علی ابن ابی طالب سے فرمایا آگے بڑھ کر نماز پڑھا دیں تو فرمایا آپ خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوتے ہوئے میں آگے نہیں بڑھ سکتا ابوبکر (رض) نے آگے بڑھ کر نماز پڑھادی۔ (خطیب فی رواہ مالک)
35677- عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: ماتت فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم فجاء أبو بكر وعمر ليصلوا فقال أبو بكر لعلي بن أبي طالب: تقدم، فقال: ما كنت لأتقدم وأنت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتقدم أبو بكر فصلى عليها. "خط في رواة مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35678 ۔۔۔ (مسندانس (رض)) انس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھی وہ سلام کے پھیرنے کے بعد کھڑے ہوئے تھے پھر ابوبکر (رض) کی اقتداء میں نماز پڑھی وہ سلام کے بعد فوراً اس طرح کھڑے ہوئے گویا کہ گرم ریت کھڑے ہیں۔ (عبد الزاق)
35678- "مسند أنس" صليت وراء رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ساعة يسلم يقوم، ثم صليت وراء أبي بكر فكان إذا سلم وثب فكأنما يقوم عن رضفة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35679 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے فرمایا کہ اے ابوبکر (رض) اللہ تعالیٰ نے مجھے اور مجھ پر ایمان لانے والوں کا اجر وثواب عطا فرمایا آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے لے کر قیامت تک اے ابوبکر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اجر وثواب عطاء فرمایا مجھ پر ایمان لانے والوں کا میری بعثت سے قیامت تک ۔ ( الدنیوری فی المجالسہ والعشاری فی فضائل الصدیق والخلعی خطیب والدیلمی ابن الجوزی فی الواھیات)
35679- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر الصديق: " يا أبا بكر! إن الله أعطاني ثواب من آمن به من يوم خلق الله آدم إلى أن تقوم الساعة، وإن الله أعطاك يا أبا بكر ثواب من آمن بي منذ بعثني إلى أن تقوم الساعة". "الدينوري في المجالسة والعشاري في فضائل الصديق والخلعي، خط والديلمي وابن الجوزي في الواهيات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35680 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اللہ تعالیٰ سے آپ کی تقدیم کے لیے تین مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے انکار کیا (ابوطالب العشاری فی فضائل الصدیق خط وابن الجوزی فی الواھیات ابن عساکر میزان میں کہہ یہ باطل ہے)
35680- عن علي قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " سألت الله أن يقدمك ثلاثا، فأبى إلا تقديم أبي بكر ". "أبو طالب العشاري في فضائل الصديق، خط وابن الجوزي في الواهيات، كر، وقال في الميزان: إنه باطل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35681 ۔۔۔ ابوالوائل سے روایت ہے کہ علی (رض) سے کہا گیا کہ کیا آپ خلیفہ نہیں ہے ؟ فرمایا نہیں کیونکہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خلیفہ نہیں بنایا جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ خیرکا ارادہ فرماتے ہیں تو ان کو خیرپرجمع فرما دیتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے بعد لوگوں کو خبرپرمتفق فرمادیا۔ (ابن ابی عاصم عقیلی وابوالشیخ فی الوصایا العشاری فی فضائل الصدیق بیہقی)
35681- عن أبي وائل قال: قيل لعلي: ألا تستخلف؟ فقال: لا، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يستخلف، فإن يرد الله بالناس خيرا فسيجمعهم على خير كما جمعهم بعد نبيهم على خير. "ابن أبي عاصم، عق وأبو الشيخ في الوصايا والعشاري في فضائل الصديق، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35682 ۔۔۔ حارث علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے ابوجہل بن ہشام کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیاتو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک طرح کا غم گین پایا جو میں نے آپ کے چہرہ پر محسوس کیا تو میں ابوبکر (رض) کے پاس گیا اور ان کو پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کو اتے ہوئے دیکھا آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کے چہرہ پر کچھ ناپسندیدگی کے آثار ظاہر تھے جب آپ نے ابوبکر (رض) کو دیکھا تو آپ کا چہرہ کھل گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کو دیکھ کر چہرہ کھلنے سے کیا چیز مانع ہے ؟ ابوبکر (رض) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا سب سے پہلے ایمان لایا اور سب سے زیادہ خاموش رہنے والے ہیں اور سب سے زیادہ مناقب والے ہیں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت میں میرے ساتھ غار کی وحشت میں انس پہنچانے والے تھے اس کے بعد قبر میں بھی میرے ساتھ ہوں گے تو ابوبکر (رض) کو دیکھ کر خوشی سے میرا چہرہ چمکدار کیسے نہ ہوگا۔ (الزوزنی)
35682- عن الحارث عن علي قال: لما خطبت بنت أبي جهل ابن هشام وجد النبي صلى الله عليه وسلم موجدة فرأيت في وجهه فخرجت إلى أبي بكر فأخذت بيده فأدخلته على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رأى النبي صلى الله عليه وسلم أبا بكر مقبلا تهلل وجه النبي صلى الله عليه وسلم فرحا فقلت: يا رسول الله! رأيت في وجهك ما أكره فلما نظرت إلى أبي بكر تهلل وجهك إليه فرحا! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " ما يمنعني أن تهلل وجهي إلى أبي بكر فرحا وأبو بكر أول الناس إسلاما، وأقدمهم إيمانا، وأطولهم صمتا وأكثرهم مناقب، رفيقي في الهجرة إلى المدينة، وأنيسي في وحشة الغار، ومن بعد ذلك ضجيعي في قبري، كيف لا يتهلل وجهي إلى أبي بكر فرحا". "الزوزني".
tahqiq

তাহকীক: