কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৬৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35683 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ اس امت میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ مکرم نبی کے بعد ابوبکر (رض) ہیں اور بلند درجات والے ہیں قرآن کریم کو جمع کرنے کی وجہ سے اور اللہ کے دین کو قائم کرنے کی وجہ سے اس کے ساتھ پہلے سے اسلام پر سبقت حاصل کرنے کے اور دیگر فضائل کی وجہ سے۔ (الزوزنی)
35683- عن علي قال: إن أكرم الخلق من هذه الأمة على الله بعد نبيها وأرفعهم درجة أبو بكر لجمعه القرآن بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وقيامه بدين الله مع قديم سوابقه وفضائله. "الزوزني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35684 ۔۔۔ ابابن عثمان الاحمرابان بن تغلب سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب (رض) نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ اپنے آپ کو قبائل کے سامنے پیش کریں یعنی ان سے اپنی حفاظت ونصرت طلب کریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے میں اور ابوبکر (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے ہم عرب کی مجالس میں سے ایک مجلس میں گئے تو ابوبکر (رض) آگے پڑھے وہ ہر خبر کے کام میں آگے بڑھنے والے تھے اور وہ نسب جاننے والے شخص تھے جاکر سلام کیا اور پوچھا کس قبیلہ سے تعلق ہے لوگوں نے بتایا ربیعہ سے پوچھا ربیعہ کی کس شاخ سے تعلق ہے ؟ ھام سے یاھازم سے لوگوں نے بتایا ھامة العظمی سے ابوبکر (رض) نے پوچھا کس ھامة العظمی سے تعلق ہے لوگوں نے بتایا ذھل اکبر سے پوچھا کیا وہ عوف جس کو لوگ وادی کا سب سے قابل شخص بتاتے ہیں اس کا تعلق تمہارے قبیلہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں پوچھا کیا حساس ابن مرہ جو نگرانی کرنے والا پڑوس کی حفاظت کرنے والا ہے اس کا تعلق تمہارے قبیلہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں کیا بطام بن قیس جو صاحب جھنڈا ہے اور قبیلہ کا سردار ہے اس کا تعلق تم سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں کیا جو فزاں جو بادشاہ کا قاتل ہے اور ان کے نفوس چھیننے والا اس کا تعلق تم سے ہے لوگوں نے بتایا نہیں پوچھا مردلف جو یکتا عمامہ کا مالک ہے اس کا تعلق تم سے ہے ان لوگوں نے بتایا نہیں پوچھا کیا کندہ کے بادشاہوں کے ماموں کا تعلق تم سے ہے بتایا نہیں پوچھا نحم کے بادشاہوں سسرال تم میں سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا نہیں تو ابوبکر (رض) نے فرمایا تمہارا تعلق ذھل اکبر سے نہیں بلکہ ذھل الفر سے ہے تو نبی شیبان کا ایک لڑکا جس کی ابھی داڑھی نکل رہی تھی وہ کھڑا ہوا اور کہا۔ (ان علی سائلنا ان نسالہ والعیب لاتعرفہ اوتحملہ) اے شخص تم نے ہم سے تفصیلات معلوم کیں ہم نے تفصیلات بتلا دی ہیں کوئی چیز ہم نے نہیں چھپائی آپ بتائیں آپ کون ہیں بتایا میں ابوبکرہوں قریش سے میرا تعلق ہے اس جوان نے کہا بس بس شرافت والے ہو اور ریاست والے جوان نے پوچھا قریش کی کس شاخ سے آپ کا تعلق ہے بتایا ہم ابن مرو سے جوان نے کہا واللہ تمہیں تو دانت کے درمیان تیرپھینکنے پر قدرت حاصل ہے پوچھا قصی تم ہی میں سے ہے جس نے فہر کے قبائل کو جمع کیا جس کو قریش مجمعا کے نام سے یاد کرتے ہیں کہا نہیں پھر پوچھا ہاشم جو قوم کے لیے ثرید بنایا کرتا تھا جب کہ اہل قحط سالی اور تنگ دستی میں بتلا تھے ان کا تعلق تم سے ہے بتایا نہیں بھر پوچھا شیبة الحمد عبدالمطلب جو آسمان پرندہ کو غذا کھلاتا جس کا چہرہ چاند کی طرح ہے یعنی اندھیری رات میں چمکتا ہے ان کا تعلق تم سے ہے بتایا نہیں پوچھا کیا تمہارا تعلق اہل حجابہ سے ہے فرمایا نہیں پوچھا تمہارا تعلق اہل سقایہ سے ہے بتایا نہیں کیا اہل ندوة سے تمہارا تعلق ہے ؟ بتایا نہیں پوچھا اہل رفادہ سے تمہارا تعلق ہے بتایا نہیں ابوبکر (رض) نے اونٹ کا لگام پکڑ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لے جاناچاہا تو لڑکے نے کہا۔ ھادف درء السیل دراء بھضہ حینا وحینا لیصدعہ تو ابوبکر (رض) نے کہا اگر وہ ٹھہرجاتا تو اس کو یارسول اللہ آپ کے بارے میں بتانا آپ کا تعلق قریش سے ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے۔ علی (رض) نے کہا اے ابوبکر آپ کو بہت ہوشیار بدوی سے سابقہ پڑا ہے تو فرمایا ہاں اے ابوالحسن ہر بڑی اہم بات پر مطلع ہونا یہ ایک مستقل مصیبت ہے بلاء بندھی ہوئی ہے گویائی کے ساتھ پھر ہم دوسری مجلس کی طرف جن پر سکینت اور وقار چھایا ہوا تھا گئے ابوبکر (رض) نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور پوچھا آپ کہاں کے ہیں بتایا ہمارا تعلق شیبان ثعلبہ سے ہے ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہو کر کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ شریف لوگ ہیں ان میں مفروق بن عمروھائی بن قبیصہ ہثنی بن حارثہ نعمان بن شریک مفسروق حسن جمال اور فصاحت لسانی کے لحاظ سے ان پر فائق تھا ان کے بالوں کے دولٹھے تھے جو سینہ پر گرتے تھے اور قوم کی مجلس کے آخر میں بیٹھے ہوئے ہیں ابوبکر (رض) نے پوچھا تمہاری تعداد کتنی ہے ؟ مفروق نے کہا ہماری تعداد ہزار سے زیادہ ہے ایک ہزار قلت کی وجہ سے شکست نہیں کھاتے ابوبکر (رض) نے پوچھا تمہارا حفاظت کا نظام کیسا ؟ مفروق نے کہا ہم اس کی خاطر مشقت برداشت کرتے ہیں جب کہ ہر قوم کوشش کرتی ہے ابوبکر (رض) نے پوچھا اور تمہارے دشمنوں سے لڑائی کا کیا حال ہے ؟ مفروق نے کہا ہم مقابلہ کے وقت سخت غضبناک ہوتے ہیں اور ہم غصہ کے وقت سخت مقابلہ کرتے ہیں اور ہم عمدہ گھوڑوں کو اپنی اولاد پر ترجیح دیتے ہیں اسلحہ کو دودھ والی اونٹنی پر اور اللہ کی مدد کبھی ہمیں غالب کرتی ہے اور کبھی ہم مغلوب ہوئے ہیں شاید آپ قریشی بھائی ہیں ؟ ابوبکر (رض) نے کہا تمہیں خبر پہنچی ہے کہ اللہ کا رسول مبعوث ہوا ہے وہ یہ ہیں رسول اللہ آگے بڑھے اور بیٹھ گئے ابوبکر (رض) ان پر اپنے کپڑے سے سا یہ کئے ہوئے تھے رسول اللہ نے فرمایا میں تمہیں دعوت دیتاہوں اس کی شہادت دو لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمد عبدہ ورسولہ اور اس کی دعوت دیتاہوں مجھے پناہ دو اور میری مدد کرو کیونکہ قریش نے تو اللہ کے حکم کا مقابلہ کیا اور اللہ کے رسول کو جھٹلایا اور باطل کو لے کر حق سے استغناء ظاہر کیا اللہ تعالیٰ ہی غنی اور حمید ہے مفروق بن عمر نے پوچھا آپ کن باتوں کی طرف دعوت دیتے ہیں اے قریشی بھائی اللہ کی قسم میں نے اس کلام سے عمدہ کلام نہیں سنارسول اللہ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :۔ قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم۔۔۔ (الی) فتفرق بکم عن سبیلہ ذالکم وصاکم بہ لعلکم تتقون مفروق نے کہا کن باتوں پر عمل کی دعوت دیتے ہیں اے قریشی بھائی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ان اللہ بامر لعدل والاحسان الی قولہ لعلم تذکرون تو مفروق بن عمرو نے کہا اے قریشی بھائی واللہ تم تو عمدہ اخلاق والے اعمال کی دعوت دیتے ہو اس قوم نے بہتان باندھا جنہوں نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کی مخالفت کی مفروق نے اس بات کو پسند کیا کہ ھانی بن قبیصہ کو بھی اس کلام میں شریک کیا جائے کہا یہ حانی ہمارے شیخ اور آپ ہمارے ساتھی ہیں بھائی نے کہا اے قریشی بھائی میں نے آپ کا کلام سنا ہے میرا خیال یہ ہے کہ اگر ہم نے اپنا دین چھوڑ کر آپ کی اتباع کی صرف ایک مجلس سے جو اول اور آخری نہیں ہے تو یہ رائے میں لغذرا سے انجام پر قلت نظر ہوگی جلد بازی میں نضرش ہوتی ہے ہمارے علاوہ بھی قوم کے افراد ہیں ایک دم سے ان کو کسی راستے پر باندھ دینا پسندیدہ بات نہیں لیکن آپ بھی لوٹ جائیں ہم بھی لوٹ جاتے ہیں ہم بھی سوچیں آپ بھی سوچیں وہ مثنی کو بھی شریک کرنا چاہتے تھے کہا یہ مثنی بن حارثہ ہے جو ہمارے شیخ ہیں اور ہماری لڑائی کے امور کے ماہر ہیں۔ مثنی بن حارثہ نے کہا اے قریشی بھائی میں نے آپ کی گفتگو سنی ہے میرا بھی وہی جواب ہے جو ھانی بن قبیصہ کا ہے اگر ہم نے اپنا دین چھوڑ کر آپ کا دین اختیار کرلیا تو گویا کہ ہم نے اپنے آپ کو سمامہ اور سمامہ کے دوضرتین میں اتاردیا یارسول اللہ نے پوچھا ضرتان کیا چیز ہے بتایا کسری کی نہر اور عرب کے پانی کا چشمہ جو انہار کسری میں سے ہے اس گناہ کے مرتکب کی مغفرت نہ ہوگی اور اس کا عذر مقبول نہ ہوگا اور عرب کے چشمہ کے قریب ہے اس گناہ کے مرتکب کی مغفرت بھی ہوگی اور اس کا عذر قبول بھی ہوگا ہم ایک معاہدہ پر قائم ہیں نہ کوئی بنا حادثہ واقع کریں گے نہ ہی کسی نئے نئے حادثہ والے کو اپنے ہاں جگہ دیں گے میرے خیال میں جس امر کی آپ دعوت دے رہے ہیں اس بات کو بادشاہ لوگ ناپسند کریں گے اگر آپ اس بات کو پسند کریں کہ ہم آپ کو ٹھکانا دیں اور آپ کی مدد کریں میاہ عرب کے متصل علاقوں میں تو ہم ایسا کرسکتے ہیں تو رسول اللہ نے فرمایا تم نے کوئی برا نہیں کہا جب تم نے سچ بولا اللہ تعالیٰ کے دین کی وہی مدد کرسکتا ہے جو تمام جو انب سے اس کا احاطہ کرے بتلاؤ اگر بہت جلد تمہیں اللہ تعالیٰ زمین اور اس کے مال و دولت کا مالک بنادے اور ان کی عورتوں کو تمہارے نکاح میں دیدے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کروگے ؟ نعمان بن شریک نے کہا اے اللہ ضرور ہم ایساکریں رسول اللہ اس نے یہ آیت کی تلاوت کی : اناارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوئے وہ یہ فرما رہے تھے جاہلیت کے دور میں بھی کیسے اخلاق ہیں جس سے اللہ تعالیٰ کسی کو مشرف فرمائیں اللہ تعالیٰ بعض کی جنگ کو بعض سے دفع فرماتے ہیں اسی سے ایکدوسرے کو روکتے ہیں پھر ہم اوس اور خزج کی مجسل میں حاضر ہوئے ہم مجلس ہی میں تھے انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کرلی میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے نسب دانی پر خوش ہورہے تھے (ابن اسحاق نے مبتداء عقیلی ، ابونعیم ، بیہقی نے اکٹھے دلائل میں خطیب نے متفق میں عقیلی نے کہا اس حدیث کے طویل الفاظ کی کوئی اصل نہیں اور کوئی چیز صحیح سند سے ثابت نہیں مگر بعض باتیں جو واقدمی وغیرہ نے مرسلا روایت کی ہے اور واقد عطاء نے ابن خیثم سے انھوں نے ابی الزبیر سے انھوں نے جابر (رض) سے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس سال تک موسم حج میں وفود کے قیام مگاہوں میں جاتے رہے اور حدیث ذکر کی جو ابان بن عثمان کی روایت سے مختلف ہے انہی بیہقی نے کہا کہ حسن بن صاحب نے کہا کہ یہ روایت مجھ سے لکھی ابوحاتم رازی نے بیہقی نے کہا اس کو روایت کیا ہے محمد بن زکریا غلابی نے وہ متروک ہے شعیب بن واقد سے انھوں نے آبان بن عثمان سے اس کو اسی سند اور معنی کے ساتھ ذکر کیا۔ دوسری مجہول سند کے ساتھ ابان بن تغلب سے مروی ہے انتہیٰ )
35684- عن أبان بن عثمان الأحمر عن أبان بن تغلب عن عكرمة عن ابن عباس قال حدثني علي بن أبي طالب من فيه قال،لما أمر الله تعالى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعرض نفسه على قبائل العرب خرج وأنا معه وأبو بكر فدفعنا إلى مجلس من مجالس العرب، فتقدم أبو بكر وكان مقدما في كل خير وكان رجلا نسابة فسلم وقال: ممن القوم؟ قالوا: من ربيعة، قال: وأي ربيعة أنتم؟ من هامها أم لهازمها فقالوا: من الهامة العظمى، فقال أبو بكر: وأي هامتها العظمى أنتم؟ قالوا: من ذهل الأكبر، قال: منكم عوف الذي يقال له لا حر بوادي عوف؟ قالوا: لا، قال: فمنكم جساس بن مرة حامي الذمار مانع الجار؟ قالوا: لا، قال: فمنكم بسطام بن قيس أبو اللواء ومنتهى الأحياء؟ قالوا: لا، قال: فمنكم الحوفزان قاتل الملوك وسالبها أنفسها؟ قالوا: لا، قال: فمنكم المزدلف صاحب العمامة الفردة؟ قالوا: لا، قال: فمنكم أخوال الملوك من كندة؟ قالوا: لا، قال: فمنكم أصهار الملوك من لخم؟ قالوا: لا، قال أبو بكر: فلستم من ذهل الأكبر، أنتم من ذهل الأصغر، فقام إليه غلام من بني شيبان حين بقل وجهه فقال:

إن على سائلنا أن نسأله ... والعبء لا تعرفه أو تحمله

يا هذا! إنك قد سألتنا فأخبرناك ولم نكتمك شيئا فمن الرجل؟ قال

أبو بكر: أنا من قريش: فقال الفتى: بخ بخ من أهل الشرف والرئاسة! فمن أي القرشيين أنت؟ قال: من ولد تيم بن مرة، فقال الفتى: أمكنت والله الرامي من سواء الثغرة، أمنكم قصي الذي جمع القبائل من فهر فكان يدعى في قريش مجمعا؟ قال: لا، قال: فمنكم هاشم الذي هشم الثريد لقومه ورجال مكة مسنتون عجاف؟ قال: لا، قال: فمنكم شيبة الحمد عبد المطلب مطعم طير السماء الذي كأن وجهه القمر يضيء في الليلة الداجية الظلماء؟ قال: لا، قال: فمن أهل الإفاضة بالناس أنت؟ قال: لا، قال: فمن أهل الحجابة أنت؟ قال: لا، قال: فمن أهل السقاية أنت؟ قال: لا، قال: فمن أهل الندوة أنت؟ قال: لا، قال: فمن أهل الرفادة أنت؟ قال: لا، فاجتذب أبو بكر زمام الناقة راجعا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الغلام:

صادف درء السيل درءا يدفعه ... بهيضه حينا وحينا يصدعه أما والله! لو ثبت لأخبرتك من قريش؛ فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال علي: فقلت: يا أبا بكر! لقد وقعت من الأعرابي على باقعة، قال: أجل يا أبا حسن! ما من طامة إلا وفوقها طامة والبلاء مؤكل بالمنطق. ثم دفعنا إلى مجلس آخر عليهم السكينة والوقار فتقدم أبو بكر فسلم فقال: ممن القوم؟ قالوا من شيبان بن ثعلبة، فالتفت أبو بكر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: بأبي أنت وأمي! هؤلاء غرر الناس، وفيهم مفروق بن عمرو وهانيء بن قبيصة والمثنى بن حارثة والنعمان بن شريك، وكان مفروق قد غلبهم جمالا ولسانا وكانت له غديرتان تسقطان على تريبته وكان أدنى القوم مجلسا؛ فقال أبو بكر: كيف العدد فيكم؟ فقال مفروق: إنا لنزيد على ألف ولن يغلب ألف من قلة، فقال أبو بكر: وكيف المنعة فيكم؟ فقال المفروق: علينا الجهد ولكل قوم جد، فقال أبو بكر: كيف الحرب بينكم وبين عدوكم؟ فقال مفروق: إنا لأشد ما نكون غضبا حين نلقى، وإنا لأشد ما نكون لقاء حين نغضب، وإنا لنؤثر الجياد على الأولاد، والسلاح على اللقاح، والنصر من عند الله يديلنا مرة ويديل علينا أخرى، لعلك أخو قريش؛ فقال أبو بكر: قد بلغكم أنه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ألا هو ذا! فقال مفروق: بلغنا أنه يذكر ذاك فإلى م تدعونا يا أخا قريش؟ فتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس وقام أبو بكر يظله بثوبه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أدعوكم إلى شهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، وإلى أن تؤوني وتنصروني، فإن قريشا قد ظاهرت على أمر الله وكذبت رسله واستغنت بالباطل عن الحق والله هو الغني الحميد"، فقال مفروق بن عمرو إلى م تدعونا يا أخا قريش؟ فوالله؟ ما سمعت كلاما أحسن من هذا؛ فتلا رسول الله صلى الله عليه وسلم: {قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ} إلى {فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} ، فقال مفروق، وإلى م تدعونا يا أخا قريش؟ فوالله ما هذا من كلام أهل الأرض! فتلا رسول الله صلى الله عليه وسلم: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْأِحْسَانِ} إلى قوله: {لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} فقال مفروق بن عمرو: دعوت والله يا أخا قريش إلى مكارم الأخلاق ومحاسن الأعمال! ولقد أفك قوم كذبوك وظاهروا عليك - وكأنه أحب أن يشركه في الكلام هانيء بن قبيصة فقال: وهذا هانيء شيخنا وصاحب ديننا! فقال هانيء: قد سمعت مقالتك يا أخا قريش! إني أرى إن تركنا ديننا واتبعناك على دينك لمجلس جلسته إلينا ليس له أول ولا آخر إنه زلل في الرأي وقلة نظر في العاقبة، وإنما تكون الزلة مع العجلة، ومن ورائنا قوم نكره أن نعقد عليهم عقدا ولكن نرجع وترجع وننظر وتنظر - وكأنه أحب أن يشركه المثنى بن حارثة فقال: وهذا المثنى بن حاثة شيخنا وصاحب حربنا! فقال المثنى بن حارثة: سمعت مقالتك يا أخا قريش! والجواب فيه جواب هانيء بن قبيصة، وتركنا ديننا ومتابعتك على دينك، وإنا إنما نزلنا بين ضرتي اليمامة والسمامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما هاتان الضرتان"؟ فقال: أنهار كسرى ومياه العرب، فأما ما كان من أنهار كسرى فذنب صاحبه غير مغفور وعذره غير مقبول، وأما ما كان مما يلي مياه العرب فذنب صاحبه مغفور وعذره مقبول، وإنا إنما نزلنا على عهد أخذه علينا أن لا نحدث حدثا ولا نؤوي محدثا، وإني أرى أن هذا الأمر الذي تدعونا إليه يا أخا قريش مما تكره الملوك، فإن أحببت أن نؤويك وننصرك مما يلي مياه العرب فعلنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما أسأتم في الرد إذ أفصحتم بالصدق وإن دين الله به لن ينصره إلا من حاطه من جميع جوانبه، أرأيتم أن لا تلبثوا إلا قليلا حتى يورثكم الله أرضهم وديارهم وأموالهم ويفرشكم نساءهم، أتسبحون الله وتقدسونه؟ فقال النعمان بن شريك: اللهم فلك ذلك! فتلا رسول الله صلى الله عليه وسلم {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً وَدَاعِياً إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجاً مُنِيراً} ثم نهض رسول الله صلى الله عليه وسلم قابضا على يدي أبي بكر وهو يقول: يا أبا بكر! أية أخلاق في الجاهلية ما أشرفها بها يدفع الله بأس بعضهم عن بعض وبها يتحاجزون فيما بينهم، فدفعنا إلى مجلس الأوس والخزرج فما نهضنا حتى بايعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سر بما كان من أبي بكر ومعرفته بأنسابهم. "ابن إسحاق في المبتدأ، عق وأبو نعيم، هق معا في الدلائل، خط في المتفق، قال عق: ليس لهذا الحديث بطوله وألفاظه أصل، ولا يروى من وجه يثبت إلا شيء يروى في مغازي الواقدي وغيره مرسل، وقد روى داود العطار عن ابن خثيم عن أبي الزبير عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم لبث عشر سنين يتبع الحاج في منازلهم في الموسم - فذكر الحديث بجلاف لفظ أبان ودونه في الطول وهو أولى من حديث أبان بن عثمان - انتهى، وقال ق: قال الحسن بن صاحب: كتب عني هذا الحديث أبو حاتم الرازي، قال ق: وقد رواه أيضا محمد بن زكريا الغلابي وهو متروك عن شعيب بن واقد عن أبان بن عثمان فذكره بإسناده ومعناه، وروي أيضا بإسناد آخر مجهول عن أبان بن تغلب - انتهى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35685 ۔۔۔ ابوعطوف جزری نے زھری سے انھوں نے انس (رض) سے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حسان بن ثابت (رض) سے فرمایا کہ آپ نے ابوبکر (رض) کے بارے میں بھی کوئی شعر کہا ہے ؟ عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا کہو تاکہ میں سنوں۔ ثانی اثنین فی الغا ر التیف وقد طاف العدوبہ اذیصعد الجبلا وکان حنب رسول اللہ قدعلموا من البربة لم یعدل بہ بدلا یہ شعر سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے حتی کہ آپ کے نواجد ظاہر ہوئے اور فرمایا تم نے سچ کہا ہے اے حسان وہ ویسا ہی ہے جیسے تم نے بیان کیا (عدی اور دوسری سند سے زہری سے مرسلا منقول ہے اور فرمایا محمد بن ولید بن ابان کے علاوہ کسی نے متصلابیان نہیں کیا اور وہ ضعیف ہے حدیث میں سرقہ کے عادی تھے اور کہا یہ متصلا اور مرسلا دونوں طرق سے منکر ہے بلاء اس میں ابوعطوف کی طرف سے ہے۔ (ذخیرة الالفاظ :1492)
35685- عن أبي العطوف الجزري عن الزهري عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لحسان بن ثابت: "هل قلت في أبي بكر شيئا"؟ قال: نعم يا رسول الله! قال: "قل حتى أسمع"، قال:

وثاني اثنين في الغار المنيف وقد ... طاف العدو به إذ يصعد الجبلا

وكان حب رسول الله قد علموا ... من البرية لم يعدل به بدلا

فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه ثم قال: "صدقت يا حسان! هو كما قلت". "عد، ورواه من وجه آخر عن الزهري مرسلا وقال: ولم يوصله إلا محمد بن الوليد بن أبان وهو ضعيف يسرق الحديث: وقال: هذا الحديث موصله ومرسله منكر، والبلاء فيه من أبي العطوف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35686 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا پھر ارشاد فرمایا کہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کردئیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے کیونکہ میرے علم میں صحبت اور مال کے ذریعہ ابوبکر (رض) سے زیادہ مجھے فائدہ پہنچانے والا کوئی نہیں بعض راویوں نے یہ روایت کی ہے کہ تمام دروازے بندکردوسوائے میرے خلیل کے دروازے کے کیونکہ میں دوسرے دروازوں پر ظلمت اور ابوبکر (رض) کے دروازے پرنور دیکھا ہے تو آکر کا جملہ ان پر پہلے جملہ سے زیادہ بھاری تھا۔ (عدی)
35686- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطب الناس فقال: "سدوا هذه الأبواب الشارعة في المسجد إلا باب أبي بكر، فإني لا أعلم أحدا أعظم عندي يدا في صحبته وذات يده من أبي بكر"، فقال بعض الناس: سدوا الأبواب كلها إلا باب خليله، فقال: "إني رأيت على أبوابهم ظلمة ورأيت على باب أبي بكر نورا"، فكانت الآخرة أعظم عليهم من الأولى. "عد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35687 ۔۔۔ انس سے روایت ہے کہ لوگوں نے پوچھا رسول اللہ آپ کے نزدیک سب سے محبوب کون ہیں تو آپ نے فرمایا عائشہ (رض) پوچھا مردوں میں کون ہیں فرمایا پھر ان کے والد۔ (نسائی)
35687- عن أنس قال: قالوا: يا رسول الله! أي الناس أحب إليك؟ قال: عائشة، قال: من الرجال؟ قال: أبوها إذا. "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35688 ۔۔۔ ابوالبختری طائی سے مروی ہے کہ علی (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا بتایا ابوبکر وہ آپکے بعد آپ کی امت کے امور کا ذمہ دار بھی ہوگا وہ امت کے افضل اور ارفع بھی ہیں۔ (ابن عساکر نے روایت کرکے کہا غریب جدا اس روایت کے علاوہ ان سے کوئی روایت نہیں)
35688- عن أبي البختري الطائي قال: سمعت عليا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لجبريل: "من يهاجر معي"؟ قال: أبو بكر، وهو يلي أمر أمتك من بعدك وهو أفضلها وأرأفها. "كر وقال: غريب جدا لم أكتبه إلا من هذا الوجه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35689 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن فرمایا کہ آج میں کون روزہ دار ہے ابوبکر (رض) نے کہا میں پوچھا آج تم میں سے کسی نے بیمار کی عیادت کی ابوبکر (رض) نے عرض کیا میں نے پوچھا آج تم میں سے کون جنازہ کے ساتھ گیا ؟ ابوبکر (رض) نے کہا میں تو ارشاد فرمایا تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی ہے۔ (ابن النجار)
35689- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم: "من أصبح اليوم منكم صائما"؟ قال أبو بكر: أنا، قال: "من عاد منكم اليوم مريضا"؟ قال أبو بكر: أنا، قال: "من شيع اليوم منكم جنازة"؟ قال أبو بكر: أنا، قال: "وجبت وجبت لك الجنة". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ
35690 ۔۔۔ (مسندعلی (رض)) محمد بن عقیل سے روایت ہے کہ علی ابن ابی طالب نے ہمیں خطبہ دیا اس میں فرمایا اے لوگو مجھے بتاؤ تم سب سے بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا آپ اے امیر المومنین میں تو جس سے بھی مقابلہ کرتا ہوں اس کے آدھا ہوتاہوں لیکن تم بتاؤ سب سے بہادر کون ہے ؟ لوگوں نے کہا ہمیں معلوم نہیں تو علی (رض) نے فرمایا ابوبکر ہیں غزوہ بدر کے دن ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ایک چھپر بنایا ہم نے کہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کون ہوگا تاکہ کوئی مشرک آپ کی طرف نہ بڑھ سکے اللہ کی قسم ابوبکر (رض) سی آپ کے سب سے زیادہ قریب تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر پر ننگی تلوار لے کر کھڑے رہے جب بھی کوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بڑھتا ابوبکر (رض) اس طرف بڑھتے یہی لوگوں میں سب سے بہادر ہیں میں نے دیکھا کہ قریش رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ لیتے کوئی مار تا کوئی منہ کے بل گراتا اور کہتے تم نے ہی تمام معبودوں کو ایک معبود قرار دیا اللہ کی قسم ابوبکر (رض) کے علاوہ کوئی بھی ان کی قریب نہ جاتاو کسی کو مارتے کسی کو دھکا دیتے اور کسی کو گراتے اور کہتے کہ تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے پھر علی (رض) نے چادر اٹھا کر رونا شروع کیا یہاں تک داڑھی تر ہوگئی پھر فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ مومن آل فرعون بہتر تھا ابوبکر (رض) قوم نے کوئی جواب نہیں دیا پوچھا کیا تم کوئی جواب نہیں دوگے پھر خود ہی فرمایا ابوبکر (رض) کی ایک گھڑی آل مومن کے مثل سے بہتر ہے وہ شخص تو ایمان کو چھپاتا تھا اور یہ ابوبکر اپنے ایمان کا اعلان کرتا ہے۔ (البزار)
35690- "مسند علي" عن محمد بن عقيل قال: خطبنا علي ابن أبي طالب فقال: أيها الناس! أخبروني من أشجع الناس؟ قالوا: أنت يا أمير المؤمنين! قال: أما إني ما بارزت أحدا إلا انتصفت منه ولكن أخبروني بأشجع الناس، قالوا: لا نعلم فمن؟ قال: أبو بكر، إنه لما كان يوم بدر جعلنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم عريشا فقلنا: من يكون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لئلا يهوي إليه أحد من المشركين؟ فوالله! ما دنا منا أحد إلا أبو بكر شاهرا بالسيف على رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم، لا يهوي إليه أحد إلا أهوى إليه، فهذا أشجع الناس! ولقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخذته قريش فهذا يجأه وهذا يتلتله وهم يقولون: أنت الذي جعلت الآلهة إلها واحدا! فوالله ما دنا منا أحد إلا أبو بكر! يضرب هذا ويجأ هذا ويتلتل هذا وهو يقول: ويلكم أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله! ثم رفع علي بردة كانت عليه فبكي حتى اخضلت لحيته، ثم قال: أنشدكم الله! أمؤمن آل فرعون خير أم أبو بكر؟ فسكت القوم، فقال: ألا تجيبوني! فوالله لساعة من أبي بكر خير من مثل مؤمن آل فرعون! ذاك رجل يكتم إيمانه وهذا رجل أعلن إيمانه. "البزار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی عبادت
35691 ۔۔۔ (مسند الصدیق ) ابوبکر بن حفص سے روایت ہے کہ مجھے خبرپہنچی ہے کہ ابوبکر (رض) گرمی کے زمانہ میں روزہ رکھتے اور سردی کے زمانے میں افطار کرتے تھے ۔ (احمد بن الزھد)
35691- "مسند الصديق" عن أبي بكر بن حفص قال: بلغني أن أبا بكر كان يصوم الصيف ويفطر الشتاء. "حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی عبادت
35692 ۔۔۔ مجاہد عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نماز میں اس طرح کھڑے ہوتے گویا کہ لکڑی ہیں ابوبکر (رض) اس طرح کرتے تھے یہ نماز میں خشوع ہے۔ (ابن سعدابن ابی شیبة)
35692- عن مجاهد عن عبد الله بن الزبير أنه كان يقوم في الصلاة كأنه عود وكان أبو بكر يفعل ذلك. قال مجاهد: هو الخشوع في الصلاة. "ابن سعد، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا تقویٰ
35693 ۔۔۔ مسند الصدیق محمد بن سیر بن سے روایت ہے کہ مجھے معلوم نہیں کسی نے کھانا کھا کرقصداًقے کردیا سوائے ابوبکر (رض) کے کیونکہ ان کے پاس کھانا لایا گیا اس کو تناول فرمایا پھر کہا گیا کہ یہ ابن النعیمان لایا ہے فرمایا تم مجھے ابن النعیما ن کی کہانیت کا کھانا کھلاتے ہو پھر منہ میں ہاتھ داخل کرکے الٹی کردی ۔ (احمدفی الزھد)
35693- "مسند الصديق" عن محمد بن سيرين قال: لم أعلم أحدا استقاء من طعام أكله غير أبي بكر، فإنه أتى بطعام فأكله ثم قيل له: جاء به ابن النعيمان قال: فأطعمتموني كهانة ابن النعيمان ثم استقاء. "حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا تقویٰ
35694 ۔۔۔ زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے صدقہ کا دودھ پیا ان کو علم نہیں تھا پھر جب ان کو بتلایا گیا تو انھوں نے قے کردی۔ (رواہ ابو نعیم)
35694- عن زيد بن أسلم أن أبا بكر شرب لبنا من الصدقة ولم يعلم، ثم أخبر به فتقيأه. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا تقویٰ
35695 ۔۔۔ زین بن راقم (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) ؟ کا ایک غلام تھا جو کھانے کا سامان لایا کرتا تھا ایک ۔ رات کچھ کھانا لایا ابوبکر (رض) نے اس میں سے ایک لقمہ کھایاتو غلام نے کہا کیا وجہ ہے کہ آپ ہر رات مجھ سے پوچھتے ہیں اور آج رات نہیں پوچھ رہے ہیں ؟ فرمایا مجھے اس پر بھوک نے مجبور کیا ہے یہ کھانا کہاں سے لایا بتایا جاہلیت کے دور میں ایک قوم تھی میرا گذر ہوا میں نے ان کے لیے تعویذ کیا انھوں نے مجھ سے اجرت دینے کا وعدہ کرلیا تھا آج پھر میرا ان پر گذر ہوا تو ان کی ایک شادی تھی تو انھوں نے مجھے کھانادیا ہے فرمایا تیرا ناس ہو قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردیتاپھر اپنا ہاتھ حلق میں داخل کیا اور قئی کرنے کی کوشش کی لیکن نکل نہیں رہا تھا تو ان کو بتایا کہ پانی کے بغیر یہ نہیں ن کے ا گا تو پانی کا پیالہ منگوایا تو پانی پیتا رہا اور قئی کرتا رہا یہاں تک کہ اس کو پھینک دیا ان سے کہا گیا کیا یہ سب کچھ اس لقمہ کی خاطر کیا ہے تو فرمایا اس کو نکالنے کے لیے جان بھی چلی جاتی تب بھی نکال کر ہی رہتا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہر جسم کا جو حصہ حرام سے پرورش پائے وہ آگ میں جلنے کا زیادہ حقدار ہے مجھے خطرہ لاحق ہو کہیں ایسانہ ہو میرے جسم کا کوئی حصہ اس لقمہ سے پرورش پائے۔ (الحسن بن سفیان حلیة الاولیاء والدینوری فی المجالسة)
35695- عن زيد بن أرقم قال: كان لأبي بكر مملوك يغل عليه، فأتاه ليلة بطعام فتناول منه لقمة، فقال له المملوك: ما لك كنت تسألني كل ليلة ولم تسألني الليلة؟ قال: حملني على ذلك الجوع من أين جئت بهذا؟ قال: مررت بقوم في الجاهلية فرقيت لهم فوعدوني، فلما أن كان اليوم مررت بهم فإذا عرس لهم فأعطوني، قال: أف لك! كدت أن تهلكني، فأدخل بيده في حلقه فجعل يتقيأ وجعلت لا تخرج، فقيل له، إن هذه لا تخرج إلا بالماء فدعا بعس من ماء فجعل يشرب ويتقيأ حتى رمى بها، فقيل له: يرحمك الله! كل هذا من أجل هذه اللقمة! قال: لو لم تخرج إلا مع نفسي لأخرجتها، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كل جسد نبت من سحت فالنار أولى به، فخشيت أن ينبت شيء من جسدي من هذه اللقمة. "الحسن بن سفيان، حل والدينوري في المجالسة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا تقویٰ
35696 ۔۔۔ زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ میں ابوبکر (رض) کے پاس تھا کہ ان کے پاس غلام کھانا لے کر آیا ابوبکر (رض) نے ایک لقمہ کی طرف ہاتھ بڑھایا اس کو کھایا پھر پوچھا کہاں سے لایابتایا میں جاہلیت میں ایک قوم کا غلام تھا انھوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا آج وہ کھانا مجھے دیا ہے تو فرمایا میرے خیال میں تم نے مجھے وہ کھانا کھلایا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے پھر حلق میں انگلی داخل کرکے قے کردی پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حرام غذا سے گوشت کا جو ٹکڑا پرورش پائے آگ اس کی زیادہ حقدار ہے۔ (بیہقی)
35696- عن زيد بن أرقم قال: كنت عند أبي بكر فأتاه غلام فأتاه بطعام فأهوى بيده إلى لقمة فأكلها، ثم سأله من أين اكتسبه؟ قال: كنت قينا لقوم في الجاهلية فوعدوني فأطعموني هذا اليوم، فقال: ما أراك إلا أطعمتني ما حرم الله ورسوله ثم أدخل أصبعه فتقيأ ثم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " أيما لحم نبت من حرام فالنار أولى به". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا تقویٰ
35697 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت ہے اور وہ صحابہ میں سے تھے وہ بدصورت تھے ان کے پاس ابن نعمان کی ایک قوم آئی اور کہا تمہارے پاس عورت کے بارے میں کوئی منتر ہے کہ اس کا علوق نہیں ٹھہرتا ؟ کہا ہاں ہے پوچھا کیا ہے ؟ بتایا یہ منت رہے۔ ایھا الرحم العقوق صہ لہ اھاوفوق ونحرم من العروق بالی تھا فی الرحم العقوق لعلھا تعلق اوتفیق لوگوں نے اس کو کچھ بکریاں دیں تو اس کا بعض حصہ ابوبکر (رض) کے پاس لے آیا ابوبکر (رض) نے اس میں سے کھایا جب فارغ ہوئے ابوبکر (رض) کھڑے ہوئے اور قئی کردی پھر فرمایا تم میں سے کوئی کھانے کی چیز لاتا ہے بتاتا بھی نہیں کہا سے لایا ۔ (البغوی ، ابن کثیر نے کہا اس کی سند عمدہ اور حسن ہے)
35697- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن ابن نعيمان وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وكان ذا هيئة وضيئة فأتاه قوم فقالوا: عندك في المرأة لا تعلق شيء؟ قال: نعم، قالوا: ما هو؟ فقال: يا أيها الرحم العقوق، صه لداها وفوق، وتحرم من العروق، يا ليتها في الرحم العقوق، لعلها تعلق أو تفيق، فأهدى له غنما، فجاء ببعضه إلى أبي بكر فأكل منه، فلما أن فرغ قام أبو بكر فاستقاء ثم قال: يأتينا أحدكم بالشيء لا يخبرنا من أين هو؟ "البغوي، قال ابن كثير: إسناده جيد حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا خوف خدا
35698 ۔۔۔ مسند الصدیق حسن سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے درخت پر ایک پرندہ کو دیکھا کہا اے پرندہ تجھے مبارک ہوپھل کھاتا ہے درخت پر بیٹھتا ہے کاش کہ میں ایک پھل ہوتا کوئی پرندہ اس کو اچک لیتا۔ (ابن المبارک بیہقی)
35698- "مسند الصديق" عن الحسن قال: أبصر أبو بكر طائرا على شجرة فقال: طوبى لك يا طائر! تأكل الثمر وتقع على الشجر، لوددت أني ثمرة ينقرها الطائر. "ابن المبارك، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا خوف خدا
35699 ۔۔۔ ضحاک سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے ایک پرندہ کو درخت پر بیٹھا ہو ادیکھا فرمایا تجھے مبارک ہوا اے چڑیا واللہ کاش کے میں بھی تیری طرح ہوتا درخت پر بیٹھتا ہے پھل کھاتا ہے پھر اڑجاتا ہے تجھ پر نہ حساب ہے نہ عذاب کاش کہ میں ایک درخت ہوتاراستہ کے کنارے پر مجھے پر اونٹ گذرتا مجھ اپنے منہ میں داخل کرتا خوب چباتا پھر مجھے ہضم کرلیتا پھر مجھے مینگنی بناکر نکال دیتا میں انسان نہ ہوتا۔ (ھناد ، بیہقی)
35699- عن الضحاك قال، رأى أبو بكر الصديق طيرا واقفا على شجرة فقال: طوبى لك يا طير! والله لوددت أني كنت مثلك تقع على الشجر وتأكل من الثمر ثم تطير وليس عليك حساب ولا عذاب، والله! لوددت أني كنت شجرة في جانب الطريق مر علي جمل فأخذني فأدخلني فاه فلاكني ثم ازدردني ثم أخرجني بعرا ولم أكن بشرا. "ش وهناد، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا خوف خدا
35700 ۔۔۔ ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے کہ کاش میں کسی مومن کے جسم کا ایک بال ہوتا۔ ( احمدفی الزھد)
35700- عن أبي بكر الصديق قال: وددت أني شعرة في جنب عبد مؤمن. "حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا خوف خدا
35701 ۔۔۔ معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) ایک باغ میں داخل ہوئے تو ایک چھوٹے سے پرندہ کو ایک درخت کے سایہ میں دیکھا ایک سانس لیا اور کہا تجھے بشارت ہوا ے پرندے تودتون کا پھل کھاتا ہے، درختوں کے سائے میں بیٹھتا ہے اور بغیر حساب کے اڑجاتا ہے اے کاش کہ ابوبکر تیری طرح ہوتا۔ (ابواحمد، حاکم)
35701- عن معاذ بن جبل قال: دخل أبو بكر حائطا وإذا بدبسي في ظل شجرة فتنفس الصعداء ثم قال: طوبى لك يا طير! تأكل من الشجر وتستظل بالشجر وتصير إلى غير حساب، يا ليت أبا بكر مثلك. "أبو أحمد، الحاكم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا خوف خدا
35702 ۔۔۔ قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ مجھے یہ خیر پہنچی ہے کہ ابوبکر (رض) نے کہا کہ کاش میں ایک سبز گھاس ہوتا ہے اور مجھے جانور رکھاجاتا۔ (ابن سعد)
35702- عن قتادة قال: بلغني أن أبا بكر قال: وددت أني خضرة تأكلني الدواب. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক: