কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৭১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کا خوف خدا
35703 ۔۔۔ ضحاک بن مزاحم سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے ایک پرندہ کو دیکھ کر فرمایا اے پرندے تمہیں مبارک ہو تو درختوں کا پھل کھاتا ہے اور درختوں پر اڑتا ہے نہ تجھ پر حساب ہے نہ عذاب واللہ میری تو دتمنا یہ ہے کاش کہ میں ایک مینڈھا ہوتا گھروالے اس کو خوب موٹا کرتے اور جب میں بڑا ہوتا اور خوب موٹا ہوتا تو اسوقت مجھے ذبح کرتے پھر بعض حصہ کو بھونتے اور بعض کو پکارتے پھر مجھے کھاکر گندگی بناکر باغ میں ڈال دیتے کاش میں انسان ہی پیدا نہ ہوتا۔ (ابن فتحویہ فی الوجل)
35703- عن الضحاك بن مزاحم قال قال أبو بكر الصديق ونظر إلى عصفور: طوبى لك يا عصفور؟ تأكل من الثمار وتطير في الأشجار، لا حساب عليك ولا عذاب، والله! لوددت أني كبش يسمنني أهلي، فإذا كنت أعظم ما كنت وأسمنه يذبحوني فيجعلوني بعضي شواء وبعضي قديدا، ثم أكلوني ثم ألقوني عذرة في الحش وأني لم أكن خلقت بشرا. "ابن فتحويه في الوجل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کے اخلاق و عادات
35704 ۔۔۔ (مسند الصدیق) اصمعی سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی تعریف کی جاتی تو کہتے اے اللہ میرے نفس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اور میں اپنے نفس کو ان سے زیادہ جانتاہوں اے اللہ یہ میرے نفس کے متعلق جو گمان کررہے ہیں ان کو خیر بنا دے اور یہ میرے جن نقائص کو نہیں جانتے ان کو معاف فرادے اور یہ جو کچھ میری تعریف میں کہہ رہے ہں ان پر میرا مواخذہ نہ فرما۔ (العسکری فی المواعظ ابن عساکر)
35704- "مسند الصديق" عن الأصمعي قال: كان أبو بكر إذا مدح قال: اللهم! أنت أعلم مني بنفسي وأنا أعلم بنفسي منهم، اللهم! اجعلني خيرا مما يظنون، واغفر لي ما لا يعلمون، ولا تؤاخذني بما يقولون. "العسكري في المواعظ، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کے اخلاق و عادات
35705 ۔۔۔ یزید بن اصم سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) سے پوچھا میں بڑا ہوں یا آپ بڑے ہیں ؟ فرمایا آپ بڑے ہیں اور مکرم ہیں البتہ میں زیادہ عمررسیدہ ہوں آپ سے۔ (احمد فی تاریخہ و خلیفہ بن خیاط، ابن عساکر ابن کثیر نے کہا مرسل ہے بہت غریب ہے)
35705- عن يزيد بن الأصم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بكر: " أنا أكبر أو أنت"؟ قال: أنت أكبر وأكرم وأنا أسن منك. "حم في تاريخه وخليفة بن خياط، كر، قال ابن كثير: مرسل غريب جدا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کے اخلاق و عادات
35706 ۔۔۔ انیسہ سے روایت ہے کہ ہم محلے کی بچیاں ابوبکر (رض) کی خدمت میں اپنی بکریاں لاتیں وہ فرماتے میں تمہارے لیے ابن عفراء کی طرح دودھ دھوکردوں گا۔ (ابن سعد)
35706- عن أنيسة قالت: كن جواري الحي يأتين بغنمهن إلى أبي بكر الصديق فيقول لهن: أتحبون أن أحلب لكن حلب ابن عفراء. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کے اخلاق و عادات
35707 ۔۔۔ اسلم سے روایت ہے کہ عمرر ضی اللہ عنہ نے مجھے خریدا میں یہ وہ سال ہے جس میں اشعت بن قیس کو قید بنا کر لایا گیا میں ان کو لوہے کی زنجیر میں جکڑ اہوادیکھ رہا تھا وہ ابوبکر (رض) سے بات کررہا تھا ابوبکر (رض) کہہ رہے تھے کہ میں نے سن لیا میں نے سن لیا آخری مرتبہ اشعث بن قیس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے خلیفة الرسول مجھے اپنی جنگوں کے لیے زندہ چھوڑ دیں اور اپنی بہن میرے نکاح میں دے دی چنانچہ ابوبکر (رض) نے ان پر احسان فرمایا اور اپنی بہن ام فروہ کو ان کے نکاح میں دے دیا۔ (ابن سعد)
35707- عن أسلم قال: اشتراني عمر بن الخطاب سنة اثنتي عشرة وهي السنة التي قدم بالأشعث بن قيس فيها أسيرا فأنا أنظر إليه في الحديد يكلم أبا بكر الصديق وأبو بكر يقول له: فعلت وفعلت! حتى إذا كان آخر ذلك اسمع الأشعث بن قيس يقول: يا خليفة رسول الله! استبقني لحربك وزوجني بأختك، ففعل أبو بكر فمن عليه وزوجه أخته أم فروة. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کے اخلاق و عادات
35708 ۔۔۔ ابن الاعرابی نے کہا کہ ایک بدوی ابوبکر (رض) کی خدمت میں آیا اور کہا آپ خلیفة الرسول ہیں ؟ فرمایا نہیں پوچھا پھر آپ کو ان ہیں فرمایا ان کی جگہ پر بیٹھا ہواہوں ان کے بعد۔ (رواہ ابن عساکر)
35708- قال ابن الأعرابي: روي أن أعرابيا جاء إلى أبي بكرفقال: أنت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: لا، قال: فما أنت؟ قال: أنا الخالفة بعده - أي القاعدة بعده. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35709 ۔۔۔ (مسندالصدیق) حضرت عائشہ (رض) نے اس بیعت سے تمثل کیا جب کہ صدیق اکبر (رض) کی موت کا وقت قریب تھا۔ ابیض یستسقی الغمام بزجھہ ثمال الیتا می عصمة للارامل ابوبکر (رض) نے سن کر فرمایا کہ یہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ہے۔ (ابن ابی شیبة، احمد وابن سعد)
35709- "مسند الصديق" عن عائشة أنها تمثلت بهذا البيت وأبو بكر يقضي:

وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ... ثمال اليتامى عصمة للأرامل

فقال أبو بكر: ذاك رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش، حم وابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35710 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے یہ شعرپڑھا وابیض یستقی الغمام بوجھہ تمال الیتافی عصمة للدرامل ابوبکر (رض) نے سن کر فرمایا کہ بلکہ موت کی سختی کا سچا وقت قریب آچکا ہے جس سے تو گھبراتا تھا اس روایت میں لفظ حق الموت پر مقدم کیا۔ (ابن سعد وابوعبیدفی فضائل القرآن وابن منذر اور ذکر کیا قرات مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ اس میں رائے زنی نہیں ہوسکتی)
35710- عن عائشة قالت: لما حضرت أبا بكر الوفاة قلت:

وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ... ثمال اليتامى عصمة للأرامل

قال أبو بكر: بل جاءت سكرة الحق بالموت ذلك ما كنت منه تحيد - قدم "الحق" وأخر "الموت". "ابن سعد وأبو عبيد في فضائل القرآن وابن منذر، وذكر أن هذه قراءة لها حكم الرفع لأنها لا تكون بالرأي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35711 ۔۔۔ حمیدبن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں مرض الموت میں ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ان کو سلام کیا فرمایا میں نے دنیا کو آتے ہوئے دیکھا ہے ابھی آئی نہیں وہ آنے ہی والا ہے تم ریشم کے پردے لٹکاؤ گے ریشمی غلاف اور زری صوف کے بستر پر سونے سے تمہیں تکلیف ہوگی گویا کہ تم میں سے کوئی سعد ان کے کانٹے پر سو رہا ہو اللہ کی قسم تم میں سے کسی کو پیش کیا جائے اور بغیر حد کے اس کی گردن ماردی جائے یہ اس کے حق میں بہتر ہے اس سے کہ وہ دنیا کے زعفران میں تیرے (طبرانی حلیہ یہ مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ یہ آئندہ کی پیش گوئی ہے)
35711- عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف عن أبيه قال: دخلت على أبي بكر في مرضه الذي توفي فيه فسلمت عليه، فقال: رأيت الدنيا قد أقبلت ولما تقبل وهي جائية وستتخذون ستور الحرير ونضائد الديباج وتألمون ضجائع الصوف الأزري كأن أحدكم على حسك السعدان، فوالله لأن يقدم أحدكم فيضرب عنقه في غير حد خير له من أن يسبح في غمرة الدنيا. "طب، حل، وله حكم الرفع لأنه من الاخبار عما - يأتي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35712 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) کا جب موت کا وقت قریب ہوا پوجھا یہ کون سادن ہے ؟ بتایا گیا پیرکادن ہے فرمایا رات کو میرا نتقال ہوجائے تو دفن کے لیے صبح ہونے کا انتظار نہ کرنا کیونکہ رات ودن میں وہ مجھے زیادہ محبوب ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہو۔ (احمد)
35712- عن عائشة قالت: إن أبا بكر لما حضرته الوفاة قال: أي يوم هذا؟ قالوا، يوم الاثنين، قال: فإن مت في ليلتي فلا تنتظروا بي الغد فإن أحب الأيام والليالي إلي أقربها من رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35713 ۔۔۔ عبادہ بن نسی سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت قریب ہوا تو عائشہ (رض) سے فرمایا : میرے ان دونوں کپڑوں کو دھوکر ان میں کفن دینا کیونکہ تمہارے والد کا قبر میں دوحال میں سے ایک ہوگا تو عمدہ لباس پہنایا جائے گا یا بری طرح لباس اتار لیا جائے گا۔ (احمد فی الزھد)
35713- عن عبادة بن نسي قال: لما حضرت أبا بكر الوفاة قال: لعائشة: اغسلي ثوبي هذين وكفنيني بهما، فإنما أبوك أحد رجلين: إما مكسو أحسن الكسوة أو مسلوب أسوء السلب. "حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35714 ۔۔۔ ابوالسفر سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ابوبکر (رض) کے پاس بیماری میں عبادت کیلئے آئے انھوں نے کہا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ کیا طبیب نہ بلالیں جو آپ کا علاج کرے ؟ فرمایا ڈاکٹر نے آکر مجھے دیکھے ہے لوگوں نے پوچھا کیا بتایا ؟ فرمایا اس نے کہا ہے انی فعال لماارید۔ (ابن سعد ابن ابی شیبة احمد فی الزھد ، حلیة وھناد)
35714- عن أبي السفر قال: دخل على أبي بكر ناس يعودونه في مرضه فقالوا: يا خليفة رسول الله! ألا ندعو لك طبيبا ينظر إليك؟ قال: قد نظر إلي، قالوا: فماذا قال لك؟ قال: قال: إني فعال لما أريد. "ابن سعد، ش، حم في الزهد، حل وهناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35715 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے کہ میں ابوبکر (رض) کے پاس پہنچا ان کے مرض موت میں فرمایا میں نے تمہارے لیے اپنے بعد ایک عہدنامہ لکھدیا ہے اور تمہارے امور کے لیے اپنے بعدای سے شخص کو منتخب کیا ہے جو میرے گمان کے مطابق تم میں سب سے بہتر ہے تم میں سے ہر ایک اپنی ناک پھولائیگا اس امید پر کہ معاملہ اس کے سپرد ہوگا میں نے دنیا کو آتے ہوئے دیکھا ہے لیکن ابھی تک آئی نہیں آنے والی ہے تم اپنے گھروں میں ریشم کے پردے لٹکاؤ گے اور دیباج کے غلاف اور تمہیں ازری اون کا بستر تکلیف پہنچائے گا تم میں سے کسی کی گردن بغیر حد کے ماردی جائے یہ اس کے حق میں بہتر ہوگا اس سے کہ وہ دنیا کے زعفران میں تیرے ۔ (عقیلی طبرانی حلیة)
35715- عن عبد الرحمن بن عوف قال: دخلت على أبي بكر في مرضه الذي توفي فيه فقال: جعلت لكم عهدا من بعدي واخترت لكم خيركم في نفسي فكلكم ورم لذلك أنفه رجاء أن يكون الأمر له، ورأيت الدنيا قد أقبلت ولما تقبل وهي جائية وستتخذون بيوتكم بستور الحرير ونضائد الديباج وتألمون ضجائع الصوف الأزري كأن أحدكم فيضرب عنقه في غير حد خير له من أن يسبح في غمرة الدنيا. "عق، طب، حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35716 ۔۔۔ قتادہ حسن ابی قلابہ سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے اپنے مال کے پانچویں حصہ کو وصیت کی اور فرمایا کہ کیا میں اس پر راضی نہ ہوں جس پر اللہ تعالیٰ غنائم میں سے اپنے لیے حصہ پر راضی ہوا پھر یہ آیت تلاوت کی۔ دوسرے لفظ میں ہے کہ میں اپنے مال سے اتنا حصہ لوں جتنا اللہ تعالیٰ نے مال فنئی میں سے لیا ہے۔ (عبدالرزاق ابن سعد، ابن ابی شیبة بیہقی)
35716- عن قتادة والحسن وأبي قلابة أن أبا بكر أوصى بالخمس من ماله، وقال: ألا أرضى من مالي بما رضي الله به لنفسه من غنائم المسلمين! ثم تلا: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} ، وفي لفظ: آخذ من مالي ما أخذ الله من الفيء. "عب وابن سعد، ش، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35717 ۔۔۔ عبدالرحمن بن سابط زبیدبن حارث اور مجاہد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر (رض) کی جب وفات کا وقت قریب ہواتوعمر (رض) کو بلایا اور فرمایا اے عمر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا جان لو اللہ کے لیے کچھ عمل دن کے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو رات میں قبول نہیں فرماتے اور کچھ عمل رات کے ہیں ان کو دن میں قبول نہیں فرماتے وہ نقل کو اس وقت تک قبول نہیں فرماتے یہاں تک کہ فرض اداکرے قیامت کے دن جن لوگوں کے میزان عمل وزنی ہوگا وہ دنیا میں حق کی اتباع سے ہوگا اور ان پر بھاری ہونے کی وجہ سے ہوگا اور میزان کا حق ہے کہ جب اس پر حق رکھاجائے تو بھاری ہوجائے اور جنکے ترازوں ہلکے ہوں گے وہ ان کے باطل کی اتباع کی وجہ سے ہوگا اور ترازو کے ان پر ہلکا ہونے کی وجہ سے ہوگا اور ترازو کا حق ہے وہ ہلکا ہو جب اس پر باطل رکھاجائے اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا تذکرہ فرمایا ہے ان کا تذکرہ ان کے اعمال حسنہ اور برائیوں سے درگذر کرنے کی وجہ سے ہے جب میں ان کو یاد کرتا ہوں تو یہی تو مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ میں ان سے مل سکوں گا اور اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کا تذکرہ فرمایا ان کے برے اعمال کا تذکرہ فرمایا اور ان پر رد فرمایا اچھی طرح رد کرنا جب میں ان کو یاد کرتا ہوں تو مجھے یہی اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ان کی طرح نہ ہوجاؤ اللہ تعالیٰ نے آیت رحمت اور آیت عذاب کو ذکر فرمایا تاکہ بندہ اللہ کی رحمت کی طرف رغبت کرے اور اللہ عذاب سے خوف کھائے اللہ تعالیٰ سے ناحق تمنا نہ کرے اور ال کی رحمت سے ناامید نہ ہوا اور اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالے اگر آپ نے میری وصیت یاد کرلی تو موت سے زیادہ کوئی غائب چیز تجھے محبوب نہ ہوگی وہ موت تجھ کو آنے والی ہے اور اگر آپ نے میری وصیت کو ضائع کردیاتو کوئی غائب چیز موت سے زیادہ مبغوض نہ ہوگی اور آپ موت کو عاجز نہیں کرسکتے۔ (ابن المبارک ابن ابی شیبة ھناد ابن جریر حلیة الاولیاء)
35717- عن عبد الرحمن بن سابط وزبيد بن الحارث ومجاهد قالوا: لما حضر أبا بكر الموت دعا عمر فقال له: اتق الله يا عمر! واعلم أن لله عملا بالنهار لا يقبله بالليل وعملا بالليل لا يقبله بالنهار وإنه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة، وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم الحق في دار الدنيا وثقله عليهم وحق لميزان يوضع فيه الحق غد أن يكون ثقيلا، وإنما خفت موازين من خفت موازينه يوم القيامة باتباعهم الباطل في الدنيا وخفته عليهم، وحق لميزان يوضع فيه الباطل غدا أن يكون خفيفا: وإن الله تعالى ذكر أهل الجنة فذكرهم بأحسن أعمالهم وتجاوز عن سيئه، فإذا ذكرتهم قلت: إني لأخاف أن لا ألحق بهم، وإن الله تعالى ذكر أهل النار فذكرهم بأسوأ أعمالهم ورد عليهم أحسنه، فإذا ذكرتهم قلت: إني لأخاف أن أكون مع هؤلاء وذكر آية الرحمة وآية العذاب فيكون العبد راغبا راهبا ولا يتمنى على الله غير الحق ولا يقنط من رحمته ولا يلقي بيديه إلى الهلكة. فإن أنت حفظت وصيتي فلا يك غائب أحب إليك من الموت وهو آتيك، وإن أنت ضيعت وصيتي فلا يك غائب أبغض إليك من الموت ولست بمعجزه. "ابن المبارك، ش وهناد وابن جرير، حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35718 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کو موت حاضر ہوئی تو میں نے کہا۔ لعمرک مایغنی الثراء عن الفتی اذاحشر جت یوماوضاق بھا الصدر تو ابوبکر (رض) نے کہا اے بیٹی اس طرح مت کہو : اور فرمایا کہ میرے ان دونوں کپڑوں کو لے لو ان کو دھولو پھر ان میں مجھے کفن دو اور زندہ لوگ نئے کپڑوں کے مردوں سے زیادہ حقدار میں یہ تو پیپ وغیرہ کے لیے ہے۔ (احمد فی الزھد وابن سعد وابوالعباس ابن محمد بن عبدالرحمن الدغرلی فی معجم الصحابہ ، بیہقی)
35718- عن عائشة قالت: لما حضر أبو بكر قلت:لعمرك ما يغني الثراء عن الفتى ... إذا حشرجت يوما وضاق بها الصدر

فقال أبو بكر: لا تقولي هكذا يا بنية ولكن قولي: {وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ} وقال: انظروا ثوبي هذين فاغسلوهما ثم كفنوني فيهما، لأن الحي أحوج إلى الجديد من الميت، إنما هو للمهلة "حم في الزهد وابن سعد وأبو العباس ابن محمد بن عبد الرحمن الدغولي في معجم الصحابة، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوبکر (رض) کی وفات
35719 ۔۔۔ عبداللہ بن شداد اور ابن ابی ملیکہ وغیرہ سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی موت کا وقت قریب ہوا تو اسماء بنت عمیس کو وصیت کی کہ وہ غسل دے وہ روزہ کی حالت میں تھی ان سے وعدہ لیا کہ ضرور افطار کرلو کیونکہ غسل میں تمہارے لیے زیادہ اجر ہے۔ (ابن سعد ابن ابی شبیة والمروزی فی الجنائر)
35719- عن عبد الله بن شداد وابن أبي مليكة وغيرهما أن أبا بكر حين حضرته الوفاة أوصى أسماء ابنة عميس أن تغسله وكانت صائمة فعزم عليها: لتفطرن! فإنه أقوى لك. "ابن سعد، ش والمروزي في الجنائز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35720 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے مرض الموت میں فرمایا کہ دیکھو خلافت کے بد سے میری ملک جو مال آیا ہے اس کو میرے بعد کے خلیفہ کے پاس بھیج دینا جب ان کا انتقال ہوا تو ہم دیکھا ایک غلام ہے جو پریشان حال تھا ایک بچہ کو اٹھایا ہوا تھا اور ایک اونٹ تھا جس پر پانی لایا کرتا تھا ہم نے دونوں کو عمر (رض) کی خدمت میں بھیج دیا تو عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ابوبکر (رض) پر رحم فرمائے انھوں نے اپنے بعد آنے والوں کو بہت زیادہ مشقت میں ڈالدیا۔ (ابن سعد، ابن ابی شیبہ وابوعوانہ و بیہقی)
35720- عن عائشة قالت: قال أبو بكر في مرضه الذي مات فيه: انظروا ما زاد في مالي منذ دخلت في الخلافة فابعثوا به إلى الخليفة من بعدي، فلما مات نظرنا فإذا عبد نوبي يحمل صبيانه وناضح كان يستقي عليه! فبعثنا بهما إلى عمر فقال: رحمة الله على أبي بكر! لقد أتعب من بعده تعبا شديدا. "ابن سعد، ش وأبو عوانة: ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35721 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کا مرض بڑھ گیا تو فلاں فلاں آئے اور کہا اے خلیفة الرسول آپ کل کو اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دینگے وہ یہ کہ آپ نے ابن الخطاب کو ہم خلیفہ مقرر کردیا فرمایا کیا مجھے اللہ تعالیٰ سے ڈراتے ہو میں نے تو امت پر ان میں سب سے بہتر شخص کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ (ابن سعد بیہقی)
35721- عن عائشة قالت: لما ثقل أبي دخل عليه فلان وفلان فقالوا: يا خليفة رسول الله! ماذا تقول لربك غدا إذا قدمت عليه وقد استخلفت علينا ابن الخطاب! فقال: أبالله ترهبوني أقول: استخلفت عليهم خيرهم. "ابن سعد، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35722 ۔۔۔ یوسف بن محمد سے روایت ہے کہ مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ ابوبکر (رض) نے اپنے مرض موت میں وصیت کی اور عثمان غنی سے فرمایا کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ وہ عہد نامہ ہے جس کو ابوبکر بن ابی قحافہ نے دنیا سے جانے کے آخری وقت اور آخرت میں داخل ہونے کے اول وقت میں لکھوایا جس وقت جھوٹا شخص بھی سچ بولتا ہے اور خیانت کرنے والا بھی حق ادا کردیتا ہے اور کافر ایمان لے آتا ہے یہ کہ میں نے اپنے بعد عمر بن خطاب کو خلیفہ مقرر کردیا اگر وہ انصاف قائم کرے یہ میرا ان کے متعلق گمان اور امید ہے اور اگر اس کو بدل دے اور ظلم کرنے لگے تو مجھے علم غیب حاصل نہیں ہر شخص سے اسی کا سوال ہوگا جو اس نے ارتکاب کیا آیت ہے وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (بیہقی)
35722- عن يوسف بن محمد قال: بلغني أن أبا بكر الصديق أوصى في مرضه فقال لعثمان: اكتب: بسم الله الرحمن الرحيم، هذا ما أوصى به أبو بكر بن أبي قحافة عند آخر عهده بالدنيا خارجا منها وأول عهده بالآخرة داخلا فيها حين يصدق الكاذب ويؤدي الخائن ويؤمن الكافر إني استخلفت بعدي عمر بن الخطاب، فإن عدل فذلك ظني به ورجائي فيه، وإن بدل وجار فلا أعلم الغيب، ولكل امرئ ما اكتسب {وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ} . "ق".
tahqiq

তাহকীক: