কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৭৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35723 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی بیماری بڑھ گئی میں اس پر روئی ان پر بیہوشی طاری ہوئی تو میں نے کہا۔ من لا یزال دمعہ مقنعا فانہ من دفعہ مدفوف جس کا آنسو نہ تھمے قناعت کرے تو اس کے دور کرنے سے تھم جائے گا پھر ان کو افاقہ ہوا تو فرمایا اے بیٹی بات ایسی نہیں جیسے تم نے کہا : لکن جاءت سکرة الموت بالحق ذلک ماکنت منہ تحید پوچھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس دن وفات پائی بتایا پیر کے دن پوچگا آج کونسا دن ہے بتایا پیر کا دن فرمایا مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ میرے اور اللہ سے ملاقات کے درمیان ایک ہی رات حائل ہے تو منگل کی رات کو انتقال فرمایا پوچھا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا میں نے کہا تین معمولی کپڑوں میں جو نئے سفید رنگ کے تھے اس میں قمیص عمامہ نہیں تھا پھر فرمایا میرے کپڑے کو دھولو اس میں زعفرانی رنگ لگا ہوا ہے اس کے ساتھ دو نئے کپڑے اور ملالو میں نے کہا یہ کپڑا پرانا ہے تو فرمایا زندہ لوگ نیا کپڑا پہننے کے مردوں سے زیادہ حقدار ہیں یہ کفن تو پیٹ لہو کے لیے ہے (ابویعلی و ابونعیم والد غولی ، بیہقی اور مالک نے تکفین کا قصہ بھی نقل کیا ہے)
35723- عن عائشة قالت: لما اشتد مرض أبي بكر بكيت وأغمى عليه فقلت:من لا يزال دمعه مقنعا ... فإنه من دفعه مدفوف فأفاق فقال: ليس كما قلت يا بنية ولكن {وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ} . ثم قال: أي يوم توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: يوم الاثنين، فقال: أي يوم هذا؟ فقلت: يوم الاثنين، قال: فإني أرجو من الله ما بيني وبين هذا الليل، فمات ليلة الثلاثاء، فقال: في كم كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: كفناه في ثلاثة أثواب سحولية بيض جدد ليس فيها قميص ولا عمامة، فقال لي: اغسلوا ثوبي هذا وبه ردع من زعفران واجعلوا معه ثوبين جديدين، فقلت: إنه خلق، قال: الحي أحوج إلى الجديد من الميت، إنما هو للمهلة. "ع وأبو نعيم والدغلولي، ق وروى مالك قصة التكفين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35724 ۔۔۔ عطاء سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے اپنی بیوی اسماء بنت عمیس کو وصیت کی کہ وہ غسل دے اگر وہ اکیلی نہ دے سکے تو عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) سے مدد لے۔ (ابن سعد والمروزی فی الجنائر)
35724- عن عطاء قال: أوصى أبو بكر أن تغسله امرأته أسماء بنت عميس، فإن لم تستطع استعانت بعبد الرحمن بن أبي بكر. "ابن سعد والمروزي في الجنائز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35725 ۔۔۔ عروہ اور قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے عائشہ (رض) کو وصیت فرمائی کہ ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں دفن کیا جائے جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے لیے قبرکھودی گئی ان کے سرکو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھے کے برابر میں رکھا گیا اور لحد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے ساتھ ملائی گئی اور وہاں دفن کیا گیا۔ (ابن سعد)
35725- عن عروة والقاسم بن محمد قالا: أوصى أبو بكر عائشة أن يدفن إلى جنب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما توفي حفر له وجعل رأسه عند كتفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وألصق اللحد بقبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبر هناك. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35726 ۔۔۔ ابن شہاب سے روایت ہے کہ ابوبکر اور حارث بن کلدہ خلیفہ خزیرہ چربی اور آٹے کا سوپ کھا رہے تھے جو ابوبکر (رض) کو ہدیہ کیا گیا تو ابن شہاب (رض) نے اے خلیفہ رسول اٹھالیں اللہ کی قسم اس میں زہر ہے ہم اور آپ ایک ہی دن میں مریں گے راوی نے کہا ابوبکر (رض) نے اپنا ہاتھ اٹھالیا دونوں مسلسل بیمار ہے یہاں تک کہ سال کے آخر میں دونوں رکھٹے انتقال کرگئے۔ (ابن سعدابن اسنی و ابونعیم ایک ساتھ طب میں ، ابن کثیر نے کہا اس کی نسبت زھری کی طرح صحیح ہے اس کے مرسلات اس جیسے میں صحت کی انتہاء ہے)
35726- عن ابن شهاب أن أبا بكر والحارث بن كلدة كانا يأكلان خزيرة أهديت لأبي بكر فقال الحارث لأبي بكر: ارفع يدك يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم والله إن فيها لسم سنة! وأنا وأنت نموت في يوم واحد! قال: فرفع يده، فلم يزالا عليلين حتى ماتا في يوم واحد عند انقضاء السنة. "ابن سعد وابن السني وأبو نعيم معا في الطب؛ قال ابن كثير: إسناده صحيح إلى الزهري، قال ومرسلاته في مثل هذا غاية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35727 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) کی موت کا سبب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہے وہ غم گین رہے ان کا جسم گھلتا رہا یہاں تک انتقال ہوگیا۔ (سیف بن عمر)
35727- عن ابن عمر قال: كان سبب موت أبي بكر وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، كمد فما زال جسمه يحري 1 حتى مات. "سيف بن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35728 ۔۔۔ زیاد بن حنظلہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) کی موت کا سبب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر غم ہے۔ (سیف)
35728- عن زياد بن حنظلة قال: كان سبب موت أبي بكر الكمد على رسول الله صلى الله عليه وسلم. "سيف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کی وصیت
35729 ۔۔۔ ابوطاہر محمد بن موسیٰ بن محمد بن عطاء مقدسی عبدالجلیل مری سے وہ حبہ عرنی سے وہ علی بن ابی طالب (رض) سے کہ ابوبکر (رض) نے علی (رض) کو وصیت کی کہ انھیں ہاتھوں سے غسل دے جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل دیا گیا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چارپائی پر رکھا گیا تو انھوں نے کمرہ میں داخل ہونے کی اجازت چاہی علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ابوبکر (رض) داخل ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں تو میں نے دیکھا کہ دروازہ کھولا گیا اور ایک کہنے والے کو یہ کہتے سنا کہ حبیب کو حبیب کے پاس داخل کرو کیونکہ حبیب اپنے حبیب کے دیدار کا مشتاق ہے۔ (ابن عساکر نے نقل کرکے کہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے ابوطاہر کذاب ہے عبدالجلیل مجہول ہے یزید رقاشی سے)
35729- عن أبي الطاهر محمد بن موسى بن محمد بن عطاء المقدسي عن عبد الجليل المري عن حبة العرني عن علي بن أبي طالب أن أبا بكر أوصي إليه أن يغسله بالكف الذي غسل به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما حملوه على السرير استأذنوا، قال علي: فقلت: يا رسول الله! هذا أبو بكر يستأذن! فرأيت الباب قد فتح وسمعت قائلا يقول: أدخلوا الحبيب إلى حبيبه، فإن الحبيب إلى حبيبه مشتاق."كر وقال: منكر، وأبو طاهر كذاب وعبد الجليل مجهول عن يزيد الرقاشي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کے وقت پڑھنے کے کلمات
35730 ۔۔۔ سعید بن مسیّب (رض) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی موت کا وقت قریب ہوا ان کے پاس چند صحابہ کرام (رض) داخل ہوئے اور عرض کیا اے خلیفة الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں کچھ توشہ دیدیں کیونکہ ہم آپ کی حالت کو دیکھ رہے ہیں تو فرمایا چند کلمات ہیں جن کو صبح وشام کہنے والے کی روح افق میں ہوگی پوچھا افق میں کیا چیز ہے فرمایا ایک صحن ہے عرش کے نیچے اس میں باغ درخت اور نہریں ہیں جن کو روزانہ ہزار رحمت ڈھانپتی ہے یا کیا سورحمتیں جو موت کے وقت یہ کلمات کہے اللہ تعالیٰ اس کی روح کو اس مکان تک پہنچائے گا۔ اللھم انک ابتدات الخلق بلا حاجة بک الیھم فجعلتم فریقین فریقا اللنعیم وفر یقا للسعیر فاجعلنی للنعیم ولاتجعلنی للسعیر اللھم انک خلفت الخلق فرقا ومیز تھم قبل ان تخلقھم فجعلت منھم شقیا و سعید اوغری اور سید افلا تشقینی بما صیک اللھم انک علمت ماتکسب کل نفس قبل ان تخلقھا فلا محیص لھا مما علمت فاجعلنی ممن تستعملہ بطاعتک اللھم ان احد الایشاء حتی تشاء فاجعل مشیتک لی ان اشاء مایقربی الیک اللھم انک قدرت حرکات العباد فلایتحرک شئی الا باذنک فاجعل حرکاتی فی تقراک اللھم انک خلقت الخیر والشر وجعلت لکل واحد منھا عاملا یعمل بہ فاجعلنی من خیر القسمین اللھم انک خلقت الجنة والنار وجلعت لکل واحد منھما اھلا فاجعلنی من سکان جنتک اللھم انک اردت بقوم الھدی وشرحت صدورھم واردت یقوم الضلالة وضیقت صدور ھم فاشرح صدری للایمان وزینہ فی قلبی اللھم انک دبرت الامور فجعلت مصبرھا الیک فاحینی بعد الموت حیاة طیبة وقربی الیک زلفی اللھم من اصبح وامسی ثقتہ ورجاء ہ غیرک فانت ثقتی۔ ورجانی ولاحول ولا قرة الا باللہ العلی العظیم ابوبکر (رض) نے کہا یہ سب کچھ کتاب اللہ کا مضمون ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی الدعاء) ترجمہ :۔۔۔ اے اللہ آپ نے مخلوق کو پیدا فرمایا آپ کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی آپ نے ان کو دو حصوں میں تقسیم کیا ایک فریق کو جنت کے لیے ایک فریق کو جہنم کے لیے اے اللہ مجھے جنتی فریق میں سے بنادے جہنم کے فریق میں سے نہ بنا اے اللہ آپ نے مخلوق کو فرقوں میں تقسیم فرمایا اور مخلوق سے پہلے ہی ان کو تقسیم کیا تھا ان نیک بخت ہدایت یافتہ بنایا اے اللہ مجھے اپنے گناہوں کی وجہ سے بدبخت نہ بنا ، اے اللہ آپ تخلیق سے پہلے ہی ہر شخص کے اعمال سے واقف ہیں آپ کے علم سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو آپ کی طاعت پر عمل کرنے والے ہیں اے اللہ کوئی شخص آپ کی چاہت کے خلاف چاہت نہیں رکھ سکتا ہے اب آپ میرے بارے میں اپنی مشیت اعمال کی کردے جو مجھے آپ کے قریب کردے اے اللہ آپ نے بندوں کے حرکات کو مقدر فرمایا ہے آپ کی اجازت کے بغیر کوئی چیز حرکت نہیں کرسکتی میری حرکات کو آپ کے تقوی کے مطابق بنادے اے اللہ آپ نے خیر و شر کو پیدا فرمایا ہے اور ہر ایک پر عمل کرنے والا بھی بنایا ہے اے اللہ آپ مجھے دونوں میں سے خیر پر عمل کرنے والا بنادے اے اللہ آپ نے جنت و جہنم کو پیدا فرمایا ہے اور ہر ایک کے اہل بھی بنایا ہے مجھے جنت کے باسی بنادے اے اللہ آپ کچھ لوگوں کے ساتھ ہدایت کا ارادہ فرماتے ہیں اور ان کے لیے شرح صدر بھی فرماتے ہیں اور ایک قوم کے ساتھ گمراہی کا ارادہ فرمایا ان کے لیے ان کا سینہ تنگ بھی فرمادیا اے اللہ میرے سینہ کو ایمان کے لیے کھول دے اور اس کو میرے دل میں مزین کردے اے اللہ آپ نے امور کی تدبیر فرمایا اور انجام سب کا آپ کے پاس ہے مجھے موت کے بعد حیاة طیبہ نصیب فرما اور مجھے اپنے پاس مرتبہ اور مقام نصیب فرما۔ اے اللہ کچھ لوگوں کے اعتماد اور امید آپ کے غیر پر ہے لیکن آپ ہی پر میرا اعتماد اور امید ہے لاحول ولاقوة الاب اللہ العلی العظیم۔
35730- عن سعيد بن المسيب قال: لما احتضر أبو بكر الصديق حضره ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا خليفة رسول الله! زودنا فإنا نراك لما بك، قال: كلمات من قالهن حين يمسي ويصبح جعل الله روحه في الأفق المبين! قالوا: وما الأفق المبين؟ قال: قاع تحت العرش فيه رياض وأشجار وأنهار يغشاه كل يوم ألف رحمة - أو قال: مائة رحمة - فمن مات على ذلك القول جعل الله روحه في ذلك المكان: اللهم! إنك ابتدأت الخلق بلا حاجة بك إليهم فجعلتهم فريقين: فريقا للنعيم وفريقا للسعير، فاجعلني للنعيم ولا تجعلني للسعير؛ اللهم! إنك خلقت الخلق فرقا وميزتهم قبل أن تخلقهم فجعلت منهم شقيا وسعيدا وغويا ورشيدا، فلا تشقيني بمعاصيك؛ اللهم! إنك علمت ما تكسب كل نفس قبل أن تخلقها فلا محيص لها مما علمت، فاجعلني ممن تستعمله بطاعتك؛ اللهم! إن أحدا لا يشاء حتى تشاء، فاجعل مشيئتك لي أن أشاء ما يقربني إليك، اللهم! إنك قدرت حركات العباد فلا يتحرك شيء إلا بإذنك، فاجعل حركاتي في تقواك، اللهم! إنك خلقت الخير والشر وجعلت لكل واحد منهما عاملا يعمل به، فاجعلني من خير القسمين؛ اللهم! إنك خلقت الجنة والنار وجعلت لكل واحد منهما أهلا، فاجعلني من سكان جنتك، اللهم! إنك أردت بقوم الهدى وشرحت صدورهم وأردت بقوم الضلالة وضيقت صدورهم، فاشرح صدري للإيمان وزينه في قلبي؛ اللهم! إنك دبرت الأمور فجعلت مصيرها إليك، فأحيني بعد الموت حياة طيبة وقربني إليك زلفى، اللهم، من أصبح وأمسى ثقته ورجاؤه غيرك فأنت ثقتي ورجائي، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم. قال أبو بكر: هذا كله في كتاب الله عز وجل. "ابن أبي الدنيا في الدعاء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کے وقت پڑھنے کے کلمات
35731 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں ابوبکر (رض) کے دفن میں حاضر ہوا ان کی قبر میں عمر بن خطاب عثمان بن عفان طلحہ بن عبداللہ اور عبدالرحمن بن ابی بکر اترے ابن عمر (رض) کہتے ہیں میں نے بھی اترنا چاہاتو عمر (رض) نے فرمایا کافی ہیں۔ (ابن سعد)
35731- عن ابن عمر قال: لقد حضرت دفن أبي بكر فنزل في حفرته عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وطلحة بن عبيد الله وعبد الرحمن ابن أبي بكر، قال ابن عمر: فأردت أن أنزل فقال عمر: كفيت. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کے وقت پڑھنے کے کلمات
35732 ۔۔۔ ابوبکر بن حفص بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) ابوبکر (رض) کے پاس آئیں وہ اے ہچکیاں لے رہے تھے ۔ جیسے مردلیتے ہیں ان کا سرمیری گود میں تھا میں نے یہ شعرپڑھا : لعمر ک مایغنی الثراء عن الفتی اذا حشر جت بوما وضاق بھا الصدر تیری زندگی کی قسم جوان کو مال فائدہ نہیں دیتاجب کسی دن ان پر غرغرہ کا وقت آجائے اور ان کا سینہ تنگ ہونے لگے تو ابوبکر (رض) نے غصہ سے میری طرف دیکھا ایسا نہیں ہے اے ام المومنین ! ولکن جاءت سکرة الموت بالحق یعنی آئی اور موت کی بیہوشی تحقیق جس سے تو ملتا رہتا ہے میں نے تمہیں ایک باغ ھبہ کیا تھا مجھے اس سے دل میں کچھ اضطراب ہے اس لیے اس کو میری میراث میں شامل کردیں میں نے کہا ہاں اس کو میں نے واپس کردیا جب ہم مسلمانوں کے امور کے ذمہ دار ہوئے ہم نے ان کا کوئی درھم و دینار نہیں کھایا ہم اپنے پیٹ میں ان کا بچاہوا کھانا ہی ڈالا ہے اور کھردرالباس پہنا اپنے جسم پر ہمارے پاس مسلمانوں کی غنیمت میں سوائے اس حبش غلام اور پانی لانے کے اونٹ اور بھئی ہوئی چادر کے کوئی چھوٹی بڑی چیز نہیں ہے جب میرا انتقال ہوجائے ان کی عمر (رض) کے پاس بھیج کر مجھے بری کردینا میں نے ایسا ہی کیا جب قاصد سامان لے کر عمر (رض) کے پاس پہنچا تو وہ روپڑے حتی کہ ان کے آنسوزمین پر بہنے لگے اور کہنے لگے اللہ تعالیٰ ابوبکر (رض) پر رحم فرمائے انھوں نے اپنے بعد کے خلفاء کو تھکا دیا اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے انھوں نے تو اپنے بعد کے خلفاء کو تھکا دیا پھر فرمایا اے غلام انکواٹھالو عبدالرحمن بن عوف (رض) نے سبحان اللہ کہا آپ ابوبکر کے گھر والوں کا ایک حبشی غلام اور پانی لانے کے لیے اونٹ ایک پرانی چادر جس کی قیمت پانچ درہم ہیں لیتے ہو پوچھا آپ کا کیا حکم ہے فرمایا ان کو واپس کردیں ابوبکر کے گھروالوں کو تو عمر (رض) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق دے کر بھیجا ایسانہ ہوگا یا ایسا ہی کوئی قسم کھا کر کہا میری سلطنت میں ایسا ہرگز نہ ہوگا ابوبکر (رض) موت کے وقت انھیں نکالیں میں ان کے گھروالوں پر ان کو واپس کروں موت اس سے زیادہ قریب ہے۔ (ابن سعد)
35732- عن أبي بكر بن حفص بن عمر قال: جاءت عائشة إلى أبي بكر وهو يعالج ما يعالج الميت ونفسه في صدره فتمثلت هذا البيت:لعمرك ما يغني الثراء عن الفتى ... إذ حشرجت يوما وضاق بها الصدر فنظر إليها كالغضبان ثم قال: ليس كذلك يا أم المؤمنين؟ ولكن {وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ} إني قد كنت نحلتك حائطا وإن في نفسي منه شيئا فرديه إلى الميراث، قالت: نعم، فرددته، أما! إنا منذ ولينا أمر المسلمين لم نأكل لهم دينارا ولا درهما ولكنا قد أكلنا من جريش طعامهم في بطوننا، ولبسنا من خشن ثيابهم على ظهورنا، وليس عندنا من فيء المسلمين قليل ولا كثير إلا هذا العبد الحبشي وهذا البعير الناضح وجرد هذه القطيفة، فإذا مت فابعثي بهن إلى عمر وإبرئي منهن، ففعلت، فلما جاء الرسول عمر بكى حتى جعلت دموعه تسيل في الأرض وجعل يقول: رحم الله أبا بكر لقد أتعب من بعده! رحم الله أبا بكر لقد أتعب من بعده! يا غلام! ارفعهن، فقال عبد الرحمن بن عوف: سبحان الله! تسلب عيال أبي بكر عبدا حبشيا وبعيرا ناضحا وجرد قطيفة ثمن خمسة الدراهم، قال: فما تأمر؟ قال: تردهن على عياله، فقال: لا والذي بعث محمدا بالحق! أو كما حلف لا يكون هذا في ولايتي أبدا ولا خرج أبو بكر منهن عند الموت وأردهن أنا على عياله، الموت أقرب من ذلك. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موت کے وقت پڑھنے کے کلمات
35733 ۔۔۔ (مسند جو یطب بن عبدالعزی ) عبدالرحمن بن ابی سفیان بن حویطب اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں عمرہ سے واپس آیا تو میرے گھر والوں نے کہا آپ کو ابوبکر (رض) کی موت کا علم ہے میں سفر کے کپڑوں میں ہی ان کے پاس حاضر ہوا اور انھیں بیماری کی حالت میں پایا میں نے سلام کیا تو انھوں نے وعلیکم السلام کہا اور ان کی آنکھیں ڈبڈبارہی تھیں میں نے کہا اے خلیفہ رسول آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور غارثور کے ساتھی ہیں اور سچی ہجرت کی اور عمدہ نصرت کی اور مسلمانوں پر حکومت ملی تو ان کی صحت کو عمدہ طریقہ سے ٹمٹمایا ان پر اچھی حکومت کی پوچھا میں نے اچھائی کام کیا ؟ میں نے کہا ہاں ! فرمایا اس پر اللہ کا شکرگذار ہوں اور میں جانتا ہوں کہ اس کے باوجود استغفار سے کوئی چیز مانع نہیں میں ابھی ان کے پاس سے نکلا ہی نہ تھا ان کا انتقال ہوگیا ۔ (ابن عساکر اور کہا یہ حدیث مسند کے مشابہ ہے اور کہا میں نے اس کو اس لیے ذکر کیا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کی ایک مسند حدیث بھی ہے جس کو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ابن معین نے کہا حویطب بن عبدالعزی کی کوئی مرفوع روایت مجھے یاد نہیں۔
35733- "مسند حويطب بن عبد العزى" عن عبد الرحمن ابن أبي سفيان بن حويطب عن أبيه عن جده قال: قدمت من عمرتي فقال لي أهلي: أعلمت أن أبا بكر بالموت؟ فأتيته في ثياب سفري فأجده لما به، فقلت: السلام عليك! فقال: وعليك السلام - وعيناه تذرفان، فقلت: يا خليفة رسول الله! كنت أول من أسلم، وثاني اثنين في الغار، وصدقت هجرتك، وحسنت نصرتك، ووليت المسلمين فأحسنت صحبتهم واستعملت خيرهم، قال: وحسن ما فعلت "قلت: نعم، قال: فأنا لله والله أشكر له وأعلم ولا يمنعني ذلك من أن أستغفر الله، فما خرجت حتى مات". "كر وقال: هذا الحديث شبيه بالمسند، قال وإنما أخرجته لأني أعلم له حديثا مسندا سمعه من النبي صلى الله عليه وسلم، قال ابن معين: لا أحفظ عن حويطب بن عبد العزى عن النبي صلى الله عليه وسلم شيئا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدیق اکبر (رض) کے انتقال کے وقت کا غم گین ہونا
35734 ۔۔۔ اسیدبن صفوان صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت ہے کہ جب ابوبکر (رض) کا انتقال ہوا تو ان پر ایک کپڑا ڈالا یا گیا پورے مدینہ میں رونے کا شور بلندہوا لوگ ایسے ہی دہشت زدہ ہوئے جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتقال کے دن ہوا تھا علی بن ابی طالب (رض) روتے ہوئے جلدی سے آئے اور انا لللہ وانا الیہ راجعون پر ھا پھر کہنے لگا آج خلافت نبوت ختم ہوگئی یہاں تک ابوبکر (رض) کے دروازے پر کھڑے ہوگئے پھر کہا اللہ تعالیٰ ابوبکر (رض) نہ رحم فرمائے آپ نے قوم میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور خالص ایمان لائے اور سب سے زیادہ ایمان لائے سب سے زیادہ مالدار اسلام میں سب سے زیادہ بوڑھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب سے زیادہ نگہبانی کرنے والا صحابہ کرام پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے سب سے زیادہ صحبت اٹھانے والے سب سے زیادہ مقرب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سب سے زیادہ مشابہ سکون وقار اخلاق اور راھبری کے اعتبار سے سب سے زیادہ مرتبہ والے سب سے زیادہ مکرم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک سب سے زیادہ بااعتماد اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کا نام صدیق رکھا ارشاد باری تعالیٰ ہے : وجاء بالصدق۔ یعنی محمد سچائی لے کر آئے وصدق بہ یعنی ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اپنے ان کی غمخواری کی جس وقت لوگ غمخواری میں بخل کررہے تھے آپ ان کے ساتھ تھے جب کہ لوگ بیٹھ گئے تھے شدت اور سختی کے موقع پر بھی آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمدہ صحبت اختیار کی غار اور منزل میں دو میں کا دوسرے تھے اور آپ ان کے ساتھی تھے ہجرت موقع اور جہاد کے مواقع پر اور ان کی امت میں آپ نے بہترین طریقہ سے جانشینی کا فریضہ انجام دیا جب لوگ مرتد ہورہے تھے آپ نے اللہ کے دین کو ایسا قائم کیا آپ سے پہلے کسی نبی کے خلیفہ نے ایسا قائم نہیں کیا آپ نے ان کو قوت پہنچائی جب کہ دوسری لوگ کمزوری دکھا رہے تھے آپ ظاہر ہوئے جب کہ دوسری لوگ سست پڑگئے اور آپ کھڑے ہوئے جس وقت دوسرے لوگوں نے بزدلی کی جگہ تھے آپ نے رسول اللہ کے طریقہ کو لازم پکڑا آپ خلیفہ برحق ہوئے منافقین کے علی الرغم حاسدین کے طعن فاسقین کی ناپسندیدگی کفار کے غیظ وغضب کے خلاف آپ دین کو لے کر اس وقت کھڑے ہوئے جس وقت لوگوں کے قدم اکھڑچکے تھے اور آپ نور ہی کی روشنی میں چل رہے ہے جس وقت دوسرے لوگ رک گئے لوگوں نے آپ کی اتباع کی ہدایت پاگئے آپ سب سے پست آواز تھے لیکن سب سے زیادہ رعب والے گفتگو کم کرتے لیکن سب سے دوستی رکھتے یقین میں سب سے سخت دل کے تھے سب سے دوستی رکھتے عقل کے اعتبار سے عمدہ معاملات کو سب سے زیادہ جاننے والے واللہ آپ دین کے لیے اول یعسوب تھے (یعنی دین قائم کرنے والے امیر) جب سب لوگ متفرق تھے اور آخر میں بھی جب لوگوں میں اپنی اعتبار سے دندانے پڑنے شروع ہوگئے اور آپ مومنین کے لیے ایک شفیق باپ تھے جسوقت وہ آپ کے لیے عیال ہوگئے ۔ جب وہ بوجھ اٹھانے سے کمزور ہوگئے تو آپنی ان کا بوجھ اٹھایا اور جس چیز کو لوگوں نے ضائع کیا آپ نے اس کی حفاظت کی اور آپ نے اس کی رعایت کی جس کو لوگوں نے مہمل چھوڑ دیا اور آپ نے اپنے دامن کو اس وقت کساتھ جس وقت لوگ رسواہو رہے تھے اور آپ نے صبر سے کام لیا جس وقت لوگ جزع فزع کررہے تھے آپ نے لوگوں کے مطلوبہ ثانت کو پالیا اور لوگوں کو آپ کی وجہ سے اپنے گمان سے زیادہ ملا آپ کافروں پر برسنے والا عذاب تھے اور مومنین کے لیے خوشحالی لانے والی بارش آپ نے فضائل حاصل کئے سبقت کے میدان سر کرگئے آپ کی حجتوں میں دندانے نہیں پڑے اور آپ کی بصیرت کمزور نہیں ہوئی آپ کے نفس میں نہ بزدلی پیدا ہوئی نہ خیانت کی آپ پہاڑ کی طرح تھے جس کو تیز آندھی ھلا نہیں سکتی تھی طوفان بھی اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا آپ ایسے ہی تھے جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچانے والے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بقول جسمانی طورپر کمزور لیکن اللہ کے حکم بجالانے میں مضبوط اپنے نفس میں متواضع اللہ کے ہاں عظیم زمین میں بڑے مومنین کے نزدیک جلالت والے پھر کسی کی طرف آپ پر کوئی الزام نہیں آپ کے بارے میں کوئی بدگوئی کرنے والا نہیں نہ کسی کے ساتھ کوئی خاص رعایت تھی کمزور شخص آپ کے نزدیک باعزت ہے یہاں تک وہ اپنا حق وصول کرلے اور قومی شخص آپ کے نزدیک کمزور ہے یہاں تک آپ اس سے مظلوم کا حق وصول کرلیں اس معاملہ میں رشتہ دار اور غیر رشتے دار دونوں آپ کے نزدیک برابر ہیں آپ کی شان حق صداقت ہے آپ کا حکم حتمی ہے آپ کا حکم غنیمت اور پختہ ہے اسلام ثابت ہوگیا اللہ کی قسم آپ بہت دور چلے گئے اپنے بعد والوں کو خلافت کے معاملہ تعب میں ڈالدیا اور خیر میں آپ نے کھلی کامیابی حاصل کی رونے کو ثابت کردیا تمہاری مصیبت آسمان میں بری ہوئی تمہاری مصیبت نے لوگوں کو خاموش کردیا اللہ کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کی جیسی مصیبت مسلمانوں کو لاحق نہیں ہوئی آپ دین کے لیے عزت اور جائے پناہ تھے اور مسلمانوں کے لیے محفوظ قلعہ تھے اور نسبت کا سبب تھے منافقین سخت اور غصہ دلانے اور غصہ پینے کا سبب تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے نبی کے ساتھ ملادیا اللہ تعالیٰ آپ کے بعد ہمیں اجر سے محروم نہ فرمائیں اور آپ کے بعد گمراہ نہ فرمائے انا لللہ وانا الیہ راجعون۔ فی التفسیر الشاشی وابو زکریا فی طبقات اھل الموصل وابوالحسن علی بن احمد بن اسحاق البغدادی فی فضائل ابی بکروعمر والمحاملی فی امالیہ وابن مند و ابونعیم فی المعرفہ والالکانی فی اسنة خطیب فی المتفق وابن عساکر ابن النجار الضیاء المقدسی)
35734- عن أسيد بن صفوان صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لما توفي أبو بكر سجوه ثوبا وارتجت المدينة بالبكاء ودهش الناس كيوم قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء علي بن أبي طالب مسرعا باكيا مسترجعا وهو يقول: اليوم انقطعت خلافة النبوة - حتى وقف على باب البيت الذي فيه أبو بكر ثم قال: رحمك الله أبا بكر! كنت أول القوم إسلاما وأخلصهم إيمانا وأكثرهم يقينا وأعظمهم غنى وأحدبهم على الإسلام وأحوطهم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وآمنهم على أصحابه وأحسنهم صحبة وأعظمهم مناقب وأكثرهم سوابق وأرفعهم درجة وأقربهم من رسول الله صلى الله عليه وسلم وأشبههم به هديا وسمتا وخلقا ودلا وأشرفهم منزلة وأكرمهم عليه وأوثقهم عنده، فجزاك الله عن الإسلام وعن رسوله وعن المسلمين خيرا! صدقت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين كذبه الناس فسماك رسول الله صلى الله عليه وسلم صديقا، قال الله تعالى: {جَاءَ بِالصِّدْقِ} يعني محمدا {وَصَدَّقَ بِهِ} يعني أبا بكر وآسيته حين بخلوا، وكنت معه حين قعدوا، صحبته في الشدة أكرم صحبة، ثاني اثنين في الغار والمنزل، رفيقه في الهجرة ومواطن الكرة، خلفته في أمته بأحسن الخلافة حين ارتد الناس، وقمت بدين الله قياما لم يقمه خليفة نبي قبلك، قويته حين ضعف أصحابه، وبرزت حين استكانوا، ونهضت حين وهنوا، ولزمت منهاج رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت خليفته حقا لم تنازع برغم المنافقين وطعن الحاسدين وكره الفاسقين وغيظ الكافرين، فقمت بالأمر حين فشلوا، ومضيت بنور الله حين وقفوا، واتبعوك فهدوا، كنت أخفضهم صوتا وأعلاهم خوفا وأقلهم كلاما وأصوبهم منطقا وأشدهم يقينا وأشجعهم قلبا وأحسنهم عقلا وأعرفهم بالأمور، كنت والله للدين يعسوبا أولا حين تفرق الناس عنه وآخرا حين فلوا، كنت للمؤمنين أبا رحيما إذ صاروا عليك عيالا فحملت أثقالا عنها ضعفوا، وحفظت ما أضاعوا، ورعيت ما أهملوا، وشمرت إذ خنعوا ، وصبرت إذ جزعوا، فأدركت أوتار ما طلبوا، ونالوا بك ما لم يحتسبوا، كنت على الكافرين عذابا صبا، وللمؤمنين غيثا وخصبا، ذهبت بفضائلها، وأحرزت سوابقها، لم تفلل حجتك ولم تضعف بصيرتك، ولم تجبن نفسك ولم تخن، كنت كالجبل لا تحركه العواصف، ولا تزيله الرواجف، كنت كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أمن الناس في صحبتك وذات يدك، وكما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ضعيفا في بدنك قويا في أمر الله، متواضعا في نفسك عظيما عند الله، كبيرا في الأرض جليلا عند المؤمنين، ثم لم يكن لأحد فيك مهمز، ولا لقائل فيك مغمز ولا لأحد عندك هوادة، والذليل عندك قوي عزيز حتى تأخذ الحق، والقوي العزيز عندك ضعيف حتى تأخذ منه الحق، القريب والبعيد عندك في ذلك سواء، شأنك الحق والصدق، وقولك حكم وحتم، وأمرك غنم وعزم، ثبت الإسلام وسبقت والله سبقا بعيدا، واتعبت من بعدك تعبا شديدا، وفزت بالخير فوزا مبينا، فجللت عن البكاء، وعظمت رزيتك في السماء، وهدت مصيبتك الأنام، والله لا يصاب المسلمون بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم بمثلك، كنت للدين عزا وكهفا، وللمسلمين حصنا، وأنسا، وعلى المنافقين غلظة وغيظا وكظما، فألحقك الله بنبيك صلى الله عليه وسلم ولا حرمنا أجرك ولا أضلنا بعدك وإنا لله وإنا إليه راجعون. "هـ في التفسير والشاشي وأبو زكريا في طبقات أهل الموصل، وأبو الحسن علي بن أحمد بن إسحاق البغدادي في فضائل أبي بكر وعمر، والمحاملي في أماليه، وابن منده، وأبو نعيم في المعرفة واللالكائي في السنة؛ خط في المتفق، كر وابن النجار، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الفاروق (رض) حضرت عمرفاروق (رض) کے فضائل ومناقب
35735 ۔۔۔ ابوبکر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے اللہ عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کو قوت پہنچا۔ (طبرانی نے الاوسط میں نقل کیا اس کی سند میں محمد بن حسن بن زبالة متروک ہے)
35735- عن أبي بكر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "اللهم اشدد الإسلام بعمر بن الخطاب". "طس، وفيه محمد بن الحسن بن زبالة متروك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الفاروق (رض) حضرت عمرفاروق (رض) کے فضائل ومناقب
35736 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم عمر (رض) میرے نزدیک تمام لوگوں سے محبوب ہے اے اللہ محبوب بیٹا وہی ہے جو دل کے ساتھ چپکنے والا ہو۔ (ابوعبید نے غریب میں ابن عساکر)
35736- عن عائشة قالت: قال أبو بكر الصديق: والله! إن عمر لأحب الناس إلي، ثم قال: كيف قلت؟ قالت عائشة: قلت: والله! إن عمر لأحب الناس إلي، فقال: اللهم أعز الولد ألوط "أبو عبيد في الغريب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الفاروق (رض) حضرت عمرفاروق (رض) کے فضائل ومناقب
35737 ۔۔۔ عبدالرحمن بن یزید بن جابر (رض) سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے عیینہ بن حصن کو ایک جاگیردی اس کے لیے ایک تحریرلکھ دی ۔ طلحہ (رض) یا کسی اور نے کہا کہ ہمارے خیال میں ہوسکتا ہے کہ اس معاملہ میں عمر (رض) کی دوسری رائے ہو اگر آپ مجھے اپنی تحریر ان کو سنا دیتے عینیہ نے عمر (رض) کے پاس آکر خط سنایا تو خط کو لے کر پھاڑ دیا اور تحریر کو مٹادیا تو عینیہ نے ابوبکر (رض) سے درخواست کی کہ دوسری تحریر لکھ کردیں تو فرمایا لکھ کردیں تو فرمایا اللہ کی قسم جس بات کو عمر (رض) نے رد کردیا ہے میں اس کو دوبارہ لکھ کر نہیں دونگا ۔ (ابوعبید فی الاموال)
35737- عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر أن أبا بكر أقطع لعيينة بن حصن قطيعة وكتب له بها كتابا: فقال له طلحة أو غيره: إنا نرى هذا الرجل سيكون من هذا الأمر بسبيل - يعني عمر - فلو أقرأته كتابك، فأتى عيينة عمر فأقرأه كتابه، فشق الكتاب ومحاه، فسأل عيينة أبا بكر أن يجدد له كتابا، فقال: والله! لا أجدد شيئا رده عمر. "أبو عبيد في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الفاروق (رض) حضرت عمرفاروق (رض) کے فضائل ومناقب
35738 ۔۔۔ عمر وبن یحییٰ الزرقی سے روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے طلحہ بن عبید اللہ کو ایک زمین بطور جاگیر عطا فرمائی اور اس کے لیے ایک تحریر لکھدی اور کچھ لوگوں کو گواہ بنایا ان میں عمر (رض) کا نام بھی تھا تو طلحہ (رض) تحریر لے کر عمر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا اس پر مہرلگادیں تو عمر (رض) نے فرمایا مہر نہیں لگاؤنگا کیا یہ پوری زمین تمہاری ہوگی اوروں کا اس میں کوئی حصہ نہیں تو طلحہ (رض) ناراض ہو کر ابوبکر (رض) کے پاس واپس گئے اور کہا اللہ کی قسم معلوم نہیں خلیفہ آپ ہیں یا عمر (رض) ہیں تو ابوبکر (رض) نے فرمایا بلکہ عمر (رض) ہی خلیفہ ہیں لیکن انھوں نے خلافت قبول کرنے سے انکار کیا۔ (ابوعبیدفی الاموال)
35738- عن عمر بن يحيى الزرقي قال: أقطع أبو بكر طلحة ابن عبيد الله أرضا وكتب له بها كتابا، وأشهد له بها ناسا فيهم عمر، فأتى طلحة عمر بالكتاب فقال: اختم على هذا: فقال: لا أختم، أهذا كله لك دون الناس! قال فرجع طلحة مغضبا إلى أبي بكر فقال: والله! ما أدري أنت الخليفة أم عمر! قال: بل عمر ولكنه أبى. "أبو عبيد في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الفاروق (رض) حضرت عمرفاروق (رض) کے فضائل ومناقب
35739 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں اسلام لانے سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کے لیے گیا تو وہ مجھ سے پہلے مجسد جاچکے تھے میں ان کے پیچھے جاکرکھڑا ہوگیا آپ نے نماز میں سورة الحاقہ شروع فرمائی میں تالیف قرآن سے تعجب کرنے لگا میں نے کہا واللہ یہ شاعر ہے جیسا کہ قریش نے کہا پھر پڑھا : انہ لقول رسول کریم وما ھو بقول شاعر قلیلا ماتومنون میں نے اپنے دل میں کہا کاھن ہیں آپ نے پڑھا ولایقول کاھن قلیلا ماتذکرون سورة کے آخر تک تو اسلام میرے دل میں پوری طرح اتر گیا تھا۔ ( احمد ابن عساکر اور اس کے رجال ثقات ہیں لیکن اس میں شریح بن عبید اور عمر (رض) کے درمیان انقطاع ہے)
35739- عن عمر قال: خرجت أتعرض رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل أن أسلم فوجدته قد سبقني إلى المسجد فقمت خلفه، فاستفتح سورة الحاقة فجعلت أتعجب من تأليف القرآن فقلت: والله! هذا شاعر كما قالت قريش، فقرأ: {إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلاً مَا تُؤْمِنُونَ} ، قلت: كاهن، قال: {وَلا بِقَوْلِ كَاهِنٍ قَلِيلاً مَا تَذَكَّرُونَ} إلى آخر السورة، فوقع الإسلام في قلبي كل موقع. "حم، كر، ورجاله ثقات ولكن فيه انقطاع بين شريح بن عبيد وعمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الفاروق (رض) حضرت عمرفاروق (رض) کے فضائل ومناقب
35740 ۔۔۔ اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا کیا میں تمہیں اپنے اسلام قبول کرنے کا قصہ نہ سناؤں ہم نے کہا ضرورتو فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سخت مخالفین میں سے تھا اس دوران کہ سخت گرمی کے دن دوپہر کے وقت مکہ کی بعض گلیوں میں چل رہا تھا تو ایک قریشی شخص سے ملاقات ہوئی کہا مجھ سے اے ابن خطاب کہاں کا ارادہ ہے میں نے کہا اس شخص (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل ) کا ارادہ ہے تو انھوں نے کہا اے ابن خطاب تعجب کی بات ہے میں نے کہا وہ کیا کہا اب اس کا قصد کررہے ہو جب کہ اس شخص کا دین تو تمہارے گھر میں داخل ہوچکا ہے میں نے کہا وہ کیسے بتایا آپ کی بہن مسلمان ہوچکی ہے میں غصہ ہو کر ان کے گھر کی طرف لوٹا اور دروازہ کھٹکھٹایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طریقہ یہ تھا کہ جب ایک وہ غریب شخص اسلام قبول کرتے تو اس کو ایسے شخص کے ساتھ ملا دیتے جو مالی وسعت والا ہوتا کہ وہ ان کا بچہ زائدکھانا کھاکر گذارہ کرے تو میرے بہنوئی کے ساتھ بھی وہ آدمی ملادئیے تھے جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا کون میں نے کہا عمر وہ اپنے ہاتھ میں ایک کتاب پڑھ رہے تھی جب میری آواز سنی تو مجلس سے اٹھ کر گھر میں چھپ گئے لیکن کتاب کو چھوڑ دیا جب بہن نے میرے لیے دروازہ کھولا میں نے کہا اے اپنے نفس کی دشمن تو نے دین بدل لیا ہے میں نے اس کے سر پر مارنے کے لیے ایک چیز اٹھائی وہ روپڑی اور کہا ابن الخطاب تو جو کرنا چاہے کرلے میں تو مسلمان ہوچکی میں اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گیا تو گھر کے درمیان میں صحیفہ دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ساصحیفہ ہے بہن نے کہا ابن خطاب اس کو چھوڑدے کیونکہ تم غسل جنابت نہیں کرتے ہو اور پاکی حاصل نہیں کرتے ہو یہ صحفیہ ایسا ہے کہ اس کو ناپاک ہاتھ نہیں لگ سکتا میں اصرار کرتا رہا یہاں تک مجھ دیدیا اس میں یہ مضمون تھا۔ بسم اللہ الرحمن جب اللہ تعالیٰ کا نام آیا تو خوف زدہ ہو کر اس کو چھوڑ دوبارہ اٹھاکر پڑھاتو یہ سورة تھی۔ سبح اللہ مافی السموات ولارض وھو العزیز الحکیم یہاں تک امنو اب اللہ ورسولہ تک بڑھا تو میں نے کہا اشھد ان لااہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ لوگ جلدی سے نکلے انھوں نے تکبیر بلند کی اس پر خوش ہوئے کہا اے ابن خطاب تمہیں بشارت ہو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیر کے دن تمہارے حق میں دعا کی تھی۔ اللھم اعزالدین باحب الرجلین الیک عمر بن خطاب اوابی جھل بن ہشام یعنی اے اللہ ان دونوں میں جو آپ کے نزدیک محبوب ہے اس کے ذریعہ دین اسلام کو قوت عطاء فرما عمر خطاب ابوجہل بن ہشام ۔ ہمیں امید ہے کہ آپ رسول اللہ کی دعا کا نتیجہ ہیں میں نے کہا مجھے بتاؤ رسولہ کہاں ہیں ؟ جب انھوں نے میری طلب صادق کو دیکھاتو گھر کی طرف میری رہنمائی کردی میں نکلا اور اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا پوچھا کون میں نے کہا عمر بن خطاب چونکہ لوگوں کو میری مخالفت کا تو علم تھا لیکن اسلام کا علم نہیں تھا اس لیے کسی نے دروازہ کھولنے کی جرات نہیں کی یہاں تک رسول اللہ نے فرمایا کہ دروازہ کھولو اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے خیر مقدر فرمایا ہے تو ہدایت ہل جائے گی تو دو آدمیوں نے میرا بازو پکڑلیا یہاں تک میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب پہنچا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کو چھوڑ دونوں نے چھوڑ دیا میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا گربیان پکڑ کر فرمایا اے عمربن خطاب اسلام قبول کرلے تو میں نے کہا اشھدالا لہ الا اللہ واشہد تک رسول اللہ تو مسلمانوں نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا تو مکہ گلیوں میں سنا گیا وہ اس سے پہلے ستر تھے میں ایک شخص کے پاس آکر اس کا دروازہ کھٹکھٹایا اس نے پوچھا کون ؟ میں نے کہا عمر بن خطاب وہ گھر سے نکل کر میرے پاس آیا میں نے اس سے کہا کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں مسلمان ہوچکاہوں اس نے پوچھا کیا واقعی تم نے ایسا کیا میں نے کہا ہاں اس نے کہا ایساہرگز مت کرو یہ کہہ کر گھر میں داخل ہوگیا اور مجھ سے دروازہ بند کرلیا میں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں اب میں نہ دروازہ پیٹ رہا ہوں نہ مجھ سے کچھ کہا جارہا ہے پھر اس نے کہا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے اسلام کا اعلان کیا جائے ؟ میں نے کہا ہاں کہا ہاں کہا پھر تم حطیم میں جاکر بیٹھو اور فلاں سے کہو جو تمہارے اور اس کے درمیان ہے اس سے کہو میں مسلمان ہوگیاہوں کیونکہ وہ باتوں کو بہت کم چھپاتا ہے میں اس کے پاس آیا لوگ مطاف میں جمع تھے میں نے اس کے کلام کا اعادہ کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ میں مسلمان ہوچکا ہوں پوچھا کیا واقعی تم نے ایسا کرلیا ہے ؟ میں نے کہا ہاں اس نے زور سے آواز لگائی کہ سن لو عمر مسلمان ہوچکا ہے لوگ میرے اوپر حملہ آور ہوئے وہ مجھ مارتے رہے میں ان کو مارتارہا یہاں تک میرے ماموں آگئے ان سے کہا گیا کہ عمر مسلمان ہوگیا انھوں نے حطیم میں کھڑے ہو کر زور سے اعلان کیا کہ میں نے اپنے بھانجے کو پناہ دے دی ہے اب اس کو کوئی ہاتھ نہ لگائے وہ سارے مجھ سے دور ہوگئے میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی مسلمان کو مارا جائے اور میں دیکھتا رہوں میں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں کہ لوگ مجھے مارتے رہے اور میں نہ ماروں اور مجھ سے کچھ بھی نہ کہا جائے چنانچہ جب لوگ حطیم میں بیٹھ گئے میں اپنے ماموں کے پاس آیا اور کہا سن لیں میں نے آپ کی پناہ آپ کو واپس کردی ہے ثوماموں نے کہا ایسانہ کریں میں نے ان کی پناہ لینے سے انکار کردیا اب میں مارتا بھی تھا اور مار کھاتابھی تھا یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطاء فرمایا۔ (الحسن ابن سفیان والبز ارا ور کہا اس سند سے صرف اسحاق بن ابراہیم حتینی نے روایت کی ہے ہمیں اسلام عمر کے قصہ کے متعلق اس سے اچھی روایت معلوم نہیں مگر یہ کہ حنینی مدینہ سے نکلنے کے بعد نابینا ہوگئے اور ان کی حدیث مضطرب ہوگئی ابن مردوبہ اور خیثمہ نے فضائل صحابہ کرام (رض) میں روایت کی ہے حلیة بیہقی دلائل النبوة میں ابن عساکر ذھبی نے مغنی میں کہا اسحاق بن ابراہیم حینی کے ضعف پر اتفاق ہے)
35740- عن أسلم قال قال عمر: أتحبون أن أعلمكم كيف كان بدء إسلامي؟ قلنا: نعم، قال: كنت من أشد الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم: فبينا أنا في يوم شديد الحر بالهاجرة في بعض طريق مكة إذ لقيني رجل من قريش فقال: أين تذهب يا ابن الخطاب قلت: أريد هذا الرجل، قال: عجبا لك يا ابن الخطاب! إنك تزعم أنك كذلك وقد دخل عليك هذا الأمر في بيتك! قلت: وما ذاك؟ قال: أختك قد أسلمت؟ فرجعت مغضبا حتى قرعت الباب، وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أسلم الرجل والرجلان ممن لا شيء له ضمهما رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الرجل الذي في يده السعة، فنالا من فضلة طعامه، وقد كان ضم إلى زوج أختي رجلين، فلما قرعت الباب قيل: من هذا؟ قلت: عمر، وقد كانوا يقرأون كتابا في أيديهم، فلما سمعوا صوتي قاموا حتى اختبأوا في مكان وتركوا الكتاب، فلما فتحت لي أختي الباب قلت: أيا عدوة نفسها! صبوت؟ وأرفع شيئا فأضرب به على رأسها، فبكت المرأة وقالت لي: يا ابن الخطاب! اصنع ما كنت صانعا فقد أسلمت. فذهبت وجلست على السرير فإذا بصحيفة وسط البيت! فقلت: ما هذه الصحيفة؟ فقالت لي: دعها عنك يا ابن الخطاب! فإنك لا تغتسل من الجنابة ولا تتطهر وهذا لا يمسه إلا المطهرون. فما زلت بها حتى أعطتنيها، فإذا بها "بسم الله الرحمن الرحيم"، فلما مررت باسم الله ذعرت منه فألقيت الصحيفة، ثم رجعت إلى نفسي فتناولتها فإذا فيها {سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} ، فقرأتها حتى بلغت {آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ} إلى آخر الآية. فقلت: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله. فخرج القوم متبادرين فكبروا واستبشروا بذلك وقالوا لي: أبشر يا ابن الخطاب! فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا يوم الاثنين فقال: "اللهم؟ أعز الدين بأحب الرجلين إليك: عمر بن الخطاب أو أبي جهل بن هشام"، وإنا نرجو أن تكون دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم لك، فقلت: دلوني على رسول الله صلى الله عليه وسلم أين هو؟ فلما عرفوا الصدق دلوني عليه في المنزل الذي هو فيه، فخرجت حتى قرعت الباب، فقال: من هذا؟ قلت: عمر بن الخطاب. وقد علموا شدتي على رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يعلموا بإسلامي، فما اجترأ أحد منهم أن يفتح لي حتى قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " افتحوا له، فإن يرد الله به خيرا يهده"، ففتح لي الباب فأخذ رجلان بعضدي حتى دنوت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أرسلوه" فأرسلوني، فجلست بين يديه، فأخذ بمجامع قميصي ثم قال: " أسلم يا ابن الخطاب! اللهم اهده"! فقلت: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أنك رسول الله، فكبر المسلمون تكبيرة سمعت في طريق مكة وقد كانوا سبعين قبل ذلك، فكان الرجل إذا أسلم فعلم به الناس يضربونه ويضربهم. فجئت إلى رجل فقرعت عليه الباب فقال: من هذا؟ قلت: عمر بن الخطاب. فخرج إلي، فقلت له: أعلمت أني قد صبوت؟ قال: أو قد فعلت؟ قلت: نعم. قال: لا تفعل. ودخل البيت وأجاف الباب دوني، فقلت: ما هذا بشيء فإذا أنا لا أضرب ولا يقال لي شيء، قال الرجل: أتحب أن يعلم بإسلامك؟ قلت: نعم! قال: إذا اجلس في الحجر فائت فلانا فقل له فيما بينك وبينه، أشعرت أني قد صبوت، فإنه قلما يكتم الشيء، فجئت إليه وقد اجتمع الناس في الحجر فقلت له فيما بيني وبينه: أشعرت أني قد صبوت؟ قال: أفعلت؟ قلت: نعم! فنادى بأعلى صوته: ألا! إن عمر قد صبأ، فثار إلي أولئك الناس فما زالوا يضربوني وأضربهم حتى أتى خالي، فقيل له: إن عمر قد صبأ. فقام على الحجر فنادى بأعلى صوته: ألا! إني قد أجرت ابن أختي فلا يمسه أحد! فانكشفوا عني، فكنت لا أشاء أن أرى أحدا من المسلمين يضرب إلا رأيته، فقلت: ما هذا بشيء إن الناس يضربون وأنا لا أضرب ولا يقال لي شيء، فلما جلس الناس في الحجر جئت إلى خالي فقلت: اسمع! جوارك رد عليك! قال: لا تفعل، فأبيت، فما زلت أضرب وأضرب حتى أظهر الله الإسلام. "الحسن بن سفيان والبزار، وقال: لا نعلم أحدا رواه بهذا السند إلا إسحاق بن إبراهيم الحنيني، ولا نعلم في إسلام عمر أحسن منه على أن الحنيني خرج من المدينة فكف واضطرب حديثه، وابن مردويه وخيثمة في فضائل الصحابة، حل، ق في الدلائل، كر قال الذهبي في المغني: إسحاق بن إبراهيم الحنيني متفق على ضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے اسلام لانے کا واقعہ
35741 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے مجھ سے بیان کیا کہ میرے اسلام لانے کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ میں نے اپنی بہن کو مارکر گھر سے باہر نکالدیا اور میں سخت اندھیری رات میں کعبہ کے پردے میں داخل ہوگیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور حطیم میں داخل ہوئے جوتیاں بھی ساتھ تھیں آپ نے نمازیں پڑھیں جتنی نماز کا ارادہ ہواپھر واپس ہوئے میں نے کچھ آوازیں سنیں اس جیسی پہلے کبھی نہیں سنی تھیں میں نکلا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے چلتارہا پوچھاکون ہے میں نے کہا عمر فرمایا اے عمر کیا تم رات ودن کسی وقت بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑو گے مجھے بددعا کا اندیشہ ہوا میں نے کہا اشھدان لاالہ الا اللہ وانک رسول اللہ تو فرمایا اے عمر اپنے اسلام کو چھپاؤ میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس کا اعلان کرونگا جس طرح شرک کا اعلان کرتا تھا۔ (ابن ابی شیبة حلیة ابن عساکر اس روایت میں یحییٰ بن یعلی اسلمی بروایت عبداللہ بن مومل دونوں ضعیف ہیں)
35741- عن جابر قال: قال لي عمر: كان أول إسلامي أن ضرب أختي المخاض فأخرجت من البيت فدخلت في أستار الكعبة في ليلة قارة، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فدخل الحجر وعليه نعلاه فصلى ما شاء الله ثم انصرف، فسمعت شيئا لم أسمع مثله، فخرجت فاتبعته فقال: من هذا؟ قلت: عمر، قال: يا عمر! أما تتركني ليلا ولا نهارا؟ فخشيت أن يدعو علي فقلت: أشهد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله، فقال: يا عمر! أسره، فقلت: والذي بعثك بالحق! لأعلنته كما أعلنت الشرك. "ش، حل، كر، وفيه يحيى بن يعلى الأسلمي عن عبد الله بن المؤمل ضعيفان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے اسلام لانے کا واقعہ
35742 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) سے پوچھا آپ کا نام فاروق رکھنے کی وجہ کیا ہے فرمایا حمزہ (رض) مجھ سے تین دن پہلے مسلمان ہوئے پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اسلام کے لیے کھول دیا میں نے کہا اللہ لاالہ الا ھوالہ اسماء الحسنی تو روئے زمین پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ محبوب کوئی شخص نہ رہا میں نے پوچھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں ہیں میری بہن نے بتایا وہ داراقم میں ہے جو کوہ صفاء کے دامن میں ہے میں اس گھر میں آیا حمزہ (رض) اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس گھر میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو لوگ جمع ہوئے حمزہ (رض) نے پوچھا کیوں جمع ہوگئے ہو بتایا باہر عمر بن خطاب ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کمرہ سے باہر تشریف لائے اور میرا گریبان پکڑا مجھے جھٹکاؤ دیا میں گھنٹوں کے بل گرپڑا فرمایا اے عمرتیرے لیے کیا چیز مانع ہے ؟ میں نے کہا اشھدان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ رسولہ تو گھر میں موجود افراد نے نعرہ تکبیر بلند کیا جس کو مسجد حرام میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی سنا میں نے کہا یارسول اللہ ہمیں موت آجائے یا ہم زندہ رہیں ہر صورت میں ہم حق پر ہیں ؟ فرمایا ہاں ضرور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم حق پر ہو تمہیں موت آئے یا زندگی نصیب ہو میں نے کہا ہم چھپ کر کیوں رہیں ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے آپ ضرور باہرنکلا کریں گے ہم نے آپ کو دوصفوں میں نکالا حمزہ ایک صف میں دوسری صف میں اب چلتے ہوئے صفوں سے غبار اڑھ رہے تھے حتی کہ ہم مسجد میں داخل ہوگئے قریش نے میری طرف اور حمزہ (رض) کی طرف دیکھا ان کو سخت غم لاحق ہواجو اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا اس دن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا نام فاروق رکھا میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرمایا۔ (حلیب ابن عساکر اس میں ابا ن بن صالح قوی نہیں ہے انہی سے اسحاق بن عبداللہ کی روایت متروک ہے)
35742- عن ابن عباس قال: سألت عمر: لأي شيء سميت "الفاروق"؟ قال: أسلم حمزة قبلي بثلاثة أيام، ثم شرح الله صدري للإسلام فقلت: الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى، فما في الأرض نسمة أحب إلي من نسمة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: أين رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت أختى: هو في دار الأرقم بن أبي الأرقم عند الصفا، فأتيت الدار وحمزة في أصحابه جلوس في الدار ورسول الله صلى الله عليه وسلم في البيت: فضربت الباب، فاستجمع القوم، فقال لهم حمزة: ما لكم؟ قالوا: عمر بن الخطاب، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذ بمجامع ثيابي ثم نترني نترة فما تمالكت أن وقعت على ركبتي فقال: "ما أنت بمنته يا عمر"! فقلت: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فكبر أهل الدار تكبيرة سمعها أهل المسجد فقلت: يا رسول الله! ألسنا على الحق إن متنا وإن حيينا؟ قال: "بلى"! "والذي نفسي بيده إنكم على الحق إن متم وإن حييتم"! قلت: ففيم الاختفاء؟ والذي بعثك بالحق لتخرجن فأخرجناه في صفين: حمزة في أحدهما وأنا في الآخر، له كديد ككديد الطحين حتى دخلنا المسجد، فنظرت إلي قريش وإلى حمزة، فأصابتهم كآبة لم يصبهم مثلها، فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ "الفاروق"، وفرق الله بي بين الحق والباطل. "حل، كر، وفيه أبان بن صالح ليس بالقوى وعنه إسحاق بن عبد الله الدمشقي متروك".
tahqiq

তাহকীক: