কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৭৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے اسلام لانے کا واقعہ
35743 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا کہ ابھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ 39 آدمی ہی ایمان لائے تھے میں چالیس کا چالیسواں تھا اللہ تعالیٰ نے دین کو غلبہ عطا فرمایا اور اپنے نبی کی نصرت فرمائی اور اسلام کو عزت بخشی ۔ ( حلیة ابن عساکر وہ صحیح ہے)
35743- عن عمر قال: لقد رأيتني وما أسلم مع النبي صلى الله عليه وسلم إلا تسعة وثلاثون رجلا وكنت رابع أربعين رجلا، فأظهر الله دينه ونصر نبيه وأعز الإسلام. "حل، كر، وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے اسلام لانے کا واقعہ
35744 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں ابی جبل شیبہ بن ربیعہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ابوجہل نے کہا اے قریش کی جماعت محمد (1) نے تمہارے معبودوں کو گالیاں دیں ہیں اور تمہاری عقلوں کو بیوقوف ٹھہرایا ہے اور ان کا گمان یہ ہے کہ تمہارے گذرے ہوئے آباء و اجداد جہنم میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور جو محمدکوقتل کرے اس کو سوسرخ و سیاہ اونٹ انعام میں دینا میرے ذمہ لازم ہے اور چاندی کے چالیس اوقیہ بھی میں تلوار لٹکا کر نکل گیا اور ترکش کو الٹ کر محمد کے ارادہ سے میرا گذر ایک بچھڑے پر ہوا جس کو لوگ ذبح کررہے تھے میں کھڑے ہو کر اس کو دیکھنے لگا تو اچانک بچھڑے کے پیٹ سے ایک آواز نکالنے والا کہہ رہا تھا اے آل ذریح نجات کا راستہ وہی جو ایک شخص فصیح زبان کے ساتھ پکاررہا ہے کہ اس کلمہ کی شہادت دوران لاالہ الا اللہ وان محمد رسول اللہ تو مجھے یقین ہوگیا کہ مجھے ہی حکم دیا جارہا ہے پھر ایک اونٹ پر میرا گذرہوا تو ایک غیبی آواز آئی کہ : یا ایھا الناس ذو والاجنسام ماانتم وطانش الاحلام ومسند والحکم الی الاصنام فکذکم اراہ کالا نعام اماترون مسا اری امالی من ساطع یجلو دجی الظلام قد لاح الناظر من تھام اکرم بہ اللہ من امام فد جاء بعد الکفر بالاسلام والبسر والصلات للارحام 1 ۔ اے لوگو جو جسم والے ہیں تم تو خواب کی مدہوشی میں پڑے ہوئے ہو۔ 2 ۔ حکم کو بتوں کی طرف منسوب کرتے ہو میں تم میں سے ہر ایک کو جانور کی طرح دکھ رہاہوں۔ 3 ۔ کیا تم نہیں دیکھتے جو میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں ایک نور ہے جس سے رات کا اندھیرا چھپ گیا ہے 4 ۔ دیکھنے والوں کے لیے تمہامہ پہاڑ سے ایک امام ظاہر ہوا ہے اللہ کے لیے اس کا اکرام کرو۔ 5 ۔ کفر کے بعد اسلام لے کر آیا ہے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی و احسان کا حکم لایا ہے۔ میں نے دل میں کہا بخد ایہ مجھے کہا جارہا ہے پھر میرا گذر ضمار بت پر ہوا اس کے پیٹ سے آواز آئی حاصل اس کا یہ ہے۔ 1 ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تعلق جوڑنے کے بعد ضماربت کی عبادت چھوڑ دی گئی ہے حالانکہ اس کی تنہا عبادت کی جاتی تھی۔ 2 ۔ عنقریب کہیں گے باری جیسے ضماربت یا اس جیسی کے عبادت گذار کہ ضمار یا اسی جیسی دگیربت عبادت کے لاحق نہیں۔ 3 ۔ اے ابوحفص صبر کرلو کیونکہ تم ایمان لاؤگے تمہیں وہ عزت ملے گی جو نبی عدی کے دیگر افراد کو نہیں ملتی۔ 4 ۔ جلدی مت کر تم اس دین کے مددگار ہو حق یقین زبان اور ہاتھ کے ساتھ۔ اللہ کی قسم مجھے یقین ہوگیا کہ مجھے ہی پکارا جارہا ہے یہاں تک میں اپنی بہن کے پاس پہنچا تو خباب بن ارت کے پاس میری بہن اور اس کا شوہر تھے خباب نے کہا اے عمر تیرا ناس ہوا اسلام قبول کرلو میں نے پانی مانگاوضو کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے عمر اپنے بارے میں میری دعوت قبول کرکے اسلام قبول کرلو میں نے اسلام قبول کرلیا اور میں چالیس کا چالیسواں تھا اسلام لانے والوں میں اور یہ آیت نازل ہوئی۔ یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین ابونعیم فی الدلائل
35744- عن عمر قال: كنت جالسا مع أبي جهل وشيبة ابن ربيعة، فقال أبو جهل: يا معشر قريش! إن محمدا قد شتم آلهتكم وسفه أحلامكم وزعم أن من مضى من آبائكم يتهافتون في النار، ألا! ومن قتل محمدا فله علي مائة ناقة حمراء وسوداء وألف أوقية من فضة! فخرجت متقلدا السيف متنكبا كنانتي أريد النبي صلى الله عليه وسلم، فمررت على عجل يذبحونه فقمت أنظر إليهم، فإذا صائح يصيح، من جوف العجل يا آل ذريح أمر نجيح رجل يصيح بلسان فصيح، يدعو إلى شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، فعلمت أنه أرادني، ثم مررت بغنم فإذا هاتف يهتف يقول:

يا أيها الناس ذوو الأجسام ... ما أنتم وطائش الأحلام

ومسندوا الحكم إلى الأصنام ... فكلكم أراه كالأنعام

أما ترون ما أرى أمامي ... من ساطع يجلو دجى الظلام

قد لاح للناظر من تهام ... أكرم به لله من إمام

قد جاء بعد الكفر بالإسلام ... والبر والصلات للأرحام

فقلت: والله ما أراه إلا أرادني، ثم مررت بالضمار فإذا هاتف من جوفه:

ترك الضمار وكان يعبد وحده ... بعد الصلاة مع النبي محمد

إن الذي ورث النبوة والهدى ... بعد ابن مريم من قريش مهتد

سيقول من عبد الضمار ومثله ... ليت الضمار ومثله لم يعبد

فاصبر أبا حفص فإنك آمن ... يأتيك عز غير عز بني عدي

لا تعجلن فأنت ناصر دينه ... حقا يقينا باللسان وباليد

فوالله لقد علمت أنه أرادني! فجئت حتى دخلت على أختي فإذا خباب ابن الأرت عندها وزوجها! فقال خباب: ويحك يا عمر! أسلم، فدعوت بالماء فتوضأت ثم خرجت إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لي: قد استجيب لي فيك يا عمر! أسلم، فأسلمت وكنت رابع أربعين رجلا ممن أسلم، ونزلت: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} . "أبو نعيم في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موافقات عمر (رض)
35745 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ میرے رب نے تین مقامات پر میری موافقت فرمائی۔ 1 ۔۔۔ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناتے آیت نازل ہوئی :2 ۔۔۔ میں نے کہا یارسول ( اللہ ) آپ عورتوں کو اگر پردہ کا حکم فرمائے کیونکہ نیک اور فاجر ہر قسم کے لوگ آپ کی خدمت میں آتے جاتے ہیں تو پردے کی آیات نازل ہوئیں۔ 3 ۔۔۔ ازواج مطہرات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ہوئیں تو میں نے ان سے کہا ہوسکتا ہے اگر وہ تمہیں طلاق دیدیں تو تم سے بہتر بیویاں اللہ تعالیٰ ان کو عطا فرمادیں اسی مضمون کی آیت نازل ہوگئی۔ سعید بن منصور احمد والعدنی والدارمی بخاری ترمذی نسانی ، ابن ماجہ ، ابن ابی داؤد فی المصاحف ابن المنذرابن ابی عاصم ابن جریر والطحاوی ابن حبان دار قطنی فی الافراد ابن شاہین فی النسة ابن مردو یہ، حلیة بیہقی
35745- عن عمر قال: وافقت ربي في ثلاث آيات، فقلت: يا رسول الله لو اتخذت من مقام إبراهيم مصلى! فنزلت: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّىً} وقلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! إن نساءك يدخل عليهن البر والفاجر فلو أمرتهن أن يحتجبن! فنزلت آية الحجاب، واجتمع على رسول الله صلى الله عليه وسلم نساؤه في الغيرة فقلت لهن {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجاً خَيْراً مِنْكُنَّ} فنزلت كذلك. "ص، حم والعدني والدارمي، خ، 1 ت، ن، هـ وابن أبي داود في المصاحف وابن المنذر وابن أبي عاصم وابن جرير والطحاوي، حب، قط في الأفراد وابن شاهين في السنة وابن مردويه، حل، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موافقات عمر (رض)
35746 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے تین مواقع پر رب تعالیٰ کی موافقت کی (1) حجاب (2) اساری بدر (3) مقام ابراہیم ۔ (مسلم ابوداؤد ، ابوعوانہ ابن ابی عاصم)
35746- عن عمر قال: وافقت ربي في ثلاث: في الحجاب وفي أسارى بدر، وفي مقام إبراهيم. "م 2 وابن داود وأبو عوانة وابن أبي عاصم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موافقات عمر (رض)
35747 ۔۔۔ عمر (رض) فرماتے ہیں چار مواقع پر رب تعالیٰ کی موافقت کی :۔ 1 ۔ میں نے کہا یارسول اللہ اگر آپ مقام کے پیچھے نماز کی جگہ مقرر فرمائیں اللہ تعالےٰ نے یہ آیت نازل فرمائی واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی۔ 2 ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ کی عورتیں پردہ کا اہتمام کرتیں کیونکہ آپ کے پاس تو نیک وبدہرقسم کے لوگ آتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ 3 ۔ اور میں نے کہا یارسول اللہ اگر ازواج مطہرات پردے کا اہتمام کرلیں تو اچھا ہے کیونکہ آپ کے پاس ہر قسم کے نیک وبدلوگ آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی :۔ واذاسالتمو ھن متاعا فسئلو ھن من وراء حجاب اور جب یہ آیت بھی نازل ہوئی :۔ ولقد خلقنا الانسان من سلالة من طین الی قولہ ثم انشاناہ خلقا اخر تو میں نے کہا : فتبارک اللہ احسن الخالفین تو اللہ تعالیٰ نے فتبارک اللہ احسن الخالقین نازل فرمایا اور ازواج مطہرات سے میں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ مطالبہ سے باز آجاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے بدلہ میں اور ازواج عطا فرمادیں گے تو یہ آیت نازل ہوئی عسی ربہ ان طلق کن۔ (ٕطبرانی ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ، ابن عساکر وھو صحیح)
35747- عن عمر قال: وافقت ربي في أربع: قلت: يا رسول الله! لو صلينا خلف المقام! فأنزل الله {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّىً} ، وقلت: يا رسول الله! لو ضربت على نسائك الحجاب! فإنه يدخل عليهن البر والفاجر، فأنزل الله: {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} ، ونزلت هذه الآية: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْأِنْسَانَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ} - إلى قوله: {ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقاً آخَرَ} فلما نزلت قلت أنا: تبارك الله أحسن الخالقين، فنزلت: {فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} ، ودخلت على أزواج النبي صلى الله عليه وسلم فقلت لهن: لتنتهين أو ليبدلنه الله أزواجا خيرا منكن! فنزلت هذه الآية: {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ} . "ط وابن أبي حاتم وابن مردويه، كر، وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ موافقات عمر (رض)
35748 ۔۔۔ عقیل بن ابی طالب سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمربن خطاب سے فرمایا کہ تمہاری ناراضگی میں عزت ہے اور تمہاری رضاء حکم ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35748- عن عقيل بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعمر بن الخطاب: "إن غضبك عز ورضاك حكم". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تنگی معاش
35749 ۔۔۔ مصعب بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عمر (رض) نے عمر (رض) سے کہا اگر آپ موجود لباس سے کچھ نرم لباس پہن لیتے اور موجود کھانی سے ذرا عمدہ کھانا اختیار فرماتے اللہ تعالےٰ تو رزق میں وسعت عطاء فرما رہے ہے اور مال میں اضافہ فرمایا ہے میں تم سے تمہارے نفس کے بارے میں جکڑ تاہوں کیا تمہیں یاد ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس قدر تنگی معاش برداشت کرتے تھے اس کو مسلسل دھراتے رہے یہاں تک اس کو رلادیا ان سے فرمایا واللہ تم نے یہ کہا ہے میں اللہ کی قسم اگر میرے اختیار میں ہو تو میں بھی ان کے ساتھ ان تنگی معاش میں شریک ہوجاؤ تاکہ میں اپنے دونوں ساتھیوں کی (آخرت کی) فراخی کو پالوں۔ (ابن المبارک ابن سعد ، ابن ابی شیبة، ابن راھو یہ احمد فی الزھد ھناد عبدابن حمید نسائی ، حلیة، مستدرک بیہقی ، ضیاء مقدسی)
35749- عن مصعب بن سعد قال: قالت حفصة بنت عمر لعمر: لو لبست ثوبا هو ألين من ثوبك! وأكلت طعاما هو أطيب من طعامك! فقد وسع الله من الرزق وأكثر من الخير، فقال: إني سأخاصمك إلى نفسك، أما تذكرين ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلقى من شدة العيش؟ فما زال يكررها حتى أبكاها فقال لها: والله إن قلت ذلك، إني والله إن استطعت لأشاركنها بمثل عيشهما الشديد لعلي أدرك عيشهما الرخي. "ابن المبارك وابن سعد، ش وابن راهويه حم في الزهد وهناد، وعبد بن حميد، ن، حل، ك، هب، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تنگی معاش
35750 ۔۔۔ عمر (رض) نے فرمایا اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا ۔ (ابن ابی شیبة والبزار والبخاری و صحیح)
35750- عن عمر قال: ما بلت قائما منذ أسلمت. "ش والبزار والطحاوي وصحح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تنگی معاش
35751 ۔۔۔ عکرمہ بن خالد سے روایت ہے کہ خفصہ وابن مطیع اور عبداللہ بن عمر (رض) نے عمر بن خطاب سے گفتگو کی اور کہا کہ اگر آپ عمدہ کھانا استعمال فرماتے تو حق پر مزید قوت حاصل ہوتی تو جواب میں فرمایا مجھے معلوم ہے کہ تم میں سے ہر ایک میرا خیر خواہ ہے لیکن میں نے اپنے دونوں ساتھیوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) ایک طریقہ پر چھوڑا ہے اگر میں ان کے طریقہ سے ہٹ کیا تو مقام ورتبہ کے لحاظ سے ان سے نہیں مل سکوں گا۔ (عبدالرزاق ، بیہقی ، ابن عساکر)
35751- عن عكرمة بن خالد أن حفصة وابن مطيع وعبد الله ابن عمر كلموا عمر بن الخطاب فقالوا: لو أكلت طعاما طيبا كان أقوى لك على الحق، فقال: قد علمت أنه ليس منكم إلا ناصح ولكني تركت صاحبي - يعني رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبا بكر - على جادة، فإن تركت جادتهما لم أدركهما في المنزل. "عب، ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تنگی معاش
35752 ۔۔۔ حسن (رح) سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کے پاس کسری بن ھرمزکا تاج لایا گیا ان کے سامنے رخھا گیا اور حاضرین میں سراقہ بن مالک تھے عمررضی العنہ نے دونوں کن گن لے کر سراقہ کی طرف پھینک دئیے انھوں نے ایک پہنا تو کندھے تک آگیا فرمایا الحمد اللہ کسیربن ھرمز کے کنگن سراقہ بن مالک بن جعشم بنی مدلج کے اعرابی کے پاس ہے پھر فرمایا اے اللہ مجھے معلوم ہے کہ آپکے رسول (علیہ السلام) اس پر حریص تھے ان کو مال ملے اور تیرے راستہ میں خرچ کرے اور تیرے بندوں پر خرچ کرے میں نے مال سے کنارہ کشی اخطیار کی آپ کی طرف دیکھتے ہوئے اور آپ کو اختیار کرتے ہوئے اے اللہ مجھے معلوم ہے کہ ابوبکر (رض) بھی مال سے محبت کرتے تاکہ اس کو آپ کے راستہ میں اور آپ کے بندوں پر خرچ کرے میں نے اس سے اعراض کیا اے اللہ میں آپ سے پناہ مگانگتا ہوں کہیں یہ عمر کے ساتھ مکروفریب نہ ہوپھریہ آیت تلاوت فرمائی۔
35752- عن الحسن أن عمر بن الخطاب أتي بفروة كسرى ابن هرمز فوضعت بين يديه، وفي القوم سراقة بن مالك فأخذ عمر سواريه فرمى بهما إلى سراقة، فأخذهما فجعلهما في يديه فبلغا منكبيه، فقال: الحمد لله! سواري كسرى بن هرمز في يدي سراقة بن مالك بن جشعم أعرابي من بني مدلج، ثم قال: اللهم! إني قد علمت أن رسولك قد كان حريصا على أن يصيب مالا ينفقه في سبيلك وعلى عبادك فزويت عنه ذلك نظرا منك وخيارا، اللهم! إني قد علمت أن أبا بكر كان يحب مالا ينفقه في سبيلك وعلى عبادك فزويت عنه ذلك، اللهم! إني أعوذ بك أن يكون هذا مكر منك بعمر، ثم تلاها: {أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ} الآية. "عبد ابن حميد وابن المنذر، ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تنگی معاش
35753 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہی کہ میں نے عمر (رض) سے پوچھا کہ آپ کا نام فاروق کس طرح رکھ گیا تو فرمایا حمزہ (رض) مجھ سے تین روز قبل مسلمان ہوتے میں مسجد کی طرف نکلا ابوجہل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زور سے گالیاں دے رہا تھا حمزہ (رض) کو اس کی اطلاع ہوئی تو اپنا کمان لے کر مسجد حرام آئے قریش کے اس حلقہ میں جس میں ابوجہل بھی موجود تھا اپنے کمان پر تکیہ لگاکر ابوجہل کے مدمقابل کھڑے ہوتے ابوجہل نے ان کے غصہ کو بھانپ لیاپوچھا اے ابوامارہ کیا ہوا ؟ کمان اٹھا کر اس کے ایک رخسار پر مارا اس کو خونبہنی لگاقریش نے ان میں صلح کروادی شر کے خوف سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رقم بن ابی الارقم مخزورمی کے گھر میں خفیہ طورپرقیام پذیر تھی حمزہ وہاں گئے اور مسلمان ہوگئے اس کے تین دن کے بعد میں اپنے گھر سے نکلا تو فلاں مخزومی سے میری ملاقات ہوئی میں نے کہا کیا تم نے اپنے دین اور اپنے آبائی دین سے اعراض کیا اور دین محمدی کی اتباع کرلی ہے ؟ تو انھوں نے کہا اگر میں نے ایسا کیا ہے تو اس نے بھی کیا جس کا تم پر مجھ سے زیادہ حق ہے پوچھا وہ کون ؟ بتایا تمہاری بہن اور تمہارے بہنوئی میں ان کے گھر پہنچا وہاں کچھ ہلکی آواز سنائی دی میں گھر میں داخل ہوا اور پوچھا یہ کیا ہے ہمارے درمیان بات بڑھتی گئی یہاں تک میں نے اپنے بہنوئی کا سرپکڑ لیا اس کو مار کر لہولہان کردیا میری بہن کھڑی ہوئی اور میرا سرپکڑ لیا اور کہا ایسا ہوا ہے اور تیری مرضی کے خلاف ہوا ہے جب میں نی اس کے چہرے پر خون دیکھا تو مجھے شرم آئی میں بیٹھ گیا اور اس سے کیا یہ کتاب مجھے دکھاؤ اس نے کہا یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کو بغیر وضو کے ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا میں نے اٹھ کر غسل کرلیا انھوں نے صحفیہ نکالا اس میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ تھا میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے نام پاکیزہ طیب طہ ماانزلنا علیک القرآن لتشقی سے الا سماء اللہ الحسنی تک اب میرے دل میں عظمت بیٹھ گئی میں نے کہا اسی کلام سے قریش بھاگتے ہیں میں نے اسلام قبول کرلیا میں نے پوچھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں ہیں بتایا دارالارقم میں ہیں میں وہاں پہنچا اور دروازہ کھٹکٹایا لوگ جمع ہوگئے ان سے حمزہ (رض) نے کہا تمہیں کیا ہوا ؟ بتایا عمر ہیں تو کہا ان کے لیے دروازہ کھولو اگر اسلام قبول کرلیا تو ہم بھی ان کی طرف سے قبول کرلیں گے اگر روگردانی کی تو ان کو قبل کردیں گے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ گفتگو سنی کمرہ سے باہر تشریف لائے میں نے کلمہ شہادت پڑھا تو گھر میں موجود افراد نے اس زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا کہ مسجد حرام میں بیٹھے لوگوں نے بھی سن لیا میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟ فرمایا ضرورحق پر ہیں میں نے کہا پھرچھپ کر کیوں دعوت کا عمل انجام دیں ؟ ہم دوصفوں میں نکلے ایک صف کے آگے میں تھا دوسرے میں حمزہ (رض) اس طرح مسجد حرام میں داخل ہوگئے قریش نے میری طرف اور حمزہ (رض) کی طرف دیکھا ان کو سخت حزن وملال لاحق ہوامیرانام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن سی فاروق رکھا اس دن سے حق و باطل کے درمیان فرق ظاہر ہوگیا۔ (ابونعیم فی الدئل ابن عساکر)
35753- عن ابن عباس قال: سألت عمر: لأي شيء سميت "الفاروق"! قال: أسلم حمزة قبلي بثلاثة أيام، فخرجت إلى المسجد فأسرع أبو جهل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يسبه، فأخبر حمزة، فأخذ قوسه وجاء إلى المسجد إلى حلقة قريش التي فيها أبو جهل، فاتكأ على قوسه مقابل أبي جهل فنظر إليه، فعرف أبو جهل الشر في وجهه فقال: مالك يا أبا عمارة؟ فرفع القوس فضرب بها أخدعيه فقطعه فسألت الدماء، فأصلحت ذلك قريش مخافة الشر، ورسول الله صلى الله عليه وسلم مختف في دار الأرقم بن أبي الأرقم المخزومي، فانطلق حمزة فأسلم، وخرجت بعده بثلاثة أيام فإذا فلان المخزومي! فقلت: أرغبت عن دينك ودين آبائك واتبعت دين محمد؟ قال: إن فعلت فقد فعله من هو أعظم عليك حقا مني! قلت: من هو؟ قال أختك وختنك! فانطلقت فوجدت همهمة فدخلت فقلت: ما هذا؟ فما زال الكلام بيننا حتى أخذت برأس ختني فضربته وأدميته، فقامت إلي أختي وأخذت برأسي وقالت: قد كان ذلك على رغم أنفك! فاستحييت حين رأيت الدماء فجلست وقلت: أروني هذا الكتاب، فقالت: إنه لا يمسه إلا المطهرون، فقمت فاغتسلت، فأخرجوا لي صحيفة فيها "بسم الله الرحمن الرحيم" قلت: أسماء طيبة طاهرة {طه مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى} إلى قوله: {الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى} فتعظمت في صدري وقلت: من هذا فرت قريش! فأسلمت وقلت: أين رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: فإنه في دار الأرقم، فأتيت فضربت الباب فاستجمع القوم فقال لهم حمزة: ما لكم؟ قالوا: عمر! قال: وعمر! افتحوا له الباب، فإن أقبل قبلنا منه، وإن أدبر قتلناه، فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج، فتشهدت فكبر أهل الدار تكبيرة سمعها أهل المسجد! قلت: يا رسول الله! ألسنا على الحق؟ قال: بلى! قلت: ففيم الاختفاء! فخرجنا صفين: أنا في أحدهما وحمزة في الآخر حتى دخلنا المسجد، فنظرت قريش إلي وإلى حمزة فأصابتهم كآبة شديدة، فسماني رسول الله صلى الله عليه وسلم "الفاروق" يومئذ وفرق بين الحق والباطل. "أبو نعيم في الدلائل، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی تنگی معاش
35754 ۔۔۔ ابواسحاق سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے کہا کہ جب سے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بےچھنا آٹاکھاتے ہوئے دیکھا ہمارے لیے کبھی آٹا نہیں چھنا گیا۔ (ابن سعد احمد فی الزھد)
35754- عن أبي إسحاق قال: قال عمر بن الخطاب: لا ينخل لنا دقيق بعد ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يأكل. "ابن سعد، حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35755 ۔۔۔ عمر (رض) کہتے ہیں کہ جب اسلام لایا تو میں نے دل میں چہا کہ اہل مکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ دشمنی رکھنے والا کون ہے ! کہا ابوجھل ہے چنانچہ اس کے دروازے پر آیا وہ باہر نکلا اور مجھے مرحبا کہا اور کہا خوش آمدید اے بھانجے کیسے آنا ہوا ؟ میں نے کہا اس لیے آیا ہوں تاکہ تمہیں بتلادوں میں مسلمان ہوچکاہوں اس نے میرے سامنے دروازہ پٹا اور کہا قبحک اللہ رقبح ماجنت بہ یعنی اللہ تجھے رسوا کرے اور جس مقصد کے لیے اس کو بھی ناکام بنائے۔ (المحاملی ، ابن عساکر)
35755- عن عمر قال: لما أسلمت تذكرت أي أهل مكة أشد عداوة لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: أبو جهل فأتيته حتى وقفت على بابه، فخرج إلي فرحب بي وقال: مرحبا وأهلا بابن أختي! ما جاء بك؟ قلت: جئت لأخبرك أني قد أسلمت! فضرب الباب في وجهي وقال: قبحك الله وقبح ما جئت به. "المحاملي، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35756 ۔۔۔ عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نفس کو بیت المال کے سلسلہ میں یتیموں کے سرپرست کی طرح رکھتا ہوں اگر ضرورت پڑے بقدر ضرورت لے لیتا ہوں جب دوسرے جگہ سے میری پاس مال آجاتا ہے پھر بیت المال میں واپسی کردیتاہوں جب میرے پاس مال ہوتا ہے تو بیت المال سے اپنے کو بچا کر رکھتاہوں۔ (عبدالرزاق وابن سعد سعید بن منصور ابن ابی شیبة عبدبن حمید ابن جریر ابن المنذر والنحاس فی ناسخہ)
35756- عن عمر قال: إني أنزلت نفسي من مال الله بمنزلة ولي اليتيم، إن احتجت أخذت منه بالمعروف، فإذا أيسرت رددته، فإن استغنيت استعففت. "عب وابن سعد، ص، ش وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر والنحاس في ناسخه، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35757 ۔۔۔ اقرع کہتا ہے عمر (رض) نے اسقف (یہودی عالم) کے پاس پیغام بھیجا کیا تم اپنی کتاب میں ہمارا تذکرہ پاتے ہو تو انھوں نے بتایا ہاں پوچھا کیسا تذکرہ ہے بتایا کہ لکھا ہوا اپنے لوہے کی سینگ سخت گیرا میرا پوچھا اس کے بعد کیا بات ہے ؟ کہا سچا خلیفہ اپنے قریب تر کو ترجیح دیتا ہے عمر (رض) نے فرمایا اللہ رحم فرمائے ابن عفان پر۔ (ابن ابی شیبة ونعیم بن حماد فی الفتن والاسکائی فی السنة)
35757- عن الأقرع قال: أرسل عمر إلى الأسقف فقال: هل تجدنا في كتابكم؟ قال: نعم، قال: فما تجدني؟ قال: قرن من حديد، أمير شديد، قال: فما تجد بعدي؟ قال: خليفة صدق يؤثر أقربيه، قال عمر: يرحم الله ابن عفان. "ش ونعيم بن حماد في الفتن واللالكائي في السنة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35758 ۔۔۔ اسلم سے منقول ہے کہ عمر (رض) رات کو نماز پڑھا کرتے تھے جتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق ہوتی پھر یہاں تک کہ جب آدھی رات گذرتی تو اپنے گھروالوں کو نماز کے لیے جگاتے اور ان سے کہتے الصلوة الصلوة یعنی نماز کا اہتام کرو نماز کا اہتمام کرو پھر یہ آیت تلاوت فرماتے وامر اھلک بالصلوة واصطبر علیھا لاتسئلک رزقا نحن نرزقک سے والعاقبة للتقوی تک۔ (مالک بیہقی)
35758- عن أسلم قال: كان عمر بن الخطاب يصلي من الليل ما شاء الله أن يصلي، حتى إذا كان نصف الليل أيقظ أهله للصلاة ثم يقول لهم: الصلاة الصلاة ويتلو هذه الآية: {وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لا نَسْأَلُكَ رِزْقاً نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَى} . "مالك، هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35759 ۔۔۔ قیس بن حجاج روایت کرتے ہیں اپنے سے حدیث بیان کرنے والے کے حوالہ سے جب عمروبن العاص نے مصر فتح کیا تو بونہ عجمی، مہینہ داخل ہونے کے بعد مصر کے باشندگان ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے امیر دریا نیل کی ایک عادت ہے اس کے بغیر یہ نہیں چلتا پوچھا کیا عادت ہے بتایا کہ جب اس مہینہ کی بارہ تاریخ گذر جاتی ہے تو ہم ایک حسین جمیل لڑکی جو اپنے والد کی نظر میں محبوب ہو تلاش کرتے ہیں تو والدین کو مال دے کر راضی کرکے اس کو حاصل کرتے ہیں پھر لڑکی کو پر کے زیورات سے آراستہ کرکے اس دریائے نیل کا حوالے کردیتے ہیں تو عمر (رض) کو کہا اسلام آنے کے بعد اس جاہلانہ ظالمانہ رسم پر عمل نہیں ہوسکتا اسلام اپنے ماقبل کی تمام غلط باتوں کو مٹاتا ہے اب دریا تین مہینے سے خشک ہے اس میں ایک قطرہ پانی نہیں یہاں تک مصر والوں نے انخلاء کا قصد کرلیا تو عمروبن العاص نے اس معاملہ کو دیکھا تو عمربن خطاب (رض) کے پاس خط لکھا تو عمر (رض) نے جواب میں لکھا کہ تم نے درست فیصلہ کیا ان الاسلام یھدم ماکان قبلہ میں آپ کے پاس ایک بطاقہ بھیج رہاہوں جب خط آپ کے پاس پہنچ جائے اس کو آپ دریائے نیل میں ڈال دیں جب خط عمرو بن عاص کے پاس پہنچا تو اس میں لکھا ہوا تھا ۔ من عبداللہ امیر المومنین الی نیل اہل مصر، اما بعد فان کنت تجری من قبلک فلاتجروان کان الواحد القھار یجر یک فسال اللہ الواحد القھاد ان یجریک ۔ یعنی یہ امیرالمومنین عمر (رض) کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کے نام ہے حمد و صلوة کے بعد اے دریا اگر تو اپنی مرضی سے چلتا ہے تو تو مت چل اگر تجھے اللہ واحد وقہار چلاتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ واحد وقہار سے درخواست کرتے ہیں کہ تجھے جاری کردیں۔ تو عمر وبن العاص نے یہ خط دریا کے حوالے کیا کا صلیت کے دن آنے سے ایک روز پہلے جب کہ اہل مصرجلاوطنی کے لیے تیار ہوچکے تھے کیونکہ ان کی تمام ضروریات کا مدار دریا نیل تھا جو خشک ہوچکا تو صلیب کے دن صبح اللہ تعالیٰ نے اس کو سولہ فٹ جاری کردیا اس طرح اہل مصر سے اس بری رسم کا خاتمہ کردیا۔ (ابن عبدالحکیم فی فتوح مصروابوالشیخ فی العظمہ ابن عساکر)
35759- عن قيس بن الحجاج عمن حدثه قال: لما فتح عمرو ابن العاص مصر أتى أهلها إليه حين دخل بؤنة من أشهر العجم، فقالوا له: أيها الأمير! إن لنيلنا هذا سنة لا يجري إلا بها، فقال لهم: وما ذاك؟ قالوا: إنه إذا كان لثنتي عشرة ليلة تخلو من هذا الشهر عمدنا إلى جارية بكر بين أبويها فأرضينا أبويها وجعلنا عليها شيئا من الحلي والثياب أفضل ما يكون ثم ألقيناها في هذا النيل، فقال لهم عمرو: إن هذا لا يكون في الإسلام وإن الإسلام يهدم ما قبله فأقاموا بؤنة وأبيب ومسرى لا يجري قليلا ولا كثيرا حتى هموا بالجلاء، فلما رأى ذلك عمرو كتب إلى عمر ابن الخطاب بذلك، فكتب إليه عمر: قد أصبت، إن الإسلام يهدم ما كان قبله، وقد بعثت إليك ببطاقة فألقها في داخل النيل إذا أتاك كتابي، فلما قدم الكتاب على عمرو فتح البطاقة فإذا فيها:

من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى نيل أهل مصر!

أما بعد فإن كنت تجري من قبلك فلا تجر، وإن كان الواحد القهار يجريك فنسأل الله الواحد القهار أن يجريك.

فألقى عمرو البطاقة في النيل قبل يوم الصليب بيوم وقد تهيأ أهل مصر للجلاء والخروج منها لأنه لا يقوم بمصلحتهم فيها إلا النيل، فأصبحوا يوم الصليب وقد أجراه الله ستة عشر ذراعا، وقطع تلك السنة السوء عن أهل مصر. "ابن عبد الحكم في فتوح مصر وأبو الشيخ في العظمة، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35760 ۔۔۔ حسن (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے کہا اے خباب جنات یعنی جنت کے باغات کے بارے میں بتائیں تو کہا حاں اے امیر المومنین اس میں کچھ محلات ہوں گے ان میں نبی سدیق شہید اور عادل حاکم ہی رہائش پذیرہوں گی تو عمر (رض) نے کہا کہ جہاں تک نبوت ہے تو اہ لنبوت کے پاس جو گذرگئے ۔ صدیق جس نے اللہ تعالیٰ اس کے رسول کی تصدیق کی ہے جہاں تک عادل حاکم کا تعلق ہے میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں ہر فیصلہ کے وقت مکمل انصاف سے کام لوں جہاں تک شہادت کا تعلق ہے شہادت عمر کی نصیب میں کہا ں۔ (ابن المبارک اور ابوذرہروی نے جامع میں نقل کیا)
35760- عن الحسن قال: قال عمر بن الخطاب: حدثني يا كعب عن جنات عدن! قال: نعم يا أمير المؤمنين! قصور في الجنة لا يسكنها إلا نبي أو صديق أو شهيد أو حكم عدل، فقال عمر: أما النبوة فقد مضت لأهلها، وأما الصديقون فقد صدقت الله ورسوله: وأما الحكم العدل فإني أرجو الله أن لا أحكم بشيء إلا لم آل فيه عدلا، وأما الشهادة فأنى لعمر بالشهادة. "ابن المبارك وأبو ذر الهروي في الجامع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35761 ۔۔۔ محمد بن سیربن کہتے ہیں کہ کعب نے عمر بن خطاب (رض) سے کہا کہ اے امیر المومنین آپ کو کوئی خواب نظر آیا ؟ تو عمر (رض) نے ان کو ڈانٹ پلائی اور کہا کہ ہم نے ایک آدمی پایا جو امت کے معاملات کو خواب میں دیکھتا ہے۔ (ابن المبارک ابن عساکر)
35761- عن محمد بن سيرين قال: قال كعب لعمر بن الخطاب: يا أمير المؤمنين! هل ترى في منامك شيئا؟ فانتهره، فقال: إنا نجد رجلا يرى أمر الأمة في منامه. "ابن المبارك، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35762 ۔۔۔ زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عمر (رض) ایک رات پہرہ داری کے لیے نکلے تو ایک گھر میں چراغ جلتا ہوا نظر آیا جب اس گھر کے قریب پہنچے تو دیکھا ایک بوڑھیا اپنا ایک شعرگنگھنا رہی ہے تاکہ اس پر غزل کہے وہ کہہ رہی تھی۔ علی محمد صلاة الابرار صلی علیک المصطفون الا خیار قد کنت قواما بکی الاسحار بالیت شعری والمنا یا اطوار ھل تجمعنی وجیبی الدار۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نیک لوگوں کی دعا ہو تجھ پر منتخب انبیاء کی دعا ہو توراۃ کو بیدار رہنے والا نے کاش مجھے معلوم ہوتاموت کا وقت کیا ہے موت مجھ میں اور میرے حبیب میں جمع کرے گی۔ حبیب سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں حضرت عمر (رض) وہیں بیٹھ کر رونے لگے مسلسل روتے رہے یہاں تک بوڑھیا کا دروازہ کھٹکھٹایا تو آواز آئی کون ؟ بتایا عمربن خطاب پوچھا اس وقت میرے دروازے پر عمربن خطاب کا کیا کام ؟ تو بتایا دروازہ کھولیں اللہ تجھ پر رحم فرماتے تیرا کوئی جرم نہیں اس نے دروازہ کھولا تو عمر (رض) نے کہا جو کلمات کہہ رہی تھیں ان کا اعادہ کریں اس نے دوبارہ سنایا تو جب آخری شعر پر پہنچی تو فرمایا میری دراخواست ہے کہ اپنی دعا میں مجھے بھی شامل کریں تو اس نے کہا وعمرفاغفرلہ یاغفار۔ اے غفار عمر (رض) کی مغفرت فرمایا یہ سن کر راضی ہوئے اور واپس ہوئے۔ (ابن المبارک ابن عساکر)
35762- عن زيد بن أسلم قال: خرج عمر بن الخطاب ليلة يحرس، فرأى مصباحا في بيت فدنا فإذا عجوز تطرق شعرا لها لتغزله - أي تنفشه بقدح وهي تقول:

على محمد صلاة الأبرار ... صلى عليك المصطفون الأخيار

قد كنت قواما بكى الأسحار ... يا ليت شعري والمنايا أطوار

هل تجمعني وحبيبي الدار

تعني النبي صلى الله عليه وسلم، فجلس عمر يبكي، فما زال يبكي حتى قرع الباب عليها، من هذا؟ قال: عمر بن الخطاب، قالت: مالي ولعمر؟ وما يأتي بعمر هذه الساعة؟ قال: افتحي - رحمك الله! فلا بأس عليك، ففتحت له فدخل فقال: ردي علي الكلمات التي قلت آنفا، فردتها عليه، فلما بلغت آخرها قال: أسألك أن تدخليني معكما، قالت:

وعمر فاغفر له يا غفار

فرضى ورجع. "ابن المبارك، كر".
tahqiq

তাহকীক: