কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৭৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35763 ۔۔۔ موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نبی حارثہ کے کنواں پر پہنچے وہاں محمد بن مسلمہ ملے تو عمر (رض) نے پوچھا احمد آپ مجھے کیسے پاتے ہیں ؟ تو جواب دیا اللہ کی قسم آپ کو اپنی پسند کا آدمی پاتاہوں اور آپ اپنے متعلق جس طرح کی خبر کو پسند کرتے ہیں اس طرح پاتاہوں میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ مال جمع کرنے میں قوی ہیں لیکن مال جمع کرنے سے دامن بچاتے ہیں مال تقسیم کرنے میں انصاف کرتے ہیں اگر اس میں جانب دار کریں تو ہم آپ کو ایسا سیدھاکریں جس طرح تیر کو سیدھا کرتے ہیں سوراخ میں عمر (رض) نے فرمایا کہ یہ بات دوبارہ کہو تو انھوں نے کہا اگر جانب داری سے کام لیا تو جس طرح تیر کو سوراخ میں سیدھا کیا جاتا ہے ایسا ہی سیدھاکریں گے تو عمر (رض) نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کی جس نے عمر (رض) کو اس قوم میں پیدا کیا اگر میں نیز ہا چلوں تو مجھے سیدھا کریں گے۔ (ابن المبارک)
35763- عن موسى بن أبي عيسى قال: أتى عمر بن الخطاب مشربة بني حارثة، فوجد محمد بن مسلمة فقال عمر: كيف تراني يا محمد؟فقال: أراك والله! كما أحب وكما تحب من يحب لك الخير، أراك قويا على جمع المال: عفيفا عنه، عدلا في قسمه، ولو ملت عدلناك كما يعدل السهم في الثقاب، فقال عمر: هاه! وقال: لو ملت عدلناك كما يعدل السهم في الثقاب؟ فقال: الحمد الله الذي جعلني في قوم إذا ملت عدلوني. "ابن المبارك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35764 ۔۔۔ عمر (رض) نے ایک شخص کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنارھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیاء مذکورا ) تو عمر (رض) نے کہا اے کاش آیت پوری ہوجاتی ۔ (ابن المبارک وابوعبیدنی فضا ئلہ وعبد بن حمید وابن منذر)
35764- عن عمر أنه سمع رجلا يقرأ: {هَلْ أَتَى عَلَى الْأِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً} فقال عمر: يا ليتها تمت. "ابن المبارك وأبو عبيد في فضائله وعبد بن حميد وابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35765 ۔۔۔ عبداللہ بن ابراہیم کہتے ہیں مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سب سے پہلے کنکر بچھانے والے عمر (رض) ہیں لوگ جب سجدہ سے سر اٹھاتے ہاتھوں کو جھاڑتے تھے تو عمر (رض) نے کنکر بچھانے کا حکم دیاتو مقام عقیق سے کنکر لائے گئے اور مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بچھائے گئے۔ (ابن سعد)
35765- عن عبد الله بن إبراهيم قال: أول من ألقى الحصى في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر بن الخطاب وكان الناس إذا رفعوا رؤوسهم من السجود نفضوا أيديهم، فأمر عمر بالحصى، فجيء به من العقيق، فبسط في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35766 ۔۔۔ محمد بن سیربن کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے فرمایا کہ میں خالدبن ولید اور محمد بن متنی بنی شیبان کو معزول کردوں گا تاکہ ان دونوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد فرماتے ہیں وہ دونوں مدد نہیں کرتے ۔ (ابن سعد)
35766- عن محمد بن سيرين قال: قال عمر بن الخطاب: لأعزلن خالد بن الوليد والمثنى مثنى بني شيبان حتى يعلما أن الله إنما كان ينصر عباده وليس إياهما كان ينصر. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا اظہار اسلام
35767 ۔۔۔ اسلم سے منقول ہے کہ میں نے عمربن خطاب کو دیکھا کہ ایک ہاتھ سے گھوڑے کا کان پکڑتے دوسرا ہاتھ اپنے کان پر رکھتے یا اس طرح گھوڑے کی پیٹ پر سوار ہوجاتے ۔ (ابن سعدابونعیم فی المعرفہ)
35767- عن أسلم قال: رأيت عمر بن الخطاب يأخذ بأذن الفرس ويأخذ بيده الأخرى أذنه ثم ينزو على متن الفرس. "ابن سعد وأبو نعيم في المعرفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
35768 ۔۔۔ راشد بن سعد سے منقول ہے کہ عمربن خطاب (رض) کے پاس کچھ مال لایا گیا لوگوں میں تقسیم فرمانا شروع کیا لوگ ہجوم کررہے تھے سعدبن ابی وقاص بھی ہجوم میں داخل ہوئے یہاں تک ان کے پاس پہنچ گئے تو عمر (رض) نے ان کو درہ لگایا اور فرمایا کیا تم یہاں پہنچ گئے زمین میں اللہ کے خلیفہ سے نہیں ڈرتے میں نے چاہا تمہیں بتلا دوں اللہ کا خلیفہ زمین میں کسی سے نہیں ڈرتا۔ (ابن سعد)
35768- عن راشد بن سعد أن عمر بن الخطاب أتي بمال فجعل يقسمه بين الناس فازدحموا عليه فأقبل سعد بن أبي وقاص يزاحم الناس حتى خلص إليه، فعلاه عمر بالدرة وقال: إنك أقبلت لا تهاب سلطان الله في الأرض فأحببت أن أعلمك أن سلطان الله لن يهابك. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
35769 ۔۔۔ عکرمہ (رض) سے منقول کہ ایک نائی حضرت عمر (رض) کے بال بنارہا تھا چونکہ وہ بارعب آدمی تھے انھوں نے گلاکنکھارا تو نائی کو حدث لاحق ہوگیا حضرت عمر (رض) نے حکم دیا اس کو چالیس دراھم دئیے جائیں۔ (ابن احمد خطیب بغدادی )
35769- عن عكرمة أن حجاما كان يقص عمر بن الخطاب وكان رجلا مهيبا، فتنحنح عمر فأحدث الحجام، فأمر له عمر بأربعين درهما. "ابن سعد، خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
35770 ۔۔۔ محمد بن زید سے منقول ہے حضرت علی (رض) عثمان زبیر طلحہ عبدالرحمن بن عوف سعدیہ سارے اکٹھے ہوئے عمر (رض) کے سامنے ان میں سب سے زیادہ جرات والے عبدالرحمن بن عوف تھے سب نے کہا اے عبدالرحمن اگر آپ امیر المومنین سے بات کرتے لوگوں کے متعلق کہ کوئی ضرورت مند آتا ہے تمہاری ہیبت اس کے لیے مانع ہوتی ہے وہ اپنی ضرورت بیان نہیں کرپاتا اس لیے ضرورت پوری کئے بغیر واپس چلاجاتا ہے تو عبدالرحمن (رض) ان کے پاس گئے اور ان سے بات کی کہ اے امیر المومنین لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے کیونکہ لوگ اپنی حاجت لے کر آپ کی خدمت میں آتے ہیں لیکن آپ کی ہیبت مانع ہونے کی بناپر آپ سے حاجت پوری کئے بغیر واپس چلے جاتے ہیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے عبدالرحمن آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تمہیں علی عثمان طلحہ زبیر اور سعد (رض) نے اس کا حکم دیا ہے ؟ تو انھوں نے بتایا ہاں تو عمر (رض) نے فرمایا کہ اے عبدالرحمن میں نے لوگوں سے اتنی نرمی کی کہ یہاں تک مجھے خوف ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس نرمی پر گرفت نہ فرمائے پھر میں نے سختی کی اور ان پر یہاں تک مجھے خوف ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس شخص پر گرفت نہ فرمائیں اب کونسا راستہ اختیار کیا جائے عبدالرحمن (رض) روتے ہوئے اپنی چادر گھسٹتے ہوئے نکلے یہ کہتے ہوئے کہ معاملہ اسی کے ہاتھ میں تیرے بعد ان کے لیے ہلاکت ہے۔ (ابن سعد ، ابن عساکر)
35770- عن محمد بن زيد قال: اجتمع علي وعثمان والزبير وطلحة وعبد الرحمن بن عوف وسعد وكان أجرأهم على عمر عبد الرحمن بن عوف فقالوا: يا عبد الرحمن! لو كلمت أمير المؤمنين للناس! فإنه يأتي الرجل طالب الحاجة فتمنعه هيبتك أن يكلمك في حاجته حتى يرجع ولم يقض حاجته، فدخل عليه فكلمه فقال: يا أمير المؤمنين! لن للناس، فإنه يقدم القادم فتمنعه هيبتك أن يكلمك في حاجته حتى يرجع ولم يكلمك، فقال: يا عبد الرحمن! أنشدك الله أعلي وعثمان وطلحة والزبير وسعد أمروك بهذا؟ قال: اللهم نعم، قال: يا عبد الرحمن! والله لقد لنت للناس حتى خشيت الله في اللين! ثم اشتددت عليهم حتى خشيت الله في الشدة، فأين المخرج؟ فقام عبد الرحمن يبكي يجر رداءه يقول بيده: أف لهم بعدك. "ابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
35771 ۔۔۔ سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ مال غنیمت کا ایک اونٹ زخمی ہوگیا اس کو ذبح کروکر حضرت عمر (رض) نے اس میں سے کچھ ازواج مطہرات کے پاس بھیج دیاباقی سے کھاتاتیار کروایا مسلمانوں کو کھانے کی دعوت دی اس دن ان میں عباس بن عبدلامطلب (رض) تھے تو عباس (رض) نے کہا اے امیر المومنین اگر آپ روزانہ ایسا کھانا تیار کرواتے اور ہم آپ کے پاس بیٹھ کر کھاتے اور آپ ہم سے بات چیت کرتے تو عمر (رض) نے فرمایا آئندہ کبھی اس طرح نہیں کرونگا مجھ سے پہلے دو راہنما گذرچکے ہیں یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر صدیق ان کا عمل اور ان کا طریقہ واضح ہے اگر میں ان کے عمل کے خلاف کوئی عمل کروں گا تو ان کا راستہ چھوٹ جائے گا۔ (ابن سعد ومسد وابن عساکر)
35771- عن سعيد بن المسيب قال: أصيب بعير من المال من الفيء فنحره عمر وأرسل إلى أزواج النبي صلى الله عليه وسلم منه، وصنع ما بقي طعاما فدعا عليه من المسلمين وفيهم يومئذ العباس بن عبد المطلب فقال العباس: يا أمير المؤمنين! لو صنعت لنا في كل يوم مثل هذا فأكلنا عندك وتحدثنا! فقال عمر: لا أعود لمثلها، إنه مضى صاحبان لي - يعني النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر - عملا عملا وسلكا طريقا، وإني إن عملت بغير عملهما سلك بي طريق غير طريقهما. "ابن سعد ومسدد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35772 ۔۔۔ ابی سعید مولی ابی اسید روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) عشاء کے بعد مسجد سے جاتے تھے اس میں جو شخص نظر آتا اس کو نکال دیتے سوائے کوئی کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہا ہو تو ایک مرتبہ ان کا ایک جماعت پر گذر ہوا ان میں ابی بن کعب بھی تھے پوچھایہ کون لوگ ہیں تو ابی نے بتایا اے امیر المومنین آپ کے ساتھیوں کی ایک جماعت ہے پوچھا کہ تم نماز کے بعد کیوں رک گئے تو انھوں نے بتایا ہم ذکر اللہ کے لیے بیٹھے ہیں تو حضرت عمر (رض) خودبھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے پھر اپنے قریب ترین شخص سے کہا یہ لے لو ایک ایک شخص کو ٹٹولتا رہا یہاں تک مجھ تک پہنچ گئے میں ان کے پہلوں میں تھا تو فرمایا لاؤ میری آواز بند ہوگئی اور مجھ پر کپکپی سختی سے طاری ہوگئی یہاں تک کہ انھوں نے اس کو محسوس کیا تو فرمایا اگر آپ کہتے اللھم اغفرلنا اللھم ارحمنا پھر عمر (رض) نے رونا شروع کیا قوم میں ان سے زیادہ آنسو بہانے والا زیادہ رونے والا کوئی نہیں تھا پھر فرمایا اس وقت منتشر ہوجاؤ۔ (ابن سعد)
35772- عن أبي سعيد مولى أبي أسيد قال: كان عمر بن الخطاب يعس المسجد بعد العشاء فلا يرى فيه أحدا إلا أخرجه إلا رجلا قائما يصلي، فمر بنفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم أبي ابن كعب فقال: من هؤلاء؟ فقال أبي: نفر من أهلك يا أمير المؤمنين! قال: ما خلفكم بعد الصلاة؟ قالوا: جلسنا نذكر الله، قال فجلس معهم ثم قال لأدناهم إليه: خذ قال فدعا فاستقرأهم رجلارجلا يدعون حتى انتهى إلي وأنا إلى جنبه فقال: هات فحصرت وأخذني من الرعدة أفكل 1 حتى جعل يجد مس ذلك مني فقال: ولو أن تقول: اللهم اغفر لنا! اللهم ارحمنا! قال ثم أخذ عمر فما كان في القوم أكثر دمعة ولا أشد بكاء منه، ثم قال: إيها الآن فتفرقوا. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35773 ۔۔۔ ابی وجزہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ عمربن خطاب (رض) نے بقیع کو چراگاہ بنایا تھا مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے رہذہ اور شرف کو صدقات کے اونٹ کے لیے ہر سال تیس ہزار اونٹ کا بوجھ اللہ کی راہ میں تقسیم فرماتے ۔ (ابن سعد)
35773- عن أبي وجزة عن أبيه قال: كان عمر بن الخطاب يحمي النقيع لخيل المسلمين ويحمي الربذة والشرف لإبل الصدقة ويحمل على ثلاثين ألف بعير في سبيل الله كل سنة. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35774 ۔۔۔ سائب بن یزد کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) کے پاس گھوڑا دیکھا جس کے ران پر نشان لگا ہوا تھا جو اللہ کی راہ میں بندھا ہوا تھا۔(ابن سعد)
35774- عن السائب بن يزيد قال: رأيت خيلا عند عمر ابن الخطاب موسومة في أفخاذها، حبيس في سبيل الله. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35775 ۔۔۔ سائب بن یزید سے منقول ہے کہ میں نے عمربن خطاب کو دیکھا کہ ایک دن ان گھوڑوں کا سامان تیار کر ہے ہیں جن پر اللہ کی راہ میں مجاہدین کو سوار کرنا ہے ان کا زین اور بالان وغیرہ جب کسی آدمی کو اونٹ سواری کے لیے دیتے تو سامان سمیت دیتے تھے ۔ (ابن سعد)
35775- عن السائب بن يزيد قال: رأيت عمر بن الخطاب السنة يصلح أداة الإبل التي يحمل عليها في سبيل الله براذعها وأقتابها، فإذا حمل الرجل على البعير جعل معه أداته. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35776 ۔۔۔ سفیان بن ابی العوجاء کہتے ہیں کہ عمربن خطاب (رض) نے کہا اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ ہوں اگر میں بادشاہ ہوں تو یہ بہت بڑا معاملہ ہے ایک شخص نے کہا کہ اے امیر المومنین دونوں میں فرق ہے پوچھاوہ کیا بتایا خلیفہ مال نہیں لیتا مگر حق طریقہ سے اور مال نہیں خرچ کرتا مگر حق جگہ پر آپ بحمد اللہ تعالیٰ ایسا ہی ہیں بادشاہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے اس سے (ظلما) لے کر اس کو دیتا ہے اس پر عمر (رض) خاموش ہوگئے ۔ (ٕابن سعد)
35776- عن سفيان بن أبي العوجاء قال: قال عمر بن الخطاب: والله ما أدري أخليفة أنا أم ملك؟ فإن كنت ملكا فهذا أمر عظيم، قال قائل: يا أمير المؤمنين! إن بينهما فرقا، قال: ما هو؟ قال: الخليفة لا يأخذ إلا حقا ولا يضعه إلا في حق، فأنت بحمد الله كذلك، والملك يعسف الناس فيأخذ من هذا ويعطي هذا، فسكت عمر. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35777 ۔۔۔ سلمان فارسی (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) نے ان سے پوچھا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ تو سلمان (رض) نے کہا کہ اگر آپ نے فلسطین کی سرزمین ایک درھم یا اس سے کم زیادہ لے کرنا حق خرچ کیا تو آپ بادشاہ ہیں خلیفہ نہیں حضرت عمر (رض) کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ (ابن سعد)
35777- عن سلمان أن عمر قال له: أملك أنا أم خليفة؟ قال له سلمان: إن أنت جبيت من أرض المسلمين درهما أو أقل أو أكثر ثم وضعته في غير حقه فأنت ملك غير خليفة، فاستعبر عمر. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35778 ۔۔۔ ابی مسعود (رض) انصاری فرماتے ہیں ہم اپنی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ایڑھ لگاتا ہوا دوڑ رہا تھا یہاں تک قریب تھا کہ ہمیں روندڈالتا اس کی وجہ سے ہم اکٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئی تو دیکھا عمربن خطاب ہیں ہم نے کہا اے امیر المومنین آپ کے بعدکون ہوگا پوچھا تمہیں کیا چیز بری لگی مجھے کچھ نشط محسوس ہوا میں نے گھوڑے پر سوار ہو کر ایڑھ لگائی۔ (ابن سعد)
35778- عن أبي مسعود الأنصاري قال: كنا جلوسا في نادينا فأقبل رجل على فرس يركضه يجري حتى كاد يوطئنا، فارتعنا لذلك وقمنا فإذا عمر بن الخطاب! فقلنا: من بعدك يا أمير المؤمنين؟ قال: وما أنكرتم! وجدت نشاطا فأخذت فرسا فركضته. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35779 ۔۔۔ ابی امامہ بن سہل بن حنیف سے منقول ہے کہ عمر (رض) ایک زمانہ تک بیت الما سے کچھ بھی نہیں لیتے تھے یہاں تک ان کو اس کی حاجت ہوئی کہ لوگ بیت المال سے کچھ لیں تو انھوں نے صحابہ کرام کو مشورہ کے لیے جمع فرمایا اور ان سے کہا کہ میں نے اپنے کو دین کے کام کے لیے مشغول کیا ہے میں اس میں سے کتنا لے سکتا ہوں عثمان بن عفان نے مشورہ دیا کہ خود کھائیں (اپنے گھروالوں کو) کھلائیں سعید بن زید بن عمروبن نفیل نے بھی یہی جواب دیاعلی (رض) سے پوچھا اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ تو فرمایا صبح اور شام کے کھانی کی بقدر عمر (رض) نے اسی پر عمل کیا ۔ (ابن سعد)
35779- عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال: مكث عمر زمانا لا يأكل من المال شيئا حتى دخلت عليه في ذلك خصاصة، وأرسل إلى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستشارهم فقال: قد شغلت نفسي في هذا الأمر فما يصلح لي منه؟ فقال عثمان بن عفان: كل وأطعم، قال وقال ذلك سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، وقال لعلي: ما تقول أنت في ذلك؟ قال: غداء وعشاء قال، فأخذ بذلك عمر. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35780 ۔۔۔ سعید بن مسیّب سے منقول ہے کہ عمر (رض) نے صحابہ کرام (رض) سے مشہورہ فرمایا : اور کہا اللہ کی قسم خلافت کی ذمہ داری میرے اوپر اس طرح آگئی جیسے کبوتر کے گلے کا طوق اب میں بیت المال سے کتنا خرچہ لے سکتا ہوں علی (رض) نے فرمایا جو صبح وشام کے کھانے کے لیے کافی ہو تو عمر (رض) نے فرمایا سچ بتایا ۔ (ابن سعد)
35780- عن سعيد بن المسيب أن عمر استشار أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال: والله لأطوقنكم من ذلك طوق الحمامة! ما يصلح لي من هذا المال؟ فقال علي: غداء وعشاء، قال: صدقت. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35781 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) اپنے لیے اور گھروالوں کے لیے (بیت المال سے ) مقدار کفاف خوراک لیتے اور گرمی میں کپڑے کا جوڑا لیتے بسا اوقات لنگی پھٹ جاتی اس میں پیوندلگالیتے لیکن وقت آنے سے پہلے دوسری نہ لیتے تھے جس سال مال زیادہ آتا پچھلے سال سے کم درجہ کا جوڑا لیتے اس سلسلہ میں حفصہ نے بات کی تو فرمایا میں مسلمانوں کے مال سے جوڑا لے رہاہوں یہ جوڑا میرے لیے کافی ہے۔ (ابن سعد)
35781- عن ابن عمر قال: كان عمر يقوت نفسه وأهله ويكتسي الحلة في الصيف ولربما خرق الإزار حتى يرقعه فما يبدل مكانه حتى يأتي الإبان ، وما من عام يكثر فيه المال إلا كسوته فيما أرى أدنى من العام الماضي، فكلمته في ذلك حفصة فقال: إنما أكتسي من مال المسلمين وهذا يبلغني. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا رعب
35782 ۔۔۔ محمد بن ابراہیم نے بیان کیا کہ عمربن خطاب (رض) اپنے اور اپنے گھروالوں پر دو دراھم خرچ کرتے اور حج میں کل ایک سو اسی دراہم خرچ کئے۔ (ابن سعد)
35782- عن محمد بن إبراهيم قال: كان عمر بن الخطاب يستنفق كل يوم درهمين له ولعياله وإنه أنفق في حجته ثمانين ومائة درهم. "ابن سعد".
তাহকীক: