কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৭৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35783 ۔۔۔ ابن زبیر نے بیان کیا کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے حج میں صرف ایک سو اسی دراھم خرچ کئی اور ہم نے اس مال میں بہت اسراف کیا۔ (ابن سعد)
35783- عن ابن الزبير قال: أنفق عمر في حجته ثمانين ومائة درهم وقال: قد أسرفنا في هذا المال. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35784 ۔۔۔ ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ عمر (رض) نے حج میں سولہ دینار خرچ کئے پس اے عبداللہ بن عمر ہم نے اس مال میں بہت اسرف کیا اور کہا یہ پہلے کے برابر ہے اس لیے کہ ایک دینار بارہ دراھم کے براب رہے۔ (ابن سعد)
35784- عن ابن عمر أن عمر أنفق في حجته ستة عشر دينارا، فقال: يا عبد الله ابن عمر! أسرفنا في هذا المال، قال: وهذا مثل الأول على صرف اثني عشر درهما بدينار. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35785 ۔۔۔ ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری (رض) نے عمر (رض) کی بیوی عاتکہ بنت زید بن عمروبن نفیل کو ایک چٹائی ھدیہ دی جو ایک ہاتھ ایک بالشت ہوگا عمر (رض) آئے اس کو دیکھ کر پوچھا یہ کہاں سے آئی بتایا یہ ابوموسیٰ نے ہدیہ دی ہے عمر (رض) نے اس کو لے کر بیوی کے سرپر مارا یہاں تک ان پوپریشان کردیا پھر فرمایا ابوموسیٰ کو بلاکرلاؤ اور ان کو سزادو ان کو لایا گیا ان کو سزاد دینا شروع کی تو عرض کیا اے امیر المومنین سزا میں جلدی نہ کریں تو پوچھا تم نے میری بیوی کو کس مقصد سے ہدیہ دیاپھرعمر (رض) نے وہ لے کر اس کے سرپرمارا اور کہا اپنی چیز لیجاؤ ہمیں اس کی کوئی حاجت نہیں۔ (ابن سعد ابن عساکر)
35785- عن ابن عمر قال: أهدى أبو موسى الأشعري لامرأة عمر عاتكة بنت زيد بن عمرو بن نفيل طنفسة أراها تكون ذراعا وشبرا، فدخل عليها عمر فرآها فقال، أنى لك هذه؟ قالت: أهداها لي أبو موسى الأشعري، فأخذها عمر فضرب بها رأسها حتى نغض ، ثم قال: علي بأبي موسى الأشعري وأتعبوه، فأتي به قد أتعب وهو يقول: لا تعجل علي يا أمير المؤمنين! فقال عمر: ما يحملك على أن تهدي لنسائي؟ ثم أخذها عمر فضرب بها فوق رأسه وقال: خذها فلا حاجة لنا فيها. "ابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35786 ۔۔۔ ابی بردہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ عوف بن مالک نے خواب میں دیکھا کہ لوگ یک مٹی میں جمع ہوئے ہیں ان میں ایک شخص تین بالشت اونچائی پر تھا میں نے پوچھا یہ کون ؟ لوگوں نے بتایا عمر میں خطاب میں نے پوچھا یہ اونچائی پر کیوں ہے ؟ لوگوں نے بتایا میں تین خصلتیں ہیں اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے وہ شہید ہیں ان کی شہدات شہر میں ہوگی وہ خلیفہ ہیں جنہیں خلافت شپرد کی گئی عوف ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور خواب بیان کیا تو انھوں نے عمر (رض) کو بلوایا ان کو خوشخبری سنائی ابوبکر (رض) نے فرمایا اپنا خواب بیان کروتو انھوں نے عمر (رض) کے سامنے دوبارہ بیان کیا جب کہا خلیفہ مستخلف تو عمر (رض) نے ڈانٹا اور خاموش کروایا جب عمر (رض) چلے گئے تو عوف (رض) سے کہا خواب بیان کروتو انھوں نے نے پورا خواب بیان کیا تو فرمایا جہاں تک تعلق اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملہ میں کسی سے نہ ڈرنے کا ہے مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے بنائیں گے اور جہاں تعلق ہے خلیفہ مستخلف میں نے ان کو اپنا خلیفہ بنالیا ہے میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہوں خلافت کے سلسلہ میں میری مدد فرماتے جہاں تک شہید مستشھد یہ میرے نصیب میں کہاں ؟ میں تو جزیرة العرب کے درمیان میں ہوں میں جہاد میں نہیں جاتامگر لوگ میرے گرد ہوتے ہیں پھر فرمایا ہائے میری ہلاکت ہائے میری ہلاکت اگر اللہ چاہا تو شہادت کے مرتبہ پر فائز فرمائیں گے۔ (ابن سعد ابن عساکر)
35786- عن أبي بردة عن أبيه قال: رأى عوف بن مالك أن الناس قد جمعوا في صعيد واحد فإذا رجل قد علا الناس بثلاثة أذرع! قلت: من هذا؟ قالوا: عمر بن الخطاب، قلت: بما يعلوهم؟ قالوا: إن فيه ثلاث خصال: لا يخاف في الله لومة لائم، وإنه شهيد مستشهد، وخليفة مستخلف، فأتى عوف أبا بكر فحدثه، فبعث إلى عمر فبشره، فقال أبو بكر: قص رؤياك، فقصها، فلما قال: خليفة مستخلف انتهره عمر فأسكته، فلما ولى عمر قال لعوف: اقصص رؤياك، فقصها، فقال؟ أما لا أخاف في الله لومة لائم فأرجو أن يجعلني الله فيهم، وأما خليفة مستخلف فقد استخلفت فأسأل الله أن يعينني على ما ولاني، وأما شهيد مستشهد فأنى لي الشهادة وأنا بين ظهراني جزيرة العرب لست أغزو والناس حولي! ثم قال: ويلي! ويلي! يأتي الله بها إن شاء الله تعالى. "ابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35787 ۔۔۔ سعد الجاری مولی عمربن خطاب سے منقول ہے کہ انھوں نے ام کلثوم بنت علی بن ابن طالب کو بلایا جوان کے نکاح میں تھیں ان کونے کی حالت میں پایا پوچھاکیوں رو رہی ہے تو بتایا اے امیر المومنین یہ یہودی یعنی کعب الاحبار کہتا ہے کہ آپ جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ پر ہیں تو عمر (رض) نے فرمایا ماشاء اللہ اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سعید پیدا فرمایا ہے پھر کعب کو بلوایا جب کعب آگئے تو کہا اے امیر المومنین میرے بارے میں فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کریں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ذوالحجہ گذرتے ہی آپ جنت میں داخل ہوں گے عمر (رض) نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے کبھی جنت میں داخل ہونے کی بات کرتے ہو کبھی جہنم میں بتایا اے امیرالمومنین قسم ہے اس ذا کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ہم اپنی کتاب میں آپ کے اوصاف میں یہ پاتے میں کہ آپ جہنم کے دروازے پر کھڑے ہو کر لوگوں کو جہنم میں داخل ہونے سے روکیں گے جب آپ کا انتقال ہوگا لوگ جہنم میں گھسے چلے جائیں گے قیامت تک ۔ (ابن سعد وابوالقاسم بن بشران فی المالیہ)
35787- عن سعد الجاري مولى عمر بن الخطاب أنه دعا أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب وكانت تحته فوجدها تبكي، فقال: ما يبكيك؟ فقالت: يا أمير المؤمنين! هذا اليهودي - تعني كعب الأحبار - يقول: إنك على باب من أبواب جهنم! فقال عمر: ما شاء الله! والله إني لأرجو أن يكون ربي خلقني سعيدا! ثم أرسل إلى كعب فدعاه، فلما جاءه كعب قال: يا أمير المؤمنين! لا تعجل علي، والذي نفسي بيده لا ينسلخ ذو الحجة حتى تدخل الجنة: فقال عمر: أي شيء هذا مرة في الجنة ومرة في النار؟ فقال: يا أمير المؤمنين! والذي نفسي بيده! إنا لنجدك في كتاب الله على باب من أبواب جهنم تمنع الناس أن يقعوا فيها، فإذا مت لم يزالوا يقتحمون فيها إلى يوم القيامة. "ابن سعد وأبو القاسم بن بشران في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35788 ۔۔۔ ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ عمر (رض) نے ایک لشکر روانہ فرمایا ان پر ایک شخص کو امیر مقرر فرمایا جس کو ساریہ کہا جاتا تھا اس کے بعد ایک روز عمر (رض) خطبہ دے رہے تھے اس دوران پکاراسارا الجبل تین مرتبہ یہ آواز لگائی اس کے بعدلشکر کا قاصد آیا اس سے عمر (رض) نے حالات دریافت کئے تو اس نے بتایا کہ ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو اہم شکست کھا رہے تھے اچانک ایک آواز سنائی دی یاساریہ الجبل تین مرتبہ ہم نے اپنی پشت پہاڑ کی طرف کرلی اس طرح اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی تو عمر (رض) سے پوچھا گیا آپ یہ آواز لگا رہے تھے۔ (ابن الاعرابی نے کرامات الاولیاء میں دیرعا قولی نے فوائد میں ابوعبدالرحمن اسلمی نے اوبین میں ابونعیم وعقیلی نے اکٹھا دلائل میں ولالکائی نے السنہ میں ابن عساکر حافظ ابن حجر نے اصابہ میں فرمایا اس کی سند حسن ہے)
35788- عن ابن عمر قال: وجه عمر جيشا وأمر عليهم رجلا يدعى سارية فبينما عمر يخطب يوما جعل ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، ثم قدم رسول الجيش فسأله عمر، فقال: يا أمير المؤمنين! لقينا عدونا فهزمنا، فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتا ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم الله، فقيل لعمر: إنك كنت تصيح بذلك. "ابن الأعرابي في كرامات الأولياء والديرعاقولي في فوائده وأبو عبد الرحمن السلمي في الأربعين وأبو نعيم عق معا في الدلائل واللالكائي في السنة، كر، قال الحافظ ابن حجر في الإصابة: إسناده حسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35789 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) خطبہ دے رہے تھے اس دوران آواز لگائی کہ یاسایہ الجبل جس نے بھیڑیا کو چرایا ظلم کیا یہ آواز سن کر لوگ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے علی (رض) نے ان سے کہا اس طرف توجہ چھوڑ دو خطبہ سے فراغت کے بعد لوگوں نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ میرے دل میں آیا کہ مشرکین نے ہمارے لشکر کو شکست دی اور ایک پہاڑ کے قریب سے گذر رہے ہیں اگر وہ مڑکرپہاڑ کی طرف آجائیں تو صرف ایک جانب سے قتال کرنا ہوگا اگر پہار پار کرگئے تو ہلاک ہوگئے تو میری زبان سے وہ الفاظ نکلے جو تمہارے خیال کے مطابق تم نے اسنے ایک ماہ بعد قاصد آیا اور انھوں نے بتایا کہ ہم نے اسی دن عمر (رض) کی آواز سنی ہم پہاڑ کی طرف ہوگئے اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی۔ (السلمی فی الاربعین وابن مردویہ)
35789- عن ابن عمر قال: كان عمر يخطب يوم الجمعة فعرض في خطبته أن قال: يا سارية الجبل! من استرعى الذئب ظلم؛ فالتفت الناس بعضهم إلى بعض فقال لهم علي: ليخرجن مما قال! فلما فرغ سألوه، فقال: وقع في خلدي أن المشركين هزموا إخواننا وأنهم يمرون بجبل، فإن عدلوا إليه قاتلوا من وجه واحد، وإن جازوا هلكوا؛ فخرج مني ما تزعمون أنكم سمعتموه، فجاء البشير بعد شهر فذكر أنهم سمعوا صوت عمر في ذلك اليوم، قال: فعدلنا إلى الجبل ففتح الله علينا. "السلمي في الأربعين وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35790 ۔۔۔ عمروبن حارث سے منقول ہے کہ عمر (رض) خطبہ دے رہے تھے جمعہ کے دن اچانک خطبہ چھوڑیا اور کہا یا ساریہ اجبل دویازمین مرتبہ پھر خطبہ کی طرف متوجہ ہوئے بعض حاضرین نے کہا ان پر شاید جن حاضر ہوگیا جنون طاری ہوگیا خطبہ کے بعد عبدالرحمن بن عوف (رض) داخل ہوئے آپ کو مطمئن پایا تو پوچھا آپ کچھ نفس سے بھی یا تیں کرتے ہیں کیونکہ آپ خطبہ کے دوران چیخ کر کہہ رہے تھے یاسارا اجبل اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو فرمایا بخدا یہ میرے اختیار میں نہیں تھا میں نے لشکر کو پہاڑ کے قریب دشمن سے لڑتے دیکھا ان پر سامنے اور پیچھے دونوں جانب سے حملے ہورہے تھے حتی کہ میں نے ان کو یہ ہدایت دی کہ یاسایہ الجبل تاکہ لشکر کو پہاڑ کی جانب لے جائے کچھ ہی دنوں کے بعد ساریہ کا قاص آیا ساریہ کا خط لے کر اس میں مذکورہ تھا کہ دشمن نے جمعہ کے دن ہم سے قتال کیا ہم نے مقابلہ کیا یہاں تک جمعہ کا وقت ہوگیا ہم نے ایک آواز سنی یاساریہ الجبل دو مرتبہ ہم پہاڑ کی جانب ہوگئے اب ہم برابر غلبہ حاصل کرتے رہے یہاں تک اللہ تعالےٰ نے دشمن کو شکست دی اور ان کو قتل کیا بتایا ان لوگوں نے حضرت عمر (رض) پر طعن کیا کہ اس آدمی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ تکلیف سے کام لیتا ہے۔ (ابونعیم فی الدلائل)
35790- عن عمرو بن الحارث قال: بينما عمر يخطب يوم الجمعة إذ ترك الخطبة فقال: يا سارية الجبل - مرتين أو ثلاثا، ثم أقبل على خطبته، فقال بعض الحاضرين: لقد جن، إنه لمجنون؛ فدخل عليه عبد الرحمن بن عوف وكان يطمئن إليه فقال: إنك لتجعل لهم على نفسك مقالا، بينا أنت تخطب إذ أنت تصيح: يا سارية الجبل، أي شيء هذا؟ قال: والله إني ما ملكت ذلك! رأيتهم يقاتلون عند جبل يؤتون من بين أيديهم ومن خلفهم فلم أملك أن قلت: يا سارية الجبل! ليلحقوا بالجبل. فلبثوا إلى أن جاء رسول سارية بكتابه أن القوم لقونا يوم الجمعة فقاتلناهم حتى إذا حضرت الجمعة سمعنا مناديا ينادي: يا سارية الجبل - مرتين، فلحقنا بالجبل، فلم نزل قاهرين لعدونا إلى أن هزمهم الله وقتلهم. فقال: أولئك الذين طعنوا عليه: دعوا هذا الرجل، فإنه مصنوع له. "أبو نعيم في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35791 ۔۔۔ (مسند (رض)) ابی بلج علی بن عبداللہ (رض) سے منقول ہے کہ عمر بن خطاب (رض) جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہیں تھے کہ اچانک بلند آواز سے پکارا ساریہ الجبل یاساریہ الجبل پھر خطبہ شروع کیا لوگوں نے اس فعل کو برا سمجھا جب خطبہ سے فارغ ہو کر نماز پڑھا دی لوگوں نے پوچھا اے امیر المومنین آج آپ نے خطبہ میں ایک ایسا کام کیا جو ہم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ پوچھا وہ کیا بتایا گیا کہ آپ نے ایسا ایسا کہا ان کی آواز لگانے کا تذکرہ کیا انھوں نے فرمایا ایسی کوئی بات نہیں تھی لوگوں نے کہا ضرورایسا ہوا ہے تو فرمایا اس دن اس مہینہ کو یاد رکھو پھر انتظار کرو انھوں نے ساریہ کی قیادت میں عراق کی طرف لشکر بھیجا تھا کہ جو دشمن کے نرغہ میں آگیا تھا تو ان کو پہاڑ کی طرف اور ساریہ نے واپسی پر کہا کہ ہم دشمن سے قتال کررہے تھے اس دوران ایک آواز سنائی دی معلوم نہیں آواز کس کی تھی یا ساریہ الجبل تین مرتبہ اس کے ذریعہ اللہ کے دشمن کو ہم سے دفع لوگوں نے اس دن کو تاریخ کے ساتھ ملا کر دیکھا تو وہی دن تھا جس دن عمر (رض) نے خطبہ میں آواز لگائی تھی۔ (اللا لکائی)
35791- "مسنده رضي الله عنه" عن أبي بلج علي بن عبيد الله قال: بينا عمر بن الخطاب قاعد على المنبر يوم الجمعة يخطب قال بأعلى صوته: يا سارية الجبل! يا سارية الجبل! ثم أخذ في خطبته، فأنكر الناس ذلك منه، فلما نزل وصلى قيل: يا أمير المؤمنين! قد صنعت اليوم شيئا ما كنا نعرفه، قال: وما ذاك؟ قيل: قلت كذا وكذا - وذكروا ما نادى به، فقال: ما كان شيء من هذا، قالوا: بلى والله لقد كان ذلك! قال: فأثبتوا من هذا اليوم من هذا الشهر ثم أبصروا، وكان بعث سارية في بعث العراق فطف العدو فحيز إلى الجبل، وقال سارية لما انصرف: بينا نحن نقاتل العدو إذ سمعنا صوتا لا ندري ما هو: يا سارية الجبل - ثلاثا، فدفع الله عنا به، فنظروا في ذلك اليوم فإذا هو اليوم الذي قال عمر فيه ما قال. "اللالكائي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35792 ۔۔۔ ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ عمر (رض) نے مدینہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں خطبہ دیا درمیان میں فرمایا یا ساریہ بن زنیم الجبل جس نے بھیڑیا گویا لاظلم کیا پوچھا گیا آپ ساریہ کو یاد کررہے ہیں ساریہ تو عراق میں ہے لوگوں نے علی (رض) سے کہا کیا آپ نے عمر (رض) کو نہیں سنا کہ وہ خطبہ کے دوران یاساریہ کہہ رہے تھے تو انھوں نے فرمایا عمر (رض) کو چھوڑ دو کیونکہ وہ جس چیز میں داخل ہوتے ہیں اس سے نکلنے کا راستہ معلوم کرلیتے ہیں تھوڑے ہی دن گذرے تھے ساریہ واپس آیا اور انھوں نے بتایا کہ میں نے عمر (رض) کی آواز سنی اور پہاڑ کے اوپر چڑھ گیا۔ (خطیب فی رواة مالک ابن عساکر)
35792- عن ابن عمر أن عمر بن الخطاب خطب بالمدينة فقال:يا سارية بن زنيم الجبل! من استرعى الذئب فقد ظلم؛ فقيل: تذكر سارية وسارية بالعراق! فقال الناس لعلي: أما سمعت عمر يقول: يا سارية - وهو يخطب على المنبر؟ قال: ويحكم! دعوا عمر فإنه ما دخل في شيء إلا خرج منه، فلم يلبث إلا يسيرا حتى قدم سارية وقال: سمعت صوت عمر وصعدت الجبل. "خط في رواة مالك، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35793 ۔۔۔ عبداللہ بن سائب سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے عشاء کی نماز میں تاخیر کی میں نے نماز پڑھا دی وہ داخل ہوئے اور میرے پیچھے گھڑے ہوئے میں والذاریات شروع کی یہاں تک وفی السماء رزقکم وماتوعدون پر بھی انھوں نے آواز بلند کی یہاں تک کہ مسجد گونج اٹھی اور کہا میں اس کی گواہی دیتاہوں۔ (ابوعبیدہ فی فضائل)
35793- عن عبد الله بن السائب قال: أخر عمر بن الخطاب العشاء الآخرة فصليت ودخل وكان في ظهري فقرأت {وَالذَّارِيَاتِ} حتى أتيت على قوله: {وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ} فرفع صوته حتى ملأ المسجد، فقال: وأنا أشهد. "أبو عبيد في فضائله".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35794 ۔۔۔ کعب (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا اے کعب میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں تم مجھے خلیفہ پاتے ہو یا بادشاہ تو بتایا خلیفہ دوبارہ قسم دی تو کعب نے کہا واللہ خلیفہ بہترین خلیفہ تمہارا زمانہ بہترین زمانہ ۔ (نعیم بن حماد فی الفتن) ۔
35794- عن كعب أن عمر بن الخطاب قال: أنشدك بالله يا كعب! أتجدني خليفة أم ملكا؟ قال: بل خليفة، فاستحلفه فقال كعب: خليفة والله! من خير الخلفاء، وزمانك خير زمان. "نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35795 ۔۔۔ عبداللہ بن شداد بن ھاد سے منقول ہے کہ میں نے عمر (رض) کی ہچکی سنی ہے میں آخری صف میں تھا صبح کی نماز میں وہ سورة یوسف کی تلاوت کررہے تھے یہاں تک جب اس آیت پر پہنچے (انما اشکوابشی وحزنی الی اللہ ) عبدالرزاق ضیاء مقدسی ابن سعد اب ابی شیبہ بیہقی
35795- عن عبد الله بن شداد بن الهاد قال: سمعت نشيج عمر وأنا في آخر الصفوف في صلاة الصبح وهو يقرأ سورة يوسف حين بلغ {إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ} . "عب، ض وابن سعد، ش، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35796 ۔۔۔ علی ابن ابی طالب سے منقول ہے کہ میرے علم کے مطابق مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہر شخص نے چھپ کر ہجرت کی سوائے عمر (رض) کے کیونکہ جب انھوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تلوار لٹکائی اور کمان الٹ کر تیروں کو ہاتھ میں لیا کعبہ شریف میں آئے اس دوران قریش کے سردار کعبہ کے صحن میں موجود تھے سات دفعہ کعبہ کا طواف کیا پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں نماز پڑھی پھر ان کے حلقہ کے پاس آیا ایک ایک کرکے اور شاہت الوجوہ کہنے کے بعد اعلان کیا کہ جس کا یہ خیال ہو کر اس کی ماں اس پر روئے اپنی اولاد کو یتیم بنائے اور بیویوں کو بیوہ بنائے وہ مجھ سے اس وادی کے پیچھے ملاقات کرے کسی نے بھی ان کا تعاقب نہیں کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35796- عن علي بن أبي طالب قال، ما علمت أحدا هاجر إلا مختفيا إلا عمر بن الخطاب، فإنه لما هم بالهجرة تقلد سيفه وتنكب قوسه وانتضى في يده أسهما وأتى الكعبة وأشراف قريش في بفنائها، فطاف سبعا ثم صلى ركعتين عند المقام ثم أتى حلقهم واحدة واحدة فقال: شاهت الوجوه! من أراد أن تثكله أمه ويؤتم ولده وترمل زوجته فليلقني وراء هذا الوادي! فما تبعه منهم أحد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35797 ۔۔۔ سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ کعب الاحبار نے عمربن خطاب سے کہا ہم اپنی کتاب میں زمینی بادشاہ پر آسمانی بادشاہ کی طرف سے ہلاکت پاتے ہیں تو عمر (رض) نے فرمایا مگر جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے کعب نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ توراة میں اسی طرح ہے اس کے ساتھ یہ لفظ موجود ہے عمر (رض) نے یہ سن کر تکبیر کی پھر سجدہ میں گرپڑے۔ (العسکری فی الموعظ و عثمان بن سعید الدارمی فی الرد علی الجھمیہ والخرائطی فی الشکر ، بیہقی)۔ کلام رسول اور کلام غیر میں فرق کرنا
35797- عن سالم بن عبد الله أن كعب الأحبار قال لعمر بن الخطاب: إنا لنجد: ويل لملك الأرض من ملك السماء! فقال عمر: إلا من حاسب نفسه، فقال كعب: والذي نفسي بيده! إنها في التوراة لتابعتها، فكبر عمر ثم خر ساجدا. "العسكري في المواعظ وعثمان بن سعيد الدارمي في الرد على الجهمية والخرائطي في الشكر، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35798 ۔۔۔ طارق بن شہاب سے منقول ہے اگر کوئی شخص عمر (رض) کے سامنے حدیث بیان کرتا اور جھوٹ ملاتا تو کہتا اس کو روکدے پھر حدیث بیان کرتا تو اس کو روکتے تو وہ آدمی کہتا کہ میں نے جو کچھ بیان کیا وہ حق ہے مگر جتنے حصہ کے بارے میں آپ نے حکم دیا کہ اس کو روکدوں وہ حق نہیں تھا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) کو کلام رسول اور کلام غیر میں فرق معول ہوجاتا تھا ۔ (رواہ ابن عساکر)
35798- عن طارق بن شهاب قال: إن كان الرجل ليحدث عمر بالحديث فيكذبه الكذبة فيقول: احبس هذه ثم يحدثه بالحديث فيقول: احبس هذه، فيقول له:كل ما حدثتك به حق إلا ما أمرتني أن أحبسه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35799 ۔۔۔ حسن سے منقول ہے اگر کسی کو حدیث بیان کرتے وقت جھوٹ کا پہچان ہوجاتاہو وہ عمر (رض) ہے (رواہ ابن عساکر)
35799- عن الحسن قال: إن كان أحد يعرف الكذب إذا حدث به إنه كذب فهو عمر بن الخطاب. "مسدد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال خرچ کرنے میں احتیاط
35800 ۔۔۔ اسماعیل بن زیاد سے مروی ہے کہ علی ابن ابی طالب (رض) کا مساجد پر گذرہوا ان میں رمضان میں قندیلیں جل رہی تھیں تو فرمایا اللہ تعالیٰ عمر (رض) کی قبر کو ایسی ہی منور فرمائے جس طرح انھوں نے ہمارے لیے مساجد کو منور فرمایا۔ (ابن عساکر اور خطیب نے اپنی امالی میں ابی اسحاق ھمدانی سے روایت کی ہے)
35800- عن إسماعيل بن زياد قال: مر علي بن أبي طالب على المساجد في رمضان وفيها القناديل فقال: نور الله على عمر قبره كما نور علينا مساجدنا. "كر؛ ورواه خط في أماليه عن أبي إسحاق الهمداني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر المومنین لکھنے کی وجہ
35801 ۔۔۔ معاویہ بن قرہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) کے بارے میں خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکھاجاتا تھا جب عمر (رض) کا زمانہ آیاتوخلیفة رسول اللہ لکھنے کا ارادہ ہوا تو عمر (رض) نے فرمایا یہ لمبا ہوگا تو لوگوں نے کہا نہیں لیکن ہم نے آپ کو امیر مقرر کیا آپ ہمارے امیر ہیں فرمایا ہاں تم مومن ہو اور میں تمہارا میر ہوں تو لکھا گیا امیرالمومنین (رواہ ابن عساکر)
35801- عن معاوية بن قرة قال: كان يكتب "من أبي بكر خليفة رسول الله" فلما كان عمر بن الخطاب أرادوا أن يقولوا: خليفة خليفة رسول الله، فقال عمر: هذا يطول، قالوا؟ لا، ولكنا أمرناك علينا فأنت أميرنا، قال: نعم، أنتم المؤمنون وأنا أميركم فكتب "أمير المؤمنين". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر المومنین لکھنے کی وجہ
35802 ۔۔۔ ابن شہاب سے منقول ہے کہ عمربن عبدالعزیز نے ابوبکر ابن سلیمان بن ابی حثمہ سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) کے زمانہ خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکھاجاتا تھا عمر (رض) نے اولا خلیفة ابی بکر لکھوایا پھر اس سے امیر المومنین کی طرف پھیر دیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ مجھ سے شفاء نے بیان کیا وہ ان کی دادی ہے اور شروع شروع میں ہجرت کرنے والیوں میں سے تھی کہ عمربن خطاب (رض) نے عراق کے گورنر کے پاس خط لکھا کہ میرے پاس دو آدمیوں کو بھیجا جائے جو مضبوط قسم کے ہوں تاکہ ان سے عراق اور اہل عراق خی حالات معلوم کئے جائیں تو عراق کے گورنر نے لبیدبن ربیعہ اور عدی بن حاتم کو بھیجا جب یہ دونوں مدینہ منورہ پہنچے تو انھوں نے اپنی سواریوں کو مسجد کے صحن میں بیٹھا یا پھر مسجد میں داخل ہوئے تو ان کی ملاقات عمروابن العاص سے ہوئی تو دونوں نے کہا اے عمرو آپ امیر المومنین سے ہمارے لیے ملاقات کی اجازت طلب کریں تو عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم تم دونوں نے ان کا صحیح نام لیا وہ ہمارے امیر ہیں اور ہم مومنین ہیں پھر عمر (رض) جلدی سے عمر (رض) کے پاس پہنچا اور کہا اسلام علیکم یا امیر المومنین تو عمر (رض) نے کہا اے ابن العاص یہ نام میں جدت کیسے پیدا ہوئی ؟ میرا رب جانتا ہے تم اس کی دلیل بیان کروگے کہا لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم دونوں آئے اور انھوں نے اپنی سوار مسجد کے صحن میں بیٹھایا پھر میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ ہمارے لیے امیر المومنین سے اجازت طلب کریں اللہ کی قسم ان دونوں نے آپ کا صحیح نام لیا ہم مومن ہیں اور آپ ہمارے امیر ہیں اس دن سے یہی لکھا جانے لگا (بخاری نے ادب المفرد میں عساکر نے دلائل میں طبرانی اور حاکم نے نقل کیا)
35802- عن ابن شهاب أن عمر بن عبد العزيز سأل أبا بكر ابن سليمان بن أبي حثمة لأي شيء كان يكتب: من خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم في عهد أبي بكر، ثم كان عمر كتب أولا: من خليفة أبي بكر، فمن أول من كتب "من أمير المؤمنين"؟ فقال: حدثتني الشفاء وهي جدته وكانت من المهاجرات الأول - أن عمر ابن الخطاب كتب إلى عامل العراق أن يبعث إليه رجلين جلدين يسألهما عن العراق وأهله، فبعث عامل العراق بلبيد بن ربيعة وعدي ابن حاتم، فلما قدما المدينة أناخا راحلتيهما بفناء المسجد ثم دخلا المسجد فإذا هما بعمرو بن العاص فقالا: استأذن لنا يا عمرو على أمير المؤمنين! فقال عمر: أنتما والله أصبتما اسمه! هو الأمير ونحن المؤمنون، فوثب عمرو فدخل على عمر فقال: السلام عليك يا أمير المؤمنين! فقال عمر: ما بدا في هذا الاسم يا ابن العاص؟ ربي يعلم لتخرجن مما قلت! إن لبيد بن ربيعة وعدي بن حاتم قدما فأناخا راحلتيهما بفناء المسجد ثم دخلا علي فقالا لي: استأذن لنا يا عمرو على أمير المؤمنين! فهما والله أصابا اسمك! نحن المؤمنون وأنت أميرنا، فمضى به الكتاب من يومئذ. "خ في الأدب والعسكري في الأوائل، طب، ك".
তাহকীক: