কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৮১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر المومنین لکھنے کی وجہ
35803 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) نے مشرکین سے مسجد مکہ (حرم) میں قتال کیا صبح سے لے کر سورج سرپر آنے تک لڑتا رہایہاں تک ایک شخص نے کو منتشر کردیا پوچھا کہ تم اس شخص سے کیا چاہتے ہو تو لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص صابی ہوگیا تو انھوں نے فرمایا کتنا اچھا آدمی ہے اپنے لیے ایک دین کو اختیار کیا ان کو اور انھوں نے اپنے نئے دین کو اختیار کیا ہے اس کو چھوڑ دو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ عمر (رض) کے قتل کئے جانی پر نبی عدی راضی ہوں گے اللہ کی قسم بنوعدی راضی نہیں ہوں گے تو عمر (رض) نے اس دن کہا اے اللہ کے دشمنو ! اگر ہماری تعداد تین سو تک پہنچ گئی تو ہم تم کو یہاں سے نکال باہر کریں گے میں نے اپنے اباجان سے کہا ہلاکت سے دور ہو وہ کون شخص تھا جس نے اس دن دشمنوں کو تم سے دور کیا ؟ تو فرمایا وہ عاص بن وائل عمروبن العاص کے والد تھے ۔ (حاکم سے مستدرک میں نقل کیا)
35803- عن ابن عمر قال: قاتل عمر المشركين في مسجد مكة فلم يزل يقاتلهم منذ غدوة حتى صارت الشمس حيال رأسه فجاء حتى أفرجهم فقال: ما تريدون من هذا الرجل؟ قالوا: لا والله إلا أنه صبأ، قال: فنعم رجل اختار لنفسه دينا! فدعوه وما اختار لنفسه، ترون بني عدي ترضي أن يقتل عمر؟ لا والله لا ترضى بنو عدي! قال: وقال عمر يومئذ: يا أعداء الله! والله لو قد بلغنا بثلاثمائة لقد أخرجناكم منها! قلت لأبي بعد من ذاك الرجل الذي ردهم عنك يومئذ؟ قال: ذاك العاصي بن وائل أبو عمرو بن العاص. "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر المومنین لکھنے کی وجہ
35804 ۔۔۔ معاویہ بن خدیج سے منقول ہے کہ عمروبن العاص نے مجھے عمربن خطاب کے پاس بھیجا اسکندریہ کی فتح کی خبر لے کر میں ظہر کے وقت مدینہ منورہ پہنچا اور مسجد کے دروازے پر سواری بیٹھا کر مسجد میں داخل ہوا میں بیٹھا ہوا تھا اچانک عمر (رض) کے گھر سے ایک باندی نکل کر آئی مجھے سے پوچھا آپ کون ہیں ؟ میں نے کہا معاویہ بن خدیج عمروبن العاص کا قاصد ہوں وہ اندر گئی پھر تیسری کے ساتھ واپس آئی آئیے امیر المومنین کے پاس چلیں میں ان کے ساتھ گیا تو عمربن خطاب (رض) کے ایک ہاتھ میں چادر رہے دوسرے ہاتھ میں لنگی مجھ سے پوچھا تمہارے پاس کیا خبرہے ؟ میں نے کہا اے امیر المومنین خبرہے اللہ تعالیٰ نے اسکندر یہ کو فتح فرمادیا پھر میرے ساتھ مسجد کی طرف نکلے اور موذن سے کہا لوگوں میں اعلان کریں الصلوة جامعہ لوگ جمع ہوگئے پھر مجھ سے فرمایا کھڑے ہو کر لوگوں میں اعلان کریں۔ میں نے کھڑے ہو کر اعلان کیا پھر نماز پڑھی اور اپنے گھر میں داخل ہوئے پھر قبلہ روہوکر متعدد دعائیں کیں پھر بیٹھ گئے اور باندی سے پوچھا کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ وہ روٹی اور زیتون لے کر آئی مجھ سے فرمایا کھاؤ میں نے حیاء کرتے ہوئے کچھ کھایا پھر فرمایا کھاؤ کہ مسافر کھانے کو محبوب رکھتا ہے اگر مجھے کھانا ہوتا میں تمہارے ساتھ کھاتا مجھے کچھ حیاء آگئی پھر اے جاریہ کچھ کھجوریں ہیں ؟ تو وہ ایک پلیٹ میں کھجوریں لے آئیں مجھ سے فرمایا کھاؤ میں نے حیاء کے ساتھ کچھ کھایا پھر اے معاویہ مسجد میں آکر تم نے کیا کہا ؟ میں نے کہا امیر المومنین قیولہ کررہے ہیں تو فرمایا برا کیا یاگمان کیا اگر میں دن کو سو گیا تو دعایاضائع ہوں گے اگر رات کو سویا تو میرا نفس ضائع ہوگا اے معاویہ ان باتوں کے ہوتے ہوئے میں ہوسکتا ہوں۔ (ابن عبدالحکیم)
35804- عن معاوية بن خديج قال: بعثني عمرو بن العاص إلى عمر بن الخطاب بفتح الإسكندرية فقدمت المدينة في الظهيرة فأنخت راحلتي بباب المسجد ثم دخلت المسجد، فبينا أنا قاعد فيه إذ خرجت جارية من منزل عمر بن الخطاب فقالت: من أنت؟ قلت: أنا معاوية بن خديج رسول عمرو بن العاص، فانصرفت عني ثم أقبلت تشتد فقالت: قم فأجب أمير المؤمنين: فتبعتها فلما دخلت فإذا بعمر بن الخطاب يتناول رداءه بإحدى يديه ويشد إزاره بالأخرى! فقال: ما عندك؟ قلت: خير يا أمير المؤمنين! فتح الله الإسكندرية، فخرج معي إلى المسجد فقال للمؤذن: أذن في الناس: الصلاة جامعة، فاجتمع الناس، ثم قال لي: قم فأخبر الناس، فقمت فأخبرتهم، ثم صلى ودخل منزله واستقبل القبلة فدعا بدعوات ثم جلس فقال: يا جارية! هل من طعام؟ فأتت بخبز وزيت، فقال: كل، فأكلت على حياء، ثم قال: كل، فإن المسافر يحب الطعام، فلو كنت آكلا لأكلت معك، فأصبت على حياء، ثم قال: يا جارية! هل من تمر؟ فأتت بتمر في طبق، فقال: كل، فأكلت على حياء، ثم قال: ماذا قلت يا معاوية حين أتيت المسجد؟ قال: قلت أمير المؤمنين قائل، قال: بئسما ظننت - لئن نمت النهار لأضيعن الرعية، ولئن نمت الليل لأضيعن نفسي، فكيف بالنوم مع هذين يا معاوية. "ابن عبد الحكم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر المومنین لکھنے کی وجہ
35805 ۔۔۔ نبی اسد کے ایک شخص نے بیان کیا کہ وہ عمر بن خطاب کے پاس حاضر ہوا تو عمر (رض) نے ساتھیوں سے دریافت کیا ان میں طلحہ سلیمان زبیر کعب تھے کہ میں تم لوگوں سے کچھ دریافت کرنا چاہتا ہوں پس جھوٹ اجتناب کرنا مجھے ہلاکت میں ڈالو گے اور اپنے نفسوں کو بھی ہلاکت میں ڈالو گے میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ ؟ طلحہ اور زبیر نے جواب دیا کہ تم نے ایسا سوال کیا جس کا ہمارے پاس جواب نہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ خلیفہ کیا ہوتا ہے بادشاہ کیا ہوتا ہے سلمان فارسی (رض) نے فرمایا کہ وہ اپنے گوشت اور خون کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ تم خلیفہ ہو بادشاہ نہیں تو عمر (رض) نے فرمایا اگر تم یہ کہہ رہے ہو تو تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا کرتے تھے ان کے پاس بیٹھا کرتے تھے تو سلمان (رض) نے کہا آپ رعایا میں انصاف کرتے ہیں ان میں برابری کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں آپ ان پر ایسی شفقت کرتے ہیں جیسے آدمی اپنے گھروالوں پر شفقت کرتا ہے اللہ قرآن کریم کے مطابق فیصلہ کرتا ہے کعب (رض) نے کہا میرا خیال یہ تھا کہ مجلس میں میرے علاوہ کوئی خلیفہ اور بادشاہ میں فرق کرنے والا نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے سلمان کو علم و حکمت سے بھر دیا پھر کعب نے کہا میں گواہی دیتاہوں کہ آپ خلیفہ ہیں بادشاہ نہیں تو ان سے عمر (رض) نے پوچھا کیسے اندازہ ہوا ؟ تو بتایا کہ میں آپ کے اوصاف کتاب اللہ میں پاتاہوں عمر (رض) نے پوچھا میرے اوصاف اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں میرے نام کے اساتھ تو بتایا نام کے ساتھ نہیں صفات کے ساتھ موجود ہے کہ نبوة ہوگی اس کے بعد خلافت ورحمت ہوگی نبوت کے طریقہ پر بھر خلافت ورحمت ہوگی نبوت کے طریقہ پر بھر بادشاہت ہوگی کاٹنے والی۔ (نعیم بن حماد فی الفتن)
35805- عن رجل من بني أسد أنه شهد عمر بن الخطاب سأل أصحابه وفيهم طلحة وسلمان والزبير وكعب فقال: إني سائلكم عن شيء فإياكم أن تكذبوني فتهلكوني وتهلكوا أنفسكم، أنشدكم بالله! أخليفة أنا أم ملك؟ فقال طلحة والزبير: إنك لتسألنا عن أمر ما نعرفه، ما ندري ما الخليفة من الملك، فقال سلمان يشهد بلحمه ودمه: إنك خليفة ولست بملك، فقال عمر إن تقل فقد كنت تدخل فتجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال سلمان: وذلك أنك تعدل في الرعية وتقسم بينهم بالسوية وتشفق عليهم شفقة الرجل على أهله وتقضي بكتاب الله، فقال كعب: ما كنت أحسب أن في المجلس أحدا يعرف الخليفة من الملك غيري ولكن الله ملأ سلمان حكما وعلما، ثم قال كعب: أشهد أنك خليفة ولست بملك فقال له عمر: وكيف ذاك؟ قال: أجدك في كتاب الله قال عمر: تجدني باسمي؟ قال: لا ولكن بنعتك أجد: نبوة ثم خلافة ورحمة على منهاج نبوة، ثم خلافة ورحمة على منهاج نبوة، ثم ملكا عضوضا. "نعيم بن حماد في الفتن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35806 ۔۔۔ عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ سعید بن عاصم عمر (رض) کے پاس آیا زیادہ کا مطالبہ کررہے تھے اپنے اس گھر میں جو بلاط میں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کو چچاؤں کا حصہ تو عمر (رض) نے فرمایا کہ میرے ساتھ فجر کی نماز پڑھیں پھر اپنی حاجت کا اظہار کرتا تو بتاتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا اے امیر المومنین میری حاجت کا جس کا یاد دلانے کے لیے آپ نے کہا تھا وہ فوراً میرے ساتھ چل پڑے اور فرمایا کہ اپنے گھر کی طرف جائیں یہاں میں گھر پہنچا تو مجھے اضافہ کرکے دیا اور اپنے پاؤں سے لکیر کھینچ دیا میں نے کہا اے امیر المومنین کچھ مزید اضافہ فرمائیں کیونکہ میرے بچوں اور گھروالوں میں اضافہ ہوا تو فرمایا تمہیں اتنا کافی ہے اپنے پاس راز میں رکھنا کہ میرے بعد ایسا آدمی خلیفہ ہوگا جو تمہارے ساتھ صلہ رحمی کرے گا اور تمہاری ضرورت پوری کرے گا تو تا یہ میں عمر (رض) کے دور خلافت میں انتظار کرتا رہا یہاں تک عثمان (رض) خلیفہ مقرر ہوئے انھوں نے شوری قائم کیا اور خوش ہوا میرے ساتھ صلہ رحمی کیا اور بہت اچھی طرح کیا میری حاجت پوری کی اور مجھے اپنی امانت میں شریک کیا۔ (ابن سعد)
35806- عن عمرو بن يحيى بن سعيد الأموي عن جده أن سعيد بن العاص أتى عمر يستزيده في داره التي بالبلاط وخطط أعمامه مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال عمر: صل معي الغداة وغبش ثم اذكرني حاجتك قال: ففعلت حتى إذا هو انصرف قلت: يا أمير المؤمنين، حاجتي التي أمرتني أن أذكرها لك، قال فوثب معي ثم قال: امض نحو دارك، حتى انتهيت إليها، فزادني وخط لي برجله، فقلت: يا أمير المؤمنين، زدني، فإنه نبتت لي نابتة من ولد وأهل، فقال: حسبك واختبئ عندك أن سيلي الأمر بعدي من يصل رحمك، ويقضي حاجتك، قال: فمكثت خلافة عمر بن الخطاب حتى استخلف عثمان وأخذها عن شورى ورضي فوصلني وأحسن وقضى حاجتي وأشركني في أمانته. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35807 ۔۔۔ مکحول سے روایت ہے کہ سعید بن عامر بن حذیم الجممحی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے ہیں انھوں نے عمر بن خطاب (رض) سے فرمایا میں تمہیں کچھ نصیحت کرنا چاہتا ہوں تو عمر (رض) نے کہا ہاں ضرور کیجئے تو فرمایا لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں سے مت ڈریں تمہارے قول وفعل میں تضاد نہ ہونا چاہیے بہترین قول وہ ہے جس کی فعل تصدیق کرے ایک مقدمہ کا دو مرتبہ فیصلہ نہ کریں آپ کا حکم مختلف ہوجائے گا آپ حق سے بھٹک جائیں گے اگر کام کو دلیل کو بنیاد پر انجام دیں کامیابیاں حاصل کریں گے اللہ تعالیٰ آپ کے مددگار ہوگا آپ کے رعایا کی آپ ہاتھ پر اصلاح ہوگی اپنی توجہ اور فیصلہ ہر اس شخص کے بارے میں درست رکھیں جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حاکم بنایا ہے وہ آپ سے دور ہوں یا قریب لوگوں کے لیے ہی پسند کریں جو آپ اپنے لیے اپنے گھروالوں کے لیے پسند کرتے ہیں ان کے لیے وہی ناپسند کریں جو اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے ناپسند کرتے ہیں مسائب میں بھی حق کا راستہ اختیار کریں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے میں کسی کی ملامت کی پروا نہ کریں عمر (رض) نے کہا ان باتوں پر عمل کرنا کس کی استطاعت میں ہے تو سعید نے کہا آپ جیسے آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے امت محمد کے امور سپرد کئے ہوں پھر اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حائل نہ ہو۔ (ابن سعد ابن عساکر)
35807- عن مكحول أن سعيد بن عامر بن حذيم الجمحي من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال لعمر بن الخطاب: إني أريد أن أوصيك يا عمر! قال: أجل فأوصني، قال: أوصيك أن تخشى الله في الناس ولا تخشى الناس في الله، ولا يختلف قولك وفعلك فإن خير القول ما صدقه الفعل، ولا تقض في أمر واحد بقضاءين فيختلف عليك أمرك وتزيغ عن الحق، وخذ بالأمر ذي الحجة تأخذ بالفلج ويعينك الله ويصلح رعيتك على يديك، وأقم وجهك وقضاءك لمن ولاك الله أمره من بعيد المسلمين وقريبهم، وأحب لهم ما تحب لنفسك وأهل بيتك، واكره لهم ما تكره لنفسك وأهل بيتك، وخض الغمرات إلى الحق، ولا تخف في الله لومة لائم. فقال عمر: من يستطيع ذلك؟ فقال سعيد: مثلك من ولاه الله أمر أمة محمد صلى الله عليه وسلم ثم لم يحل بينه وبين الله أحد. "ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35808 ۔۔۔ علی بن رباح سے منقول ہے کہ عمر (رض) نے کسی شخص کو ہزار دینار کا انعام دیا۔ (ابن خذیمہ الجمحی ابن سعد ابن عساکر)
35808- عن علي بن رباح أن عمر بن الخطاب أجاز رجلا بألف دينار. "ابن حذيم الجمحي، ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35809 ۔۔۔ زید بن اسلم اور یعقوب بن زید نے کہا عمر بن خطاب (رض) جمعہ کے دن نماز کے لیے نکلے منبر پر چڑنے کے بعد آواز لگائی یاساریہ بن زنیم الجبل ظلم کیا اس نے جس نے بھیڑ یاکوبکریوں کا محافظ بنایا پھر خطبہ دیا یہاں خطبہ سے فارغ ہوئے پھر ساریہ بن زنیم کا خط عمربن خطاب (رض) کے پاس آیا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن فلاں وقت فتح دی اس وقت کانا م لیاجس عمر (رض) نے منبر پر یہ تکلم کیا تھا اور ساریہ نے کہا کہ میں نے یہ آواز سنی یا ساریہ بن زنیم الجبل یاساریہ بن زنیم الجبل ظلم من استرعی الذئب الغنم میں اپنے ساتھیوں کو لے کر پہاڑ کے اوپر چڑھ گیا ہم اس سے قبل وادی میں تو ہم دشمن کے محاصرے میں تھے پس اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی عمر بن خطاب (رض) سے پوچھا گیا یہ گفتگو کیسی تھی ؟ تو فرمایا اللہ کی قسم میں ایسی بات کی پروا نہیں کرتا جو زبان پر آجائے۔ ابن سعد
35809- عن زيد بن أسلم ويعقوب بن زيد قالا: خرج عمر ابن الخطاب يوم الجمعة إلى الصلاة فصعد المنبر ثم صاح: يا سارية ابن زنيم الجبل! ظلم من استرعى الذئب الغنم، ثم خطب حتى فرغ؛ فجاء كتاب سارية بن زنيم إلى عمر بن الخطاب: إن الله فتح علينا يوم الجمعة لساعة كذا وكذا - لتلك الساعة التي خرج فيها عمر فتكلم على المنبر، قال سارية: وسمعت صوتا: يا سارية بن زنيم الجبل! يا سارية بن زنيم الجبل! ظلم من استرعى الذئب الغنم، فعلوت بأصحابي الجبل ونحن قبل ذلك ببطن الوادي ونحن محاصرو العدو؛ ففتح الله علينا، فقيل لعمر بن الخطاب: ما ذلك الكلام؟ فقال: والله! ما ألقيت له بالا شيء أتى على لساني. "ابن سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35810 ۔۔۔ اوزاعی روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) ایک دفعہ رات کے اندھیرے میں نکلا ان کو طلحہ (رض) نے دیکھا کہ عمر (رض) ایک گھر میں داخل ہوا پھر دوسرے گھر میں داخل ہواصبح کے وقت طلحہ (رض) اس گھر میں گئے تو دیکھا ایک فالج زدہ بڑھیا ہے اس سے پوچھا یہ شخص تمہارے گھر کیوں آتا ہے ؟ تو بتایا یہ شخص اتنے عرصہ سے میری خدمت کرتا ہے میری ضروریات پوری کرتا ہے اور میری تکلیف دو چیزوں کو دور کرتا ہے تو طلحہ (رض) نے اپنے کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیری ماں تجھ پر روئے کیا تو عمر (رض) کی لغزشوں کو تلاش کرتا ہے۔ (حلیة الاولیاء)
35810- عن الأوزاعي أن عمر خرج في سواد الليل فرآه طلحة فذهب عمر فدخل بيتا ثم دخل بيتا آخر، فلما أصبح طلحة ذهب إلى ذلك البيت فإذا بعجوز عمياء مقعدة، فقال لها: ما بال هذا الرجل يأتيك؟ قالت: إنه يتعاهدني منذ كذا وكذا، يأتيني بما يصلحني ويخرج عني الأذى؛ فقال طلحة: ثكلتك أمك يا طلحة! أعثرات عمر تتبع. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35811 ۔۔۔ شعبی (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) نے کہا اللہ کے لیے میرا دل نرم ہواحتی کہ وہ مکھن سے زیادہ نرم ہے اللہ کے لیے میرا دل سخت ہے حتی کہ وہ پتھر سے زیادہ سخت ہے (حلیة الاولیاء)
35811- عن الشعبي قال: قال عمر: والله لقد لان قلبي في الله حتى لهو ألين من الزبد ولقد اشتد قلبي في الله حتى لهو أشد من الحجر. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35812 ۔۔۔ مسند عمرسیف بن عمر صعب بن عطیہ اب ہلال سے وہ اپنے والد سے اور سہم بن منجانب سے نقل کرتے ہیں کہ اقرع اور برقان صدیق اکبر (رض) کے پاس گئے کہ بحرین کا جزیہ ہمارے نام کردیں ہم آپ کو ضمانت دیتے ہیں کہ ہماری قوم میں سے کوئی مرتدنہ ہوگا تو ابوبکر (رض) نے لکھدیا ان کے درمیان معاہدہ کرانے والے طلحہ بن عبید اللہ تھے اور اس پر کئی گواہ مقرر کئے ان میں سے ایک عمر (رض) تھے جب عمر (رض) کے پاس یہ عہدنامہ پہنچا اس کو پڑھا اور گواہ نہیں بنے بلکہ کہا ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا عہدنامہ کو لے کر ٹکڑاٹکڑا کردیا اور خط کر مٹادیا طلحہ (رض) اس پر سخت ناراض ہوئے اور صدیق اکبر (رض) کے پاس آکر پوچھا کہ امیر المومنین آپ ہیں یا عمر (رض) تو فرمایا امیر تو عمر ہیں البتہ طاعت میری واجب ہے تو خاموش ہوگیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35812- "مسند عمر" سيف بن عمر عن الصعب بن عطية ابن بلال عن أبيه وعن سهم بن منجاب قالا: خرج الأقرع والزبرقان إلى أبي بكر فقالا: اجعل لنا حراج البحرين ونضمن لك أن لا يرجع من قومنا أحد، ففعل وكتب الكتاب، وكان الذي يختلف بينهم طلحة بن عبيد الله، وأشهدوا شهودا بينهم منهم عمر فلما أتي عمر بالكتاب ونظر فيه لم يشهد ثم قال" لا ولا كرامة، ثم مزق بالكتاب ومحاه، فغضب طلحة وأتى أبا بكر فقال له: أنت الأمير أم عمر؟ فقال: الأمير عمر غير أن الطاعة لي فسكت. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35813 ۔۔۔ نافع روایت کرتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے اقرع بن حابس اور زبرقان کو ایک جائید اد بطور جاگیر دیا اور ایک حکم نامہ لکھدیا عثمان (رض) نے کہا تم دونوں عمر (رض) کو اس پر گواہ بنالو کیونکہ وہ تم دونوں کے معاملہ کا زیادہ ذمہ دار ہیں کیونکہ صدیق اکبر (رض) کے بعد وہی خلیفہ ہوں گے وہ دونوں عمر (رض) کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا یہ تحریر کس نے لکھ کردی ہے تو بتایا ابوبکر صدیق (رض) نے تو عمر (رض) غنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوگا اللہ اس میں برکت نہ دے اللہ کی قسم پہلے مسلمانوں کے چہرے رہن رکھے جائیں گے پھر پتھر ہوگا پھر تم دونوں کو یہ ملے گا اس میں ٹھوکر کر تحریر کو مٹادیا دونوں ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے اور پوچھا ہمیں معلوم نہیں خلیفہ آپ ہیں یا عمر (رض) پھر واقعہ کی خبردی تو ابوبکر (رض) نے فرمایا ہم اس بات کی اجازت دے سکتے ہیں جس کی عمر (رض) اجازت دے۔ (یعقوب بن سفیان ابن عساکر)
35813- عن نافع أن أبا بكر أقطع الأقرع بن حابس والزبرقان قطيعة وكتب لهما كتابا، فقال عثمان: أشهدا عمر، فإنه أحرز لأمركما وهو الخليفة بعده، فأتيا عمر فقال: من كتب لكما هذا الكتاب؟ قالا: أبو بكر، قال: لا والله ولا كرامة! والله ليغلقن وجوه المسلمين ثم الحجارة ثم يكون لكما هذا! وتفل فيه فمحاه، فأتيا أبا بكر فقالا: ما ندري أنت الخليفة أم عمر؟ ثم أخبراه: قال: إنا لا نجيزا إلا ما أجازه عمر. "يعقوب بن سفيان، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35814 ۔۔۔ ابی الزناد نے بیان کیا ابن عباس (رض) عمربن خطاب (رض) کے پاؤں دبایا کرتے تھے ۔ (ابن النجار)
35814- عن أبي الزناد قال: كان ابن عباس يغمز قدمي عمر ابن الخطاب. "ابن السني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35815 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے منقول ہے کہ عوف بن مالک نے خواب دیکھا کہ آسمان سے ایک دھاگہ کہ لٹک آیا اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پکڑ لیا اور اس سے اپنے بالوں کو باندھ لیا پھر ایک دھاگہ لٹک آیا اس سے اپنے بالوں کو باندھ لیا پھر لوگوں نے پکڑا ان میں عمر (رض) نے تین گز زیادہ حاصل کیا عوف (رض) نے یہ قصہ ابوبکر (رض) کو سنایا جب یہاں تک پہنچا تو عمر (رض) نے فرمایا اپنا خواب چھوڑ دو ہمیں مت سناؤ عوف (رض) خاموش ہوگئے جب عمر (رض) خلیفہ ہوئے تو عوف (رض) سے ایک دن فرمایا خواب کا بقیہ حصہ سنائیں تو کہا کہا تم نے مجھے نہیں ڈانٹا تھا ؟ مجھے خاموش نہیں کروایا تھا تو فرمایا مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ تم کسی شخص کو اس کی موت کی خبر دو اب پھر سے پورا خواب بیان کرو یہاں تک پہنچا لوگوں میں دھاگہ پھیلا دیا گیا تو عمر (رض) کو ان پر تین گز کی فوقیت رہی تو میں نے کہا یہ تین گز کی فوقیت کیوں ؟ تو مجھ سے بیان کیا وہ خلیفہ نہیں شہید ہیں وہ اللہ کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تو عمر (رض) نے فرمایا خلافت تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ثم جعلنکم خلائف فی الارض من بعدھم الننظر کیف تعملون اب عمر (رض) کو خلافت ملی ہے اب دیکھو کیسے عمل کرتا ہے جہاں تک شہادت کا تعلق ہے یہ کیسے حاصل ہوسکتی ہے ؟ میرے گرد عرب موجود ہیں لیکن اللہ قادر ہیں مجھے نصیب کریں باقی میں اللہ کے معاملہ میں کسی کی ملامت کا خوف نہیں رکھتا ماشاء اللہ (خیثمہ فی فضائل الصحابہ)
35815- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: رأى عوف بن مالك كأن سببا دلي من السماء، فأخذ به رسول الله صلى الله عليه وسلم فانتشط ثم دلي فأخذ به أبو بكر فانتشط، ثم ذرع الناس ففضلهم عمر بثلاثة أذرع، فقصها عوف على أبي بكر فلما بلغ هذا المكان قال له عمر: دعنا من رؤياك، فسكت عوف، فلما استخلف عمر قال لعوف: بقية رؤياك! قال: أليس أنت انتهزتني فأسكتني؟ قال: إني كرهت أن تنعي إلى الرجل نفسه، هات رؤياك من أولها، حتى بلغ: وذرع الناس ففضلهم عمر بثلاثة أذرع، فقلت ففيم فضلهم عمر بثلاثة أذرع؟ فقيل لي: إنه خليفة، وإنه شهيد، وإنه لا يخاف في الله لومة لائم، قال عمر: أما الخلافة فإن الله عز وجل يقول: {ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ} . فقد استخلفها عمر فانظر كيف يعمل، وأما الشهادة فكيف لي بها وحولي العرب وإن الله عز وجل لقادر على أن يسوقها إلي، وأما أن لا أكون أخاف في الله لومة لائم فما شاء الله. "خيثمة في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی پیشن گوئی
35816 ۔۔۔ حنش خزاعی سے مروی ہے کہ میں نے عمربن خطاب (رض) کو دیکھا کہ اپنی کمر کو رسی سے باند کر صدقہ کے اونٹوں کی خدمت کررہے تھے منصور نے بتایا کہ مجھے یاد ہے کہ وہ نیلام کے ذریعہ فروخت کرتے ہیں جب کوئی اونٹ فروخت کرتے ان میں سے اس کی کمر رسی ہے باندھ دیتے پھر اسی رسی سمیت صدقہ کردیتے ۔ (بیہقی)
35816- عن حنش الخزاعي قال: رأيت عمر بن الخطاب شادا حقوه بعقال وهو يمارس شيئا من إبل الصدقة - قال منصور: حفظي أنه كان يبيعها فيمن يزيد كلما باع بعيرا منها شد حقوه بعقاله ثم تصدق بها - يعني بتلك العقال. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35817 ۔۔۔ (مسندہ) مجاہد سے منقول ہے ہم آپس میں باتیں کرتے تھے کہ عمر (رض) کے زمانہ میں شیاطین زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں جب وہ شہید ہوئے تب کھول دیئے گئے ۔ (رواہ ابن عساکر)
35817- "مسنده" عن مجاهد قال: كنا نتحدث - أو نحدث - أن الشياطين كانت مصفدة في إمارة عمر، فلما أصيب بثت. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35818 ۔۔۔ محمد بن متوکل روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) کی انگوٹھی کا نقشہ کفی بالمطوت واعظا یا عمر ( الحثلی فی الدیباج ابن عساکر)
35818- عن محمد بن المتوكل قال: بلغني أن خاتم عمر نقشه "كفى بالموت واعظا يا عمر". "الختلى في الديباج، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35819 ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) کو خلافت ملنے کے بعد ایک شخص نے کہا بعض لوگوں کو اس معاملہ آپ سے انقباض عمر (رض) نے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے بتایا گیا ان کا گمان ہے آپ بہت سخت دل ہیں تو عمر (رض) نے فرمایا اس اللہ کا شکر ہے جس نے میرے دل کو ان کے لیے رحم وشفقت سے بھر دیا اور ان کے دل کو میرے رعب سے بھر دیا۔ (رواہ ابن عساکر)
35819- عن ابن عباس قال: لما ولي عمر بن الخطاب قال له رجل: لقد كان بعض الناس أن يحيد هذا الأمر عنك، قال عمر: وما ذاك؟ قال: يزعمون أنك فظ، فقال له عمر: الحمد لله الذي ملأ قلبي لهم رحما وملأ قلوبهم لي رعبا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35820 ۔۔۔ مسندو سفیان عوف الاعرابی سے وہ حسن بن ابی الحسن سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سلام کا عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس سے گذرا ہو اوہ سوئے ہوئے تھے کہا اے جہنم کے تالے کی بیاد کھڑا ہوجا عبداللہ بیدار ہوئے ان کا رنگ متغیر ہوچکا تھا یہاں تک کہ عمر (رض) کے پاس پہنچا اور کہا آپ نے نہیں سنا ابن سلام نے مجھ سے کیا کہا ؟ پوچھا آپ سے کیا بتایا گیا اے جہنم کے تالے کا بیٹا تو عمر (رض) نے کہا عمر کے لیے ہلاکت ہے اگر چالیس سال کی عبادت، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سسرالی رشتہ داری مسلمانوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے کے باوجود اگر جہنم کا تالا ہو پھر مجلس سے اٹھا اور اپنی ٹوپی لگالی اور کندہ پر چادر ڈالا عبداللہ بن سلام سے ملاقات کی اور ان سے پوچھا اے ابن سلام مجھے خبر پہنچی ہی کہ تم نے میرے بیٹے کو قم ابن قفل جہنم کیا ہے تو انھوں نے اعتراف کیا ہاں تو پوچھا وہ کیسے ؟ تو بتایا مجھے میرا والد نے اپنے والد موسیٰ بن عمران سے انھوں نے جبرائیل سے روایت کی ہے کہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں عمربن خطاب نامی ایک شخص ہوگا جو دین و ایمان کے اعتبار سے سب سے اچھا ہوگا جب تک وہ امت میں ہوگا دین سربلند رہے گا اور پھیلتا رہے گا اور جہنم پر تالا لگا ہوا ہوگا جب عمر کا انتقال ہوگا دین کمزور ہوتا چلا جائے گا یقین میں کمی آتی جائے گی لوگ خواہش پرستی میں مبتلا ہوں گے اور مختلف فرقوں میں بٹ جائیں گے جہنم کے تالے کھول جائیں گے اس طرح بہت سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ۔ (رواہ ابن عساکر)
35820- "مسنده" عن سفيان عن عوف الأعرابي عن الحسن بن أبي الحسن قال: مر عبد الله بن سلام بعبد الله بن عمر وهو راقد فقال له: قم يا ابن قفل جهنم! فقام عبد الله وقد تغير لونه حتى أتى عمر فقال: أما سمعت ما قاله ابن سلام لي؟ قال: وما قال لك؟ قال لي: قم يا ابن قفل جهنم، فقال عمر: الويل لعمر إن كان بعد عبادة أربعين سنة ومصاهرته لرسول الله صلى الله عليه وسلم وقضاياه بين المسلمين بالاقتصاد أن يكون مصيره إلى جهنم حتى يكون قفلا لجهنم! ثم قام وتقنع بطيلسان له وألقى الدرة على عاتقه فاستقبله عبد الله بن سلام فقال له عمر: يا ابن سلام! بلغني أنك قلت لابني: قم يا ابن قفل جهنم! قال: نعم، قال: وكيف؟ قال: أخبرني أبي عن آبائه عن موسى بن عمران عن جبريل أنه قال: يكون في أمة محمد صلى الله عليه وسلم رجل يقال عمر بن الخطاب أحسن الناس دينا وأحسنهم يقينا، ما دام بينهم الدين عال والدين فاش فجهنم مقفلة، فإذا مات عمر يرق الدين ويقل اليقين، وافترق الناس على فرق من الأهواء، وفتحت أقفال جهنم، فيدخل في جهنم من الآدميين كثير. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35821 ۔۔۔ حسن مروی ہے کہ عمر (رض) نے کہا سال تین سو ساٹھ د ن کا ہوتا ہے عمرپر اللہ کا حق ہے کہ بیت المال کو ہر سال ایک مرتبہ صاف کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے معذرت کرسکے کہ میں نے اس میں کوئی چیز باقی نہیں چھوڑی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35821- "مسنده" عن الحسن قال قال عمر بن الخطاب: السنة ثلاثمائة وستون يوما، وإن حق الله على عمر أن يكسح بيت المال في كل سنة يوما عذرا إلى الله أني لم أدع فيه شيئا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35822 ۔۔۔ محمد بن قیس عجلی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جب کسری کی تلوار کمر کا پتہ اور زبر جد عمر (رض) کے پاس لایا گیا تو فرمایا قوم اس کو ایک امانتدار کے پاس پہنچایا ہے تو علی نے فرمایا کہ چونکہ آپ اپنے ہاتھ کو خیانت سے) صاف رکھتے ہیں اس لیے رعایا بھی خیانت سے دور رہتے ہین۔ (رواة ابن عساکر)
35822- عن مخلد بن قيس العجلي عن أبيه قال: لما قدم سيف كسرى ومنطقته وزبرجدته على عمر قال: إن أقواما أدوا هذا لذوو أمانة، فقال علي: إنك عففت فعفت الرعية. "كر".
tahqiq

তাহকীক: