কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৮৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35823 ۔۔۔ ابی بکرہ سے منقول ہے کہ ایک اعرابی عمر (رض) کے پاس کھڑا ہوا اور کہا اے عمر اللہ تجھے بدلہ میں جنت دے تو میری لڑکیوں کو سامان دے اور ان کو کپڑا پہنا دے میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتاہوں آپ ضرور ایساکریں گے عم (رض) نے کہا اگر ایسانہ کیا تو پھر کیا ہوگا ؟ تو اس نے کہا میں قسم کھاتاہوں میں عنقریب چلاجاؤنگا۔ تو عمر (رض) نے پوچھا اگر چلا گیا تو اس کے بعد کیا ہوگا ؟ اس نے جواب دیا اللہ میری حالت کے بارے میں ضرور سوال کرے گا۔ جس دن سوالات ہوں گے مسول وہاں کھڑا ہوگا سامنے فیصلہ یا تو جنت کا ہوگا یا جہنم کا حضرت عمر (رض) یہ سنکر روپڑے یہاں تک ان کی داڑھی ترہوگی اور اپنے لڑکے سے کہا میری قمیص ان کو اس دن کے لیے دیدو نہ کہ اس شعر کی وجہ سے اللہ کی اس قمیص کے علاوہ میری ملک میں کوئی اور چیز نہیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
35823- عن أبي بكرة قال: وقف أعرابي على عمر فقال:

يا عمر الخير جزيت الجنة جهز بنياتي واكسهنه

أقسم بالله لتفعلنه

قال عمر: فإن لم أفعل يكون ماذا؟ قال:

أقسم أني سوف أمضينه

قال: فإن مضيت يكون ماذا؟ قال:

والله عن حالي لتسألنه

يوم تكون المسلات ثمه ... والواقف المسؤل بينهنه

إما إلى نار وإما جنة

قال: فبكى عمر حتى اخضلت لحيته بدموعه وقال لغلامه: أعطه قميصي هذا لذلك اليوم لا لشعره والله لا أملك قميصا غيره. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35824 ۔۔۔ ہم سے بیان کیا ابوالقاسم ہبة بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا ابوبکر خطیب نے کہ ان کے پاس ابوبکر حیری آیا انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ابوعباس محمد بن یعقوب اصم نے انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا عباس بن ولید البیرونی نے انھوں نے کہا مجھے خبردی محمد بن شعیب نے انھوں نے کہا مجھے خبردی یوسف بن سعید یسار نے عبدالملک بن عیاش جذامی ابی عفیف سے ان کو حدیث بیان کی عرزب کندی نے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے بعد بہت سی نئی باتیں پیداہوں گی میرے نزدیک پسندید ہ بات وہی ہے کہ تم عمر (رض) کی نئی باتوں پر عمل کرو اس اس کو اپنے اوپر لازم کرو ۔ (راوہ ابن عساکر)
35824- أنبأنا أبو القاسم هبة الله بن عبد الله أنا أبو بكر الخطيب أتاه القاضي أبو بكر الحيرى ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأصم حدثنا العباس بن الوليد البيروتي أخبرني محمد بن شعيب أخبرني يوسف بن سعيد بن يسار عن عبد الملك بن عياش الجذامي أبي عفيف أنه حدثهم عن عرزب الكندي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: سيحدث بعدي أشياء فأحبها إلي أن تلزموا ما أحدث عمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35825 ۔۔۔ سلمہ بن سعید سے منتقول ہے کہ عمربن خطاب کے پاس مال لایا گیا تو عبدالرحمن بن عوف نے کھڑے ہو کر کہا اے امیر المومنین اگر آپ اس مال میں سے کچھ حصہ بیت المال کے لیے روک لیتے تاکہ کسی حدیث یا اہم کام پیش آتے وقت کام آئے تو فرمایا یہ ایک بات ہے جس کو پیش کی شیاطین نے اللہ نے اس کی حجت میرے دل میں پیداکردی اور اس کے فتنہ سے میری حفاظت فرمائی ہے کیا آیندہ کے خوف سے اس سال نافرمانی کریں ایسے مواقع کے لیے اللہ کا تقوی تیار کر وارشاد باری ہے۔ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاویزقہ من حیث لایحتسب اور یہ میرے بعد آنے والوں کے لیے فتنہ بنے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
35825- عن سلمة بن سعيد قال: أتي عمر بن الخطاب بمال فقام إليه عبد الرحمن بن عوف فقال: يا أمير المؤمنين! لو حبست من هذا المال في بيت المال لنائبة تكون أو أمر يحدث! فقال كلمة ما عرض بها إلا شيطان لقاني الله حجتها ووقاني فتنتها: أعصي الله العام مخافة قابل! أعد لهم تقوى الله، قال الله تعالى: {وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجاً وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ} ولتكون فتنة على من يكون بعدي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35826 ۔۔۔ (مسند) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں عمر (رض) کا ذکر کثرت سے کرو کیونکہ جب ان کا ذکر ہوگا ان کے عدل کا تذکرہ ہوگا جب عدل کا تذکرہ ہوگا اللہ یاد آئے گا ۔ (رواہ ابن عساکر)
35826- "مسنده" عن ابن عباس قال: أكثروا ذكر عمر، فإن عمر إذا ذكر ذكر العدل، وإذا ذكر العدل ذكر الله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شیاطین کا زنجیروں میں بند ھوانا
35827 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے روایت مروی ہے کہ جب مجلس میں عمر (رض) کا تذکرہ ہوتا ہے باتوں میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35827- عن عائشة قالت: إذا ذكر عمر في المجلس حسن الحديث. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35828 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ اپنی مجالس کو عمر (رض) کے تذکرہ سے زینت دو (ابن عساکر کشف الخفا 1443)
35828- عن عائشة قالت: زينوا مجالسكم بذكر عمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35829 ۔۔۔ عائشہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جب صالحین کا تذکرہ تو عمر (رض) کا تذکرہ ضرور کیا کرو۔ (ابن عساکر والاسرار المرفوعہ 26 تحذیر المسلمین 9)
35829- عن عائشة قالت: إذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35830 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے منقول ہے فرمایا جب صالحین کا تذکرہ ہو تو عمر (رض) کا تذکرہ ضرور کرلیاکرو۔ (ٕابن عساکر الاسرار مرفوعہ 26 تحذیر المسلین 90)
35830- عن ابن مسعود قال: إذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35831 ۔۔۔ (مسندہ) سلیمان بن تخیم سے روایت ہے کہ مجھے ایسے شخص نے بتایا جس نے عمر (رض) کو دیخھا کہ جب وہ نماز ہوتے ہچکولے کھاتے جھکتے اور آہ آہ کرتے حتی کہ اگر ہمارے علاوہ کوئی دیکھ لیتاتو یہ خیال کرتا ہے شاد ان پر کچھ جنات کے اثرات ہیں یہ جہنم کے تذکرہ سے ایسا ہوتاجب اس آیت پر گذرتا واذا القوا منھا مکان ضیفامقرنین دعواھنالک ثبورا یا اس جیسی دگیر آیات ۔ ابوعبیدہ نے فضائل عمر (رض) سے نقل کیا۔
35831- "مسنده" عن سليمان بن سحيم قال: أخبرني من رأى عمر يصلي وهو يترجح ويتمايل ويتأوه حتى لو رآه غيرنا ممن يجهله لقال: أصيب الرجل، وذلك لذكر النار إذا مر بقوله: {وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَاناً ضَيِّقاً مُقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوراً} وما أشبه ذلك. "أبو عبيد في فضائله".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35832 ۔۔۔ (ایضا ) حسن سے مروی ہے کہ عمر (رض) یہ آیت تلاوت کی۔ ان عذاب ربک لواقع من دافع ان کا سانس تیز ہوگیا جس سے بیس دن تک بیمار رہے۔ (ابوعبیدہ)
35832- "أيضا" عن الحسن قال: قرأ عمر بن الخطاب {إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَا لَهُ مِنْ دَافِعٍ} فربا 1 ربوة عيد منها عشرين يوما. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35833 ۔۔۔ (ایضا ) عبید بن عمیر سے منقول ہے کہ عمر (رض) نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی سورة الیوسف شروع کی جب وابیضت عیناہ من الحزن فھرکظیم پر پہنچا خوب روئے اور وقف کرکے رکوع کرلیا۔ (ابوعبید)
35833- "أيضا" عن عبيد بن عمير قال: صلى بنا عمر الخطاب صلاة الفجر فافتتح سورة يوسف فقرأها حتى إذا بلغ {وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ} بكى حتى انقطع فركع. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35834 ۔۔۔ (ایضا) حسن سے منقول ہے عمربن خطاب (رض) کا انتقال ہوگیا قرآن جمع نہ ہوا فرمایا کہ میرا انتقال اس حال میں ہوجائے کہ میں قرآن کو زیادہ یاد کرنے والا بنوں مجھے یہ بات اس سے زیادہ پسند ہے کہ میرا انتقال ہو اور میں نقصان میں رہوں انصاری نے کہا مراد قرآن کا کچھ حصہ بھلا دوں۔ (ابوعبید)
35834- "أيضا" عن الحسن قال: مات عمر بن الخطاب ولم يجمع القرآن وقال: أموت وأنا في زيادة أحب إلي من أن أموت وأنا في نقصان. وقال الأنصاري: يعني نسيان القرآن. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35835 ۔۔۔ (ایضا) ابن عمر (رض) سے منقول ہے فرمایا کہ عمر (رض) نے اپنے اسلام لانے کا واقعہ ذکر فرمایا کہ جب وہ اسلام قبول کرنے کے ارادہ سے دارارقسم پہنچا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا اور ومن عندہ علم الکتاب اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ ایت تلاوت کرتے ہوئے سنا بل ھوابات بینات فی صدور والذین اتوالعلم۔ (ابن مردویہ)
35835- "أيضا" عن ابن عمر قال: قال عمر وذكر إسلامه فذكر أنه حيث أتى الدار ليسلم سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ: {وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ} قال: وسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ: {بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ} . "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35836 ۔۔۔ (مسندعلی) علی (رض) سے منقول ہے فرمایا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) اس پر شک نہیں کرتے تھے کہ سیکنہ عمر (رض) کی زبان پر نازل ہوتی ہے (مسدودابن منیع البغوی فی الجعدیات سعید بن منصور حلیة الاولیاء بیہقی فی الدلائل)
35836- "مسند علي" عن علي قال: كنا أصحاب محمد لا نشك أن السكينة تنطق على لسان عمر. "مسدد وابن منيع والبغوي في الجعديات ص، حل، ق في الدلائل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35837 ۔۔۔ علی (رض) سے منقول ہے کہ ہم آپس میں کہتے تھے کہ ایک فرشتہ عمر (رض) کی زبن بولتا ہے۔ (حلیة الاولیاء)
35837- عن علي: كنا نتحدث أن ملكا ينطق على لسان عمر. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35838 ۔۔۔ عباد بن ولید سے روایت ہے کہ ہم سے حدیث بیان کی محمد بن موسیٰ شیبانی نے انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا ربیع بن عبداللہ مدنی نے انھوں نے کہا ہم سے بیان کیا عبداللہ بن حسن نے محمد بن علی سے انھوں نے علی سے کہ عمربن خطاب نے کہا یارسول اللہ مجھے بتائیے کہ جو کچھ آپ نے معراج کی رات دیکھا ہے جنت میں تو ارشاد فرمایا اے ابن خطاب اگر میں تم میں اتنے سالوں تک زندہ رہا جتنے نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں زندہ رہے یعنی ایک ہزار تو میں تمہیں بتلاؤ نگا جو کچھ میں نے دیکھا جنت میں اور کاموں سے فارغ ہوالیکن اے عمر جب تم نے بیان کرنے کی درخواست کی ہم سے بیان کر ہی دیتاہوں جو تمہارے علاوہ کسی اور کے سامنی بیان نہیں کرونگا میں نے اس میں محلات دیکھا لیکن کی بنیاد میں میں تھی اور چھت عرش کے درمیان میں نے جبرائیل سے پوچھا اس کی چھت عرش کے درمیان ہے جب کہ بنیاد زمین میں ؟ تو کہا مجھے معلوم نہیں میں نے کہا جبرائیل یہ تو بتائیں یہ کس کو ملیں گے کون ان میں رہائش پذیر ہوگا اس کی روشنی تو ایسی ہے جیسے دنیا میں سورج کی روشن ہوتی ہے تو جبرائیل نے کہا ان میں ہو لوگ رہیں گے جو حق کہتے ہیں اور حق کی طرف راہنمائی کرتے ہیں جو ان کو حق بیان کردیا جائے تو ناراض نہیں ہوتے اور توحید پر ہی ان کو موت آتی ہے میں نے پوچھا اے جبرائیل مجھے کسی کا نام بھی بتاؤگے ؟ تو کہاں ہاں ایک ہی شخص کا نام بتاؤں گا نے پوچھا وہ ایک کون ہے تو بتایا عمربن خطاب (رض) ہے تو یہ سن کر عمر (رض) نے ایک اور چیخ ماری اور بیہوش رہے ابومحمد نے کہا عبداللہ بن حسن نے بنیا کیا کہ عمر (رض) کو اس کے بعد سے منہ بھر کے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کیا یہاں تک دنیا سے تشریف لے گئے ۔ (ابن مردویہ)
35838- عن عباد بن الوليد الغبري ثنا محمد بن موسى الشيباني ثنا الربيع بن عبد الله المدني ثنا عبد الله بن الحسن عن محمد بن علي عن علي أن عمر بن الخطاب قال: يا رسول الله! أخبرني بما رأيت في الجنة ليلة أسري بك، فقال: يا ابن الخطاب! " لو لبثت فيكم ما لبث نوح في قومه ألف سنة أحدثكم عما رأيت في الجنة لما فرغت منه، ولكن يا عمر إذا قلت لي: حدثني، فسأحدثك عما لم أحدث به غيرك، رأيت فيها قصورا أصلها في أرض الجنة وأعلاها في جوف العرش، فقلت: يا جبريل! هي في جوف العرش وأركانها في أرض الجنة؟ قال: لا أدري، قلت يا جبريل! أخبرني من يصير إليها ومن يسكنها - وإذا ضوؤها كضوء الشمس في الدنيا! قال: يسكنها ويصير إليها من يقول الحق ويهدي إلى الحق، وإذا قيل له الحق لم يغضب، ومات على الحق، قلت: يا جبريل! هل تسمي أحدا؟ قال: نعم، رجلا واحدا، قلت: من ذاك الواحد؟ قال: عمر بن الخطاب"، فشهق عمر شهقة فخر مغشيا عليه إلى الغد من تلك الساعة. قال أبو محمد: فحدثني عبد الله بن الحسن أن عمر بن الخطاب لم يضحك ملء فيه بعد ذلك حتى فارق الدنيا. "ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تذکرہ مجلس کی زینت ہے
35839 ۔۔۔ برید ہ (رض) نے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے تو کالے رنگ کی باندی آئی اور کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے نذر مانی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحیح سالم واپس لایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤ نگی تو آپ نے فرمایا اگر تو نے واقعی نظر مانی ہے تو دفب بجالے ورنہ نہیں تو وہ دف بجانے لگے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے ابوبکر صدیق بھی آگئے وہ ابھی تک دف بجاتی رہی پھر عمر (رض) آئے تو باندی نے فورا دف کو زمین پر پھینک دیا اور اس کے اوپر بیٹھ گئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شیطان تم سے ڈرتا ہے اے عمر میں بیٹھا ہوا تھا وہ دف بجاتی رہی پھر ابوبکر (رض) داخل ہوئے وہ دف بجاتی رہی پھر جب تم داخل ہوئے اس نے فوراً دف کو پھینکا اور اس کے اوپر بیٹھ گئی۔ (احمد ابویعلی ابن عساکر)
35839- عن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم قدم من بعض مغازيه فأتته جارية سوداء فقالت: يا رسول الله؟ إني كنت نذرت إن ردك الله سالما أن أضرب بين يديك بالدف، قال: إن كنت نذرت فاضربي وإلا فلا؛ فجعلت تضرب والنبي صلى الله عليه وسلم جالس، فدخل أبو بكر وهي تضرب، ثم دخل عمر فألقت الدف تحتها وقعدت عليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الشيطان ليخاف - وفي لفظ: ليفرق منك يا عمر! إني كنت جالسا وهي تضرب، ثم دخل أبو بكر وهي تضرب، فلما دخلت ألقت الدف تحتها وقعدت عليه. "حم، ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے حق میں دعا
35840 ۔۔۔ عائشہ (رض) عنہاروایت کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا اے عمر بن خطاب کے ذریعہ خصوصیت کے ساتھ اسلام کو غلبہ نصیب فرما۔ (یعقوب بن سفیان ابن عدی بیہقی ابن عساکر)
35840- عن عائشة قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب خاصة". "يعقوب بن سفيان، عد ق في ... كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے حق میں دعا
35841 ۔۔۔ عائشہ (رض) روایت کرتی ہیں کہ ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کچھ باتوں کا فیصلہ تھا تو آپ نے فرمایا کہ تم یہ چاہتی ہو کہ ہمارے درمیان ابوبکر (رض) ہوں تو عرض کیا نہیں تو فرمایا یہ چاہتی ہے پھر ہمارے درمیان عمر (رض) ہوں میں نے کہا کون عمر ؟ فرمایا عمربن خطاب تو میں نے کہا اللہ کی قسم نہیں میں عمر (رض) سے ڈرتی ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ شیطان عمر (رض) سے ڈرتا ہے فرمایا ان کے چلنے کی آہٹ سے ڈرتا ہے۔ (ٕرواہ ابن عساکر)
35841- عن عائشة: أنه كان بينها وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم كلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ترضين أن يكون بيني وبينك أبو بكر "؟ فقلت: لا، قال: "ترضين أن يكون بيني وبينك عمر": قلت: من عمر قال: عمر بن الخطاب، قلت: لا والله إني أفرق من عمر! قال النبي صلى الله عليه وسلم: "الشيطان يفرق من عمر" - وفي لفظ: من حس عمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے حق میں دعا
35842 ۔۔۔ عائشہ (رض) روایت کرتی ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے ایک دم لوگوں کا بچوں کا شور ہواتودیکھا کچھ حبشی کھیل کے کرتب دکھا رہے تھے اور لوگ اردگردجمع تھے تو آپ نے فرمایا آجاؤ کھیل دیکھ لو میں اپنی تھوڑی ان کی کندھے رکھے پر سر اور کندھے کے درمیان سے ریکھتی رہی آپ بار بار فرماتے رہے یا عائشہ (رض) کیا سیر نہیں ہوئی ؟ میں کہتی نہیں میرا مقصد یہ تھا کہ میں دیکھانا چاہتی تھی کہ آپ کے نزدیک میرا کتنا مقام ہے میں نے دیکھا آپ بار بار پاؤں بدکر راحت حاصل کررہے تھے اچانک عمر (رض) آگئے تو لوگ اور بچے سب منتشر ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے دیکھا انسنا اور جنات دونوں کے شیاطین بھاگ گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھوڑی ہی دیر میں بچھاڑ دئیے جاؤ گے لوگوں میں بچھاڑ دئیے گئے لوگوں نے اس کی خبردی ۔ (عدی ابن عساکر)
35842- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان جالسا فسمع ضوضاء الناس والصبيان فإذا حبشية تزفن والناس حولها، فقال: "يا عائشة! تعالي فانظري"، فوضعت خدي على منكبيه فجعلت أنظر ما بين المنكبين إلى رأسه، فجعل يقول: "يا عائشة! ما شبعت"؟ فأقول: لا - لأنظر منزلتي عنده، فلقد رأيته يراوح بين قدميه: فطلع عمر فتفرق الناس عنها والصبيان وقال النبي صلى الله عليه وسلم: "رأيت شياطين الإنس والجن فروا من عمر"، وقال النبي صلى الله عليه وسلم:

" لا تلبث أن تصرع" فصرعت في الناس فأخبروا بذلك. "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক: