কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৮৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35863 ۔۔۔ ابن عمر (رض) عوایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے خواب میں جنت کو دیکھا کہ اس میں ایک حسین عورت وضو کررہی ہے محل کے ایک جانب میں نے پوچھایہ محل کس کا ہے ؟ لوگوں نے بتایا عمر (رض) کا مجھے ان کی غیرت یاد آئی اس لیے پیچھے ہٹ گیا یہ روایت سن کر عمر (رض) روپڑے وہ مجلس میں تھے اور عرض کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوجائیں مجھے آپ پر غیرت آئے گی ؟ (رواہ ابن عساکر)
35863- عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " بينا أنا نائم رأيتني في الجنة فإذا أنا بامرأة توضأ إلى جانب قصر! فقلت: لمن هذا القصر؟ فقالوا: لعمر"، فذكرت غيرته فوليت مدبرا، فبكى عمر وهو في المجلس فقال: عليك بأبي وأمي أنت يا رسول الله أغار. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35864 ۔۔۔ (مسند ابن عباس (رض)) ابن عمر (رض) ایک گھوڑے پر سوار ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اور اس کو ایڑھ لگائی تو ان کی ران کا کچھ حصہ کھل گیا تو اہل نجران کو ان کے ران پر سیاہ دانہ نظر آیا تو انھوں نے کہا یہ وہی ہے جس کے متعلق ہم اپنی کتاب میں پاتے ہیں کہ یہ ہم کو ہماری سرزمین سے باہر نکال دیں گے۔ (ابونعیم نے معرفہ میں نقل کیا اور اس کی سند صحیح ہے)
35864- "مسند ابن عباس" ركب عمر فرسا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فركضه فانكشف فخذه، فرأى أهل نجران على فخذه شامة سوداء فقالوا: هذا الذي نجده في كتابنا أنه يخرجنا من أرضنا. "أبو نعيم في المعرفة وسنده صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35865 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ اہل اسلام (رض) کے اسلام سے خوش ہوئے ۔ (رواہ ابن عساکر)
35865- عن الحسن قال: لقد فرح أهل الإسلام بإسلام عمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35866 ۔۔۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے تو ایک مسلمان کا ایک منافق پر گذر ہوا تو اس سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہیں اور تم بیٹھے ہوئے ہو تو اس نے جواب دیا تمہیں کوئی درپیش ہو تو کام پر چلے جاؤ تو انھوں نے کہا میرا خیال یہی ہے کہ تم پر ایسا آدمی گذرے گاجوتجھ پر نکیر کرے گا اتفاق سے عمربن خطاب (رض) کا گذر ہوا اس سے پوچھا اے فلاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہیں اور تم بیٹھے ہوئے ہو تو اس نے پہلے جیسا جواب دیاتو فورا اس پر جھپنے اور اس کو ڈانٹا پھر مسجد میں داخل ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز ادا کی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے ہو تو عمر (رض) آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا اے اللہ کے نبی میرا فلاں پر گذرہو آپ نماز میں تھے میں نے اس سے پوچھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا رہے ہیں تم ویسے بیٹھے ہوئے ہو تو اس نے جواب دیا اپنے کام میں لگ جاؤ اگر کوئی کام کرنا چاہتے ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کی گردن کیوں نہ ماردی ؟ تو جلدی سے اس کے لیے اٹھا لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمرواپس آجاؤ کیونکہ تمہارے غصہ میں عزت ہے اور رضاء میں حکمت ہے اللہ کے فرشتے ساتوں آسمان میں اللہ کے لیے نماز پڑھتے ہیں اور فلاں کی نماز سے مستغنی ہے تو عمر (رض) سے پوچھا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی نماز کس طرح ہوتی ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی جواب نہیں دیا تو جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا اے اللہ کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا عمرفرشتوں کی آسمان میں نماز کے متعلق سوال کررہا ہے فرمایا ہاں تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا ان کو سلام پہنچا دیں پھر بتادیں کہ آسمان دنیا والے سجدہ میں ہیں قیامت کے لیے اور ان کی تسبیح ہے سبحان ذی الملک والملکوت دوسرے آسمان والے قیامت تک کے لیے حالت قیات میں ہیں اور ان کی تسبیح سبحان رب العزة والجبروت اور تیسرے آسمان والے حالت قیام میں ہیں قیامت تک کے لیے اور ان کی تسبیح ہے سبحان الحی الذی لایموت ۔ (رواہ ابن عساکر)
35866- عن سعيد بن جبير قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي فمر رجل من المسلمين على رجل من المنافقين فقال له: النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وأنت جالس! فقال له: امض إلى عملك إن كان لك عمل، فقال: ما أظن إلا سيمر عليك من ينكر عليك، فمر عليه عمر بن الخطاب فقال له: يا فلان! النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وأنت جالس! فقال له مثلها، فوثب عليه فضربه حتى انتهر، ثم دخل المسجد فصلى مع النبي صلى الله عليه وسلم، فلما انفتل النبي صلى الله عليه وسلم قام إليه عمر، قال: يا نبي الله! مررت آنفا على فلان وأنت تصلي فقلت له: النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وأنت جالس! قال: مر إلى عملك إن كان لك عمل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "فهلا ضربت عنقه"؟ فقام مسرعا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "يا عمر! ارجع، فإن غضبك عز ورضاك حكم، إن لله في السماوات السبع ملائكة يصلون له غني عن صلاة فلان"، فقال له عمر: يا نبي الله! وما صلاتهم! فلم يرد عليه شيئا، فأتاه جبريل فقال: يا نبي الله! سألك عمر عن صلاة أهل السماء؟ قال: نعم، قال: أقرئ عمر السلام وأخبره أن أهل السماء الدنيا سجود إلى يوم القيامة يقولون: سبحان ذي الملك والملكوت، وأهل السماء الثانية قيام إلى يوم القيامة يقولون سبحان رب العزة والجبروت! وأهل السماء الثالثة قيام إلى يوم القيامة يقولون: سبحان الحي الذي لا يموت. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35867 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ (اللھم اید الاسلام یعمر۔ رواہ ابن عساکر)
35867- عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اللهم! أيد الإسلام بعمر". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35868 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) کہتے ہیں عمر (رض) کے اسلام قبول کرنے کے بعد ہم برابر باعزت ہوتے گئے۔ (رواہ ابن عساکر)
35868- عن ابن مسعود قال: ما زلنا أعزة منذ أسلم عمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35869 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ عمر (رض) کا اسلام عزت تھی ان کی ہجرت فتح ونصرت ان کی امارت رحمت اللہ کی قسم ہم بہت گرد اعلانیہ نماز پڑھنے پر قادر نہ تھے یہاں عمر (رض) نے اسلام قبول کیا جب عمر (رض) نے اسلام قبول کیا تو ان سے مقابلہ کیا یہاں تک ہم نے نماز پڑھی میرے خیال میں عمر (رض) کی دوآنکھوں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو ان کی تائید کرتا ہے میرے خیال میں شیطان ان سے ڈرتا ہے صلحاء کا تذکرہ وتو عمر (رض) کا تذکرہ ضرور ہونا چاہیے ۔ (ٕرواہ ابن عساکر )
35869- عن ابن مسعود قال: إن إسلام عمر كان عزا وإن هجرته كانت فتحا ونصرا وإمارته كانت رحمة، والله ما استطعنا أن نصلي حول البيت ظاهرين حتى أسلم عمر، فلما أسلم عمر قاتلهم حتى صلينا، وإني لأحسب بين عيني عمر ملكا يسدده، وإني لأحسب الشيطان يفرقه، وإذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35870 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں ہم اس بات میں نہیں آسکتے تھے کہ عمر (رض) کی زبان پر سکینہ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35870- عن ابن مسعود قال: ما كنا نتعاجم أن السكينة تنطق على لسان عمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35871 ۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عمر (رض) اہل جنت میں سے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
35871- عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن عمر من أهل الجنة". "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35872 ۔۔۔ ابن عقیل اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں تھے انھوں نے عمر (رض) کا ہاتھ پکڑا پوچھا اے عمرتم مجھ سے محبت کرتے ہو ؟ تو انھوں نے عرض کیا آپ میرے نفس کے علاوہ ہرچیز سے محبوب ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے تمہارے نفس کے مقابلہ میں بھی مجھے محبوب بنانا ہوگا تو عمر (رض) نے کہا اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمر اب (ایمان کامل ہوا ہے) ۔ (رواہ ابن عساکر)
35872- عن أبي عقيل عن جده قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بيد عمر بن الخطاب فقال: "أتحبني يا عمر"؟ قال: لأنت أحب إلي من كل شيء إلا نفسي، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: " لا والذي نفسي بيده حتى أكون أحب إليك من نفسك"! فقال عمر: فأنت يا رسول الله أحب إلي من نفسي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "الآن يا عمر". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35873 ۔۔۔ (مسندعلی) شعبی (رح) سے منقول ہے کہ علی (رض) کے سامنے عمر (رض) کا یہ قول نقل کیا گیا میرے دل میں یہ بات آئی جب تمہارا دشمن سے مقابلہ ہوگا تم ان کو شکست دوگے تو علی (رض) نے کہا کہ اس کو بعید نہیں سمجھتے تھے عمر (رض) کی زبان پر سینہ نازل ہوتا ہے اور قرآن میں بہت سی آیات عمر (رض) کی رائے پر نازل ہوئیں ہیں امام شعبی فرماتے ہیں ہر امت میں دین کو تجدید کرنے والا ہوا اس امت کے مجد د عمر بن خطاب (رض) ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
35873- "مسند علي" عن الشعبي قال: ذكر عند علي قول عمر: قد ألقي في روعي أنكم إذا لقيتم العدو هزمتموهم، فقال علي: ما كنا نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمر، وإن في القرآن لرأيا من رأي عمر. وقال الشعبي: إن لكل أمة محدثا وإن محدث هذه الأمة عمر بن الخطاب. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) اسلام کی قوت کا سبب
35874 ۔۔۔ مجاہد (رض) سے منقول ہے جب کسی معاملہ میں عمر (رض) کی ایک رائے ہوتی ہے اس کے مطابق قرآن نازل ہوتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35874- عن مجاهد قال: كان عمر إذا رأى رأيا نزل به القرآن. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35875 ۔۔۔ علی (رض) سے منقول ہے کہ ہم آپس میں بات کرتے تھے کہ عمر (رض) کی زبان اور دل پر سکینہ نازل ہوتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35875- عن علي قال: كنا نتحدث أن السكينة تنطق على لسان عمر وقلبه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35876 ۔۔۔ (ٕایضا) وھب سوائی سے منقول ہے کہ علی (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پوچھا کہ نبی کے بعد اس امت کا بہتر شخص کون ہے لوگوں نے کہا اے امیر المومنین آپ تو فرمایا نہیں بلکہ ابوبکر ان کے بعدعمر (رض) ہمارا گمان یہی تھا کہ عمر (رض) کی زبان پر سکینہ نازل ہوتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
35876- "أيضا" عن وهب السوائي قال: خطب علي الناس فقال: من خير هذه الأمة بعد نبيها؟ قالوا: أنت يا أمير المؤمنين! قال: لا، بل أبو بكر ثم عمر، إنا كنا نظن أن السكينة لتنطق على لسان عمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35877 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ عمر (رض) کے عصہ سے بچو کیونکہ ان کے غصہ پر اللہ کو بھی غصہ آتا ہے۔ (ابن شاہین المتنا ھیہ 305)
35877- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اتقوا غضب عمر بن الخطاب! فإنه إذا غضب غضب الله له". "ابن شاهين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35878 ۔۔۔ علی (رض) سے روایت ہے جب صالحین کا تذکرہ ہو عمر (رض) کا ضرور تذکرہ ہونا چاہیے کیونکہ اصحابہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات کو بعید نہیں سمجھتے تھے کہ عمر (رض) کی زبان پر سکینہ نازل ہوتا ہے۔ (طبرانی فی الاوسط)
35878- عن علي قال: إن ذكر الصالحون فحي هلا بعمر، ما كنا نبعد أصحاب محمد أن السكينة تنطق على لسان عمر. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35879 ۔۔۔ (ایضا) عبدخیرروایت کرتے ہیں کہ میں علی (رض) کے قریب تھا جب ان کے پاس نجران کا وفد آیا میں نے کہا اگر عمر (رض) پروردگار تو وہ آؤ گا دن ہے انھوں نے سلام کیا اور آپ کے سامنے صف باندھ کر بیٹھ گئے ھر بعض نے اپنا ہاتھ قمیص میں داخل کیا ایک خط نکال کر علی (رض) کے سامنے رکھا اور کہا امیر المومنین آپ کی تحریر آپ کے سامنے ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ سے املاء کروایا تھا تو راوی کا بیان ہے کہ علی (رض) کے آنسو بہہ کر رخسار پر پڑے پھر ان کی طرف سر افھایا اور فرمایا اے اہل نجران یہ آخری خط ہے جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لکھاتو انھوں نے کہا جو کچھ اس میں ہے ہمیں بتائیں تو علی (رض) نے فرمایا میں تمہیں بتاتاہوں کہ عمر (رض) نے تم سے جو کچھ لیا اپنی ذات کے لیے نہیں لیاوہ مسلمانوں کی جماعت کے لیے لیا ہے اور جو تم سے لیا وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا اللہ کی قسم عمر (رض) کے جو کچھ کیا میں اس کو رد نہیں کرونگا بیشک عمر (رض) معاملہ کے درست فیصلہ کرنے والے تھے۔ (بیہقی)
35879- "أيضا" عن عبد خير قال: كنت قريبا من علي حين جاءه أهل نجران، قلت: إن كان رادا على عمر شيئا فاليوم! قال: فسلموا واصطفوا بين يديه، ثم أدخل بعضهم يده في كمه وأخرج كتابا فوضعه في يد علي، قالوا: يا أمير المؤمنين! خطك بيمينك وأملأ رسول الله صلى الله عليه وسلم عليك، قال: فرأيت عليا وقد جرت الدموع على خده ثم رفع رأسه إليهم وقال: يا أهل نجران! إن هذا لآخر كتاب كتبته بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ قالوا: فأعطنا ما فيه، قال: سأخبركم عن ذلك، إن الذي أخذ منكم عمر لم يأخذه لنفسه، إنما أخذه لجماعة المسلمين، وكان الذي أخذ منكم خيرا مما أعطاكم، والله لا أرد شيئا صنعه عمر! وإن عمر كان رشيد الأمر. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35880 ۔۔۔ (ایضا) سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے داخل ہونے کی اجازت طلب کی اس وقت آپ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں تھیں آپ سے بیت المال کے مال کا مطالبہ کررہی تھیں اور اصرار کے ساتھ آوازیں بلند کررہی تھیں جب عمر (رض) نے اجازت مانگی جلدی سے پردہ کی اوٹ میں چھپ گئیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو داخل ہونے کی اجازت دی تو عمرداخل ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تبسم فرما رہے تھے تو عمر (رض) نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو ہنسنے کی کیا وجہ ہے ؟ اللہ کے رسول تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا جو میرے پاس تھیں جب انھوں نے تمہاری آواز سنی فورا پردہ کی اوٹ میں چھپ گئیں تو عمر (رض) نے کہا اے کے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زیادہ حقدار ہیں کہ یہ آپ سے ڈرتیں پھر ان عورتوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا اے اپنے نفس کے دشمنو تم مجھ سے ڈرتی ہو اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں عورتوں نے کہا ہاں تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ سخت ہو زبان ودل کے اعتبار سے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابن خطاب ہاں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے شیطان بھی جب تم سے راستہ میں ملتا تو فورا راستہ بدل لیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
35880- "أيضا" عن سعد بن أبي وقاص قال: استأذن عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده نسوة من قريش يسألنه ويستكثرنه عالية أصواتهن على صوته، فلما استأذن عمر تبادرن الحجاب فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يضحك، فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله أضحك! الله سنك ما يضحكك؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك تبادرن الحجاب"، فقال عمر: فأنت يا رسول الله! بأبي أنت وأمي كنت أحق أن يهبن، ثم أقبل عليهن فقال: أي عدوات أنفسهن! أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم: قلن: نعم، أنت أفظ وأغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إيه يا ابن الخطاب! والذي نفس محمد بيده! ما لقيك الشيطان سالكا فجا إلا سلك فجا غير فجك ". "خ، م".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35881 ۔۔۔ زبیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی اے اللہ عمربن خطاب کے ذریعہ دین کو قوت نصیب فرما۔ (خیثمہ فی فضائل التحابة ابن عساکر)
35881- عن الزبير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب. "خيثمة في فضائل الصحابة، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35882 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہا کہ عمر (رض) کو سلام سنادیں اور بتادیں ان کا غصہ عزت ہے اور حالت رضا انصاف ہے۔ (ابنونعیم اور اس میں محمد بن ابراہیم بن زیاد الطیالسی ، دارقطنی نے کہا متروک ہیں)
35882- عن أنس أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أقرئ عمر السلام وأعلمه أن غضبه عز ورضاه عدل. "أبو نعيم، وفيه محمد بن إبراهيم بن زياد الطيالسي، قال قط: متروك".
তাহকীক: