কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৮৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی زبان پر سکنہ نازل ہونا
35883 ۔۔۔ (مسندانس (رض)) عمروبن رافع قزوینی یعقوب قمی سے وہ جعفر بن ابی مغیرہ سے وہ سعید بن جبیر سے وہ انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھ سے کہا کہ عمر (رض) کو سلام پہنچادو اور یہ کہ ان کی رضاعدل ہے اور ان کا غصہ عزت ہے۔ (رواہ ابن عساکر )
35883- "مسند أنس" عن عمر بن رافع القزويني عن يعقوب القمي عن جعفر بن أبي المغيرة عن سعيد بن جبير عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال لي جبريل: "أقرئ عمر السلام وأعلمه أن رضاه عدل وغضبه عز". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا سلام
35884 ۔۔۔ (ایضا) ابراہیم بن رستم سے مروی ہے کہ ہم سے بیان کیا یعقوب بن عبداللہ قمی نے جعفری بن ابی المغیر ہ سے انھوں نے سعیدبن جبیر سے انھوں نے انس بن مالک (رض) سے کہ جبرائیل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہا کہ عمر (رض) کو سلام پہنچا دو اور یہ بتادیں کہ ان کا غصہ عزت ہے اور رضاء عدل و انصاف ہے (عدی ابن عساکر عدی نے کہا یہ حدیث یعقوب بروایت ابراہیم متصل السند نہیں ہے ایک جماعت نے یعقوب سے وہ جعفر سے انھوں نے سعید بن جبیر سے مرسلا نقل کیا ہے)
35884- "أيضا" عن إبراهيم بن رستم حدثنا يعقوب بن عبد الله القمي عن جعفر بن أبي المغيرة عن سعيد بن جبير عن أنس ابن مالك أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أقرئ عمر السلام أعلمه أن غضبه عز ورضاه عدل. "عد، كر، قال عد: هذا الحديث لم يوصله عن يعقوب غير إبراهيم بن رستم، ورواه جماعة عن يعقوب عن جعفر عن سعيد بن جبير مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا سلام
35885 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں تشریف فرما تھے قریش کی چند عورتیں آئیں آپ سے کچھ مانگ رہی تھیں اور اصرار کررہی تھیں آوازیں بلند کرکے اتنے میں عمر (رض) تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت حاصل کی جب عورتوں نے عمر (رض) کی آواز سنی جلدی سے پردے میں چلی گئیں عمر (رض) کو اندر آنے کی اجازت مل گئی تو عمر (رض) داخل ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس رہے تھے عمر (رض) نے دعا پڑھی اضحک اللہ سنک اے کے نبی اللہ تعالیٰ آپ کو مزید خوشی نصیب کرے ہنسنے کی وجہ کیا ہے ؟ تو فرمایا کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ قریش کی چند عورتیں آئیں مجھے سے کچھ مانگ رہی تھیں اور اصرار کرتے ہوئے آوازیں بلند کررہی تھیں میری آواز پر جب تمہاری آواز سنی جلدی سے پردے کی اوٹ میں چھپ گئیں تو عمر (رض) نے اے اپنے نفس کے دشمنو ! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جرات کرتی ہو تو ان میں ایک عورت نے کہا کہ تم زیادہ سخت ہو زبان اور گرفت کے اعتبار سے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمرجاؤ اللہ کی قسم جس وادی سے عمر گذرتا ہے وہاں سے کبھی شیطان نہیں گذرتا ۔ (رواہ ابن عساکر)
35885- عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في داره فدخل عليه نسوة من قريش يسألنه ويستخبرنه رافعات أصواتهن، فأقبل عمر فاستأذن، فلما سمعن صوت عمر بادرن الحجاب، فأذن لعمر فدخل، فاشتد ضحك النبي صلى الله عليه وسلم، فقال عمر: أضحك الله سنك يا نبي الله! مم ضحكت؟ قال: " لا إلا أن نسوة من قريش دخلن علي يسألنني ويستخيرنني رافعات أصواتهن فوق صوتي، فلما سمعن صوتك بادرن الحجاب"، فقال عمر: يا عدوات أنفسهن! تهبنني وتجترين على نبي الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت امرأة منهن: إنك أفظ وأغلظ، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: " مه عن عمر! فوالله ما سلك عمر واديا قط فسلكه الشيطان". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا سلام
35886 ۔۔۔ طارق عمربن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں چالیس میں چوتھا مسلمان ہوں تو یہ آیت نازل ہوئی : یایھا النبی حسبک اللہ ومن اتبعک من المومنین ابومحمد اسماعیل بن علی الخطیبی فی الاول من حدیثہ)
35886- عن طارق عن عمر بن الخطاب قال: أسلمت رابع أربعين فنزلت: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ} . "أبو محمد إسماعيل بن علي الخطبي في الأول من حديثه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا سلام
35887 ۔۔۔ ابن عمر سے روایت ہے کہ قریش کا اجتماع ہوا اور اس بات پر مشورہ ہوا کہ کون اس صابی ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائے اور ان کو اپنے ارادہ سے پھیر دے اور ان کو قتل کردے عمربن خطاب نے کہا میں تو ایک خفیہ معلومات فراہم کرنے والا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہ عمربن خطاب آپ کے پاس آئے گا آپ ان سے ہوشیارر ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے عمر (رض) نے دروازہ پر ہیں تو آپ کے پاس جو مہاجرین تھے وہ نو تھے دسویں خدیجہ انھوں نے یارسول ہم ان سے شفاء حاصل نہ کرلیں کہ آپ ان کی گردن ماردیں تو ارشاد فرمایا نہیں پھر دعا کی : اللگم اعزالالم لعمر بن الخطاب ۔ جب عمربن خطاب داخل ہوا تو پوچھا اے محمد آپ کیا کہتے ہیں تو آپ نے فرمایا یہ کہتاہوں اشھدان اللہ لالہ الا اللہ وحد لاشریک لہ وان محمد ا عبدہ ورسولہ ۔ کہ میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہیں ان کے ساتھ کوئی شریک نہیں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے بندہ اور رسول ہیں ہم ایمان لاتے ہیں جنت جہنم قیامت کے حق ہونے پ تو عمر نے بیعت کرلی اور اسلام قبول کرلیا ان پر پانی ڈالا گیا یہاں تک کہ غسل کرلیا پھر آپ کے ساتھ کھانا کھایا یا رات آپ کے ساتھ ہی نماز پڑھتے رہے اور صبح کے وقت اپنی تلوار لٹکائی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ اور سلمان آپ کے پیچھے یہاں تک کے قریش کے پاس پہنچے ان کا اجتماع ہوا ان کے سامنے کہا : اشھدان لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ جو چاہے اسلام قبول کرے جو چاہے کفرپر قائم قریش مجلس چھوڑ کر منتشر ہوگئے۔ (ابن عساکر ابن النجار)
35887- عن ابن عمر قال: اجتمعت قريش فقالوا: من يدخل على هذا الصابئ فيرده عما هو عليه فيقتله؟ فقال عمر بن الخطاب: أنا، فأتى العين رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله! إن عمر بن الخطاب يأتيك فكن منه على حذر! فلما أن صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة المغرب قرع عمر الباب وقال: افتحي يا خديجة فلما أن دنت قالت: من هذا؟ قال: عمر، قالت: يا نبي الله! هذا عمر، فقال من عنده من المهاجرين وهم تسعة صيام وخديجة عاشرتهم: ألا نشتفي يا رسول الله فنضرب عنقه؟ قال: "لا"، ثم قال: " اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب"! فلما دخل قال: ما تقول يا محمد! قال: أقول أن تشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وتؤمن بالجنة والنار والبعث بعد الموت فبايعه وقبل الإسلام، وصبوا عليه من الماء حتى اغتسل، ثم تعشى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وبات يصلي معه، فلما أصبح اشتمل على سيفه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يتلوه والمهاجرون خلفه حتى وقف على قريش وقد اجتمعوا فقال: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر؛ فتفرقت حينئذ قريش عن مجالسها. "كر وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا سلام
35888 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ پھر قریش نے عمر (رض) تیارکرکے بھیجا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاش مے ں وہ اس وقت تک مشرک تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفاء پہاڑ کے دامن میں ایک گھر میں تھے نحام (رض) کی عمر سے ملاقات ہوئی وہ نعیم بن عبداللہ بن اسید بنی عدی بن کعب کے بھائی جو اس سے قبل مسلمان ہوچکے تھے اور عمر تلوار لٹکائے ہوئے تھے پوچھا اے عمر قصدواردہ ہے ؟ تو بتایا میں محمد کے پاس جارہا ہوں جنہوں نے قریش کو بیوقوف کہا اور ان کے معبودوں کو بیوقوف بتلایا اور جماعت کی مخالف کی نحام نے ان سے کہا اے عمر تم تو بہت بڑا رداہ لے کر نکلے ہو تم ہی نے عدی بن کعب کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیا کیا تم بنی ہاشم اور نبی زہر ہ سے بچ جاؤگے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرکے دونوں نے گفتگو یہاں تک کی کہ دونوں کی آواز بلند ہوگئی تو عم (رض) نے کہا میرے خیال میں تم بھی صابی ہوچکے ہو اگر مجھے اس کا علم ہوجائے تو تم ہی سے شروع کرتا ہوں جب نحام نے دیکھا عمر اپنے ارادہ سے باز آنے والا نہیں ہے تو کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ تمہارے گھر والے مسلمان ہوچکے ہیں اور تمہارا بہنوئی بھی مسلمان ہوچکا اور تمہیں اپنی گمراہی پر چھوڑ دیا جب عمر (رض) نے یہ بات سنی تو پوچھا کون کون تو بتایا تمہارے بہنوئی چچازاد بھائی اور تمہاری ہمشیرہ تو عمر (رض) اپنی بہن کے پاس پہنچا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب صحابہ کرام (رض) میں سے کوئی حاجت مند آتا تو کسی مالدار کو دیکھ فرماتے کہ فلاں کو اپنے مہمان بلان لو اسی پر اتفاق کیا عمر کے چازاد بھاءی اور ان کے بہنوئی سعد بن زید بن عمر وابن نفیل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خباب بن ارت مولی ثابت ابی ام انمارزھرہ کے حلیف ان کا حوالہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (طہ ما انزلنا علیک القرآن لتشقی لاتذکرہ لمن یخشی ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جمعرات کی رات کو دعا کی اللھم اعزالاسلام بمعمر بن الخطاب اوبابی الحکم بن ہشام تو عمر (رض) کے چچازاد بھائی اور بہن نے کہا ہمیں امید ہے کہ رسول اللہ کی دعاقبول ہوئی ہوگی وہ دعا قبول ہوئے روای نے کہا عمر (رض) آئے بہن کے گھر کے دروازے پر تاکہ ان پر حملہ کرے ان کے سلام قبول کرنے کی خبر کی وجہ تو دیکھاخباب بن ارت عمر (رض) کی بہن کے پاس ان پڑھا رہے تھے (طہ) اور وہ پڑھ رہی اذا الشمس کورت مشرکین دس کو ہمیشہ کہا کرتے تھے جب عمرداخل ہوئے تو بہن ان کے چہرے پر برے ارادہ کو بھانپ گئی اس لئی صحیفہ کو چھپادیا اور خبا (رض) بھی سرک گئے عمر گھر میں داخل ہوا اور بہن سے پوچھا یہ کس چیز کے پڑھنے کی آواز تھی تمہارے گھر میں ؟ بہن نے کہا ہم آپس میں باتیں کررہے تھیں اس کو ڈانٹا اور قسم کھالی جب تک حالت نہیں بتاوگی گھر سے نہیں جاؤ گا اس کے شویر سعید بن زیدبن عمروبن نفیل نے کہا تم لوگوں کو اپنی خواہش پر جمع نہیں کرسکتے اگرچہ حق اس کے خلاف میں ہو اس بات پر عمرکو غصہ آگیا ان کو پکڑلیا خوب اچھی طرح پٹائی کردی انتہائی غصہ میں تھے شوہر کو چھڑانے کے لیے بہن کھڑی ہوئی تو عمر نے اس کو بھی ایک طمانچہ رسید کیا جس سے چہر زخمی ہوگیا جب خون دیکھاتوکہا تو بہن نے کہا تمہیں جو خبریں پہنچی ہیں کہ میں نے تمہارے معبودوں کو چھوڑ دیا لات وعزی کی عبادت سے انکار کردیا یہ حق ہے اشھد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمد عبدہ ورسولہ اپنی بارے میں سوچ لے اور جو فیصلہ کرنا چاہو کرلو جب عمر نے یہ حالت دیکھی تو اپنے فعل پر نادم ہوا اور بہن سے کہا کیا تم جو پڑھ رہی تھی وہ مجھے دوگی میں تمہیں اللہ کا اعتماد دلاتا ہوں میں اس کو پھاڑ ونگا نہیں بلکہ پڑھ کر واپس کردوں گا۔ جب بہن نے اس کو دیکھا اور قرآن پڑھنے کی حرص کو دیکھا اس کو امید ہوگئی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا عمر کے حق میں قبول ہوگئی ہے کہنے لگے تو نجس ہے قرآن کو ناپاک ہاتھ نہیں لگاسکتا ہے اور مجھے تجھ پر کوئی زیادہ اطمینان نہیں تم غسل کرلو جس طرح جنابت سے غسل کیا جاتا ہے اور مجھے کوئی ایسا اعتماد دلاؤ جس سے میرا دل مطمئن ہوجائے تو عمرنے ایسا ہی کیا تو ان کو صحیفہ دیدیا عمر کتاب پڑھنا جانتا تھا تو انھوں نے (طلحہ) کی سورة پڑھی یہاں تک جب اس پر آیت پر پہنچا ان الساعة انبیہ اکادا خفیھا لتجزی کل نفس بماتسعی فتردی تک اور پڑھا اذا الشمس کورت یہاں تک جب علمت نفس مااحضرت پڑھا اس وقت عمر مسلمان ہوگئے بہن اور بہنوئی سے کہا اسلام کیسامذہب ہے تو دونوں نے بتایا تشھدان لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وان محمد اعبدہ ورسولہ اور یہ کہ تمام معبودوں کو چھوڑ دو لات وعزی کا انکار کرو عمر نے ایسا کیا خباب (رض) نکل آیا جو گھر کے اندر چھپا ہوا تھا اور اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور کہا اے عمر تمہیں بشارت ہوا اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری عزت و تکریم ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ اسلام کو عزت بخشے تو عمر (رض) نے کہا وہ گھر بتائیں جس میں اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں تو خباب بن ارت نے کہا میں آپ کو بتلاتا ہوں کہ اس گھر میں جو صفا کے دامن میں ہے عم (رض) اس طرف متوجہ ہوئے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کے بہت زیادہ حریص تھے ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبرملی کہ عمر آپ کو قتل کرنے کے لیے تلاش میں ہیں لیکن اسلام کی خبر نہیں ملی عمر اس گھر تک پہنچا اور دروازہ کھلوایا صحابہ ٔکرام (رض) نے جب عمر کو تلوار لٹکا کر آتے دیکھا خوف زدہ ہوگئے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ صحابہ کرام (رض) خوف زدہ ہیں تو آپ نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اگر اللہ تعالیٰ نے عمر کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمایا ہو تو وہ اسلام کی پیری کرے گا اور رسول کی تصدیق کرے گا اگر اس کے علاوہ کوئی بات ہو تو اس کو قتل کرنا ہمارے لیے آسان ہے کچھ صحابہ کرام (رض) دوڑ پڑے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر کے اندر ہی تشریف فرما تھے آپ پر وحی نازل ہورہی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے جب عمر (رض) کی آواز سنی آپ کے جسم پر چادر نہیں تھی آپ نے عمر (رض) کی قمیص کا گریبان اور چادر پکڑ لیا اور کہا اے عمر میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس حد تک پہنچ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی ایسا ہی عذاب نازل فرمائے۔ جیسے ولید بن مغیرہ پر۔ پھر فرمایا اے اللہ عمر کو ہدایت دے عمر (رض) ہنس پڑے اے اللہ کے نبی اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمد ا عبدہ ورسولہ مسلمانوں نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا جس کو دیوار کے باہر بھی لوگوں نے سنا مسلمان اس زمانہ میں چالیس سے کچھ اوپر مرد تھے اور گیارہ عورتیں۔ (رواہ ابن عساکر)
35888- "مسند عمر" عن ابن إسحاق قال: ثم إن قريشا بعثت عمر بن الخطاب وهو يومئذ مشرك في طلب رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم في دار في أصل الصفا ولقيه النحام وهو نعيم بن عبد الله بن أسيد أخو بني عدي بن كعب قد أسلم قبل ذلك وعمر متقلد سيفه فقال: يا عمر! أين تراك تعمد؟ فقال: أعمد إلى محمد هذا الذي سفه أحلام قريش وسفه آلهتها وخالف جماعتها فقال له النحام: لبئس الممشى مشيت يا عمر! ولقد فرطت وأردت هلكة بني عدي بن كعب أو تراك سلمت من بني هاشم وبني زهرة وقد قتلت محمدا صلى الله عليه وسلم فتحاورا حتى ارتفعت أصواتهما، فقال له عمر: إني لأظنك صبؤت ولو أعلم ذلك لبدأت بك، فلما رأى النحام أنه غير منته قال: فإني أخبرك أن أهلك وأهل ختنك قد أسلموا وتركوك وما أنت عليه من ضلالتك، فلما سمع عمر تلك المقالة يقولها قال: وأيهم؟ قال: ختنك وابن عمك وأختك، فانطلق عمر حتى أتى أخته، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتته الطائفة من أصحابه من ذوي الحاجة نظر إلى أولي السعة فيقول: عندك فلان! فوافق عليه ابن عم عمر وختنه زوج أخته سعيد بن زيد بن عمرو ابن نفيل، فدفع إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم خباب بن الأرت مولى ثابت ابن أم أنمار حليف بني زهرة وقد أنزل الله عز وجل {طه مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى إِلَّا تَذْكِرَةً لِمَنْ يَخْشَى} وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا ليلة الخميس فقال: "اللهم أعز الإسلام بعمر بن الخطاب أو بأبي الحكم بن هشام "! فقال ابن عم عمر وأخته: نرجو أن تكون دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمر، فكانت.

قال: فأقبل عمر حتى انتهى إلى باب أخته ليغير عليها ما بلغه من إسلامها فإذا خباب بن الأرت عند أخت عمر يدرس عليها {طه} وتدرس عليه {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} وكان المشركون يدعون الدراسة الهينمة فدخل عمر، فلما أبصرته أخته عرفت الشر في وجهه فخبأت الصحيفة، وراغ خباب فدخل البيت. فقال عمر لأخته: ما هذه الهينمة في بيتك؟ قالت: ما عدا حديثا نتحدث به بيننا، فعذلها وحلف أن لا يخرج حتى تبين شأنها، فقال له زوجها سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل: إنك لا تستطيع أن تجمع الناس على هواك يا عمر وإن كان الحق سواه فبطش به عمر فوطئه وطأ شديدا وهو غضبان، فقامت إليه أخته تحجزه عن زوجها؛ فنفحها عمر بيده فشجها، فلما رأت الدم قالت: هل تسمع يا عمر أرأيت كل شيء بلغك عني مما تذكره من تركي آلهتك وكفري باللات والعزى فهو حق؛ أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، فائتمر أمرك واقض ما أنت قاض، فلما رأى ذلك عمر سقط في يديه، فقال عمر لأخته: أرأيت ما كنت تدرسين أعطيك موثقا من الله لا أمحوها حتى أردها إليك ولا أريبك فيها، فلما رأت ذلك أخته ورأت حرصه على الكتاب رجت أن تكون دعوة رسول الله صلى الله عليه وسلم له قد لحقته فقالت: إنك نجس ولا يمسه إلا المطهرون ولست آمنك على ذلك، فاغتسل غسلك من الجنابة وأعطني موثقا تطمئن إليه نفسي، ففعل عمر، فدفعت إليه الصحيفة، وكان عمر يقرأ الكتاب فقرأ: {طه - حتى بلغ: إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى - إلى قوله: فَتَرْدَى} . وقرأ: {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ - حتى إذا بلغ: عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ} . فأسلم عند ذلك عمر، فقال لأخته وختنه: كيف الإسلام؟ قالا: تشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله، وتخلع الأنداد وتكفر باللات والعزى، ففعل ذلك عمر، فخرج خباب وكان في البيت داخلا، فكبر خباب وقال: أبشر يا عمر بكرامة الله! فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد دعا لك أن يعز الله الإسلام بك، فقال عمر: دلوني على المنزل الذي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له خباب بن الأرت: أنا أخبرك، فأخبر أنه في الدار التي في أصل الصفا: فأقبل عمر وهو حريص على أن يلقى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم أن عمر يطلبه ليقتله ولم يبلغه إسلامه، فلما انتهى عمر إلى الدار استفتح، فلما رأى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر متقلدا بالسيف أشفقوا منه، فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجل القوم فقال: "افتحوا له، فإن كان الله يريد بعمر خيرا اتبع الإسلام وصدق الرسول، وإن كان يريد غير ذلك يكن قتله علينا هينا"، فابتدره رجال من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم داخل البيت يوحي إليه، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حين سمع صوت عمر وليس عليه رداء حتى أخذ بمجمع قميص عمر وردائه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما أراك منتهيا يا عمر حتى ينزل الله بك من الرجز ما أنزل بالوليد بن المغيرة"! ثم قال: "اللهم اهد عمر"! فضحك عمر فقال: يا نبي الله! أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، فكبر أهل الإسلام تكبيرة واحدة سمعها من وراء الدار، والمسلمون يومئذ بضعة وأربعون رجلا وإحدى عشرة امرأة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفاتہ عام الرمادة
35889 ۔۔۔ (مسندہ) اسلم روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے عام الرمادہ عمروبن العاص کے پاس خط لکھا کہ اللہ کا بندہ عمر امیر المومنین کی طرف سے عاصی بن عاصی کی طرف میری زندگی کی قسم کہ جب تو خود اور تیری طرف کے لوگ موٹا ہوجائیں کہ میں اور میری طرف کے لوگ بھوکے کمزور ہوجائیں تو تمہیں اس کی کوئی پروا نہیں یاللمددتو عمرو نے جواب لکھا السلام حمد وصلوة کے بعد لبیک لبیک لبیک غلوں سے لدا ہوا اتنا بڑا قافلہ ہوگا کہ اس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس اور آخری اونٹ میرے پاس اس کے ساتھ اس کوشش میں بھی ہوں کہ بحری رستہ سے سال بھینے کی بھی کوئی صورت بن جانے جب قافلہ کا پہلا حصہ پہنچا تو زبیر (رض) کو بلا کر کہا نکل کر اس کا استقبال کرو اور اہل نجد میں سے ہر گھر میں خوراک پہنچاؤ جن تک خود نہیں پہنچا سکتے ان کے لیے حکم دو کہ ہر گھر کے لیے ایک مع اس کے سازوسامان کے اور حکم دو کہ ہر شخص دودوچادر پہنیں اور اونٹ ذبح کریں چربی کو پگھلائیں گوشت کے ثرید بنائیں اور کھالوں کا پالابنائیں پھر ایک کہہ گوشت ایک کہہ چربی اور ایک مٹی آٹا ڈال کر اس کو پکائیں اور اس کو کھائیں یہاں تک اللہ تعالیٰ رزق کا انتظام فرمادیں زبیر (رض) نے نکلنے سے انکار کیا تو فرمایا کہ اللہ کی قسم اس جیسا تمہیں نہیں ملے گا یہاں تک تمہیں موت آجائے پھر دوسرے کو بلایا میرے خیال میں طلحہ ہوگا تو انکار کردیا پھر ابوعبیدہ بن جراح کو بلایا تو وہ اس کام کے لیے نکلا جب واپس آیا ان کے پاس ہزار دینار بھیجا تو ابوعبیدہ نے کہا اے ابن الخطاب میں نے تمہاری خاطر کام نہیں کیا میں نے یہ کام محض اللہ کے لیے کیا ہے اس لیے اس پر کوئی اجرت نہیں لوں گا تو فرمایا ہمیں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے امور پر مامور فرمایا ہم نے اس پر کچھ لینے سے انکار کیا تو آپ نے زبردستی قبول کرایا لہٰذا اس کو قبول کرلو اور اس سے دین اور دنیا کے امور میں مدد حاصل کرو تو ابوعبیدہ نے قبول کرلیا۔ (ابن خزعہ حاکم بیہقی)
35889- "مسنده" عن أسلم قال: كتب عمر بن الخطاب في عام الرمادة إلى عمرو بن العاص: من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى العاصي بن العاصي، إنك لعمري ما تبالي إذا سمنت ومن قبلك أن أعجف أنا ومن قبلي، فيا غوثاه! فكتب عمرو: السلام أما بعد لبيك لبيك لبيك! عير أولها عندك وآخرها عندي مع أني أرجو أن أجد سبيلا أن أحمل في البحر، فلما قدم أول عير دعا الزبير فقال: اخرج في أول هذه العير فاستقبل بها نجدا فاحمل إلي أهل كل بيت قدرت أن تحملهم إلي، ومن لم تستطع حمله فمره لكل أهل بيت ببعير بما عليه، ومرهم فليلبسوا كساءين ولينحروا البعير فليجملوا شحمه وليقددوا لحمه وليجلدوا جلده ثم ليأخذوا كبة من قديد وكبة من شحم وحفنة من دقيق فيطبخوا ويأكلوا حتى يأتيهم الله برزق، فأبى الزبير أن يخرج، فقال: أما والله لا تجد مثلها حتى تخرج من الدنيا، ثم دعا آخر - أظنه طلحة - فأبى، ثم دعا أبا عبيدة بن الجراح فخرج في ذلك، فلما رجع بعث إليه بألف دينار، فقال أبو عبيدة: إني لم أعمل لك يا ابن الخطاب! إنما عملت لله ولست آخذ في ذلك شيئا، فقال عمر: قد أعطانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في أشياء بعثنا لها فكرهنا ذلك، فأبى علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاقبلها أيها الرجل واستعن بها على دينك ودنياك، فقبلها أبو عبيدة. "ابن خزيمة، ك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفاتہ عام الرمادة
35890 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رمادہ کے سال عمر (رض) کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا اے اللہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرے دور میں ہلاک نہ فرمایا۔ (ابن سعد)
35890- عن ابن عمر قال: سمعت عمر يقول عام الرمادة: اللهم! لا تجعل هلاك أمة محمد على يدي. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفاتہ عام الرمادة
35891 ۔۔۔ اسلم نے روایت کی کہ عمر (رض) نے کہا میں بہت ہی برا امیر ہوں گا اگر میں نے خود اچھا کھایا اور رعایا کو سوکھا کھلایا ۔ (ابن سعد)
35891- عن أسلم قال: قال عمر: بئس الوالي أنا إن أكلت طيبها وأطعمت الناس كراديسها. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفاتہ عام الرمادة
35892 ۔۔۔ سائب بن زید فرماتے ہیں کہ رمادہ کے سال عمر (رض) ایک جانور پر سوار ہونے اس نے راستہ میں لید کیا اس میں سے جو کے دانہ نکلے عمر (رض) نے جب دیکھا تو کہا کہ مسلمان تو بھوک سے مر رہے ہیں اور یہ جو کھاتا ہے اللہ کی قسم اس وقت تک اس پر طرح سواری نہیں کروں گا کہ مسلمان کے جینے کا سامان مہیا ہوجائے۔ (ابن سعد بیہقی ابن عساکر)
35892- عن السائب بن يزيد قال: ركب عمر بن الخطاب عام الرمادة دابة فراثت شعيرا فرآها عمر فقال: المسلمون يموتون هزلا وهذه الدابة تأكل الشعير! لا والله! لا أركبها حتى يحيى الناس. "ابن سعد، ق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفاتہ عام الرمادة
35893 ۔۔۔ انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) کے پیٹ میں سے قرقر کی آواز آئی وہ رمادہ کے ساتھ اپنے اوپر سکھی کو حرام کررکھا تھا اپنے پیٹ پر انگلی رکھ کر کہا کہ جس طرح بھی گڑ گڑاہٹ کی آواز نکالتا ہے نکال ہمارے اس کے علاوہ کچھ نہیں یہاں تک لوگوں کو زندگی کا گذرا ن مل جائے۔ (ابن سعدحلیة الاولیاء ابن عساکر)
35893- عن أنس بن مالك قال: تقرقر بطن عمر بن الخطاب وكان يأكل الزيت عام الرمادة وكان حرم عليه السمن فنقر بطنه باصبعه وقال: تقرقر تقرقرك، إنه ليس لك عندنا غيره حتى يحيى الناس. "ابن سعد، حل، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وفاتہ عام الرمادة
35894 ۔۔۔ اسلم کہتے ہیں رمادہ کے سال عمر (رض) نے اپنے اوپر گوشت کو حرام کررکھا تھا یہاں تک اور لوگوں کو بھی گوشت کھانے کو ملے ۔ (ابن سعد)
35894- عن أسلم أن عمر حرم على نفسه اللحم عام الرمادة حتى يأكله الناس. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35895 ۔۔۔ اسلم کہتے ہیں کہ ہم کہا کرتے تھے کہ اگر رمادہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ قحط سال کو دور نہ فرماتے ہمارے خیال میں عمر (رض) مسلمانوں کے غم سے وفات پاجاتے۔ (ابن سعد)
35895- عن أسلم قال: كنا نقول: لو لم يرفع الله المحل عام الرمادة لظننا أن عمر يموت هما بأمر المسلمين. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35896 ۔۔۔ فراس دیلی روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن عاص نے مصر سے جو اونٹ بھیجا تھا عمر (رض) ہر روز اس میں بیس اونٹ ذبح کرکے لوگوں کو کھلاتے تھے ۔ (ابن سعد)
35896- عن فراس الديلي قال: كان عمر بن الخطاب ينحر كل يوم على مائدته عشرين جزورا من جزر بعث بها عمرو بن العاص من مصر. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35897 ۔۔۔ صفیہ بنت ابی عبیدہ سے روایت ہے کہ عمر (رض) کی بیویوں میں سے ایک نے بیان کیا کہ رمادہ کے سال آپ (رض) عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے یہاں تک کہ لوگوں کا غم دور کیا۔ (ابن سعد، ابن عساکر)
35897- عن صفية بنت أبي عبيد قالت: حدثني بعض نساء عمر قالت: ما قرب عمر امرأة زمن الرمادة حتى أحيى الناس هما. "ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35898 ۔۔۔ عیسیٰ بن معمر سے روایت ہے کہ رمادہ کے سال عمر بن خطاب نے اپنے کسی بچہ کے ہاتھ ایک خربوزہ دیکھا تو فرمایا بخ بخ رک جا۔ امیر المومنین کا بیٹا کیا تم میوہ کھا رہے ہو جب کہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھوک سے نڈھال ہیں بچہ بھاگتا ہوا نکل گیا اور رونا شروع کیا تو عمر (رض) نے اس کو چپ کروایا پوچھا کہاں سے خریدا ؟ لوگوں نے بتایا ایک مٹھی کھجور کا دانہ دے کر خریدا ہے۔ (ابن سعد)
35898- عن عيسى بن معمر قال: نظر عمر بن الخطاب عام الرمادة إلى بطيخة في يد بعض ولده فقال: بخ بخ يا ابن أمير المؤمنين! تأكل الفاكهة وأمة محمد صلى الله عليه وسلم هزلى! فخرج الصبي هاربا وبكى فأسكت عمر بعدما سأل عن ذلك، فقالوا: اشتراها بكف من نوى. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35899 ۔۔۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے زمانہ خلافت میں عمربن خطاب کو دیکھا کہ ان کے سامنے ایک صالح کھجور رکھدی جاتی اس میں سے کھاجاتے ہیں یہاں تک ردی بھی کھاجائے۔ (مالک عبدالرزاق، ابن سعد، ابوسعید فی الغرب)
35899- عن أنس بن مالك قال: رأيت عمر بن الخطاب وهو يومئذ أمير المؤمنين يطرح له صاع من تمر فيأكلها حتى يأكل حشفها. "مالك، عب وابن سعد وأبو عبيد في الغريب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35900 ۔۔۔ سائب بن یزید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے عمربن خطاب کو آدھی رات کو مسجد بیوی میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا رمادہ کے زمانہ میں وہ دعا میں فرما رہے تھے اے اللہ ہمیں قحط سالی سے ہلاک نہ فرما ہم سے اس بلاء کو دور فرما اس کلمہ کو بار بار دہرا رہے تھے۔ (ابن سعد)
35900- عن السائب بن يزيد عن أبيه قال: رأيت عمر بن الخطاب يصلي في جوف الليل في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم زمان الرمادة وهو يقول: اللهم! لا تهلكنا بالسنين وارفع عنا البلاء - يردد هذه الكلمة. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35901 ۔۔۔ کردم سے روایت ہے کہ رمادہ کے سال عمر (رض) نے صدقہ تقسیم کرنے والے کو بھیجا کہ قحط سالی کی وجہ سے جس کے پاس ایک بکری ایک چرواہارہ گیا ہوا سکو بیت المال سے دیدو جس کے پاس دوچرواہے دو بکریاں ہوں اس کو مت دو ۔ ( ابوعبید فی الاموال وابن سعد)
35901- عن كردم أن عمر بعث مصدقا عام الرمادة فقال: أعط من أبقت له السنة غنما وراعيا ولا تعط من أبقت له السنة غنمين وراعيين. "أبو عبيد في الأموال وابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35902 ۔۔۔ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب روایت کرتے ہیں کہ رمادہ کے سال عمر (رض) نے زکوۃ کی وصولی کو موخر فرمادیا وصول کرنے والوں کو نہیں بھیجا جب دوسرا سال ہوا اللہ تعالیٰ نے قحط سائی دور فرما دی تو ان کو حکم دیا کہ صدقہ نکالو ایک سال کے صدقہ کو آپس میں تقسیم ایک سال کا بیت المال کے لیے بھیج دو ۔ (ابن سعد ابن ابی ذباب سے بھی اسی طرح منقول ہے ابوعبیدنے اموال میں نقل کیا)
35902- عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب أن عمر أخر الصدقة عام الرمادة فلم يبعث السعاة، فلما كان قابل ورفع الله ذلك الجدب أمرهم أن يخرجوا، فأخذوا عقالين، فأمرهم أن يقسموا فيهم عقالا ويقدموا عليه بعقال. "ابن سعد؛ عن ابن أبي ذباب مثله أبو عبيد في الأموال".
tahqiq

তাহকীক: