কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৯১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35903 ۔۔۔ اسلم سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اے لوگو ! مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ کی ناراضگی عام ہوگئی ہے تم سب اپنے رب کو راضی کرنے کی فکر کرو گناہوں کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو آیندہ اعمال خیر انجام دو ۔ (ابن سعد)
35903- عن أسلم قال: سمعت عمر يقول: أيها الناس! إني أخشى أن تكون سخطة عمتنا جميعا فأعتبوا ربكم وانزعوا وتوبوا إليه وأحدثوا خيرا. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35904 ۔۔۔ سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رمادہ کے زمانہ میں عمر بن خطاب نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے اپنے نفس کے بارے میں ڈرو اور تمہاری ان باتوں کے بارے میں جو لوگوں سے مخفی ہیں میں تمہاری وجہ سے اور تم میری وجہ سے آزمائش میں رہے معلوم نہیں کہ اللہ کی ناراضگی صرف میری وجہ سے ہے یا صرف تمہارے اعمال کی وجہ سے یا میرے اور تمہارے سب کے اعمال کی وجہ آجاؤ اللہ تعالیٰ سے ملکر دعا کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں کو درست فرما دیں اور ہم پر رحم فرمائے اور ہم سے قحط سالی کو دور فرمادے۔ (ابن سعد)
35904- عن سليمان بن يسار قال: خطب عمر بن الخطاب الناس في زمان الرمادة فقال: أيها الناس! اتقوا الله في أنفسكم وفيما غاب عن الناس من أمركم فقد ابتليت بكم وابتليتم بي، فما أدري السخطة علي دونكم أو عليكم دوني أو قد عمتني وعمتكم، فهلموا فلندع الله يصلح قلوبنا وأن يرحمنا وأن يرفع عنا المحل. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35905 ۔۔۔ نیار الاسلمی سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) نے استسقاء کی نماز پڑھنے کا ارادہ کیا لوگوں کو لے کر میدان میں نکلے تو اعمال کو حکم نامہ بھیجا کہ فلاں فلاں تاریخ کو لوگوں کے ساتھ نکل کر اپنے رب سے عاجزی کے ساتھ توبہ استغفار اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس قحط کو دور فرمادے خود بھی اس تاریخ میں ٹکا آپ کے جسم پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر تھی یہاں تک کہ عید گاہ پہنچنے اور لوگوں کو خطبہ دیا تضرع دعا جزی کی لوگ بھی الحاء وزاری کررہے تھے آپ (رض) کی اکثر دعا استغفار پر مشتمل تھی جب دعا ختم کرنے کا وقت قریب آیا ہاتھوں کو دراز کرکے اوپر اٹھایا اور چادر کو پلٹا کہ دائیں کو بائیں اور بائیں دائیں طرف کیا پھر ہاتھ کو دراز کیا اور دعا میں خوب آہ زاری کی اور اتنا روئے کہ ان کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ (ابن سعد)
35905- عن نيار الأسلمي قال: لما أجمع عمر على أن يستسقي ويخرج بالناس كتب إلى عماله أن يخرجوا يوم كذا وكذا وأن يتضرعوا إلى ربهم ويطلبوا إليه أن يرفع هذا المحل عنهم وخرج لذلك اليوم عليه برد رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتهى إلى المصلى فخطب الناس وتضرع، وجعل الناس يلحون، فما كان أكثر دعائه إلا الاستغفار حتى إذا قرب أن ينصرف رفع يديه مدا وحول رداءه وجعل اليمين على اليسار، ثم اليسار على اليمين، ثم مد يديه وجعل يلح في الدعاء وبكى عمر بكاء طويلا حتى أخضل لحيته. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قحط کے زمانہ میں غمخواری
35906 ۔۔۔ (مسندعمر) لیث بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں کو مدینہ میں سخت قحط سالی لاحق ہوئی حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں رمادہ کے ساتھ عمر (رض) نے عمر وبن العاص کو لکھا وہ مصر کے گورنر تھے اللہ کا بندہ امیر المومنین عمر کی طرف سے عمروبن العاص کی طرف السلام علیکم اما بعد میری زندگی کی قسم اے عمرو اگر تمہارا اور تمہارے ساتھ والوں کا پیٹ بھرجائے تو تمہیں اس کی کوئی پروا نہیں کہ میں اور میرے ساتھ والے ہلاک ہوجائیں اے فریاد کو سننے والے فریاد کو سن لے امیر المومنین اس کلمہ کو ہراتے رہے اس خط کے ملنے کے بعد عمروبن العاص نے جواب لکھا امابعد لبیک ثم یالبیک میں نے تمہاری طرف اونٹوں کا اتنا بڑا قافلہ روانہ کیا ہے پہلا اونٹ تمہارے پاس پہنچے گا تو اس کا آخری اونٹ میرے پاس ہوگا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ عمربن عاص نے ایک بڑا قافلہ روانہ کیا اول مدینہ منورہ پہنچ چکا تھا آخری مصر سے روانہ ہواہر اونٹ دوسرے کے پیچھے قطار میں تھا وہ سامان عمر (رض) کے پاس پہنچا تو اس سے لوگوں پر خوب وسعت فرمایا مدینہ منورہ اور اردگرد کے لوگوں میں ایک گھر کے لیے ایک اونٹ مع سازو سامان کے عطاء فرمایا عبدالرحمن بن عوف زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص کو بھیجا کہ اس مال کو لوگوں میں تقسیم کریں۔ انھوں نے ہر گھر ایک اونٹ اور کھانے کا سامان دیا ، کہ کھانا کھائیں اور اونٹ ذبح کریں اس کا گوشت کھائیں اور چربی پگھلا کر سالن بنائیں اور کھال کی جوتی بنائیں اور جس تھیل کے اندر کھانا تھا اس سے لحاظ وغیرہ بنوائیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح لوگوں پر وسعت فرمادی جب عمر (رض) نے یہ حالت دیکھی اللہ کا شکر ادا کیا اور عمر وبن العاص کے پاس خط لکھا کہ خود بھی مدینہ آئے اور اپنے ساتھ مصری شرفاء کی ایک جماعت لے کر آئے اب وہ سارے آگئے تو عمر (رض) نے کہا اے عمرو اللہ تعالیٰ نے مصرکو مسلمانوں کے ہاتھ فتح فرمایا اور اس کو اہل مصر اور تمام مسلمانوں کے لیے قوت کا ذریعہ بنایا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا جب میں نے اہل حرمین پر آسانی پیدا کرنا چاہا اور ان پر وسعت دینا چاہا کہ نہرکھدواؤں دریانیل سے کہ وہ سمندر میں بہے یہ ہمارے لیے آسان ہے جو ہم چاہتے ہیں کہ کھانا مکہ اور مدینہ منورہ تک پہنچائیں کیونکہ پیٹھ پر لاد کر لانا مشکل بھی ہے اور اس سے ہمارا مقصود پورا نہیں ہوسکتا ہے آپ اور آپ کے ساتھی جاکر مشورہ کریں تاکہ آپ لوگوں کی رائے میں اتفاق پیدا ہو انھوں نے جاکر بقیہ ساتھیوں سے مشورہ کیا تو یہ کام ان پر بھاری گذرا انھوں نے کہا ہمیں خوف ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے مصر کو نقصان پہنچ جائے لہٰذا آپ امیر المومنین پر اس کا مشکل ہوناظاہر کردیں کہ اس پر نہ اتفاق ہوسکتا ہے نہ کام انجام پاسکتا ہے نہ ہی ہمیں اس کے بغیر کوئی راستہ نظر آرہا ہے اب عمروبن العاص عمر بن خطاب کی بات سے تعجب کرنے لگا اور کہا اللہ کی قسم اے امیر المومنین آپ نے سچ کہا کہ معاملہ ایسا ہی ہواجو آپ نے کہا تو عمر (رض) نے فرمایا کہ اے عمرو میری طرف سے پختہ عزم لے کرجائیں آپ اس میں اتفاق پائیں گے تم میں کوئی تغیر نہیں آئے گا یہاں تک کہ اس کام سے فارغ ہوجاؤ گے انشاء اللہ تعالیٰ عمرو (رض) واپس گئے اس کے لیے کھدائی کرنے والوں کو جمع کیا جس سے کام مکمل ہوخلیج کی کھدائی کی جو فسطاط کی جانب سے ہے جس کو خلیج امیرالمومنین کہا جاتا ہے اس کو دریائے نیل سے بحر قلزم تک پہنچا یا کوئی اختلاف پیدانہ ہوا اس میں کشتیاں چلنے لگیں اس کے ذریعہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک کھانے کا سامان آسانی کے ساتھ آسانی کے ساتھ پہنچے لگا اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ اہل حرمین کو فائدہ پہنچایا اس کا نام خلیج امیر المومنین ہے اس نہر کے ذریعہ برابر کھانے کا سامان غلہ وغیرہ پہنچتا رہا ان کے بعد عمربن عبدالعزیز کے زمانہ تک چلتا رہا بعد میں حکام نے اس کو ضائع کردیا اس کو چھوڑ دیا گیا اس پر ریت جم گیا اس طرح نہر بند ہوگئی اس کا آخری کنا رہ ذنب التمساح ہوگیا جو طحاء قلزم کے کنارہ پر ہے۔ (ابن عبدالحکم)
35906- "مسند عمر" عن الليث بن سعد أن الناس بالمدينة أصابهم جهد شديد في خلافة عمر بن الخطاب في سنة الرمادة فكتب إلى عمرو بن العاص وهو بمصر: من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى العاص بن العاص، سلام! أما بعد فلعمري يا عمرو! ما تبالي إذا شبعت أنت ومن معك أن أهلك أنا ومن معي، فيا غوثاه! ثم يا غوثاه - يردده قوله. فكتب إليه عمرو بن العاص: لعبد الله عمر أمير المؤمنين من عمرو بن العاص، أما بعد فيا لبيك! ثم يا لبيك! وقد بعثت إليك بعير أولها عندك وآخرها عندي، والسلام عليك ورحمة الله وبركاته، فبعث عمرو إليه بعير عظيمة فكان أولها بالمدينة وآخرها بمصر يتبع بعضها بعضا، فلما قدمت على عمر وسع بها على الناس ودفع إلى أهل كل بيت بالمدينة وما حولها بعيرا بما عليه من الطعام، وبعث عبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام وسعد ابن أبي وقاص يقسمونها على الناس، فدفعوا إلى أهل كل بيت بعيرا بما عليه من الطعام أن يأكلوا الطعام وينحروا البعير فيأكلوا لحمه ويأتدموا شحمه ويحتذوا جلده وينتفعوا بالوعاء الذي كان فيه الطعام لما أرادوا من لحاف أو غيره، فوسع الله بذلك على الناس، فلما رأى ذلك عمر حمد الله وكتب إلى عمرو بن العاص يقدم عليه هو وجماعة من أهل مصر، فقدموا عليه، فقال عمر: يا عمرو! إن الله قد فتح على المسلمين مصر وهي كثيرة الخير والطعام وقد ألقي في روعي لما أحببت من الرفق بأهل الحرمين والتوسع عليهم حين فتح الله عليهم مصر وجعلها قوة لهم ولجميع المسلمين أن أحفر خليجا من نيلها حتى يسيل في البحر، فهو أسهل لما نريد من حمل الطعام إلى المدينة ومكة، فإن حمله على الظهر يبعد ولا نبلغ منه ما نريد، فانطلق أنت وأصحابك فتشاوروا على ذلك حتى يعتدل فيه رأيكم، فانطلق عمرو فأخبر بذلك من كان معه من أهل مصر، ثقل ذلك عليهم وقالوا: نتخوف أن يدخل في هذا ضرر على أهل مصر، فنرى أن تعظم ذلك على أمير المؤمنين وتقول له: إن هذا الأمر لا يعتدل ولا يكون ولا نجد إليه سبيلا، فرجع عمرو إلى عمر فضحك عمر حين رآه وقال: والذي نفسي بيده! لكأني أنظر إليك يا عمرو وإلى أصحابك حين أخبرتهم بما أمرتك به من حفر الخليج، فثقل ذلك عليهم وقالوا: يدخل في هذا ضرر على أهل مصر فنرى أن تعظم ذلك على أمير المؤمنين وتقول له: إن هذا الأمر لا يعتدل ولا يكون ولا نجد إليه سبيلا، فعجب عمرو من قول عمر وقال: صدقت والله يا أمير المؤمنين! لقد كان الأمر على ما ذكرت، فقال له عمر: انطلق يا عمرو بعزيمة مني حتى تجد في ذلك ولا يأتي عليك الحول حتى تفرغ منه إن شاء الله، فانصرف عمرو وجمع لذلك من الفعلة ما بلغ منه ما أراد، وحفر الخليج الذي في جانب الفسطاط الذي يقال له: "خليج أمير المؤمنين" فساقه من النيل إلى القلزم، فلم يأت الحول حتى جرت فيه السفن، فحمل فيه ما أراد من الطعام إلى المدينة ومكة، فنفع الله بذلك أهل الحرمين وسمي "خليج أمير المؤمنين". ثم لم يزل يحمل فيه الطعام حتى حمل فيه بعد عمر بن عبد العزيز، ثم ضيعه الولاة بعد ذلك فترك وغلب عليه الرمل فانقطع فصار منتهاه إلى ذنب التمساح من ناحية طحاء القلزم. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے اخلاق
35907 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر (رض) سے کہا اللہ سے ڈروتو جواب میں عمر (رض) نے فرمایا ہم میں کوئی بھلائی نہیں اگر ہمیں وہ تقوی کی تلقین نہ کرے اور ان میں کوئی خبر نہیں اگر ان کو تقوی کی تلقین نہ کریں۔ (احمدفی الزھد)
35907- عن الحسن أن رجلا قال لعمر: اتق الله! قال: وما فينا خير إن لم يقل لنا، وما فيهم خير إن لم يقولوا لنا. "حم في الزهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے اخلاق
35908 ۔۔۔ حضرت بحیرہ سے روایت ہے کہ میرے چچاخداش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک پیالہ مانگا جس میں آپ کو کھانا تناول فرماتے دیکھا وہ پیالہ پھر ہمارے پاس رہا تو عمر (رض) نے کہا کہ اس پیالہ کو میرے پاس لاؤ اس میں زمزم کا پانی بھرتے ہیں ہم ان کے پاس لاتے وہ اس سے پیتے اور اپنے سر اور چہرے پر ڈالتے پھر ایک چور ہمارے گھر آیا اس کو ہمارے دیگر سامان سمیت چرالیا اس کے چوری ہونے کے بعد عمر (رض) ہمارے گھر تشریف لائے ہم نے بتایا اے امیر المومنین وہ پیالہ چوری ہوگیا ہمارے سامان سمیت تو فرمایا اللہ ہی اس کے باپ پر رحم کرے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیالہ چوری کرے گا اللہ کی قسم نہ آپ نے اس کو گالی دی نہ لعن طعن کیا۔ (حوالہ : ابن سعد نے طبقات میں اور ابن بشیر نے آمالی میں نقل کیا ہے)
35908- عن بحيرة قالت: استوهب عمي خداش من رسول الله صلى الله عليه وسلم قصعة رآه يأكل فيها فكانت عندنا فكان عمر يقول: أخرجوها إلي فنملأها من ماء زمزم فنأتيه بها فيشرب منها ويصب على رأسه ووجهه، ثم إن سارقا عدا علينا فسرقها مع متاع لنا،فجاءنا عمر بعد ما سرقت فسألنا أن نخرجها له، فقلنا: يا أمير المؤمنين سرقت في متاع لنا، فقال: لله أبوه! سرق صحفة رسول الله صلى الله عليه وسلم! فوالله ما سبه ولا لعنه. "ابن سعد في وابن بشران في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے اخلاق
35909 ۔۔۔ طارق بن شہاب روایت کرتے ہیں کہ جب عمربن خطاب ملک شام آئے ان کو قضاء حاجت کی ضرورت پیش آئی تو اونٹ سے اترے اور اپنے موزے اتارے ان کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اونٹ کے لگام کو ہاتھ سے پکڑا پھر طہارت کی جگہ میں داخل ہوئے تو ابوعبیدہ بن جراح نے کہا اے امیر المومنین آپ نے اہل شام کے نزدیک بڑا کام انجام دیا کہ اپنے موزوں کو اتارا اپنی سواری کو خود سنبھالا اور طہارت کی جگہ داخل ہوئے عمر (رض) نے ابوعبید کے سینہ پر مکامارا اور کہا کیا وہ ان باتوں کارو سے تذکرہ کرتے ہیں اگر تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا تم لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل تھے اور گمراہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی بدولت عزت دی اگر اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کروگے تو اللہ عزوجل تمہیں ذلیل کریں گے۔ (ابن المبارک وھبنا د حاکم حلیة الاولیاء بیہقی)
35909- عن طارق بن شهاب قال: لما قدم عمر بن الخطاب الشام عرضت له مخاضة فنزل عمر عن بعيره ونزع خفيه فأخذهما بيده وأخذ بخطام راحلته ثم خاض المخاضة فقال له أبو عبيدة بن الجراح: لقد فعلت يا أمير المؤمنين فعلا عظيما عند أهل الأرض! نزعت خفيك وقدت راحلتك وخضت المخاضة! فصك عمر بيده في صدر أبي عبيدة وقال: أوه يمد بها صوته! لو غيرك يقولها! أنتم كنتم أذل الناس وأضل الناس فأعزكم الله بالإسلام، فمهما تطلبوا العزة بغيره يذلكم الله عز وجل. "ابن المبارك وهناد، ك، حل، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے اخلاق
35910 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر (رض) سے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے تم پر مہربان فرمایا تو جواب میں فرمایا پھر تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے مبارک فرمائے۔ (ابن جریر)
35910- عن جابر رضي الله عنه قال قال رجل لعمر بن الخطاب: جعلني الله فداك! قال: إذن يهينك الله. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35911 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ایک دن عمر (رض) سے سنا میں ان کے ساتھ نکلا تھا وہ ایک باغ میں داخل ہوئے تو میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا اس حال میں کہ میرے اور ان کے درمیان دیوار حائل تھی وہ باغ کے بیچ میں تھے امیر المومنین اللہ کی قسم یا تو اللہ سے ڈر کر زندگی گذاردیا اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا۔ (مالک ابن سعد ابن ابی الدنیا فی محاسبة النفس و ابونعیم فی المعرفہ ابن عساکر)
35911- عن أنس بن مالك قال سمعت عمر بن الخطاب يوما وخرجت معه حتى دخل حائطا فسمعته يقول وبيني وبينه جدار وهو في جوف الحائط: أمير المؤمنين! والله لتتقين الله أو ليعذبنك. "مالك وابن سعد وابن أبي الدنيا في محاسبة النفس وأبو نعيم في المعرفة، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35912 ۔۔۔ ضحاک سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے کہا کرتے تھے کاش کہ میں گھروالوں کا دنبہ ہوتاوہ مجھے اپنی مرضی سے موٹا کرتے جب میں خوب موٹا ہوجاتا پھر ان کے ہاں کوئی محبوب مہمان آتا وہ میرے بعض حصہ کو بھوٹتے اور بعض کو قدید بناتے پھر مجھے کھاجاتے اور فضلہ بناکر نکال باہر کرتے کاش میں انسان نہ ہوتا۔ (ھناد حلیہ بیہقی)
35912- عن الضحاك قال: قال عمر: يا ليتني كنت كبش أهلي سمنوني ما بدا لهم، حتى إذا كنت أسمن ما أكون زارهم بعض من يحبون فجعلوا بعضي شواء وبعضي قديدا ثم أكلوني فأخرجوني عذرة ولم أكن بشرا. "هناد حل، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35913 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر (رض) سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تم پر قربان فرمایا ہے تو جواب میں کہا پھر اللہ تمہارے لیے مبارک کرے ۔ (ابن جریر)
35913- عن جابر قال: قال رجل لعمر بن الخطاب: جعلني الله فداك! قال: إذن يهينك الله. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35914 ۔۔۔ عامر بن ربیعہ سے روایت ہی کہ میں نے عمربن خطاب کو دیکھا کہ انھوں نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا اے کاش کہ میں یہ تنکا ہوتا اے کاش کہ میں پیداہی نہ ہوتا اے کاش کہ میں کچھ بھی نہ ہوتا اے کاش کہ میری والدہ مجھے نہ جنتی اے کاش میں نسیا منسیا ہوتا۔ (ابن المبارک ابن سعد ابن شیبة مدد ابن عساکر)
35914- عن عامر بن ربيعة قال: رأيت عمر بن الخطاب أخذ تبنة من الأرض فقال: يا ليتني كنت هذه التبنة! ليتني لم أخلق! ليتني لم أك شيئا! ليت أمي لم تلدني! ليتني كنت نسيا منسيا. "ابن المبارك وابن سعد، ش ومسدد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35915 ۔۔۔ عمر (رض) نے ایک شخص کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سناتو فرمایا اے کاش کہ یہ پوری پڑھتا۔ (ابن المبارک وابوعبید فی فضائلہ وعبدبن حمید، ابن لمندر)
35915- عن عمر أنه سمع رجلا يقرأ: {هَلْ أَتَى عَلَى الْأِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً} فقال عمر: يا ليتها تمت. "ابن المبارك وأبو عبيد في فضائله وعبد بن حميد وابن المنذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35916 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ اگر آسمان سے کوئی آواز لگائے کہ اے لوگو تم سب جنت میں داخل ہوں گے سوائے ایک شخص کے مجھے خوف ہوگا کہیں وہ میں نہ ہوں اور اگر کوئی یہ آواز لگائے کہ اے لوگو ! تم سب جہنم میں جاؤ گے سوائے ایک شخص کے مجھے امید ہوگی کہ وہ شخص میں ہوں ۔ (حلیة الاولیاء)
35916- عن عمر قال: لو نادى مناد من السماء: يا أيها الناس إنكم داخلون الجنة كلكم أجمعون إلا رجلا واحدا لخفت أن أكون أنا هو، ولو نادى مناد: أيها الناس؟ إنكم داخلون النار إلا رجلا واحدا لرجوت أن أكون أنا هو. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35917 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) کی ابوموسیٰ اشعری سے ملاقات ہوئی تو کہا اے ابوموسیٰ کیا تم اس بات پر خوش ہو کہ تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو اعمال کئے وہ تمہاری نجات کا ذریعہ بن جائیں کہ برابر سرابرچھوٹ جاؤ خیر شرکا مقابلہ میں شرخیر کے مقابلہ میں ہوجائے نہ تم کو زائد کچھ ملے نہ تمہارے ذمہ کوئی حق باقی رہے ؟ تو عرض کیا نہیں اے امیر المومنین اللہ کی قسم میں بصرہ پہنچا وہاں ان میں جہالت عام تھی میں نے ان کو قرآن وسنت کی تعلیم دی میں نے ان کے ساتھ مل کر جہاد کیا اس لیے میں اللہ کے فضل کی امید رکھتاہوں تو عمر (رض) نے کہا میں تو یہ چاہتاہوں برابر سرابر ہو نہ مجھے کچھ ملے نہ میری پکڑ ہو میرا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عمل کرنا نجات کا ذریعہ بن جائے ۔ٕٕ(راوہ ابن عساکر)
35917- عن ابن عمر أن عمر لقي أبا موسى الأشعري فقال له: يا أبا موسى! أيسرك أن عملك الذي كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خلص لك وأنك خرجت من عملك كفافا خيره بشره وشره بخيره كفافا لا لك ولا عليك؟ قال: لا يا أمير المؤمنين! والله لقد قدمت البصرة وأن الجفاء فيهم لفاش فعلمتهم القرآن والسنة وغزوت بهم في سبيل الله وإني لأرجو بذلك فضله، قال عمر: لكن وددت أني خرجت من عملي خيره بشره وشره بخيره كفافا لا علي ولا لي وخلص لي عملي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المخلص. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا خوف خدا
35918 ۔۔۔ حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ عمر (رض) جمعہ کے خطبہ میں اذالشمس کورت پڑھتے جب علمت نفس ما احضرت پر پہنچتے رک جاتے ۔ (الشافعی)
35918- عن حسن بن محمد بن علي بن أبي طالب أن عمر بن الخطاب كان يقرأ في خطبته يوم الجمعة: {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ - حتى بلغ: عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ} . ثم ينقطع. "الشافعي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35919 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ عمر (رض) اپنے بیٹے عبداللہ (رض) کے پاس گئے ان کے پاس گوشت تھا پوچھا یہ گوشت کیسے ؟ کہا میرے دل میں اس کے کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے ؟ تو پوچھا جو چیز بھی تمہارا دل چاہے اس کو کھاؤ گے آدمی کا اسراف کرنے والا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے ہر خواہش کی چیز کھالے ۔ (ابن المبارک عبدالرزاق احمد فی الزھد عسکری فی المواعظ ابن عساکر)
35919- عن الحسن قال: دخل عمر على ابنه عبد الله وإن عنده لحما فقال: ما هذا اللحم؟ قال: اشتهيته، قال: وكلما اشتهيت شيئا أكلته! كفى بالمرء سرفا أن يأكل كل ما اشتهاه. "ابن المبارك، عب، حم في الزهد والعسكري في المواعظ، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35920 ۔۔۔ یسار بن نمبر سے روایت ہے جب بھی عمر (رض) کے لیے کھانا تیار کیا میں اس میں قصور وار ٹھہرا ۔ (ابن المبارک سعدوھناد)
35920- عن يسار بن نمير قال: ما نخلت لعمر طعاما قط إلا وأنا له عاص. "ابن المبارك وسعد وهناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35921 ۔۔۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) کو خبرپہنچی کہ یزید بن ابی سفیان (ایک وقت میں) مختلف قسم کا کھانا کھاتا ہے تو اپنا غلام پر فاء سے فرمایا کہ جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ اپنا شام کا کھانا کھانے لگا ہے مجھے اطلاع کردینا جب کھانے کا وقت ہوا تو آپ (رض) کو بتادیا عمر (رض) پہنچے اور اندر جانے کی اجازت مانگی تو اجازت مل گئی اور کھانا ان کے سامنے رکھا گیا ثرید اور گوشت لایا گیا عمر (رض) نے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھایا پھر ان کے سامنے بھنا ہوا گوشت رکھا گیا یزید نے ہاتھ آگے بڑھایا ۔ عمر (رض) رک گئے اور فرمایا اللہ کی قسم اے یزید بن ابی سفیان یہ تو کھانے پر کھانا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ اگر تم صحابہ کرام (رض) کی سنت سے ہٹ گئے تو تم ان کے طریقہ سے ہٹادئیے جاؤگے۔ (ابن المبارک)
35921- عن سعيد بن جبير قال: بلغ عمر بن الخطاب أن يزيد ابن أبي سفيان يأكل ألوان الطعام فقال لمولى له: يقال له يرفأ: إذا علمت أنه قد حضر عشاؤه فأعلمني، فلما حضر عشاؤه أعلمه، فأتى عمر فسلم واستأذن فأذن له، فدخل فقرب عشاؤه فجاء بثريد ولحم فأكل عمر معه، ثم قرب شواء فبسط يزيد يده وكف عمر ثم قال عمر: الله يا يزيد بن أبي سفيان! أطعام بعد طعام؟ والذي نفس عمر بيده! لئن خالفتم عن سنتهم ليخالفن بكم عن طريقهم. "ابن المبارك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35922 ۔۔۔ ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ وہ اہل بصرہ کے وفد کے ساتھ عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس حاضر ہوئے روزانہ کھانے کے وقت ان کے پاس روٹی آتی جس پر تیل لگا ہوتاک بھی گھی کا سالن ہوتاک بھی تیل کا کبھی دودھ کا کبھی خشک گوشت جس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پانی میں ابالا گیا ہو کبھی تازہ گوشت ہوتالیکن وہ بہت تھوڑی مقدار میں ہوتا ایک دن ہم سے فرمانے لگے بخدا میں دیکھ رہاہوں کہ تم میرے کھانے کا اندازہ لگاتے ہو اور میرے کھانے کو ناپسند کرتے ہو واللہ اگر میں چاہتاتم سے زیادہ عمدہ کھانا اور عیش کی زندگی گذار سکتا تھاو اللہ میں سینہ کے گوشت اور کوہان کے گوشت سے ناوقف نہیں ہوں اسی صلاح صلائق اور صناب سے بھی ناواقف نہیں ہوں جریربن حازم نے کہا صلاء سے مراد بھنا ہوا گوشت اور صناب سے مراد کھانے کا مصالحہ صلائق نرم روٹی ، لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کوسنا ایسی زندگی گذارنے والوں پر عیب لگایا ہے۔ اذھبتم طیعکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھاتو ابوموسیٰ نے اپنے ساتھیوں سے کہا اگر تم بات کرنا چاہو کہ امیر المومنین تمہارے لیے بیت المال سے کھانا مقرر کردے تو بات کرلو چنانچہ انھوں نے بات کرلی تو امیر المومنین نے فرمایا اے امراء کیا تم اپنے لیے اس زندگی کو پسند نہیں کرتے جس کو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں تو وفد کے لوگوں نے کہا اے امیر المومنین مدینہ منورہ ایسی سرزمین ہے یہاں گذران بہت مشکل ہے ہم نہیں سمجھتے آپ کا کھانا رات کو کھانے کے قابل ہو ہم تو ایسی جگہ کے رہنے والے ہیں جو سرسبز و شاداب ہے اور ہمارا امیر ہمیں شام کا کھانا کھلائے ہیں وہ ہم سے کھایا بھی جاتا ہے عمر (رض) نے کچھ دیر کے لیے سرجھکایا پھر سر اٹھایا اور کہا میں نے تمہارے لیے بیت المال سے دو بکریاں اور دوتھیلیاں جب صبح ہوجائے تو ایک بکری ایک تھیلی کھانے کے ساتھ تم اور تمہارے ساتھی کھائیں پھر پانی حلال شراب مانگوا کر پئیں پھر اپنے دائیں جانب والے کو پلائیں پھر جو اس سے متصل ہو پھر اپنی ضرورت پوری کرلو پھر شام کے وقت رکھی ہوئی بکری کو رکھی ہوئی کھانے کی تھیلی میں ملاؤ تم اور تمہارے ساتھی ملکر کھائیں سن لوگوں کو بھی گھروں میں پیٹ بھر کر کھلاؤ ان کے بچوں کو بھی کھلاؤ اگر تم نے لوگوں کے ساتھ بےوفائی کی ان کے اخلاق اچھے نہیں ہوں گے اور اپنے بھوکوں کو کھانا نہیں کھلائیں گے۔ اللہ کی قسم جس گلی سے روزانہ دو بکریاں اور دوتھیلیاں لے لیے جائیں گے اس کی طرف خرابی بہت جلد بڑے گی۔ (ابن المبارک وابن سعد ابن عساکر)
35922- عن أبي موسى الأشعري أنه قدم على عمر بن الخطاب مع وفد أهل البصرة، قال: فكنا ندخل عليه وله كل يوم خبز يلت، وربما وافيناه مأدوما بسمن أحيانا بزيت وأحيانا بلبن، وربما وافقنا القدائد اليابسة قد دقت ثم أغلي بماء، وربما وافقنا اللحم الغريض وهو قليل، فقال لنا يوما: إني والله لقد أرى تقديركم وكراهيتكم طعامي وإني والله لو شئت لكنت أطيبكم طعاما وأرقكم عيشا! أما والله: ما أجهل عن كراكر وأسنمة وعن صلاء وعن صلائق وصناب - قال جرير ابن حازم: الصلاة الشواء، والصناب الخردل، والصلائق الخبز الرقاق - ولكني سمعت الله عير قوما بأمر فعلوه، فقال: "أذهبتم طيبتكم في حياتكم الدنيا واستمعتم بها" فقال أبو موسى: لو كلمتم أمير المؤمنين ففرض لكم من بيت المال طعاما تأكلونه فكلموه! فقال: يا معشر الأمراء! أما ترضون لأنفسكم ما أرضى لنفسي، فقالوا: يا أمير المؤمنين! إن المدينة أرض العيش بها شديد، ولا نرى طعامك يعشي ولا يؤكل وإنا بأرض ذات ريف وإن أميرنا يعشي وإن طعامه يؤكل،فنكس عمر ساعة ثم رفع رأسه فقال: قد فرضت لكم من بيت المال شاتين وجريبين، فإذا كان الغداة فضع إحدى الشاتين على أحد الجريبين فكل أنت وأصحابك، ثم ادع بشراب فاشرب - يعني الشراب الحلال - ثم اسق الذي عن يمينك ثم الذي يليه ثم قم لحاجتك، فإذا كان بالعشى فضع الشاة الغابرة على الجريب الغابر فكل أنت وأصحابك، ألا وأشبعوا الناس في بيوتهم وأطعموا عيالهم فإن تجفيتكم للناس لا يحسن أخلاقهم ولا يشبع جائعهم، فوالله مع ذلك ما أظن رستاقا يؤخذ منه كل يوم شاتان وجريبان إلا يسرع ذلك في خرابه. "ابن المبارك وابن سعد؛ كر".
তাহকীক: