কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৯৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35923 ۔۔۔ عروہ عمر (رض) کے ایک گورنر کی طرف سے روایت کرتے ہیں جو زرعات پر متعین تھا کہ عمر (رض) ہمارے پاس آئے ان کے جسم پر کھدر کا ایک کرتا تھا وہ مجھے دیا اور فرمایا اس کو دھو کر پیوند لگادو میں نے دھویا اور پیوند لگایا پھر میں نے ایک کتان کی قمیص بنائی اور دو قمیص ان کے پاس لے کر آیا اور عرض کیا یہ آپ کا کرتا ہے اور یہ دوسرا کرتا میں نے ان کے لیے بنایا ہے تاکہ زیب تن فرمائیں اس کا ہاتھ لگاکر دیکھا تو نرم پایا فرمایا اس کی ہمیں ضرورت نہیں۔ پہلا کرتا اس کے مقابلہ زیاد ہ پسینہ کو جذب کرنے والا ہے۔ (ابن المبارک)
35923- عن عروة عن عامل لعمر كان على أذرعات قال: قدم علينا عمر بن الخطاب وإذا عليه قميص من كربيس فأعطانيه فقال: اغسله وارقعه، فغسلته ورقعته ثم قطعت عليه قميصا قبطيا فأتيته بهما فقلت: هذا قميصك وهذا قميص قطعته عليه لتلبسه، فمسه فوجده لينا فقال: لا حاجة لنا فيه؛ هذا أنشف للعرق منه. "ابن المبارك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35924 ۔۔۔ حمید بن ہلال سے روایت ہے کہ حفص بن ابی العاص عمر (رض) کے پاس کھانے کے وقت حاضر ہوا کرتے تھے لیکن کھانے میں شریک نہیں ہوتے تھے تو عمر (رض) نے ان سے فرمایا تمہیں ہمارے ساتھ شریک ہونے سے کیا چیز مانع ہے ؟ تو عرض کیا کہ آپ کا کھانا بدمزہ اور سخت ہوتا ہے میں نرم کھانا پسند کرتا ہوں میرے لیے لایا کھانا تیار کیا گیا ہے اس میں سے کچھ کھا کر دیکھا پھر فرمایا کہ تم مجھے اس سے عاجز سمجھتے ہو کہ میں ایک بکری ذبح کا حکم دوں اس سے بال صاف کرلیا جائے پھر آٹا کے متعلق حکم دوں اس کو چھان لیا جائے پھر اس سے نرم روٹی پکائی جائے پھر میں حکم دوں ایک صاع کشمش کو گھی میں ڈالا جائے پھر اوپر سے پانی ڈالا جائے اور وہ ہرن کے خون کی طرف سرخ ہوجائے تو حفص نے کہا میں سمجھتا ہوں آپ ہر عیش زندگی سے واقف ہیں عمر (رض) نے کہا ہاں بالکل واقف ہوں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ قیامت کے روز میرے نیکیوں میں کمی ہوجائے گی تو میں تمہارے ساتھ پر عیش زندگی گذارنے میں شریک ہوتا۔ (ابن سعد وعبدبن حمید)
35924- عن حميد بن هلال أن حفص بن أبي العاص كان يحضر طعام عمر وكان لا يأكل فقال له عمر: ما يمنعك من طعامنا؟قال: طعامك جشب غليظ وإني راجع إلى طعام لين قد صنع لي فأصيب منه، قال: أتراني أعجز أن آمر بشاة فيلقي عنها شعرها وآمر بدقيق فينخل في خرقة ثم آمر به فيخبز خبزا رقاقا وآمر بصاع من زبيب فيقذف في سعن ثم يصب عليه من الماء فيصبح كأنه دم غزال؟ فقال حفص: إني لأراك عالما بطيب العيش، فقال عمر: أجل، والذي نفسي بيده لولا كراهية أن ينقص من حسناتي يوم القيامة لشاركتكم في لين عيشكم. "ابن سعد وعبد ابن حميد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35925 ۔۔۔ ربیع بن زیاد حارثی سے روایت ہے کہ وہ عمر (رض) کے پاس وفد کے ساتھ حاضر ہوا ان کو عمر (رض) کی ہیت وغیرہ دیکھ کر تعجب ہوا عمر (رض) سخت کھانا کھانے کی شکایت ربیع نے کہا اے امیر لمومنین نرم کھانا کھانے نرم اور اعلی سواری کرنے نرم لباس پہننے کا سب سے زیادہ حقدار آپ ہی ہیں عمر (رض) نے ایک ٹہنی لے کر ان کے سر پر ماری اور کہا خدا کی قسم تم نے اس بات سے اللہ کو راضی کرنے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ تو میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے میں گمان کرتا تھا کہ تجھ میں سمجھ ہے ارے تیرا ناس ہو کیا تو چاہتا ہے میری اور ان لوگوں کی مثال پوچھا اور ان کی مثال کیا ہے ؟ فرمایا اس قوم کی مثال ہے جو سفر میں نکلی ہے اور اپنے خرچہ سب جمع کرکے ان میں سے ایک شخص کو دیدیا اور اس سے کہا ہم پر خرچ کرو کیا اس کو حق حاصل ہوگا کہ اپنے نفس کو اوروں پر ترجیح دے تو عرض کیا نہیں اے امیر المومنین تو فرمایا یہی مثال ہے میری اور ان کی ۔ (ابن سعد ابن راھویہ ابن عساکر)
35925- عن الربيع بن زياد الحارثي أنه وفد إلى عمر بن الخطاب فأعجبته هيئته ونحوه فشكى عمر طعاما غليظا أكله فقال الربيع: يا أمير المؤمنين! إن أحق الناس بطعام لين ومركب لين وملبس لين لأنت، فرفع عمر جريدة معه فضرب بها رأسه وقال أما والله! ما أراك أردت بها الله وما أردت بها إلا مقاربتي، إن كنت لأحسب أن فيك؟ ويحك! هل تدري ما مثلي ومثل هؤلاء؟ قال: وما مثلك ومثلهم؟ قال: مثل قوم سافروا فدفعوا نفقاتهم إلى رجل منهم فقالوا له: أنفق علينا، فهل يحل له أن يستأثر منها بشيء؟ قال: لا يا أمير المؤمنين! قال: فكذلك مثلي ومثلهم. "ابن سعد وابن راهويه، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35926 ۔۔۔ عمروبن میمون سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے ایک چادر میں ہماری امامت کی ۔ (ابن سعد)
35926- عن عمرو بن ميمون قال: أمنا عمر بن الخطاب في بت "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35927 ۔۔۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے عمربن خطاب کو دیکھاجس زمانہ میں وہ امیر المومنین تھے کہ اپنے دوکندھوں کے درمیان کرتا تین پیوند اوپر نیچے لگایا ۔ (مالک بیہقی)
35927- عن أنس بن مالك قال: رأيت عمر بن الخطاب وهو يومئذ أمير المؤمنين وقد رقع بين كتفيه برقاع ثلاث لبد بعضها فوق بعض. "مالك، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35928 ۔۔۔ عاصم بن عبید اللہ بن عاصم سے روایت ہے کہ عمر (رض) اپنی جوتی پاہاتھ صاف کرلیتے تھے اور فرماتے آل عمر (رض) کے رومال ان کی جوتیاں ہیں۔ (ابن سعد)
35928- عن عاصم بن عبيد الله بن عاصم أن عمر كان يمسح بنعليه ويقول: إن مناديل آل عمر نعالهم. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35929 ۔۔۔ سائب بن یزیدکہتے ہیں کہ بسا اوقات میں نے عمربن خطاب کے پاس رات کا کھانا کھایا وہ روٹی اور گوشت کھاتے پھر اپنا ہاتھ پاؤں پر صاف کرلیتے اور فرماتے یہ عمر اور آل عمر کا رومال ہے۔ (ابن سعد)
35929- عن السائب بن يزيد قال: ربما تعشيت عند عمر بن الخطاب فيأكل الخبز واللحم ثم يمسح يده على قدمه ثم يقول: هذا منديل عمر وآل عمر. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35930 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) کا پسندیدہ کھانا بغیر چھنے ہوئے آٹے کی روٹی اور پسندیدہ شراب نبیذ تھا۔ (ابن سعد)
35930- عن أنس قال: كان أحب الطعام إلى عمر الثفل وأحب الشراب إليه النبيذ. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35931 ۔۔۔ احوص بن حکیم اپنی والد سے نقل کرتے ہیں عمر (رض) کے پاس گوشت لایا گیا اس میں گھی بھی تھا آپ نے دونوں کو ایک ساتھ کھانے سے انکار فرمایا کہ دونوں میں سے ہر ایک سالن ہے۔ (ابن سعد)
35931- عن الأحوص بن حكيم عن أبيه قال: اتي عمر بلحم فيه سمن فأبى أن يأكلهما وقال: كل واحد منهما أدم. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35932 ۔۔۔ ابی حازم سے روایت ہے کہ عمر (رض) اپنی بیٹی حفصہ (رض) کے پاس گئے تو انھوں نے ٹھنڈا سالن اور روٹی پیش کی اور شوربہ میں تیل ڈالا تو آپ (رض) نے فرمایا ایک برتن میں دوسالن ؟ فرمایا موت تک اس کو نہیں چکھوں گا۔ (رواہ ابن سعد)
35932- عن أبي حازم قال: دخل عمر بن الخطاب على حفصة ابنته فقدمت إليه مرقا باردا وخبزا وصبت في المرق زيتا فقال: أدمان في إناء واحد لا أذوقه حتى ألقى الله. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35933 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ عمر (رض) ایک شخص کے پاس گئے ان کو پیاس لگی تو پانی مانگا تو وہ شخص شہد لے کر آیا پوچھایہ کیا ہے بتایا شہد ہے تو فرمایا بخدا کہیں ایسانہ ہو قیامت کے دن اس کا مجھ سے حساب لیا جائے۔ (ابن سعدابن عساکر)
35933- عن الحسن أن عمر دخل على رجل فاستسقاه وهو عطشان، فأتاه بعسل، فقال: ما هذا؟ قال: عسل، قال: والله! لا يكون فيما أحاسب به يوم القيامة. "ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35934 ۔۔۔ ابی دائل سے روایت ہے کہ عمر (رض) کے پاس کھانالایا گیا تو فرمایا ایک ہی قسم کا کھانا لاؤ۔ (ھناد)
35934- عن أبي وائل أن عمر اتي بطعام فقال: ايتوني بلون واحد. "هناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35935 ۔۔۔ ابی وائل سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے مجھ سے کہا عصیدہ کو اچھی طرح پکاؤ تاکہ تیل کی حرارت ختم ہوجائے تو ایک قوم اپنا عمدہ کھانا دنیا ہی میں استعمال کرلیتی ہے۔ (ھناد)
35935- عن أبي وائل: قال لي عمر: يا غلام! انضج العصيدة تذهب حرارة الزيت، وإن أقواما يعجلون طيباتهم في حياتهم الدنيا. "هناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35936 ۔۔۔ عتبہ بن فرقد سے روایت ہے کہ میں عمر (رض) کے پاس چند ٹوکرحبیص (کھجورکاحلوا) لے کر آیا پوچھا یہ کیا ہے میں نے کہا یہ کھانے کی چیز ہے آپ کے پاس لایاہوں کیونکہ آپ لوگوں کے کام انجام دینی کے لیے صبح سویرے نکلتے ہیں جب کھانی کے لیے واپس آئیں تو اس میں سے کھائین اس آپ کو قوت حاصل ہوگی ایک ٹوکری کھول کر دیکھا اور فرمایا اے عتبہ میرا ارادہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو ایسی ایک ٹوکری دے دیں میں نے کہا اے امیر المومنین اگر میں قبیلہ قیس کا تمام مال بھی خرچ کردو پھر بھی تمام مسلمانوں کے لیے پورا نہیں ہوسکتا ہے پھر مجھے اس حلو کی ضرورت نہیں پھر ثرید کا ایک پیالہ مانگوایا جس میں سخت روٹی اور سخت گوشت تھا وہ میرے ساتھ بہت رغبت کے ساتھ کھا رہے تھے میں نے گوشت کے ایک ٹکڑا کی طرف کوہان کا گوشت سمجھ کر ہاتھ بڑھایا وہ پٹھے کا گوشت نکلا میں نے اس ٹکڑا کو خوب چبایا لیکن نگل نہ سکا ان سے آنکھیں چراکر اس کو منہ سے نکالکر دسترخوان کے نیچے دبادیا پھر نبیذ کا ایک کھوپی مانگا جو کہ سرکہ بننے کے قریب ہوگیا تھا مجھ سے فرمایا پیو، لیکن میں اس کو بھی گلے سے نہ اتارسکا انھوں نے لے کر پی لیا پھر فرمایا اے عتبہ سن لے ہم روزانہ اونٹ ذبح کرتے ہیں اس کی چربی اور عمدہ حصہ ان مہمانوں کو کھلاتے ہیں جو دور دراز سے آتے ہیں اس کی گردن عمر کے گھر والوں کے لیے جو اس سخت گوشت کو کھاتے ہیں اور اس سخت نبیذ کو پیتے ہیں ہمارے پیٹ کاٹتے ہیں اور تکلیف دیتے ہیں۔ (ھناد)
35936- عن عتبة بن فرقد قال: قدمت على عمر بسلال خبيص فقال: ما هذا؟ فقلت: طعام أتيتك به لأنك تقضي في حاجات الناس أول النهار فأحببت إذا رجعت أن ترجع إلى طعام فتصيب منه فقواك، فكشف عن سلة منها فقال: عزمت عليك يا عتبة أرزقت كل رجل من المسلمين سلة؟ فقلت: يا أمير المؤمنين! لو أنفقت مال قيس كلها ما وسعت ذلك، قال: فلا حاجة لي فيه، ثم دعا بقصعة ثريد خبزا خشنا ولحما غليظا وهو يأكل معي أكلا شهيا، فجعلت أهوي إلى البيضة البيضاء أحسبها سناما فإذا هي عصبة: والبضعة من اللحم أمضغها فلا أسيغها فإذا غفل عني جعلتها بين الخوان والقصعة؛ ثم دعا بعس من نبيذ قد كاد أن يكون خلا فقال: اشرب، فأخذته وما أكاد أسيغه، ثم أخذه فشرب ثم قال: اسمع يا عتبة: إنا ننحر كل يوم جزورا فأما ودكها وأطايبها فلمن حضرنا من آفاق المسلمين، وأما عنقها فلآل عمر يأكل هذا اللحم الغليظ ويشرب هذا النبيذ الشديد يقطع في بطوننا أن يؤذينا. "هناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35937 ۔۔۔ ابی عثمان نہدی روایت کرتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد جب آذر بیجان پہنچا ان کو خبیص (کھجور کا حلوا) پیش کیا گیا جب کھایا تو اس کو عمدہ حلواپایا تو فرمایا اگر امیر المومنین کے لیے ایسابنا کر لیجاؤں چنانچہ انھوں نے حکم دیا تو ان کے لیے دوبڑے دیگ میں پکایا گیا پھر اس کو ایک اونٹ پر رکھا گیا اور دو آدمیوں کے ساتھ امیر المومنین کے پاس روانہ کردیا جب ان کے پاس پہنچا تو کھول کر دیکھا اور پوچھا کیا چیز ہے لوگوں نے بتایا حلوا ہے اس کو چکھ کر دیکھا پھر قاصد سے پوچھا کیا ہر مسلمان کو اپنے کجا وا اس حلوا سے پیٹ بھرنے کا موقع ملا ہے شاید اس نے کہا نہیں تو فرمایا میں تو نہیں کھاؤ نگا دونوں قاصدوں کو بلاؤ پھر عتبہ کے پاس خط لکھا کہ یہ نہ تمہارے محنت کی کماتے ہیں نہ تمہارے باپ کی نہ تمہارے ماں کی ہر مسلمان کو اپنے کجاوا (گھر میں) اس طرح کھلاؤ جس طرح اپنے گھر والوں کو کھلائے ہو۔ (ابن راھویہ وھنا دوالحارث ابویعلی ، حاکم بیہقی)
35937- عن أبي عثمان النهدي قال: لما قدم عتبة بن فرقد آذربيجان أتي بالخبيص، فلما أكله وجد شيئا حلوا طيبا فقال:لو صنعت لأمير المؤمنين من هذا! فأمر فجعل له سفطين عظيمين ثم حملهما على بعير مع رجلين فسرح بهما إلى عمر، فلما قدم عليه فتحهما فقال: أي شيء هذا؟ فقالوا: خبيص، فذاقه فإذا شيء حلو، فقال للرسول: أكل المسلمين شبع من هذا في رحله؟ لعله قال: لا، قال: أما لا فارددهما. ثم كتب إليه: أما بعد فإنه ليس من كدك ولا من كد أبيك ولا من كد أمك، أشبع المسلمين في رحالهم مما تشبع منه في رحلك. "ابن راهويه وهناد والحارث، ع، ك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جوتی پر ہاتھ صاف کرنا
35938 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان کو ایک کھانے پر مدعو کیا گیا جب وہ ایک رنگ کالاتے تو اس کو اپنے ساتھ والے کے ساتھ مخلوط کرلیتے ۔ (ھناد)
35938- عن عمر أنه دعي إلى طعام فكانوا إذا جاؤا بلون خلطه مع صاحبه. "هناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کفایت شعاری
35939 ۔۔۔ حبیب بن ابی ثابت اپنے بعض ساتھیوں سے وہ عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس اہل عراق کے چند اشخاص آئے ان میں جریربن عبداللہ بھی تھے ان کے پاس ایک پیالہ لا گیا جو روئے اور تیل سے تیار کیا گیا تھا ان سے فرمایا کھاؤ ، انھوں بہت تھوڑا لیا عمر (رض) نے فرمایا میں تمہارے معاملہ کو دیکھ رہاہوں تم کس طرح کا کھانا چاہتے ہو ، میٹھا، کھٹا گرم اور ٹھنڈا پھر انھوں نے پیٹ میں ڈال لئے۔ (ھناد، حلیة الاولیہ)
35939- عن حبيب بن أبي ثابت عن بعض أصحابه عن عمر أنه قدم عليه ناس من أهل العراق فيهم جرير بن عبد الله فأتاهم بحفنة قد صنعت بخبز وزيت، فقال لهم: خذوا، فأخذوا أخذا ضعيفا، فقال لهم عمر: قد أرى ما تفعلون، فأي شيء تريدون؟ أحلوا وحامضا، وحارا وباردا، ثم قذفا في البطون. "هناد، حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کفایت شعاری
35940 ۔۔۔ مسروق سے روایت ہے کہ عمر (رض) ایک دن ہمارے پاس آئے ان کے جسم پر روئی سے بنی ہوئے چاد ر تھی لوگوں نے نظر جماکر دیکھنا شروع کیا تو فرمایا شعر : لاشی فیما تری الابشاشتہ -- یبقی الالہ ویودی المال والولد جو کچھ تو دیکھ رہا ہے اس کی بشاشت کے سواء کچھ نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات باقی ہے مال اور اولاد سب ہلاک ہونے والا ہے واللہ کی قسم دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں خرگوش کی ایک چھلانگ کے برابر ہے۔ (ھناد ابن ابی الدنیا فی قصر الامل)
35940- عن مسروق قال: خرج علينا عمر ذات يوم وعليه حلة قطن فنظر إليه الناس نظرا شديدا فقال:

لا شيء فيما ترى إلا بشاشته ... يبقى الإله ويودى المال والولد والله! ما الدنيا في الآخرة إلا كنفجة أرنب. "هناد وابن أبي الدنيا في قصر الأمل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کفایت شعاری
35941 ۔۔۔ قتادہ روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) خلافت کے زمانہ میں ایک ادنی جبہ پہنتے تھے جس پر بعض جگہ سے چمڑے کا پیوند لگا ہوا تھا کندھے پر درہ رکھ کر بازار کا چکر لگاتے لوگوں سے معمولی تقریر فرماتے دھاگہ کی گٹھلی راستہ میں مل جاتا اس کو اٹھالیتے اور لوگوں کے گھروں میں ڈالتے تاکہ لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں۔ (دینوری نے مجالہ میں نقل کیا ہے ابن عساکر)
35941- عن قتادة قال: كان عمر وهو خليفة يلبس جبة من صوف مرقوعة بعضها بأدم ويطوف بالأسواق على عاتقه الدرة يؤدب الناس ويمر بالنكث والنوى فليقطه ويلقيه في منازل الناس لينتفعوا به. "الدينوري في المجالسة، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35942 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ خلافت کے زمانہ میں عمر (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیا اس حال میں کہ ان کی چادر میں بارہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ (احمد فی زھد ھناد ابن جربرابونعیم نے نقل کیا)
35942- عن الحسن قال: خطب عمر بن الخطاب الناس وهو خليفة وعليه إزار فيه اثنتا عشرة رقعة. "حم في الزهد وهناد وابن جرير وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক: