কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৯৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35943 ۔۔۔ ابی وائل سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کے ساتھ ملک شام کا سفر کیا ایک منزل پر قیام کیا ایک دھتا ان امیر المومنین کے متعلق پوچھتے ہوئے آپ (رض) کے پاس پہنچا جب دھقان نے عمر (رض) کو دیکھا تو سجدہ میں گر کیا تو عمر (رض) نے پوچھا یہ کس طرح کا سجدہ ہے ؟ تو عرض کیا کہ ہم بادشاہوں کے ساتھ یہی برتاؤ کرتے ہیں تو عمر (رض) نے فرمایا اس اللہ کے آگے سجدہ کرو جس نے تمہیں پیدا فرمایا اس نے کہا اے امیر المومنین میں نے آپ کے لیے کچھ کھانا تیار کیا ہے آپ تشریف لائیں تو عمر (رض) نے پوچھا تمہارے گھر میں عجم کے سرداروں کی تصاویر ہیں اس نے کہا ہاں تو فرمایا پھر تو ہم آپ کے گھر نہیں جائیں گے البتہ گھر جاکر ہمارے لیے ایک طرح کا کھانا تیار کرکے لاؤ اس سے زیادہ نہیں وہ گھر گیا اور ایک ہی طرح کا کھاتا تیار کرکے لایا اس میں سے آپ (رض) نے تناول فرمایا پھر اپنے غلام سے پوچھا کہ تمہارے مشکیزے میں کچھ نبیذ ہے اس نے کہا ہاں وہ لایا اور برتن میں ڈالا س کو سونھ کر دیکھاتو اس میں سے بوآرہی تھی تو اس پر تین مرتبہ پانی بہایا پھر پی لیا اس کے بعد کہا اگر تمہیں اپنے مشروب کے بارے میں شک ہو تو اس طرح کرو پھر فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرمائے ہوئے سنا کہ دبیاج اور حریر استعمال مت کرو اور سونے چاندی کے برتن میں مت پیو کیونکہ یہ دنیا میں کافروں کے لیے ہے اور آخرت میں تمہارے لیے (مسدد ، حاکم ، ابن عساکر)
35943- عن أبي وائل قال: غزوت مع عمر الشام فنزلنا منزلا فجاء دهقان يستدل على أمير المؤمنين حتى أتاه، فلما رأى الدهقان عمر سجد، فقال عمر: ما هذا السجود؟ فقال: هكذا نفعل بالملوك، فقال عمر: اسجد لربك الذي خلقك، فقال: يا أمير المؤمنين! إني قد صنعت لك طعاما فأتني، فقال عمر: هل في بيتك تصاوير العجم! قال: نعم، قال: لا حاجة لي في بيتك ولكن انطلق فابعث لنا بلون من الطعام ولا تزدنا عليه، فانطلق فبعث إليه بطعام فأكل منه، ثم قال عمر لغلامه: هل في إداوتك شيء من ذلك النبيذ، قال: نعم، فأتاه فصبه في إناء ثم شمه فوجده منكر الريح فصب عليه ماء ثم شمه فوجده منكر الريح فصب عليه الماء ثلاث مرات ثم شربه ثم قال: إذا رابكم من شرابكم شيء فافعلوا به هكذا، ثم قال، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تلبسوا الديباج والحرير ولا تشربوا في آنية الفضة والذهب فإنها لهم في الدنيا ولنا في الآخرة. "مسدد، ك، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35944 ۔۔۔ حفص بن ابی العاص سے روایت ہے کہ ہم عمر (رض) کے ساتھ صبح کا کھانا کھا رہے تھے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ۔ یوم یعرض الذین کفرواعلی النار اذھتم طیبتکم جس دن کافروں کو آگ پر پیش کیا جائے گا ان سے کہا جائے گا کہ تم اپنی دینوی زندگی میں مزہ حاصل کرچکے ہو۔ (ابن مردویہ)
35944- عن حفص بن أبي العاص قال: كنا نتغدى مع عمر فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله في كتابه: {وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ} - الآية. "ابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35945 ۔۔۔ ابن عمر (رض) نے جابر بن عبداللہ کے ہاتھ میں ایک درھم دیکھا تو پوچھا یہ درھم کیسا ہے ؟ بتایا میں اپنے گھر والوں کے لیے شت خریدنا چاہتاہوں جس کی انھیں خواہش ہے تو فرمایا کیا جس چیز کا دل چاہے گا اس کو ضرور کھاؤ گے اس آیت پر عمل کہاں ہوگا۔ اذھبتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا واستمععتم بھا سعید بن منصور عبد بن حمید ابن المندر حاکم بیہقی
35945- عن ابن عمر أن عمر رأى في يد جابر بن عبد الله درهما فقال: ما هذا الدرهم؟ قال: أريد أن أشتري لأهلي به لحما قرموا إليه، فقال: أكللما اشتهيتم شيئا اشتريتموه؟ أين تذهب عنكم هذه الآية: {أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا} . "ص وعبد بن حميد وابن المنذر، ك، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35946 ۔۔۔ قتادہ سے روایت ہے کہ ہمارے لیے ذکر کیا گیا کہ عمربن خطاب (رض) کہتے تھے اگر میں چاہتاتو تم میں سب سے زیادہ اچھا کھانا اور عمدہ نرم لباس استعمال کرسکتا تھا لیکن میں عیش کی زندگی کو آخررت پر قربان کردیا ہمارے لیے یہ بھی بیان کیا گیا کہ عمر (رض) جب ملک شام پہنچے ان کے لیے ایسا عمدہ کھاناتیار کیا گیا کہ اس جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تو فرمایا یہ کھاناتو ہمارے لیے ہوا ان فقراء مسلمین کا کیا حال ہواجوانتقال کرگئے کبھی ان کو پیٹ بھر کر جو کی روٹی نصیب نہیں ہوئی ؟ خالد بن ولید (رض) (علیہ السلام) نے کہا ان کے لیے جنت ہے حضرت عمر (رض) کی آنکھیں ڈبڈ باگئیں اور فرمایا اگر ہمارا حصہ دنیا کی یہ حقیر چیزیں ہوں اور وہ لوگ جنت کمالرلے گئے تو انھوں نے بہت بڑا فضل وشرف حاصل کرلیا ۔ (عبدبن حمید ابن جریر)
35946- عن قتادة قال: ذكر لنا أن عمر بن الخطاب كان يقول: لو شئت لكنت أطيبكم طعاما وألينكم لباسا ولكني أستبقي طيباتي، وذكر لنا أن عمر بن الخطاب لما قدم الشام صنع له طعام لم ير قبله مثله، قال: هذا لنا فما لفقراء المسلمين الذين ماتوا وهم لا يشبعون من خبز الشعير؟ فقال خالد بن الوليد: لهم الجنة، فاغرورقت عينا عمر وقال: لئن كان حظنا من هذا الحطام وذهبوا بالجنة لقد بانوا بونا عظيما. "عبد بن حميد وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35947 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی لیلی روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) کے پاس عراق کے کچھ لوگ آئے تو عمر (رض) نے دیکھا کہ کھانا بہت ہی کراہت کے ساتھ کھا رہے ہیں تو فرمایا اے اہل عراق اگر میں چاہتاتو تمہارے لءے بھی ایسا ہی عمدہ اور لذین کھاناتیار کرواسکتا تھا جس طرح تم اپنے لیے تیار کرواتے ہو لیکن ہم دنیا کی لذت کو آخرت کے لیے باقی رکھنا چاہتے ہیں کیا تم نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا۔ اذھیتم طیبتکم فی حیاتکم الدنیا الایة حلیة الاولیاء
35947- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: قدم على عمر ناس من أهل العراق، فرأى كأنهم يأكلون تقذيرا فقال: يا أهل
العراق! لو شئت أن يدهمق لي كما يدهمق لكم ففعلت ولكنا نستبقي من دنيانا نجده في آخرتنا، أما سمعتم الله يقول لقوم {أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا} - الآية. "حل".
العراق! لو شئت أن يدهمق لي كما يدهمق لكم ففعلت ولكنا نستبقي من دنيانا نجده في آخرتنا، أما سمعتم الله يقول لقوم {أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا} - الآية. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35948 ۔۔۔ سفیان بن عینہ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص کوفہ میں تھے وہاں سے عمربن خطاب (رض) کے پاس خط لکھا کہ اس میں اجازت طلب کی رہائش کے لیے کوئی مکان تعمیر کرے تو جواب میں لکھا ایک ایسامکان تعمیر کرلو جو تمہیں سورج کی دھوپ سے چھپائے اور بارش سے بچائے کیونکہ دنیا تو گذارہ کرنے کی جگہ ہے اور معرو بن العاص جو مصر کا گورنر تھے ان کے نام لکھاتم اپنے رعیا کے ساھ وہی برتاؤ کروجو تم اپنی بارے میں اپنے امیر کا برتاؤ دیکھنا چاہتے ہو۔ (ابن ابی الدنیا والد نیوری)
35948- عن سفيان بن عيينة قال: كتب سعد بن أبي وقاص إلى عمر بن الخطاب وهو على الكوفة يستأذنه في بناء بيت يسكنه، فوقع في كتابه: ابن ما يسترك من الشمس ويكنك من الغيث، فإن الدنيا دار بلغة . وكتب إلى عمرو بن العاص وهو على مصر: كن لرعيتك كما تحب أن يكون لك أميرك. "ابن أبي الدنيا والدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35949 ۔۔۔ ثابت سے روایت ہے کہ جاردو نے عمربن خطاب کے پاس کھانا کھایا جب فارغ ہوا تو کہ اے جاریہدستار یعنی رومال لے کر آؤ عمر (رض) نے کہا اپنے سرین سے ہاتھ صاف کرلے یاچھوڑدو۔ (الدینوری)
35949- عن ثابت قال: أكل الجارود عند عمر بن الخطاب، فلما فرغ قال: يا جارية! هلمي الدستار - يعني المنديل يمسح يده - فقال عمر: امسح يدك باستك أو ذر. "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35950 ۔۔۔ عمر (رض) نے پانی مانگاتو ایک برتن میں شہد پیش کیا گیا تو اس کو اپنے ہاتھ میں لے کر فرمانے لگے اگر میں نے اس کو پیا تو اس کی حلاوت ختم ہوجائے گی عیب باقی رہ جائے گا تین مرتبہ یہ فرمانے کے بعد ایک شخص کو دیدیا اس نے پی لیا۔ (ابن المبارک)
35950- عن ثابت أن عمر استسقى فأتي بإناء من عسل، فوضعه على كفه فجعل يقول: أشربها فتذهب حلاوتها وتبقى نقمتها - قالها ثلاثا، ثم دفعه إلى رجل من القوم فشربه. "ابن المبارك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35951 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) عبداللہ بن واقد بن عبداللہ بن عمرروایت کرتے ہیں کہ ابوموسیٰ (رض) نے عراق سے عمربن خطاب (رض) کے پاس کچھ زیورات بھیجے وہ ان کے سامنی میں اسماء بنت زید بن خطاب کے کمرہ میں رکھے گئے عمر (رض) ان کو اپنی جان سے زیادہ محبت رکھتے تھے جب سے ان کے والد یمامہ کی لڑائی میں شہید ہوگئے ان پر مہربان ہوئے ان زیوراتے ایک انگوٹھی لے کر ہاتھ میں ڈال لی آپ (رض) اس کی طرف متوجہ ہوا اس کی طرف متوجہ ہوا اس کا بوسہ لیا اس کو اپنے سینہ سے لگایا جب اس کو اس سے غافل پایا انگوٹھی اس کے ہاتھ سے لے کر زیورات میں ڈالی اور فرمایا اس کو مجھ سے لے لو۔ (ابن ابی الدنیا)
35951- "مسند عمر" عن عبد الله بن واقد بن عبد الله بن عمر قال: بعث أبو موسى من العراق إلى عمر بن الخطاب بحلية فوضعت بين يديه وفي حجزه أسماء بنت زيد بن الخطاب - وكانت أحب إليه من نفسه لما قتل أبوها باليمامة عطف عليها - فأخذت من الحلية خاتما فوضعته في يدها، فأقبل عليها فقبلها ويلتزمها، فلما غفلت أخذ الخاتم من يدها فرمى به في الحلية وقال: خذوها عني. "ابن أبي الدنيا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35952 ۔۔۔ ابن شہاب روایت کرتے ہیں عمر (رض) جب شام آئے تو ان کو ہدیہ میں خبیص (حلواء) کی ٹوکری دی گئی تو فرمایا اس کھانے کو میں نہیں جانتا کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا اے امیر لمومنین خبیص ہے پوچھا خبیص کیا ہے ؟ تو بتایا ایک حلواء ہے جو شہد صاف آٹاملاکرتیار کیا جاتا ہے تو فرمایا اللہ کی قسم موت تک ایساکھانا نہیں کھاؤ نگا لایہ کہ تمام لوگوں کو ایسا عمدہ کھانا نصیب ہوجائے لوگوں نے کہا تمام مسلمانوں کو ایسا عمدہ کھانا نہیں مل سکتا تو فرمایا پھر مجھے اس کھانے کی کوئی حاجت نہیں ۔ (خطیب نے واہ مالک میں نقل کیا)
35952- عن ابن شهاب أن عمر بن الخطاب لما قدم الشام أهديت له سلة خبيص، قال: إن هذا طعام ما أعرفه فما هو؟ قالوا: يا أمير المؤمنين! الخبيص، قال: وما الخبيص؟ قالوا: طعام يصنع من العسل ونقي الدقيق، فقال: والله إن هذا طعام لا آكله أبدا حتى ألقى الله إلا أن يكون طعام الناس كلهم مثله، قالوا: يا أمير المؤمنين! ما هو بطعام المسلمين كلهم، قال: فلا حاجة لنا فيه. "خط في رواة مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35953 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) دھب بن کیسان جابر بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں میرے ملاقات عمر (رض) سے ہوئی میرے ساتھ گوشت تھا جس کو میں نے ایک درھم کا خریدا پوچھایہ کیا ہے ؟ میں نے کہا امیر لمومنین بچوں عورتوں کے لیے خریدا ہے فرمایا تم میں سے جو جس کو چاہتا ہے اس کے فتنہ میں مبتلاء ہوتا ہے دو تین مرتبہ فرمایا پھر فرمایا تم میں سے کوئی اپنا پیٹ اپنے پڑوسی اور جچازاد بھائی کے لیے نہ لینے پھر فرمایا تمہارے نزدیک اس آیت کا کیا مطلب ہے۔
35953- "مسند عمر" عن وهب بن كيسان عن جابر بن عبد الله قال: لقيني عمر بن الخطاب ومعي لحم اشتريته بدرهم فقال: ما هذا؟ فقلت: يا أمير المؤمنين! اشتريته للصبيان والنساء، فقال عمر: لا يشتهي أحدكم شيئا إلا وقع فيه - مرتين أو ثلاثا، ثم قال: لا يطوي أحدكم بطنه لجاره وابن عمه؟ ثم قال: أين تذهب عنكم هذه الآية: {أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا} . "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35954 ۔۔۔ ابی بکرہ سے روایت ہے کہ عمر (رض) کو روٹی اور تیل پیش کیا گیا تو فرمایا اے پیٹ تو روٹی اور تیل پر مرے گا جب تک کھی اوقیہ کے عوض فروخت ہو۔ (بیہقی)
35954- عن أبي بكرة قال: أتي عمر بن الخطاب بخبز وزيت فقال: أما والله لتموتن أيها البطن على الخبز والزيت ما دام السمن يباع بالأواقي. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35955 ۔۔۔ (مسندہ) ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ عتتبہ بن فرقد عمر (رض) کے پاس آیا ان کے سامنی کھانا رکھا ہوا تھا اس کے کھا رہے تھے عمر (رض) نے ان سے بھی فرمایا کہ کھاؤ تو عتبہ نے بادل نخواستہ کھانا شرو ع کیا تو عمر اللہ عنہ نے فرمایا چاہو تو چھوڑ دوتو کہا اے امیر المومنین اگر آپ کھانا تیار کروالیا کریں اس سے مسلمانوں کے خراج میں کوئی کمی نہیں آئے گی فرمایا تیرا ناس ہو کیا میں دنیوی زندگی میں عمدہ کھانا کھالوں اور اس سے نفع اٹھالوں ؟ (رواہ ابن عساکر)
35955- "مسنده" عن ابن أبي مليكة قال: قدم عتبة بن فرقد على عمر وبين يدي عمر طعام يأكل منه، فقال له عمر: كل من هذا، فأكل منه متكارها، فقال له عمر: دعه إن شئت، قال: هل لك يا أمير المؤمنين في شيء - يعني طعاما يصنع له - لا ينقص من خراج المسلمين شيئا، قال: ويحك! آكل طيباتي في حياتي الدنيا واستمتع بها. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے خرچ لینے میں احتیاط
35956 ۔۔۔ (ایضا ) عروہ عاصم سے وہ عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے لیے حلال نہیں سمجھتا کہ تمہارے مال سے کھاؤں مگر اتناجتنا میں اپنے ذاتی مال سے کھایا کرتا تھا روٹی اور تیل یاروٹی اور گھی کہ بسا اوقات ان کے پاس پیالہ لایا جا تھا جو تیل سے تیار کیا گیا اس میں گھی کی ملاوٹ ہوجاتی تو معذت کردیتے تھے اور فرمایا میں ایک شخص ہوں جو مداومت کرنا چاہتاہوں میں ہمیشہ تیل استعمال کرنے پر قادر نہیں ہوں ۔ (ھناد)
35956- "أيضا" عن عروة عن عاصم عن عمر قال: لا أجد أن يحل لي أن آكل من مالكم هذا إلا كما كنت آكل من صلب مالي الخبز والزيت والخبز والسمن، قال: فكان ربما أتي بالقصعة قد جعلت بزيت وما يليه سمن فيعتذر فيقول: إني رجل تمرد ولست أستمرئ هذا الزيت. "هناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے خرچ لینے میں احتیاط
35957 ۔۔۔ طلحہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ عم (رض) کے پاس مال لایا گیا اس کو مسلمانوں میں تقسیم فرمادیا کچھ مال بچ گیا اس کے متعلق مشورہ فرمایا صہابہ کرام (رض) نے مشورہ دیا اس کو روک کررکھا جائے تاکہ کسی حادثہ کے وقت کام آئی علی (رض) خاموش تھے انھوں نے کوئی بات نہیں کی پوچگا ابوالحسن آپ کیوں بات نہیں کررہے ہیں کہا لوگوں نے اپنی رائے دے دی ہیں عمر (رض) نے کہا آپ بھی رائے دیں تو کہا اللہ تعالیٰ تو اس مال کی تقسیم سے فارغ ہوچکا ہے پھر بحرین سے جو مال آیا تھا اس کے متعلق حدیث ذکر کی کہ مال آنے کے بعد اس میں اور تقسیم میں رات حائل ہوئی تو آپ نے نمازیں مسجد میں پڑھیں میں آپ کے چہرے پریشانی کے آثار محسوس کرتا یہاں تک مال کی تقسیم سے فارغ ہوئے تو عمر (رض) نے کہا آپ بقیہ مال کو ضرور تقسیم کردیں چنانچہ انھوں نے تقسیم کردیا اس میں سے چھے سو کسی کو آٹھ سو دراھم ملے۔ (البزار)
35957- عن طلحة رضي الله عنه قال: أتي عمر بمال فقسمه بين المسلمين ففضلت منه فضلة فاستشار فيها، فقالوا: لو تركت لنائبة إن كانت! وعلي ساكت لا يتكلم فقال: مالك يا أبا الحسن لا تتكلم؟ قال: قد أخبرك القوم، قال عمر: لتكلمني، قال: إن الله قد فرغ من قسمة هذا المال - وذكر حديث مال البحرين حين جاء النبي صلى الله عليه وسلم حين حال بينه وبين أن يقسمه الليل فصلى الصوات في المسجد فقد رأيت ذلك في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى فرغ منه، فقال: لا جرم لتقسمنه! فقسمه علي رضي الله عنه، فأصابني منه ثمانمائة درهم. "البزار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے خرچ لینے میں احتیاط
35958 ۔۔۔ (مسندعمر (رض)) سالم بن عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ جب عمر (رض) کو خلافت ملی تو بیت المال سے جو وظیفہ ابوبکر (رض) کے لیے مقرر کیا گیا تھا وہ عمر (رض) بھی لیتے رہے پھر عمر (رض) کی حاجت بڑھ گئی تو مہاجربن صحابہ کی ایک جماعت بیٹھی تھی ان میں عثمان علی طلحہ زبیر (رض) تھے تو زبیر (رض) نے کہا کہ ہم عمر (رض) کو مشورہ دیتے ہیں کہ ان کے وظیفہ میں اضافہ کردیا جائے علی (رض) نے کہا ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ وہ ایسا کریں ہمارے ساتھ چلیں تو عثمان (رض) نے کہا وہ تو عمر (رض) ہیں پہلے باہر باہر سے ان کی رائے معلوم کریں ہم حفصہ (رض) کے پاس جاکر بات کرتے ہیں اپنے نام چھپائیں گے ان کے پاس پہنچے اور ان سے بات کی کہ عمر (رض) کو ہماری رائے سے مطلع کریں اور ہمارا نام ظاہر نہ کریں الایہ کہ وہ خود پوچھیں وہ ان سے بات کرکے نکلے حفصہ (رض) کی عمر (رض) سے ملاقات ہوئی تو عمر (رض) کے چہرے پر غصہ کے آثار ظاہر تھے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ تو عرض کیا نام تو نہیں بتاؤں گی پہلے آپ کی رائے معلوم ہوجائے تو عمر (رض) نے کہا اگر مجھے معلوم ہوجائے وہ کون ہیں مارمار کے ان کے چہرہ سیا کردوں گا تم میرے اور ان کے درمیان ہو میں تجھے قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے گھر میں سب سے اچھا لباس کو نسا استعمال فرمایا تو بتایا منقش چادر مہمانوں کے استقبال کے لیے استعمال فرماتے تھے انہی میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے سب سے عمدہ کھانا کونسا تناول فرمایا بتایا ہماری روٹی جو کی ہوتی وہ گرم ہوتی اس کے ساتھ کھجور کی جبر بنالیتے روٹی کھاتے تلذذ کے لیے حلوہ کھالیتے پوچھا سب سے عمدہ بستر کونسا استعمال فرمایا جو سب سے نرم ہو ؟ بتایا ہماری ایک موٹی چادر تھی گرمی کے زمانہ میں نیچے بچھا لیتے تھے اور سردی کے زمانہ میں آدھا اوپر بچھاتے اور آدھانیچے تو فرمایا اے حفصہ وظیفہ اضافہ کرنے والوں کو بتادیں کہ رسول اللہ نے اندازہ لگایا اور زائدکو اپنی جگہ لگایا اور اپنے خرچہ اور گھروالوں کے خرچہ میں کفایت شعاری سے کام لیتے تھے میں نے بھی اندازہ لگالیا ہے زائدہ کو اس کی جگہ خرچ کروں گا اور کفایت شعاری سے کام چلاؤں گا میرے اور میرے ساتھیوں کی مثال ایسی ہے تین آدمی سفر میں ایک راستہ پر چل رہے تھے پہلا چلے گئے انھوں نے اتنا توشتہ لیا تھا کہ منزل تک تک پہنچ گئے دوسرا بھی ان کے راستہ پر چل پڑا وہاں تک پہنچ گیا پھر تیسرے نے ان کا راستہ اختیار کیا اگر ان کے طریقہ کو اپنایا اور ان کے برابر زادراہ پر راضی رہا ان سے مل جائے گا اور ان کے ساتھ ہوگا اگر ان کے راستہ کو چھوڑ دیاتو کبھی ان کے ساتھ اکٹھانہ ہوسکے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
35958- "مسند عمر" عن سالم بن عبد الله قال: لما ولي عمر قعد على رزق أبي بكر الذي كانوا فرضوا له فكان بذلك فاشتدت حاجته، واجتمع نفر من المهاجرين فيهم عثمان وعلي وطلحة والزبير فقال الزبير: لو قلنا لعمر في زيادة نزيدها إياه في رزقه! فقال علي: وددنا أنه فعل ذلك فانطلقوا بنا، فقال عثمان: إنه عمر! فهلموا فلنستشر ما عنده من وراء وراء، نأتي حفصة فنكلمها ونستكتمها أسماءنا، فدخلوا عليها وسألوها أن تخبر بالخبر عن نفر ولا تسمي أحدا له إلا أن يقبل، وخرجوا من عندها، فلقيت عمر في ذلك فعرفت الغضب في وجهه، فقال: من هؤلاء؟ قالت: لا سبيل إلى علمهم حتى أعلم ما رأيك، فقال: لو علمت من هم لسودت وجوههم، أنت بيني وبينهم أناشدك الله ما أفضل ما اقتنى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتك من الملبس؟ قالت: ثوبين ممشقين كان يلبسهما للوفد ويخطب فيهما للجمع، فقال: فأي طعام ناله عندك أرفع؟ قالت: خبزنا خبز شعير يصب عليها وهي حارة أسفل عكة لنا فجعلنا حيسة دسماء حلوة نأكل منها ونطعم منها استطابة، قال: فأي مبسط كان يبسطه عندك كان أوطأ؟ قالت: كساء لنا ثخين كنا يرفعه في الصيف فنجعله تحتنا، فإذا كان الشتاء انبسطنا نصفه وتدثرنا نصفه، قال: يا حفصة! فأبلغيهم عني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدر فوضع الفضول مواضعها وتبلغ بالتوجية وإني قدرت فوالله لأضعن الفضول مواضعها ولأتبلغن بالتوجية، وإنما مثلي ومثل صاحبي كثلاثة نفر سلكوا طريقا، فمضى الأول وقد تزود زادا فبلغ، ثم اتبعه الآخر فسلك طريقه فأفضى إليه، ثم اتبعهما الثالث فإن لزم طريقهما ورضي بزادهما لحق بهما وكان معهما، وإن سلك غير طريقهما لم يجامعهما أبدا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے خرچ لینے میں احتیاط
35959 ۔۔۔ (ایضا) حسن بصری (رض) سے روایت ہے کہ میں جامع مسجد بصرہ میں آیا وہ ان ایک مجمع تھا صحابہ کرام ریض اللہ عنہم کا وہ آپس میں ابوبکر صدیق اور عمر (رض) کے زھد کا تذکرہ کررہے تھے اور اللہ تعالیٰ کی وجہ سے کتنے فتوحالت عطاء فرمایا اور ان کے حسن سیرت کا تذکرہ چل رہا تھا میں ان کے قریب ہوا تو ان میں احنف بن قیس شیمی بھی ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہمیں عمربن خطاب (رض) نے عراق کی طرف ایک سریہ کے ساتگ بھیجا اللہ تعالیٰ نے عراق اور فارس کا ایک شہر ہم پر فتح فرمایا تو ہمیں اس میں فارس اور خراسان کی عمدہ کھالیں ملیں جن کو اپنے ساتھ لیا ان میں سے بعض کی چادریں بنالیں جب ہم عمررضی الغنہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے ہم سے اعراض کیا ہم سے بات نہیں کی ہمارے ستھیوں پر یہ معاملہ شاق گذرا ہم ان کے بیٹے عبداللہ کے پاس آئے وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے ان سے شکایت کی امیر المومنین کے خفا ہونے کی تو عبداللہ نے بتایا امیر المومنین نے تمہارے جسم پر وہ لباس دیکھاجی سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہنتے ہوئے نہیں دیکھاتھانہ ان کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ابوبکر (رض) کو توہم گھروں کو واپس آئے اور یہ لباس اتاردیا اور اس لباس میں حاضر ہوئے جو پہلے ہماری عادت تھی تو عمر (رض) نے کھڑے ہو کر ایک ایک آدمی کو سلام کیا اور ہر ایک سے معانقہ کیا ملے گویا یہ ہماری پہلی ملاقات تھی اس سے پہلے کبھی ملاقات ہوئی نہیں ہم نے مال غنیمت ان کے سامنے رکھا اس کو ہمارے درمیان برابر تقسیم فرمایا اور غنائم خیبص کی چند ٹکڑیاں بھی ان کو پیش کی گئیں زردا اور سرخ رنگ کی اس کو عمدہ خوشبو اور عمدہ ذائقہ کا پایاتو ہماری طرف متوجہ ہوا اور فرمایا واللہ اے مہاجرین اور انصار کی جماعت ہوسکتا ہے اس کھانے پر تم میں سے بیٹا باپ کو بھائی بھائی کو قتل رکدے پھر اس کے متعلق حکم دیا مہاجرین اور انصا نے وہ کھانا ن بچوں کھلایا جن کے ولدرسول اللہ کے زمانہ میں شہید ہوگئے پھر عمر (رض) ایسی کے لیے کھڑے ہوئے آپ کے ساتھ صحابہ کرام کی جماعت تھی تو انھوں نے کہا اے انصار اور مہاجرین کی جماعت تمہارا کیا خیال ہے اس شخص کے زھد اور حلیہ کے بارے میں ہمیں تو ہمارے نفس نے عاجز کردیا جب سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ قیصر اور کسری کا ملک فتح فرمایا مشرق ومغرب کے ممالک عرب وعجم کے وفود ان کی خدمت میں آئے ہیں وہ اس جبہ کو دیکھتے ہیں کہ اس پر بارہ پیوند لگے ہوئے ہیں اگر صحابہ کرام (رض) سے درخواست کرو کہ تم پڑے ہو رسول اللہ کے ساتھ غروات اور سفروحضر میں ساتھ رہے مہاجرین و انصار میں تمہیں سبقت حاصل ہے کہ عمر (رض) اس حبہ کے بدلہ میں کوئی نرم کپڑا زیب تن فرمائیں جس سے ان کا منظر ہیبت ناک لگے ان کے پاس صبح وشام کھانے کا پیالہ آئے اس میں سے خود بھی کھائیں اور مہاجرین و انصار میں سے حاضرین مجلس کو بھی کھلائیں تو پوری قوم نے کہا یہ بات تو علی بن ابی طالب ہی کرسکتا ہے کیونکہ عمر (رض) کے سامنے سب سے جری یہی ہیں اور یہ ان کے داماد بھی ہیں ان کے بیٹے حفصہ (رض) کے توسط سے جو کہ زواج مطہرات میں سے ہیں بھی سب سے اس جرات ہے کیونکہ ان کا رسول اللہ کے ہاں بڑا مقام تھا انھوں نے اس سلسلہ میں علی (رض) سے بات کی علی (رض) نے جواب دیا میں خود تو عمر (رض) سے بات نہیں کرسکتا البتہ تم لوگ ازواج مطہرات سے بات کرو چونکہ وہ مہات المومنین ہیں اس لیے وہ جرات کرلیتی ہیں احنف بن قیس نے کہا انھوں نے عائشہ وحفصہ (رض) سے درخواست کی دونوں اکٹھی تھیں تو عائشہ (رض) نے کہا میں امیر المومنین سے درخواست کروں گی حفصہ (رض) نے کہا میں نہیں سمجھتی کہ وہ بات مان لیں گے عنقریب تمہارے سامنے بات ظاہر ہوجائے گی اب دونوں ازواج مطہرات عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان کو قریب بٹھایا تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا امیر المومنین اگر اجازت ہو تو کچھ گفتگو کروں تو فرمایا اے ام المومنین اجازت ہے تو کہا رسول اللہ اپنے راستہ پر چلتے ہوئے جنت پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کی نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کو طلب کیا نہ دنیا آپ کی طلب میں آئی اس طرح ابوبکر صدیق (رض) بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو زندہ کرنے بعد ان کے نقش قدم پرچلتے ہوئے دنیا سے تشریف لے گئے جھوٹے مدعیان نبوت کو قتل کیا مبطلین کی حجت کو باطل کیا رعایا میں انصاف قائم کیا ان میں مال کو مساوی طورپر تقسیم کیا اللہ تعالیٰ جو تمام مخلوق کا رب ہے ان کو راضی کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت اور رضوان کی طرف بلالیا اور اپنے نبی کے ساتھ مراتب علیاپر فائز فرمایا نہ دنیا کا قصد کیا نہ دنیا نے ان کا قصد کیا اللہ تعالیٰ آپ (رض) کے ہاتھ پر قیصر اور کسری کے خزانوں کو ھولدیا اور ان کے علاقوں کو فتح کرایا اور ان خے بال آپ کے پاس پہنچا یا اور مشرق اور مغرب کے لوگ آپ کے تابعدار ہوئے اللہ تعالیٰ سے مزید کی امید رکھتے ہیں اور اسلام میں آپ کے تائید کی عجم کے قاصد ین اور عرب کے وفو ہ آپ کے پاس آئے ہیں اور آپ کے جسم پر یہ جبہ ہے جس پر بارہ پیوند لگے ہوئے ہیں اگر آپ اس کے بدلہ میں ایک نرم وملائم لباس زیب تن فرمائیں جس میں آپ کا منظر ہیبت ناک معلوم ہو اور صبح وشام آپ کے پاس عمدہ کھانوں کا پیالہ آئے جس آپ خود بھی کھائیں اور آپ کے آنے والے انصار و مہاجرین بھی کھائیں یہ باتیں سن کر عمر (رض) بہت زیادہ روئے پھر فرمایا میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کیا آپ جانتی ہیں کہ رسول اللہ نے گندم کی روٹی مسلسل دس دن پانچ باتیں دن کھائی ہو یا صبح وشام دونوں وقت کا کھانا کھایا ہو یہاں تک اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ گئے عرض کیا میرے علم میں نہیں اور پوچھا کیا آپ جانتی ہیں کہ کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کھانے کا دسترخوان زمین سے ایک بالشت اونچھا جھپایا گیا ہو کھانے کے بارے میں حکم فرماتے زمین پر رکھ کر کھایا جائے منبر لواٹھا دیا جائے دونوں نے جواب دیا یا نکل ایسا ہی ہے فرمایا دونوں ازواج مطہرات میں سے ہیں اور امہات المومنین ہیں آپ دونوں کا مومنین پر حق ہے خاص طور پر مجھ پر حق ہے آپ دونوں میرے پاس آکر دنیا کی ترغیب دے رہی ہیں میرے علم میں ہے کہ رسول اللہ نے اولی جبہ استعمال فرمایا کرتے تھے بسا اوقات اس کی خشونت سے حال مبارک چھپ جاتی کیا آپ دونوں کو یہ باتیں معلوم ہیں ؟ فرمایا ہاں ضرور معلوم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ بستر کی ایک تہہ پر سوتے تھے ؟ اے عائشہ (رض) تمہارے گھر میں ایک موٹی چادر تھی دن بچھونا کا کام آتا اور رات کے وقت بستر کا ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کے جسم مبارک پر چٹائی کے نشانات دیکھے جاتے تھے سن لے اے حفصہ (رض) تم ہی نے بیان کیا تھا کہ تم نے ایک رات چادر کو دوتہہ کرکے بچھا دیا آپ نے اس کو نرم پایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر سوئے پھر صبح اذان بدل ہی پر بیدار ہوئے اور آپ نے پوچھا اے حفصہ ایساکیوں کیا ؟ میرے لیے بچھو نا رات کے وقت دہرا کردیا یہاں تک مجھے صبح تک سونا پڑا ؟ میرا دنیا کی لذت سے کیا واسطہ دنیا کو مجھ سے کیا واسطہ مجھے نرم بستر کے ذریعہ مشغول کردیا اے حفصہ کیا تم جانتی ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیے گئے تھے ؟ بھوک کی حالت میں شام کی سجدہ کی حالت میں سوئے مسلسل رکوع کرتے رہتے مسلسل سجدہ میں رہتے رات اور دن کے اوقات میں روتے عاجزی انکساری سے کام لیتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرمائی اپنی رحمت اور رضوان میں جگہ نصیب فرمادی عمر نہ عمدہ غذا استعمال کرے گا نہ نرم لباس پہنچے گا وہ اپنے دونوں ساتھیوں کے نقش قدم پر چلے گا کبھی دوسالن کو جمع نہیں کیا سوائے نمک اور تیل کے اور گوشت نہیں کھاؤنگا مگر مہینہ میں ایک بار یہاں تک اجل پورا ہوجائے جس طرح لوگوں کا پورا ہوتا ہے ہم آپ کے پاس سے نکل آئیں اور صحابہ کرام کو اس کی خبر دی آپ (رض) اسی حالت میں رہے حتی کہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ (رواہ ابن عساکر)
35959- "أيضا" عن الحسن البصري قال: أتيت مجلسا في جامع البصرة فإذا أنا بنفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتذاكرون زهد أبي بكر وعمر وما فتح الله عليهما من الإسلام وحسن سيرتهما، فدنوت من القوم فإذا فيهم الأحنف بن قيس التميمي جالس معهم، فسمعته يقول: أخرجنا عمر بن الخطاب في سرية إلى العراق ففتح الله علينا العراق وبلد فارس فأصبنا فيها من بياض فارس وخراسان فجعلناه معنا واكتسينا منها، فلما قدمنا على عمر أعرض عنا بوجهه وجعل لا يكلمنا، فاشتد ذلك على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتينا ابنه عبد الله بن عمر وهو جالس في المسجد، فشكونا إليه ما نزل بنا من الجفاء من أمير المؤمنين عمر بن الخطاب، فقال عبد الله: إن أمير المؤمنين رأى عليكم لباسا لم ير رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسه ولا الخليفة من بعده أبو بكر الصديق، فأتينا منازلنا فنزعنا ما كان علينا وأتيناه في البزة التي كان يعهدنا فيها، فقام يسلم علينا على رجل رجل ويعانق منا رجلا رجلا حتى كأنه لم يرنا قبل ذلك، فقدمنا إليه
الغنائم فقسمها بيننا بالسوية، فعرض عليه في الغنائم سلال من أنواع الخبيص من أصفر وأحمر، فذاقه عمر فوجده طيب الطعم طيب الريح، فأقبل علينا بوجهه وقال: والله يا معشر المهاجرين والأنصار ليقتلن منكم الابن أباه والأخ أخاه على هذا الطعام! ثم أمر به فحمل إلى أولاد من قتلوا بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين الأنصار، ثم إن عمر قام منصرفا فمشى وراء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في أثره، فقالوا: ما ترون يا معشر المهاجرين والأنصار إلى زهد هذا الرجل وإلى حليته؟ لقد تقاصرت إلينا أنفسنا مذ فتح الله على يديه ديار كسرى وقيصر وطرفي المشرق والمغرب، ووفود العرب والعجم يأتونه فيرون عليه هذه الجبة قد رقعها اثنتي عشرة رقعة فلو سألتم معاشر أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وأنتم الكبراء من أهل المواقف والمشاهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم والسابقين من المهاجرين والأنصار أن يغير هذه الجبة بثوب لين يهاب فيه منظره ويغدى عليه جفنة من الطعام ويراح عليه جفنة يأكله ومن حضره من المهاجرين والأنصار، فقال القوم بأجمعهم: ليس لهذا القول إلا علي ابن أبي طالب فإنه أجرأ الناس عليه وصهره على ابنته أو ابنته حفصة فإنها زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو موجب لها لموضعها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلموا عليا فقال علي: لست بفاعل ذلك ولكن عليكم بأزواج رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنهن أمهات المؤمنين يجترئن عليه، قال الأحنف بن قيس: فسألوا عائشة وحفصة وكانتا مجتمعتين، فقالت عائشة: إني سائلة أمير المؤمنين ذلك، وقالت حفصة: ما أراه يفعل وسيبين لك ذلك، فدخلنا على أمير المؤمنين فقربهما وأدناهما، فقالت عائشة: يا أمير المؤمنين! أتأذن لي أن أكلمك؟ قال: تكلمي يا أم المؤمنين! قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مضى لسبيله إلى جنته ورضوانه لم يرد الدنيا ولم ترده، وكذلك مضى أبو بكر على أثره لسبيله بعد إحياء سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقتل الكذابين وأدحض حجة المبطلين بعد عدله في الرعية وقسمه بالسوية وأرضى رب البرية، فقبضه الله إلى رحمته ورضوانه وألحقه بنبيه صلى الله عليه وسلم بالرفيع الأعلى، لم يرد الدنيا ولم ترده، وقد فتح الله على يديك كنوز كسرى وقيصر وديارهما وحمل إليك أموالهما، ودانت لك طرفا المشرق المغرب، ونرجو من الله المزيد وفي الإسلام التأييد، ورسل العجم يأتونك ووفود العرب يردون عليك وعليك هذه الجبة قد رقعتها اثنتي عشرة رقعة! فلو غيرتها بثوب لين يهاب فيه منظرك ويغدى عليك بجفنة من الطعام ويراح عليك بجفنة تأكل أنت ومن حضرك من المهاجرين والأنصار، فبكى عمر عند ذلك بكاء شديدا، ثم قال: سألتك بالله هل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم شبع من خبز بر عشرة أيام أو خمسة أو ثلاثة أو جمع بين عشاء وغداء حتى لحق بالله؟ فقالت: لا، فأقبل على عائشة فقال: هل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قرب إليه طعام على مائدة في ارتفاع شبر من الأرض؟ كان يأمر بالطعام فيوضع على الأرض ويأمر بالمائدة فترفع، قالتا: اللهم نعم، فقال لهما: أنتما زوجتا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمهات المؤمنين ولكما على المؤمنين حق وعلي خاصة ولكن أتيتماني وترغباني في الدنيا وإني لأعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس جبة من الصوف فربما رق جلده من خشونتها! أتعلمان ذلك؟ قالتا: اللهم نعم، قال: فهل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرقد على عباءة على طاقة واحدة؟ وكان مسحا 1 في بيتك يا عائشة يكون بالنهار بساطا وبالليل فراشا فندخل عليه فنرى أثر الحصير على جنبه، ألا يا حفصة! أنت حدثتيني أنك ثنيت له ذات ليلة فوجد لينها فرقد عليه فلم يستيقظ إلا بأذان بلال فقال لك: يا حفصة! ماذا صنعت؟ أثنيت لي المهاد ليلتي حتى ذهب بي النوم إلى الصباح؟ مالي وللدنيا ومالي! شغلتموني لين الفراش! يا حفصة! أما تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مغفورا له ما تقدم من ذنبه وما تأخر؟ أمسى جائعا ورقد ساجدا ولم يزل راكعا وساجدا وباكيا ومتضرعا في آناء الليل والنهار إلى أن قبضه الله إلى رحمته ورضوانه، لا أكل عمر طيبا ولا لبس لينا فله أسوة بصاحبيه، ولا جمع بين الأدمين إلا الملح والزيت، ولا أكل لحما إلا في كل شهر حتى ينقضي ما انقضى من القوم فخرجنا فخبرتا بذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يزل كذلك حتى لحق بالله عز وجل. "كر".
الغنائم فقسمها بيننا بالسوية، فعرض عليه في الغنائم سلال من أنواع الخبيص من أصفر وأحمر، فذاقه عمر فوجده طيب الطعم طيب الريح، فأقبل علينا بوجهه وقال: والله يا معشر المهاجرين والأنصار ليقتلن منكم الابن أباه والأخ أخاه على هذا الطعام! ثم أمر به فحمل إلى أولاد من قتلوا بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم من المهاجرين الأنصار، ثم إن عمر قام منصرفا فمشى وراء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في أثره، فقالوا: ما ترون يا معشر المهاجرين والأنصار إلى زهد هذا الرجل وإلى حليته؟ لقد تقاصرت إلينا أنفسنا مذ فتح الله على يديه ديار كسرى وقيصر وطرفي المشرق والمغرب، ووفود العرب والعجم يأتونه فيرون عليه هذه الجبة قد رقعها اثنتي عشرة رقعة فلو سألتم معاشر أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وأنتم الكبراء من أهل المواقف والمشاهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم والسابقين من المهاجرين والأنصار أن يغير هذه الجبة بثوب لين يهاب فيه منظره ويغدى عليه جفنة من الطعام ويراح عليه جفنة يأكله ومن حضره من المهاجرين والأنصار، فقال القوم بأجمعهم: ليس لهذا القول إلا علي ابن أبي طالب فإنه أجرأ الناس عليه وصهره على ابنته أو ابنته حفصة فإنها زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو موجب لها لموضعها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فكلموا عليا فقال علي: لست بفاعل ذلك ولكن عليكم بأزواج رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنهن أمهات المؤمنين يجترئن عليه، قال الأحنف بن قيس: فسألوا عائشة وحفصة وكانتا مجتمعتين، فقالت عائشة: إني سائلة أمير المؤمنين ذلك، وقالت حفصة: ما أراه يفعل وسيبين لك ذلك، فدخلنا على أمير المؤمنين فقربهما وأدناهما، فقالت عائشة: يا أمير المؤمنين! أتأذن لي أن أكلمك؟ قال: تكلمي يا أم المؤمنين! قالت: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مضى لسبيله إلى جنته ورضوانه لم يرد الدنيا ولم ترده، وكذلك مضى أبو بكر على أثره لسبيله بعد إحياء سنن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقتل الكذابين وأدحض حجة المبطلين بعد عدله في الرعية وقسمه بالسوية وأرضى رب البرية، فقبضه الله إلى رحمته ورضوانه وألحقه بنبيه صلى الله عليه وسلم بالرفيع الأعلى، لم يرد الدنيا ولم ترده، وقد فتح الله على يديك كنوز كسرى وقيصر وديارهما وحمل إليك أموالهما، ودانت لك طرفا المشرق المغرب، ونرجو من الله المزيد وفي الإسلام التأييد، ورسل العجم يأتونك ووفود العرب يردون عليك وعليك هذه الجبة قد رقعتها اثنتي عشرة رقعة! فلو غيرتها بثوب لين يهاب فيه منظرك ويغدى عليك بجفنة من الطعام ويراح عليك بجفنة تأكل أنت ومن حضرك من المهاجرين والأنصار، فبكى عمر عند ذلك بكاء شديدا، ثم قال: سألتك بالله هل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم شبع من خبز بر عشرة أيام أو خمسة أو ثلاثة أو جمع بين عشاء وغداء حتى لحق بالله؟ فقالت: لا، فأقبل على عائشة فقال: هل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قرب إليه طعام على مائدة في ارتفاع شبر من الأرض؟ كان يأمر بالطعام فيوضع على الأرض ويأمر بالمائدة فترفع، قالتا: اللهم نعم، فقال لهما: أنتما زوجتا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمهات المؤمنين ولكما على المؤمنين حق وعلي خاصة ولكن أتيتماني وترغباني في الدنيا وإني لأعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس جبة من الصوف فربما رق جلده من خشونتها! أتعلمان ذلك؟ قالتا: اللهم نعم، قال: فهل تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرقد على عباءة على طاقة واحدة؟ وكان مسحا 1 في بيتك يا عائشة يكون بالنهار بساطا وبالليل فراشا فندخل عليه فنرى أثر الحصير على جنبه، ألا يا حفصة! أنت حدثتيني أنك ثنيت له ذات ليلة فوجد لينها فرقد عليه فلم يستيقظ إلا بأذان بلال فقال لك: يا حفصة! ماذا صنعت؟ أثنيت لي المهاد ليلتي حتى ذهب بي النوم إلى الصباح؟ مالي وللدنيا ومالي! شغلتموني لين الفراش! يا حفصة! أما تعلمين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان مغفورا له ما تقدم من ذنبه وما تأخر؟ أمسى جائعا ورقد ساجدا ولم يزل راكعا وساجدا وباكيا ومتضرعا في آناء الليل والنهار إلى أن قبضه الله إلى رحمته ورضوانه، لا أكل عمر طيبا ولا لبس لينا فله أسوة بصاحبيه، ولا جمع بين الأدمين إلا الملح والزيت، ولا أكل لحما إلا في كل شهر حتى ينقضي ما انقضى من القوم فخرجنا فخبرتا بذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يزل كذلك حتى لحق بالله عز وجل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے گھروالوں کے ساتھ انصاف
35960 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس مال آیا حفصہ بنت عمر (رض) کو اس کی خبر ملی وہ حاضری ہوئیں اور عرض کیا امیر المومنین اس مال سے اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کریں اللہ تعالےٰ نے تو بار کے حقوق کے بارے میں وصیت فرمائی ہے تو فرمایا اے جان پدر میرے رشتہ داروں کا حق میرے مال میں ہے یہ تو مسلمانوں کا مال ہے تم نے آپ کو دھوکا میں ڈالا اٹھ جاؤ وہ چادر گھسیٹی ہوئی اٹھ گئی۔ (احمد فی زھد میں نقل کیا)
35960- عن الحسن قال: جيء إلى عمر بمال فبلغ ذلك حفصة ابنة عمر فجاءت فقالت: يا أمير المؤمنين! حق أقربائك من هذا المال! قد أوصى الله عز وجل بالأقربين، فقال لها: يا بنية! حق أقربائي في مالي: فأما هذا ففيء المسلمين، غششت أباك! قومي، فقامت والله تجر ذيلها. "حم في الزهد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے گھروالوں کے ساتھ انصاف
35961 ۔۔۔ اسلم رحمت اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن ارقم کو دیکھا وہ عمر (رض) کے پاس آیا عرض کیا اے امیر المومنین ہمارے پاس جلولاء کے زیورات میں سے ایک زیور ہے چاندی کا برتن آپ کے پاس فرصت ہو کسی دن تو اس کے متعلق حکم فرمائیں تو فرمایا کہ جب مجھے فارغ دیکھوبلالینا ایک دن پھر آئے اور عرض کیا آج آپ فارغ معلوم ہوتے ہیں تو فرمایا ہاں میرے لیے چادر بچھاؤ پھر ہکم دیا اس مال کو اس پر پھیلادو پھر اس کے سامنی کھڑا ہوئے فرمایا اے اللہ آپ نے اس مال کے متعلق فرمایا ہے زین للناس حب الشھوات یہاں تک پوری آیت اور آپ نے ارشاد فرمایا لکیلا تاسوا علی مافاتکم ولا تفرحوامبا اتاکم یعنی جو مال چلا جائے آس پر غم نہ کیا جائے اور جو مال آئے اس پر خوشی نہ منائی جائے ہم میں تو استطاعت نہیں مگر اسی کی کہ ہم مال پر خوشی مناتے ہیں ای اللہ ہمیں توفیق دے ہم اس کو حق پر خرچ کریں اور اس کے شر سے پناہ مانگیں تو ان کے ایک بیٹے کو اٹھاکر لایا گیا جس کو عبدالرحمن بن بہیہ کہا جاتا ہے۔ کہا اے اباجان مجھے ایک انگوٹھی عطیہ دیں فرمایا اپنی امی کے پاس جاؤ تاکہ تمہیں وہ ستوپلائے فرمایا اللہ کی قسم اس کو کچھ بھی نہیں دیا ۔ (ابن ابی شیبہ احمد فی الزھدابن ابی لدنیا نے کتاب الاشراف میں ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے نقل کیا ہے)
35961- عن أسلم قال: رأيت عبد الله بن الأرقم جاء إلى عمر فقال: يا أمير المؤمنين! عندنا حلية من حلية جلولاء آنية فضة فانظر إن تفرغ يوما فيها فتأمرنا بأمرك، فقال: إذا رأيتني فارغا فآذني، فجاءه يوما فقال: إني أراك اليوم فارغا! قال: أجل ابسط لي نطعا، فأمر بذلك المال فأفيض عليه، ثم جاء حتى وقف عليه، فقال: اللهم! إنك ذكرت هذا المال فقلت {زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ} حتى فرغ من الآية - وقلت: {لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ} وإنا لا نستطيع إلا أن نفرح بما زينت لنا، اللهم! فاجعلنا ننفقه في حق وأعوذ بك من شره، قال فأتي بابن له يحمل يقال له عبد الرحمن بن بهية فقال: يا أبت هب لي خاتما، قال: اذهب إلى أمك تسقيك سويقا، قال: فوالله ما أعطاه شيئا. "ش، حم في الزهد وابن أبي الدنيا في كتاب الإشراف وابن أبي حاتم، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے گھروالوں کے ساتھ انصاف
35962 ۔۔۔ اسماعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ ایک دن عمر (رض) کے پاس بحرین سے مشک وغیرہ آیا تو عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم میں چاہتاہوں کہ مجھے کوئی ایسی عورت ملے جو اچھی طرح وزن کرنا چانتی ہوتا کہ یہ خوشبو وزن کرکے دن میں اس کو مسلمانوں میں تقسیم کروں ان کی بیوی عاتکہ بنت زید بنعمروبن نوفل نے کہا مجھے اچھی طرح وزن کنا آتا ہے میں وزن کرکے دیتی ہوں تو فرمایا نہیں تم وزن مت کروپوچھا کیوں ؟ فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تم وزن کرنا شروع کرو اس دوران بالوں میں ہاتھ پھیرہ گردن پر پھیرو اس طرح تمہارا حصہ دوسرے مسلمانوں سے بڑھ جائے گا۔ (احمد نے زھد میں نقل کیا ہے)
35962- عن إسماعيل بن محمد بن سعد بن أبي وقاص قال: قدم على عمر مسك وعنبر من البحرين فقال عمر: والله لوددت أني وجدت امرأة حسنة الوزن تزن لي هذا الطيب حتى أقسمه بين المسلمين، فقالت له امرأته عاتكة بنت زيد بن عمرو بن نفيل: أنا جيدة الوزن فهلم أزن لك! قال: لا، قالت: لم؟ قال: إني أخشى أن تأخذيه فتجعليه هكذا - أدخل أصابعه في صدغيه - وتمسحين به عنقك فأصبت فضلا على المسلمين. "حم في الزهد".
তাহকীক: