কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৯৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے گھروالوں کے ساتھ انصاف
35963 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن وہ مال تقسیم فرما رہے تھے لوگ آپ چاروں طرف گرنے لگے فرمایا یہ کیا حماقت ہے اگر یہ میرا مال ہوتا میں تمہیں اس میں سے ایک درھم بھی نہ دیتا۔ (عبدبن حمید بیہقی)
35963- عن عمر أنه قسم يوما مالا فجعلوا يثنون عليه، فقال: ما أحمقكم! لو كان هذا لي ما أعطيتكم منه درهما واحدا. "عبد بن حميد، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کی دعا کی قبولیت
35964 ۔۔۔ زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب دعا کرتے تھے کہ اے اللہ مجھے ایسا شخص قتل نہ کرے جس نے ایک رکعت نماز پڑھی ہو یا ایک سجدہ کیا ہو (یعنی مسلمان) پھر وہ قیامت کے دن مجھ سے آپ کے دربار میں جھگڑا کرے ۔ (مالک ابن راھویہ، بخاری، حلیۃ اس کو صحیح قرار دیا ہے) ۔
35964- عن زيد بن أسلم عن أبيه أن عمر بن الخطاب كان يقول: اللهم لا تجعل قتلي بيد رجل صلى لك ركعة أو سجدة واحدة يحاجني بها عندك يوم القيامة. "مالك وابن راهويه، خ، حل وصححه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35965 ۔۔۔ قیس (رح) سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) شام آئے تو لوگوں نے ان کا استقبال کیا وہ ایک اونٹ پر سوار تھے لوگوں نے درخواست کی اے امیر المومنین اگر آپ گھوڑے پر سوار ہوجاتے اس لیے کہ بڑے بڑے سردار آپ سے ملاقات کریں گے تو عمر (رض) نے فرمایا میں تمہیں وہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ فرمایا۔ ( ابن ابی شیبة حلیہ)
35965- عن قيس قال: لما قدم عمر الشام استقبله الناس وهو على بعير فقال: يا أمير المؤمنين! لو ركبت برذونا يلقاك عظماء الناس ووجوههم! فقال عمر لا أراكم ههنا وأشار بيده إلى السماء. "ش، حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35966 ۔۔۔ یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) سالانہ چالیس ہزار اونٹوں پر سواری کرواتے ایک شخص کو اونٹ پر سوار کروا کر عراق بھیجتے ایک شخص کو سوار کرواکر شام بھیجتے اہل عراق میں سے ایک شخص آیا اور عرض کیا مجھے اور سیما کو سواری دیدیں آپ (رض) نے کہا اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں یحیم رق مراد ہے تو اعتراف کیا ہاں۔ (مالک ابن سعد)
35966- عن يحيى بن سعيد أن عمر بن الخطاب كان يحمل في العام الواحد على أربعين ألف بعير يحمل الرجل إلى الشام على بعير ويحمل الرجل إلى العراق على بعير، فجاءه رجل من أهل العراق فقال: احملني وسحيما، فقال عمر: أنشدك بالله أسحيم رق؟ قال: نعم. "مالك وابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35967 ۔۔۔ اسلم سے روایت ہے بلال (رض) نے پوچھا اے اسلم عمر (رض) کو کیسے پاتے ہو میں نے کہا بہترین شخص ہے مگر جب ان کو غصہ آجائے تو بہت بڑا مسئلہ بن جاتا تو بلال (رض) نے کہا اگر ان کے غصہ کے وقت میں ان کی پاس ہوتا تو ان کو قرآن پڑھ کر سناتا کہ ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے ۔ (رواہ ابن سعد)
35967- عن أسلم قال: قال بلال: يا أسلم! كيف تجدون عمر؟ فقلت: خير الناس إلا أنه إذا غضب فهو أمر عظيم، فقال بلال: لو كنت عنده إذا غضب قرأت عليه القرآن حتى يذهب غضبه. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35968 ۔۔۔ مالک الدار سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے ایک دفعہ مجھے چیخ کر پکارا اور درہ لے کر مجھ پر چڑھ میں نے کہا میں تمہیں اللہ کو یاد دلاتاہوں تو درہ پھینک دیا اور کہا تم نے مجھے بہت عظیم ذات یاد دلایا۔ (رواہ ابن سعد)
35968- عن مالك الدار قال: صاح علي عمر يوما وعلاني بالدرة فقلت: أذكرك بالله، فطرحها وقال: لقد ذكرتني عظيما. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35969 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو غصہ میں دیکھا پھر کسی نے ان کو اللہ یاد دلایا یا ان کو خوف دلایا یا کسی نے ان کے سامنے قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھی تو وہ اپنے ارادہ کی تکمیل سے روک گئے۔ (ابن سعد ابن عساکر)
35969- عن ابن عمر قال: ما رأيت عمر غضب قط فذكر الله عنده أو خوف أو قرأ عنده إنسان آية من القرآن إلا وقف عما كان يريد. "ابن سعد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35970 ۔۔۔ زھری سے روایت ہے کہ عمر (رض) کو ایک پتھر لگاوہ پتھر پھینک رہا تھا اور ان کے سرکوزخمی کردیا فرمایا جرم کا بدلہ جرم سے کیا جائے گا اور شروع کرنے والا بڑا مجرم ہے۔ (ھناد)
35970- عن الزهري أن عمر بن الخطاب أصابه حجر وهو يرمي الجمار فشجه فقال: ذنب بذنب والبادي أظلم. "هناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35971 ۔۔۔ اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا میرے دل میں تازہ مچھلی کھانے کی خواہش پیدا ہوئی یرفا (غلام ) سواری پر سوا ر ہوا آگے پیچھے چارمیل تک دوڑا کر ایک عمدہ مچھلی خرید کر لایا پھر جانور کی طرف متوجہ ہوا اس کو غسل دیا اتنے میں عمر (رض) آئے سواری کے پاس چلو اس کو دیکھا تو فرمایا اس بستہ کو دھونا بھول گیا جو اس کے کان کے نیچے ہے تم نے ایک بےجان کو عمر (رض) کی خواہش پوری کرنے کے لیے تکلیف پہنچائی اللہ کی قسم عمرتیری مچھلی کو نہیں چکھے گا۔ (ابن عساکر)
35971- عن أسلم قال: قال عمر: لقد خطر على قلبي شهوة السمك الطري، فرحل يرفأ راحلته وسار أربعا مقبلا ومدبرا واشترى مكتلا، فجاء به وعمد إلى الراحلة فغسلها فأتى عمر، فقال: انطلق حتى أنظر إلى الراحلة، فنظر وقال: نسيت أن تغسل هذا العرق الذي تحت أذنها، عذبت بهيمة في شهوة عمر، لا والله! لا يذوق عمر مكتلك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35972 ۔۔۔ ابن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) کو جب غصہ آتا تھا تو اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا کرتے تھے۔ (ابونعیم)
35972- عن ابن الزبير قال: كان عمر إذا غضب فتل شاربه. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35973 ۔۔۔ ابوامیہ سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) سے درخواست کی کہ مجھے مکاتب غلام بنایا جائے تو انھوں نے پوچھا بدل کتابت کتنی اداکریں گے میں نے کہا سواوقیہ (اوقیہ چالیس درھم کا ہوتا ہے) انھوں نے زیادہ کا مطالبہ نہیں کیا اسی پر مکاتب بنالیا اور چاہیے کہ مجھے اپنے مال کا ایک حصہ معجلا دیدے ان کے پاس اس زمانہ میں مال نہیں تھا اس لیے حفصہ ام المومنین (رض) کے پا پیغام بھیجا کہ میں نے اپنے غلام کو مکاتب بنالیا ہے میں چاہتا ہوں کہ ان کو مال کا ایک حصہ جلدی اداکروں میرے پاس سودرھم بھیج دیں مال آنے تک انھوں نے سودرھم بھیج دئیے عمر (رض) نے وہ درھم دائیں ہاتھ میں لیے اور یہ آیت پڑھی۔ والذین یبتغون الکتاب مماملکت ایمانکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیرا واتوھم من مال اللہ الذی اتاکم اور مجھے سے فرمایا یہ لے لو اللہ نے مجھے اس میں برکت عطا فرمادی میں نے اس سے غلام آزاد کئے اور بہت مال کمایا میں نے ان سے درخواست کی مجھے عراق جانے کی اجازت دیدیں تو فرمایا کہ جب میں نے آپ کو مکاتب بنالیا آپ جہاں چاہیں جاسکتے ہیں کچھ اور لوگوں نے مجھ سے کہا جنہوں نے اپنے آقاؤں سے مکاتب کا معاہدہ کیا ہوا تھا کہ آپ امیر المومنین سے بات کریں کہ ہمیں خط لکھدیں عراق کے گورنر کے پاس تاکہ وہاں ہمارے ساتھ اکرام کا معاملہ ہو مجھے یقین تھا آپ (رض) اس سلسلہ میں میری موافقت نہیں فرمائیں گے تاہم مجھے اپنے ساتھیوں سے شرم آئی اس لیے میں نے آپ (رض) سے بات کی کہ امیر المومنین آپ عراق میں اپنے گورنر کے نام ہمارے لیے خط لکھدیں تاکہ وہاں ہمیں عزت ملے راوی نے بیان کیا کہ وہ غصہ میں آگئے اور مجھے ڈانٹا اللہ کی قسم انھوں نے مجھے گالی نہیں دی نہ اس سے پہلے کبھی ڈانٹا مجھے فرمایا کہ تم چاہتے ہو کہ لوگوں پر ظلم کرو ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا تم ایک مسلمان شخص ہو تمہارے وہی حقوق ہیں جو اوروں کے ہیں میں عراق آیا بہت مال کمایا بہت منافع حاصل کئے میں نے عمر (رض) کو ایک پیالہ اور ایک قالین ھدیہ میں پیش کیا تو میری تعریف کرنے لگے یہ بہت اچھا ہے عمدہ ہے میں نے کہا اے امیر المومنین ہدیہ ہے جو میں نے آپ کے لیے پیش کیا تو فرمایا تمہارے ذمہ بدل کتابت کی کچھ رقم باقی رہ گنی ہے ان کو بیچ کر اس کی ادائیگی میں مدد حاصل کرو اس ہدیہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ (رواہ ابن سعد)
35973- عن أبي أمية قال: سألت عمر بن الخطاب المكاتبة، قال: فقال لي: كم تعرض؟ قلت: أعرض مائة أوقية، قال: فما استزادني وكاتبني عليها وأراد أن يعجل لي من ماله طائفة؟ قال: وليس عنده يومئذ مال؟ قال: فأرسل إلى حفصة أم المؤمنين: إني كاتبت غلامي وأريد أن أعجل له من مالي طائفة فأرسلي إلي مائتي درهم إلى أن يأتيني شيء، فأرسلت بها إليه، قال: فأخذها عمر ابن الخطاب بيمينه، قال: وقرأ هذه الآية: {وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْراً وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ} . فخذها بارك الله لك فيها، قال: فبارك الله لي فيها، عتقت منها وأصبت منها المال الكثير، فسألته أن يأذن لي إلى العراق، قال: أما إذ كاتبتك فانطلق حيث شئت، قال: فقال لي أناس كاتبوا مواليهم: كلم لنا أمير المؤمنين أن يكتب لنا كتابا إلى أمير العراق نكرم به، قال: وعلمت أن ذلك لا يوافقه فاستحييت من أصحابي، قال: فكلمته فقلت: يا أمير المؤمنين! اكتب لنا كتابا إلى عاملك بالعراق نكرم به، قال: فغضب وانتهرني، ولا والله ما سبني سبة قط ولا انتهرني قط قبلها قال: أتريد أن تظلم الناس؟قال قلت: لا، قال: فإنما أنت رجل من المسلمين يسعك ما يسعهم قال: فقدمت العراق فأصبت مالا وربحت ربحا كثيرا: قال: فأهديت له طنفسة ونمطا ، قال: فجعل يطايبني ويقول: إن ذا لحسن، قال: قلت يا أمير المؤمنين! إنما هي هدية أهديتها لك، قال: إنه قد بقي عليك من مكاتبتك شيء فبع هذا واستعن به في مكاتبتك، فأبى أن يقبل. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35974 ۔۔۔ محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے ایک شخص سے اس کے اونٹوں کے متعلق پوچھاتو اس نے بتایا کچھ کمزور ہے اور کچھ تازہ تو فرمایا میرے گمان کے مطابق سب موٹے تازے ہیں عمر (رض) کا وہاں سے گذر ہوا وہ اپنے اونٹ کے پیچھے حدی پڑھ رہے تھے۔ اقسم باللہ ابوحفص عمرماان بھا من نقب ولا دبر فاغفر لہ اللھم ان کان فجر ابوحفص عمرنے اللہ کی قسم کھائی کہ اونٹوں میں کوئی دبلا اور کمزور نہیں ۔ اے اللہ ان کی مغفرت فرما اگر انھوں نے گناہ کیا عمر (رض) نے پوچھایہ کیسی باتیں ہیں ؟ بتایا امیر المومنین نے مجھ سے اپنے اونٹوں کے متعلق سوال کیا میں نی ان کو حالات بتائے تو ان کا خیال یہ ہے کہ سب موٹے تازے ہیں حالانکہ اونٹ کی حالت تم دیکھ رہے ہو ۔ فرمایا میں امیر المومنین عمرہوں میرے پاس فلان مقام پر آجاو جب وہ آیا وہ اونٹ لے لئی اور ان کی بدلے میں صدقات کے اونٹوں میں سے دیا۔
35974- عن محمد بن سيرين قال: سأل عمر رجلا عن إبله فذكر عجفا ودبرا فقال عمر: إني لأحسبها ضخاما سمانا، فمر عليه عمر وهو في إبله يحدوها ويقول:

أقسم بالله أبو حفص عمر ... ما إن بها من نقب ولا دبر

فاغفر له اللهم إن كان فجر

فقال عمر: ما هذا؟ قال: أمير المؤمنين سألني عن إبلي فأخبرته عنها فزعم أنه يحسبها ضخاما سمانا وهي كما ترى، قال: فإني أنا أمير المؤمنين عمر، ائتني في مكان كذا وكذا، فأتاه فأمر بها فقبضت وأعطاه مكانها من إبل الصدقة. "الحارث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35975 ۔۔۔ جراد بن طارق سے روایت ہے کہ میں عمربن خطاب کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ کر آیا یہاں تک جب باز پہنچاتو ایک نومولود بچہ کی رونے کی آواز سنی تو اس کے قریب کھڑا ہوگیا تو دیکھا اس کے قریب اس کی ماں بھی ہے اس سے پوچھا کیا حال ہے ؟ بتایا میں ایک ضروتت سے باز آئی تھی مجھے درذرہ شروع ہوگیا تو یہ لڑکا پیداہو وہ بازار میں ایک قوم کے ایک جانب تھی پوچگا اس بازار والوں میں سے کسی کو تمہارے متعلق علم ہے ؟ اگر مجھے معلوم ہوا کہ ان کو علم ہونے کے باوجود انھوں نے تیری مدد نہیں کی میں ان کو ایسی ایسی سزادونگا پھر اس کے لیے ستو کا شربت مانگوایا جو گھی ملاہوا تھا فرمایا اس کو بھی کیونکہ یہ درد کو ختم کرتا ہے یہ معدہ کو مضبوط کرتا ہے اور آنتوں کی حفاظت کرتا ہے اور رگون کو کھلتا ہے یعنی دودھ اتارتا ہے ہم مسجد میں داخل ہوئے (ابن السنی و ابونعیم ایک ساتھ طب میں بیہقی)
35975- عن جراد بن طارق قال: أقبلت مع عمر بن الخطاب من صلاة الغداة حتى إذا كان في السوق فسمع صوت صبي مولود يبكي حتى قام عليه فإذا عنده أمه فقال لها: ما شأنك؟ قالت: جئت إلى هذا السوق لبعض الحاجة فعرض لي المخاض فولدت غلاما - وهي إلى جانب دار قوم في السوق - قال: هل شعر بك أحد من أهل هذه الدار؟ أما! إني لو علمت أنهم شعروا بك ثم لم ينفعوك فعلت بهم وفعلت بهم، ثم دعا لها بشربة سويق ملتوتة بسمن فقال: اشربي هذا فإن هذا يقطع الوجع ويقبض الحشي ويعصم الأمعاء ويدر العروق - وفي لفظ: فإن هذا يشد أحشاءك ويسهل عليك الدم وينزل لك اللبن - ثم دخلنا المسجد. "ابن السني وأبو نعيم معا في الطب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35976 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے معرکو گھوتک نکل رہے تھے میں نے پوچھا امیر بالمومنین کیا حال ہے فرمایا ایک بھنا ہوا ٹڈی کھانے کا جی کررہا ہے۔ (الحارث ابن السنی فی الطب)
35976- عن ابن عمر قال: رأيت عمر يتفوه - وفي لفظ: يتحلب فوه - فقلت: ما شأنك يا أمير المؤمنين؟ قال: أشتهي جرادا مقلوا. "الحارث وابن السني في الطب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35977 ۔۔۔ اسلم سے روایت ہے کہ ایک رات ہمیں احساس نہیں ہوا کہ ہم عمر (رض) کے ساتھ ہیں انھوں نے ہماری سواریوں پر کجاوا کسا پھر اپنی سواری پر کجاوا کساجب ہم بیدار ہوئے تو یہ رجز یہ اشعار پڑھ رہے تھے : لا تاخذ اللیل علیک بالھم۔ والبس لہ القمیص واعتم۔ وکن شریک رافع واسلم۔ تم اخدم الاقوام کی ما تخدم۔ رات کو اپنے اوپر غم گین مت بنا اس کی خاطر قمیص اور پگڑی پہن لے رافع اور اسلم کا شریک ہو کر قوم کی ایسی خدمت کر جیسے تمہاری خدمت کی جاتی ہے ہم جلدی سے پہنچے وہ اپنے کجا وے اور ہمارے کجاواکسنے سے فارغ ہوچکے تھے ان کو جگانا نہ چاہا ۔ ابونعیم سعدی بن عبدالرحمن مدنی نے کہا رافع اور اسل م (رض) دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خادم تھے (ابن عساکر)
35977- عن أسلم قال: ما شعرنا ليلة ونحن مع عمر فإذا هو قد رحل رواحلنا وأخذ راحلته فرحلها، فلما أيقظنا ارتجز وقال:

لا تأخذ الليل عليك بالهم ... والبس له القميص واعتم

وكن شريك رافع وأسلم ... ثم اخدم الأقوام كيما تخدم

فوثبنا إليه وقد فرغ من رحله ورواحلنا ولم يود أن يوقظهم. "أبو نعيم، وقال: قال سعيد بن عبد الرحمن المدني: كان رافع وأسلم خادمين للنبي صلى الله عليه وسلم، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35978 ۔۔۔ اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) ایک رات چکر لگا رہے تھے ایک عورت کو دیکھا وہ اپنے گھر میں ہے اس کے گردو و بچے ہیں جورو رہے ہیں چولہے پر ایک پتیلا رکھ کر اس میں پانی بھردیا عمر (رض) دروازہ کے قریب پہنچے اور پوچھا اے اللہ کی بندی یہ بچے کیوں رو رہے ہیں ؟ بتایا بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں اور پتیلا جو چولہے پر رہے اس میں کیا ہے بتایا اس میں پانی ہے تاکہ اس طرح ان کو بہلاؤں اور وہ کھانا سمجھ کر سوجائیں عمر (رض) یہ ماجرا دیکھ کر رو پڑے پھر صدقہ میں آئے ایک بوری لے کر اس میں کچھ آٹا کچھ چوری گھی کھجور کپڑے دارھم ڈالے یہاں تک اس کو بھرلیا پھر فرمایا اسلم اس کو میرے کندھے پر ڈالدو میں نے کہا اے امیر المومنین میں اپ کی طرف سے اٹھاؤں گا فرمایا اے اسلم تیری ماں نہ ہو میں خود اپنے کندھے پر اٹھاؤ نگا اس لیے کہ قیامت کے روز مجھ ہی سے سوال ہوگا۔ اس بوری کو اٹھا کر اس عورت کا گھر پہنچا پتیلا لے کر اس میں کچھ آٹا کچھ چری اور کھجور ڈالی پھر اس کو ہلاتھ سے ملایا پھر چولہے پر رکھ کر آگ پر پھونک مارا میں دیکھ رہا تھا کہ دھواں ان کی ڈاڑھی کے درمیان سے نکل رہا تھا یہاں تک ان کے لیے کھانا تیار کرلیا پھر اپنے ہاتھ سے کھانا نکال کر ان کو کھلایا یہاں تک کہ سیر ہوگئے پھر ان کے سامنے آکر بیٹھ گئے گویا ان کا پہردار ہے مسلسل وہاں بیٹھے رہے تھے بات کرنے سے ڈر لگا اس لیے کچھ نہیں کہا یہاں تک بچے ہنسنے لگے پھر کہنے لگے اسلم تمہیں معلوم ہے کہ میں وہاں کیوں بیٹھا رہا ؟ میں نے کہا نہیں فرمایا میں نے ان کو روتے ہوئے دیکھا تھا مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کو چھوڑ کر چلاجاؤں یہاں تک کہ ان کو ہنستا ہوا دیکھو جو وہ بجے ہنسنے لگے میرا دل خوش ہوا ۔ (الدینوری وابن شاذان فی مشخیة ابن عساکر)
35978- عن أسلم أن عمر بن الخطاب طاف ليلة فإذا هو بامرأة في جوف دار لها وحولها صبيان يبكون وإذا قدر على النار قد ملأتها ماء فدنا عمر من الباب فقال: يا أمة الله! ما بكاء هؤلاء الصبيان؟ قالت: بكاؤهم من الجوع، قال: فما هذه القدر التي على النار؟ قالت: قد جعلت فيها ماء هو ذا أعللهم به حتى يناموا وأوهمهم أن فيها شيئا دقيقا، فبكى عمر ثم جاء إلى دار الصدقة وأخذ غرارة وجعل فيها شيئا من دقيق وشحم وسمن وتمر وثياب ودراهم حتى ملأ الغرارة ثم قال: يا أسلم! احمل علي، فقلت: يا أمير المؤمنين! أنا أحمله عنك؟ فقال لي: لا أم لك يا أسلم! أنا أحمله لأني أنا المسؤول عنهم في الآخرة، فحمله حتى أتى به منزل المرأة، فأخذ القدر فجعل فيها دقيقا وشيئا من شحم وتمر وجعل يحركه بيده وينفخ تحت القدر، فرأيت الدخان يخرج من خلل لحيته حتى طبخ لهم، ثم جعل يغرف بيده ويطعمهم حتى شبعوا! ثم خرج وربض بحذائهم حتى كأنه سبع، وخفت أن أكلمه، فلم يزل كذلك حتى لعب الصبيان وضحكوا، ثم قام فقال: يا أسلم! تدري لم ربضت بحذائهم؟ قلت لا، قال: رأيتهم يبكون فكرهت أن أذهب وأدعهم حتى أراهم يضحكون، فلما ضحكوا طابت نفسي. "الدينوري وابن شاذان في مشيخته، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35979 ۔۔۔ اصمعی سے روایت ہے کہ لوگوں نے عبدالرحمن بن عوف سے بات کی کہ وہ عمر (رض) سے بات کرے کہ ان کے ساتھ نرمی کرے کیونکہ نے لوگوں کو خوف زدہ کیا حتی کہ باکرہ عورتیں پردوں میں خوف زدہ ہیں عبدالرحمن بن عوف (رض) نے بات کی تو عمر (رض) نے جواب دیا میں ان کے لیے یہی مناسب سمچھتاہوں واللہ اگر ان کو معلوم ہوجاتا کہ ان کے لیے میرے دل میں کتنی نرمی رحم اور شفقت ہے تو وہ میرے کندھے سے میرا کپڑا اتار دیتے ۔ (الدینوری)
35979- عن الأصمعي قال: كلم الناس عبد الرحمن بن عوف أن يكلم عمر بن الخطاب في أن يلين لهم، فإنه قد أخافهم حتى خاف الأبكار في خدورهن، فكلمه عبد الرحمن، فقال عمر: إني لا أجد لهم إلا ذلك، والله! لو أنهم يعلمون ما لهم عندي من الرأفة والرحمة والشفقة لأخذوا ثوبي عن عاتقي. "الدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35980 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابی کبثہ روایت کرتے ہیں کہ میں باغ کے درمیان یہ رجز یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔اقسم باللہ ابوحفص عمر۔ ماسمھا من نقب والا دبر۔ فاعفرلہ اللھم ان کان فجر راوی کہتا ہے مجھے خوف زدہ نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری پیٹھ کے پیچھے تھا کہاں میں قسم دے کر پوچھتاہوں تمہیں میرے یہاں موجود ہونے کا علم تھا ؟ کہا اللہ کی قسم اے امیر لمومنین مجھے آپ کی موجودگی کا علم نہیں تھا فرمایا میں قسم کھاتاہوں کہ تمہیں سواری کا اونٹ دونگا ۔ (الحاکم فی الکنی)
35980- "مسند عمر" عن أبي كبشة: إني لأرجز في عرض الحائط وأنا أقول:

أقسم بالله أبو حفص عمر

... ما مسها من نقب ولا دبر

فاغفر له اللهم إن كان فجر

قال: فما راعني إلا وهو خلف ظهري، فقال: أقسمت هل علمت بمكاني؟ قلت: لا والله يا أمير المؤمنين ما علمت بمكانك! قال: وأنا أقسم لأحملنك. "الحاكم في الكنى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کے شمائل
35981 ۔۔۔ ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ عینیہ بن حصن بن بدر آیا اور اپنے بھتیجے حربن قیس کے پاس مقیم ہوا یہ اس جماعت میں شامل تھا جن کو عمر (رض) اپنے قریب رکھتے تھے قراء کرام عمر (رض) کی مجلس میں حاضر باش ہوتے تھے بوڑھا ہو یا جوان عینیہ نے اپنے بھیجتے سے کہا اے بھیجتے اس امیر کے پاس تمہارا مقام ہے لہٰذا تم میرے لیے ان کے پاس داخل ہونے کی اجازت لو انھوں نے اجازت لی عمر (رض) نے اجازت دے دی جب مجلس میں پہنچاتو کہا اے ابن الخطاب نہ تو ہم کو بڑا عطیہ دیتا ہے نہ ہم میں انصاف سے فیصلہ کرتا ہے عمر (رض) کو غصہ آیا یہاں تک قتل کا اراد ہ کیا توحر (رض) نے کہا اے امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا ” خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاھلین اور یہ جاھلین میں سے جب یہ آیت پڑھ کر سنائی عمر (رض) نے اس سے آگے نہ پڑھا وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو خوب جاننے والا ہے (بخاری ابن مندر ابن ابی حاتم ابن مردو یہ بیہقی)
35981- عن ابن عباس قال: قدم عيينة بن حصن بن بدر فنزل على ابن أخيه الحر بن قيس وكان من النفر الذين يدنيهم عمر وكان القراء أصحاب مجالس عمر ومشاوريه كهولا كانوا أو شبانا، فقال عيينة لابن أخيه: يا ابن أخي! لك وجه عند هذا الأمير فاستأذن لي عليه. فاستأذن له، فأذن له عمر، فلما دخل قال: هي يا ابن الخطاب! فوالله ما تعطينا الجزل ولا تحكم بيننا بالعدل! فغضب عمر حتى هم أن يوقع به، فقال له الحر: يا أمير المؤمنين! إن الله قال لنبيه {خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ} . وإن هذا من الجاهلين، فوالله ما جاوزها عمر حين تلاها عليه وكان وقافا عند كتاب الله عز وجل. "خ وابن المنذر وابن أبي حاتم وابن مردويه، هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی فراست ایمانی
35982 ۔۔۔ یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عمربن خطاب نے ایک شخص سے پوچھا تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا جمرہ پوچھا کس کے بیٹے ہو اس نے کہا ابن شہاب پوچھا کہاں کے رہنے والے ہو بتایا حرقہ کا پوچھا رہائش کہاں ہے ؟ بتایا بحرة النار میں پوچھا کونسی شاخ میں ؟ بتایا ذات لظی میں تو عمر (رض) نے فرمایا گھر واپسی جاؤوہ جل چکے ہیں اور واقعی ایساہی ہوا۔ (مالک نے اسکوروایت کیا ہے ابوالقاسم ابن بشران نے اپنی امالیہ میں موصولاموسی بن عقبہ سے وہ نافع سے بروایت ابن عمر (رض) اس کے آخر میں اتنا اضافہ ہے کہ وہ شخص گھر واپس لوٹاتو گھر والے جل چکے تھے)
35982- عن يحيى بن سعيد أن عمر بن الخطاب قال لرجل: ما اسمك؟ قال: جمرة، قال: ابن من؟ قال: ابن شهاب، قال: ممن؟ قال: من الحرقة 2، قال: أين مسكنك؟ قال: بحرة النار، قال: بأيها؟ قال: بذات لظى، فقال له عمر: أدرك أهلك فقد احترقوا؛ فكان كما قال عمر. "مالك، ورواه أبو القاسم ابن بشران في أماليه موصولا من طريق موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر، وزاد في آخره: فرجع الرجل فوجد أهله قد احترقوا".
tahqiq

তাহকীক: