কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৯৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی فراست ایمانی
35983 ۔۔۔ حکم بن ابی العاص ثقفی سے روایت ہے کہ میں عمربن خطاب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ایک شخص نے آکر سلام کیا عمر (رض) نے پوچھاتمہارے اور اہل نجران کے درمیان قرابت داری ہے ؟ اس نے جواب دیا نہیں عمر (رض) نے کہا ہاں اس شخص نے پھر کہا نہیں عمر (رض) نے کہا ہاں اللہ کی قسم ہے اللہ کی قسم کھاکر کہتاہوں کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس میں اور نجران کے درمیان قرابت ہے اس نے باتیں کی قوم میں سے ایک شخص نے کہا اے امیر المومنین اس میں اور اہل نجران میں اس جہت سے قرابت ہے اس کو ایک نجران کی عورت نے جنا ہے تو عمر (رض) نے اس سے فرمایا رک جاؤ ہم قیافہ سے وقف ہیں۔ (عبدالرزاق ابن سعد)
35983- عن الحكم بن أبي العاص الثقفي قال: كنت قاعدا مع عمر بن الخطاب فأتاه رجل فسلم عليه، فقال له عمر، بينك وبين أهل نجران قرابة؟ قال الرجل: لا، قال عمر: بلى، قال الرجل: لا، قال عمر: بلى والله، أنشد الله كل رجل من المسلمين يعلم أن بين هذا وبين أهل نجران قرابة لما تكلم، فقال رجل من القوم: يا أمير المؤمنين بلى، إن بينه وبين أهل نجران قرابة من قبل كذا وكذا ولدته امرأة من أهل نجران، فقال له عمر: مه، إنا نقفو الآثار. "عب وابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی شکرگذاری
35984 ۔۔۔ عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مجھے دوسواریاں دی جائیں ایک شکر کی دوسری صبر کی تو مجھے پروا نہ ہوگی جس پرچاہوں سوار ہوجاؤں۔ (رواہ ابن عساکر)
35984- عن عمر قال لو أتيت براحلتين: راحلة شكر وراحلة صبر لم أبال أيهما ركبت. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی شکرگذاری
35985 ۔۔۔ سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ عمر (رض) کا ضجنان کی گھاٹی پر گذرہواتوکہنے لگے میں اپنے کو دیکھ رہا ہوں کہ اس مقام پر بکر یاں چرایا کرتا تھا میں جانتا تھا میں کتنا سخت دل اور بدزبان تھا آج میں امت محمد یہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امور کا ذمہ دار بن گیا پھر مثال کے لیے یہ شعر پڑھا۔ لاشیء فیما تری الا بشاشتہ۔ بیہقی الالہ ویودی المال والولد۔ پھر اپنے اونٹ کو ہنکایا۔ (رواہ ابن سعد)
35985- عن سليمان بن يسار قال: مر عمر بن الخطاب بضجنان فقال: لقد رأيتني وإني لأرعى على الخطاب في هذا المكان وكان والله ما علمت فظا غليظا ثم أصبحت إلى أمر أمة محمد صلى الله عليه وسلم ثم قال متمثلا:
لا شيء فيما ترى إلا بشاشته ... يبقى الإله ويودى المال والولد ثم قال لبعيره: حوب "ابن سعد".
لا شيء فيما ترى إلا بشاشته ... يبقى الإله ويودى المال والولد ثم قال لبعيره: حوب "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی شکرگذاری
35986 ۔۔۔ عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ ہم عمربن خطاب (رض) کے ساتھ مکہ مکرمہ سے واپس لوٹ رہے تھے ضحبنان کی گھاٹی پر ہمارا گذرہواتو فرمایا میں اپنے کو دیکھتا ہوں اس جگہ خطاب کے انٹوں کے ساتھ وہ سخت دل بدزبان تھا کبھی اس پر لکڑیاں لادکر لاتا اور کبھی اس پر چڑھ کر درخت سے پتے جھاڑتا آج میں اس حال میں ہوگیا ہوں کہ لوگ میرے متعلق کہتے ہیں مجھ سے اعلی مرتبہ پر کوئی نہیں پھر یہ شعر پڑھا۔ لاشی فیما تعری الابشاشتہ۔ یبفی الالہ ویودی المال والولد۔ جو کچھ تو دیکھ رہا ہے یہ ظاہری چمک دمک ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہنے والی مال اور اولاد سب فناء ہونے والے ہیں۔ (ابوعبیدفی الغریب وابن سعد، ابن عساکر)
35986- عن عبد الرحمن بن حاطب قال: أقبلنا مع عمر بن الخطاب قافلين من مكة حتى إذا كنا بشعاب ضجنان قال: لقد رأيتني في هذا المكان وأنا في إبل للخطاب وكان فظا غليظا أحتطب عليها مرة وأختبط عليها أخرى، ثم أصبحت اليوم يضرب الناس بجنباتي ليس فوقي أحد ثم تمثل بهذا البيت:
لاشيء فيما ترى إلا بشاشته ... يبقى الإله ويودى المال والولد
"أبو عبيد في الغريب وابن سعد، كر".
لاشيء فيما ترى إلا بشاشته ... يبقى الإله ويودى المال والولد
"أبو عبيد في الغريب وابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تواضع
35987 ۔۔۔ اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) ملک شام گئے ایک اونٹ پر سوار ہو کر لوگوں نے اس پر باتیں کیں تو عمر (رض) نے فرمایا ان کی نظر ان لوگوں کی سواریوں پر ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ (ابن المبارک ابن عساکر)
35987- عن أسلم قال: قدم عمر بن الخطاب الشام على بعير فجعلوا يتحدثون بينهم فقال عمر: تطمح أبصارهم إلى مراكب من لا خلاق له. "ابن المبارك، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تواضع
35988 ۔۔۔ حارث بن عمیر ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ عمربن خطاب (رض) منبر چڑھ گئے اور لوگوں کو جمع کیا اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی پھر فرمایا میرے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں جس کو لوگ کھائیں میری چند خالائیں بنی مخزوم میں رہتی ہیں میں ان کے بیٹھا پانی بھرتا تھا وہ مجھے چند مٹھی کشمش دے دیتی تھی راوی نے کہا پھر منبر سے نیچے گئے لوگوں نے پوچھا ان باتوں سے آپ کا مقصد کیا ہے اے امیرلمومنین فرمایا میرے دل میں کچھ خیالات آئے میں نے چاہا ان باتوں کے ذریعہ کو دبادوں ۔ (رواہ ابن سعد)
35988- عن الحارث بن عمير عن رجل أن عمر بن الخطاب رقي المنبر وجمع الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أيها الناس! لقد رأيتني ومالي من أكال يأكله الناس إلا أن لي خالات من بني مخزوم فكنت استعذب لهن الماء فيقبضن لي القبضات من الزبيب، قال: ثم نزل عن المنبر، فقيل له: ما أردت إلى هذا يا أمير المؤمنين؟ قال: إني وجدت في نفسي شيئا فأردت أن أطأطئ منها. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تواضع
35989 ۔۔۔ حزام بن ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رمادہ کے سال عمربن خطاب کو دیکھا کہ ان کا گذرا ایک عورت پر ہوا جو حلواپکار ہی تھی تو فرمایا اس کو اس طرح نہیں پکاتے بلکہ اس طرح پکایاجاتا ہے پھر خود وھانڈی لے کر ہلاکردکھایا کہ اس طرح پکایا جاتا ہے۔ (رواہ ابن سعد)
35989- عن حزام بن هشام عن أبيه قال: رأيت عمر بن الخطاب عام الرمادة مر على امرأة وهي تعصد عصيدة لها فقال: ليس هكذا تعصدين ثم أخذ المسوط فقال: هكذا - فأراها. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৯৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تواضع
35990 ۔۔۔ ہشام بن خالد سے روایت ہے کہ میں نے عمربن خطاب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کوئی پانی گرم ہونے سے پہلے آٹانہ ڈالے جب پانی گرم ہوجائے پھر تھوڑا تھوڑا کرکے ڈالے اور چمچ سے ہلائی کیونکہ اس سے بڑھ جائے اور حلوہ صحیح پکے گا برتن میں جمے گا نہیں ۔ (رواہ ابن سعد)
35990- عن هشام بن خالد قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: لا تذرن إحداكن الدقيق حتى يسخن الماء ثم تذره قليلا قليلا وتسوطها بمسوطها فإنه أريع لها وأحرى أن لا يتقرد "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تواضع
35991 ۔۔۔ (مسندعمر (رض)) حسن سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) گرمی کے دنوں میں نکلے اپنی چادر سرپر رکھی ہوئی تھی ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر ان کے پاس سے گذراتو اس سے فرمایا لڑکے مجھے بھی اپنی ساتگ گدھے پر بٹھا لولڑکا گدھے سے نیچے اترآیا اور کہا اے امیر اے المومنین سوار ہوجائیں تو آپ (رض) نے فرمایا میں اکیلا سوار نہیں ہوں گا بلکہ تمہارے ساتھ ہی پیچھے حصہ پر بیٹھا جاؤنگا تم ہ چاہتے ہو کہ مجھے عمدہ جگہ پر بیٹھا کر خود سخت جگہ بیٹھو اس طرح وہ اس کے پیچھے بیٹھ گئے اور مدینہ منورہ داخل ہو لوگ اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ (الدینوری)
35991- "مسند عمر" عن الحسن قال: خرج عمر بن الخطاب في يوم حار واضعا رداءه على رأسه فمر به غلام على حمار فقال: يا غلام! احملني معك، فوثب الغلام عن الحمار وقال: اركب يا أمير المؤمنين،قال: لا أركب وأركب أنا خلفك، تريد أن تحملني على المكان الوطيء وتركب أنت على الموضع الخشن! فركب خلف الغلام فدخل المدينة وهو خلفه والناس ينظرون إليه. "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تواضع
35992 ۔۔۔ محمد بن عمر مخزومی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں عمربن خطاب نے آواز لگائی الصلوة جامعة جب لوگ جمع ہوئے ان کی تعداد بڑھ گئی تو منبر پر تشریف لے گئے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی جیسے بیان کا حق ہے اس کے بعد درود پڑھا پھر فرمایا اے لوگو مجھے اپنے بارے میں یاد ہے کہ میں نبی مخزوم میں اپنی خالاؤں کے جانور چرایا کرتا تھا وہ مجھے چند مٹھی کھجوریں یاکشمش دیا کرتے تھے آج میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں پھر منبر سے نیچے اتر آیا تو عبدالرحمن بن عوف نے پوچھا آپ نے اپنی نفس کا عیب بیان کرنے خے علاوہ اور کوئی بات نہیں کی تو فرمایا ارے تیرا ناس ہو میں تنہائی میں تھا تو میرے نفس نے مجھ سے کہا کہ تو امیر المومنین ہے تجھ سے افضل کون ہے ؟ تو میں نے چاہا نفس کو اس کی حقیقت بتلادوں۔ (الدینوری)
35992- عن محمد بن عمر المخزومي عن أبيه قال: نادى عمر ابن الخطاب: الصلاة جامعة! فلما اجتمع الناس وكثروا صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه بما هو أهله وصلى على نبيه ثم قال: أيها الناس! لقد رأيتني أرعى على خالات لي من بني مخزوم فيقبضن لي القبضة من التمر أو الزبيب فأظل يومي وأي يوم؟ ثم نزل فقال له عبد الرحمن بن عوف: ما زدت على أن قمأت نفسك - يعني عبت، قال: ويحك يا ابن عوف! إني خلوت فحدثتني نفسي فقالت: أنت أمير المؤمنين فمن ذا أفضل منك؟ فأردت أن أعرفها نفسها. "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تواضع
35993 ۔۔۔ زرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے عمربن خطاب کو ننگے پاؤں عید کی نماز کے لیے جاتے ہوئے دیکھا ۔ ( المروزی فی العیدین)
35993- عن زر قال: رأيت عمر بن الخطاب يمشي إلى العيد حافيا. "المروزي في العيدين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
35994 ۔۔۔ زیدبن اسلم کہتے ہیں کہ عم (رض) نے دوددھ پیا تو ان کو پسند آیا پلانی والے سے پوچھایہ دودھ کہاں سے لایا یا تو بایا کہ وہ ایک پانی پر گیا وہاں صدقہ کرکے اونٹ چر رہے تھے وہ دودھ پی رہے تھے مجھے بھی یہ دودھ نکال کردیاتوعمر (رض) نے حلق میں انگلی ڈال کر قے کرلی ۔ (مالک بیہقی)
35994- عن زيد بن أسلم قال: شرب عمر لبنا فأعجبه فسأل الذي سقاه: من أين لك هذا اللبن؟ فأخبره أنه ورد على ماء فإذا نعم من نعم الصدقة وهم يسقون فحلبوا لنا من ألبانها في سقائي هذا، فأدخل عمر اصبعه فاستقاءه. "مالك، هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
35995 ۔۔۔ عروہ (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا میرے لیے مال میں سے کھانا حلال نہیں مگر جو میری ملکیت کا مال ہو۔ (رواہ ابن سعد)
35995- عن عروة أن عمر بن الخطاب قال: لا يحل لي من المال إلا ما آكل من صلب مالي. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
35996 ۔۔۔ عمران سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو ضرورت پیش آتی تو بیت المال کے خزانچی کے پاس آکر قرض لیتے بسا اوقات ادائیگی میں تنگی ہوتی تو بیت المال کا ذمہ دار واپس مانگنے آتا اور بیٹھا رہتا عمر (رض) کوئی حیلہ کرتے جب حق خدمت نکل آتا تو ادا کردیتے ۔ (رواہ ابن سعد)
35996- عن عمران أن عمر بن الخطاب كان إذا احتاج أتى صاحب بيت المال فاستقرضه فربما عسر فيأتيه صاحب بيت المال يتقاضاه فيلزمه فيحتال له عمر، وربما خرج عطاؤه فقضاه. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
35997 ۔۔۔ براء معرورکا ایک بیٹا روایت کرتا ہے کہ عمر (رض) ایک دن پھر آئے ان کو کوئی تکلیف تھی تو علاج میں شہدا استعمال کرنا تجویز ہوا بیت المال میں شہد کا مٹکاتا لوگوں سے فرمایا اگر تم لوگ لینے کی جازت دو تولے لونگا ورنہ میرے لیے حرام ہے تو انھوں نے اجازت دیدی۔ (ابن سعد ابن عساکر)
35997- عن ابن للبراء بن معرور أن عمر خرج يوما حتى أتى المنبر وقد كان اشتكى شكوى له فنعت له العسل وفي بيت المال عكة فقال: إن أذنتم لي فيها أخذتها وإلا فإنها علي حرام، فأذنوا له فيها. "ابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
35998 ۔۔۔ عاصم بن عمر (رض) سے روایت کہ جب عمر (رض) نے میری شادی کروائی تو بیت المال سے ایک ماہ کا خرچہ دیا پھر میرے پاس برفا کو بھیجا میں حاضر ہوا تو فرمایا اللہ کی قسم میں اس مال کے متولی بننے سے پہلے اس کو اپنے لیے حلال نہیں سمجھتا تھا مگر جتنا میرا حق بنے جب سے میں اس کا متولی بنا کوئی مال اس میں سے مجھ پر حرام نہیں ہوا اب میری امانت لوٹ آتی ہے میں نے ایک ماہ تک تم پر خرج کیا اب اس سے زائد نہیں کرونگا البتہ غابہ میں جو میرا مال ہے اس کا پھل تمہیں دیتاہوں اس کو توڑ لو اور فروخت کرو پھر اپنی قوم کے تاجروں میں سے کسی کے پاس آؤ ان کے ساتھ کڑے ہوجاؤ جب وہ کوئی چیز خریدے تو تم اس کے ساتھ شریک ہوجاؤ اس طرح خرج نکالو اور اپنے گھروالوں پر خرچ کرو۔ (ابن سعد ابوعبیدفی الاموال)
35998- عن عاصم بن عمر قال: لما زوجني عمر أنفق علي من مال الله شهرا ثم أرسل إلي عمر يرفأ فأتيته فقال: والله! ما كنت أرى هذا المال يحل لي من قبل أن إليه إلا بحقه وما كان قط أحرم علي منه إذ وليته فعاد أمانتي وقد أنفقت عليك شهرا من مال الله ولست بزائدك ولكني معيبك بثمر مالي بالغابة فاجدده فبعه ثم ائت رجلا من قومك من تجارهم فقم إلى جنبه فإذا اشترى شيئا فاستشركه فاستنفق وأنفق على أهلك. "ابن سعد وأبو عبيد في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
35999 ۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے ایک لڑکی کو دیکھا دبلے پن کی وجہ سے ہوش کھوبیٹھی ہی عم (رض) نے پوچھایہ کس کی لڑکی ہے تو عبداللہ نے کہا یہ آپ کی لڑکیوں میں سے ایک ہے پوچھامیری کونسی لڑکی ہے بتایا میری بیٹی ہی اس کی یہ حالت کیسی ہوگئی جو میں دیکھ رہا ہوں بتایا آ کے عمل کی وجہ سے کہ آپ اس پر خرچ نہیں کرتے فرمایا میں اللہ کی قسم تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں دھوکا میں نہیں رکھونگا اپنی الواد پر خرچ میں وسعت سے کام لو۔ (ابن سعدابن عساکرابن ابی شیبة)
35999- عن الحسن أن عمر بن الخطاب رأى جارية تطيش هزالا فقال: عمر من هذه الجارية؟ فقال عبد الله: هذه إحدى بناتك، قال: وأي بناتي هذه؟ قال: ابنتي، قال: ما بلغ بها ما أرى؟ قال: عملك، لا تنفق عليها، فقال: إني والله ما اغرك من ولدك فأوسع على ولدك أيها الرجل. "ابن سعد، كر، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
36000 ۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے کہ عمر (رض) زمانہ خلافت میں بگی تجارت کرتے تھی شام کے لیے ایک قافلہ تیار کیا عبدالرحمن بن عوف کے پاس پیغام بگیجا کہ چار ہزار دراہم بطور قرض دیدے تو عبدالرحمننی قاصد سے کہا ان سے کہو بیت المال سے لے اور بعد میں واپس کردے جب قاصد نے واپس آکر عبدالرحمن (رض) کا پہنچایا تو ان پر شاق گذرا بعد میں عمر (رض) کی ان سے ملاقات ہوئی تو پوچھاتم نے کہا ہے کہ بیت المال سے لے لیں (اگر میں نے لے لیا اس کے بعد) اگر مال آنے سے پہلے میرا انتقال ہوجائے تو تم کہو گے امیر المومنین نے قرض لیا ہے معاف کردو پھر قیامت کے روز میرا اس پر پکڑا ہوگا نہیں ہرگز نہیں لونگا لیکن میں تو چاہتا ہوں تم جیسے لالچی اور بخیل شخص سے قرض لوں تاکہ میرا انتقال ہوجائے تو میری میراث سے لے لو۔ (ابوعبید نے اموال میں نقل کیا ابن سعد اور ابن عساکر نقل کیا)
36000- عن إبراهيم أن عمر بن الخطاب كان يتجر وهو خليفة وجهز عيرا إلى الشام فبعث إلى عبد الرحمن بن عوف يستقرضه أربعة آلاف درهم فقال للرسول: قل له: يأخذها من بيت المال ثم ليردها، فلما جاءه الرسول فأخبره بما قال شق عليه، فلقيه عمر فقال: أنت القائل: ليأخذها من بيت المال؟ فإن مت قبل أن تجيء قلتم: أخذها أمير المؤمنين دعوها له، وأوخذ بها يوم القيامة! لا، ولكن أردت أن آخذها من رجل حريص شحيح مثلك فإن مت أخذها من ميراثي. "أبو عبيد في الأموال وابن سعد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
36001 ۔۔۔ عبدالعزیز بن ابی جمیلہ انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) کی قمیص کی آستین ہتھیلی کے گٹے سے آگے نہیں جاتی تھی۔ (راوہ ابن سعد)
36001- عن عبد العزيز بن أبي جميلة الأنصاري قال: كان قميص عمر لا يجاوز كمه رسغ كفيه. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
36002 ۔۔۔ بد بل بن میسرہ سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) ایک جمعہ کے لیے نکلا ان کے جسم پر ایک سنبلانی قمیص بھی لوگوں سے معذرت کرنے لگا کہ اس قمیص نے مجھے نکلنے سے روکا ہے اس کو لوگوں کے سامنے دراز کرنے لگا یعنی اس کے آستین کو جب چھوڑ دیا انگلیوں کے کناروں تک آگئی ۔ (رواہ ابن سعد)
36002- عن بديل بن ميسرة قال: خرج عمر بن الخطاب يوما إلى الجمعة وعليه قميص سنبلاني فجعل يعتذر إلى الناس وهو يقول: حبسني قميصي هذا وجعل يمد يده يعني كميه فإذا تركه رجع إلى أطراف أصابعه. "ابن سعد".
তাহকীক: