কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬০১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
36003 ۔۔۔ ہشام سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کو دیکھاناف کے اوپر لنگی باندھتے تھے ۔ (رواہ ابن سعد)
36003- عن هشام بن خالد قال: رأيت عمر يتزر فوق السرة. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
36004 ۔۔۔ عامر بن عبید باھلی (رض) روایت کرتے ہیں کہ میں نے انس (رض) سے پوچھا ریشم کے بارے میں تو فرمایا میری تمنا تو یہی ہے کاش کے اللہ تعالیٰ اس کو پیدانہ فرماتا کیونکہ ہر صحابی نے کسی نہ کسی شکل میں اس کو استعمال کیا ہے مگر عمر (رض) اور ابن عمر (رض)۔ ( ابن سعد وھوصحیح)
36004- عن عامر بن عبيدة الباهلي قال: سألت أنسا عن الخز فقال: وددت أن الله لم يخلقه وما أحد من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إلا وقد لبسه ما خلا عمر - وابن عمر. "ابن سعد، وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا تقویٰ
36005 ۔۔۔ مسورہ بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم عمر (رض) سے تقوی سیکھنے تھے۔ رواہ ابن سعد
36005- عن المسور بن مخرمة قال: كنا نتعلم من عمر بن الخطاب الورع. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
36006 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ایک اونٹ خریدا اس کو میں نے چراگاہ میں چھوڑ دیاجب موٹا ہوگیا تو اس کو لے آیا عمر (رض) بازار گئے تو ایک موٹا اونٹ دیکھا پوچھایہ اونٹ کس کا ہے ؟ لوگوں نے بتایا عبداللہ بن عم (رض) کا کہنا روع کیا اے عبداللہ ن عمر۔ شاباش اے امیر المومنین کے بیٹا میں دوڑتا ہوا آیا میں نے پوچھا امیر المومنین کیا بات پیش آئی ؟ پوچھایہ اونٹ کیسا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اس اونٹ کو خریدا اور اس کو چراگاہ بھیج دیا میں وہی چاہتا تھا جو مسلمان چاہتے تھے تو فرمایا کہ امیر المومنین کے بیٹے کا اونٹ چراو اس کو پانی پلاؤ اے عبداللہ بن عمر (رض) جتنے میں خریداتھابیچ وہ رقم لے لو اور زائدرقم بیت المال میں جمع کروادو۔ (سعید بن منصور ابن ابی شیبة بیہقی)
36006- عن ابن عمر قال: اشتريت إبلا وارتجعتها إلى الحمى فلما سمنت قدمت بها، فدخل عمر السوق فرأى إبلا سمانا فقال: لمن هذه الإبل؟ قيل لعبد الله بن عمر، فجعل يقول: يا عبد الله بن عمر! بخ بخ ابن أمير المؤمنين! فجئت أسعى فقلت: مالك يا أمير المؤمنين؟ قال: ما هذه الإٌبل؟ قلت: إبل اشتريتها وبعثت بها إلى الحمى أبتغي ما يبتغي المسلمون، فقال: ارعوا إبل ابن أمير المؤمنين، اسقوا إبل ابن أمير المؤمنين، يا عبد الله بن عمر! اغد على رأس مالك، واجعل الفضل في بيت مال المسلمين. "ص، ش، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
36007 ۔۔۔ عطاء سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) اپنے اعمال کو حکم فرماتے تھے کہ موسم حج میں جمع ہوجائیں جب جمع ہوگئے تو فرمایا اے لوگو میں نے اپنے گورنروں کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تاکہ تمہاری کھال اتاریں یا تمہارے مال پر قبضہ کریں یا تمہاری عزت سے کھیلیں بلکہ میں نے آن کو اس لیے بھیجا تاکہ تم سے ظلم کو دور کریں مال غنیمت کو تم یہاں تقسیم کر دین جس کے ساتھ اس کے علاوہ معاملہ کیا وہ کھڑا ہوجائے کوئی بھی کھڑا نہیں ہواسوائے ایک شخص کے اس نے کھڑے ہو کر کہا اے امیر المومنین کہ آپ کے فلاں گورنرنے مجھے سوکوڑے مارے ان سے پوچھاکس جرم کی سزا میں مارا ؟ عمروبن العاص کھڑا ہوئے اور کہا امیر المومنین اگر آپ نے گورنوں سے برسرعام با ز پرس شروع کی تو شکایات کا انبار لکگ جائے گا اور آپ کے بعد آنے والوں کے لیے ایک سنت بن جائے گی تو فرمایا کیا میں بدلہ نہ دلاؤں جب کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ اپنے نفس سے بھی بدلہ دلاتے تھے تو عمربن العاص نے کہا کہ ہم اس مظلوم کو راضی کرلیتے ہیں تو فرمایا کرلوتو ان کو دو سو دینا ردے کر راضی کرلیا ہر کوڑے پر دو دینار ۔ (ابن سعد ابن راھویہ)
36007- عن عطاء قال: كان عمر بن الخطاب يأمر عماله أن يوافوه بالموسم فإذا اجتمعوا قال: يا أيها الناس! إني لم أبعث عمالي عليكم ليصيبوا من أبشاركم ولا من أموالكم ولا من أعراضكم، إنما بعثتهم ليحجزوا بينكم وليقسموا فيئكم بينكم، فمن فعل به غير ذلك فليقم، فما قام أحد إلا رجل واحد قام فقال: يا أمير المؤمنينّ! إن عاملك فلانا ضربني مائة سوط، قال: فيم ضربته؟ قم فاقتص منه، فقام عمرو بن العاص فقال: يا أمير المؤمنين! إنك إن فعلت هذا يكثر عليك ويكون سنة يأخذ بها من بعدك، فقال: أنا لا أقيد وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقيد من نفسه! قال: فدعنا فلنرضه، قال: دونكم فأرضوه، فافتدى منه بمائتي دينار عن كل سوط بدينارين. "ابن سعد وابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
36008 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ میرے جس گورنر نے بھی کسی پر ظلم کیا مجھے ظلم کا علم ہوگیا اور میں نے مظلوم کی اور رسی نہ کی تو میں خود ظالم بن جاؤں گا۔ (رواہ ابن سعد)
36008- عن عمر قال: أيما عامل لي ظلم أحدا فبلغتني مظلمته فلم أغيرها فأنا ظلمته. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
36009 ۔۔۔ بہی سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن عمر (رض) نے مقدا (رض) کو گالی دی عمر (رض) نے کہا میری نذر ہے اگر میں تیری زبان نہ کاٹ دوں لوگوں نے ان سے اس بارے میں بات کی تو فرمایا چھوڑ دو تاکہ اس کی زبان کاٹ دوں تاکہ آئندہ کسی صحابی رسول کو گالی نہ دے۔ (احمد ولالکائی اکٹھالانسہ میں ابوالقاسم بن بشران نے اپنی امالیہ میں ابن عساکر)
36009- عن البهي أن عبيد الله بن عمر شتم المقداد فقال عمر: علي نذر إن لم أقطع لسانك، فكلموه وطلبوا إليه فقال: دعوني حتى أقطع لسانه حتى لا يشتم بعده أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم واللالكائي معا في السنة وأبو القاسم بن بشران في أماليه، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
36010 ۔۔۔ انس (رض) سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص عمر (رض) کے پاس حاضر ہوا اور کہا امیر المومنین ظلم سے آپ کی پناہ چاہتاہوں تو فرمایا آپ نے پناہ کی جگہ پناہ تلاش کی عرض کیا میں نی عمروبن العاص کے بیٹے سے مقابلہ کیا تو ان سے سبقت لے گیا تو مجھے کوڑے سے مارنے لگا اور کہنے لگامیں مکر م شخص کا بیٹاہوں تو عمر (رض) نے عمروبن العاص کو خط لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوجائے تو وہ آگئے عمر (رض) نے پوچھا یہ مصری کہاں ہے ؟ یہ کوڑا لو اور تم بھی مارو وہ کوڑے سے مارنے لگاعمررض اللہ عنہ فرما رہے تھے ابن الاکر میں کو ماروانس (رض) کہتے ہیں اس نے مارا واللہ ہم اس کے مارں ے کو پسند کررہے تھے مسلسل مارتے رہے یہاں تک ہمارا خیال ہوا کہ اب چھوڑ دے پھر عمر (رض) غنہ نے مصری سے فرمایا کہ کوڑے کو عمر (رض) کے گنجے سرپررکھ دے اس نے عرض کیا یا امیر المومنین ان کے بیٹے نے مچھے مارا تھا میں نے بدلہ لے لیا ہے تو عمر (رض) نے عمرو (رض) سے کہا کب سے تم نے لوگوں کو اپنا غلام بنالیاہی جب کہ ان کی ماؤں انہین آزاد جنا ہے ؟ تو عرض کیا امیر المومنین مجھے نہ اس واقعہ کا علم تھا نہ یہ میرے پاس آیا۔ (ابن عبدالحکیم)
36010- عن أنس أن رجلا من أهل مصر أتى عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين! عائذ بك من الظلم، قال: عذت معاذا، قال: سابقت ابن عمرو بن العاص فسبقته، فجعل يضربني بالسوط ويقول: أنا ابن الأكرمين، فكتب عمر إلى عمرو يأمره بالقدوم ويقدم بابنه معه، فقدم، فقال عمر: أين المصري؟ خذ السوط فاضرب، فجعل يضربه بالسوط ويقول عمر: اضرب ابن الأكرمين. قال أنس، فضرب، فوالله لقد ضربه ونحن نحب ضربه، فما أقلع عنه حتى تمنينا أنه يرفع عنه، ثم قال عمر للمصري: ضع السوط على صلعة عمرو، فقال: يا أمير المؤمنين! إنما ابنه الذي ضربني وقد استقدت منه، فقال عمر لعمرو:مذ كم تعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا؟ قال: يا أمير المؤمنين! لم أعلم ولم يأتني. "ابن عبد الحكم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
36011 ۔۔۔ صبیح بن عوف سلمی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) کو یہ خبرپہنچی سعد بن ابی وقاص نے اپنے گھر کے لیے لکڑی کا دروازہ بنالیا ہے اور اپنے محل کے لیے بانس کا کمرہ بنالیا ہے محمد بن مسلمہ کو بھیجا اور مجھے بھی حکم ہوا کہ ان کے ساتھ چلوں میں شہروں میں راستہ بتلانے والا تھان کو کم دیا کہ یہ دروازہ اور یہ کمرہ جلادیا جائے اور حکم دیا کہ سعد کو اہل کوفہ کے لیے ان کی مساجد میں قیام کروایا جاءے یہ اس لیے ہوا کہ عم (رض) کو بعض اہل کوفہ نے خبرپہنچائی تھی کہ سعد مال غنیمت کے خمس کو فروخت کرتے ہیں۔ ہم وہاں پہنچے سعد (رض) کے گھر تک دروازہ اور حجرہ کو جلادیا اور محمد بن مسلمہ نے سعد (رض) کو مسجد میں ٹھہرایا اور لوگوں سے سعد کے متعلق سوالات کئے کہ امیر المومنین نے ان کو اس کا حکم دیا ہے لیکن ہر ایک نے سعد (رض) کی تعریف ہی کی برائی کرنے والا کوئی نہ ملا۔ (رواہ ابن سعد)
36011- عن مليح بن عوف السلمى قال: بلغ عمر بن الخطاب أن سعد بن أبي وقاص صنع بابا مبوبا من خشب على باب داره وخص على قصره خصا من قصب، فبعث محمد بن مسلمة وأمرني بالمسير معه وكنت دليلا بالبلاد، فخرجنا وقد أمره أن يحرق ذلك الباب وذلك الخص وأمره أن يقيم سعدا لأهل الكوفة في مساجدهم، وذلك أن عمر بلغه عن بعض أهل الكوفة أن سعدا حابى في بيع خمس باعه، فانتهينا إلى دار سعد فأحرق الباب والخص، وأقام محمد سعدا في مساجدها فجعل يسألهم عن سعد ويخبرهم أن أمير المؤمنين أمره بهذا، فلا يجد أحدا يخبره إلا خيرا. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
36012 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) کے پاس عراق سے کچھ مال آیا اس کو تقسیم کرنے لگے ایک شخص نے کھڑا ہو کر کہا اے امیر المومنین آپ اس مال کو حفاظت سے رکھتے تاکہ کسی دشمن کے حملہ کے وقت یا کسی ناگہانی آفت کے وقت کام آتاعمر (رض) نے کہا تجھے ہوا ؟ اللہ تیرا ناس کرے تو شیطان کی زبان بول رہا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے خلافت کی مجھے عطاء فرمائی اللہ کی قسم کیا میں آیندہ کی خاطر آج اللہ کی نافرمانی کرونگا لیکن میں ان کے لیے وہی تیار کرونگاجو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیار کی۔ (ٕحلیتہ الاولیاء)
36012- عن ابن عمر قال: قدم على عمر رضي الله تعالى عنه مال من العراق فأقبل يقسمه، فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين لو أبقيت من هذا المال لعدو إن حضر أو نائبة إن نزلت! فقال عمر: مالك؟ قاتلك الله! نطق بها على لسانك شيطان لقاني الله حجتها، والله لا أعصين الله اليوم لغد! لا ولكن أعد لهم ما أعد لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا عدل و انصاف
36013 ۔۔۔ اسلم (رض) سے روایت ہے کہ عمروابن العاص کو ایک دن عمر (رض) کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے لیے رحمت کی دعا کی پھر کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے بعد عمر (رض) سی زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا کسی کو نہیں دیکھاپروا نہیں کرتا حق کس کے خلاف وقعہ ہو والد کے خلاف بیٹے کے خلاف پھر کہا اللہ کی قسم میں چاشت کی وقت مصر میں اپنے گھر میں تھا ایک شخص نے آکر خبردی کہ عمر (رض) کے بیٹے عبداللہ اور عبدالرحمن غازی ہو کر آئے ہیں میں نے خبردینے والے سے کہاں کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں تو بتایا فلان فلاں مقام پر مصر کے آخری حصہ میں عمر (رض) نے میرے پاس خط لکھا خبردار اگر میرے گھر کے افراد میں سے کوئی تمہارے پاس آئے تو ان کے ساتھ دوسروں سے امتیازی سلوک نہ کرنا ورنہ آپ کے ساتھ وہ سلوک کرونگا جس کا آپ اہل ہیں اب میں نہ ان کو کوئی ہدیہ دے سکتا تھا نہ ان کے قیامت گاہ پہنچ سکتا تھا ان کے والد کے خوف واللہ میں اسی ترود میں تھا ایک صاحب نے آکر خبردی کہ عبدالرحمن بن عمر (رض) اور ابوسروعہ دروازہ پر حاضر ہیں اندر آنے کی جازت مانگ رہے ہیں میں نے کہا دونوں کو اندر بلاؤ دونوں آگئے اور انتہائی خستہ حال اور دونوں نے کہا ہم پر حد قائم کریں ہم نے رات کو شراب پیا ہے اور ہم نشہ میں تھے میں نے ان کو ڈانٹ دیا اور دھتکار دیا تو عبدالرحمن نے کہا اگر آپ حد قائم نہیں کریں گے تو میں والد کو اطلاع کروں گا میں وہاں پہنچ جاؤں گا اب مجھے خیال ہوا کہ اگر میں نے اس پر حد قائم نہ کی تو عمر (رض) مجھ سے ناراض ہوں گے مجھے معزول کروں اور میرے برتاؤ کے خلاف کر ہم ابھی اسی میں تھے کہ عبداللہ بن عمر (رض) تشریف لے آئے میں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا میں نے ان کو مجلس کے درمیان میں بیٹھانا چاہاتو انھوں نے انکار کردیا کہ میرے والد نے بلاضرور تمہارے پاس آنے سے منع کیا ہے اب میں ایک ضرورت سے آیاہوں کہ میرے بھائی کا عام مجمع میں ہرگز سرنہ منڈائیں باقی کو جی سے چاہیں ماریں راوی نے بتایا کہ وہ کوڑے مارنے کے ساتھ سربھی منڈاتے تھے اب میں نے دونوں کو گھر کے صحن میں نکالا اور کوڑے مارے ابن عمر (رض) اپنے بھائی کو لے کر ایک گھر میں داخل ہوئے اور ان کا سرمنڈیا اور ابی سروعہ کا اللہ کی قسم میں نے اس واقعہ کے متعلق عمر (رض) کو کچھ بھی نہیں لکھاحتی کہ جب مجھے وقت مقررہ پر خط ملا اس میں لکھا ہوا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کا بندہ عمر امیرالمومنین کی طرف سے عاصی بن عاصی کی طرف اے ابن عاصمی مجھے تمہاری جرات پر اور میرے عہد کی خلاف ورزی پر سخت تعجب ہوا میں نے تمہارے متعلق بدری صحابہ کرام کی رائے کی مخالفت کی ان کے بارے میں جو تم سے بہتر تھے میں گورنری کے لیے تمہارا انتخاب کیا تمہاری جرات کی وجہ سے اب میں یہی سمجھتا ہوں تمہیں معزول کردوں میرا معزول کرنے کا منشاء تمہارا عبدالرحمن بن عمر کو گھر کے اندر کوڑے لگوانا اور گھر کے اندر ہی سرمنڈانا ہے تمہیں معلوم ہے یہ میری ہدایت کے خلاف تھا عبدالرحمن تمہاری رعایاکا ایک فرد ہے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کرتے ہو اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کرنا چاہیے تھا لیکن تم نے کہا وہ امیر المومنین کا لڑکا ہے تمہیں معلوم ہے کہ میرے نزدیک کسی کے ساتھ نرمی نہیں کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی حد کے متعلق جو اس پر لازم ہوگئی ہے جب میرا خط تمہارے پاس پنچ جائے تو فورا اس کو میرے پاس بھیج دو پاؤں میں بیڑی ڈال کر اونٹ کے پالان کے ساتھ باندھ کرتا وہ اپنے فعل کا برانجام دیکھ لے میں نے ان کو باپ کی ہدایت کے مطابق بھیج دیا اور ابن عمر (رض) کو باپ کا خط پڑھوا دیا اور عمر (رض) کے نام ایک خط لکھا جس میں نے معذرت کی اور یہ بتلا دیا کہ میں نے اس کو گھر کے صحن میں کوڑے لگائے میں اللہ کی قسم اس سے بڑی قسم نہیں کھائی جاتی میں ذمی اور مسلمانوں پر اپنے گھر کے صحن ہی میں حدلگاتا ہوں اور میں نے عبداللہ بن عمر (رض) کے ساتھ خط بھیجدیا اسلم (رض) کہتے ہیں عبدالرحمن کو اپنے والد کی خدمت میں حاضر کیا گیا عمر (رض) اندر آئے عبدالرحمن کے پاؤں میں زنجیر تھا بوجھ کی وجہ سے اٹھا نہیں پارہا تھا فرمایا اے عبدالرحمن تو نے ایک غلط کام کیا اور کوڑے لگانی والے نے ایک غلط کام کیا عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اس بارے میں بات کی امیر المومنین ان کو ایک مرتبہ حد لگائی جاچکی ہے اب آپ دوبارہ حد نہیں لگاسکتے عمر (رض) نے اس طرف التفات نہیں کیا بلکہ ان کو جھڑک دیاعبد الرحمن چیختے رہے میں بیمار ہوں آپ میرے قاتل میں ان پر دوبارہ حد لگائی گئی پھر قید میں ڈالا گیا پھر مرض میں مبتلا ہو کر انتقال کرگئے۔ (رواہ ابن سعد)
36013- عن أسلم قال: سمعت عمرو بن العاص يوما ذكر عمر فترحم عليه ثم قال: ما رأيت أحدا بعد نبي الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر أخوف لله من عمر، لا يبالي على من وقع الحق على ولد أو والد، ثم قال: والله إني لفي منزلي ضحى بمصر إذ أتاني آت فقال: قدم عبد الله وعبد الرحمن ابنا عمر غازيين، فقلت للذي أخبرني: أين نزلا؟ فقال: في موضع كذا وكذا - لأقصى مصر - وقد كتب إلي عمر: إياك أن يقدم عليك أحد من أهل بيتي فتحبوه بأمر لا تصنعه بغيره فأفعل بك ما أنت أهله، فأنا لا أستطيع أن أهدي لهما ولا آتيهما في منزلهما خوفا من أبيهما، فوالله إني لعلى ما أنا عليه - إلى أن قال قائل: هذا عبد الرحمن بن عمر وأبو سروعة على الباب يستأذنان، فقلت: يدخلان، فدخلا وهما منكسران وقالا: أقم علينا حد الله فأنا قد أصبنا البارحة شرابا فسكرنا، فزبرتهما وطردتهما، فقال عبد الرحمن: إن لم تفعل أخبرت أبي إذا قدمت عليه، فحضرني رأي وعلمت أني إن لم أقم عليها الحد غضب علي عمر في ذلك وعزلني وخالفه ما صنعت، فنحن على ما نحن عليه إذ دخل عبد الله بن عمر فقمت إليه فرحبت به وأردت أن أجلسه على صدر مجلسي فأبى علي وقال: إن أبي نهاني أن أدخل عليك إلا أن لا أجد بدا وإني لم أجد بدا من الدخول عليك، إن أخي لا يحلق على رؤوس الناس أبدا، فأما الضرب فاصنع ما بدا لك، قال: وكانوا يحلقون مع الحد، قال: فأخرجتهما إلى صحن الدار فضربتهما الحد، ودخل ابن عمر بأخيه عبد الرحمن إلى بيت من الدار فحلق رأسه ورأس أبي سروعة، فوالله ما كتبت إلى عمر بحرف مما كان حتى إذا تحينت كتابي فإذا هو يطم فيه: بسم الله الرحمن الرحيم من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى العاصي بن العاصي، فعجبت لك يا ابن العاصي ولجرأتك علي وخلاف عهدي، أما إني قد خالفت فيك أصحاب بدر ممن هو خير منك واخترتك لجرأتك عني وإنفاذ عهدي فأراك تلوثت بما قد تلوثت، فما أراني إلا عازلك ومنشي عزلك تضرب عبد الرحمن بن عمر في بيتك وتحلق رأسه في بيتك وقد عرفت أن هذا يخالفني! إنما عبد الرحمن رجل من رعيتك تصنع به ما تصنع بغيره من المسلمين ولكن قلت: هو ولد أمير المؤمنين، وقد عرفت أن لا هوادة لأحد من الناس عندي في حق يجب لله عليه، فإذا جاءك كتابي هذا فابعث به في عباءة على قتب حتى يعرف سوء ما صنع، فبعثت به كما قال أبوه وأقرأت ابن عمر كتاب أبيه وكتبت إلى عمر كتابا أعتذر فيه وأخبره أني ضربته في صحن داري، وبالله الذي لا يحلف بأعظم منه إني لأقيم الحدود في صحن داري على الذمي والمسلم، وبعثت بالكتاب مع عبد الله بن عمر، قال أسلم: فقدم بعبد الرحمن على أبيه فدخل عليه وعليه عباءة ولا يستطيع المشي من مركبه، فقال: يا عبد الرحمن! فعلت وفعلت؟ السياط! فكلمه عبد الرحمن بن عوف فقال: يا أمير المؤمنين! قد أقيم عليه الحد مرة فما عليه أن تقيمه ثانية. فلم يلتفت إلى هذا عمر وزبره، فجعل عبد الرحمن يصيح: إني مريض وأنت قاتلي! فضربه الثانية الحد وحبسه. ثم مرض فمات. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے بیٹے کو کوڑ ا لگانے کا واقعہ
36014 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میرے بھائی عبدالرحمن نے شراب پیا اور ان کے ساتھ ابوسروعہ عقبہ بن الحارث تھے وہ دونوں مصر تھے عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں شراب کی وجہ سے بہیوش ہوئے جب ہوش میں آئے تو عمر وبن العاص کے پاس گئے وہ اس وقت مصر کے امیر تھے دونوں نے کہا ہمین پاک کریں کیونکہ شراب کی وجہ سے ہم بیہوش ہوگئے تھے عبداللہ نے کہا میرے بھائی نے مچھ سے ذکر کیا وہ شراب نوشی کی وجہ سے بہیوہش ہوا میں نے کہا گھر میں داخل ہوجاؤ میں تمہیں پا کرتا ہوں مجھے یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ عمرو کے پاس جاچکے ہیں مجھے میرے بھائی نے بتایا کہ وہ امیر کو اس کے متعلق اطلاع دے چکے ہیں میں نے کہا آج آپ لوگوں کے سامنے ان کو گنجانہ کریں گھر میں داخل کریں م میں آپ کی طرف سے مونڈدوں گا وہ اس زمانہ میں حد لگانے کے ساتھ سربھی گنجا کرتے تھے وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے عبداللہ نے کہا میں نے اپنے بھائی کا سرمنڈدوں گا وہ اس زمانہ میں حد لگانے کے ساتگ سربھی گنجا کرتے تھے وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے عبداللہ نے کہا میں نے اپنے بھائی کا سرمنڈادیا پھر عمر (رض) نے ان پر حدلگائی اس کا عمر (رض) کو علم ہوگیا انھوں نے عمروبن العاص کو خط لکھا کہ عبدالرحمن کو پالان سے باندھ کر میرے پاس بھیج دو ایسا ہی کیا جب عمر (رض) کے پاس پہنچا تو انھوں نے دوبارہ کوڑا لگایا اور ان کو سزا دی اپنے قرب کی وجہ سے اس کے بعد چھوڑ دیا اس کے بعد ایک مہینہ تک ٹھیک رہے اس کے بعد قضاء الہی سے انتقال کرگئے عام لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ عمر (رض) کے کوڑے لگانے کی وجہ سے انتقال کرگئے حالانکہ کوڑے سے انتقال نہیں ہوا۔ (عبدالرزاق بیہقی وسند ہ صحیح)
36014- عن ابن عمر قال: شرب أخي عبد الرحمن وشرب معه أبو سروعة عقبة بن الحارث وهما بمصر في خلافة عمر فسكرا، فلما أصبحا انطلقا إلى عمرو بن العاص وهو أمير مصر فقالا: طهرنا فإنا قد سكرنا من شراب شربناه، قال عبد الله: فذكر لي أخي أنه سكر فقلت: ادخل الدار أطهرك، ولم أشعر أنهما قد أتيا عمرا، فأخبرني أخي أنه قد أخبر الأمير بذلك، فقلت: لا تحلق اليوم على رؤوس الناس، ادخل الدار أحلقك، وكانوا إذ ذاك يحلقون مع الحد، فدخلا الدار وقال عبد الله: فحلقت أخي بيدي ثم جلدهم عمرو، فسمع بذلك عمر فكتب إلى عمرو أن ابعث إلي بعبد الرحمن على قتب ففعل ذلك، فلما قدم على عمر جلده وعاقبه لمكانه منه ثم أرسله، فلبث شهرا صحيحا ثم أصابه قدره فمات، فيحسب عامة الناس أنما مات من جلد عمر ولم يمت من جلد عمر. "عب، ق، وسنده صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے بیٹے کو کوڑ ا لگانے کا واقعہ
36015 ۔۔۔ مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہ ملک روم کا قاصد آیا عمربن خطاب (رض) کے پاس عمر (رض) کی بیوی نے ایک درھم قرض لیا اس سے عطر خریدا اس کو بوتل میں ڈال کر قاصد کے ذریعہ روم کے بادشاہ کی بیوی کے پاس بگیجدیا جب وہ ہدیہ اس کے پاس پہنچا اس نے بوتل خالی کروایا اس میں جو اھر بھر دیا اور عمر (رض) کی بیوی کے پاس بھیجا جب قاصد واپس مدینہ پہنچا اور ہدیہ حوالہ کیا تو عمر (رض) کی بیوی نے وہ وستر پر ڈالا عمر (رض) گھر میں آئے اس مال کے متعلق پوچھاتو بیوی نے واقعہ سنایا عمر (رض) نے وہ جواہر لے لیا اور اس کو فروخت کرکے ایک دنیانر بیوی کو دے دی باقی مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کروادیا۔ (الدینوری فی المجالسة)
36015- عن مالك بن أوس بن الحدثان قال: قدم بريد ملك الروم على عمر بن الخطاب، فاستقرضت امرأة عمر بن الخطاب دينارا، فاشترت به عطرا وجعلته في قوارير وبعثت به مع البريد إلى امرأة ملك الروم، فلما أتاها فرغتهن وملأتهن جواهر وقالت: اذهب إلى امرأة عمر بن الخطاب، فلما أتاها فرغتهن على البساط، فدخل عمر بن الخطاب فقال: ما هذا؟ فأخبرته بالخبر، فأخذ عمر الجواهر فباعه ودفع إلى امرأته دينارا، وجعل ما بقي من ذلك في بيت مال المسلمين. "الدينوري في المجالسة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے بیٹے کو کوڑ ا لگانے کا واقعہ
36016 ۔۔۔ (مسندعمر) مجاہد سے مروی ہے کہ نبی مخزوم کا ایک شخص عمر (رض) کے پاس آیا ابوسفیان کے خلاف ظلم کی فریاد لے کر کہا اے امیر المومنین ابوسفیان نے مجھ پر تعدی کی ہے مکہ میں میری ایک زمین میں عمر (رض) نے کہا میں اس زمین کو جانتاہوں بسا اوقات میں وہاں کھیلتاتمہارے اس جگہ موجودگی میں جب ہم بچے تھے جب میں مکہ آؤ تم وہاں میرے پاس آجانا جب عمر (رض) مکہ پہنچے و مخزومی آیا اور ابوسفیان (رض) کو بھی بلایا گیا عمر (رض) اس شخص کے ساتھ زمین پر پہنچے تو فرمایا اے ابوسفیان تو نے حد سے تجاوز کیا یہ پتھر یہاں سے اٹھاؤ اور وہاں رکھدو ابوسفیان نے پتھر اٹھایا اور اس جگہ رکھدیا جہاں عمر (رض) نے حکم دیا ابوسفیان کے ساتھ جو معاملہ کیا اس سے دل میں کچھ تردوسا ہوا تو بیت اللہ میں جاکردعا کی اے اللہ تمام تعریفیں آپ کے لیے ہیں کہ آپ نے مجھے موت سے پہلے ابوسفیان پر غلبہ عطا فرمایا اس کی خواہشات پر ار اس کو اسلام کے ذریعہ میرا تابع کردیا ابوسفیان بھی بیت اللہ کیا اور کہا اے اللہ تیرا شکر ہے کہ موت سے پہلے اسلام کی حقانیت کو میرے دل میں پیدا کردیا کہ مجھے عمر (رض) کا تابع بنادیا۔ (اللا لکائی)
36016- "مسند عمر" عن مجاهد قال: جاء رجل من بني مخزوم إلى عمر يستعديه على أبي سفيان قال: يا أمير المؤمنين! إن أبا سفيان ظلمني حدي بمكة، فقال عمر؟ أنا أعلم بذلك الحد ولربما لعبت أنا وأنت عليه ونحن غلمان، فإذا قدمت مكة فأتني، فلما قدم عمر مكة أتاه المخزومي وجاء بأبي سفيان، فانطلق عمر معه إلى ذلك الحد فقال: غيرت يا أبا سفيان فخذ هذا الحجر من ههنا فضعه ههنا، فقال: والله لا أفعل، فعلاه عمر بالدرة ثم قال: خذه لا أم لك! فأخذه أبو سفيان فوضعه في الموضع الذي أمره عمر فدخله مما صنع بأبي سفيان شيء، فاستقبل البيت وقال: اللهم لك الحمد إذ لم تمتني حتى غلبت أبا سفيان على هواه وذللته لي بالإسلام، فاستقبل أبو سفيان البيت وقال: اللهم لك الحمد إذ لم تمتني حتى أدخلت قلبي من الإسلام ما ذللتني لعمر. "اللالكائي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے بیٹے کو کوڑ ا لگانے کا واقعہ
36017 ۔۔۔ سعید بن عامر محمد بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ عمر (رض) مکہ مکرمہ آیا اور ان سے شکایت کی گئی کہ ابوسفیان نے ہم پر سیلاب چھوڑ دیا ہے عر (رض) ان کے ساتھ چلے اور ہکم دیا کہ ابوسفیان یہ پتھر اٹھاؤ اس کو اپنے کندھے پر اٹھایا دوبارہ آیا حکم ہوا کہ یہ پتھر بھی اٹھاؤ پھر اس کو اٹھاؤ پھر عمر (رض) نے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیا کہ الحمد اللہ الذی امر ابا سفیان ببطن مکہ فیط یعنی یعنی تمام تعریفیں اس اللہ کے ہیں جس نے مجھے وادی مکہ میں ابوسفیان پر حاکم بنایا وہ میری اطاعت کررہا ہے۔ (رواہ ابن عساکر )
36017- عن سعيد بن عامر عن محمد بن عمرو قال: قدم عمر مكة فقال له: يا أمير المؤمنين! إن أبا سفيان قد حمل علينا السيل، فانطلق عمر معهم فقال: يا أبا سفيان! خذ هذا الحجر، فأخذه فاحتمله على كتده 1 وجاءه فقال له: خذ هذا فاحتمله، ثم قال له: وهذا، فرفع عمر يده وقال: الحمد لله الذي آمر أبا سفيان ببطن مكة فيطيعني. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے بیٹے کو کوڑ ا لگانے کا واقعہ
36018 ۔۔۔ جویریہ بن اسماء سے روایت ہے کہ عمربن خطاب مکہ مکرمہ آئے اور گلیوں میں چکر لگایا اور لوگوں سے کہا کہ گھر کے صحن کو جھاڑ و دیا کرو ابوسفیان کے سامنے سے گذرے اور فرمایا اے ابوسفیان اپنے صحنوں کو صاف رکھاکرو تو انھوں نے کہا جی ہاں اے امیر المومنین جب ہمارا خادم آجائے گا اس کے بعد عمر (رض) نے دوبارہ چکر لگایا تو دیکھاصحن ویساہی ہے جیسے پہلے تھا تو فرمایا اے ابوسفیان کیا میں نی تم کو حم نہیں دیا تھا کہ اپنے صحن کو صاف کروعرض کیا ہاں اے امیرالمومنین ہم ایساکریں جب خدمتگار آجائے گا درہ لے کر اس کے سرپرکانوں کے درمیان ماراہ اس کی بیوی ہند نے سنا تو کہا ان کا خیال رکھو اللہ کی قسم ایک زمانہ وہ تھا۔ عمر (رض) نے فرمایا کہ تو نے سچ کہا لیکن اسلام کی بدولت اللہ تعالیٰ ایک قوم کے مرتبہ کو بلند کرتا ہے دوسرے کے مرتبہ کو گراتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36018- عن جويرية بن أسماء أن عمر بن الخطاب قدم مكة فجعل يجتاز في سككها فيقول لأهل المنازل قموا أفنيتكم، فمربأبي سفيان فقال له: يا أبا سفيان! قموا فناءكم، فقال: نعم يا أمير المؤمنين حتى يجيء مهاننا: ثم إن عمر اجتار بعد ذلك فرأى الفناء كما كان فقال: يا أبا سفيان! ألم آمرك أن تقموا فناءكم؟ قال: بلى يا أمير المؤمنين ونحن نفعل إذا جاء مهاننا، فعلاه بالدرة فضربه بين أذنيه، فسمعت هند فقالت: أبصر به، أما والله لرب يوم لو ضربته لاقشعر بك بطن مكة! فقال عمر: صدقت ولكن الله رفع بالإسلام أقواما ووضع به آخرين. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے بیٹے کو کوڑ ا لگانے کا واقعہ
36019 ۔۔۔ سعید بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ عمربن خطاب نے ابوسفیان سے کہا کہ میں تجھ سے کبھی محبت نہیں رکھوں گا بہت سی راتوں میں تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غم گین کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36019- عن سعيد بن عبد العزيز قال: قال عمر بن الخطاب لأبي سفيان بن حرب: لا أحبك أبدا، رب ليلة غممت فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اقربا پروری کی ممانعت
36020 ۔۔۔ اسید بن حضیر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم میرے بعد اقرباء پروری دیکھوگے جب عمر (رض) کی خلفت کا زمانہ آیا تو آپ نے چادریں تقسیم کیں تو میرے پاس بھی ایک چادر بھیجی میرے لیے وہ چھوٹی تھی اس لیے اپنے بیٹے کو دیدی اس دوران کہ میں نماز پڑھ رہا تھا سامنے سے ایک قریشی گذرا اس پرچادر تھی بڑی ہونے کی وجہ سے گھسیٹ رہا تھا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد یا آیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری بعداقرباء پروری ہوگی میں نے کہا اللہ کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ فرمایا ایک شخص عمر (رض) کے پاس گیا اور ان کو میری بات کی خبردی وہ میرے پاس آئے میں نماز ہی میں تھا فرمایا اے سید نماز پڑھ لے جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھ سے پوچھاتم نے یہ بات کیسے کی ؟ میں نے عرض کردیا تو فرمایا یہ چادر تو میں نے فلاں صحابی کو دی تھی جو کہ بدری احد اور عقیمی ہیں ان کے پاس یہ جوان آیا آؤ اس نے خرید لی کیا تو نے ا حدیث کا مصدق میرے زمانے کو سمجھا ہے ؟ میں نے کہا اے امیر لمومنین مجھ ییقن ہوگیا کہ یہ آپ کے زمانہ میں نہ ہوگا۔ (ابویعلی ابن عساکر)
36020- عن أسيد بن حضير قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إنكم ستلقون بعدي أثرة"، فلما كان زمان عمر قسم حللا فبعث إلي منها بحلة فاستصغرتها فأعطيتها ابني، فبينا أنا أصلي إذ مر بي شاب من قريش عليه حلة من تلك الحلل يجرها، فذكرت قول رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم ستلقون أثرة بعدي، فقلت: صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانطلق رجل إلى عمر فأخبره، فجاء وأنا أصلي فقال: صل يا أسيد! فلما قضيت صلاتي قال: كيف قلت؟ فأخبرته، قال: تلك حلة بعثت بها إلى فلان وهو بدري أحدي عقبي فأتاه هذا الفتى فابتاعها منه فلبسها، فظننت أن ذلك يكون في زماني، قلت: قد والله يا أمير المؤمنين ظننت أن ذلك لا يكون في زمانك. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی سیاست اپنے نفس اہل و عیال اور امراء کے متعلق
36021 ۔۔۔ عکرمہ بن خالد سے روایت ہے کہ عمربن خطاب کا ایک بیٹا ان کے پاس آیا بالوں کو کنگھی کیا ہوا تھا اور اچھا لباس پہنا ہوا اس کو درہ سے مارا تو حفصہ (رض) نے مارنے کا سبب پوچھاتو فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ وہ خود پسندی میں مبتلاء ہوارہا تھا اس لیے خیال ہوا اس کے نفس کو چھوٹا کردو۔ (عبدالرزاق)
36021- عن عكرمة بن خالد قال: دخل ابن لعمر بن الخطاب عليه وقد ترجل ولبس ثيابا فضربه عمر بالدرة حتى أبكاه، فقالت له حفصة: لم ضربته؟ قال: رأيته قد أعجبته نفسه فأحببت أن أصغرها إليه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی سیاست اپنے نفس اہل و عیال اور امراء کے متعلق
36022 ۔۔۔ ( مسند ابن عمر (رض)) ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں جلولا کی لڑائی میں شریک ہوا میں نے مال غنیمت کو چالیس ہزار دراہم میں خرید لیا جب عمر (رض) کے پاس واپس پہنچاتو فرمایا اگر میں آگ میں ڈالاجاؤں اور تجھ سے کہا جائے فدیہ دے کر مجھے چھڑا تو چھڑا لوگے ؟ میں نے عرض کیا جو چیز بھی آپ کے لیے تکلیف ہوگی میں فدیہ اداکرکے آپ کو اس سے چھڑا لوں گا تو فرمایا گویا لوگوں کے ساتھ موجود تھا جب وہ آپس میں خرید فروخت کررہے تھے لوگوں نے کہا عبداللہ بن عمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی امیر المومنین کا بیٹا اور باپ محبوب ترین بیٹا تو یقیناً ایسا ہی ہے تو تجھے سو درہم سستا دینا ان کو درھم تجھے مہنگا دے میں مال غنیمت تقسیم کرنے والا مسئؤل ہوں کسی قریش تاجر نے جو نفع کمایا ہوگا میں اس سے تمہیں دو گنا دوں گا پھرت اجروں کو بلایا تو انھوں نے ایک لاکھ میں خریدا تو مجھے اسی ہزار درھم دیے بقیہ مال سعد بن ابی وقاص (رض) کے پاس بھیج دیا اور فرمایا کہ اس کو اس لڑائی کے شرکاء میں تقسیم کردیں جن کا انتقال ہوگیا ہو ان کے ورثہ کو بھیج دیں۔ ( رواہ ابوعبید)
36022- "مسنده" عن ابن عمر قال: شهدت جلولاء فابتعت من المغنم بأربعين ألفا، فلما قدمت على عمر قال لي: أرأيت لو عرضت على النار فقيل لك: افتدني أكنت مفتدي؟ فقلت: والله ما من شيء يؤذيك إلا كنت مفتديك منه! فقال: كأني شاهد الناس حين تبايعوا فقالوا: عبد الله بن عمر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وابن أمير المؤمنين وأحب الناس إليه وأنت كذلك فكان أن يرخصوا عليك بمائة أحب إليهم من أن يغلوا عليك بدرهم وإني قاسم مسؤل وأنا معطيك أكثر ما ربح تاجر من قريش لك ربح الدرهم درهم، قال ثم دعا التجار فابتاعوا منه بأربعمائة ألف، فدفع إلي ثمانين ألفا وبعت بالبقية إلى سعد بن أبي وقاص فقال: اقسمه في الذين شهدوا الوقعة، ومن كان مات منهم فادفعه إلى ورثته. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক: