কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬০৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی سیاست اپنے نفس اہل و عیال اور امراء کے متعلق
36023 ۔۔۔ ان ہی سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) اور مقدار (رض) کے دریان کسی مسئلہ میں تیز گفتگو ہوگی عبداللہ بن عمر (رض) نے کچھ تیز باتیں کہہ دیں تو مقدار (رض) نے عمر (رض) سے شکایت کی تو عمر (رض) نے نذرمان لی کہ اس کی زبان کاٹ دونگا جب ابن عمر (رض) کو باپ سے خوف لاحق ہوا تو کچھ لوگوں کو درمیان میں ڈالاتوعمر (رض) نے فرمایا چھوڑ دو میں اس کی کاٹ دیتاہوں تاکہ یہ ایک سنت جاری ہوجائے میرے بعد اس عمل ہوسکے جو شخص بھی کسی صحابی رسول کو گالی دے اس کی زبان کاٹ لی جائے۔ (رواہ ابن عساکر)
36023- عن البهي قال: كان بين عبد الله بن عمر وبين المقداد شيء فنال منه عبد الله فشكاه المقداد إلى أبيه، فنذر عمر ليقطعن لسانه! فلما خاف ذلك من أبيه تحمل على أبيه بالرجال، فقال: دعوني فأقطع لسانه فتكون سنة يعمل بها من بعدي، لا يوجد رجل شتم رجلا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قطع لسانه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی سیاست اپنے نفس اہل و عیال اور امراء کے متعلق
36024 ۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ہشام بن حسان سے روایت ہے کہ ابومؤسی (رض) نے بیت المال کو جھاڑ دیا س میں سے ایک درھم نکل آیا وہاں سی عمربن خطاب کا ایک بیٹا گذرایہ درہم اس کو دیدیا جب عمر (رض) نے لڑکے ہاتھ میں درہم دیکھاتو پوچھاکہاں سے ملا ؟ کہا ابوموسی (رض) نے دیا ہے تو عمر (رض) نے ابوموسی (رض) سے پوچھا کیا تمہیں مدینہ منورہ میں آ ل عمر سے حقیر کوئی گھر انہ نہیں ملا تم یہ چاہتے ہو کہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر فرد ہم سے اس درھم کے بدلے میں ظلم کا مطالبہ کرے درہم بچے ہاتھ سے لیا اور بیت المال میں ڈال دیا۔ (ابن انتجار)
36024- "مسند عمر" عن هشام بن حسان قال: كسح أبو موسى بيت المال فوجد فيه درهما، فمر به ابن لعمر بن الخطاب فأعطاه إياه، فرأى عمر الدرهم مع الصبي فقال: من أين لك هذا؟ فقال: أعطانيه أبو موسى، فأقبل عمر على أبي موسى فقال: أما كان لك في المدينة أهل بيت أهون عليك من آل عمر؟ أردت أن لا تبقي أحد من أمة محمد صلى الله عليه وسلم إلا طالبنا بمظلمة في هذا الدرهم! فأخذ الدرهم فألقاه في بيت المال. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی سیاست اپنے نفس اہل و عیال اور امراء کے متعلق
36025 ۔۔۔ (ایضا) ابولنصر سے روایت ہے کہ ایک شخص عمربن خطاب کے پاس کھڑا ہو وہ منبر پر تھے کہا اے امیر المومنین آپ کے گورنر نے مجھ پر ظلم کیا اور مجھے مارا ہے تو عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں ان سے قصاص دلاؤں گا تو عمربن العص نے کہا امیر المومنین آپ اپنے گورنروں سے قصاص لیں گے ؟ فرمایا اللہ کی قسم ان سے قصاص لوں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ذات سے قصاص دلایا صدیق اکبر (رض) نے اپنی ذات سے قصاص دلایا کیا میں قصاص نہ لوں ؟ تو عمروبن العاص (رض) نے کہا امیر المومنین اس کے علاوہ کوئی راستہ اختیار کیا جائے پوچھا کونسا راستہ بتایا اس مظلوم کو راضی کرلیا جائے فرمایا ایسا ہوسکتا ہے تو کرلیں۔ (بیہقی نے روایت کرکے کہا یہ منقطع ہے دوسری طرق سے متصل بھی روایت کی گئی ہے)
36025- "أيضا" عن أبي النضر أن رجلا قام إلى عمر بن الخطاب وهو على المنبر فقال: يا أمير المؤمنين! ظلمني عاملك وضربني فقال عمر: والله لأقيدنك منه! فقال عمرو بن العاص: يا أمير المؤمنين! وتقيد من عاملك؟ قال: نعم والله لأقيدن منهم! أقاد رسول الله صلى الله عليه وسلم من نفسه وأقاد أبو بكر من نفسه أفلا أقيد؟ قال عمرو بن العاص: أو غير ذلك يا أمير المؤمنين؟ قال: وما هو؟ قال: أو يرضيه؟ قال: أو ذلك. "ق، وقال: هذا منقطع وقد روي من وجه آخر موصولا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی سیاست اپنے نفس اہل و عیال اور امراء کے متعلق
36026 ۔۔۔ (ایضا) احنف بن قیس سے روایت ہے کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا مگر ایک مرتبہ پوچھا وہ کیسے اے ابوحر ؟ بتایا عمر (رض) کی خدمت میں وفد کے ساتھ حاضر ہوئے ایک بڑی فتح سے واپسی کے موقع پر جب ہم دمینہ منورہ کے قریب پہنچے تو ہم نے آپس میں کہا کہ اگر ہم سفر کے لاباس اتار کر دوسرا لباس پہن لیں اس کے بعد امیر المومنین کی خدمت میں عمدہ حالت میں ہوں تو بہتر ہوگا چنانچہ ہم سفر کا لباس اتارا دیا اور ان کا لباس پہن لیا جب ہم دمینہ کی شروع کی آبادی تک پہنچے تو ایک شخص سے ہماری ملاقات ہوئی تو اس نے کہا ان دنیاداروں کو دیکھو رب کعبہ کی قسم میں ایک شخص تھا کہ میری رائے نے مجھے فائدہ دیا مجھے یقین ہوگیا کہ قوم کے لیے مناسب نہیں چنانجہ واپس ہوا اور لباس بدل لیا اونی لباس کو زنبیل میں ڈالرکر بند کردیا البتہ چادر کا کنارہ باہر نکلا ہوا تھا اس کو اندر کرنا بھول گیا پھر سواری پر سوار ہوگیا اور اپنے ساتھیوں سے مل گیا جب ہم عمر (رض) کے پاس پہنچے تو انھوں نے ہمارے ساتھیوں سے نظر پھیرلی اور میرے اوپر نظر ڈالی اور مجھے ہاتھ سے اشارہ کیا مجھ سے پوچھا کہاں ٹھہرے میں نے بتایا فلاں فلاں مقام پر مجھ سے فرمایا اپنا ہاتھ دیکھا پھر ہمارے ساتھ اونٹ بیٹھا نے کی جگہ پر گئے اور اونٹوں کو نظر جماکر دیکھنی لگے پھر فرمایا کہ تم اپنے جانوروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ان کا تم پر حق ہے ؟ کیا سفر میں ان کے ساتھ اعتدال سے کام نہیں لیتے ہو ؟ ان سے کجاوا کیوں نہیں اتاراتا کہ وہ زمین کی گھاس پھوس میں چرتے ؟ ہم نے کہا اے امیر المومنین ہم فتح عظیم سے واپس آئے ہم نے چاہا جلدی سے جاکر امیر المومنین اور مسلمانوں کو فتح کی خبرسنائیں جس سے وہ خوش ہوجائیں ان سے فارغ ہو کر میرے زنبیل پر ان کی نضرپڑی پوچھایہ کس کا زنبیل ہے ؟ میں نے امیرالمومنین میرا ہے پوچھا یہ کونسا ن کپڑا ہے میں نے کہا میری چادر ہے پوچھا کتنے میں خریدی ؟ میں اس کی قیمت میں سے دوتہائی کمکرکے بتایاتو فرمایا تمہاری یہ چادر بہت اچھی ہے اگر اس کی قیمت زیادہ نہ ہوتی پھر واپس چل پڑے ہم بھی ان کے ساتھ تھے تو راستہ میں ایک شخص ملا اس نے کہا اے امیر المومنین میرے ساتھ چلین فلاں سے میرا بدلہ دلائیں کہ اس نے مجھ پر ضلم کیا درہ اٹھایا اس کے سرپر مارا اور فرمایا کہ تم امیر المومنین کو چھوڑ دیتے ہو جب وہ تمہارے سامنے ہوتا ہے پھر وہ مسلمانوں کے امور میں سے کسی کام میں مشغول ہوتا ہے تو اس کے پاس آکر کہتے ہو ظلم کا بدلہ دلاؤ ظلم کا بدلہ دلاؤوہ شخص ناراضگی سے بڑبڑا ہوا چلا گیا تو فرمایا اس شخص کو میرے پاس واپس بلا کر لاؤ جب آیا تو اس درد دے کر فرمایا بدلہ لے لے اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم اس کو اللہ کی خاطر اور تمہارے خاطر چھوڑتا ہوں تو فرمایا کہ اس طرح نہیں یا تو اس کو اللہ کے پاس جو اجرواثواب ہے اس کو حاصل کرنے کے ارادہ سے چھوڑ دے یا میری خاطر چھوڑ دے میں اس کو جان لوں اس نے کا اللہ کی خاطر چھوڑتاہوں پھرچلا گیا اور آپ (رض) گھر میں داخل ہوئے ہم بھی آپ کے ساتھ تھے نماز شروع کی دو رکعتیں پڑھیں اس کے بعد بیٹھ گئے اور اپنے کو خطاب کرتے ہوئے کہا اے خطاب کے بیٹے تو کمینہ تھا اللہ تعالیٰ تجھے عزت دی تو راہ بھولا ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے تجھے ہدایت دی تو ذلیل تھا اللہ تعالیٰ نے تجھے عزت دی پھر تجھے مسلمانوں کے کندھوں پر بیٹھایا ۔ (امیر المومنین بنایا ) پھر ایک تمہارے پاس آکرانصاف طلب کرتا ہے تو اس کو دردہ مارتا ہے کل جب رب تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوگا تو کیا جواب دے گا ؟ پھر اپنے نفس کی خوب سرزنش شروع کی ہمیں یقین ہوگیا کہ اہل زمین میں سے بہتر یہی ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36026- "أيضا" عن الأحنف بن قيس قال: ما كذبت قط إلا مرة، قالوا: وكيف يا أبا بحر؟ قال: وفدنا على عمر بفتح عظيم، فلما دنونا من المدينة قال بعضنا لبعض: لو ألقينا ثياب سفرنا ولبسنا ثياب صوننا فدخلنا على أمير المؤمنين والمسلمين في هيئة وشارة حسنة كان أمثل، فلبسنا ثياب صوننا وألقينا ثياب سفرنا حتى إذا طفنا في أوائل المدينة لقينا رجل فقال: انظروا إلى هؤلاء أصحاب دنيا ورب الكعبة! قال: فكنت رجلا ينفعني رأيي فعلمت أن ذلك ليس بموافق للقوم فعدلت فلبستها وأدخلت ثياب صوني العيبة وأشرجتها وأغفلت طرف الرداء ثم ركبت راحلتي ولحقت بأصحابي، فلما دفعنا إلى عمر نبت عيناه عنهم ووقعت عيناه علي فأشار إلي بيده، فقال: أين نزلتم؟ قلت: في مكان كذا وكذا، فقال: أرني يدك، فقام معنا إلى مناخ ركابنا، فجعل يتخللها ببصره ثم قال: ألا اتقيتم الله في ركابكم هذه؟ أما علمتم أن لها عليكم حقا؟ ألا قصدتم بها في المسير؟ ألا حللتم عنها فأكلت من نبت الأرض؟ فقلنا: يا أمير المؤمنين! إنا قدمنا بفتح عظيم فأحببنا أن نسرع إلى أمير المؤمنين وإلى المسلمين بالذي يسرهم، فحانت منه التفاتة فرأى عيبتي فقال: لمن هذه العيبة؟ قلت: لي يا أمير المؤمنين! قال: فما هذا الثوب؟ قلت: ردائي، قال: بكم ابتعته؟ فألقيت ثلثي ثمنه، فقال: إن رداءك هذا لحسن لولا كثرة ثمنه، ثم انطلق راجعا ونحن معه فلقيه رجل فقال: يا أمير المؤمنين! انطلق معي فأعدني على فلان فإنه قد ظلمني، فرفع الدرة فخفق بها رأسه وقال: تدعون أمير المؤمنين وهو معرض لكم حتى إذا شغل في أمر من أمر المسلمين أتيتموه أعدني أعدني، فانصرف الرجل وهو يتذمر فقال: علي الرجل، فألقى إليه المخفقة فقال: امتثل، فقال: لا والله ولكن أدعها لله ولك! قال: ليس هكذا، إما أن تدعها لله إرادة ما عنده أو تدعها لي فأعلم ذلك. قال: أدعها لله، قال: فانصرف ثم مضى حتى دخل منزله ونحن معه فافتتح الصلاة فصلى ركعتين وجلس فقال: يا ابن الخطاب! كنت وضيعا فرفعك الله، وكنت ضالا فهداك الله، وكنت ذليلا فأعزك الله، ثم حملك على رقاب المسلمين فجاءك رجل يستعديك فضربته! ما تقول لربك غدا إذا أتيته؟ قال: فجعل يعاتب نفسه في ذلك معاتبة ظننا أنه من خير أهل الأرض. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی متفرق سیرت
36027 ۔۔۔ (مسند) سعید بن مالک عبسی سے روایت ہے کہ میں نے اور میرے ایک ساتھی نے دو اونٹ پر حج کیا ہم مناسک حج اداکرکے واپس لوٹے جب ہم مدینة الرسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عمربن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے کہا اے امیر المومنین ہم نے حج کیا میں اور میرے ساتھی نے حج کے مناسک سے فارغ ہو کر واپس آئے ہیں اے امیر لمومنین منزل مقصود تک پہنچنے کا سامان دیدیں اور سواری کے لیے اونٹ دیدیں فرمایا اپنے اونٹ میرے پاس لے آؤ میں دونوں کو لے آیا اور ان کو بیٹھایا ان کی پیٹھایا ان کی پیٹھ کو دیکھا پھر اپنے غلام عجلان کو بلایا اور فرمایا ان دونوں اونٹ کو لے جاؤ چراگاہ میں صدقات کے اونٹ میں شامل کردو دوجوان فرمان بردار اونٹ لے آؤ چنانچہ وہ لے آیا اور ہم سے فرمایا کہ یہ دونوں اونٹ لے لو اللہ تمہیں سوار کرائے اور منزل تک پہنچائے جب تم منزل تک پہنچی جاؤ چاہو تو ان کو اپنے قبضہ میں رکھوچاہو فروخت کرکے رقم کام میں لاؤ ۔ (رواہ ابوعبید)
36027- "مسنده" عن سعيد بن مالك العبسي قال: حججت أنا وصاحب لي على بعيرين فقضينا نسكنا وقد أدبرنا، فلما قدمنا المدينة أتيت عمر بن الخطاب فقلت يا أمير المؤمنين! إني حججت أنا وصاحب لي فقضينا نسكنا وقد أدبرنا فبلغنا يا أمير المؤمنين واحملنا، فقال: ائتني ببعيريكما، فجئت بهما فأناخهما ثم نظر إلى دبرهما ثم دعا غلاما يقال له عجلان فقال: انطلق بهذين البعيرين فألقهما في نعم الصدقة بالحمى: وائتني ببعيرين ذلولين فتيين، فجاء بهما، فقال: خذ هذين البعيرين فالله يحملكما ويبلغكما، فإذا بلغت فأمسك أو بع واستنفق. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی متفرق سیرت
36028 ۔۔۔ (ایضا) زہری سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے بیت المال کے تمام مسلمان غلاموں کو آزاد کردیا شرط یہ رکھی کہ میرے بعد خلیفہ کی تین سال تک خدمت کریں ان کے لیے شرط یہ ہے کہ تمہارے ساتھ وہی سلوک کریں جو میں کرتا ہوں خیارنے اپنی تین سالہ خدمت کو عثمان (رض) سے اپنے غلام ابوفروہ کے بدلے میں خرید لیا۔ (عبدالرزاق)
36028- "أيضا" عن الزهري قال: أعتق عمر كل مسلم من رقيق بيت المال وشرط عليهم أن يخدموا الخليفة بعدي ثلاث سنين، وشرط لهم أن يصحبكم بمثل ما كنت أصحبكم به، فابتاع الخيار خدمته من عثمان الثلاث سنين بغلامه أبي فروة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عطا یا کی وفاداری
36029 ۔۔۔ (مسندعمر (رض)) عکرمہ سے روایت ہے کہ جب تمیم داری (رض) نے اسلام قبول کیا تو عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو تمام روئے زمین پر غلبہ عطاء فرمائے گا مجھے بیت المال میں میرا گاؤں ہبہ فرما دیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ تمہارے لیے ہوگیا اس زمین کے متعلق عہدنامہ لکھدیا جب عمر (رض) کے مانہ میں شام پر غلبہ حاصل ہوا تو تمیم داری (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عہدنامہ لے کر حاضر ہوا تو عمر (رض) نے فرمایا میں خود بھی اس عہد نامہ کا گواہ ہوں پھر ان کو وہ زمین دے دی۔ ( ابوعبید فی الاموال ، ابن عساکر)
36029- "مسند عمر" عن عكرمة قال: لما أسلم تميم الداري قال: يا رسول الله! إن الله مظهرك على الأرض كلها فهب لي قريتي من بيت لحم، قال: هي لك - وكتب له بها، فلما استخلف عمر فظهر على الشام جاءه تميم بكتاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال عمر: أنا شاهد ذلك، فأعطاه إياها. "أبو عبيد في الأموال، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عطا یا کی وفاداری
36030 ۔۔۔ (ایضا) سماعہ سے روایت ہے کہ تمیم داری (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ بطور جاگیردیدیں شام کی بستیاں عیون اور قلاب وہ جگہ جس میں ابراہیم (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی قبریں ہیں اس میں ان کا گھر اور علاقہ تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس درخواست پر تعجب ہوا فرمایا جب میں نماز سے فارغ ہوجاؤں تو یہ درخواست کرنا چنانچہ انھوں نے ایسا کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بطور قطع وہ زمین دیدی جب عمر (رض) کے زمانہ خلافت آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر شام کو فتح فرمادیا تو انھوں نے اس عہد نامہ پر عمل کیا۔ (ابوعبدابن عساکر)
36030- "أيضا" عن سماعة أن تميما الداري سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقطعه قريات بالشام عينون وقلاية والموضع الذي فيه قبر إبراهيم وإسحاق ويعقوب، قال: وكان بها ركحه 1 ووطنه، فأعجب ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إذا صليت فسلني ذلك، ففعل فأقطعه رسول الله صلى الله عليه وسلم إياهن بما فيهن، فلما كان زمن عمرو فتح الله عليه الشام أمضى ذلك لهم. "أبو عبيد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عطا یا کی وفاداری
36031 ۔۔۔ لیث بن سعد سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے تمیم کو جاگیر عطا کی اور فرمایا اس کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں چنانچہ آج تک ان کے خاندان میں باقی ہے۔ (ابوعبید ابن عساکر اعبدالرزاق)
36031- عن الليث بن سعد أن عمر أمضى ذلك لتميم وقال: ليس لك أن تبيع، قال: فبقي في يد أهل بيته إلى اليوم. "أبو عبيد، كر، عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عطا یا کی وفاداری
36032 ۔۔۔ (ایضا) ہمیں خبردی ابن عینیہ نے ان کو خبردی عمروبن دینار نے ابی جعفر سے کہ عباس بن عبد المطلب نے عمربن خطاب سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بحرین سے جاگیر عطاء کرنے کا وعدہ فرمایا تھا تو پوچھا آپ کا گواہ کون ہے ؟ بتایا مغیرہ بن شعبہ عمر (رض) نے پوچھا ان کے ساتھ دوسرا گواہ کون ہے ؟ عرض کیا ان کے ساتھ دوسرا گواہ کوئی نہیں تو عمر (رض) نے فرمایا پھر تو نہیں مل سکتا ہے عمر (رض) نے ایک گواہ کے ساتھ قسم لینے سے انکار کیا تو عباس (رض) نے کہا اللہ تعالیٰ تیری ماں کے ہونٹ کاٹ دے تو عمر (رض) نے ابن عباس (رض) سے فرمایا اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کریہاں سے اٹھا دو ۔ (عبدالرزاق)
36032- "أيضا" أنبأنا ابن عيينة أخبرني عمرو بن دينار عن أبي جعفر أن العباس بن عبد المطلب قال لعمر بن الخطاب: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقطع لي البحرين، فقال له عمر: من شهودك؟ قال: المغيرة بن شعبة، قال عمر: ومن معه؟ قال: ليس معه أحد قال عمر: فلا إذن، فأبى عمر أن يأخذ باليمين مع الشاهد، فقال له العباس: أعضك الله ببظر أمك، فقال عمر لابن عباس: يا عبد الله خذ بيد أبيك فأقمه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر (رض) کا خلیفہ مقرر کرنا
36033 ۔۔۔ شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ اگر میں سالم مولی ابی حذیفہ خلیفہ مقرر کروں تو اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے سولا کرے کہ اس کو کیوں خلیفہ بنایا تو میں عرض کرونگا اے رب میں تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دلی محبت کرتا ہے اگر میں معاذبن جبل کو خلیفہ مقرر کردوں پھر اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے اس پر تو عرض کردوں گا کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرمائے ہوئے سنا ہے کہ جب علماء قیامت کے دن اللہ کے دربار میں حاضر ہوں گے تو معاذ بن جبل (رض) ان کے آگے ہوگا ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلہ پر۔ (حلیة الاولیاء)
36033- عن شهر بن حوشب قال قال عمر بن الخطاب: لو استخلفت سالما مولى أبي حذيفة فسألني عنه ربي: ما حملك على ذلك؟ لقلت: يا رب! سمعت نبيك وهو يقول: إنه يحب الله حقا من قلبه، ولو استخلفت معاذ بن جبل فسألني عنه ربي: ما حملك على ذلك؟ لقلت: يا رب سمعت نبيك محمدا صلى الله عليه وسلم يقول: إن العلماء إذا حضروا ربهم كان معاذ بن جبل بين أيديهم رتوة بحجر. "حل". وفي حديث فاطمة "أنها أقبلت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لها: ادني يا فاطمة فدنت رتوة، ثم قال لها: ادني يا فاطمة، فدنت رتوة" الرتوة وههنا: الخطوة. النهاية 2/195. ب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36034 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ میں پہلا شخص ہوں جو عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا جس وقت ان کو نیز ہ مارا گیا فرمایا ابن عباس مجھ سے تین باتیں محفوظ کرلو کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ مجھ سے مل نہیں پائیں گے۔ (1) میں نے کلالہ کی میراث کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا (2) میں نے لوگوں پر کسی کو خلیفہ نہیں بنایا (3) میرے مملوکہ تمام غلام آزاد ہیں ان سے کہا گیا کہ خلیفہ مقرر کریں تو فرمایا میں وہی کام کروں گا جو مجھ سے پہلے تجھ سے بہتر حضرات نے کیا اگر میں خلیفہ مقرر کردوں تو مجھ سے بہتر شخص صدیق اکبر نے بھی خلیفہ مقرر کردیا اگر میں خلافت کا معاملہ لوگوں پر چھوڑ دو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس معاملہ کو لوگوں پر چھوڑ دیا تھا میں نے کہا اے امیر المومنین آپ کو جنت کی بشارت ہو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی اور بہت طویل زمانہ تک اختیار کیا پھر خلیفہ مقرر ہوئے انصاف قائم کیا اور امانت کو ادا کیا تو عمر (رض) نے فرمایا تمہارا مجھے جنت کی بشارت دینا قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں اگر مجھے آسمان و زمین کے خزانہ بھی مل جائے میں اپنے سامنے کے نازل آسانی سے طے کرنے کی خاطر فدیہ میں سب دے ڈالوں گا اس سے پہلے کہ مجھے خبرمعلوم ہوجائے باقی تم نے جو مسلمانوں کا معاملہ ذکر کیا ہے میں تو اتنا چاہتاہوں کہ برابر سرا بر چھوٹ جاؤں نہ میرے ذمہ کوئی گناہ لازم ہو نہ مجھے کوئی ثواب دیا جائے باقی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کا جو ذکر ہوا ہے ہاں یہ ایک بات امید افزا ہے۔ ( عبدالرزاق ابوداؤد الطیالسی احمد وابن سعد)
36034- عن ابن عباس قال: أنا أول الناس أتي عمر حين طعن ، فقال : يا ابن عباس ! احفظ عني ثلاثا فاني أخاف أن لا يدركني الناس : إني لم أقض في الكلالة ، ولم استخلف على الناس خليفة ، وكل مملوك لي عتيق ، فقيل له : استخلف قال : أي ذلك فعلت فقد فعله من هو خير مني ، إن أستخلف فقد استخلف من هو خير مني أبو بكر ، وإن أدع الناس إلى أمرهم فقد تركه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، قلت : أبشر بالجنة يا أمير المؤمنين ! صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأطلت صحبته ثم وليت فعدلت وأديت الامانة ، فقال عمر : أما تبشيرك أياي بالجنة فوالله الذي لا إله إلا هو لو أن لي ما بين السماء والارض لافتديت به مما هو أمامي قبل أن أعلم الخبر ! وأما ما ذكرت من أمر المسلمين فو الله لوددت أني نجوت منه كفافا لا علي ولا لي وأما ما ذكرت من صحبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذاك (عب ، ط ، حم وابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36035 ۔۔۔ یحی بن ابی راشدبصری سے روایت ہے کہ عمربن خطاب نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے بیٹے جب موت کا وقت حاضر ہوجائے تو مجھے قبلہ رخ لٹا دینا اپنے دونوں گھٹنے میری پیٹھ پر داہنا ہاتھ میرے پہلو پر یارخسار پر رکھنا اور بایاں ہاتھ رخسار کے نیچے جب میری روح قبض ہوجائے میری آنکھیں بند کردینا اور میرے کفن میں میانہ روی اختیار کرنا اگر میرے لیے اللہ کے ہاں خیر ہوگی تو قبر وکوحد نظر وسیع فرمادیں گے اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو قبرکو مجھ پر اس طرح تنگ کردیں گے کہ میری پسلیاں ایک دوسری میں گھس جائیں گی میرے جنازہ کے ساتھ کوئی عورت نہ نکلے اور میرے تزکیہ کرتے ہوئے ایسے اوصاف بیان مت کرو جو مجھ میں موجود نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ میرے حالات سے خوب واقف ہیں جب میرا جنازہ لے کر نکلو تو تیز چلو کیونکہ اگر میرے لیے اللہ کے ہاں خیر ہو تو مجھے خیر کی طرف جلدی پہنچادو اگر معاملہ اس کے علاوہ ہو تو تم اپنے کندھے سے ایک بری چیز کو اتار پھینکو ۔ (ابن سعد ابن ابی الدنیافی لقبور)
(36035) عن يحيى بن أبي راشد البصري قال قال عمر بن الخطاب لابنه : يا بني ! إذا حضرتني الوفاة فاحرفني واجعل ركبتيك في صلبي وضع يدك اليمنى على جنبي أو جبيني ويدك اليسرى على ذقني فإذا قبضت فأغمضني ، واقصدوا في كفني ، فانه إن كان لي عند الله خير أوسع لي فيها مد بصري ، وإن كنت على غير ذلك ضيقها علي حتى تختلف أضلاعي ، ولا تخرج معي امرأة ، ولا تزكوني بما ليس في ، فان الله هو أعلم بي ، فإذا خرجتم بي فأسرعوا في المشي ، فانه إن كان لي عند الله خير قدمتموني إلى ما هو خير لي ، وإن كنت على غير ذلك كنتم قد ألقيتم عن رقابكم شرا تحملونه (ابن سعد وابن أبي الدنيا في القبور).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36036 ۔۔۔ قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عمربن خطاب کو جس وقت نیز ہ مارا گیا لوگ جمع ہوئے اور ان کی تعریفیں بیان کرنے لگے کچھ لوگ الوداع کہہ رہے تھے عمر (رض) نے کہا کیا تم امارت کے باوجود میری تعریف کررہے ہو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی روح قبض فرمائی وہ مجھ سے راضی تھے پھر میں ابوبکر صدیق (رض) کی صحبت میں رہا ان کی مکمل اطاعت کی پھر ابوبکر صدیق (رض) کا انتقال ہوا میں ان کا مکمل اطاعت گذار تھا مجھے سب سے زیادہ اندیشہ تمہاری اس امارت کا ہے۔ (ابن سعدابن ابی شبیہ)
(36036) عن القاسم بن محمد أن عمر بن الخطاب حين طعن جاء الناس يثنون عليه ويودعونه فقال عمر : أبالامارة تزكونني ؟ لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبض الله رسوله وهو عني راض ، ثم صحبت أبا بكر فسمعت وأطعت فتوفي أبو بكر وأنا سامع مطيع وما أصبحت أخاف على نفسي إلا إمارتكم هذه (ابن سعد ، ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36037 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم جن علاقوں پر سورج طلوع ہوتا ہے وہ پورا اگر مل جائے تو قیامت کی ہول ناکی سے ڈر کر سب فدیہ میں دے ڈالو۔ (ابن المبارک وابن سعدوابوعبید فی الغریب بیہقی فی کتاب عذاب القبر)
(36037) عن عمر قال : والله لو كان لي ما طلعت عليه الشمس لافتديت به من هول المطلع (ابن المبارك وابن سعد وأبو عبيد في الغريب ق في كتاب عذاب القبر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36038 ۔۔۔ عبداللہ بن عبیدبن عمیر سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا اس وقت عمر (رض) نے فرمایا یہ وقت ہے اگر وہ تمام زمین اور اس کے خزانے سب مجھے مل جائیں تو سب کو قیامت کے ہول ناک منظر سے بچنے کے لیے فدیہ میں دیدوں تو ابن عباس (رض) نے فرمایا اے امیر المومنین اللہ کی قسم آپ کا اسلام قبول کرنا اسلام کی مدد تھی آپ امارت اسلام کی فتح آپ نے روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا پوچھا کیا قیامت کے روز آپ اللہ تعالیٰ کے دربار میں ان باتوں کی گواہی دیں گے ابن عباس (رض) نے کہا جی ہاں عمر (رض) ان باتوں سے خوش ہوئے اور ان کو پسند کیا۔ (ابن سعد ابن عساکر)
(36038) - عن عبد الله بن عبيد بن عمير أن عمر لما طعن قال : هذا حين لو أن لي ما طلعت عليه الشمس لافتديت به من هول المطلع ! فقال له ابن العباس : يا أمير المؤمنين ! والله إن كان إسلامك لنصرا وإن كانت إمارتك لفتحا ولقد ملات الارض عدلا ! فقال : أتشهد لي بهذا عند الله يوم تلقاه ؟ فقال بن عباس : نعم ، ففرح عمر بذلك وأعجبه (ابن سعد ، كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36039 ۔۔۔ جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے کہ ہم نے عمربن خطاب سے کہا ہمیں کچھ نصیحت فرمائیں تو فرمایا اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لو کیونکہ جبتک اس کو تھامے رہو گے گمراہ نہ ہوں گے اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں مہاجرین کا خیال رکھو کیونکہ لوگوں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے وہ تعداد میں کم ہوجائیں گے اور انصار کا لحاظ رکھو کیونکہ وہ اسلام کی گھاٹی ہیں جس کی پناہ حاصل کی گئی اور اعراب کا خیال رکھو کیونکہ وہ تمہارا اصل اور بنیاد ہیں اور غلاموں کا خیال رکھو کیونکہ ان کے متعلق ہی تمہارے نبی کا عہد ہے اور وہ تمہاری اولاد کے لیے روزی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ (ابن سعد ابی شیبة)
36039 عن جارية بن قدامة السعدي قال قلنا لعمر بن الخطاب أوصنا ، فقال : عليكم بكتاب الله عزوجل فإنكم لن تضلوا ما اتبعتموه ، وأوصيكم بالمهاجرين فان الناس يكثرون وهم يقلون ، وأوصيكم بالانصار فانهم شعب الاسلام الذي لجأ إليه ، وأوصيكم بالاعراب فانها أصلكم ومادتكم ، وأوصيكم بذمتكم فانها ذمة نبيكم ورزق عيالكم (ابن سعد ، ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36040 ۔۔۔ زھری سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے اس سال کہا جس سا ل ان کو نیز ہ مارا گیا اے لوگو میں تمہیں کچھ باتیں بتلاتا ہوں جو ان کو یاد کرے ان کو وہاں تک پہنچائے جہاں اس کی سواری جاسکے اور جس کو یہ باتیں یاد نہ رہیں میں اللہ کی پناہ حاصل کرتا ہوں ایسے شخص سے جو میری طرف منسوب کرکے لوگوں کو ایسی باتیں جو میں نے نہ کہی ہوں ۔ (رواہ ابن سعد)
36040 عن الزهري قال قال عمر بن الخطاب في العام الذي طعن فيه : أيها الناس ! إني أكلمكم بالكلام فمن حفظه فليحدث به حيث انتهت به راحلته ، ومن لم يحفظه فأخرج بالله على امرئ أن يقول علي ما لم أقل (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36041 ۔۔۔ عمروبن میمون سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کو اس وقت دیکھا جب ان کو نیز ہ مارا گیا ان پر زرد رنگ کالحاف ہے انھوں زخم پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہو کر رہے گا۔ (ابن سعد ابن ابی شیبة)
36041 عن عمرو بن ميمون قال : رأيت عمر لما طعن عليه ملحفة صفراء قد وضعها على جرحه وهو يقول : (وكان أمر قدرا مقدورا) ابن سعد ، ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36042 ۔۔۔ محمد بن سیر ین سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے خواب دیکھا کہ ایک مرغے نے مجھے ایک یاد وٹونگے مارے اس کی تعبیر میں نے یہ لی کہ مجھے عجم میں یا جمی میں سے کوئی قتل کرے گا۔ (رواہ ابن سعد)
36042 عن محمد بن سيرين قال عمر : رأيت كأن ديكا نقرني نقرتين فقلت : يسوق الله إلي الشهادة ويقتلني أعجم أو أعجمي (ابن سعد).
tahqiq

তাহকীক: