কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬০৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36043 ۔۔۔ سعید بن ابی ہلال سے روایت ہے کہ ان کو خبر پہنچی ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے جمعہ کے دن خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی جس کا وہ اہل ہے پھر فرمایا کہ لوگو میں نے ایک خواب دیکھا ہے جس کی تعبیر یہی سمجھ میں آرہی ہے کہ میری موت کا وقت قریب ہے کہ میں نے دیکھا ایک سرخ مرغ نے مجھے ایک یاٹھونگے مارے میں نے اسماء بنت عمیس کے خواب بیان کیا انھوں نے تعبیر بتائی کہ ایک عجمی شخص مجھے قتل کرے گا۔ (رواہ ابن سعد)
36043 عن سعيد بن أبي هلال أنه بلغه أن عمر بن الخطاب خطب الناس يوم الجمعة فحمد الله وأثنى عليه بما هو أهله ثم قال : أما بعد أيها الناس ! إني رأيت رؤيا لا أراها إلا لحضور أجلي ، رأيت أن ديكا أحمر نقرني نقرتين فحدثتها أسماء بنت عميس فحدثتني انه يقتلني رجل من الاعاجم (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی وفات
36044 ۔۔۔ عمروبن میمون سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا میں ان کے خدمت میں حاضر ہوا مجھے نماز کی صف او ل میں حاضری ہے ان کی ہیبت مانع ہوئی کیونکہ وہ بارعب آدمی تھے لہٰذا میں دوسری صف میں کھڑا ہو عمر (رض) تکبیر تحریمہ سے پہلے صف کو دیکھتے تھے اگر کوئی شخص صف سے آگے نکلا ہوا اس کو پیچھے کرتے اور اگر کوئی پیچھے ہٹا ہوا اس کو صف میں کھڑے کے لیے درہ لگاتے تھے یہی چیز صف اول میں کھڑا ہونے سے میرے لیے مانع ہوئی عمر (رض) متوجہ ہوئے تو ابولؤلؤ نے اس کو تین نیزے مارے میں نے سنا عمر (رض) کہہ رہے ہاتھ پھیلا کر کتے کو پکڑ و اس نے مجھے قتل کردیا ہے لوگ ایک دوسرے میں گھس پڑے ہمیں عبدالرحمن بن عوف نے قرآن کی مختصر ترین سورتوں سے نماز پڑھا دی۔ انا اعطینک الکوثر ، اذاجاء نصر اللہ ان کو اٹھا کر گھر لایا گیا فرمایا اے عبداللہ بن عباس (رض) جا کر لوگوں میں آواز لگائیں کہ امیر المومنین کہہ رہے ہیں تمہارے مشورہ سے ایسا ہوا ہے لوگوں نے کہا معاذ اللہ نہ ہمیں اس کا علم ہے نہ ہمیں اس کی اطلاع ہے فرمایا میرے لیے کوئی معالج تلاش کرو ایک طبیب بلا کر لایا گیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کونسی شراب آپ کو محبوب ہے ؟ فرمایا نبیذ ان کو نبیذ پلایا گیا تو زخم کے ایک سوراخ سے نکل گیا لوگوں نے کہا یہ پیپ نکلا ہے ان کو دودھ پلاؤ تو دودھ پلایا گیا تو زخم سے نکل گیا تو طبیب نے کہا میرے خیال میں شام تک زندہ نہیں رہیں گے جو معاملات کرنا ہے کرلیں۔ تو فرمایا اے عبداللہ بن عمر میرے پاس شانہ کی وہ ہڈی لے آؤ جس میں کل میں نے دادا کی میراث کا مسئلہ لکھا ہے اگر اللہ تعالیٰ کو یہ مسئلہ جاری رکھنا منظور ہو تو جاری رکھیں گے ابن عمر (رض) نے کہا میں اس ومٹادوں گا تو فرمایا نہیں اللہ کی قسم میرے علاوہ کوئی نہیں مٹائے گا تو عمر (رض) نے اپنے ہاتھ سے مٹادیا اس میں دادا کا حصہ بھی تھا پھر فرمایا علی (رض) عثمان (رض) طلحہ (رض) زبیر (رض) عبدالرحمن بن عوف (رض) اور سعد (رض) کو بلاکر لاؤ۔ جب یہ حضرات عمر (رض) کے پاس سے نکلے تو فرمایا اگر یہ کسی بےضررشخص کو اپنا ولی بنالیں تو اللہ ان کو سیدھے راستہ پرچلائے گا تو ابن عمر (رض) نے کہا اے امیر المومنین آپ خود کیوں امیر مقرر فرما نہیں دیتے ۔ تو فرمایا میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ زندگی اور موت کے بعد دونوں حالت میں امارت کا بوجھ برداشت کروں ۔ (ابن سعد والحارث حلیة اولیاء والا لکانی فی السنة و صحیح)
36044 عن عمرو بن ميمون قال : شهدت عمر يوم طعن فما منعني أن أكون في الصف المقدم إلا هيبته وكان رجلا مهيبا فكنت في الصف الذي يليه ، وكان عمر لا يكبر حتى يستقبل الصف المقدم بوجهه ، فان رأى رجلا متقدما من الصف أو متأخرا ضربه بالدرة ، فذلك الذي منعني منه ، وأقبل عمر فعرض له أبو لؤلؤة فطعنه ثلاث طعنات ، فسمعت عمر وهو يقول هكذا بيده قد بسطها : دونكم الكلب قد قتلني ! وماج الناس بعضهم في بعض ، فصلى بنا عبد الرحمن بن عوف بأقصر سورتين في القرآن (إذا جاء نصر الله) ، (وإنا أعطيناك الكوثر) واحتمل عمر فدخل الناس عليه فقال : يا عبد الله بن عباس ! اخرج فناد في الناس ! أيها الناس ! إن أمير المؤمنين يقول : أعن ملا منكم هذا ؟ فقالوا : معاذ الله ! ما علمنا ولا اطلعنا ، فقال ادعوا لي طبيبا ، فدعي له الطبيب فقال : أي شراب أحب إليك ؟ قال : نبيذ ، فسقي نبيذا فخرج من بعض طعناته فقال الناس : هذا صديد ، اسقوه لبنا ، فسقي لبنا فخرج فقال الطبيب : ما أراك تمسي ، فما كنت فاعلا فافعل ، فقال : يا عبد الله بن عمر ! ايتني بالكتف التي كتبت فيها شأن الجد بالامس ! فلو أراد الله أن يمضي ما فيه أمضاه ، فقال له ابن عمر : أنا أكفيك محوها ، فقال : لا والله لا يمحوها أحد غيري ، فمحاها عمر بيده وكان فيها فريضة الجد ، ثم قال : ادعوا لي عليا وعثمان وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعدا ، فلما خرجوا من عنده قال عمر : إن ولوها الاجلح سلك بهم الطريق ، فقال له ابن عمر : فما يمنعك يا أمير المؤمنين : قال ؟ أكره أن أتحملها حيا وميتا (ابن سعد والحارث ، حل واللالكائي في السنة ، وصحح).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36045 ۔۔۔ سماک (رض) سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) کی جب موت کا وقت قریب ہوا تو فرمایا کہ اگر میں حنیفہ مقرر کردوں تو بھی سنت پر عمل ہوگا اگر نہ کروں تب بھی سنت پر عمل ہوار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفات پائی کوئی خلیفہ مقرر نہیں فرمایا ابوبکر (رض) نے وفات پائی خلیفہ مقرر فرمائی تو علی (رض) نے فرمایا کہ واللہ مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت پر قائم رہیں گے یہی ہوا جب عمر (رض) نے مجلس شوری قائم فرمایا عثمان بن عفان (رض) علی ابی طالب (رض) زبیر (رض) طلحہ (رض) عبدالرحمن بن عوف (رض) سعد بن ابی وقاصد (رض) اور انصار سے فرمایا کہ ان کو تین دن تک گھر میں رکھیں اگر معاملہ درست کرلیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کی گردن اڑادیں۔ (رواہ ابن سعد)
36045 عن سماك أن عمر بن الخطاب لما حضر قال : إن أستخلف فسنة ، وإن لا أستخلف فسنت ، توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يستخلف ، وتوفي أبو بكر فاستخلف ، فقال علي : فعرفت والله أنه لن يعدل بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فذاك حين جعلها عمر شورى بين عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب والزبير وطلحة وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص ، وقال للانصار : أدخلوهم بيتا ثلاثة أيام فان استقاموا وإلا فادخلوا عليهم فاضربوا أعناقهم (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36046 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا کہ اس معاملہ کو سنبھالنا اہل بدر کی ذمہ داری تھی ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہا پھر اہل احد کہ ان میں سے بھی کوئی زندہ نہیں رہا پھر مختلف جماعتوں کا نام لیا اس میں کسی غلام کا یا غلام کے بیٹے کا یا فتح کے دن مسلمان ہونے والوں کا کوئی حق نہیں۔ (رواہ ابن سعد)
36046 عن عبد الرحمن بن بزي قال قال عمر : هذا الامر في أهل بدر ما بقي منهم احد ، ثم في أهل أحد ما بقي منهم أحد ، وفي كذا وكذا وليس فيها لطليق ولا لولد طليق ولا لمسلمة الفتح شئ (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36047 ۔۔۔ حضرت ابراہیم سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے پوچھاکس کو خلیفہ بنایا جائے اگر ابوعبید ہ ہوجائے تو کیسا رہے گا ایک شخص نے کہا اے امیر المومنین آپ کو عبداللہ بن عمر (رض) یاد نہیں ؟ تو فرمایا اللہ تیرا ناس کرے اللہ کی قسم میں نے اس کا ارادہ نہیں کیا ایسے شخص کو خلیفہ بنایا جائے جو اپنی بیوی کو طلاق دینا بھی نہ جانتاہو۔ (رواہ ابن سعد)
36047 عن إبراهيم قال قال عمر : من أستخلف ؟ لو كان أبو عبيدة بن الجراح ! فقال له رجل : يا أمير المؤمنين ! فأين أنت من عبد الله بن عمر ؟ فقال : قاتلك الله ! والله ما أردت الله بهذا ! استخلف رجلا ليس يحسن يطلق امرأته (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36048 ۔۔۔ اب شباب سے روایت ہے کہ عمر (رض) بالغ قیدیوں کو مدینہ منورہ داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے یہاں تک مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ایک دفعہ کوفہ سے کط لکھا اس میں ایک لڑکے کا تذکرہ تھا وہ مدینہ منورہ داخل ہونا چاہتا ہے اس کے پاس بہت سے اوصاف ہیں اس میں لوگوں کا بڑا فائدہ ہوگا وہ لوہار بھی ہے نقش ونگاری اور بڑھئی کا کام بھی جانتا ہے عمر (رض) نے جواب لکھا اور اس لڑکے کو مدینہ منورہ بھیجنے کی اجازت مرحمت فرمائی اس پر مغیرہ (رض) نے ہر ماہ سودرھم ٹیکس عائد کیا وہ عمر (رض) کے پاس آیا اور ٹیکس زیادہ ہونے کی شکایت کی عمر (رض) نے اس لڑکے سے پوچھا تمہیں کس کس کام میں مہارت ہے ؟ اس نے کام گنوادیا عمر (رض) نے فرمایا تمہارے کام کے مقابلہ میں ٹیکس زیادہ نہیں ہے وہ ناراض ہو کر بڑ بڑا تا ہواچلا گیا عمر (رض) نے چند راتیں گذاریں اس کے بعد ایک دن وہ لڑکا وہاں سے گذرا تو اس کو بلا کر پوچھا کیا مجھ سے نہیں کہا گیا کہ تم کہتے ہو کہ اگر میں چاہوں تو ایسی ج کی بناکتاہوں جو ہوا سے چلنی والی ہو اس غلام نے غصہ سے منہ بناکر عمر (رض) کی طرف دیکھا عمر (رض) کے ساتھ جماعت تھی اس نے کہا میں آپ کے لیے ایک ایسی چکی بناؤں گا کہ لوگ اس کے متعلق باتیں کریں گے جب غلام چلا گیا تو عمر (رض) نے قوم سے فرمایا یہ غلام مجھے دھمکی دے کر گیا چند ہی دن گذرے تھے ابوداؤد ایک دود والی کنجر کو کپڑے میں لپیٹ کر اندھیرے میں مسجد کے ایک کونہ میں چھپ گیا وہ وہیں ٹھہرا رہا یہاں تک عمر (رض) لوگوں کو نماز فجر کے لیے بیدار کرنے لگے یہ ان کی عادت تھی جب اس کے قریب پہنچے کور کر ان پر حملہ آور ہوا اور خنجر سے تین زخم لگائے ایک ناف کے نیچے سے جس سے گوشت تک زخم چلا گیا یہی جان لیواثابت ہواپھر اہل مسجد کو زخمی کرنا شروع کردیا عمر (رض) کے علاوہ مزید گیا افراد کو زخمی کیا پھر خنجر سے اپنے کو ذبح کردیا عمر (رض) نے اس وقت فرمایا جب ان کا خون بہنا شروع ہوا لوگ ان پر ٹوٹ پڑے کہ عبدالرحمن بن عوف سے کہو لوگوں کو نماز پڑھا دیں پھر عمر (رض) کے زخم سے خون بہنے لگا حتی کہ ان پر غشی طاری ہوگئی ابن عباس (رض) نے کہا میں نے ان کو لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ ملکر اٹھایا اور ان کے گھر میں داخل کیا پھر عبدالرحمن بن عوف نے نماز پڑھائی ابن عباس (رض) فرماتے ہیں برابر عمر (رض) کے پاس بیٹھا رہا وہ بےہوشی میں رہے یہاں تک صبح کی روشنی خوب اچھی طرح پھیل گئی اس کے بعدہوش آیا ہمارے چہروں کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے میں نے کہا ہاں تو فرمایا جو نماز ترک کرتا ہے اس کا اسلام نامکمل ہے پھر وضو کا پانی منگوایا وضو کیا اور نماز پڑھی پھر فرمایا اے عبداللہ بن عباس نکل کر لوگوں سے معلوم کریں میرے قتل کا ذمہ دار کون ہے ؟ ابن عباس نے کہا کہ میں نے نکل کر ایک ایک کا دروازہ کھٹکھٹایا لوگ جمع ہوئے لیکن عمر (رض) کے قتل کے اسباب سے ناواقف تھے میں نے پوچھا امیر المومنین کو نیز ہ کس نے مارا لوگوں نے بتایا ابولؤلؤ اللہ کے دشمن نے جو مغیر ہ بن شعبہ کا غلام تھا میں حالات معلوم کرکے واپس پہنچا تو عمر (رض) میری طرف غور سے دیکھ رہے تھے اور خبر پوچھنے لگے میں نے کہا امیر المومنین نے مجھے خبر معلوم کرنے بھیجا تھا میں نے لوگوں سے پوچھاتو لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اللہ کا دشمن ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے نیزہ مارا آپ کے ساتھ کئی اور لوگوں کو بھی مارا پھر اس نے خود کشی کرلی تو عمر (رض) نے فرمایا الحمد اللہ تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے کسی ایسے شخص کو میرا قاتل نہیں بنایا جس کا سجد ہ اللہ کے دربار میں س کے حق میں حجت کرے عرب مجھے قتل نہیں کرسکتے کیونکہ میں ان کی نزدیک محبوب ہوں اس سے اس پر لوگ اس وقت روپڑے تو عمر (رض) نے فرمایا ہم پر مت روءی جس کونا ہو باہر جاکر روئے کیا تم لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نہیں سنا کہ میت کے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتاہی یہی وجہ ہے عبداللہ بن عمر (رض) کسی میت پر رونے والے کو نہیں چھوڑتے تھے جو بچہ ہو یا بڑا ۔ حضرت عائشہ (رض) میت پرونے کی اجازت دیتی تھی ان کو عمر (رض) کو روایت کرد ہ حدیث سنائی گئی تو انھوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر اور ابن عمر پر رحم فرمائے انھوں نے جھوٹ نہیں بولا البتہ مطلب سمجھنے میں غلطی کی اس حدیث کا شان ورد یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک میت پر گذرا ہوا جس پر گھروالے رو رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میت کے گھروالے رو رہے ہیں اور ان پر عذاب ہورہا ہے وہ ان کا گناہ کما رہا ہے۔ (رواة ابن سعد)
36048 عن ابن شهاب قال : كان عمر لا يأذن لسبي قد احتلم في دخول المدينة حتى كتب المغيرة بن شعبة وهو على الكوفة يذكر له غلاما عنده صنعا ويستأذنه أن يدخله المدينة ويقول : إن عنده أعمالا كثيرة فيها منافع للناس ، إنه حداد نقاش نجار ، فكتب إليه عمر فأذن له أن يرسل به إلى المدينة ، وضرب عليه المغيرة مائة درهم كل شهر ، فجاء إلى عمر يشتكي إليه شدة الخراج ، فقال له عمر : ماذا تحسن من العمل ؟ فذكر له الاعمال التي يحسن ، فقال له عمر : ما خراجك بكثير في كنه عملك ، فانصرف ساخطا يتذمر ، فلبث عمر ليالي ثم إن العبد مر به فدعاه فقال له : الم احدث أنك تقول : لو أشاء لصنعت رحى تطحن بالريح ؟ فالتفت العبد ساخطا عابسا إلى عمر ومع عمر رهط فقال : لاصنعن لك رحى يتحدث الناس بها ! فلما ولى العبد أقبل عمر على الرهط الذين معه فقال لهم : أوعدني العبد آنفا ، فلبث ليالي ثم اشتمل أبو لؤلؤة على خنجر ذي رأسين نصابه في وسطه فكمن في زارية من زوايا المسجد في غلس السحر ، فلم يزل هنالك حتى خرج عمر يوقظ الناس للصلاة صلاة الفجر وكان عمر يفعل ذلك ، فلما دنا منه عمر وثب عليه فطعنه ثلاث طعنات إحداهن تحت السرة وقد خرقت الصفاق وهي التي قتلته ، ثم انحاز أيضا على اهل المسجد فطعن من يليه حتى طعن سوى عمر أحد عشر رجلا ثم انتحر بخنجره فقال عمر حين أدركه النزف وانقصف الناس عليه : قولوا لعبد الرحمن بن عوف : فليصل بالناس ، ثم غلب عمر النزف حتى غشي عليه ، قال ابن عباس : فاحتملت عمر في رهط حتى أدخلته بيته ، ثم صلى بالناس عبد الرحمن فأنكر الناس صوت عبد الرحمن قال ابن عباس : فلم أزل عند عمر ولم يزل في غشية واحدة حتى أسفر الصبح ، فلما أسفر أفاق فنظر في وجوهنا فقال : أصلى الناس ؟ فقلت : نعم ، فقال : لا إسلام لمن ترك الصلاة ، ثم دعا بوضوء فتوضأ ثم صلى ، ثم قال : اخرج يا عبد الله بن عباس فسل من قتلني ؟ قال ابن عباس : فخرجت حتى فتحت باب الدار فإذا الناس مجتمعون جاهلون بخبر عمر فقلت : من طعم أمير المؤمنين ؟ فقالوا : طعنه عدو الله أبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة ، قال : فدخلت فإذا عمر يبد في النظر ويستأني خبر ما بعثني إليه ، فقلت : أرسلني أمير المؤمنين لاسأل عمن قتله ، فكلمت الناس فزعموا أنه طعنه عدو الله أبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة ثم طعن معه رهطا ثم قتل نفسه ، فقال : الحمد لله الذي لم يجعل قاتلي يحاجني عند الله بسجدة سجدها له قط ، ما كانت العرب لتقتلني أنا أحب إليها من ذلك ، قال سالم فبكى عليه القوم حين سمعوا فقال : لا تبكوا علينا ، من كان باكيا فليخرج ، ألم تسمعوا ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال : يعذب الميت ببكاء أهله عليه. فمن أجل ذلك كان عبد الله بن عمر لا يقر أن يبكى عنده على هالك من ولد ولا غيرهم ، وكانت عائشة رضى الله عنها تقيم النوح على الهالك من أهلها. فحدثت بقول عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : يرحم الله عمر وابن عمر فو الله ما كذبا ، ولكن عمر وهل إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على نوح يبكون على هالك لهم فقال : إن هؤلاء يبكون وإن صاحبهم ليعذب وكان قد اجترم ذلك (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36049 ۔۔۔ ابوالحویرث سے روایت ہے کہ جب مغیرہ بن شعبہ کا غلام آیا تو ان پر ماہانہ ایک سوبیس درھم کی ادائیگی لازم کی گئی روزانہ چار دراھم وہ بڑا خبیث تھا جب چھوٹے قیدیوں کو دیکھتا تو ان کے سروں پر ہاتھ دھرتا اور روتا اور کہتا کہ عرب نے میرے جگر کھالیاجب عمر (رض) مکہ مکرمہ سے آئے تو ابولولوہ ان کے پاس پہنچے وہ عبداللہ بن زبیر کے کندھے پر سہارالگاکر بازار کی طرف جارہے تھی سامنے جاکر کہا امیر المومنین میرے آقا مغیرہ نے مجھ پر طاقت سے زیادہ ٹیکس عائد کیا ہے عمر (رض) نے پوچھا کتنا ؟ بتایا روزانہ چار دراھم پوچھا کام کیا کرتے ہو بتایا چکی کا اور دیگر اعمال سے خاموشی اختیار کی پوچھا کتنی اجرت پر چکی بناتے ہو اس نے بتایا پوچھا کتنے میں بیچتے ہو اس نے بتایا تو عمر (رض) غنہ نے تفصیلات سن کر فرمایا تم پر ٹیکس کم ہے اپنے مولی کی طرف سے عائد کردہ ٹیکس اداکرو جب واپس جانے لگا تو عمر (رض) نے کہا کیا تم ہمارے لیے کوئی چکی نہیں بناؤ گے تو اس نے کہا میں آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا کہ شہر والے اس پر باتیں کرتے رہیں گے عمر (رض) اس کی باتوں سے ڈر گئے تو علی (رض) سے پوچھا کہ آپ اس کی باتوں کا کیا مطلب لیتے ہیں ؟ تو فرمایا امیر المومنین اس نے آپ کو دھمکی دی ہے تو عمر (رض) نے فرمایا ہمارے لیے اللہ کافی ہیں مجھے یقین ہوگیا کہ وہ اپنی بات کی انتہائی حد تک پہنچنا چاہتا ہے۔ (رواہ ابن سعد)
36049 عن أبي الحويرث قال : لما قدم غلام المغيرة بن شعبة ضرب عليه عشرين ومائة درهم كل شهر ، أربعة دراهم كل يوم ، قال : وكان خبيثا ، إذا نظر إلى السبي الصغار يأبي فيمسح رؤوسهم ويبكي ويقول : إن العرب أكلت كبدي ، فلما قدم عمر من مكة جاء أبو لؤلؤة إلى عمر يريده فوجده غاديا إلى السوق وهو متكئ على يد عبد الله بن الزبير فقال : يا أمير المؤمنين ! إن سيدي المغيرة يكلفني ما لا أطيق من الضريبة ، قال عمر : وكم كلفك ؟ قال : أربعة دراهم كل يوم ، قال : وما تعمل ؟ قال : الارحاء وسكت عن سائر أعماله ، فقال : في كم تعمل الرحى ؟ فأخبره ، قال : وبكم تبيعها ؟ فأخبره ، فقال : لقد كلفك يسيرا ، انطلق فأعط مولاك ما سألك ، فلما ولى قال عمر : ألا تجعل لنا رحى ؟ قال : بل أجعل لك رحى يتحدث بها أهل الامصار ، ففزع عمر من كلمته ، قال : وعلي معه فقال : ما تراه أراد ؟ قال : أوعدك يا أمير المؤمنين ! قال عمر : يكفيناه الله ، قد علمت أنه يريد بكلمته غورا (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36050 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابولولو نے مجھے نیزہ مارا مجھے یہی خیال ہوا کہ کتے نے حملہ کردیا۔ حتی کہ تیسرانیزہ ماردیا۔ (رواہ ابن سعد)
36050 عن أبن عمر قال : سمعت عمر يقول : لقد طعنني أبو لؤلؤة وما أظنه إلا كلبا حتى طعنني الثالثة (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36051 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) لشکر کے کمانڈروں کے نام خط لکھتے تھے کہ ہمارے پاس کسی عجمی کافر کو مت لاؤ جس پر غم کے آثار ہوں جب ابولولو نے ان کو نیز ہ ماراتوپوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا مغیرہ بن شعبہ کا غلام ہے کہا کیا میں نے منع نہیں کیا تھا کہ عجمی کافروں میں سے کسی کو ہمارے پاس مت لاؤ لیکن تم مجھ پر غالب آگئے ۔ (رواہ ابن سعد)
36051 عن ابن عمر قال : كان عمر يكتب إلى أمراء الجيوش : لا تجلبوا علينا من العلوج أحدا جرت عليه المواسي ، فلما طعنه أبو لؤلؤة قال : من هذا ؟ قالوا : غلام المغيرة بن شعبة ، قال : ألم أقل لكم : لا تجلبوا علينا من العلوج أحدا فغلبتموني (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36052 ۔۔۔ محمد بن سیر بن سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا ، لوگ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس آنے لگے تو ایک شخص سے فرمایا کہ دیکھو زخم کو اس نے ہاتھ ڈال کر دیکھا تو پوچھا کیا محسوس ہوا ؟ تو بتایا کہ آپ میرے خیال میں اتنا عرصہ زندہ رہیں گے جس میں آپ اپنی ضرورت پوری کرلیں تو فرمایا آپ ان میں سچے ہیں اور بہتر ہیں ایک شخصنے کہا واللہ مجھے امید ہے کہ آپ ہی ہال کو کبھی آگ نہیں پھوکے گی اس کی طرف دیکھا حتی کہ ہمیں اس پر رحم آیا ہم نے ان کو سہارادیا پھر فرمایا تمہارا علم اس بارے میں ناقص ہے اب فلاں کے بیٹے اکر زمین کا سارا خزانہ بھی میری ملک میں آجائے تو سب کو فدیہ میں دیدوں اس دن کی ہول ناکی سے بچنے کے لیے ۔ (واہ ابن سعد)
36052 عن محمد بن سيرين قال : لما طعن عمر جعل الناس يدخلون عليه ، فقال لرجل : انظر ، فأدخل يده فنظر ، فقال : ما وجدت ؟ فقال : إني أجده قد بقي لك من وتينك ما تقضي منه حاجتك ، قال : أنت أصدقهم وخيرهم ، فقال رجل : والله إني لارجو أن لا تمس النار جلدك أبدا ؟ فنظر إليه حتى رثينا أو أوينا له ثم قال : إن علمك بذلك يا ابن فلان لقليل ، لو أن لي ما في الارض لافتديت به من هول المطلع (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36053 ۔۔۔ شدابن اوس بن کعب سے روایت ہے کہ نبی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا جب اس کو یاد کرتے تو عمر (رض) یاد آجاتے ان کی پہلو میں ایک نبی تھا جن پر وحی آتی تھی اللہ تعالیٰ نے نبی کی طرف وحی کی کہ اس بادشاہ سے کہو کہ مجھ سے جو عہد کرنا ہے کرلو جو وصیت کرنا ہے کرلو کیونکہ تم تین دن کے بعد مرجاؤ گے نبی نے ان کو یہ خبردی جب تیسرا دن ہوا تو دیوار اور پلنگ کے درمیان بیٹھ پر اللہ تعالیٰ سے عاجزی انکساری کے ساتھ دعا کی اے اگر تیرے علم کے مطابق میں نے انصاف سے فیصلے کئے جب کسی معاملہ میں اختلاف ہوا میں نے تیری ہدایت کی پیروی کی اور میں نے ایسا ایسا کیا تو میری عمر میں برکت عطاء فرمایہاں تک میرا لڑکا بڑا ہوجائے اور میری امت کی تربیت کرے اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف وحی فرمائی کہ انھوں نے ایسا کہا ہے اور سچ بولا میں نے ان کی عمر میں پندرہ سال اضافہ کردیا ہے جس میں ان کا لڑکا بڑا ہوگا اور امت کی تربیت کرے گا جب عمر (رض) کو نیز ہ مارا گیا تو کعب (رض) نیزہ مارا گیا تو کعب (رض) نے کہا اگر عمر (رض) اپنے رب سے دعا کرے کہ ان کو اللہ تعالیٰ باقی رکھے تو عمر (رض) کو اس کی خبردی گئی انھوں نے فورا دعا کہ کہ اللہ مجھے اپنی طرف اٹھالے ایسی حالت میں کہ کسی کی طرف محتاج نہ ہوں نہ ہی کسی ملامت کا حقدار ۔ (رواہ ابن سعد)
36053 عن شداد بن أوس عن كعب قال : كان في بني إسرائيل ملك إذا ذكرناه ذكرنا عمر ، وإذا ذكرنا عمر ذكرناه ، وكان إلى جنبه نبي يوحى إليه فأوحى الله إلى النبي أن يقول له : اعهد عهدك واكتب إلي وصيتك فانك ميت إلى ثلاثة أيام ، فأخبره النبي بذلك ، فلما كان اليوم الثالث وقع بين الجدر وبين السرير ثم جأر إلى ربه فقال : اللهم إن كنت تعلم أني كنت أعدل في الحكم ، وإذا اختلفت الامور اتبعت هداك وكنت وكنت فزودني في عمري حتى يكبر طفلي وتربو أمتي ! فأوحى الله إلى النبي أنه قد قال كذا وكذا وقد صدق وقد زدته في عمره خمس عشرة سنة ، ففي ذلك ما يكبر طفله وتربو أمته ، فلما طعن عمر قال كعب : لئن سأل عمر ربه ليبقينه الله ، فأخبره بذلك عمر فقال : اللهم ! اقبضني إليك غير عاجز ولا ملوم (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36054 ۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیز ہ مارا گیا تو ان کے ساتھی ان کے کردار کی تعریف کرنے لگے تو عمر (رض) فرمایا کہ جو شخص اپنی زندگی سے دھوکا کھائے وہ واقعی دھوکا میں ہے میں تو یہی چاہتاہوں کہ دنیا سے اس طرح نکل جاؤ جس طرح اس میں داخل ہوا اللہ اگر دنیا کے تمام خزانے بھی مل جائیں تو اس کو قیامت کی ہول ناکی سے بجنے کے لیے فدیہ میں دیدوں ۔ (ابن سعد العسکری فی اموعظا)
36054 عن الشعبي قال : لما طعن عمر جعل جلساؤه يثنون عليه فقال : إن من غره عمره لمغرور ، والله لوددت أني أخرج منها كما دخلت فيها ! والله لو كان لي ما طلعت عليه الشمس لافتديت به من هول المطلع (ابن سعد والعسكري في المواعظ).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انتخاب خلیفہ کا طریقہ
36055 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے حفصہ (رض) کو وصیت کی جب ان کا انتقال ہوجائی تو آل عمر کے اکابرکو۔ (رواہ ابن سعد)
36055 عن أبن عمر أن عمر أوصى إلى حفصة ، فإذا ماتت فالى الاكابر من آل عمر (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھائی مال کی وصیت
36056 ۔۔۔ قتادہ سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے چوتھائی مال کی وصیت کی ۔ (عبدالرزاق وابن سعد)
36056 عن قتادة قال : أوصى عمر بن الخطاب بالربع (عب وابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھائی مال کی وصیت
356057 ۔۔۔ عروہ سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے اپنی وصیت پر کسی کو گواہ نہیں بتایا۔ (رواہ ابن سعد)
36057 عن عروة أن عمر بن الخطاب لم يتشهد في وصيته (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھائی مال کی وصیت
36058 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے موت کے وقت وصیت کی کہ ہر اس غلام کو آزاد کردیا جائے جو نماز پڑھتا ہوامارت کے غلاموں میں سے اگر والی اس بات کو پسند کرے کہ میرے بعد دو سال تک اس کی خدمت کرے اس کی بھی اجازت ہے۔ (رواہ ابن سعد)
36058 عن ابن عمر ان عمر اوصى عند الموت ان يعتق من كان يصلي السجدتين من رقيق الامارة ، وإن أحب الوالي بعدي أن يخدموه سنتين فذلك له (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36059 ۔۔۔ ربیعہ بن عثمان (رض) سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے وصیت کی کہ ان کے عمال کو سال بھر کے لیے قائم رکھیں تو عثمان (رض) نے ایساہی کیا۔ (رواہ ابن سعد)
36059 عن ربيعة بن عثمان أن عمر بن الخطاب أوصى أن تقر عماله سنة ، فأقرهم عثمان سنة (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36060 ۔۔۔ حضرت عامر بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے کہا کہ اگر سعد کو والی بناؤ تو بھی ٹھکم ہے ورنہ والی اس کو اپنا مشیر بنائے کیونکہ میں نے ان کو ناراضگی کی وجہ سے معزول نہیں کیا۔ (رواہ ابن سعد)
36060 عن عامر بن سعد قال : قال عمر بن الخطاب : إن وليتم سعدا فسبيل ذاك وإلا فليستشره الوالي ، فاني لم أعزله عن سخطة (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36061 ۔۔۔ عثمان بن عفان (رض) سے روایت کہ عمر (رض) کا آخری کلام یہی تھا کہ عمر اور عمر (رض) کی ماں کی ہلاکت ہے اگر اللہ میری مغفرت نہ فرمائے یہ تین مرتبہ فرمایا۔ (ابن سعد ومسدد)
36061 عن عثمان بن عفان قال : آخر كلمة قالها عمر حتى قضى : ويلي وويل أمي إن لم يغفر الله لي ! وويلي وويل أمي إن لم يغفر الله لي ! وويلي وويل أمي إن لم يغفر الله لي (ابن سعد ومسدد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36062 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیز ہ مارا گیا تو کعب (رض) آئے اور دروازہ پر رونے لگے اور کہنے لگے واللہ اگر عمر (رض) اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ ان کی موت میں تاکیر ہو تو اللہ تعالیٰ ایسا کریں گے ابن عباس (رض) اندر داخل ہوئے اور عرض کیا امیر المومنین یہ کعب (رض) دروازہ پر ہیں س طرح اس طرح کہہ رہے ہیں تو فرمایا پھر تو اللہ کی قسم بالکل ایسی دعا نہیں کروں گا عمر اور عمر کی ماں کی ہلاکت ہے اگر اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت نہ فرمائی ۔ (رواہ ابن سعد)
36062 عن ابن أبي مليكة قال : لما طعن عمر جاء كعب فجعل يبكي بالباب ويقول : والله لو أن أمير المؤمنين يقسم على الله ان يؤخره لاخره ، فدخل ابن عباس عليه فقال : يا أمير المؤمنين ! هذا كعب يقول كذا وكذا ، قال : إذن والله لا أسأله ! ثم قال : ويل لي ولامي إن لم يغفر الله لي (ابن سعد).
তাহকীক: