কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬০৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36063 ۔۔۔ مقدام ابن معد یکرب سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیز ہ مارا گیا تو حفصہ (رض) اندر آئیں اور کہا اے رسول اللہ کے صحابی اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسراے امیر المومنین تو عمر (رض) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے عبداللہ مجھے بٹھا دو جو کچھ الفاظ سن رہا ہوں میں اس پر صبر نہیں کرسکتا پھر حفصہ (رض) سے فرمایا میں آپ کو پابندکرتاہوں میرے آپ پر حق کی وجہ سے خبردار اس وقت کے بعد میری تعریف کرکے نہ رونا اس کے بغیر تمہاری آنکھیں روئیں وہ میرے اختیار میں نہیں جس میت پر بگی ایسے اوصاف بیان کرکے رویا جائے جو اس میں نہیں ہے فرشتے ضرور اس پر غصہ کرتے ہیں۔ (ابن سعد ابن منیع والحارث)
36063 عن المقدام بن معد يكرب قال : لما أصيب عمر دخلت عليه حفصة فقالت : يا صاحب رسول الله ! ويا صهر رسول الله ! ويا أمير المؤمنين ! فقال عمر لابنه : يا عبد الله ! أجلسني فلا صبر لي على ما اسمع ، فاسنده إلى صدره فقال لها : إني أحرج عليك بما لي عليك من الحق ان تندبيني بعد مجلسك هذا ، فأما عينك فلن أملكها ، إنه ليس من ميت يندب بما ليس فيه إلا الملائكة تمقته (ابن سعد وابن منيع والحارث).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36064 ۔۔۔ انس بن مالک رضی العنہ سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا تو حفصہ (رض) نے کچھ واہ یلا کیا تو اس پر عمر (رض) نے فرمایا اے حفصہ کیا تم نے نہیں سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اہل میت کے رونے سے میت کو عذاب دیاجاتا ہے راوی نے بیان کیا صہیب (رض) بھی رونے لگے تو عمر (رض) نے فرمایا اے صہیب کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میت پر رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ (ٕرواہ ابن سعد)
36064 عن انس بن مالك ان عمر بن الخطاب لما طعن عولت حفصة فقال : يا حفصة ! أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن المعول عليه يعذب ، قال : وعول صهيب فقال عمر : يا صهيب ! أما علمت ان المعول عليه يعذب (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36065 ۔۔۔ عبدالملک بن عمیر ابوبردہ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب عمر کو نیزہ مارا گیا حبیب (رض) بلند آواز سے رونے لگے تو عمر (رض) نے فرمایا کیا مجھ پر روتے ہو تو عرض کیا ہاں تو عمر (رض) نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جس پر رویا ا جائے اس کو عذاب دیاجاتاہی عبدالملک نے کہا مجھ سے موسیٰ بن طلحہ نے عائشہ (رض) سے روایت کی کہ وہ یعنی کفار کو زندوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ (رواہ ابن سعد)
36065 عن عبد الملك بن عمير عن أبي بردة عن أبيه قال : لما طعن عمر أقبل صهيب يبكي رافعا صوته فقال عمر : أعلي ؟ قال : نعم ، قال عمر : أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من يبك عليه يعذب ، قال عبد الملك : فحدثني موسى بن طلحة عن عائشة أنها قالت : أولئك يعذب أمواتهم ببكاء احيائهم تعني الكفار (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36066 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے اپنے گھر والوں کو منع کیا ان پر رونے سے ۔ (رواہ ابن سعد)
36066 عن ابن عمر أن عمر نهى اهله أن يبكوا عليه (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36067 ۔۔۔ مطلب بن عبداللہ بن حطب سے روایت ہے کہ عمر (رض) پر انہی کپڑوں میں جنازہ پڑھا گیا جن میں تین زخم لگائے گئے تھے۔ (رواہ ابن سعد)
36067 عن المطلب بن عبد الله بن حنطب أن عمر بن الخطاب صلى في ثيابه التي جرح فيها ثلاثا (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36068 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے فرمایا اے لڑکے ام المومنین کے پاس جاکر اجازت طلب کرو کہ عمر (رض) اپنے دونوں ساتھیوں کی ساتھ دفن ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے پھر واپس آکر مجھے بتلاؤ ۔ بتایا کہ ام المومنین نے اجازت کا پیغام بھیجا تو انھوں نے آدمی بگیجا پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجر ہ مبارک میں قبرکھودی گئی پھر ابن عمر (رض) کو بلایا ای بیٹے میں نے عائشہ (رض) کے پاس پیغام بھیجا تھا کہ مجھے اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت دیدیں چنانچہ انھوں نے اجازت دے دی مجھے اندیشہ ہے کہ سلطنت کے خوف سے ایسانہ کیا ہو۔ جب میرا انتقال ہوجائے تو مجھے غسل دینا اور کفن پہنانا پھر اٹھا کر عائشہ (رض) کے دروزہ پر رکھنا اور یہ کہنا کہ عمر (رض) اجزت مانگ رہا ہے کہ داخل ہوجاؤ ؟ اگر اجازت مرحمت فرمائے تو مجھے ان کے ساتھ دفن کرنا ورنہ بقیع میں دفن کرنا۔ (رواہ ابن سعد)
36068 عن ابن عمر أن عمر قال : اذهب يا غلام إلى أم المؤمنين فقل لها : إن عمر يسألك أن تأذني لي أن أدفن مع أخوي ثم ارجع إلي فأخبرني ، قال فأرسلت أن نعم قد أذنت لك ، قال فأرسل فحفر له في بيت النبي صلى الله عليه وسلم ، ثم دعا ابن عمر فقال : يا بني ! إني قد أرسلت إلى عائشة أستأذنها أن أدفن مع أخوي فأذنت لي وأنا أخشى أن يكون ذلك لمكان السلطان ، فإذا انا مت فاغسلني وكفني ثم احملني حتى تقف بي على باب عائشة فتقول : هذا عمر يستأذن ويقول : أألج ؟ فان أذنت لي فادفني معهما ، وإلا فادفني في البقيع (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36069 ۔۔۔ مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت کے لیے حضرت عائشہ (رض) کے پاس پیغام بھیجا تو انھوں نے اجازت دے دی تو عمر (رض) نے فرمایا کمرہ تنگ ہے ایک لاٹھی مانگوایا اس سے طول کا اندازہ لگایا پھر فرمایا اس کے بقدر قبرکھودو۔ (رواہ ابن سعد)
36069 عن المطلب بن عبد الله بن حنطب قال : لما أرسل عمر إلى عائشة فاستأذنها أن يدفن مع النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر ، فأذنت قال عمر : إن البيت ضيق فدعا بعصا فأتى بها فقدر طوله ثم قال : احفروا على قدر هذه (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36070 ۔۔۔ عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے وصیت کی ان کو مشک سے غسل نہ دیا جائے نہ ہی ان کو مشک کے قریب کیا جائے۔ (ابن سعد مردزی فی الجنائز)
36070 عن عبد الله بن معقل أن عمر بن الخطاب أوصى أن لا يغسلوه بمسك أو لا يقربوه مسكا (ابن سعد والمروزي في الجنائز).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمالوں کے متعلق وصیت
36071 ۔۔۔ فضیل بن عمر سے روایت ہے کہ عمر (رض) نے وصیت کی ان کے جنازہ کے ساتھ نہ آگ لے جائی جائے نہ کوئی عورت جائے نہ ان کو مشک سے حنوط لگائے ۔ (ابن سعدوالمروزی)
36071 عن الفضيل بن عمرو قال : أوصى عمر أن لا يتبع بنار ولا تتبعه امرأة ولا يحنط بمسك (ابن سعد والمروزي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے انتقال کے روز سورج گرہن
36072 ۔۔۔ عبدالرحمن بن بشار سے روایت ہے کہ میں عمر (رض) کے جنازہ میں شریک ہوا اس دن سورج گرہن ہوا تھا۔( ابونعیم)
36072 عن عبد الرحمن بن يسار قال : شهدت موت عمر ابن الخطاب فانكسفت الشمس يومئذ (أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے انتقال کے روز سورج گرہن
36073 ۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ جس وقت عمر (رض) کو نیزہ لگا مجھے بلایا اور فرمایا مجھ سے تین باتیں یاد کرلوجو میرے بارے میں ان کے متعلق گفتگو کرے وہ جھوٹا ہوگا :1 ۔ جوک ہے میں نے اپنے پیچھے کوئی غلام چھوڑا ہے اس نے جھوٹ بولا۔ 2 ۔ جوک ہے کہ میں نے کلالہ کے متعلق کوئی فیصلہ کیا اس نے بھی جھوٹ بولا۔ 3 ۔ اور جوک ہے کہ میں نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کیا ہے اس نے جھوٹ بولا۔ پھر عمر (رض) روپڑے ابن عباس (رض) نے پوچھا، رونے کا سبب کیا ہے اے امیر المومنین فرمایا مجھے آخرت کا معاملہ ڈرا رہا ہے ابن عباس (رض) نے کہا اے امیر المومنین آپ کو تین خصوصیات حاصل ہیں ان کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ آپ کو عذاب نہیں دیں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ عمر (رض) نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ عرض کیا :1 ۔ آپ جب بات کرتے ہیں سچ بولتے ہیں۔ 2 ۔ جب آپ سے رحم طلب کیا جائے آپ رحم کرتے ہیں۔ 3 ۔ جب آپ فیصلہ کرتے ہیں تو انصاف قائم رکھتے ہیں۔ تو پوچھا کیا تم اللہ تعالیٰ کے دربار میں ان باتوں کی گواہی دوگے اے ابن عباس ؟ عرض کیا ہاں۔ (رواہ ابن سعد)
36073 عن ابن عباس قال : دعاني عمر حين طعن فقال : احفظ عني ثلاث خصال ، من قال علي فيهن شيئا فقد كذب : من قال : إني تركت مملوكا فقد كذب ، ومن قال : إني قضيت في الكلالة بشئ فقد كذب ، ومن قال : إني سميت الخليفة من بعدي فقد كذب ، ثم بكى عمر ، فقال له ابن عباس : ما يبكيك يا أمير المؤمنين ؟ قال : يبكيني أمر آخرتي ، قال ابن عباس : فان فيك يا أمير المؤمنين ثلاث خصال لا يعذبك الله معهن أبدا إن شاء الله ! قال عمر : وما هن ؟ قال : إنك إذا قلت صدقت ، وإذا حكمت عدلت ، وإذا استرحست رحمت ، قال : أشتهد لي بهن عند ربي يا ابن عباس ؟ قال : نعم (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے انتقال کے روز سورج گرہن
36074 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے عمر (رض) نے وصیت کی ہے کہ جب مجھے قبر کے اندر رکھ دو تو میرے رخسار کو زمین کی طرف کھول دوتا کہ میری کھال اور میں کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ ہو۔ (ابن منیع)
36074 عن ابن عمر قال : أوصاني عمر قال : إذا وضعتني في لحدي فأفض بخدي إلى الارض حتى لا يكون بين جلدي وبين الارض شئ (ابن منيع).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے انتقال کے روز سورج گرہن
36075 ۔۔۔ عثمان بن عروہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) نے بیت المال سے اسی ہزار روپے قرض لیا تھا عبداللہ بن عمر (رض) کو بلاکر فرمایا قرض کی ادائیگی کے لیے پہلے عمرکا مال فروخت کرنا اگر اس سے قرض ادا ہوجائے تو ٹھیک ورنہ نبی عدی سے کہنا ان کے عطیہ سے پورا ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ قریش سے سوال کرنا ان کے علاوہ کسی اور سے نہ کہنا عبدالرحمن بن عوف (رض) نے کہا آپ بیت المال سے قرض کیوں نہیں لیتے تاکہ اس کو ادا کردیں تو عمر (رض) نے فرمایا معاذ اللہ تاکہ تم اور تمہارے ساتھی بعد میں یہ کہنے لگو کہ ہم نے تو اپنا حصہ عمر (رض) کے لیے چھوڑ دیا اس طرح تم مجھے دھوکا میں مبتلا کردو بھر بعد کچھ لوگ میری اتباع کرنے لگیں میں ایک ایسی بات میں پڑجاؤں اس سے کوئی نکالنے ولا نہ ہو پھر عبداللہ بن عمر (رض) سے فرمایا قرض کی ادائیگی کا ضامن بن جاؤ وہ ضامن بن گئے عمر (رض) کے دفن سے پہلے ہی عبداللہ بن عمر (رض) نے اس سلسلہ میں اپنے اوپر گواہ قائم کیا چند انصار کو ابھی دفن کے بعد ایک جمعہ بھی نہیں گذرا تھا کہ ابن عمر (رض) نے مال عثمان بن عفان (رض) کے حوالہ کیا اور مال اداکرکے بری ہونے پر گواہ قائم کیا۔ ( رواہ ابن سعد)
36075 عن عثمان بن عروة قال : كان عمر بن الخطاب قد استسلف من بيت المال ثمانين ألفا فدعا عبد الله بن عمر فقال : بع فيها أموال عمر ، فإن وفت وإلا فسل بني عدي ، فان وفت وإلا فسل قريشا ولا تعدهم ، قال عبد الرحمن بن عوف : ألا تستقرضها من بيت المال حتى تؤديها ؟ فقال عمر : معاذ الله أن تقول أنت وأصحابك بعدي : أما نحن فقد تركنا نصيبنا لعمر ، فتغروني بذلك فتتبعني تبعته وأقع في أمر لا ينجيني إلا المخرج منه ، ثم قال لعبد الله بن عمر : اضمنها ، فضمنها.
فلم يدفن عمر حتى أشهد بها ابن عمر على نفسه أهل الشورى وعدة من الانصار ، فما مضت جمعة بعد أن دفن عمر حتى حمل ابن عمر المال إلى عثمان بن عفان وأحضر الشهود على البراءة بدفع المال (ابن سعد).
فلم يدفن عمر حتى أشهد بها ابن عمر على نفسه أهل الشورى وعدة من الانصار ، فما مضت جمعة بعد أن دفن عمر حتى حمل ابن عمر المال إلى عثمان بن عفان وأحضر الشهود على البراءة بدفع المال (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابولؤلؤ کا قتل
36076 ۔۔۔ محمد بن عمرو سے روایت ہے کہ ابوسلمہ اور یحی بن عبدالرحمن بن حاطب اور چند شیوخ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب (رض) نے خواب میں دیکھا بیان کیا کہ میں نے خواب میں ایک سرخ مرغ دیکھا جس نے مجھے تین ٹھونگے مارے ناف اور عانہ کے درمیان اسماء بنت عمیرام عبداللہ بن جعفر نے کہا کہ عمر سے کہو کہ وصیت نامہ لکھوا دے وہ خواب کی تعبیر بیان کرتی تھی ان کے پاس ابولولو کافر مجوسی آیا جو مغیر ہ بن شعبہ (رض) کا غلام تھا اور کہا کہ مغیرہ نے میرے اوپر جو ٹیکس لگایا ہے وہ میری طاقت سے باہر ہے پوچھاکتنا ؟ بتایا اتنا اتنا ہے پوچھا تمہارا کیا عمل ہے بتایا چکی بناتاہوں تو فرمایا یہ ٹیکس زیادہ نہیں کیونکہ ہمارے علاقہ میں تمہارے علاوہ یہ کام کوئی نہیں جانتا ہے کیا میرے لیے کوئی چلّی نہیں بناؤ گے ؟ اس نے کہا میں آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا کہ دنیا والے سنیں گے ۔ عمر (رض) منہ حج کے لیے گئے واپسی کے موقع پر محصب میں لپٹ گئے اور اپنی جادر کو سر کے نیچے رخھاچاند کی طرف دیکھا ان کو چاند کی برابر اور حسن پر تعجب ہوا فرمایا ابتداء بہت کمزور پیدا ہوا پھر اللہ تعالیٰ مسلسل اس کو بڑھاتے رہے یہاں تک مکمل ہوگیا اور سب سے حسین ہوگیا پھر کم ہوتا رہے گا یہاں تک اسی حالت پر لوٹ آئے گا جس پر شروع میں تھا یہی حالت ہے تمام مخلوق کی پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھایا اور فرمایا اے اللہ میری رعایا بہت زیادہ ہوگئے اور اطراف عالم میں پھیل گئے مجھے اپنی طرف اٹھالے عاجزی اور ضائع کئی بغیر پھر مدینہ منورہ واپس ہوا ان سے ذکر کیا گیا کہ مقام بیداء میں ایک مسلمان عورت کا انتقال ہوا اس کو زمین پر پھینک دیا گیا لوگ وہاں سے گذرتے ہیں نہ کوئی اس کو کفن دیتا ہے نہ دفن کرتا ہے یہاں تک کلب بن بکیر لیثی کا ہاں سے گذر ہوا وہ وہاں رک گیا اس نے کفن ودفن کردیا یہ واقعہ عمر (رض) سے ذکر کیا گیا تو پوچھا وہاں سے کس کس مسلمان کا گذر ہوا ؟ لوگوں نے بتایا وہاں سے گذرنے والوں میں عبداللہ بن عم (رض) بھی تھے ان کو بلایا اور پوچھا کہ تیرا ناس کہ ایک مسلمان عورت پر تیرا گذرا ہوا جس کو راستہ کے کنارہ پر پھینکا گیا تھا تم نے اس کو نہ چھپایا کفن بھی نہیں دیاتوعرض کیا اللہ کی قسم نہ مجھے اس کا پتہ چلا نہ ہی کسی نے مجھے اس کی اطلاع دی فرمایا مچھے اندیشہ ہوا کہیں ایسا نہ ہو کہ تجھ میں خیر کا پہلو نہ ہو پوجھا اس کو کس نے کفن دیا اور دفنایا لوگوں نے بتایا کلیب بن بکیر لیثی نے فرمایا واللہ کلیب خیر حاصل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں عمر (رض) نکلے اپنے درہ کے ذریعہ لوگوں کو صبہ کی نماز کے لیے جگاتے ہوئے ابولؤلؤ کافر ان کے سامنے سے آیا اور خنجر سے ناف اور عانہ کے درمیان تین زخم لگائے کلیب بن بکیر نے اس کو نیز ہ مارا اس پر حملہ کردیا لوگوں نے ایکدوسرے کو بلایا ایک شخص نے اس پر برنس پھینکا اس کو چادر سے لپیٹ لیا عمر (رض) کو اٹھا کر گھرلایا گیا عبدالرحمن بن عوف (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھادی عمر (رض) سے کہا گیا نماز میں ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا فرمایا جو نماز کا اہتمام نہ کرے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں انھوں نے نماز پڑھی زخم سے خون بہہ رہا تھا پھر لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے لوگوں نے کہا اے امیر المومنین آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہمیں اللہ کی ذات سے امید ہے آپ کی موت کو موخرکرے آپ کو ایک مدت تک کے لیے زندہ رکھے پھر ابن عباس (رض) داخل ہوئے عمر (رض) کے پسندیدہ شخص تھے ان سے فرمایا نکل کر دیکھو میرا قاتل کون ہے ؟ وہ نکلے واپس آکر بتایا امیر المومنین بشارت ہو آپ کا قاتل ابولولو مجوسی ہے جو کہ مغیرہ بن شعبہ (رض) کا غلام ہے انھوں نے اللہ اکبرکانعرہ بلند کیا یہاں تک آواز دروازہ سے باہر نکلی پھر فرمایا الحمد اللہ الذی لم یجعلہ رجلا من المسلمین یحاجنی بسجدة سجد ھ اللہ یوم القیامة پھر قوم کی طرف متوجہ ہوئے پوچھا یہ تم میں سے کس کے مشورہ سے ہوا لوگوں نے کہا معاذ اللہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ماں باپ آپ پر قربان کریں ۔ آپ کی عمر ہماری عمر سے زیادہ کردیں ۔ آپ کو کوئی زیادہ تکلیف نہیں فرمایا یرفاء مجھے پائی پلاؤ تو وہ دودھ لے کر آیا اس کو پیاتوپیٹ میں پہنچتے ہی زخموں سے باہر آگیا جب یہ حالت دیکھی ان کو یقین ہوگیا کہ اب عنقریب موت واقع ہوجائے گی تو لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے آپ ہم میں کتاب اللہ پر عمل فرمائے رہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کا اتباع کرتے رہے اس سے آپ دوسری طرف اعراض نہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے ۔ فرمایا کیا تم امارت کے ہوتے ہوئے مجھ پر غبطہ کرتے ہو اللہ کی قسم میں تو چاہتاہوں اس سے نجات پاجاؤں برابر سرابر نہ مجھ سے کوئی مواخذہ ہو نہ مجھے کچھ ملے جاکر خلافت کے معاملہ میں مشورہ کرلو اور اپنے میں سے ایک آدمی کو خلیفہ مقرر کرلو جو مخالفت کرے اس کی گردن اڑادو وہ اٹھ گئے عبداللہ بن عمررضی العنہ نے عم (رض) کو اپنے سینے کا سہارادیا ہوا تھا تو انھوں نے کہا کیا تم امیر مقرکر رہے ہو جب کہ امیر المومنین زندہ ہیں عمر (رض) نے فرمایا نہیں صہیب (رض) تین دن تک نماز پڑھائیں اور طلحہ کا انتظار کرو اور اپنے معاملہ میں مشورہ کرو تم ایک شخص کو امیر مقرر کرلو جو تمہاری مخالفت کرے اس کی گردن اڑا دو اور فرمایا عائشہ (رض) کے پاس جاؤ ان کو میرا سلام پہنچاؤ اور کہو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہوگا اور تم پر کوئی تنگی بھی نہ ہوگی میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہوں اور اگر اس سے آپ کا نقصان اور حرج ہو تو میری زندگی کی قسم کہ اس جنت البقیع میں وہ صحابہ کرام (رض) اور امہات المومنین مدفون ہیں جو عمر سے بہتر ہیں ان کے پاس قاصد پہنچا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اس سے میرا کوئی نقصان ہے نہ مجھ پر کوئی تنگی تو فرمایا مجھے ان دونوں حضرات کے ساتھ دفن کرنا عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگی میں ان کو اپنے سینہ کے ساتھ تھاما ہوا تھا پھر فرمایا اے تیرا بھلا ہو پھر میرے سر کو زمین پر رکھ دو ان پر پھر غشی طاری ہوئی دوباری میں نے اس کو محسوس کیا پھر ہوش میں ےآیا فرمایا اے تیرا بھلا ہو میرے سر کو زمین پر رکھ دو میں نے ان کا سر زمین پر رکھ دیا مٹی سے لوٹ پوٹ ہوا اور کہا عمر کی ہلاکت ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہ فرمائے یہ تین مرتبہ فرما ۔ (ابن ابی شیبہ)
36076 عن محمد بن عمرو قال : حدثنا أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب وأشياخ قالوا : رأى عمر بن الخطاب في المنام ، قال : رأيت ديكا أحمر نقرني ثلاث نقرات بين الثنة والسرة ، قالت أسماء بنت عميس أم عبد الله بن جعفر : قولوا له : فليوص وكانت تعبر الرؤيا ، فجاءه أبو لؤلؤة الكافر المجوسي عبد المغيرة ابن شعبة فقال : إن المغيرة قد حمل علي من الخراج ما لا أطيق ، قال : كم جعل عليك ؟ قال : كذا وكذا ، قال : وما عملك ؟ قال : أجوب الارحاء ، قال : وما ذاك عليك بكثير ، ليس بأرضنا أحد يعملها غيرك ، ألا تصنع لي رحى ؟ قال : بلى والله لاجعلن لك رحى يسمع بها أهل الآفاق ! فخرج عمر إلى الحج فلما صدر اضطجع بالمحصب وجعل رداءه تحت رأسه فنظر إلى القمر فأعجبه استواؤه وحسنه فقال : بدا ضعيفا ثم لم يزل الله يزيده حتى استوت فكان أحسن ما كان ، ثم هو ينقص حتى يرجع كما كان ، وكذلك الخلق كله ، ثم رفع يديه فقال : اللهم ! إن رعيتي كثرت وانتشرت فاقبضني إليك غير عاجز ولا مضيع ، فصدر إلى المديتة فذكر له أن امرأة من المسلمين ماتت بالبيداء مطروحة على الارض يمر بها الناس لا يكفنها أحد ولا يواريها أحد حتى مر بها كليب بن البكير الليثي فأقام عليها حتى كفنها وواراها ، فذكر ذلك لعمر فقال : من مر بها من المسلمين ؟ فقالوا : لقد مر عليها عبد الله بن عمر فيمن مر عليها من الناس ، فدعاه وقال : ويحك ! مررت على امرأة من المسلمين مطروحة على ظهر الطريق فلم توارها ولم تكفنها ! قال : والله ما شعرت بها ولا ذكرها لي أحد ! فقال : لقد خشيت أن لا يكون فيك خير ، فقال : من واراها وكفنها ؟ قال : كليب ابن بكير الليثي ، قال : والله لحري أن يصيب كليب خيرا ، فخرج عمر يوقظ الناس بدرته لصلاة الصبح فلقيه الكافر أبو لؤلؤة فطعنه ثلاث طعنات بين الثنة والسرة وطعن كليب بن بكير فأجهز عليه ، وتصايح الناس فرمى رجل على رأسه ببرنس ثم اضطبعه إليه ، وحمل عمر إلى الدار ، فصلى عبد الرحمن بن عوف بالناس وقيل لعمر : الصلاة وحرجه يثعب ، قال : لا حفظ لمن لا صلاة له ، فصلى ودمه يثعب ، ثم انصرف الناس عليه فقالوا : يا أمير المؤمنين ! إنه ليس بك بأس ! وإنا لنرجو أن ينسئ الله في أثرك ويؤخرك إلى حين ! فدخل عليه ابن عباس وكان يعجب به فقال : اخرج فانظر من صاحبي ؟ ثم خرج فجاء فقال : أبشر يا أمير المؤمنين ! صاحبك أبو لؤلؤة المجوسي غلام المغيرة بن شعبة ، فكبر حتى خرج صوته من الباب ، ثم قال : الحمد لله الذي لم يجعله رجلا من المسلمين يحاجني بسجدة سجدها الله يوم القيامة ، ثم أقبل على القوم فقال : أكان هذا عن ملا منكم ؟ فقالوا : معاذ الله ! والله لوددنا أنا فديناك بآبائنا وزدنا في عمرك من أعمارنا ! إنه ليس بك بأس ! فقال : أي يرفأ ! اسقني ، فجاءه بقدح فيه نبيذ حلو ، فشربه فألصق رداءه ببطنه ، فلما وقع الشراب في بطنه خرج من الطعنات فقالوا : الحمد لله ! هذا دم استكن في جوفك فأخرجه الله من جوفك ، قال : أي يرفأ ! اسقني لبنا ، فجاءه بلبن فشربه ، فلما وقع في جوفه خرج من الطعنات ، فلما رأوا ذلك علموا أنه هالك فقالوا : جزاك الله خيرا ! قد كنت تعمل فينا بكتاب الله وتتبع سنة صاحبيك ، لا تعدل عنها إلى غيرها ، جزاك الله أحسن الجزاء ! قال : أبالامارة تغبطوني ؟ فو الله لوددت أني أنجو منها كفافا لا على ولا لي ! قوموا فتشاوروا في أمركم ، أمروا عليكم رجلا منكم ، فمن خالفه فاضربوا رأسه ، فقاموا وعبد الله بن عمر مسنده إلى صدره فقال عبد الله : أتؤمرون وأمير المؤمنين حي ؟ فقال عمر : لا ، وليصل صهيب ثلاثا ، وانتظروا طلحة وتشاوروا في أمركم فأمروا عليكم رجلا منكم ، فمن خالفكم فاضربوا رأسه ، قال : اذهب إلى عائشة فاقرأ عليها مني السلام وقل : إن عمر يقول : إن كان ذلك لا يضر بك ولا يضيق عليك فاني أحب أن أدفن مع صاحبي ، وإن كان يضر بك ويضيق عليك فلعمري لقد دفن في هذا البقيع من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمهات المؤمنين من هو خير من عمر ، فجاءها الرسول فقالت : إن ذلك لا تضرني ولا يضيق علي ، قال : فادفنوني معهما ، قال عبد الله بن عمر : فجعل الموت يغشاه وأنا أمسكه إلى صدري ، قال : ويحك ! ضع رأسي بالارض ، فأخذته غشية فوجدت من ذلك فأفاق فقال : ويحك ! ضع رأسي بالارض ، فوضعت رأسه بالارض ، فعفره بالتراب وقال : ويل عمر ! ويل عمر ! إن لم يغفر الله له (ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابولؤلؤ کا قتل
36077 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیزہ لگاہم ان کے پاس گئے وہ فرما رہے تھے اس شخص کے متعلق فیصلہ کرنے میں جلدی مت کرو اگر میں زندہ بچ گیا تو اپنی رائے پر عمل کروں گا اگر انتقال کرگیا تو معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے لوگوں نے بتایا اے امیر المومنین وہ تو قتل کردیا گیا کاٹ دیا گیا فرمایا انا لللہ وانا الیہ راجعون پھر فرمایا وہ کون تھا ؟ لوگوں نے بتایا ابولولو تو فرمایا اللہ اکبر پھر اپنے بیٹے عبداللہ کی طرف دیکھا اور فرمایا اے میرے بیٹے میں تمہارا کیسا باپ تھا ؟ بتایا بہترین والد فرمایا میں تمہیں قسم دیتا ہوں مجھے نہ اٹھانا تاکہ میرے رخسار زمین سے ملصق رہے یہاں تک مجھے ایسی موت آئے جیسے غلام کو آتی ہے عبداللہ (رض) نے عرض کیا اباجان یہ معاملہ مجھ پر بہت شاق ہے پھر فرمایا اٹھ جاؤ مجھ سے مزید سوال جواب مت کرو وہ کھڑے ہوئے اٹھا کر ان کے رخسار زمین کے ساتھ لگایا پھر فرمایا اے عبداللہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں اللہ کے حق اور عمر کے حق کا جب میرا انتقال ہوجائے ۔ مجھے دفن کرنے کے بعد اپنے سر اس وقت تک نہ دھونا یہاں تک عمر گھروالوں کی زمین بیچ کر اسی ہزار بیت المال المسلمین میں جمع نہ کروا دو عبدالرحمن بن عوف جو ان کے سرہانے کھڑے تھے عرض کیا اے امیر المومنین اسی ہزار کی مقدار میں آپ نے اپنے اہل و عیال کو یا آل عمر کو نقصان پہنچایا ہے تو عمر (رض) نے فرمایا مجھ سے دور ہٹ جاؤ اے ابن عوف پھر عبداللہ کی طرف دیکھ کر فرمایا بیٹے میں نے تیس ہزار تو بارہ حج جو اپنے دور میں کئے ان میں اور جو مختلف قاصد ین میں نے شہروں کی طرف بھیجے ان پر خرچ کیا تو عبدالرحمن بن عوف نے کہا اے امیر المومنین آپ خوش ہوجائیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھیں کیونکہ ہم سے مہاجرین و انصار میں سے ہر ایک نے مال میں سے اتنا حصہ وصول کرلیا ہے جو آپ نے مال سے وصول کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا وہ آپ سے راضی تھے اور بہت سے غزوات میں آپ نے ان کے ساتھ شرکت کی فرمایا اے ابن عوف عمرتو یہی چاہتا ہے کہ دنیا سے اس طرح صاف ہو کر چلا جائے جسے آیا تھا میں چاہتاہوں اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کروں مجھ سے کسی چھوٹے بڑے حقوق کا مطالبہ نہ کرے ۔ (العدنی)
36077 عن جابر قال : لما طعن عمر دخلنا عليه وهو يقول : لا تعجلوا إلى هذا الرجل ، فان أعش رأيت فيه رأيي وإن أمت فهو إليكم ، قالوا : يا أمير المؤمنين ! إنه والله قد قتل وقطع ، قال : إنا لله وإنا إليه راجعون ، ثم قال : ويحكم من هو ؟ قالوا : أبو لؤلؤة ، قال : الله أكبر ، ثم نظر إلى ابنه عبد الله فقال : أي بني ! أي والد كنت لك ؟ قال : خير والد ، قال : فأقسم عليك لما احتملتني حتى تلصق خدي بالارض حتى أموت كما يموت العبد ، فقال عبد الله : والله إن ذلك ليشتد علي يا أبتاه ! ثم قال : قم فلا تراجعني ، فقام فاحتمله حتى ألصق خده بالارض ، ثم قال : يا عبد الله ! أقسمت عليك بحق الله وحق عمر إذا مت فدفنتني فلا تغسل رأسك حتى تبيع من رباع آل عمر ثمانين ألفا فتضعها في بيت مال المسلمين ، فقال له عبد الرحمن بن عوف وكان عند رأسه : يا أمير المؤمنين ! وما قدر هذه الثمانين ألفا فقد أضررت بعيالك أو بآل عمر ، قال : إليك عني يا ابن عوف ! فنظر إلى عبد الله فقال : يا بني ! واثنين وثلاثين ألفا أنفقتها في اثنتي عشرة حجة حججتها في ولايتي ونوائب كانت تنوبني في الرسل تأتيني من قبل الامصار ، فقال له عبد الرحمن بن عوف : يا أمير المؤمنين ! أبشر وأحسن الظن بالله فانه ليس أحد منا من المهاجرين والانصار إلا وقد قبض مثل الذي أخذت من الفئ الذي جعله الله لنا وقد قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنك راض وقد كانت لك معه سوابق ، فقال : يا ابن عوف ! ود عمر أنه لو خرج منها كما دخل فيها ، إني أود أن ألقى الله فلا تطالبوني بقليل ولا كثير (العدني).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابولؤلؤ کا قتل
36078 ۔۔۔ ابی رافع سے روایت ہے کہا ابولولوء مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا وہ چکی تیار کیا کرتا تھا مغیرہ (رض) روزانہ ان سے چار دراھم وصول کرتے تھے ۔ ابولؤلؤ نے عمر (رض) سے ملاقات کی اور کہا اے امیر المومنین مجھ پر کرایہ بڑھا دیا ہے آپ ان سے بات کریں کچھ ہلکا کرے عمر (رض) نے فرمایا اللہ تع اللہ یٰ سے ڈر اپنے آقا کے ساتھ حسن سلوک کر عمر (رض) کا ارادہ یہی تھا مغیرہ سے ملاقات کریں تخفیف کے لیے کہے لیکن اس بات سے غلام کو غصہ آیا ان کا عدل و انصاف میرے علاوہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے دل میں ارادہ کرلیا عمر (رض) کے قتل کا ایک دودھاری خنجر تیار کیا اس کو دھار لگایا پھر زہر الود کیا پھر ہرمزان کے پاس لایا اور اس سے پوچھا اس کو کیسے پاتے ہو ؟ اس نے کہا تم اس سے جس کو بھی ماروگے قتل کردوگے ابولولوء نے تیاری کی اور فجر کی نماز کے وقت آکر عمر (رض) کے پیچھے کھڑا ہوگیا ۔ عمر (رض) کی عادت مبارکہ تھی جب نماز کھڑی ہو تو فرمائے اقیمو اصفوفکم صفیں سیدھی کرلیں یہ الفاظ کہہ کر فارغ ہوئے تکبیر تحریمہ کیا تو ابولولو نے اچانک خنجر مارا ایک ناف کے نیچے ایک کندھے پر ایک کولہے پر عمر (رض) گرپڑے اور اس نے اپنے خنجر سے تیرہ آدمیوں کو زخمی کیا جن میں سات شہید ہوگئے چھ کو صف سے الگ کرلیا گیا عمر (رض) کو اٹھا کر گھرلایا گیا لوگ مضطرب تھے یہاں تک سورج طلوع ہونے کے قریب ہوگیا عبدالرحمن بن عوف (رض) نے آواز دی ۔ لوگو نماز ادا کرلو لوگ نماز کی طرف دوڑے عبدالرحمن بن عوف (رض) آگے بڑھے اور مختصر ترین سورتوں سے نماز پڑھا دی نماز سے فارغ ہو کر عمر (رض) کے پاس گئے تو پینے کی چیز منگوائی گئی تاکہ زخم کی گہرائی معلوم ہوا نبیذ لایا گیا جیسے ہی اس کو پیاز خم سے باہر نکل گیا معلوم نہ ہوسکا نبیذ ہے یا خون ؟ پھر دودھ لایا گیا وہ بھی زخم سے باہر نکل گیا لوگوں نے کہا اے امیر المومنین آپ پر کوئی حرج نہیں انھوں نے فرمایا اگر قتل میں کوئی حرج ہے تو میں قتل کردیا گیا ہوں لوگ عمر (رض) کی تعریف کرنے لگے اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے امیر المومنین آپ ایسے اچھے اوصاف کے حامل تھے پھر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کررہے تھے پھر دوسری جماعت آکر اس طرح تعریفیں کرتی رہی تو عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم تم میرے بارے میں یہ باتیں کررہے ہو میری تو خواہش یہ ہے کہ میں دنیا سے اس طرح نکل جاؤں کہ میرے ذمہ کسی کا حق باقی نہ رہے بس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کی برکت میری آخرت کے لیے باقی رہے عبداللہ بن عباس (رض) نے بات کی کہ اللہ کی قسم آپ برابر سرابر نہیں جائیں گے آپ نے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اٹھائی ہے وہ اوروں کی صحبت سے بہت برتر ہے آپ ان کے معاون و مددگار حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ صدیق اکبر (رض) کی صحبت میں رہے پھر آپ خودامیر المومنین بنے اور آپ نے امارت کے فریضہ کو انتہائی حسن و خوبی سے انجام دیا اور آپ نے ایسے ایسے عدل و انصاف قائم کئے عمر (رض) ابن عباس (رض) کی گفتگو سے سکون محسوس کررہے تھے فرمایا اے ابن عباس اپنی باتوں کا اعادہ کریں انھوں نے اعادہ کیا تو عمرنے فرمایا تم جو کچھ کہہ رہے ہو اپنی جگہ برحق ہے لیکن میرے دل کی حالت یہ ہے کہ اگر آج مجھے زمین بھر سونا بھی مل جائے اس کو میں اس دن کی ہول ناکی سے بچنے کے لیے فدیہ میں دیدوں گا میں نے چھ آدمیوں کا شوری بنایا ہے عثمان علی ، طلحہ بن عبید اللہ ، زبیر بن عوام ، عبدالرحمن بن عوف مسعد بن ابی وقاص عبداللہ بن عمر (رض) ان کے ساتھ مشیر بنایا وہ شوری کے رکن میں سے نہیں ہوں گے ان میں تین بڑے ہوں گے اور صہیب (رض) کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ (عبدالرزاق حاکم بیہقی)
36078 عن أبي رافع قال : كان أبو لؤلؤة عبدا للمغيرة ابن شعبة وكان يصنع الرحى وكان المغيرة يستغله كل يوم أربعة دراهم ، فلقي أبو لؤلؤة عمر فقال : يا أمير المؤمنين ! إن المغيرة قد أثقل علي غلتي فكلمه يخفف عني ، فقال له عمر : اتق الله وأحسن إلى مولاك ومن نية عمر أن يلقي المغيرة فيكلمه فيخفف عنه فغضب العبد وقال : وسع الناس كلهم عدله غيري ، فأضمر على قتله فاصطنع خنجرا له رأسان وشحذه وسمه ثم أتى به الهرمزان فقال : كيف ترى هذا ؟ قال : أرى أنك لا تضرب به أحدا إلا قتلته فتحين أبو لؤلؤة فجاء في صلاة الغداة حتى قام ورأى عمر وكان عمر إذا اقيمت الصلاة يتكلم فيقول : أقيموا صفوفكم ، فذهب يقول كما كان يقول : فلما كبر وجأه أبو لؤلؤة ، وجأه في كتفه ووجأه في خاصرته ، فسقط عمر ، وطعن بخنجره ثلاثة عشر رجلا ، فهلك منهم سبعة وفرق منهم ستة ، وحمل عمر فذهب به إلى منزله وماج الناس حتى كادت الشمس أن تطلع ، فنادى عبد الرحمن بن عوف يا أيها الناس ! الصلاة الصلاة ! ففزعوا إلى الصلاة ، فتقدم عبد الرحمن بن عوف فصلى بهم بأقصر سورتين في القرآن فلما قضى الصلاة توجهوا إلى عمر فدعا بشراب لينظر ما قدر جرحه فأتي بنبيذ فشربه فخرج من جرحه فلم يدر أنبيذ هو أو دم ، فدعا بلبن فشربه فخرج من جرحه ، فقالوا : لا بأس عليك يا أمير المؤمنين ! فقال : إن يكن القتل بأسا فقد قتلت ، فجعل الناس يثنون عليه يقولون : جزاك الله خيرا يا أمير المؤمنين ! كنت وكنت ! ثم ينصرون ، ويجئ قوم آخرون فيثنون عليه ، فقال عمر : أما والله على ما تقولون ، وددت أني خرجت منها كفافا لا علي ولا لي وأن صحبة رسول الله صلى الله عليه وسلم سلمت لي ، فتكلم عبد الله بن عباس فقال : لا والله لا تخرج منها كفافا ! لقد صحبت
رسول الله صلى الله عليه وسلم فصحبته خير ما صحبه صاحب ، كنت له وكنت له وكنت له حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وهو عنك راض ، ثم صحبت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ثم وليتها يا أمير المؤمنين أنت فوليتها بخير ما وليتها أنت كنت تفعل وكنت تفعل ، وكان عمر يستريح إلى كلام ابن عباس فقال : كرر علي حديثك ، فكرر عليه ، فقال عمر : أما والله على ما تقول لو أن لي طلاع الارض ذهبا لافتديت به اليوم من هول المطلع ! قد جعلتها شورى في ستة : عثمان وعلي وطلحة بن عبيد والزبير بن العوام وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص ، وجعل عبد الله بن عمر معهم مشيرا وليس هو منهم وأجلهم ثلاثا ، وأمر صهيبا أن يصلي بالناس (ع ، حب ، ك ، ق).
رسول الله صلى الله عليه وسلم فصحبته خير ما صحبه صاحب ، كنت له وكنت له وكنت له حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وهو عنك راض ، ثم صحبت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ثم وليتها يا أمير المؤمنين أنت فوليتها بخير ما وليتها أنت كنت تفعل وكنت تفعل ، وكان عمر يستريح إلى كلام ابن عباس فقال : كرر علي حديثك ، فكرر عليه ، فقال عمر : أما والله على ما تقول لو أن لي طلاع الارض ذهبا لافتديت به اليوم من هول المطلع ! قد جعلتها شورى في ستة : عثمان وعلي وطلحة بن عبيد والزبير بن العوام وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص ، وجعل عبد الله بن عمر معهم مشيرا وليس هو منهم وأجلهم ثلاثا ، وأمر صهيبا أن يصلي بالناس (ع ، حب ، ك ، ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت کے متعلق وصیت
36079 ۔۔۔ یحییٰ بن ابی راشد بصری سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کی موت کا وقت ہوا بیٹے سے فرمایا جب نزع کا وقت شروع ہوجائے تو مجھے لٹا دینا اور اپنے دونون گھنٹوں کو میری پیٹھ کے ساتھ لگانا اور دائیں ہاتھ پیشانی پر دوسرا ٹھوڑی کے نیچے۔ (المروزی)
36079 عن يحيى بن أبي راشد البصري أن عمر لما حضرته الوفاة قال لابنه : يا بني ! إذا حضرت فاحرفني واجعل ركبتيك في صلبي واجعل يدك اليمنى على جبهتي واجعل يدك الاخرى على ذقني (المروزي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت کے متعلق وصیت
36080 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے گھروالوں کو اپنے اوپر رونے سے منع فرمایا ۔ (ابولبہم فی جزء)
36080 عن ابن عمر أنه نهى أهله أن يبكوا عليه (أبو الجهم في جزئه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت کے متعلق وصیت
36081 ۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ عمر (رض) کو موت کے وقت غشی طاری ہوگئی میں نے آپ کا سر پکڑ کر اپنی گود میں رکھا افاقہ ہوا تو فرمایا میرے سر کو میرے حکم کے مطابق رکھو میں نے عرض کیا اباجان میری گود اور زمین برابر ہے تو فرمایا تیری ماں مرے میرے سر کو میرے حکم کے مطابق زمین پر رکھو جب روح نکل جائے تو قبر کی کھدائی میں جلدی کرنا قبر میرے حق میں بہتر ہوگی تو تم مجھے خیر کی طرف جلدی پہنچاؤ گے یہ شر ہوگی تو مجھے اپنے کندھے سے جلدی اتار پھینکوگے ۔ (ابن المبارک)
36081 عن ابن عمر قال : لما حضر عمر غشي عليه فأخذت رأسه فوضعته في حجري فأفاق فقال : ضع رأسي بالارض كما آمرك ، فقلت : فهل حجري والارض إلا سواء يا أبتاه ! فقال : ضع رأسي بالارض لا أم لك كما آمرك ! فإذا قبضت فأسرعوا بي إلى حفرتي ، فانما هو خير تقدموني إليه أو شر فتضعونه عن رقابكم (ابن المبارك).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬০৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت کے متعلق وصیت
36082 ۔۔۔ عثمان بن عفان (رض) سے روایت ہے کہ عمربن خطاب (رض) نے موت کے وقت فرمایا میری اور میری ماں کی ہلاکت اگر اللہ تعالیٰ میری مغفرت نہ فرمائے اسی گفتگو کے دوران انتقال کرگئے ۔ (ابن المبارک)
36082 عن عثمان بن عفان قال قال عمر بن الخطاب حين حصر : ويلي وويل أمي إن لم يغفر لي ! فقضى ما بينهما كلام (ابن المبارك وابن سعد ، كر).
তাহকীক: