কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬০৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت کے متعلق وصیت
36083 ۔۔۔ ہبیرہ بن مریم سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا ہر آنے والا سال تم پر گزشتہ سال سے برا ہوگا لوگوں نے کہا کیا اس سال گزشتہ سال سے زیادہ تروتازگی نہیں ہے ؟ فرمایا میری مراد یہ نہیں ہے میری مراد یہ ہے کہ علماء ختم ہوجائیں گے میرا خیال یہ ہے کہ عمر (رض) کے انتقال سے تہائی علم چلا گیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
36083 عن هيبرة بن مريم أن عبد الله بن مسعود قال : لا يأتي عليكم عام إلا شر من العام الذي مضى ، قالوا : أليس يكون العام أخصب من العام ؟ قال : ليس ذلك أعني ، قال : انما أعني ذهاب العلماء ، قال : وأظن عمر بن الخطاب يوم أصيب ذهب معه ثلث العلم (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت کے متعلق وصیت
36084 ۔۔۔ (مسند علی (رض) ابی مطہر سے روایت ہے کہ میں نے علی (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں عمر (رض) کے پاس اس وقت حاضر ہوا جب ابولولو نے ان کو نیزہ مارا وہ رو رہے تھے میں نے کہا آپ کو کیا چیز رلارہی ہے اے امیر المومنین تو انھوں نے فرمایا مجھے آسمانی خبر نے رلایا ہے کہ کیا مجھے جنت میں لے جایا جائے گا یا جہنم میں نے کہا تم کو جنت کی بشارت ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بارہا سنا ہے کہ فرماتے تھے جنت کے بوڑھوں کے سردار ابوبکر (رض) عمر (رض) ہیں ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں پوچھا اے علی کیا تم میرے لیے جنت کی بشارت پر گواہ ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں پھر فرمایا گواہ رہو کہ اپنے والد کے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ عمر (رض) اہل جنت میں سے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36084 (مسند علي) عن أبي مطر قال : سمعت عليا يقول : دخلت على عمر بن الخطاب حين وجأه أبو لؤلؤة وهو يبكي فقلت : ما يبكيك يا أمير المؤمنين ! قال : أبكاني خبر السماء أيذهب بي إلى الجنة أم إلى النار ؟ فقلت له أبشر بالجنة ؟ فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما لا أحصيه يقول : سيدا كهول أهل الجنة أبو بكر وعمر وأنعما ، فقال : أشاهد أنت لي يا علي بالجنة ؟ قلت : نعم ، وأنت يا حسن فاشهد على أبيك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن عمر من أهل الجنة (كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت کے متعلق وصیت
36085 ۔۔۔ (ایضا) اوفی بن حکیم سے روایت ہے کہ عمر (رض) کی شہادت کے دن میں نے کہا میں ضرورعلی (رض) کے پاس جاؤں گا میں علی (رض) کے دروازے پر آیا تو دیکھالوگ ان کا انتظار کررہے تھے تھوڑی دیر میں باہر تشریف لائے کچھ دیر خاموشی کے بعد سر اٹھایا پھر فرمایا اللہ ہی کے لیے عمر رضی العنہ پر رونے والی واہ عمراہ نے راہ کو سیدھا کیا عمدہ انتظام کیا واہ عمر واہ عمراہ انتقال کر گیا صاف وستھر ا واعیب لگنے سے پہلے واہ عمر علم اٹھ گیا فتنہ باقی رہ گیا اللہ اس کو ہلاک کرے جس نے فتنے کا دروازہ کھودفیا لیکن وہ ایک بات تھی جو ہوگئی واللہ ابن خطاب نے اس کے خیر کو حاصل کرلیا شر سے نجات پایا گیا ۔ (ابن النجار)
36085 (أيضا) عن أوفى بن حكيم قال : لم كان اليوم الذي هلك فيه عمر قلت : والله لآتين باب علي بن أبي طالب ! فأتيت باب علي فإذا الناس يرقبونه فما لبثت أن خرج علينا فأطم ساعة ثم رفع رأسه فقال : لله در باكية عمر قالت : واعمراه ، قوم الاود وأبد العمد ، واعمراه ! مات نقي الثوب قبل العيب ، واعمراه ! ذهب بالسنة وأبقى الفتنة ، قاتلها الله ما ذرب ! ولكنه قول أصاب والله ابن الخطاب خيرها ونجا من شرها (ابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نزع کے وقت کے متعلق وصیت
36086 ۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ میں اپنے بعد خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین اولین کے حقوق کا خیال رکھے ان کی عزت وناموس کا تحفظ کرے اور وصیت کرتا ہوں انصارکالحاظ رکھے جنہوں نے مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی مدینہ مقیم رہ کر ایمان کو ٹھکانا دیا کہ ان کے حساب کو قبول کرے سیات سے درگذر کرے اور دیگرشہر کے لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرے کیونکہ وہ اسلم کے معاون مددگار ہیں مال حاصل ہونے ذرایع ہیں اور دشمنوں کو غصہ دلانی کا سبب ہیں ان سے ان کی رضاء کے بغیر زکوۃ میں عمدہ مال نہ لیا جائے اعراب کے ساتھ بھی خیر کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ عرب کی بنیاد ہیں اور اسلام کا مادہ ہیں کہ ان سے ان کی مواشیوں کی زکوۃ وصول کرکے ان کے فقراء پر تقسیم کی جائے اس طرح وصیت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول کے ذمہ کو پورا کیا جائے کہ ان سے کئے گئے وعدہ عہد کو پورا کیا جائے اور ان کی حفاظت کے لیے لڑا جائے اور ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ (ابن ابی شیبة وابوعبیدہ فی الاموال وایویعلی ابن حبا ن بیہقی ) تم بمنہ وحسن توفیقہ طبع الجزء الثانی عشر من کتاب کنزالعمال
36086 عن عمر أنه قال : أوصي الخليفة بعدي بالمهاجرين الاولين أن يعلم لهم حقهم ويحفظ لهم حرمتهم ، وأوصيه بالانصار الذين تبوؤا الدار والايمان من قبلهم أن يقبل من محسنهم وأن يفعو عن مسيئهم ، وأوصيه بأهل الامصار خيرا فانهم ردء الاسلام وجباة الامول وغيظ العدو أن لا يؤخذ منهم إلا فضلهم عن رضاهم ، وأوصيه بالاعراب خيرا فانهم أصل العرب ومادة الاسلام أن يؤخذ من حواشي أموالهم فيرد على فقرائهم ، وأوصيه بذمة الله وذمة رسوله أن يوفي لهم بعهدهم وأن يقاتل من ورائهم ولا يكلفهم إلا طاقتهم (ش وأبو عبيد في الاموال ، ع ، ن ، حب ، ق).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٨٧۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “ عباس ترفقی نے اپنے جزء میں عثمان بن سعید جمعی، محمد بن مہاجر ابو سعید (خادم حسین) کی سند سے روایت نقل کی ہے کہ حسن فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ابوبکر (رض) سب سے افضل ہیں۔ پھر وہ شخص حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے ابوبکر ! لوگوں میں سے سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد عمر (رض) سب سے افضل ہیں۔ اس شخص نے عرض کیا : آپ کوا سکا علم کیسے ہوا آپ (رض) نے فرمایا : چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمر بن خطاب (رض) پر فرشتوں کے سامنے فخر کیا ہے اور کبریل امین نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دو مرتبہ سلام بھی پیش کیا ہے جب کہ یہ فضیلت مجھے حاصل نہیں ہے۔ (رواہ ابن عساکر قال : مرسل جب کہ یہ حدیث موصولاً بھی روایت کی گئی ہے

فائدہ :۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) پر حضرت عمر (رض) کو یہ ضروری فضیلت حاصل ہے چونکہ پوری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ امتیوں میں سب سے افضل ابوبکر (رض) ہیں پھر عمر (رض) ہیں۔
36087- "مسند الصديق رضي الله عنه" قال عباس الترقفي في جزئه حدثنا عثمان بن سعيد الحمصي ثنا محمد بن المهاجر عن أبي سعد خادم الحسن عن الحسن قال: جاء رجل إلى عمر بن الخطاب فقال: من خير الناس؟ قال: ذاك أبو بكر بعد نبي الله صلى الله عليه وسلم، ثم أتى أبا بكر بعد فقال: يا أبا بكر! من خير الناس؟ قال: ذاك عمر بن الخطاب بعد نبي الله صلى الله عليه وسلم، قال: وأني علمت ذلك؟ قال: لأن الله باهى بعمر ابن الخطاب الملائكة وأقرأه جبريل عنه السلام مرتين ولم يكن لي شيء من ذلك. "كر" وقال: مرسل وقد روي من حديث موصول.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٨٨۔۔۔ ابن عساکر نے ابوبکر بن منصور بن زریق ابوبکر خطیب ابوبکر عبد الرحمن بن عمر بن قاسم نرسی ابوبکر محمد بن عبداللہ شافعی دار قطنی یوسف بن موسیٰ بن عبداللہ مروزی سہیل بن ابراہیم جارودی ابو خطاب یحییٰ بن محمد صنعی عبد الواحد بن ابی عمر واسدی عطاء بن ابی رباح کے سلسلہ سند سے حضرت ابن عباس (رض) کی روایت نفل کی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ؟ لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : عمر بن خطاب اس شخص نے عرض کیا : آپ عمر (رض) کو اپنی ذات سے مقدم کیوں کر رہے ہیں ؟ آپ (رض) فرمایا : چند خصلتوں کی وجہ سے ہیں انھیں مقدم کررہا ہوں چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر (رض) پر فرشتوں کے سامنے فخر کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فخر نہیں کیا۔ چونکہ جبرائیل امین نے عمر (رض) کو سلام پیش کیا ہے جب کہ جبرائیل نے مجھے سلام نہیں پیش کیا : چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر (رض) کی قرآن مجید میں دو آیتوں میں تصدیق کی ہے حالانکہ میری تصدیق نہیں کی ہے۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بعض ازواج مطہرات سے ناراض ہوگئے حضرت عمر (رض) ازواج مطہرات کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے متعلق ضرور اللہ قرآن مجید میں کوئی حکم نازل فرما دے گا۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ :” عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیر امنکن “

ان کا رب تمہیں طلاق دے دے اور بدلہ میں تم سے بہتر عورتیں انھیں عطا فرما دے اور اس لیے کہ عمر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ازواج مطہرات کے پاس نیک و بد ہر طرح کا آدمی آتا ہے اگر آپ انھیں پردہ کرنے کا حکم دے دیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ ” واذا سالتموھن متاعا فاسئلوھن من وراء حجاب “ جب تم ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو، نیز اس لیے کہ عمر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ اگر مقام ابراہیم کو مصلی (نماز پڑھنے کی جگہ) قرار دے دیں۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمر (رض) کی موافقت میں یہ آیت نازل فرمائی ” واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی “ چنانچہ جب حضرت ابوبکر (رض) اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے امیر المومنین ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ابوبکر (رض) سب سے افضل ہیں جو شخص اس کے علاوہ کوئی اور اعتقاد رکھے گا اس کی سزا وہی ہے جو افتراء باندھنے والے کی سزا ہوتی ہے۔ (قال الخطیب کذا کان فی الاصل بخط الدارقطنی وقال الصبغی مضبوطا واحرجہ ابن مردویہ)
36088- ابن عساكر أنبأنا أبو بكر بن المنصور بن زريق أنبأنا أبو بكر الخطيب أنبأنا أبو بكر عبد الرحمن بن عمر بن القاسم النرسي أنبانا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي أنبأنا الدارقطني حدثنا يوسف بن موسى بن عبد الله المروزي ثنا سهيل بن إبراهيم الجارودي أبو الخطاب ثنا يحيى بن محمد الصنعي ثنا عبد الواحد بن أبي عمرو الأسدي عن عطاء بن أبي رباح عن ابن عباس قال: قام رجل إلى أبي بكر الصديق بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا خليفة رسول الله! من خير الناس؟ فقال: عمر بن الخطاب، قال: ولأي شيء قدمته على نفسك؟ قال: بخصال؛ لأن الله باهى به الملائكة ولم يباه بي، ولأن جبريل أقرأه السلام ولم يقرئني، ولأن جبريل قال: يا رسول الله! اشدد الإسلام بعمر بن الخطاب، القول ما قال عمر، ولأن الله صدقه في آيتين من كتابه ولم يصدقني، قال: عاتب النبي صلى الله عليه وسلم بعض نسائه فأتاهم عمر فقال: لتنتهين عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أو لينزلن الله فيكن كتابا، فأنزل الله {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجاً خَيْراً مِنْكُنَّ} الآية، ولأن عمر قال: يا رسول الله! إنه يدخل عليهن البر والفاجر فلو ضربت عليهن الحجاب! فأنزل الله {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} ولأن عمر قال: يا رسول الله! لو اتخذت من مقام إبراهيم مصلى، فأنزل الله {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّىً} . فلما قبض أبو بكر قام رجل إلى عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين! من خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر الصديق،فمن قال غيره فعليه ما على المفتري. "قال خط": كذا كان في الأصل بخط قط: الصبغي مضبوطا، أخرجه ابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٨٩۔۔۔ سلیمان بن احمد یعقوب بن اسحاق فخری عباس بن بکار ضبی عبد الواحد بن ابی عمر واسدی جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل شخص ! اس پر حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اچھا آپ اس طرح کہہ رہے ہیں حالانکہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ارشاد فرماتے سنا ہے : عمر سے افضل کوئی شخص نہیں جس پر سورج ضوء افشاں ہوتا ہے۔ (رواۃ الترمذی وقال : غریب لانعرفہ الا من ھذا الوجہ ولیس اسنادہ بداک القائم وراہ ابن ابی عاصم فی السنۃ والبزار والعقیلی والدار قطنی فی الافراد والحاکم وتعقب وابن عساکر وقال العقیلی فیہ عبد الرحمن ابن احنی محمد بن المنکدر لایتابع علیہ ولا یعرف الا بہ وقال البزار : لانعلمہ روی الا من ھذا الوجہ ولا نعلم حدیث عن ابن اخی محمد بن المنکدر سوی عبداللہ بن داؤد الواسطی التماد قال فی المیزان : ھو ھالک)
36089- ثنا سليمان بن أحمد ثنا يعقوب بن إسحاق المخرمي ثنا العباس بن بكار الضبي ثنا عبد الواحد بن أبي عمرو الأسدي به عن جابر بن عبد الله قال: قال عمر ذات يوم لأبي بكر: يا خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال أبو بكر: أما لئن قلت ذاك لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما طلعت الشمس على رجل خير من عمر.

"ت" وقال: غريب1 لا نعرفه إلا من هذا الوجه وليس إسناده بذاك القائم، وابن أبي عاصم في السنة والبزار، "عق، قط" في الأفراد، "ك" وتعقب، "كر"، قال عق: فيه عبد الرحمن بن أخي محمد بن المنكدر لا يتابع عليه ولا يعرف إلا به، وقال البزار: لا نعلمه روى إلا من هذا الوجه ولا نعلم حدث عن ابن أخي محمد بن المنكدر سوى عبد الله بن داود الواسطي التمار، قال في الميزان: وهو هالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٠۔۔۔ حضرت حسن بن علی (رض) حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا یکایک حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھ کر فرمایا : یہ دونوں اولین و آخرین بجز انبیاء ومرسلین کے اہل جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں اے علی ! انھیں مت خبر دو ۔ (رواہ الترمذی وخمیثمۃ فی العجابۃ وقال الترمذی غریب من ھذا ابو جہ وقد روی ھذا الحدیث عن علی من غیر ھذا ابوجہ ورواہ خیثمۃ وابن شاھین فی السنۃ من طریق الحارث علی علی ورواہ ابن ابی عاصم فی السنۃ من طریق خطاب ابی خطاب)

کلام۔۔۔ حدیث کے آخری حصے پر کلام ہے۔ دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٥٩٩٦
36090- عن الحسن بن علي عن أبيه قال: كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم إذ طلع أبو بكر وعمر فقال: هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والأخرين إلا النبيين والمرسلين، يا علي! لا تخبرهما. "ت وخيثمة في الصحابة، قال ت: غريب من هذا الوجه، وقد روي هذا الحديث عن علي من غير هذا الوجه، ورواه خيثمة وابن شاهين في السنة من طريق الحارث عن علي، ورواه ابن أبي عاصم في السنة من طريق خطاب أو أبي خطاب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩١۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ عبید اللہ بن عمری کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) کسی راستے سے گزر رہے تھے اچانک آپ (رض) نے دیکھا کہ ایک مرد کسی عورت کے ساتھ باتیں کررہا ہے آپ (رض) نے کوڑا لے کر اس شخص پر چڑھائی کردی اس شخص نے عرض کیا : اے امیر المومنین : یہ تو میری بیوی ہے چنانچہ آپ (رض) اٹھے اور چل پڑے راستے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) سے آپ (رض) کی ملاقات ہوئی اور ان سے اس واقعہ کا تذکرہ کیا : حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : آپ تو مربی (مودب) ہیں لہٰذا آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو ایک حدیث سناتا ہوں کہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک منادی آواز لگائے گا کہ اس امت کا کوئی شخص ابوبکر و عمر سے قبل نامہ اعمال اٹھانے کی جسارت نہ کرے۔ (رواہ ابن عساکر والاصبھانی فی الحجۃ وفیہ الفضل بن جبین عن داؤد بن الزبر قان وھما ضعیفان)
36091- "مسند عمر" عن عبيد الله بن عمير قال: بينما عمر يمر في الطريق إذ هو برجل يكلم امرأة فعلاه بالدرة فقال: يا أمير المؤمنين! إنما هي امرأتي، فقام فانطلق فلقي عبد الرحمن بن عوف فذكر ذلك له فقال: يا أمير المؤمنين! إنما أنت مؤدب وليس عليك شيء، وإن شئت حدثتك بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا كان يوم القيامة ينادي مناد: لا يرفعن أحد من هذه الأمة كتابه قبل أبي بكر وعمر. "كر" والأصبهاني في الحجة، وفيه الفضل بن جبير عن داود بن الزبرقان ضعيفان.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٢۔۔۔ ” مسند علی (رض) “ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) بعد از وفات) چار پائی پر رکھے ہوئے تھے اور چادر سے آپ کا جسد اطھر ڈھانپا ہوا تھا آپ (رض) کا جنازہ اٹھائے جانے سے قبل لوگ دعائیں کرتے اور نماز پڑھتے تھے یکایک حضرت علی بن ابی طالب (رض) تشریف لائے انھوں نے حضرت عمر (رض) کے لیے نزول رحمن کے کلمات کہے۔ (مثلاً فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو غریق رحمت کر ۔۔۔ ) اور پھر آپ (رض) نے فرمایا : روائے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں کہ مجھے آپ کے نامہ اعمال سے زیادہ اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملنا پسند ہو۔ بخدا مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور اپنے دونوں ساتھیوں کے س اتھ ملا دے گا چونکہ میں نے اکثر اوقات رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ابوبکر اور عمر چل بے میں ابوبکر اور عمر داخل ہوئے ہیں ابوبکر اور عمر باہر نکلے بلاشبہ اللہ تعالیٰ آپ کو ضرور ان دونوں کے ساتھ ملا دے گا۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابو عوانۃ وخشیش وابن ابی عاصم والحاکم)
36092- "مسند علي" عن ابن عباس قال: وضع عمر بن الخطاب على سريره فتكنفه2 الناس يدعون ويصلون قبل أن يرفع فإذا علي بن أبي طالب فترحم على عمر وقال: ما خلفت أحدا أحب أن ألقى الله بمثل عمله منك، وايم الله! إن كنت لأظن ليجعلنك الله مع صاحبيك، وذلك أني كنت أكثر أن أسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ذهبت أنا وأبو بكر وعمر، ودخلت أنا وأبو بكر وعمر، وخرجت أنا وأبو بكر وعمر فإن كنت لأظن ليجعلنك الله معهما. "حم، خ، "م"، "ن"، "هـ" وابن جرير وأبو عوانة وخشيش وابن أبي عاصم، "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر ہیں اور ابوبکر (رض) کے بعد عمر (رض) ہیں۔ (رواہ ابن ماجہ والعدنی وابو نعیم فی الحلیۃ)
36093- عن علي قال: خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو بكر، وخير الناس بعد أبي بكر عمر. "هـ" والعدني، "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٤۔۔۔ ” ایضا “ محمد بن حنفیہ کی روایت ہے کہ میں نے اپنے والد (حضرت علی (رض)) سے عرض کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے آپ (رض) نے فرمایا : ابوبکر (رض) میں نے عرض کیا : ان کے بعد کون افضل ہے ؟ فرمایا : عمر (رض) پھر مجھے خوف ہوا کہ میں پوچھوں کہ پھر کون افضل ہے اور وہ فرما دیں کہ عثمان (رض) افضل ہیں لہٰذا میں نے کہا : اے ابا جان پھر آپ افضل ہیں آپ (رض) نے فرمایا : میں تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں۔ (رواہ البخاری وابو داؤد وابن ابی عاصم وخشیش وابو نعیم فی الحلیۃ)
36094- "أيضا" عن محمد بن الحنيفة قال: قلت لأبي: أي الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر، قال قلت: ثم من؟ قال: ثم عمر، قال، ثم خشيت أن أقول: ثم من فيقول: عثمان، فقلت: ثم أنت يا أبت؟ قال: ما أنا إلا رجل من المسلمين. "خ، د" وابن أبي عاصم وخشيش، "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٥۔۔۔ ” ایضا “ ابو جنتری کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : خبردار ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت میں سب سے افضل ابوبکر و عمر (رض) ہیں ایک شخص نے عرض کیا : اے امیر المومنین اور آپ (رض) نے فرمایا : ہم تو اہل بیت ہیں ہمارا موازنہ کوئی نہیں کرتا۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ)
36095- "أيضا" عن أبي البحتري قال: خطب علي فقال: ألا! إن خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر، فقال رجل:وأنت يا أمير المؤمنين؟ فقال: نحن أهل البيت لا يوازينا أحد. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٦۔۔۔ ” ایضا “ زید بن وھب کی روایت ہے کہ سوید بن غفلہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، آکر عرض کیا اے امیر المومنین میں ایک جماعت کے پاس سے گزار جو ابوبکر عمر (رض) کا اچھے الفاظ میں تذکرہ نہیں کر رہے تھے چنانچہ آپ (رض) فوراً اٹھے اور منبر پر تشریف لائے اور فرمایا : قسم اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑ اور ذی روح کو پیدا فرمایا : ان دونوں حضرات سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور ان سے بغض اور ان کی مخالفت صرف بدبخت اور سرکش ہی کرتا ہے ان دونوں حضرات کی محبت قربت خداوندی کا باعث ہے اور ان سے بغض رکھنا بدبختی ہے بھلا لوگوں کو کیا ہوا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھائیوں وزیروں صاحبین قریش کے سرداروں اور مسلمانوں کے ابوین کا تذکرہ کرتے ہیں ؟ جو شخص

بری نظر سے ان تذکرہ کرے گا میں اس سے بری الذمہ ہوں اور اس پر سزا ہوگی۔ (رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ)
36096- "أيضا" عن زيد بن وهب أن سويد بن غفلة دخل على علي في إمارته فقال: يا أمير المؤمنين! إني مررت بنفر يذكرون أبا بكر وعمر بغير الذي هما له أهل، فنهض إلى المنبر فقال: والذي فلق الحبة وبرأ النسمة! لا يحبهما إلا مؤمن فاضل، ولا يبغضهما ولا يخالفهما إلا شقي مارق، فحبهما قربة وبغضهما مروق، ما بال أقوام يذكرون أخوي رسول الله صلى الله عليه وسلم ووزيريه وصاحبيه وسيدي قريش وأبوي المسلمين؟ فأنا بريء ممن يذكرهما بسوء وعليه معاقب. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٧۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص ابوبکر (رض) کو گالی دیتا اور پھر اسے کبھی بھی توبہ کی توفیق نصیب ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36097- عن علي قال: ما أرى رجلا يسب أبا بكر وعمر تتيسر له توبة أبدا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٨۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : ابوبکر وعمر (رض) اس امت میں سب سے افضل ہیں اور پھر تم میں سے جو افضل ہے اسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ (رواہ الدار قطنی فی الافراد والاصبھانی فی الحجۃ)
36098- عن علي قال: خير هذه الأمة أبو بكر وعمر، ثم الله أعلم بخياركم. "قط" في الأفراد والأصبهاني في الحجة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦٠٩٩۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد اور دادا سے حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا یکایک ایک طرف سے ابوبکر اور عمر (رض) نمودار ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اعلیٰ ! یہ دونوں گزشتہ و آئندہ انبیاء مرسلین کے علاوہ اہل جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔
36099- عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن علي بن أبي طالب قال: بينما أنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ طلع أبو بكر وعمر فقال: يا علي! هذان سيدا كهول أهل الجنة ما خلا النبيين والمرسلين ممن مضى في سالف الدهر وغابره، يا علي! لا تخبرهما بمقالتي هذه ما عاشا، قال علي: فلما ماتا حدثت الناس بذلك."العشارى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٠۔۔۔ عبد خیر کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے پہلے جنت میں کون داخل ہوگا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ابوبکر و عمر (رض) میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! کیا یہ حضرات آپ سے قبل جنت میں داخل ہوں گے ؟ فرمایا : جی ہاں قسم اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتی ہے اور جان کو پیدا کرتی ہے۔ بلاشبہ وہ دونوں حضرات جنت کے پھل کھاتے ہوں گے اس کا پانی پیتے ہوں گے اور اس کے بچھونوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے جب کہ میں غمزدہ و پریشان حساب کے لیے کھڑا ہوں گا اللہ تعالیٰ کے حضور سب سے پہلے جھگڑا لے کر جانے والے میں اور معاویہ ہوں گے۔ (رواہ العشاری والاصبھانی فی الحجۃ وابن عساکر)
36100- عن عبد خير قال: قلت لعلي بن أبي طالب: من أول الناس دخولا الجنة بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر وعمر، قلت: يا أمير المؤمنين! يدخلانها قبلك؟ قال: أي والذي فلق الحبة وبرأ النسمة! إنهما ليأكلان من ثمارها ويرويان من مائها ويتكئان على فراشها وأنا موقوف مغموم مهموم بالحساب، وإن أول من يتقدم إلى الرب في الخصومة أنا ومعاوية. العشارى والأصبهاني في الحجة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠١۔۔۔ حضرت علی رضی عنہ فرماتے ہیں : جس شخص نے حضرت ابوبکر (رض) سے محبت کی وہ قیامت کے دن حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ کھڑا ہوگا اور جہاں ابوبکر (رض) جانا چاہیں گے وہ بھی ان کے ساتھ جائے گا اور جو شخص حضرت عمر (رض) سے محبت کرے گا وہ بھی حضرت عمر (رض) کے ساتھ چلے گا جس شخص نے عثمان (رض) سے محبت کی وہ بھی ان کے ساتھ ہوگا اور جس نے ان لوگوں کے ساتھ محبت کی وہ بھی جنت میں ان کے ساتھ ہوگا (رواہ الرشاری
36101- عن علي قال: من أحب أبا بكر قام يوم القيامة مع أبي بكر وصار معه حيث يصير، ومن أحب عمر كان مع عمر حيث يصير، ومن أحب عثمان كان مع عثمان فمن أحب هؤلاء كان معهم في الجنة. العشارى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٢۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے آگے ہیں ان کے بعد ابوبکر (رض) ہیں جب کہ عمر (رض) تیسرے نمبر پر ہیں جب کہ ہمیں فتنہ نے گھیر لیا اور یہ فتنہ بدستور رہے گا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا سو جس شخص نے مجھے ابوبکر و عمر پر فضیلت دی اس پر افتراء باندھنے والے کی جد جاری کی جائے گی جو کوڑوں اور اسقاط شہادت کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ (رواہ الخطیب فی تلخیص المتشابہ)
36102- عن علي قال: سبق رسول الله صلى الله عليه وسلم وصلى أبو بكر وثلث عمر وقد خطبتنا فتنة فهو ما شاء الله، فمن فضلني على أبي بكر وعمر فعليه حد المفتري من الجلد وإسقاط الشهادة. "خط" في تلخيص المتشابه.
tahqiq

তাহকীক: