কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬১১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٣۔۔۔ ابن شہاب عبداللہ بن کثیر سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے مجھ سے فرمایا : اس امت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل ابوبکر (رض) عمر (رض) ہیں اگر میں چاہوں تو تمہارے لیے تیسرے کا بھی نام لے سکتا ہوں آپ (رض) نے فرمایا : کوئی شخص مجھے ابوبکر (رض) وعمر (رض) پر فضیلت نہ دے ورنہ میں اسے سخت کوڑے لگاؤں گا عنقریب آخری زمانے میں ایک قوم آئے گی جو بظاہر میری محبت کا دم بھرتی ہوگی اور میرے شیعان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتی ہوگی حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بدتر بندے ہوں گے جو کہ ابوبکر و عمر (رض) کو گالیاں دیتے ہوں گے چنانچہ ایک سائل آیا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اسے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عطا فرمایا ابوبکر (رض) نے بھی اسے عطا فرمایا عمر (رض) نے بھی اسے عطا فرمایا اور عثمان (رض) بھی عطا فرمایا پھر اس شخص نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کیا کہ اس عطیہ میں برکت کے لیے دعائیں فرمائیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے لیے اس میں برکت کیونکر نہیں ہوگی حالانکہ تمہیں یا تو نبی نے عطا کیا ہے یا صدیق نے عطا کیا ہے یا شہید نے عطا کیا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36103- عن ابن شهاب عن عبد الله بن كثير قال: قال لي علي بن أبي طالب: أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر: ولو شئت أن أسمي لكم الثالث لسميته، وقال: لا يفضلني أحد على أبي بكر وعمر إلا جلدته جلدا وجيعا، وسيكون في آخر الزمان قوم ينتحلون محبتنا والتشيع فينا هم شرار عباد الله الذين يشتمون أبا بكر وعمر، قال: ولقد جاء سائل فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعطاه وأعطاه أبو بكر وأعطاه عمر وأعطاه عثمان، فطلب الرجل من رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يدعو له فيما أعطوه بالبركة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف لا يبارك لك ولم يعطك إلا نبي أو صديق أو شهيد. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٤۔۔۔ سلیمان بن یزید، ھرم کی سند سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران میری ران پر تھی یکایک مسجد کے پچھلے حصہ سے ابوبکر (رض) اور عمر (رض) نمودار ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نظر عمیق سے ان کی طرف دیکھا پھر سر مبارک جھکا لیا اور میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ؟ یہ دونوں سوائے انبیاء مرسلین کے باقی تمام اولین وآخرین کے ادھیڑ اہل جنت کے سردار ہیں۔ اور یاد رکھو اس کی انھیں خبر مت دو ۔ (رواہ ابوبکر فی الغیلانیات)
36104- عن سليمان بن يزيد عن هرم عن علي قال: كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم وفخذه على فخذي إذ طلع أبو بكر وعمر من مؤخر المسجد فنظر إليهما نظرا شديدا وصوب فالتفت إلي فقال: والذي نفسي بيده! إنهما لسيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين وأنعما لا تعلمهما بذلك. أبو بكر في الغيلانيات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٥۔۔۔ زرین حبیش کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابوبکر (رض) اور عمر (رض) سوائے انبیاء ومرسلین کے باقی تمام اولین و آخرین کے ادھیڑ اہل جنت کے سردار ہیں۔ اے علی (رض) جب تک یہ زندہ رہیں اس کی خبر انھیں مت کرو۔ (رواہ ابوبکر)
36105- عن زر بن حبيش عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أبو بكر وعمر سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين، لا تخبرهما يا علي ما عاشا. "أبو بكر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٦۔۔۔ ابو معتمر کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے حضرت ابوبکر (رض) کے متعلق دریافت کیا گیا آپ (رض) نے فرمایا : یہ دونوں حضرات ان ستر (٧٠) لوگوں کی جماعت میں شامل ہوں گے جو قیامت کے دن محمد عربی (رض) کے ساتھ اللہ عزوجل کی طرف آگے بڑھیں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے ان دونوں کو اللہ تعالیٰ سے مانگا تھا جب کہ یہ دونوں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیے گئے۔ (رواہ ابن المنذر وابن ابی حاتم وحسنہ فی فضائل الصحابۃ والدینوری وابو طالب العشاری فی فضائل الصدیق وابن مردویہ)
36106- عن أبي المعتمر قال: سئل علي بن أبي طالب عن أبي بكر وعمر فقال: إنهما لفي الوفد السبعين الذين يقدمون إلى الله عز وجل يوم القيامة مع محمد صلى الله عليه وسلم، ولقد سألهما موسى فأعطيهما محمد صلى الله عليه وسلم."ابن المنذر وابن أبي حاتم وحسنه في فضائل الصحابة والدينوري وأبو طالب العشارى في فضائل الصديق وابن مردويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٧۔۔۔ علی بن حسین کی روایت ہے کہ بنی ہاشم کے ایک لڑکے نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے پوچھا جب آپ (رض) جنگ صفین سے واپس لوٹ رہے تھے۔ اے امیر المومنین میں نے جمعہ کے دن آپ کو خطبہ دیتے دنا اور آپ فرما رہے تھے یا اللہ ! ہماری اس طرح سے اصلاح فرما جس طرح تو نے خلفاء راشدین کی اصلاح فرمائی ہے ذرا یہ تو بتا دیجئے کہ خلفائے راشدین کون لوگ ہیں ؟ حضرت علی (رض) کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبانے لگیں پھر گویا ہوئے وہ ابوبکر و عمر ہیں جو کہ ائمہ ھدی شیوخ الاسلام اور رسول اللہ کے بعد مہتدی بھہما ہیں جو بھی ان کی اتباع کرے گا اسے سیدھی راہ کی ہدایت مل جائے گی جو ان کی اقتداء کرے گا وہ رشد تک پہنچ جائے گا جو شخص ان کا تمسک۔ (سہارا) کرے گا وہ حزب اللہ میں سے ہوگا جب کہ حزب اللہ۔ (اللہ کا لشکر) ہی فلاح پانے والا ہے۔ (رواہ الا الکانی وابو طالب العشاری فی فضائل الصدیق ونصر فی الحجۃ)
36107- عن علي بن حسين قال: قال فتى من بني هاشم لعلي بن أبي طالب حين انصرف من صفين: سمعتك تخطب يا أمير المؤمنين في الجمعة تقول: اللهم! أصلحنا بما أصلحت به الخلفاء الراشدين، فمن هم؟ فاغرورقت عيناه ثم قال: أبو بكر وعمر إماما الهدى وشيخا الإسلام والمهتدى بهما بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، من اتبعهما هدي إلى صراط مستقيم، ومن اقتدى بهما يرشد، ومن تمسك بهما فهو من حزب الله، وحزب الله هم المفلحون."اللالكائي وأبو طالب العشارى في فضائل الصديق ونصر في الحجة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٨۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہاں سے جو شخص نمودار ہوگا وہ اہل جنت میں سے ہے چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نمودار ہوئے ہم نے ابوبکر (رض) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت کی مبارکبادی پیش کی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : یہاں سے جو شخص نمودار ہوگا وہ بھی اہل جنت میں سے ہوگا چنانچہ حضرت عمر (رض) نمودار ہوئے ہم نے انھیں بھی مبارک بادی پیش کی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : یہاں سے جو شخص نمودار ہوگا وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔ پھر فرمایا : اگر تم چاہو تو اسے علی کرسکتے ہو۔ چنانچہ (ایک بار پھر) حضرت عمر (رض) نمودار ہوئے۔ (رواہ ابن النجار)
36108- عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطلع من تحت هذا الصور رجل من أهل الجنة، فطلع أبو بكر فهنأناه بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطلع من تحت هذا الصور رجل من أهل الجنة، فطلع عمر فهنأناه بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطلع من تحت هذا الصور رجل من أهل الجنة ثم قال: اللهم! إن شئت جعلته عليا، فطلع عمر. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٠٩۔۔۔ ” مسند حذیفہ بن الیمان “ ربعی بن حراش کی روایت ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرا ارادہ ہے کہ میں ایک قوم کو معلم بنا کر لوگوں میں بھیجوں جو انھیں سنت کی تعلیم دے جس طرح کہ عیسیٰ بن مریم نے اپنے حواریوں کو بنی اسرائیل میں بھیجا تھا کسی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : ابوبکر (رض) و عمر (رض) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے آپ انھیں لوگوں کے پاس تعلیم کے لیے نہیں بھیجتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ان سے بےنیاز نہیں ہوں چنانچہ دین کے معاملہ میں ان کا مقام ایسا ہی ہے جیسا کہ سر کا مقام جسد میں ہوتا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36109- "مسند حذيفة بن اليمان" عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد هممت أن أبعث قوما في الناس معلمين يعلمونهم السنة كما بعث عيسى ابن مريم الحواريين في بني إسرائيل، فقيل له: وأين أنت عن أبي بكر وعمر؟ ألا تبعثهما إلى الناس؟ قال: إنه لا غنى بي عنهما، إنهما من الدين كالرأس من الجسد. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٠۔۔۔ ابو اروی دوسی کہتے ہیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ابوبکر و عمر (رض) ایک طرف سے نمودار ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے مجھے ان دونوں کے ساتھ تقویت بخشی۔ (رواہ الدار قطنی فی الافراد وابن عساکر وابن النجار)
36110- عن أبي أروى الدوسي قال: كنت جالسا مع النبي صلى الله عليه وسلم فطلع أبو بكر وعمر فقال: الحمد لله الذي أيدني بكما. "قط" في الأفراد، "كر" وابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١١۔۔۔ ابو امامہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مجھے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے پلڑے میں میری امت رکھی گئی مگر میرا پلڑا جھک گیا پھر میری جگہ ابوبکر کو رکھا گیا۔ (امت کے مقابلہ میں) ان کا پلڑا بھی جھک گیا پھر عمر کو ان کی جگہ رکھا گیا اور ان کا پلڑا بھی جھک گیا۔ پھر ترازو اٹھا لیا گیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36111- عن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وضعت في كفة الميزان ووضعت أمتي في الكفة الأخرى فرجحت بهم، ثم وضع أبو بكر مكاني فرجح بهم، ثم وضع عمر مكانه فرجح بهم، ثم رفع الميزان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٢۔۔۔ حضرت ابو درداء (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے آگے آگے چل رہا تھا چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یوں آگے چلتا دیکھ کر اپنے پاس بلایا اور فرمایا اے ابودرداء ! کیا تم ان کے آگے چلتے ہو جو تم سے افضل ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون ہیں : فرمایا : ابوبکر و عمر انبیاء مرسلین کے بعد ابوبکر (رض) و عمر (رض) سے افضل کوئی شخص نہیں جس پر سورج طلوع ہوتا ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36112- عن أبي الدرداء قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من فلق1 فيه إلى أذني ورآني وأنا أمشي بين يدي أبي بكر وعمر فدعاني فقال لي: يا أبا الدرداء! أتمشي بين يدي من هو خير منك؟ فقلت: ومن هو يا رسول الله؟ فقال: أبو بكر وعمر، ما طلعت الشمس ولا غربت على أحد بعد النبين والمرسلين خير من أبي بكر وعمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٣۔۔۔ عبداللہ بن ابی اوفیٰ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں بائیں بیٹھنے کی جگہیں ابوبکر و عمر (رض) کے لیے مخصوص تھیں جب یہ دونوں حضرات موجود نہ ہوتے ان جگہوں میں کوئی نہیں بیٹھتا تھا۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام۔۔۔ حدیث پر کلام کیا گیا ہے۔ دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٤٥١٠
36113- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: كان لأبي بكر وعمر مع النبي صلى الله عليه وسلم مجلس هذا عن يمينه وهذا عن شماله، فإذا غابا لم يجلس ذلك المجلس أحد. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٤۔۔۔ عبد العزیز بن عبد المطلب اپنے والد اور دادا عبداللہ بن حنطب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک ابوبکر (رض) اور عمر (رض) نمودار ہوئے جب آپ (رض) نے ان کی طرف دیکھا تو فرمایا : یہ سماعت و بصارت کا مقام رکھتے ہیں ۔۔۔ ایک روایت میں ہے کہ : ابوبکر وعمر میرے لیے ایسا مقام رکھتے ہیں جیسا کہ کان اور آنکھیں سر میں۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36114- عن عبد العزيز بن عبد المطلب عن أبيه عن جده عبد الله بن حنطب قال: كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم إذ طلع أبو بكر وعمر، فلما نظر إليهما قال: هذان السمع والبصر - وفي لفظ: أبو بكر وعمر مني بمنزلة السمع والبصر من الرأس. أبو نعيم، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٥۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ عنہ نے فرمایا : میری بعد میری امت میں سب سے افضل ابوبکر و عمر ہیں اے علی انھیں مت خبر کرو۔ (رواہ الدیلمی)
36115- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خير أمتي من بعدي أبو بكر وعمر لا تخبرهما يا علي. "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٦۔۔۔ حضرت ابو (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت علی (رض) کا سہارا لیے ہوئے باہر تشریف لائے باہر ابوبکر (رض) و عمر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا استقبال کیا آپ (رض) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : اے علی (رض) کیا تم ان دونوں شیخیں سے محبت کرتے ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں فرمایا : ان سے محبت کرو جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ترتیب الموضاعات ٢٤٣ والموضوعات ١/٣٢٤۔
36116- عن أبي هريرة قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم متكئا على علي بن أبي طالب فاستقبله أبو بكر وعمر فقال له: يا علي أتحب هذين الشيخين! قال: نعم يا رسول الله! قال: أحبهما تدخل الجنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٧۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ماریہ قبطیہ (رض) کے ساتھ حضرت حفصہ بنت عمر (رض) کے گھر میں داخل ہوئے حضرت حفصہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ماریہ (رض) کے ساتھ دیکھا تو اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ناراضگی کا اظہار کیا آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا : مجھ پر حرام ہے کہ میں ان کے ساتھ ساتھ لگاؤں پھر فرمایا : اے حفصہ ! کیا میں تمہیں ایک بشارت نہ دوں ؟ عرض کیا : جی ہاں ضرور میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بعد امر خلافت کے متولی ابوبکر ہوں گے اور ابوبکر کے بعد تمہارے ابو (عمر (رض)) ہوں گے۔ اس خوشخبری کو پوشیدہ رکھنا۔ (رواہ ابن عساکر)
36117- عن أبي هريرة قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم بمارية القبطية بيت حفصة ابنة عمر فوجدتها معه فعاتبته في ذلك، قال:فإنها حرام علي أن أمسها، ثم قال: يا حفصة! ألا أبشرك؟ قالت: بلى بأبي أنت وأمي! قال: يلي هذا الأمر من بعدي أبو بكر، ويلي من بعد أبي بكر أبوك، اكتمي هذا علي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٨۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) و حضرت عمر (رض) سے فرمایا : کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ تم دونوں کی مثال فرشتوں میں بھی ہے اور انبیاء میں بھی ؟ اے ابوبکر فرشتوں میں تمہاری مثال میکائل جیسی ہے چنانچہ وہ رحمت لے کر نازل ہوتے ہیں انبیاء میں تمہاری مثال ابراہیم (علیہ السلام) جیسی ہے چنانچہ جب ان کی قوم نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا تو آپ نے فرمایا ” من تبعنی فانہ من ومن عصانی فانک غفور رحیم “ جس نے میری اتباع کی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی بلاشبہ تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اے عمر (رض) فرشتوں میں تمہاری مثال جبرائیل جیسی ہے جو اللہ تعالیٰ کی دشمنوں پر تنگی شدت اور عذاب نازل کرتے ہیں اور انبیاء میں تمہاری مثال نوح (علیہ السلام) جیسی ہے چنانچہ انھوں نے فرمایا : ” رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا “ اے میرے رب زمین پر کافروں کا ایک گھر بھی باقی نہ چھوڑ۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
36118- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بكر وعمر: ألا أخبركما مثلكما في الملائكة ومثلكما في الأنبياء؟ أما مثلك أنت يا أبا بكر في الملائكة كمثل ميكائيل ينزل بالرحمة، ومثلك في النبياء كمثل إبراهيم إذ كذبه قومه فصنعوا به ما صنعوا، قال: {مَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} ومثلك يا عمر في الملائكة كمثل جبريل ينزل بالبأس والشدة والنقمة من أعداء الله، ومثلك في الأنبياء كمثل نوح إذ قال: {رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّاراً} . "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١١٩۔۔۔ عطاء ابن عباس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے چار وزراء کے ذریعے میری تائید فرمائی ہے ہم نے عرض کیا وہ چار کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا : دو اہل آسمان میں سے ہیں اور وہ اہل زمین میں سے ہم نے عرض کیا : اہل آسمان میں سے یہ دو کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا : جبرائیل و میکائیل ہم نے عرض کیا اہل زمین میں سے یہ دو کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا : ابوبکر و عمر (رض)) رواہ الخطیب وابن عساکر وقالا تفرد بروایۃ محمد بن مجیب
36119- عن عطاء عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله أيدني بأربعة وزراء، قلنا: من هؤلاء الأربعة وزراء يا رسول الله! قال: اثنين من أهل السماء واثنين من أهل الأرض، قلنا: من هؤلاء الاثنين من أهل السماء؟ قال: جبريل وميكائيل، قلنا: من هؤلاء الاثنين من أهل الأرض - أومن أهل الدنيا؟ قال: أبو بكر وعمر. "خط، كر"، وقالا: تفرد بروايته محمد بن مجيب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٠۔۔۔ وہب، عطاء، لیث، مجاہد کی سند سے ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرے دو وزیر اہل آسمان میں سے ہیں اور دو وزیر اہل زمین میں سے ہیں اہل آسمان میں سے میرے وزیر جبرائیل و

میکائیل ہیں اور اہل زمین میں سے میرے وزیر ابوبکر و عمر ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : ١٩٩٧ و ضعیف الجامع : ١٩٧٢
36120- عن وهب عن عطاء عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن لي وزيرين من أهل السماء ووزيرين من أهل الأرض، فوزيراي من أهل السماء جبريل وميكائيل، ووزيراي من أهل الأرض أبو بكر وعمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢١۔۔۔ لیث مجاہد سے ابن عباس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہر نبی کے اہل آسمان اور اہل زمین میں سے دو دو وزراء ہوتے ہیں چنانچہ اہل آسمان میں سے میرے دو وزراء جبرائیل و میکائیل ہیں اور اہل عمر میں سے دو وزراء ابوبکر وعمر ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36121- عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لكل نبي وزيران من أهل السماء وأهل الأرض، فوزيراي من أهل السماء جبرئيل وميكائيل، ووزيراي من أهل الأرض أبو بكر وعمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٢۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ فرمایا : اللہ کا رسول افضل ہے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر کون افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا : جب صالحین کا شمار کیا جائے تو ابوبکر کو لے لو اس شخص نے عرض کیا : پھر کون افضل ہے ؟ ارشاد فرمایا : جب مجاہدین کا شمار کیا جائے تو عمر (رض) کو لے آؤ پھر فرمایا : میں جہاں بھی جاؤں عمر میرے ساتھ ہوتے ہیں اور میں عمر کے ساتھ ہوتا ہوں وہ جہاں بھی جائیں جس شخص نے عمر (رض) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے عمر (رض) سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (رواہ العقیلی وابن مردویہ وابن عساکر)
36122- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام إليه رجل فقال: يا رسول الله! من خير الناس؟ قال: رسول الله، قال: ثم من يا رسول الله؟ قال: إذا عد الصالحون فأت بأبي بكر، قال: ثم من! قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا عد المجاهدون فأت بعمر بن الخطاب، ثم قال: عمر معي حيث حللت وأنا مع عمر حيث حل، ومن أحب عمر فقد أحبني ومن أبغض عمر فقد أبغضني.

"عق" وابن مردويه، "كر".
tahqiq

তাহকীক: