কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬১৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٣۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو کسی ضروری کام کی خاطر بھیجنا چاہا جب کہ ابوبکر آپ کے دائیں طرف بیٹھے تھے اور عمر (رض) بائیں طرف حضرت علی (رض) نے فرمایا : آپ نے ان دونوں۔ (ابوبکر و عمر) میں سے کسی کو کیوں نہیں بھیجا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں انھیں کیسے بھیجوں حالانکہ دین کے معاملہ میں ان کا ایسا ہی مقام ہے جیسا کہ کانوں اور آنکھوں کا سر میں مقام ہے۔ (رواہ ابن النجار)
36123- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أراد أن يبعث رجلا في حاجة قد أهمته وأبو بكر عن يمينه وعمر عن يساره، فقال له علي: ما يمنعك من هذين؟ قال: كيف أبعث هذين وهما من الدين بمنزلة السمع والبصر من الرأس. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٤۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر (رض) کے درمیان چلتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا : ہم جنت میں اسی طرح داخل ہوں گے۔ (رواہ ابن النجار)
36124- عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه دخل المسجد بين أبي بكر وعمر وقال: هكذا ندخل الجنة. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٥۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) سے کہا گیا : کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) کو برا بھلا کہتے ہیں حتیٰ کہ ابوبکر (رض) و عمر (رض) کو بھی برا بھلا کہہ دیتے ہیں حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کیا تم اس سے تعجب کرتے ہو ؟ صحابہ کرام (رض) سے عمل منقطع ہوا ہے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ ان کا اجر وثواب منقطع نہ ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36125- عن جابر بن عبد الله قال: قيل لعائشة: إن ناسا يتناولون أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أنهم يتناولون أبا بكر وعمر، فقالت: أتعجبون من هذا؟ إنما قطع عنهم العمل فأحب الله أن لا يقطع عنهم الأجر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٦۔۔۔ میمون بن مہران ابن عمر (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی اہم کام کے لیے ایک شخص کو بھیجنا چاہا جب کہ ابوبکر و (رض) عمر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں اور بائیں بیٹھے تھے حضرت علی (رض) نے عرض کیا : آپ ان دو میں سے کسی کو کیوں نہیں بھیجتے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں انھیں کیسے بھیجوں حالانکہ دین میں ان کا ایسا ہی مقام ہے جیسا کہ سر میں کانوں اور آنکھوں کا ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36126- عن ميمون بن مهران عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أراد أن يرسل رجلا في حاجة مهمة وأبو بكر وعمر عن يمينه وعن يساره، فقال علي: ألا تبعث أحد هذين؟ قال: وكيف أبعث هذين وهما من هذا الدين بمنزلة السمع والبصر من الرأس. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٧۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے عرض کیا گیا کہ آپ عبداللہ بن مسعود کی اچھی تعریف کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس سے کسی چیز نے منع کیا ہے ؟ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ قرآن مجید چار اشخاص سے حاصل کرو عبداللہ بن مسعود سالم مولیٰ ابو حذیفہ ابی بن کعب اور معاذ بن جیل پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان کو لوگوں میں اسی طرح بھیجوں جس طرح کہ عیسیٰ بن مریم نے حواریوں کو بھیجا تھا صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ابوبکر (رض) و عمر (رض) کو کیوں نہیں بھیجتے، حالانکہ وہ علم و فضل میں سب سے آگے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کا میرے یہاں ایسا ہی مقام ہے جس طرح سر میں کان اور آنکھ کا ۔ (رواہ ابن عساکر)
36127- عن نافع قال: قيل لعبد الله بن عمر: إنك قد أحسنت الثناء على عبد الله بن مسعود، فقال: وما يمنعني من ذلك؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: خذوا القرآن من أربعة: من عبد الله بن مسعود وسالم مولى أبي حذيفة ومن أبي بن كعب ومن معاذ بن جبل، قال: ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد هممت أن أبعثهم في الأمم كما
بعث عيسى ابن مريم الحواريين، قالوا: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! أفلا تبعث أبا بكر وعمر فهما أعلم وأفضل؟ فقال: إني لا غنى بي عنهما، إنهما مني بمنزلة السمع والبصر وبمنزلة العينين من الرأس. "كر".
بعث عيسى ابن مريم الحواريين، قالوا: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! أفلا تبعث أبا بكر وعمر فهما أعلم وأفضل؟ فقال: إني لا غنى بي عنهما، إنهما مني بمنزلة السمع والبصر وبمنزلة العينين من الرأس. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٨۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر و حضرت عمر (رض) کے درمیان مواخات (بھائی بندے) قائم کی اسی دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک دونوں حضرات ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوئے نمودار ہوئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھ کر فرمایا : یہ دونوں سوائے انبیاء ومرسلین کے تمام اولین و آخرین ادھیڑ اہل جنت کے سردار ہیں اے علی اس کی انھیں خبر مت کرو۔ (رواہ ابن عساکر)
36128- عن ابن عمر قال: آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أبي بكر وعمر، فبينما هو قاعد إذ طلع كل واحد منهما آخذ بيد صاحبه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين إلا النبيين والمرسلين؛ لا تخبرهما يا علي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٢٩۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے قیامت کے دن بہت ساری اقوام لائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑی کی جائیں گی پھر انھیں دوزخ میں لے جانے کا حکم دیا جائے گا دیکھتے ہی دیکھتے دوزخ کے فرشتے انھیں آڑے ہاتھوں پکڑ لیں گے دوزخ کے قریب تر کر دئیے جائیں گے حتیٰ کہ مالک فرشتہ۔ (داروغہ جہنم) انھیں پکڑنے کا ارادہ کرے گا اسی دوران اللہ تعالیٰ رحمت کے فرشتوں کو حکم دے گا کہ انھیں واپس کرو فرشتے انھیں واپس کردیں گے اور وہ طویل مدت تک اللہ تعالیٰ کے سامنے رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے میرے بندو ! تمہارے گزشتہ گناہوں کی وجہ سے میں نے تمہیں دوزخ میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا اور دوزخ تمہارے اوپر واجب بھی ہوچکی تھی میں نے تمہیں واپس کیا ابوبکر و عمر سے محبت کرنے کی وجہ سے میں نے تمہارے گناہ تمہیں معاف کر دئیے۔ (رواہ ابن عساکر)
36129- عن ابن عمر قال: يؤتى بأقوام يوم القيامة فيوقفون بين يدي الله تعالى فيؤمر بهم إلى النار فإذا هم الزبانية تأخذهم وقربوا من النار وهم مالك أن يأخذهم، قال الله تعالى لملائكة الرحمة: ردوهم فيردونهم، فيقفون بين يدي الله تعالى طويلا فيقول: عبادي! أمرت بكم إلى النار بذنوب سلفت لكم واستوجبتم بها وقد ردعتكم وقد وهبت ذنوبكم لحبكم أبا بكر وعمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٠۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے آپ کے دائیں طرف ابوبکر (رض) اور بائیں طرف عمر (رض) تھے آپ نے فرمایا : قیامت کے دن ہمیں اسی طرح اٹھایا جائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
36130- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد وعن يمينه أبو بكر وعن يساره عمر فقال: هكذا نبعث يوم القيامة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣١۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر و عمر (رض) کے درمیان تشریف لائے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہماری موت بھی اس طرح ہوگی ہم دفن بھی اس طرح کیے جائیں گے اور جنت میں بھی اسی طرح داخل ہوں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
36131- عن ابن عمر قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أبي بكر وعمر ثم قال: هكذا نموت وهكذا ندفن وهكذا ندخل الجنة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٢۔۔۔ ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : آسمان میں دو فرشتے ہیں ان میں سے ایک سختی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا نرمی کا حالانکہ وہ دونوں درستی پر ہیں ایک جبرائیل ہیں اور دوسرے میکائیل ہیں اور دو انبیاء ہیں ایک نرمی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا سختی کا ان میں سے ہر ایک مصیب (درستی پر) ہے۔ چنانچہ وہ ایک ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور دوسرے نوح (علیہ السلام) ہیں میرے دو صحابہ (رض) میں ایک نرمی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا سختی کا اور وہ ابوبکر و عمر ہیں۔ (رواہ ابن عساکر) کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعف الجامع ٤٠٠٠۔
36132- عن أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: في السماء ملكان: أحدهما يأمر بالشدة والآخر يأمر باللين وكلاهما مصيب، أحدهما جبريل والآخر ميكائيل، ونبيان: أحدهما يأمر باللين والآخر يأمر بالشدة وكل مصيب - وذكر إبراهيم ونوحا، ولي صاحبان: أحدهما يأمر باللين والآخر يأمر بالشدة - وذكر أبا بكر وعمر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٣۔۔۔ عبداللہ بن یسر کندی، حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں اپنے صحابہ (رض) میں سے کچھ مردوں کو سر زمین کے مختلف بادشاہوں کی طرف بھیجوں جو انھیں اسلام کی دعوت دیں جیسا کہ عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں کو بھیجا تھا۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : آپ ابوبکر و عمر کو کیوں نہیں بھیجتے حالانکہ وہ افضل و اعلیٰ ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ان سے بےنیاز نہیں ہوں دین میں ان کا مقام ایسا ہی ہے جیسا کہ کان اور آنکھ کا مقام سر میں ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36133- عن عبد الله بن يسر الكندي عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقد هممت أن أبعث رجالا من أصحابي إلى ملوك الأرض يدعونهم إلى الإسلام كما بعث عيسى ابن مريم الحواريين، قالوا: ألا تبعث أبا بكر وعمر فهما أبلغ؟ قال: لا غنى عنهما، إنما منزلتهما من الدين بمنزلة السمع والبصر من الجسد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٤۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ بدر کی موقع پر ابوبکر (رض) و عمر (رض) سے فرمایا : اے ابوبکر فرشتوں میں تمہاری مثال میکائیل (علیہ السلام) جیسی ہے اور اے عمر فرشتوں میں تمہاری مثال جبرائیل جیسی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36134- عن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر لأبي بكر وعمر: مثلك يا أبا بكر في الملائكة مثل ميكائيل، ومثلك يا عمر في الملائكة مثل جبريل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٥۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کونے سے تمہارے اوپر ایک شخص نمودار ہوگا جو اہل جنت میں سے ہوگا۔ چنانچہ ابوبکر (رض) نمودار ہوئے پھر فرمایا : اس کونے سے ایک شخص جو اہل جنت میں سے ہوگا تمہارے اوپر نمودار ہوگا چنانچہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نمودار ہوئے۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
36135- عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يطلع عليكم من هذا الفج رجل من أهل الجنة! فاطلع أبو بكر، ثم قال: يطلع عليكم من هذا الفج رجل من أهل الجنة! فاطلع عمر بن الخطاب. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٦۔۔۔ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے ابوبکر گزشتہ رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں ایک کنویں پر دیکھا میں نے اس کنویں سے ایک یا دو ڈول پانی کے نکالے اے ابوبکر پھر تم پانی نکالنے کے لیے آگئے اور تم نے بھی ایک دو ڈول نکالے بلاشبہ تمہارے اندر قدرے کمزوری تھی اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر رحم فرمائے پھر عمر آئے اور انھوں نے پانی نکالنا شروع کیا حتیٰ کہ ڈول کی حالت ہی بدل گئی اور لوگوں نے کنویں کا منڈیر ڈھانپ لیا اے ابوبکر اس کی تعبیر دو ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : آپ کے بعد امر خلافت کی ذمہ داری میں سنبھالوں گا پھر عمر (رض) سنبھالیں گے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فرشتے نے بھی اس کی تعبیر اسی طرح دی ہے۔ (رواہ ابونعیم فی فضائل الصحابۃ وابن عساکر)
36136- عن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني رأيتني الليلة يا أبا بكر على قليب فنزعت منه ذنوبا أو ذنوبين، ثم جئت يا أبا بكر فنزعت ذنوبا أو ذنوبين وإنك لضعيف يرحمك الله؟ ثم جاء عمر فنزع منها حتى استحالت غربا وضرب الناس بعطن، فعبرها يا أبا بكر! فقال! ألي الأمر من بعدك ثم يليه عمر، قال: كذلك عبرها الملك. "أبو نعيم في فضائل الصحابة، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٧۔۔۔ عبد الرحمن بن غنم کی روایت ہے کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کی طرف چلے تو ابوبکر (رض) و عمر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! لوگ اسلام میں داخل ہونے کے لیے حریص ہیں اگر آپ کو دنیا میں اچھی اور خوبصورت حالت میں دیکھ لیں ذرا آپ اس جوڑے کو دیکھ لیں جو سعد بن عبادہ (رض) نے آپ کو ہدیہ کیا ہے آپ اسے پہن لیں تاکہ مشرکین آپ کو آج اچھی حالت میں دیکھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا ! میں ایسا کروں گا بشرطیکہ اگر آپ دونوں کسی ایک امر پر اتفاق کرلیں میں تمہارے مشورہ کی کبھی بھی نافرمانی نہیں کروں گا میرے رب تعالیٰ نے تم دونوں کی مثال بیان فرمائی ہے چنانچہ فرشتوں میں تمہاری مثال جبرائیل میکائیل جیسی ہے چنانچہ ابن خطاب کی مثال جبرائیل جیسی ہے اللہ تعالیٰ نے جس امت کو بھی تباہ کرنا چاہا تو اسے جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے تباہ کیا انبیاء میں ان کی مثال نوح (علیہ السلام) جیسی ہے چونکہ انھوں نے فرمایا تھا۔ ” رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا “ اے میرے رب زمین پر کافروں کا کوئی گھر باقی نہ چھوڑ۔ اور ابن ابی قحافہ کی مثال فرشتوں میں میکائیل جیسی ہے چونکہ وہ اہل زمین کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور انبیاء میں ان کی مثال ابراہیم (علیہ السلام) جیسی ہے چونکہ انھوں نے فرمایا تھا : فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم جس نے تیری پیروں کی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو بلاشبہ تو بخشنے والا ہے اور مہربان ہے سو اگر تم دونوں کسی ایک نکتہ پر میرے لیے اتفاق کرو میں تمہارے مشورہ کے خلاف نہیں کروں گا لیکن مشورہ کی رو سے تمہارے اپنے انداز ہیں جیسے جبرائیل و میکائیل نوح اور ابراہیم۔ (رواہ ابن عساکر)
36137- عن عبد الرحمن بن غنم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما خرج إلى بني قريظة قال له أبو بكر وعمر: يا رسول الله! إن الناس يزيدهم حرصا على الإسلام أن يروا عليك زيا حسنا من الدنيا فانظر إلى الحلة التي أهداها لك سعد بن عبادة فالبسها فلير المشركون اليوم عليك زيا حسنا، قال: أفعل وايم الله! لو أنكما تتفقان لي على أمر واحد ما عصيتكما في مشورة أبدا، ولقد ضرب لي ربي عز وجل لكما مثلا لقد ضرب مثلكما في الملائكة كمثل جبرائيل وميكائيل، فأما ابن الخطاب فمثله في الملائكة كمثل جبريل، إن الله لم يدمر أمة قط إلا بجبريل، ومثله في الأنبياء كمثل نوح إذ قال: {رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّاراً} ومثل ابن أبي قحافة في الملائكة كمثل ميكائيل إذ يستغفر لمن في الأرض، ومثله في الأنبياء كمثل إبراهيم إذ قال: {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} ولو أنكما تتفقان لي على أمر واحد ما عصيتكما في مشورة ولكن شأنكما في المشورة شتى كمثل جبريل وميكائيل ونوح وإبراهيم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٨۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس بھلائی پر وفات ہوئی جس پر کسی بھی نبی کی وفات ہوتی ہے پھر بار خلافت ابوبکر (رض) کو اٹھانا پڑا انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے مطابق ذمہ داری کو نبھایا پھر خیر و بھلائی پر ابوبکر (رض) اس دنیا سے رخصت ہوگے ان کے بعد عمر (رض) نے بار خلافت اپنے کاندھوں پر اٹھایا اور انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے عمل اور سنت کے مطابق ذمہ داری نبھائی پھر بھلائی پر ان کی وفات ہوئی اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے بعد اس امت کے سب سے افضل فرد تھے۔ (رواہ ابن عساکر وابن ابی شیبۃ)
36138- عن علي قال: قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم على خير ما قبض عليه نبي من الأنبياء، ثم استخلف أبو بكر فعمل بعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم وسنته، ثم قبض أبو بكر على خير ما قبض عليه أحد وكان خير هذه الأمة بعد نبيها، ثم استخلف عمر فعمل بعملهما وسنتهما ثم قبض على خير ما قبض عليه أحد فكان خير هذه الأمة بعد نبيها وبعد أبي بكر. "كر، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٣٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ابوبکر و عمر اس امت کے نبی کے بعد سب سے افضل ہیں۔ (رواہ ابن عساکر وقال المحفوظ موقوف)
36139- عن علي قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: خير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر. "كر" وقال: المحفوظ موقوف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٠۔۔۔ ” ایضا “ حضرت عمار بن یاسر (رض) کی روایت ہے کہ جس شخص نے حضرت ابوبکر و عمر (رض) پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے کسی کو فضیلت دی گویا اس نے مہاجرین و انصار پر عیب لگایا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) پر طعن وتشنیع کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں جو شخص مجھے ابوبکر و عمر پر فضیلت سے اس نے میرے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) کا انکار کیا۔ (رواہ ابن عساکر
36140- "أيضا" عن عمار بن ياسر قال: من فضل على أبي بكر وعمر أحدا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقد أزرى بالمهاجرين والأنصار وطعن على أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، قال علي: لا يفضلني أحد على أبي بكر وعمر إلا وقد أنكر حقي وحق أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤١۔۔۔ ابو جحیفہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت علی (رض) کے پاس انہی کے گھر میں داخل ہوا میں نے عرض کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اسے سب سے افضل آدمی ! آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو جحیفہ رک جاؤ کیا میں تمہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل شخص کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ ابوبکر و عمر ہیں۔ اے ابو جحیفہ میری محبت اور ابوبکرو عمر کا بغض کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہوسکتا، اور میرا بغض اور ابوبکر و عمر کی محبت بھی کسی مومن کے دل میں جمع نہیں ہوسکتی۔ (رواہ الصا۔۔۔ فی الماتین والطبرانی فی الاوسط وابن عساکر)
36141- عن أبي جحيفة قال: دخلت على علي في بيته فقلت: يا خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم! فقال: مهلا يا أبا جحيفة! ألا أخبرك بخير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ أبو بكر وعمر يا أبا جحيفة! لا يجتمع حبي وبغض أبي بكر وعمر في قلب مؤمن، ولا يجتمع بغضي وحب أبي بكر وعمر في قلب مؤمن."الصابوني في المائتين طس، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٢۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہٰیں : اس امت میں سے سب سے پہلے جنت میں ابوبکر (رض) و عمر داخل ہوں گے جب کہ میں معاویہ کے ساتھ حساب و کتاب میں کھڑا ہوں گا۔ (رواہ العقیلی وقال عیر محفوظ وابن عساکر وفیہ اصبغ ابوبکر الشیانی مجھول ورواہ ابن الجوزی فی الواھیات )
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے التنزیۃ ٣٩٠١۔ ٣٩١ والمتناھیۃ ٣١٦۔
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے التنزیۃ ٣٩٠١۔ ٣٩١ والمتناھیۃ ٣١٦۔
36142- عن علي قال: أول من يدخل الجنة من هذه الأمة أبو بكر وعمر وإني لموقوف مع معاوية في الحساب. "عق" وقال: غير محفوظ، "كر"؛ وفيه أصبغ أبو بكر الشيباني مجهول، وابن الجوزي في الواهيات.
তাহকীক: