কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬১৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٣۔۔۔ علقمہ کی روایت ہے کہ ہمیں حضرت علی (رض) نے خطاب کیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : مجھے خبر پہنچی ہے کہ لوگ مجھے ابوبکر و عمر پر فضیلت دیتے ہیں سو اگر اس کے متعلق میں تقدم کرجاتا تو اس میں ضرور معاقبت کرتا لیکن میں تقدیم سے قبل عقوبت کو ناپسند کرتا ہوں۔ میرے اس مقام کے بعد جس نے کچھ کہا وہ مفتری ہے اور اس کی سزا وہی ہوگی جو کسی مفتری کی ہوسکتی ہے چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر و عمر ہیں پھر ان کے بعد ہمارے درمیان فتنے پیدا ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ جیسے چاہے ان کے متعلق فیصلہ فرمائے۔ (رواہ ابن ابی عاصم وابن شاہین والالکانی جمیعا فی السنۃ والغازی فی فضائل الصدیق والاصبھانی فی الحجۃ وابن عساکر)
36143- عن علقمة قال: خطبنا علي فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إنه بلغني أن ناسا يفضلوني على أبي بكر وعمر ولو كنت تقدمت في ذلك لعاقبت فيه ولكني أكره العقوبة قبل التقدم، فمن قال شيئا من ذلك بعد مقامي هذا فهو مفتر، عليه ما على المفتري، خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو بكر ثم عمر، ثم أحدثنا بعدهم أحداثا يقضي الله فيها ما يشاء."ابن أبي عاصم وابن شاهين واللالكائي جميعا في السنة والغازي في فضائل الصديق والأصبهاني في الحجة، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٤۔۔۔ ہمدانی کہتے ہیں میں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : اے ابو الحسن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : وہی ہے جس کے متعلق ہم شک نہیں کرسکتے الحمدللہ وہ ابوبکر بن ابی قحافہ (رض) ہیں۔ میں نے عرض کیا : اے ابو الحسن پھر کون افضل ہے ؟ فرمایا : وہی ہے جس کے متعلق ہم شک نہیں کرسکتے الحمدللہ وہ عمر بن خطاب (رض) ہیں۔ (رواہ ابن شاہین)
36144- عن الهمداني قال: قلت لعلي بن أبي طالب: يا أبا الحسن! من أفضل الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: الذي لا نشك فيه والحمد لله أبو بكر بن أبي قحافة، قلت: ثم من يا أبا الحسن؟ قال: الذي لا نشك فيه والحمد لله عمر بن الخطاب."ابن شاهين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٥۔۔۔ سوید بن غفلہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے پاس سے میرا گزر ہوا جو حضرت ابوبکر و (رض) حضرت عمر (رض) کا تذکرہ کر رہے تھے اور ان کی تنقیص سے اپنی زبانوں کو آلودہ کر رہے تھے فوراً میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا آپ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جو ان دونوں کے متعلق بجز ذکر خیر اور حسن جمیل کے کوئی اور بات دل میں چھپائے رکھے وہ دونوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھائی اور وزیر ہیں۔ پھر آپ (رض) منبر پر تشریف لے گئے اور فصیح وبلیغ خطبہ ارشاد فرمایا لوگوں کو کیا ہوا جو قریش کے سرداروں مسلمانوں کے ابو ین کے متعلق لب کشائی کرتے ہیں جس سے میں سراسر بری الذمہ ہوں جو یہ کہتے ہیں میں اس سے بیزار ہوں ان کی چہ مگوئیوں پر عذاب و سزا ہے قسم اس ذات کی جو دانے کو پھاڑتا ہے اور ذی روح کو پیدا کرتا ہے ان دونوں سے وہی محبت کرتا ہے جو پرہیزگار مومن ہے ان سے بغض و عداوت وہی رکھتا ہے جو فاجر و ہلاک ہونے والا ہے چنانچہ ابوبکر (رض) و عمر (رض) صدق و فاء کے ساتھ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے برائی کے مرتکبین کو سزائیں دیتے رہے وہ سرمو بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے سے تجاوز نہیں کرتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی رائے کو ترجیح دیتے تھے ان جیسی محبت نہیں رہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے تو ان دونوں سے راضی تھے اور لوگ بھی ان سے راضی رہے پھر ابوبکر (رض) نے نماز کی تولیت قبول فرمائی جب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اپنے پاس بلا لیا تو مسلمانوں نے ابوبکر (رض) کو اپنا خلیفہ منتخب کیا کچھ لوگوں نے زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کیا جب کہ زکوۃ و خلافت دونوں آپس میں ب اہمیت رکھتی ہیں۔ بنی عبد المطلب میں پہلا شخص میں ہوں جس نے خلافت کیلئے ابوبکر کو منتخب کیا بخدا وہ زندہ رہنے والوں میں سب سے افضل تھے میرے دل میں ان کی رأفت و رحمت ہے میں انھیں ورع وتقوی میں سب سے آگے سمجھتا ہوں اور اسلام لانے میں سب سے مقدم سمجھتا ہوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رافت و رحمت کے اعتبار سے انھیں میکائیل کے ساتھ تشبیہ دی ہے جب کہ عفو و درگزر اور عزت و وقار کے اعتبار سے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دی ہے ابوبکر (رض) نے سیرت رسول کو اپنائے رکھا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض کرلی۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں۔ پھر ان کے بعد بار خلافت حضرت عمر (رض) نے اٹھایا چنانچہ امر خلافت میں لوگوں سے مشورہ لیا جب کہ کچھ لوگ رضا مند تھے اور کچھ ناخوش تھے جب کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو رضا مند تھے اللہ کی قسم عمر (رض) اس وقت تک دنیا سے رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ ناخوش لوگ خوش نہیں ہوگئے عمر (رض) نے امر خلافت کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و ابوبکر (رض) کی نہج پر استوار رکھا عمر (رض) ان دونوں کے نقش قدم پر اسی طرح چلے جس طرح بچھیرا اپنی ماں کے پیچھے چلتا ہے بخدا زندہ رہنے والوں میں سب سے افضل تھے رفیق و رحیم تھے ظالم کے خلافت مظلوم کی مدد کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے عمر (رض) کی زبان پر حق کو جاری وساری کیا حتی کہ ہم سمجھتے تھے کہ آپ کی زبان پر فرشتہ نطق کرتا ہے آپ کے اسلام لانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی عزت کو دوبالا کیا آپ کی ہجرت سے دین کو قوت ملی اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دی اور منافقین کے دلوں میں ان کا عرب ڈال دیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمنوں پر غیظ و غضب کے اعتبار سے آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہ دی دوٹوک رویہ اور شدت مزاج کے اعتبار سے نوح (علیہما السلام) کے ساتھ تشبیہ دی تم میں سے کون ہے جو ان جیسا ہو ان کی پہنچ تک کسی کی رسائی بجزان کی محبت کا دم بھرنے کے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے ان سے بغض و عدات رکھی اس نے مجھ سے بغض و عداوت رکھی میں اس سے بری الذمہ ہوں اگر میں تقدم کرچکا ہوتا ان کے معاملہ میں تو میں اس پر سخت معاقبت کرتا لہٰذا میرے اس مقام کے علاوہ اگر کسی نے کچھ اور نظریہ رکھا اس کی وہی سزا ہے جو کسی افتراء باندھے والے کی ہوسکتی ہے خبردار ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس امت کے سب سے افضل افراد ابوبکر و عمر ہیں۔ پھر کون افضل ہے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے میں یہی بات کہتا ہوں اللہ تعالیٰ میری اور آپ سب کی مغفرت کرے۔ (رواہ خیثمد والالکانی وابو الحسن علی بن احمد بن اسحاق البغداری فی فضائل ابی بکر و سمر والشیرازی فی الالقاب وابن مندہ فی تاریخ اصبھان وابن عساکر)
36145- عن سويد بن غفلة قال: مررت بقوم يذكرون أبا بكر وعمر وينتقصونهما فأتيت عليا فذكرت له ذلك فقال: لعن الله من أضمر لهما إلا الحسن الجميل! أخوا رسول الله صلى الله عليه وسلم ووزيراه، ثم صعد المنبر فخطب خطبة بليغة فقال: ما بال أقوام يذكرون سيدي قريش وأبوي المسلمين بما أنا عنه متنزه ومما يقولون بريء وعلى ما يقولون معاقب، والذي فلق الحبة وبرأ النسمة! إنه لا يحبهما إلا مؤمن تقي ولا يبغضهما إلا فاجر ردي صحبا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصدق والوفاء، يأمران وينهيان ويعاقبان، فما يجاوزان فيما يصنعان رأي رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يرى رسول الله صلى الله عليه وسلم كرأيهما رأيا، ولا يحب كحبهما حبا، مضى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهما

راض والناس راضون، ثم ولي أبو بكر الصلاة، فلما قبض الله نبيه صلى الله عليه وسلم ولاه المسلمون ذلك وفوضوا إليه الزكاة، لأنهما مقرونتان، وكنت أول من يسمى له من بني عبد المطلب وهو لذلك كاره، يود أن بعضنا كفاه، فكان والله خير من بقي؛ أرأفه رأفة وأرحمه رحمة وأكيسه ورعا وأقدمه إسلاما، شبهه رسول الله صلى الله عليه وسلم بميكائيل رأفة ورحمة وبإبراهيم عفوا ووقارا، فسار بسيرة رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى قبض - رحمة الله عليه! ثم ولي الأمر من بعده عمر بن الخطاب واستأمر في ذلك الناس فمنهم من رضي ومنهم من كره فكنت ممن رضي، فوالله ما فارق عمر الدنيا حتى رضي من كان كارها! فأقام الأمر على منهاج النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبه، يتبع آثارهما كما يتبع الفصيل اثر أمه، وكان والله خير من بقي رفيقا رحيما وناصر المظلوم على الظالم! ثم ضرب الله بالحق على لسانه حتى رأينا أن ملكا ينطق على لسانه، وأعز الله بإسلامه الإسلام وجعل هجرته للدين قواما1، وقذف في قلوب المؤمنين الحب له وفي قلوب المنافقين الرهبة له، شبهه رسول الله صلى الله عليه وسلم بجبريل فظا غليظا على الأعداء وبنوح حنقا ومغتاظا على الكافرين، فمن لكم بمثلهما؟ لا يبلغ مبلغهما إلا بالحب لهما واتباع آثارهما، فمن أحبهما فقد أحبني ومن أبغضهما فقد أبغضني وأنا منه بريء، ولو كنت تقدمت في أمرهما لعاقبت أشد العقوبة، فمن أتيت به بعد مقامي هذا فعليه ما على المفتري، ألا! وخير هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر ثم الله أعلم بالخير أين هو؛ أقول قولي هذا ويغفر الله لي ولكم."خيثمة واللالكائي وأبو الحسن علي بن أحمد بن إسحاق البغدادي في فضائل أبي بكر وعمر والشيرازي في الألقاب وابن منده في تاريخ أصبهان: كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٦۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) دل میں نرم گوشہ رکھنے والے اور بردبار تھے عمر (رض) مخلص اور اللہ تعالیٰ کیلئے خیر خواہی چاہنے والے تھے ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب تھے اور کثیر تعداد میں تھے۔ بخدا ، ہم سمجھتے تھے کہ عمر (رض) کی زبان سے سکینہ نازل ہو رہی ہے اور ہم دیکھتے تھے کہ شیطان عمر (رض) سے بیبت کھاتا ہے چہ جائے کہ شیطان آپ (رض) کو خطا کا حکم دے جسے وہ کر گزریں۔ (رواہ ابو القاسم بن بشراں فی امالیہ
36146- عن علي قال: كان أبو بكر أواها حليما وكان عمر مخلصا، ناصح لله فنصحه، والله كنا أصحاب محمد ونحن متوافرون لنرى أن السكينة تنطق على لسان عمر! وإن كنا لنرى شيطان عمر يهابه أن يأمره بالخطيئة يعملها. أبو القاسم بن بشران في أماليه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٧۔۔۔ ابن حنفیہ کہتے ہیں میں نے اپنے والد۔ (حضرت علی (رض)) سے عرض کیا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ابوبکر میں نے عرض کیا : پھر کون ؟ فرمایا پھر عمر (رض) افضل ہیں میں نے عرض کیا : پھر آپ افضل ہیں ؟ فرمایا : میں تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں میرے حسناب بھی ہیں سیئات بھی ہیں اللہ تعالیٰ جیسا چاہے فیصلہ کرے۔ (رواہ ابن بشران)
36147- عن ابن الحنيفة قال: قلت لأبي: أي الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر، قلت: ثم من؟ قال: ثم عمر، قلت: ثم أنت؟ قال: أنا رجل من المسلمين، لي حسنات وسيئات يفعل فيها ما يشاء."ابن بشران".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٨۔۔۔ ” مسند انس “ ثابوت بنانی حضرت انس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اہل آسمان میں میرے دو وزراء ہیں جبرائل و میکائیل اور دو وزراء اہل زمین میں سے ہیں ابوبکر و عمر (رض)

عنہ (رواہ ابن عساکر)
36148- "مسند أنس" عن ثابت البناني عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وزيراي من أهل السماء جبرئيل وميكائيل، ووزيراي من أهل الأرض أبو بكر وعمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٤٩۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) عمر (رض) کی طرف دیکھا تو فرمایا : یہ دونوں اولین و آخرین ادھیڑا ہل جنت کے سردار ہیں اے علی اس کی خبر انھیں مت کرو۔ (رواہ ابن عساکر)
36149- عن أنس قال: أبصر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي بكر وعمر فقال: هذان سيدا كهول أهل الجنة من الأولين والآخرين، يا علي! لا تخبرهما. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥٠۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ جب حضرت علی (رض) نے جب خلافت کی ذمہ داری قبول فرمائی تو ایک شخص نے آپ سے کہا : اے امیر المومنین ! مہاجرین و انصار نے آپ کو چھوڑ کر کس طرح ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی حالانکہ آپ منقبت میں اکرم و اعلیٰ ہیں اور سبقت میں اقدام ہیں ؟ آپ (رض) نے اس شخص سے فرمایا : بخدا ! اگر مومنین اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہ ہوتے میں تمہیں قتل کردیتا اور اگر تو زندہ رہا ضرور جرم کا مرتکب ہوگا تیرا ناس ہو ابو بکر مجھ سے چار چیزوں میں آگے بڑھ گئے ہیں رفاقت غار سبقت ہجرت میں صٖغر سنی میں ایمان لایا جب کہ ابوبکر کبرسنی میں ایمان لائے اور اقامت نماز میں مجھ سے آگے بڑھ گئے۔ (رواہ ابو طالب العشاری فی فضائل الصدیق)
36150- عن ابن عمر قال: لما ولي علي قال له رجل: يا أمير المؤمنين! كيف تخطاك المهاجرون والأنصار إلى أبي بكر وأنت أكرم منقبة وأقدم سابقة؟ فقال له: والله لولا أن المؤمنين عائذة الله لقتلتكّ! ولئن بقيت لتأتينك مني روعة خضراء، ويحك! إن أبا بكر سبقني إلى أربع لم أوتهن ولم أعتض منهن: إلى مرافقة الغار، وإلى تقدم الهجرة، وإني آمنت صغيرا وآمن كبيرا، وإلى إقام الصلاة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥١۔۔۔ عبیدہ سلیمانی کی روایت ہے کہ ایک ابوبکر و عمر (رض) پر عیب لگاتا تھا حضرت علی (رض) نے پیغام بھجوا کر اسے اپنے پاس بلایا پھر اس شخص کے سامنے ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل بیان فرمائے چنانچہ وہ شخص معاملہ سمجھ گیا حضرت علی (رض) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برحق مبعوث کیا ہے : جو کچھ تیرے متعلق مجھے پہنچا ہے اگر وہ میں نے تجھ سے سن لیا یا تیرے خلاف گواہوں نے شہادت دے دی میں تیری گردن اڑا دوں گا۔ (رواہ العشاری)
36151- عن عبيدة السلماني أن رجلا تعيب أبا بكر وعمر، فأرسل إليه فأتى فعرض له نعتهما عنده، ففطن الرجل، فقال له علي: أما والذي بعث محمدا بالحق! لو سمعت منك ما بلغني عنك أو شهدت عليك البينة لألقيت أكثرك شعرا - يعني ضرب العنق."العشارى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥٢۔۔۔ عطیہ عوفی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) بن ابی طالب فرماتے ہیں اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا گیا جو مجھے ابوبکر و عمر پر فضیلت دیتا ہے میں اسے وہی سزا دوں گا جو کہ زانی کی حد ہے۔ (رواہ العشاری)
36152- عن عطية العوفي قال: قال علي بن أبي طالب: لو أتيت برجل يفضلني على أبي بكر وعمر لعاقبته مثل حد الزاني."العشارى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥٣۔۔۔ حسن بن کثیر اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور کہا : آپ لوگوں میں سب سے افضل ہیں آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے ؟ جواب دیا نہیں فرمایا : ابوبکر (رض) کو دیکھا ہے ؟ عرض کیا : نہیں فرمایا عمر (رض) کو دیکھا ہے ؟ جواب دیا نہیں چنانچہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جب تم یہ بات کہتے ہو اگر تم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہوتا میں تمہیں قتل کردیتا اور اگر تم نے ابوبکر (رض) و عمر (رض) دیکھا ہوتا میں تمہیں کوڑوں کی سزا دیتا۔ (رواہ العشاری)
36153- عن الحسن بن كثير عن أبيه قال: أتى عليا رجل فقال: أنت خير الناس، فقال: هل رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: لا، قال: أما رأيت أبا بكر؟ قال: لا، قال: فما رأيت عمر؟ قال: لا، قال: أما! إنك لو قلت إنك رأيت النبي صلى الله عليه وسلم لقتلتك، ولو قلت: رأيت أبا بكر وعمر لجلدتك."العشارى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥٤۔۔۔ اسماء بنت حکم کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے متعلق سوال کیا : آپ (رض) نے فرمایا : ابوبکر (رض) و عمرو (رض) امت کے امین تھے ہدایت دینے والے تھے خود بھی ہدایت یافتہ تھے رشد و ہدایت ان کا مقدر تھی مرشد تھے فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوئے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے محفوظ حالت میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ (رواہ العشاری)
36154- عن أسماء بن الحكم قال: سأل رجل عليا عن أبي بكر وعمر فقال: كانا أمينين هاديين مهديين رشيدين مرشدين مفلحين منجحين خرجا من الدنيا خميصين."العشارى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥٥۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ابوبکر و عمر کو بعد میں آنے والے اور حکمرانوں کے لیے محبت بنایا ہے تاقیامت وہ محبت ہیں بخدا ! وہ دونوں سبقت لے گئے اور بہت دور نکل گئے جب کہ بعد میں آنے والے سخت پیچیدگی کا شکار ہوگئے۔ (رواہ العشاری)
36155- عن علي قال: إن الله عز وجل جعل أبا بكر وعمر حجة على من بعدهما من الولاة إلى يوم القيامة فسبقا والله سبقا بعيدا وأتعبا من بعدهما تعبا شديدا."العشارى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥٦۔۔۔ ابراہیم کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) کو خبر پہنچی کہ عبداللہ بن اسود حضرت ابوبکر و عمر (رض) کی تنقیص کرتا ہے چنانچہ آپ (رض) نے تلوار منگوائی اور عبداللہ بن اسود کو قتل کرنے کے ارادہ سے کھڑے ہوگئے تاہم اس معاملہ میں کچھ کلام کیا گیا پھر آپ (رض) نے فرمایا : یہ شخص اس شہر میں ہرگز نہیں رہ سکتا جس میں میں موجود ہوں چنانچہ آپ (رض) نے اسے ملک شام کی طرف جلا وطن کردیا۔ (رواہ العشاری فی فضائل الصدیق واللالکانی)
36156- عن إبراهيم قال: بلغ عليا أن عبد الله بن الأسود ينتقص أبا بكر وعمر فدعا بالسيف فهم بقتله فكلم فيه فقال: لا يساكنني في بلد أنا فيه، فنفاه إلى الشام."العشارى في فضائل

الصديق واللالكائي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥٧۔۔۔ حکم بن حجل کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جو شخص بھی مجھے ابوبکر (رض) وعمر (رض) پر فضیلت دے گا میں اس پر مفتری کی حد جاری کروں گا۔ (رواہ ابن ابی عاصم فی فضائل الصحابۃ)
36157- عن الحكم بن حجل قال: قال علي: لا يفضلني أحد على أبي بكر وعمر إلا جلدته حد المفتري."ابن أبي عاصم وخيثمة في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرات شیخین ابوبکر و عمر (رض) کے فضائل کا بیان
٣٦١٥٨۔۔۔ عصمہ بن مالک خطمی کی روایت ہے کہ اہل بادیہ (دیہات) کا ایک شخص اپنے اونٹوں کو لے کر آیا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی ملاقات ہوئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اونٹ خرید لیے بعد میں حضرت علی (رض) کی اس شخص سے ملاقات ہوئی آپ (رض) نے پوچھا : تم کیوں آئے ہو عرض کیا : میں اونٹ لے کر آیا ہوں جنہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خرید لیا ہے آپ (رض) نے فرمایا : مال نقدی لے لیا ہے ؟ عرض کیا : نہیں میں نے مال مختصر کرکے اونٹ فروخت کر دئیے ہیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : واپس جاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کرو کہ اگر آپ دنیا سے رخصت ہوجائیں تو میرا مال کون ادا کرے گا ؟ ذرا دھیان رکھنا رسول اللہ تجھے کیا حکم دیتے ہیں پھر واپس آکر مجھے بھی اطلاع کرنا۔ چنانچہ اس شخص نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر عرض کیا : یا رسول اللہ ! خدانخواستہ اگر آپ دنیا سے رخصت ہوجائیں تو میرا قرض کون ادا کرے گا ؟ آپ (رض) نے فرمایا ابوبکر ادا کردیں گے چنانچہ اس شخص نے حضرت علی (رض) کو اطلاع دی آپ (رض) نے فرمایا : واپس آجاؤ اور دوبارہ پوچھو کہ اگر ابوبکر بھی دنیا سے رخصت ہوجائیں تو پھر کون ادا کرے گا اس شخص نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم ادا کریں گے واپس جا کر اس شخص نے حضرت علی (رض) کو خبر کردی آپ نے کہا : پھر واپس جاؤ اور پوچھو کہ اگر عمر (رض) رخصت ہوجائیں کون قرض ادا کرے گا چنانچہ وہ شخص دوبارہ خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال پوچھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری ہلاکت ! جب عمر مرجائیں تو اگر تم سے ہوسکے تم بھی مرجاؤ۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام : ۔۔۔ یہ حدیث معنی موجود ہے دیکھئے اسنی المطالب ١٦٥٣۔
36158- عن عصمة بن مالك الخطمي قال: قدم رجل من أهل البادية بإبل له فلقيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشتراها منه، فلقيه علي فقال: ما أقدمك؟ قال: قدمت بإبل فاشتراها رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فنقدك؟ قال: لا، ولكن بعتها منه بتأخير، فقال له علي: ارجع إليه فقل له: يا رسول الله! إن حدث بك حدث فمن يقضيني بما لي؟ فانظر ما يقول لك فارجع إلي حتى تعلمني، فقال: يا رسول الله! إن حدث بك حدث فمن يقضيني؟ قال: أبو بكر، فأعلم عليا، قال: ارجع فسله، فإن حدث بأبي بكر حدث فمن يقضيني؟ فسأله، فقال له: عمر، فجاء فأعلم عليا، قال: ارجع فاسأله: إذا مات عمر فمن يقضيني؟ فجاءه فسأله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ويحك! إذا مات عمر فإن استطعت أن تموت فمت. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٥٩۔۔۔” مسند عمر “ ابو بحریہ کندی کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب تشریف لائے یکایک ایک مجلس میں جا پہنچے جس میں حضرت عثمان بن عفان (رض) بھی تشریف فرما تھے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : (اے اہل مجلس) تمہارے ساتھ ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا ہے کہ اگر اس کا ایمان کسی بڑے لشکر میں تقسیم کیا جائے تو اس کے لیے کافی ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد حضرت عثمان (رض) بن عفان (رض) تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36159- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي بحرية الكندي أن عمر بن الخطاب خرج ذات يوم فإذا هو بمجلس فيه عثمان بن عفان فقال: معكم رجل لو قسم إيمانه بين جند من الأجناد لوسعهم - يريد عثمان بن عفان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٠۔۔۔ حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے مجھے دس (١٠) خوبیوں سے نوازا ہے جو میں نے لوگوں سے چھپائے رکھی ہیں چنانچہ میں نے چوتھے نمبر پر اسلام لیا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے اپنی ایک بیٹی میرے نکاح میں دی پھر اس کے بعد دوسری دی میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی ہے اس وقت سے میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے آلہ تناسل کو نہیں چھوڑا میں گانے بجانے سے دور رہا ہوں اور نہ ہی میں نے اس کی تمنا کی میں نے جاہلیت میں بھی شراب نہیں پی اور اسلام میں تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جو شخص زمین کے اس ٹکڑے کو خرید کر مسجد میں شامل کرے اس کے لیے جنت میں عالیشان گھر ہوگا۔ چنانچہ میں نے زمین کا وہ ٹکڑا خرید کر مسجد میں شامل کرلیا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن ابی عاصم فی السنۃ)
36160- عن عثمان قال: لقد اختبأت عند الله عشرا: إني لرابع الإسلام، وقد زوجني رسول الله صلى الله عليه وسلم ابنته ثم ابنته، وقد بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي هذه اليمنى فما مسست بها ذكري، ولا تغنيت ولا تمنيت ولا شربت خمرا في جاهلية ولا إسلام، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يشتري هذه الربعة1 ويزيدها في المسجد وله بيت في الجنة! فاشتريتها وزدتها في المسجد. "ش" وابن أبي عاصم في السنة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦١۔۔۔ ” ایضا “ عبداللہ بن عدی بن خیار کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برحق مبعوث کیا اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسول کی دعوت کو قبول کیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات مبعوثا نہ پر ایمان لایا میں نے دو ہجرتیں کیں میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سسرالی رشتہ بھی حاصل کیا میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی اللہ کی قسم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی اور نہ ہی آپ کے ساتھ دھوکا کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے پاس بلا لیا میں نے قبلتین کی طرف نماز پڑھی ہے پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رحلت فرمائی آپ مجھ سے راضی تھے۔ (رواہ احمد بن حنبل والبخاری وابو نعیم فی المعرفۃ)
36161- "أيضا" عن عبيد الله بن عدي بن الخيار أن عثمان قال: إن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق فكنت ممن استجاب لله ولرسوله وآمنت بما بعث به، وهاجرت الهجرتين جميعا، ونلت صهر رسول الله صلى الله عليه وسلم، وبايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فوالله ما عصيته ولا غششته حتى توفاه الله، وصليت القبلتين كليتهما وتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عني راض. "حم، خ وأبو نعيم في المعرفة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٢۔۔۔ ” ایضاً “ حسن (رح) فرماتے ہیں حضرت عثمان (رض) کو ذی النورین اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دو بیٹیوں کو اپنے نکاح میں لائے تھے جب کہ یہ خوبی آپ (رض) کے علاوہ کسی فرد کو حاصل نہیں۔ (رواہ ابو نعیم فی السعرفۃ)
36162- "أيضا" عن الحسن قال: إنما سمي عثمان ذا النورين لأنه لا يعلم أحد أغلق بابه على ابنتي نبي غيره. أبو نعيم في المعرفة.
tahqiq

তাহকীক: