কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬১৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٣۔۔۔ ” ایضاً “ اسلم (رح) کی روایت ہے کہ جس دن حضرت عثمان (رض) کا محاصرہ جاری تھا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (رض) نے فرمایا : اے طلحہ ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جس دن میں اور تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ فلاں اور فلاں جگہ تھے اور میرے علاوہ کوئی صحابی بھی آپ (رض) کے ساتھ نہیں تھا حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا : جی ہاں مجھے یاد ہے عثمان (رض) نے فرمایا : تمہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا اے طلحہ ! کوئی نبی ایسا نہیں کہ اس کے صحابہ (رض) میں سے جنت میں اس کا کوئی رفیق نہ ہو اور یہ عثمان بن عفان بھی جنت میں میرا رفیق ہوگا حضرت طلحہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹ آئے۔ (رواہ ابی عاصم وعبداللہ بن احمد والعقیلی والحاکم وابو یعلی والالکانی فی السنۃ وابن عساکر)
36163- "أيضا" عن أسلم قال: شهدت عثمان يوم حصر فقال: إنشدك الله يا طلحة! أتذكر يوم كنت أنا وأنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في موضع كذا وكذا وليس معه أحد من أصحابه غيري وغيرك؟ قال: نعم، فقال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا طلحة! إنه ليس من نبي إلا ومعه من أصحابه رفيق من أمته معه في الجنة وإن عثمان بن عفان هذا - يعنيني - رفيقي معي في الجنة؟ فقال طلحة: اللهم نعم، ثم انصرف. ابن أبي عاصم، "عم، عق، ك، ع" واللالكائي في السنة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٤۔۔۔ ” ایضا “ عقبہ بن صہبان کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ میں نے کبھی بھی گانا نہیں گایا اور نہ ہی کبھی اس کی تمنا کی اور جب سے میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی ہے تب سے میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے عضو تناسل کو مس نہیں کیا۔ (رواہ العدنی وابن ماجہ وابو نعیم فی الحلیۃ)
36164- "أيضا" عن عقبة بن صهبان قال: سمعت عثمان بن عفان يقول: ما تغنيت ولا تمنيت ولامسست ذكري بيميني مذ بايعت بها رسول الله صلى الله عليه وسلم. العدني، "هـ، حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٥۔۔۔ ھزیل بن شرحبیل کی روایت ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) حضرت عثمان (رض) کے پاس داخل ہوئے حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : اے طلحہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مسلمانوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھوکے ہونے کی شکایت کی میں گھی اور شہد کے مشکیزوں کی طرف اٹھا بہت سا آٹا خریدا پھر دسترخوان پھیلایا اس پر میں نے کھجور اور گھی سے تیار کیا ہوا کھانا پھیلایا ؟ حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا ! جی ہاں حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے جیش عسرت کو ساز و سامان دے کر تیار کیا پیادوں کو سوار کیا بھوکوں کو کھانا کھلایا ننگوں کو کپڑے پہنچائے اور ستر گھوڑے دئیے ؟ حضرت طلحہ (رض) نے کہا : جی ہاں پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے بئر رومہ (رومہ کا کنواں) خریدا اور اس کا پانی عام مسلمانوں کے لیے وقف کردیا ؟ کہا جی ہاں۔ (رواہ ابو الشیخ فی السنۃ)
36165- "أيضا" عن هزيل بن شرحبيل قال: دخل طلحة بن عبيد الله على عثمان فقال: يا طلحة! نشدتك بالله ألم تعلم أن المسلمين شكوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الجوع فقمت إلى أنحاء السمن والعسل واشتريت دقيقا كثيرا فبسطت الأنطاع ونثرت الخبيص1 عليها؟ فقال: نعم، فقال: نشدتك بالله هل تعلم أني جهزت جيش العسرة وحملت راجلهم وأطعمت جائعهم وكسوت عاريهم وأقمت سبعين فرسا؟ قال: اللهم نعم، قال: نشدتك بالله هل تعلم أني اشتريت بئر رومة فجعلتها سقاية للمسلمين؟ قال: اللهم! نعم."أبو الشيخ في السنة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٦۔۔۔ ” ایضاً “ ابن لبیبہ کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کا جب محاصرہ کیا گیا تو آپ (رض) نے ایک اونچی جگہ میں بنے روشندان سے جھانک کر فرمایا : کیا تم میں طلحہ موجود ہے ؟ بلوائیوں نے جواب دیا : جی ہاں فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے اور اپنے درمیان مواخات قائم کی تھی حضرت طلحہ (رض) نے کہا : جی ہاں لوگوں نے حضرت طلحہ (رض) پر اعتراض کرنا چاہا تو آپ نے کہا : عثمان (رض) نے مجھے واسطہ دیا ہے اور جو معاملہ میں نے دیکھا ہے میں اس کی گواہی کیوں نہ دوں۔ (رواہ ابن سعد وابن عساکر وفیہ الواقدی ومحمد بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان وحدیثہ منکر)
36166- "أيضا" عن ابن لبيبة أن عثمان بن عفان لما حصر أشرف عليهم من كؤة في الطمار2 فقال: أفيكم طلحة؟ قالوا: نعم، قال: أنشدك الله هل تعلم أنه لما آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين المهاجرين والأنصار آخى بيني وبين نفسه؟ فقال طلحة: اللهم! نعم، فقيل لطلحة في ذلك، فقال: نشدني وأمر رأيته ألا أشهد به."ابن سعد، كر، وفيه الواقدي ومحمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان وحديثه منكر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٧۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت عثمان (رض) نے حضرت عمر (رض) کو بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضرت عمر (رض) نے انکار کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچی جب عمر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! کیا رثمان سے بہتر کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں اور تم سے بہتر کی طرف عثمان کی رہنمائی نہ کروں ؟ آپ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : تم اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دو اور میں اپنی بیٹی عثمان کے نکاح میں دیتا ہوں۔ (رواہ البغوی فی مسند عثمان وابن جریر فی تہذیب الآثار وقال صحیح والحاکم والبیہقی فی الدلائل واللالکائی فی السنۃ وقال : اسنادہ لابأس بہ لیکن صحیح روایت یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عثمان (رض) سے حضرت حفصہ (رض) کے نکاح کی پیشکش کی تھی لیکن حضرت عثمان (رض) نے انکار کردیا تھا) ۔
36167- "أيضا" عن عثمان أنه خطب إلى عمر ابنته فرده فبلغ، ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فلما راح إليه عمر قال: يا عمر! ألا أدلك على خير لك من عثمان وأدل عثمان على خير له منك؟ قال: نعم، يا نبي الله! قال: زوجني ابنتك وأزوج عثمان ابنتي. "البغوي في مسند عثمان وابن جرير في تهذيب الآثار وقال: صحيح، ك، ق" في الدلائل واللالكائي في السنة وقال: إسناده لا بأس به لكن الصحيح أن عمر عرض على عثمان حفصة فأبى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٨۔۔۔ ” ایضاً “ عبد الرحمن بن عثمان تیمی کی روایت ہے کہ ایک رات میں نے حضرت عثمان (رض) کو مقام ابراہیم کے پاس دیکھا آپ (رض) آگے بڑھے اور ایک رکعت میں قرآن پڑھا پھر واپس لوٹ آئے میں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ نے صرف ایک ہی رکعت پڑھی ہے آپ (رض) نے فرمایا وہ میرے وتر کی رکعت تھی۔ (رواہ ابن المبارک فی الذھد وابن سعد وابن ابی شیبۃ وابن منیع والطحاوی والدار قطنی والبیہقی وسندہ حسن)
36168- "أيضا" عن عبد الرحمن بن عثمان التيمي قال: رأيت عثمان عند المقام ذات ليلة قد تقدم فقرأ القرآن في ركعة ثم انصرف، فقلت: يا أمير المؤمنين! إنما صليت ركعة، قال: هي وتري.ابن المبارك في الزهد وابن سعد، "ش" وابن منيع والطحاوي، "قط، ق"، وسنده حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٦٩۔۔۔ ” ایضاً “ عبد الرحمن بن حاطب کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو حضرت عثمان بن عفان (رض) سے بڑھ کر اتمام حدیث کرتا ہوا لایا کہ عثمان (رض) حدیث گوئی سے کتراتے تھے۔ (رواہ ابن سعید وابن عساکر)
36169- "أيضا" عن عبد الرحمن بن حاطب قال: ما رأيت أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا حدث أتم حديثا ولا أحسن من عثمان بن عفان إلا أنه كان رجلا يهاب الحديث. ابن سعد، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٠۔۔۔ ” ایضاً “ محمد بن سیرین کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) پوری رات بیدار رہتے اور ایک ہی رکعت میں قرآن ختم کرلیتے۔ (رواہ ابن سعد)
36170- "أيضا" عن محمد بن سيرين أن عثمان كان يحيي الليل فيختم القرآن في ركعة."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧١۔۔” ایضاً “ عطاء بن ابی رباح کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھائی پھر مقام ابراہیم کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور ایک ہی رکعت میں پورا قرآن پڑھ ڈالا یہ ان کی وتر کی رکعت تھی۔ (رواہ ابن سعد)
36171- "أيضا" عن عطاء بن أبي رباح أن عثمان بن عفان صلى بالناس ثم قام خلف المقام فجمع كتاب الله في ركعة كانت وتره."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٢۔۔۔ ” ایضاً “ مالک بن ابی عامر کی روایت ہے کہ لوگ حش کوکب (مدینہ میں بقیع سے باہر ایک باغ ہے) میں اپنے مردے دفنانے سے گریز کرتے تھے۔ حضرت عثمان (رض) فرمایا کرتے تھے کیا بعید کہ کوئی صالح شخص وفات پائے جو یہاں دفن کیا جائے اور پھر لوگ اس کے نمونہ پر چلیں اور اپنے مردے یہاں دفن کریں مالک بن ابی عامر کہتے ہیں ! چنانچہ عثمان بن عفان (رض) پہلے شخص ہیں جو یہاں دفن ہوئے۔ (رواہ ابن سعد)
36172- "أيضا" عن مالك بن أبي عامر قال: كان الناس يتوقون أن يدفنوا موتاهم في حش1 كوكب فكان عثمان بن عفان يقول: يوشك أن يهلك رجل صالح فيدفن هناك فيأتسي الناس به، قال مالك بن أبي عامر: فكان عثمان بن عفان أول من دفن هناك."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٣۔۔۔ محجن مولیٰ عثمان کی روایت ہے کہ میں حضرت عثمان (رض) کے ساتھ ان کی زمین میں تھا اتنے میں ایک دیہاتی عورت جو بدحالی سے دو چار تھی آپ کے پاس آئی اور کہنے لگی : مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے آپ (رض) نے فرمایا : اے محجن اسے باہر نکال دو میں نے عورت باہر نکال دی وہ پھر لوٹ آئی اور کہنے لگی : مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے آپ (رض) نے فرمایا : اے محجن اسے باہر نکال دو میں نے اسے باہر نکال دیا۔ وہ پھر واپس لوٹ آئی اور بولی : مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : اے محجن ! تیری ہلاکت میں اسے بدحالی سے دو چار دیکھتا ہوں جس نے اسے شر پر اکسایا ہے اسے لے جاؤ اور اسے کھانا کھلاؤ اور کپڑے پہناؤ میں عورت کو لے کر چل دیا اور آپ (رض) کے حکم کی تعمیل کی کھانا کھا کر عورت کی جان میں جان آئی۔ عثمان (رض) نے فرمایا : اس عورت کو ایک گدھا دو اور اس پر کھجور آنا اور کشمش لاد کر دو اور پھر اسے لے جاؤ اور جو لوگ دیہات میں جا رہے ہوں اس کو ان کے ہمراہ کر دو اور ان سے کہو کہ اسے اس کے خاندان تک پہنچا دو ۔ میں نے آپ (رض) کے حکم کی تعمیل کی اسی دوران جب میں اسے اپنے ساتھ لیے جا رہا تھا میں نے اس سے پوچھا : امیر المومنین کے سامنے تو نے جو اقرار کیا ہے اس کی کیا حقیت ہے ؟ وہ بولی اس کی کوئی حقیقت نہیں میں نے تو محض اس بدحالی کی وجہ سے ایسا کیا تھا جس نے مجھے دوچار کردیا تھا۔ (رواہ العقیلی)
36173- "أيضا" عن محجن مولى عثمان قال: كنت مع عثمان في أرضه فدخلت عليه أعرابية بضر2 فقالت: إني قد زنيت، فقال: أخرجها يا محجن! فأخرجتها، ثم رجعت فقالت: إني قد زنيت، فقال: أخرجها يا محجن! فأخرجتها، ثم رجعت فقالت: إني قد زنيت! فقال عثمان: ويحك يا محجن! أراها بضر يحمل على الشر، فاذهب بها فضمها إليك فأشبعها واكسها، فذهبت بها، ففعلت ذلك بها حتى رجعت إليها نفسها، ثم قال عثمان: أوقر لها حمارا من تمر ودقيق وزبيب ثم اذهب بها، فإذا مر قوم يفدون بادية أهلها فضمها إليهم، ثم قل لهم: يؤدوها إلى أهلها، ففعلت ذلك بها، فبينا أنا أسير بها إذ قلت لها: أتقرين بما أقررت به بين يدي أمير المؤمنين؟ قالت: لا، إنما قلت ذلك من ضر أصابني. "عق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٤۔۔۔ ” مسند عثمان “ حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں : اگر مجھے جنت و جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے اور مجھے پتہ نہ ہو کہ مجھے کس میں داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا تو یہ جانتے سے قبل میں پسند کروں گا کہ میں مٹی ہوجاؤں۔ (رواہ احمد بن حنبل فی الذھد)
36174- "أيضا" عن عثمان قال: لو أني بين الجنة والنار لا أدري إلى أيتهما يؤمر بي لاخترت أن أكون ترابا قبل أن أعلم إلى أيتهما أصير. "حم" في الزهد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٥۔۔۔ عبد الرحمن بن بولاء کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو فرماتے سنا کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء کی ایک چٹان پر کھڑے تھے چٹان ہلنے لگی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیا ہوا ؟ تجھ پر یا تو نبی کھڑا ہے یا صدیق کھڑا ہے یا شہید کھڑا ہے اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر (رض) عثمان، زبیر اور طلحہ (رض) ہیں۔ (رواہ ابن ابی عاصم)
36175- عن عبد الرحمن بن بولاء قال: سمعت عثمان بن عفان يقول: بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم على صخرة حراء وأبو بكر ففركت1 فقال: ما شأنك - أو - ما يفركك؟ إنما عليك نبي أو صديق أو شهيد وهو رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان والزبير وطلحة."ابن أبي عاصم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٦۔۔۔ یوسف ماجشون کی روایت ہے کہ ابن شہاب کہتے ہیں : اگر کسی وقت عثمان اور زید بن ثابت (رض) وفات پا جائے علم فرائض ہلاک ہوجاتا چونکہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ فرائض کا علم ان دو کے سوا کوئی نہیں رکھتا تھا۔ (رواہ ابن
36176- "أيضا" عن يوسف الماجشون قال: قال ابن شهاب: لو هلك عثمان وزيد بن ثابت في بعض الزمان لهلك علم الفرائض، لقد أتى على الناس زمان وما يعلمه غيرهما. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٧۔۔۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں : میں نے اپنے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے دس چیزیں چھپا رکھی ہیں بلاشبہ میں چوتھے نمبر پر اسلام لایا میں نے جیش عسرت کو جنگی سازوسامان سے لیس کیا میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں قرآن جمع کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیٹی میرے نکاح میں دی جب وہ وفات پاگئی تو دوسری بیٹی میرے نکاح میں دی میں نے گانا نہیں گایا اور نہ ہی اس کی تمنا کی جب سے میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دست اقدس پر بیعت کی ہے تب سے اپنا دایاں ہاتھ شرمگاہ پر نہیں رکھا جب سے اسلام لایا ہوں کوئی سال نہیں گزرنے پاتا مگر اس میں ضرور غلام آزاد کرتا ہوں میں نے جاہلیت میں زنا کیا اور نہ ہی اسلام میں۔ (رواہ یعقوب بن سفیان والخرائطی فی امتلال القلوب وابن عساکر)
36177- عن عثمان بن عفان قال: لقد اختبأت عند ربي عشرا: إني لرابع أربعة في الإسلام، ولقد جهزت جيش العسرة، ولقد جمعت القرآن على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولقد ابتنى رسول الله صلى الله عليه وسلم على بنته ثم توفيت فأنكحني الأخرى، وما تغنيت ولا تمنيت ولا وضعت يميني على فرجي منذ بايعت بها حبي رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا مرت سنة منذ استلمت إلا وأنا أعتق فيها رقبة إلا أن لا تكون عندي فأعتقها بعد ذلك، ولا زنيت في جاهلية ولا إسلام قط."يعقوب بن سفيان والخرائطي في اعتلال القلوب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٨۔۔۔ ” ایضا “ زبیر بن عبداللہ بن رھیمہ اپنی وادی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) پوری عمر روزے رکھتے تھے اور تمام روات عبادت میں مصروف رہتے تھے البتہ رات کے پہلے حصہ میں تھوڑی دیر کے لیے سو جاتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
36178- "أيضا" عن الزبير بن عبد الله بن رهيمة عن جدته قالت: كان عثمان يصوم الدهر ويقوم الليل إلا هجعة من أوله. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٧٩۔۔۔ سھل بن سعد (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن حضرت عثمان (رض) نے لوگوں کو واسطہ دے کر فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر اور میں احد پہاڑ پر چڑھے اچانک احد پہاڑ جنبش میں آگیا چونکہ اس پر محمد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر عثمان کھڑے تھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے احد ! ثابت قدم رہ تیرے اوپر ایک نبی ہے ایک صدیق ہے اور دو شہید ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36179- عن سهل بن سعد قال: ناشد عثمان الناس يوما فقال: أتعلمون أن النبي صلى الله عليه وسلم صعد أحدا وأبو بكر وعمر وأنا، فارتج أحد وعليه محمد النبي صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اثبت أحد! فما عليك إلا نبي وصديق وشهيدان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٠۔۔۔ ابن سیریم (رح) کے پاس حضرت عثمان بن عفان (رض) کا تذکرہ کیا گیا : ایک شخص بولا : لوگ تو عثمان (رض) کو گالیاں دیتے ہیں ابن سیرین (رح) نے فرمایا : ان لوگوں کا ناس ہوای سے شخص کو گالیاں دیتے ہیں جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کی جماعت کے ساتھ نجاشی کے پاس داخل ہو ان سب نے نجاشی کے دربار میں فتنہ بجا لایا بجز عثمان (رض) کے لوگوں نے ابن سیرین سے دریافت کیا : کہ وہ فتنہ کیا تھا انھوں نے جواب دیا جو شخص بھی نجاشی کے پاس داخل ہوتا تھا وہ سر سے سجدے کا اشارہ کرتا تھا لیکن عثمان (رض) نے اشارہ کرنے سے انکار کردیا۔ نجاشی نے کہا : تمہیں سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جیسا کہ تمہارے ساتھیوں نے سجدہ کیا ہے۔ آپ (رض) نے

فرمایا : میں اللہ عزوجل کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرسکتا۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن عساکر)
36180- "أيضا" عن ابن سيرين أنه ذكر عنده عثمان ابن عفان قال رجل: إنهم يسبونه فقال: ويحهم! يسبون رجلا دخل على النجاشي في نفر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فكلهم أعطاه الفتنة غيره قالوا له: وما الفتنة التي أعطوها؟ قال: كان لا يدخل عليه أحد إلا أومى إليه برأسه فأبى عثمان فقال: ما منعك أن تسجد كما سجد أصحابك؟ فقال: ما كنت لأسجد لأحد دون الله عز وجل. "ش، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨١۔۔۔ ” مسند علی (رض) نزال بن سبرہ کی روایت ہے کہ ہم نے حضرت علی (رض) سے حضرت عثمان (رض) کے متعلق دریافت کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کو ملا اعلیٰ (اوپر کی مخلوق) میں ذی النورین دامار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام سے پکارا جاتا ہے چونکہ ان کے نکاح میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو بیٹیاں تھیں اور آپ (رض) نے انھیں جنت میں گھر کی ضمانت دی ہے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36181- "مسند علي رضي الله عنه" عن النزال بن سبرة قال: سألنا عليا عن عثمان قال: ذاك امرؤ يدعى في الملأ الأعلى ذا النورين ختن رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنتيه ضمن له رسول الله صلى الله عليه وسلم بيتا في الجنة. أبو نعيم، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٢۔۔۔ ” ابو سعید مولائے قدامہ بن مظعون کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) کا ذکر چل پڑا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : آپ (رض) کی بہت ساری خوبیاں سبقت لے گئی ہیں جن کی پاداش میں اللہ تعالیٰ انھیں کبھی بھی بےیارو مددگار نہیں چھوڑ سکتا ہے۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف والحاکم فی الکنی وابن عساکر)
36182- عن أبي سعيد مولى قدامة بن مظعون قال: قال علي - وذكر عثمان - أما والله! لقد سبقت له سوابق لا يعذبه الله بعدها أبدا. ابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف والحاكم في الكنى، "كر".
tahqiq

তাহকীক: