কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬১৯২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٣۔۔۔ بشیر اسلمی کی روایت ہے کہ جب مہاجرین مدینہ منورہ پہنچے تو انھوں نے پانی کو کم یاب پایا تاہم قبیلہ بنی غفار کے ایک شخص کا چشمہ تھا جسے ” رومہ “ کہا جاتا تھا وہ شخص ایک مدغلہ کے بدلہ میں ایک مشکیزہ پانی بیچتا تھا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا : یہ چشمہ مجھے جنت میں ایک چشمے کے بدلہ میں بیج دو اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! میں عیالدار ہوں اور میرے پاس اس چشمے کے علاوہ آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اور نہ ہی میں کسب معاش کی طاقت رکھتا ہوں چنانچہ عثمان (رض) کو اس کی خبر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پینتیس ہزار (٣٥٠٠٠) درہم میں خرید لیا (اور عامۃ المسلمین کے لیے وقف کردیا) پھر آپ (رض) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر وہ چشمہ میں خرید لوں تو میرے لیے بھی اسی کی طرح جنت میں چشمہ ہوگا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جی ہاں عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ چشمہ میں نے خرید لیا ہے اور مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر)
36183- عن بشير الأسلمي قال: لما قدم المهاجرون المدينة استنكروا الماء وكانت لرجل من بني غفار عين يقال لها رومة وكان يبيع منها القربة بمد، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: بعنيها بعين في الجنة، فقال: يا رسول الله! ليس لي ولعيالي غيرها ولا أستطيع، فبلغ ذلك عثمان فاشتراها بخمس وثلاثين ألف درهم، ثم أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! أتجعل لي مثل الذي جعلته له عينا في الجنة إن اشتريتها؟ قال: نعم، قال: قد اشتريتها وجعلتها للمسلمين. "طب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٤۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی منبر پر تشریف لائے ضرور فرمایا کہ عثمان جنت میں جائیں گے۔ (رواہ ابن عساکر)
36184- عن جابر قال: ما صعد النبي صلى الله عليه وسلم المنبر قط إلا قال: عثمان في الجنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٥۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کا جنازہ لا گیا تاکہ آپ اس پر نماز جنازہ پڑھائیں حالانکہ وہ شخص آپکے صحابہ (رض) میں سے تھا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھانے سے انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی امت کے کسی آدمی کی نماز جنازہ نہیں چھوڑی بجز اس شخص کے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شخص عثمان سے بغض رکھتا تھا میں اس پر نماز نہیں پڑھتا) رواہ ابن النجار (
36185- عن جابر قال: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بجنازة رجل من أصحابه ليصلي عليه فأبى أن يصلي عليه فقيل: يا رسول الله! ما تركت الصلاة على أحد من أمتك إلا على هذا؟ قال: إن هذا كان يبغض عثمان فلم أصل عليه. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٦۔۔۔ اسود بن ہلاک کی روایت ہے کہ حیرہ میں ایک اعرابی اذان دیتا تھا اور اسے جبر کے نام سے پکارا جاتا تھا وہ کہنے لگا : یہ عثمان (رض) اس وقت تک وفات نہیں پائیں گے جب تک اس امت کے امر خلافت کے متولی نہ ہوجائیں اس سے کسی نے پوچھا تمہیں کہاں سے اس کا علم ہوا ؟ اس نے جواب دیا : چونکہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز فجر پڑھی جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم آپ کے سامنے ہو کر بیٹھ گئے آپ نے فرمایا : آج رات میرے صحابہ (رض) میں سے کچھ لوگوں کو میزان میں تولا گیا چنانچہ ابوبکر (رض) کا وزن کیا گیا وہ وزن میں پورے اترے پھر عمر کا وزن کیا گیا اور وہ

بھی وزن میں پورے اترے پھر عثمان کا وزن کیا گیا اور وہ بھی وزن میں پورے اترے۔ (رواہ ابن مندہ وابن عساکر)
36186- عن الأسود بن هلال قال: كان أعرابي يؤذن بالحيرة يقال له جبر فقال: إن هذا عثمان لا يموت حتى يلي هذه الأمة، فقيل له: من أين تعلم؟ فقال: لأني صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر فلما سلم استقبلنا بوجهه فقال: إن ناسا من أصحابي وزنوا الليلة فوزن أبو بكر فوزن ثم وزن عمر فوزن ثم وزن عثمان فوزن. ابن منده، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٧۔۔۔ عمار بن روبیہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عثمان (رض) کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا : کون ہے جو عثمان کی شادی کرائے کاش اگر میرے پاس تیسری بیٹی ہوتی عثمان کا میں اس سے نکاح کرا دیتا۔ (رواہ ابن عساکر)
36187- عن عمارة بن رويبة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو آخذ بيد عثمان فقال: ألا أبو أيم صالح أو أخوها يزوجها من عثمان فلو كان عندي ثالثة زوجته إياها. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٨۔۔۔ عمران بن حصین کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے غزوہ تبوک جسے ” جیش العسرہ “ یعنی تنگدست لشکر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ سازوسامان جنگی قوت اور غمخواری کا حکم دیا تھا ادھر عرب کے نصرانیوں نے ہرقل کے پاس اپنا وفد بھیج کر اسے پیغام دیا تھا کہ یہ شخص جس نے نبوت کا دعوی کر رکھا ہے ہلاکت کے قریب پہنچ گیا ہے چونکہ اس کے نام لیوا سخت قحط سالی سے بدحال ہیں ان کے اموال ختم ہوچکے ہیں اگر تم اپنے دین کی نصرت چاہتے ہو تو اس کے لیے یہی وقت ہے چنانچہ ہرقل نے اپنا ایک جرنیل بھیجا جسے ” صفار “ کہا جاتا تھا، اس کے ساتھ چالیس ہزار کا لشکر جرار تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے عرب کے مختلف شہروں میں خطوط بھیجے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر دن منبر پر تشریف لے جاتے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ” اللھم انک ان تھلک ھذا العصابۃ فلن تعبد فی الارض “ یا اللہ اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کردیا پھر زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی چونکہ لوگوں کے پاس جنگی قوت نہیں تھی، حضرت عثمان بن عفان رضی لالہ عنہ شام کی طرف تجارتی قافلہ روانہ کرنے کے لیے تیار تھے چنانچہ آپ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ دو سو اونٹ ساز و سامان سے لیس تیار کھڑے ہیں اور یہ دو سو اوقیہ چاندی ہے۔ (آپ انھیں قبول فرمائیں) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور جواب میں لوگوں نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دوسری جگہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دینے لگے۔ عثمان (رض) حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا نبی اللہ ! یہ ہیں دو سو اونٹ اور دو سو اوقیہ چاندی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بار پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور لوگوں نے بھی نعرہ بلند کیا اس کے بعد عثمان (رض) اونٹ لے آئے اور باقی نقدی مال رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ڈھیر کردیا عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا کہ آج کے بعد عثمان جو عمل بھی کریں انھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
36188- عن عمران بن حصين أنه شهد عثمان بن عفان أيام غزوة تبوك في جيش العسرة فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصدقة والقوة والتأسي وكانت نصارى العرب أكتبوا إلى هرقل: إن هذا الرجل الذي خرج ينتحل النبوة قد هلك وأصابتهم سنون فهلكت أموالهم فإن كنت تريد أن تلحق دينك فالآن، فبعث رجلا من عظمائهم يقال له الصنار وجهز معه أربعين ألفا فلما بلغ ذلك نبي الله صلى الله عليه وسلم كتب في العرب وكان يجلس كل يوم على المنبر فيدعو الله ويقول: اللهم إنك إن تهلك هذه العصابة فلن تعبد في الأرض فلم يكن للناس قوة، وكان عثمان بن عفان قد جهز عيره إلى الشام يريد أن يمتار1 عليها فقال: يا رسول الله! هذه مائتا بعير بأقتابها وأحلاسها ومائتا أوقية فحمد الله رسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم فكبر وكبر الناس، ثم قام مقاما آخر فأمر بالصدقة، فقام عثمان فقال: يا نبي الله! وهاتان مائتان ومائتا أوقية فكبر وكبر الناس، فأتى عثمان بالإبل وأتى بالمال فصبه بين يديه فسمعته يقول: لا يضر عثمان ما عمل بعد اليوم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٨٩۔۔۔ حضرت حذیفہ بن الیمان (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” جیش عسرت “ کے سلسلہ میں حضرت عثمان (رض) سے مدد لینے کے لیے پیغام بھیجا، عثمان (رض) نے دس ہزار دینار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ارسال کیے دینار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ڈھیر کر دئیے اور آپ نے ہاتھوں سے دیناروں کو اوپر نیچے الٹنا پلٹنا شروع کردیا اور حضرت عثمان کے لیے دعا کرنے لگے : یا اللہ عثمان کی مغفرت فرما دے جو کچھ تو نے پوشیدہ رکھا ہے یا ظاہر کیا ہے یا جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب اسے بخش دے اس کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اسے اس کی کوئی پروا نہ ہو۔ (رواہ بن عدی والداقطنی وابو نعیم فی فضائل الصحابۃ وابن عساکر)
36189- عن حذيفة بن اليمان قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم إلى عثمان يستعينه في جيش العسرة فبعث إليه عثمان بعشرة آلاف دينار فصبت بين يديه فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقلبها بين يديه ظهرا لبطن ويدعو له يقول: غفر الله لك يا عثمان! ما أسررت وما أعلنت وما أخفيت وما هو كائن إلى أن تقوم الساعة ما يبالي عثمان ما عمل بعد هذا. "عد، قط" وأبو نعيم في فضائل الصحابة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٠۔۔۔ حضرت کعب بن عجرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا آپ نے عنقریب ایک فتنہ کی آمد کا ذکر کیا پھر پاس سے ایک شخص گزرا اس نے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فتنہ کے وقت یہ شخص ہدایت پر ہوگا یا فرمایا کہ حق پر ہوگا میں اس شخص کی طرف لپکا اور اسے بازوؤں سے پکڑ لیا اور سیدھے منہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا میں نے عرض کیا : اس شخص کے متعلق آپ نے فرمایا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : جی ہاں چنانچہ وہ عثمان بن عفان (رض) تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36190- عن كعب بن عجرة قال: عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فذكر فتنة فقر بها ثم مر رجل مقنع الرأس فقال: وهذا يومئذ على الهدى - أو قال: على الحق، فقمت إلى الرجل فأخذت بعضديه وأقبلت بوجهه على النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: هذا؟ قال: نعم، فإذا هو عثمان بن عفان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩١۔۔۔” مسند کعب بن مرہ البھری “ کعب بن مرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عنقریب ایک فتنہ کا تذکرہ کیا اتنے میں ایک شخص گزرا دوپہر کے وقت شدت کی گرمی کی وجہ سے اس نے چادر سے اپنا سر ڈھانپ رکھا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شخص اور اس کے ساتھی اس دن ہدایت پر ہوں گے میں اٹھا اور اس شخص کو کاندھوں سے پکڑ لیا اور سر سے چادر ہٹائی اور سیدھے منہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ اس شخص کی بات کر رہے تھے ؟ فرمایا : جی ہاں چنانچہ وہ عثمان (رض) تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ونعیم بن حماد فی الفتن)
36191- "مسند كعب بن مرة البهزي" قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر فتنة حاضرة فقر بها، فمر رجل مقنع رأسه بردائه نصف النهار في شدة الحر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا وأصحابه يومئذ على الهدى، فقمت فأخذت بمنكبيه وحسرت عن رأسه وأقبلت بوجهه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله! هذا؟ قال: نعم، فإذا هو عثمان. "ش" ونعيم بن حماد في الفتن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٢۔۔۔ ھرم بن حارث و اسامہ بن حریم ، مرہ بہری (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستے پر جا رہے تھے آپ نے فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے جب زمین ایک سخت فتنہ کی لپیٹ میں ہوگی اور اس کی شدت بیل کے سینگوں کی طرح ہوگی ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس وقت ہم کیا کریں آپ نے فرمایا : اس وقت تم اس شخص اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل جاؤ راوی کہتے ہیں : میں نے جلدی سے لپک کر اس شخص کو پکڑ لیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ اس شخص کی بات کر رہے ہیں ؟ فرمایا : جی ہاں اسی کی بات کررہا ہوں چنانچہ وہ حضرت عثمان (رض) تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
36192- عن هرم بن الحارث وأسامة بن حريم عن مرة البهزي قال بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم في طريق من طرق المدينة فقال: كيف تصنعون في فتنة تثور في أقطار الأرض كأنها صياصي1 بقر؟ فقالوا: فنصنع ماذا يا رسول الله؟ فقال: عليكم بهذا وأصحابه، قال: فأسرعت حتى عطفت على الرجل فقلت: هذا يا رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: هذا فإذا هو عثمان. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٣۔۔۔ ابو قلابہ کی روایت ہے کہ جب حضرت عثمان (رض) شہید کیے گئے تو مرہ بن کعب (رض) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اگر میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک حدیث نہ سنی ہوتی ، نہ کھڑا ہوتا چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عنقریب ایک فتنہ کے وقوع کا ذکر کیا اتنے میں ایک شخص گزرا اس نے چادر سے سر ڈھانپ رکھا تھا (اسے دیکھ کر) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شخص اور اس کے ساتھی اس دن حق پر ہوں گے میں نے آکر اس شخص کو پکڑ لیا اور سیدھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا، میں نے عرض کیا : یہ شخص ! فرمایا : جی ہاں چنانچہ وہ عثمان (رض) تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
36193- عن أبي قلابة قال: لما قتل عثمان قام مرة بن كعب فقال: لولا حديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قمت إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر فتنة فقر بها فمر رجل مقنع بردائه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هذا وأصحابه يومئذ على الحق فانطلقت فأخذت بوجهه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: هذا قال: نعم، فإذا هو عثمان. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٤۔۔۔ ” مسند سلمہ بن الاکوع “ ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کے لیے اپنے ایک ہاتھ کے ذریعے دوسرے ہاتھ پر بیعت کی اور فرمایا : یا اللہ ! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام میں مصروف ہے۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر واوردہ الہیثمی فی مجمع الروائد ٨٤٩)
36194- "مسند سلمة بن الأكوع" عن إياس بن سلمة عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بايع لعثمان بن عفان بإحدى يديه على الأخرى وقال: اللهم! إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك. "طب، كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٥۔۔۔ شداد بن اوس (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن میں بیٹھا ہوا تھا اچانک جبرائیل تشریف لائے اور مجھے اپنے دائیں کاندھے پر سوار کرکے لے گئے اور مجھے جنت میں داخل کردیا میں جنت ہی میں تھا کہ اتنے میں مجھے ایک سیب دکھائی دیا دیکھتے ہی دیکھتے وہ دو حصوں میں پھٹ گیا اس سے ایک کو بصورت لڑکی بر آمد ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے حسن و جمال میں اس سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا وہ عجب خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہی تھی جو نہ پہلوں نے سنی نہ پچھلوں میں میں نے کہا : تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا میں حور ہوں مجھے میرے رب نے اپنے عرش کے نور سے پیدا فرمایا ہے میں نے کہا : تو کس کے لیے ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں امین خلیفہ مظلوم عثمان بن عفان کے لیے ہوں۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36195- عن شداد بن أوس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: بينا أنا جالس إذ أتاني جبريل فاحتملني على عاتقه الأيمن فأدخلني جنة ربي - وفي لفظ: جنة عدن، فبينا أنا فيها إذ رمقت بعيني تفاحة فانفلقت التفاحة نصفين فخرجت منها جارية، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لم أر أحسن منها حسنا ولا أجمل منها جمالا تسبح الله بتسبيح لم يسمع الأولون والآخرون بمثله، قلت: ما أنت؟ قالت: أنا الحوراء خلقني ربي من نور عرشه، قلت: فلمن أنت؟ قالت: أنا للأمين الخليفة المظلوم عثمان بن عفان. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٦۔۔۔ حضرت ابو مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے لوگوں کو سخت بھوک و مشقت پیش آئی حتیٰ کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر مشقت کے آثار دیکھے اور منافقین کے چہروں پر فرحت دیکھی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس حالت میں دیکھا تو فرمایا : اللہ کی قسم ! سورج غروب ہونے نہیں پائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے پاس رزق بھیج دے گا حضرت عثمان (رض) کو اس کا علم ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچ فرماتے ہیں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چودہ اونٹ بمعہ کھانے پینے کی اشیاء کے خرید لیے اور ان میں سے نو اونٹ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روانہ کر دئیے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھاتو فرمایا : یہ کیا ہے ؟ جواب دیا گیا حضرت عثمان (رض) نے آپ کی بطور ہدیہ روانہ کیے ہیں چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ بشاشت سے کھل گیا جب کہ منافقین کے چہرے درماندگی سے دو چار ہوگئے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کیلئے بلند کیے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی آپ نے حضرت عثمان (رض) کے لیے ایسی دعا فرمائی کہ میں نے اس سے قبل ایسی دعا سنی نہ اس کے بعد آپ فرماتے یا اللہ ! عثمان کو عطا فرمایا اللہ عثمان کے ساتھ ایسا کر۔ (رواہ ابن عساکر)
36196- عن أبي مسعود قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزاة فأصاب الناس جهد حتى رأيت الكآبة في وجوه المسلمين والفرح في وجوه المنافقين فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: والله! لا تغيب الشمس حتى يأتيكم الله برزق فعلم عثمان أن الله ورسوله سيصدقان فاشترى عثمان أربع عشرة راحلة بما عليها من الطعام فوجه إلى النبي صلى الله عليه وسلم منها بتسع فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما هذا؟ قال أهدى إليك عثمان، فعرف الفرح في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم والكآبة في وجوه المنافقين فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم قد رفع يديه حتى رئي بياض إبطيه يدعو لعثمان دعاء ما سمعته دعا لأحد قبله ولا بعده اللهم! أعط عثمان، اللهم! افعل بعثمان. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٧۔۔۔ محمد بن عبداللہ مطلب بن عبداللہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ایک دن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی رقیہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت رقیہ (رض) حضرت عثمان (رض) کے نکاح میں تھیں ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی وہ بولیں : ابھی ابھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے تشریف لے گئے ہیں میں نے آپ کے سر مبارک میں کنگھی کی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم نے ابو عبداللہ کو کیسا پایا ؟ میں نے عرض کیا : اے ابا جان : میں نے انھیں بہت بہتر پایا ہے۔ آپ نے فرمایا : اس کا اکرام کرتی رہو چونکہ وہ اخلاق میں میرے ساتھ صحابہ میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم فی المعرفۃ والدیلمی وابن عساکر وقانع قال البخاری لا اراہ حفظہ لان رقبۃ مانت ایام بدر و ابوہریرہ ھاجر بعد ذالک بحو خمس سنین ایام خیبر ولا یعرف لمطلب سماعد من ابوہریرہ ولا لمحمد ابن المطلب ولا تقوم بہ الحجۃ انتھی)
36197- عن محمد بن عبد الله عن المطلب بن عبد الله عن أبي هريرة قال: دخلت على رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأة عثمان وفي يدها مشط فقالت: خرج من عندي رسول الله صلى الله عليه وسلم آنفا وقد رجلت رأسه بهذا المشط فقال كيف تجدين أبا عبد الله؟ قلت: بخير يا أبة! قال: أكرميه فإنه من أشبه أصحابي بي خلقا. "طب" وأبو نعيم في المعرفة والديلمي، "كر" وقال: قال خ: لا أرى حفظه لأن رقية ماتت أيام بدر وأبو هريرة هاجر بعد ذلك بنحو من خمس سنين أيام خيبر ولا يعرف للمطب سماعا من أبي هريرة ولا لمحمد بن المطلب ولا تقوم به الحجة انتهى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٨۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک فتنہ کا تذکرہ کیا اور اس سے بہت ڈرایا۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا : ہم میں سے جو شخص اس فتنہ کو پائے آپ اسے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تمہارے اوپر لازم ہے کہ اس وقت تم امین اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ چمٹ جاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عثمان (رض) کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)
36198- عن أبي هريرة قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنة فحذر منها، قالوا فما تأمر من أدركها منا؟ قال: عليكم بالأمين وأصحابه وهو يشير إلى عثمان بن عفان.أبو نعيم، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦١٩٩۔۔۔ حبیب کاتب مالک ، ابن شھاب، سعید بن المسیب کی سند سے حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت منقول ہے کہ جب حضرت عثمان بن عفان (رض) کی بیوی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی وفات پاگئیں تو عثمان (رض) رونے لگے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کیوں رو رہے ہو عثمان (رض) نے عرض کیا میں اس لیے رو رہا ہوں چونکہ آپ سے میرا سسرالی رشتہ منقطع ہوچکا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس یہ جبرائیل کھڑے ہیں اور مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم سنا رہے ہیں کہ ہم نے اس کی بہن کی تمہارے ساتھ شادی کردی ہے۔ (رواہ ابن عساکر وقال : ذکر ابوہریرہ فیہ غیر محفوظ والمحفوظ عن سعید مرسلا ثم روی من طریق ابن لھیعۃ)
36199- عن حبيب كاتب مالك عن مالك عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة أن عثمان بن عفان لما ماتت امرأته بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم بكى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يبكيك؟ قال: أبكي على انقطاع صهري منك، قال: فهذا جبريل يأمرني بأمر الله أن نزوجك أختها. "ذكر وقال: "كر" أبي هريرة فيه غير محفوظ والمحفوظ عن سعيد مرسلا ثم روي من طريق ابن لهيعة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٠۔۔۔ عقیل ابن شھاب سعید بن المسیب روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حضرت عثمان بن عفان (رض) سے ملاقات ہوئی عثمان (رض) غمزدہ اور پریشان تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عثمان تمہارا کیا حال ہے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں کیا جو پریشانی مجھے پیش آئی ہے لوگوں میں سے کسی کو ایسی پریشانی پیش آئی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی جو میرے نکاح میں تھی وہ وفات پاچکی ہے اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت کرے جس کی وجہ سے میری پشت کمزور ہوگئی اور سسرالی رشتہ جاتا رہا جو میرے اور آپ کے درمیان قائم تھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عثمان ! تم یہ بات دل سے کہتے ہو ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ! بخدا میں یہ بات دل سے کہتا ہوں چنانچہ اسی دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عثمان (رض) کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) سے فرمایا : اے عثمان ! یہ ہیں جبرائیل مجھے اللہ تعالیٰ کا حکم سنا رہے ہیں کہ میں اس کی بہن ام کلثوم (رض) کا تمہارے ساتھ نکاح کر دوں اور اس کا مہر بھی اسی جیسا ہو چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کا نکاح ام کلثوم (رض) سے کرا دیا۔ (قال ابن عساکر : ھذا مع ارسالہ اصح من حدیث مالک)
36200- عن عقيل عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لقي عثمان بن عفان وهو مغموم لهفان: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما شأنك يا عثمان؟ قال: بأبي أنت يا رسول الله وأمي! وهل دخل على أحد من الناس ما دخل علي، توفيت بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم عندي رحمها الله وانقطع الظهر وذهب الصهر فيما

بيني وبينك إلى آخر الأبد، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتقول ذلك يا عثمان؟ قال: أي والله! أقوله يا رسول الله! فبينما هو يحاوره إذ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعثمان: هذا جبريل يا عثمان! يأمرني عن أمر الله أن أزوجك أختها أم كلثوم على مثل صداقها وعلى مثل عشرتها فزوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم إياها. "قال "كر": هذا مع إرساله أصح من حديث مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠١۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی دوسری بیٹی جو کہ حضرت عثمان کے نکاح میں تھی کی قبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے ابو اخوایم عثمان کی شادی کرا دو ۔ اگر دس بیٹیاں ہوتیں میں عثمان سے ان کی شادی کرا دیتا میں ان کی شادی آسمانی وحی کے ذریعے کرتا۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
36201- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم وقف على قبر ابنته الثانية التي كانت عند عثمان فقال: ألا أبو أيم ألا أخو أيم يزوجها عثمان ولو كن عشرا لزوجتهن عثمانّ! وما زوجتهن إلا بوحي من السماء. "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٢۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں : عثمان بن عفان (رض) نے دو مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنت خریدی ہے رومہ کے کنویں والے دن اور جیش عشرت کے دن۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٥١٩ حافظ ذھبی کہتے ہیں اس حدیث کی سند میں عیسیٰ بن مسیب راوی ہے ابوداؤد وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
36202- عن أبي هريرة قال: اشترى عثمان بن عفان من رسول الله صلى الله عليه وسلم الجنة مرتين بيع الخلق1 يوم رومة ويوم جيش العسرة. "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক: