কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬২১২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٣۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عنقریب ایک فتنہ کی آمد کا ذکر کیا اتنے میں ایک شخص اپنا سر ڈھانپے ہوئے آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ شخص اور اس کے ساتھ اس دن حق پر ہوں گے چنانچہ میں نے عثمان (رض) کو کاندھے سے پکڑ کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لایا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ آپ اس شخص کے متعلق فرما رہے تھے فرمایا : جی ہاں ؟ (رواہ ابن عساکر)
36203- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر فتنة فقر بها فجاء رجل مقنع رأسه فقال: هذا وأصحابه يومئذ على الحق، فأخذت بكتفي عثمان ثم رددت وجهه على النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: هذا يا رسول الله؟ قال نعم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٤۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ میرے بعد بہت سارے فتنے اور امور رونما ہوں گے ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہمارے لیے جائے پناہ کہاں ہوگی ارشاد فرمایا : امین اور اس کے ساتھ تمہاری جائے پناہ ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان بن عفان (رض) کی طرف اشارہ کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36204- عن أبي هريرة قال: أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يكون بعدي فتن وأمور، قلنا: فأين المنجأ منها يا رسول الله؟ قال: إلى الأمين وضربه - وأشار إلى عثمان بن عفان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٥۔۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سب سے پہلے حضرت عثمان بن عفان (رض) نے ہجرت کی ہے جس طرح کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوط (علیہ السلام) نے ہجرت کی تھی۔ (رواہ العقیلی وابن عدی ابن عساکر)
36205- عن ابن عباس قال: أول من هاجر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عثمان بن عفان كما هاجر لوط إلى إبراهيم. "عق، عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٦۔۔۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کسی طرف) تشریف لے جا رہے تھے جب کہ حضرت عثمان (رض) ایک جگہ بیٹھے ام کلثوم بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رو رہے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کے دو صحابہ ابوبکر و عمر (رض) بھی تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عثمان ! کیوں رو رہے ہو ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس لیے رو رہا ہوں چونکہ آپ کے ساتھ قائم سسرالی رشتہ ٹوٹ چکا ہے آپ نے فرمایا : دو نہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میرے پاس سو (١٠٠) بیٹیاں ہوتیں ایک کے بعد دوسری مرتی تو میں بھی ایک کے بعد دوسری کا نکاح تجھ سے کرتا حتیٰ کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچتی یہ جبرائیل امین ہیں یہ مجھے بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں اس کی بہن رقیہ (رض) کا نکاح تم سے کرادوں اور اس کا مہر بھی وہی مقرر کروں جو اس کی بہن کا تھا۔ (رواہ ابن عساکر وقال کذا قال : والمحفوظ ان الاولی رقیۃ)
36206- عن ابن عباس قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم وإذا عثمان جالس يبكي على أم كلثوم بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال: ومع رسول الله صلى الله عليه وسلم صاحباه يعني أبا بكر وعمر - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يبكيك يا عثمان؟ قال: أبكي يا رسول الله أنه انقطع صهري منك، قال: لا تبك، والذي نفسي بيده! لو أن عندي مائة بنت تموت واحدة بعد واحدة زوجيك أخرى حتى لا يبقى من المائة شيء، هذا جبريل أخبرني أن الله عز وجل أمرني أو أزوجك أختها رقية وأجعل صداقها مثل صداق أختها. "كر"، وقال: كذا قال المحفوظ إن الأولى رقية.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٧۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی دو بیٹیوں کی شادی عثمان سے کرا دوں۔ (رواہ ابن عدی والدارقطنی وابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ ٩٢٧ و ضعیف الجامع ١٥٧٢
36207- عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن الله أوحى إلي أن أزوج كريمتي من عثمان. "عد، قط، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٨۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنی دو بیٹیوں کا نکاح عثمان بن عفان سے کرا دوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36208- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أمرن ي ربي أن أزوج كريمتي من عثمان بن عفان. " ... كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٠٩۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ام کلثوم (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! فاطمہ (رض) کے شوہر سے افضل ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا : تمہارے شوہر سے اللہ اور اللہ کا رسول محبت کرتا ہے اور وہ بھی اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے میں تمہیں خبر دیتا ہوں کہ اگر تم جنت میں داخل ہوگئیں تم اس کا مقام دیکھ لوگی لوگوں میں بلند مرتبہ والا کسی کو بھی نہیں دیکھو گی۔ (رواہ ابن عساکر)
36209- عن ابن عباس أن أم كلثوم جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! زوج فاطمة خير من زوجي، فأسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم مليا2 ثم قال: زوجك يحبه الله ورسوله ويحب الله ورسوله، فأرأيتك لو دخلت الجنة فرأيت منزله لم تري أحدا من الناس يعلوه في منزله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٠۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ (رض) کیا تم اس سے نہیں حیاء کرتی ہو جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں ؟ بلاشبہ فرشتے عثمان سے حیاء کرتے ہیں۔ (رواہ الرویاتی وابن عدی وابن عساکر)
36210- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا عائشة! ألا تستحيي ممن تستحيي منه الملائكة؟ إن الملائكة لتستحيي من عثمان. الروياني، "عد، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١١۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارے پاس ایک ایسا شخص نمودار ہونے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے چنانچہ عثمان عفان (رض) نمودار ہوئے ایک روایت میں ہے کہ اس میں کونے سے تمہارے پاس ایک ایسا شخص داخل ہوگا جو اہل جنت میں سے ہے چنانچہ حضرت عثمان بن عفان (رض) داخل ہوئے۔ (رواہ ابن عساکر وابن النجار)
36211- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يطلع عليكم رجل من أهل الجنة! فطلع عثمان بن عفان - وفي لفظ: أول من يدخل عليكم من هذا الفج رجل من أهل الجنة فدخل عثمان بن عفان. "كر" وابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٢۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام جحفہ میں اترے تو آپ ایک حوض میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ ابوبکر (رض) و عمر (رض) بھی تھے اور یہ بھی پائی میں ڈبکیاں لینے لگے حضرت عثمان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بڑھے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کو گلے لگا لیا اور فرمایا : یہ میرا بھائی ہے اور میرے ساتھ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36212- عن ابن عباس قال: لما نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجحفة فدخل في غدير ومعه أبو بكر وعمر يتماقلان - أي يغوصان في الماء - فأهوى عثمان إلى ناحية رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعتنقه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هذا أخي ومعي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٣۔۔۔ مہلب بن ابی صفرہ کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے سوال کیا : آپ لوگ عثمان (رض) کو دنیا میں کیوں بلندو عالی مقام دیتے ہیں ؟ صحابہ (رض) نے جواب دیا چونکہ عثمان (رض) کے علاوہ تمام اولین و آخرین میں کوئی شخص ایسا نہیں جس نے کسی نبی کی دو بیٹیوں کے ساتھ شادی کی ہو۔ (رواہ ابن عساکر)
36213- عن المهلب بن أبي صفرة قال: سألت أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لم قلتم في عثمان أعلاها فوقا - أي حظا ونصيبا من الدنيا -؟ قالوا: لأنه لم يتزوج رجل من الأولين والآخرين ابنتي نبي غيره. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٤۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر میں تشریف فرما تھے آپ پر صرف ایک ازار تھا جو ٹانگوں کے درمیان ڈال رکھا تھا جب کہ آپ کی رانیں ازار سے باہر تھیں اتنے میں ابوبکر نے اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اجازت دی اور وہ گھر میں داخل ہوگئے پھر عمر (رض) تشریف لائے اور انھیں بھی آپ نے اجازت مرحمت فرمائی اور وہ بھی اندر داخل ہوگئے پھر عثمان (رض) تشریف لائے آپ نے انھیں اجازت دی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کو دیکھا تو آپ جلدی سے کھڑے ہوئے اور گھر میں داخل ہوگئے آپ کا یہ انداز حضرت عائشہ (رض) پر گراں گزرا جب یہ حضرات گھر سے چل دئیے تو حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ابوبکر و عمر (رض) آپ کے پاس تشریف لائے مگر آپ کی حالت میں کوئی تغیر نہیں پیدا ہوا لیکن جب عثمان (رض) تشریف لائے آپ فوراً کھڑے ہوگئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ (رض) کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ بلاشبہ فرشتے عثمان سے حیاء کرتے ہیں۔ (رواہ ابن جریر
36214- عن ابن عباس قال: جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيته ليس عليه إلا إزار فطرحه بين رجليه وفخذاه خارجتان فجاء أبو بكر يستأذن عليه فأذن له فدخل، ثم جاء عمر فأذن له فدخل، ثم جاء عثمان فأذن له فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم قام مسرعا حتى دخل البيت، فشق ذلك على عائشة، فلما خرج القوم قالت: يا رسول الله! دخل عليك أبو بكر وعمر فلم تغير عن حالك فلما جاء عثمان قمت، فقال: يا عائشة! ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكة! إن الملائكة تستحيي من عثمان. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٥۔۔۔ حفصہ بن عمر (رض) کے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن میرے پاس تشریف فرما تھے آپ نے کپڑا اپنی رانوں کے درمیان ڈال رکھا تھا اتنے میں ابوبکر (رض) تشریف لائے اور اجازت طلب کی آپ نے انھیں اجازت دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی حالت پر بیٹھے رہے پھر عمر (رض) آئے پھر علی آئے پھر آپ کے صحابہ (رض) میں سے کچھ لوگ آئے آپ بدستور اپنی حالت پر بیٹھے رہے پھر عثمان (رض) آئے انھوں نے اجازت طلب کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑا کھسکا کر ٹانگوں پر ڈال دیا پھر عثمان (رض) کو اجازت دی چنانچہ یہ سب حضرات آپس میں بات چیت کرتے رہے اور پھر اٹھ کر چلے گئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ابوبکر عمر علی اور آپ کے بقیہ صحابہ اندر آئے آپ اپنی حالت پر بیٹھے رہے لیکن جب عثمان (رض) آئے تو آپ نے کپڑا پنڈیوں پر کھسکا لیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو یعلی وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر (
36215- عن حفصة بنت عمر قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم عندي ذات يوم جالسا قد وضع ثوبه بين فخذيه فجاء أبو بكر فاستأذن فأذن له وهو على هيئته، ثم عمر مثل هذه ثم علي ثم أناس من أصحابه والنبي صلى الله عليه وسلم على هيئته، ثم جاء عثمان فاستأذن فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثوبه فتجلله ثم أذن له، فتحدثوا ثم خرجوا، فقلت: يا رسول الله! جاء أبو بكر وعمر وعلي وسائر أصحابك وأنت على هيئتك، فلما جاء عثمان تجللت ثوبك، فقال: ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكة؟ "حم، ع" وأبو نعيم في المعرفة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٦۔۔۔ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سب سے پہلے حضرت عثمان (رض) نے ہجرت کی جیسا کہ لوط (علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف ہجرت کی تھی۔ (رواہ ابن عساکر)
36216- عن ابن عباس قال: أول من هاجر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم عثمان بن عفان كما هاجر لوط إلى إبراهيم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٧۔۔۔ عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں نے چار دن تک کوئی چیز نہ کھائی حتیٰ کہ بچے چیخنے لگے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ گھر والوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا میرے بعد تم نے کوئی چیز پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا : بھلا ہم کہاں سے پاتے اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ہاتھ پر کسی چیز کو نہ لائے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کیا اور حالت انقباض میں نکل گئے پھر کبھی ایک جگہ نماز پڑھی اور کبھی دوسری جگہ اور پھر دعا میں مصروف ہوگئے چنانچہ ان کے آخری حصہ میں عثمان (رض) ہمارے پاس تشریف لائے اجازت طلب کی میں نے چاہا کہ معاملہ عثمان (رض) سے پوشیدہ رکھوں لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ یہ مالدار مسلمانوں میں سے ہیں شاید اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر ہمارے لیے کوئی مال بھیجا ہو میں نے انھیں اجازت دی اندر آکر فرمایا : اے اماں جان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہاں ہیں ؟ میں نے کہا : اے بیٹا ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں نے چار دنوں سے کوئی چیز نہیں کھائی پھر میں نے عثمان (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق خبر دی عثمان (رض) رونے لگے اور پھر فرمایا اے المومنین ! اس دنیا کا ناس ہو جب آپ پر یہ مصیبت نازل ہوئی ہے تو آپ نے مجھے عبد الرحمن بن عوف ثابت بن قیس اور ہم جیسے دوسرے مالدار مسلمانوں کو خبر کیوں نہیں کی عثمان (رض) گھر سے باہر نکل گئے اور ہمارے لیے آٹا گندم اور کھجور کے بہت سارے تھیلے بھیجے کھال اترئی ہوئی ایک بکری بھی بھیجیں ایک تھیلی بھیجی جس میں تین سو درہم تھے پھر کہا : کہ یہ سامان تمہیں جلدی میں بھیجا ہے جب کہ عثمان (رض) خود روٹیاں اور بھونا ہوا بہت سا گوشت لے کر آئے اور کہا : یہ کھاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بھی رکھو پھر مجھے قسم دے کہ کہا جب بھی ایسی حالت ہو مجھے ضرور خبر کرو تھوڑی دیر بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : اے عائشہ ! میرے بعد تم نے کوئی چیز پائی ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے علم تھا کہ جب آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے دیکھا کہ اتنا آٹا گندم اور کھجوریں ایک تھیلی جس میں تین سو درہم روٹیاں اور بھونا ہوا گوشت فرمایا کس نے دیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : عثمان بن عفان (رض) میرے پاس آئے میں نے انھیں خبر کی وہ رونے لگے پھر مجھے قسم دی کہ جب بھی ایسی حالت ہو میں انھیں ضرور خبر کروں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے نہیں اور فوراً مسجد کی طرف چل پڑے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے، یا اللہ میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔ تین

بار یہ دعا فرمائی۔ (رواہ ابو نعیم فی فضائل الصحابۃ وابن عساکر وابن قدامہ فی کتاب البکاء والرقۃ وابو نعیم)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے الشریۃ ٣٩١۔ ٣٩٢ والجامع المصنف ٣٥٨۔
36217- عن عائشة قالت: مكث آل محمد صلى الله عليه وسلم أربعة أيام ما طعموا شيئا حتى تضاغى1 صبيانهم فدخل عليهم النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا عائشة! هل أصبتم بعدي شيئا؟ فقلت: من أين إن لم يأتنا الله به على يديك؟ فتوضأ وخرج مستحيا2 يصلي ههنا مرة وههنا مرة يدعو، فأتانا عثمان من آخر النهار فاستأذن، فهممت أن أحجبه ثم قلت: هو رجل من مكاثير المسلمين لعل الله ساقه إلينا ليجري لنا على يديه خيرا فأذنت له، فقال: يا أماه! أين رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: يا بني! ما طعم آل محمد مذ أربعة أيام شيئا فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم متغيرا ضامر البطن، فأخبرته بما قال لها وبما ردت عليه، فبكي عثمان ثم قال: مقتا للدنيا يا أم المؤمنين! ما كنت بحقيقة أن ينزل بك هذا ثم لا تذكريه لي ولعبد الرحمن ابن عوف ولثابت بن قيس ونظرائنا من مكاثير المسلمين، ثم خرج فبعث إلينا بأحمال من الدقيق وأحمال من الحنطة وأحمال من التمر وبمسلوخ1 وثلاثمائة في صرة ثم قال: هذه يبطيء عليكم - فأتانا بخبز وشواء كثير فقال: كلوا أنتم هذا وضعوا - لرسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يجيء ثم أقسم علي أن لا يكون مثل هذا إلا أعلمته إياه، ودخل رسول الله فقال: يا عائشة! هل أصبتم بعدي شيئا؟ قلت: نعم يا رسول الله! قد علمت أنك إنما خرجت تدعو الله ولقد علمت أن الله لن يردك عن سؤالك، قال: فما أصبتم؟ قلت: كذا وكذا حمل بعير دقيقا وكذا وكذا حمل بعير حنطة وكذا وكذا حمل بعير تمرا وثلاثمائة درهم في صرة وخبز وشعواء كثير، فقال: ممن؟ قلت من عثمان بن عفان دخل علي فأخبرته فبكى وذكر الدنيا بمقت وأقسم علي أن لا يكون فينا مثل هذا إلا أعلمته فما جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى خرج إلى المسجد ورفع يديه وقال: اللهم! إني قد رضيت عن عثمان فارض عنه - ثلاثا. "أبو نعيم في فضائل الصحابة، "كر" وابن قدامة في كتاب البكاء والرقة، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا کہ آپ کی بغلیں دکھائی دینے لگیں یہ حالت تب ہوتی جب آپ حضرت عثمان بن عفان کے لیے دعا فرما رہے ہوتے۔ (رواہ ابن عساکر)
36218- عن عائشة قالت: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم رافعا يديه حتى يبدو ضبعه إلا عثمان بن عفان إذا دعا له. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢١٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں لینے ہوئے تھے جب کہ آپ کی رانوں یا پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا اتنے میں ابوبکر (رض) نے اجازت طلب کی آپ نے انھیں اجازت مرحمت فرمائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی حالت پر باتیں کرتے رہے پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی آپ نے انھیں اجازت دی اور اسی حالت پر لیٹے ہوئے باتیں کرتے رہے پھر عثمان (رض) نے اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور کپڑے درست کرلیے عثمان (رض) داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے جب یہ حضرات چلے گئے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ابوبکر گھر میں داخل ہوئے آپ بیٹھے نہیں اور نہ ہی کوئی پروا کی پھر عمر (رض) داخل ہوئے آپ ملے نہیں اور نہ ہی پروا کی لیکن جب عثمان داخل ہوئے آپ بیٹھ گئے اور کپڑے بھی درست کرلیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ (رواہ مسلم وابو یعلی وابو داؤد وابن جریر)
36219- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مضطجعا في بيته كاشفا عن فخذيه أو ساقيه فاستأذن أبو بكر فأذن له وهو على تلك الحال فتحدث، ثم استأذن عمر فأذن له وهو كذلك فتحدث، ثم استأذن عثمان فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وسوى ثيابه فدخل فتحدث، فلما خرج قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله! دخل أبو بكر فلم تجلس ولم تباله ثم دخل عمر فلم تهش له ولم تباله ثم دخل عثمان فجلست وسويت ثيابك! فقال: ألا أستحيي من رجل تستحيي منه الملائكة. "م ، "عد" وابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٠۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ابوبکر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی آپ کی رانوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا آپ نے ابوبکر (رض) کو اجازت دی پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی آپ نے انھیں بھی اجازت دی اور آپ اسی حالت پر بیٹھے رہے پھر عثمان (رض) نے اجازت طلب کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور رانوں پر کھینچ لیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گویا آپ کو ناپسند ہے کہ عثمان آپ کو اس حالت میں دیکھ لیتے ارشاد فرمایا : عثمان ستر کے خوگر ہیں حیا دار ہیں حتیٰ کہ فرشتے بھی ان سے حیاء کرتے ہیں۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36220- عن عائشة قالت: استأذن أبو بكر على النبي صلى الله عليه وسلم وهو كاشف عن فخذه فأذن له، ثم استأذن عمر فأذن له وهو كهيئته، ثم استأذن عثمان فأهوى إلى ثوبه فجذبه، فقلت: يا رسول الله! كأنك كرهت أن يراك عثمان، فقال: إن عثمان ستير حي تستحيي منه الملائكة. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৩০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تھے اور ہم اپنے اوپر ایک ہی لحاف اوڑھے ہوئے تھے اتنے میں ابوبکر آئے اجازت طلب کی گھر میں داخل ہوئے اور پھر نکل گئے پھر عثمان آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے کپڑے اپنے اوپر درست کرلو پھر عثمان داخل ہوئے اور پھر باہر نکل گئے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ : ابوبکر آئے آپ نے انھیں اجازت دے دی جب کہ عثمان آئے آپ نے انھیں اس وقت تک اجازت نہیں دی جب تک کہ میں نے اپنے اوپر کپڑے نہیں درست کرلیے آپ نے فرمایا : عثمان سے اللہ تعالیٰ حیاء کرتا ہے میں بھی ان سے حیاء کرتا ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36221- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان معها في لحاف إذ جاء أبو بكر يستأذن له فدخل وخرج، وجاء عثمان فقال: شدي عليك ثيابك، فدخل وخرج، فقلت: يا رسول الله! جاء أبو بكر فأذنت له وجاء عثمان فلم تأذن له حتى شددت علي ثيابي! فقال: إن عثمان يستحيي من الله وإني أستحيي منه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৩১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٢۔۔۔ ام کلثوم بنت ثمامہ کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا : ہم آپ سے عثمان (رض) کے بارے میں سوال کرتے ہیں چونکہ لوگ ہم زیادہ تر انہی کے متعلق سوال کرتے ہیں حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میں نے اسی گھر میں ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عثمان (رض) کو دیکھا یہ بہت ٹھنڈی رات تھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جبرائیل وحی لے کر نازل ہوئے جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی آپ کی کیفیت شدید تر ہوجاتی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان نازل ہوا۔ ” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “ جب کہ عثمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھے لکھ رہے تھے آپ نے فرمایا : اے عثمان لکھو بلاشبہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس جگہ پر کسی شریف و مکرم شخص ہی کو بٹھا سکتا ہے (رواہ ابن عساکر)
36222- عن أم كلثوم بنت ثمامة قالت: قلت لعائشة: نسألك عن عثمان فإن الناس قد أكثروا علينا فيه، قالت عائشة: لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم مع عثمان في هذا البيت في ليلة قائظة1 والنبي صلى الله عليه وسلم يوحى إليه جبريل وكان إذا أوحي إليه ينزل عليه ثقلة شديدة قال الله عز وجل: {إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلاً ثَقِيلاً} وعثمان يكتب بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اكتب عثمان! وما كان الله لينزل تلك المنزلة من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا رجلا كريما. "كر".
tahqiq

তাহকীক: