কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬২৩২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٣۔۔۔ ابوبکر عدوی کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سوال کیا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بوقت اپنے صحابہ (رض) میں سے کسی کو کوئی خاص مخفی وصیت کی ہے ؟ عائشہ (رض) نے جواب دیا اللہ کی پناہ اس کے علاوہ کچھ نہیں جو میں آپ کو ابھی بتاتی ہوں پھر عائشہ (رض) حضرت حفصہ (رض) کی طرف متوجہ ہوئیں اور کہا : اے حفصہ ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ واسطہ دیتی ہوں کہ تم باطل میں کہیں میری تصدیق نہ کرو اور حق کی تکذیب کرو عائشہ (رض) نے کہا : تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غشی طاری ہوئی میں نے کہا : آپ رخصت ہوگئے مجھے اس کا پتہ نہیں تھا چنانچہ آپ نے فرمایا : اسے اجازت دو میں نے کہا : میں اپنے والد کو ؟ آپ خاموش رہے۔ میں نے کہا : اپنے والد کو آپ خاموش رہے پھر آپ پر غشی طاری ہوئی جو پہلے سے زیادہ تھی میں نے کہا آپ رخصت ہوگئے میں نے کہا مجھے اس کا پتہ نہیں تھوڑی دیر میں آپ کو پھر افاقہ ہوا اور فرمایا : اسے اجازت دو میں نے کہا : میرے باپ کو ؟ آپ خاموش رہے آپ پر پھر غشی طاری جو پہلے کی دونوں مرتبہ سے زیادہ سخت تھی حتیٰ کہ ہمیں گمان ہوا کہ آپ کی رحلت ہوچکی ہے پھر جب آپ کو افاقہ ہوا فرمایا : اسے اجازت دو میں نے کہا : میرے باپ کو ؟ آپ خاموش رہیے میں نے کہا : میرے باپ کو ؟ آپ پھر خاموش رہے۔ میں نے کہا : تم جانتی ہو کہ دروازے پر کوئی شخص ہے اسے اجازت دو چنانچہ عثمان (رض) اس امت میں سب سے زیادہ حیاء دار تھے اور دروازے پر وہی تھے انھیں اجازت دی اور وہ اندر داخل ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں فرمایا : میرے قریب ہوجاؤ عثمان (رض) قریب ہوئے آپ نے فرمایا : اور قریب ہوجاؤ عثمان اور قریب ہوئے فرمایا : اور قریب ہوجاؤ عثمان (رض) اور قریب ہوئے حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ مبارک عثمان (رض) کی گردن پر رکھا اور پھر عثمان (رض) سے سرگوشی کی جب فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا تم نے سن لیا جواب دیا : میرے کانوں نے سن لیا اور میرے دل نے اسے محفوظ کرلیا۔ آپ نے پھر ہاتھ مبارک عثمان (رض) کی گردن کے پیچھے رکھا اور سرگوشی کی جب فارغ ہوئے فرمایا : سن لیا ؟ عرض کیا : میرے کانوں نے سن لیا اور میرے دل نے اسے یاد کرلیا آپ نے پھر ہاتھ مبارک عثمان (رض) کی گردن کے پیچھے رکھا اور سرگوشی کی جب فارغ ہوئے تو فرمایا : سن لیا : عرض کیا : میرے کانوں نے سن لیا اور میرے دل نے محفوظ کرلیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح پر واز کرگئی حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کو خبر دی تھی کہ انھیں قتل کیا جائے گا اور انھیں حکم دیا تھا کہ تم اپنا ہاتھ روکے رکھنا۔ (رواہ ابن عساکر)
36223- عن أبي بكر العدوي قال: سألت عائشة: هل عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أحد من أصحابه عند موته! قالت: معاذ الله! غير أني سأخبرك، ثم أقبلت على حفصة فقالت: يا حفصة! أنشدك بالله أن تصدقيني بباطل وأن تكذبيني بحق، قالت عائشة: هل تعلمين رسول الله صلى الله عليه وسلم أغمي عليه فقلت: أفرغ؟ فقلت: لا أدري، فقال: ائذنوا له، فقلت: أبي؟ فسكت، فقلت أنت: أبي؟ فسكت، ثم أغمي عليه أشد من الأولى فقلت: أفرغ؟ فقلت: لا أدري، ثم أفاق فقال: ائذنوا له، فقلت أنت: أبي؟ فسكت فقلت أنت: أبي؟ ثم أغمى عليه اغماة أشد من الأولين حتى ظننا أنه قد فرغ، فقلت: أفرغ؟ فقلت: لا أدري، ثم أفاق فقال: ائذنوا له، فقلت: أبي؟ فسكت، فقلت أنت: أبي؟ فسكت، فقلت: أتعلمين أن على الباب رجلا ائذنوا له، فإذا عثمان وكان من أشد هذه الأمة حياء وهو على الباب، فأذنوا له فدخل، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ادنه، فدنا، فقال: ادنه، فدنا، فقال: ادنه، فدنا حتى أمكن يده رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعلها وراء عنقه ثم ساره، فلما فرغ قال: أسمعت؟ قال: سمعته أذناي ووعاء قلبي، ثم وضع يده وراء عنقه ثم ساره،فلما فرغ قال: أسمعت؟ قال: سمعته أذناي ووعاه قلبي، ثم وضع يده وراء عنقه ثم ساره، فلما فرغ قال: أسمعت؟ قال: سمعته أذناي ووعاه قلبي، ثم قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت عائشة: أخبره أنه مقتول وأمره أن يكف يده. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ازار کھول رکھا تھا چنانچہ آپ نے قمیص اپنے اوپر کھینچ لی اور پھر فرمایا : اے عثمان جب قیامت کے دن میرے پاس آؤ گے اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب کہ تمہاری رگوں سے خون رس رہا ہوگا ؟ میں کہوں گا تمہارے ساتھ یہ کس نے کہا : تم کہو گے ایک قاتل و رسوا آدمی سے یہ ہوا اسی دوران عرش کے نیچے سے ایک منادی پکارے گا خبردار ! عثمان نے اپنے ساتھیوں کے درمیان فیصلہ کردیا : عثمان (رض) کہنے لگے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ (رواہ ابن عساکر وفیہ ہشام بن زیاد ابو المقدام متروک)
36224- عن عائشة قالت: دخل عثمان على النبي صلى الله عليه وسلم وهو محلل الأزرار فزر عليه النبي صلى الله عليه وسلم قميصه وقال: كيف أنت يا عثمان إذا لقيتني - وفي لفظ: إذا جئتني - يوم القيامة وأوداجك تشخب دما؟ فأقول: من فعل بك هذا؟ فتقول: بين امرئ قاتل وخاذل، فبينما نحن كذلك إذ ينادي مناد من تحت العرش: ألا! إن عثمان بن عفان قد حكم في أصحابه، فقال عثمان: لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم. "كر" وفيه هشام بن زياد أبو المقدام متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٥۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیٹی ام کلثوم (رض) کی شادی کرائی تو آپ نے ام ایمن (رض) سے فرمایا : میری بیٹی ام کلثوم (رض) کو تیار کرو اور اسے زفاف کے لیے عثمان کے پاس لے جاؤ اور اس کے سامنے دف بجاؤ چنانچہ ام ایمن (رض) نے ایسا ہی کیا اور پھر تین دن کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام کلثوم (رض) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تم نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ؟ ام کلثوم (رض) نے کہا : وہ بہترین خاوند ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ عثمان لوگوں میں سب سے زیادہ تیرے دادا ابراہیم اور تیرے باپ محمد کے مشابہ ہے۔ (رواہ ابن عدی وقال تفرد بہ عمرو بن الازھر)
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ذخیرۃ الحفاظ ٤٥٣٩۔
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ذخیرۃ الحفاظ ٤٥٣٩۔
36225- عن عائشة قالت: لما زوج النبي صلى الله عليه وسلم ابنته أم كلثوم قال لأم أيمن: هييء ابنتي أم كلثوم وزفيها إلى عثمان وخفقي بين يديها بالدف، ففعلت ذلك، فجاءها النبي صلى الله عليه وسلم بعد الثالثة فدخل عليها فقال: كيف وجدت بعلك؟ قالت: هو خير بعل: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما! إنه أشبه الناس بجدك إبراهيم وأبيك محمد. "عد" وقال: تفرد به عمرو بن الأزهر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٦۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے اپنے خلیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی بھیجی ہے کہ میں اپنی دو بیٹیوں کی شادی عثمان بن عفان سے کرا دوں یوسف کہتے ہیں یعنی رقیہ اور ام کلثوم (رض) ۔ (رواہ ابن عساکر)
36226- عن عائشة قالت: سمعت خليلي رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أوحى الله إلي أن أزوج كريمتي عثمان بن عفان، قال يوسف المسفر: يعني رقية وأم كلثوم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) کو اپنے پاس بلوایا جب آپ حاضر خدمت ہوئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میں نے فرماتے سنا اے عثمان ! شاید اللہ تعالیٰ تمہیں (امر خلافت کی) قمیص پہنائے اگر لوگ تجھ سے وہ قمیص اتارنے کا مطالبہ کریں تم مت اتارو آپ نے تین بار یہ ارشاد فرمایا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
36227- عن عائشة قالت: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عثمان فدعاه فأقبل إليه فسمعته يقول: يا عثمان! إن الله لعله يقمصك قميصا، فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه - ثلاثا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٨۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں کھجوروں کے ایک باغ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر تھا ابوبکر (رض) نے آپ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انھیں اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دو پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی فرمایا : انھیں بھی اجازت دو جنت کی بشارت بھی دو لیکن انھیں جنت میں جانے کے لیے بلوی کا سامنا کرنا ہوگا چنانچہ عثمان (رض) روتے ہوئے داخل ہوئے اور ہنستے ہوئے باہر نکلے عبداللہ بن عمر (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! میرے لیے کیا حکم ہے ؟ ارشاد فرمایا : تم اپنے باپ کے ساتھ ہوگئے۔ (رواہ ابن عساکر)
36228- عن ابن عمر قال، كنت شاهد النبي صلى الله عليه وسلم: في حائط نخل فاستأذن أبو بكر فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ائذنوا له وبشروه بالجنة، ثم استأذن عمر فقال: ائذنوا له وبشروه بالجنة، ثم استأذن عثمان فقال: ائذنوا له وبشروه بالجنة على بلوى تصيبه، فدخل يبكي ويضحك، قال عبد الله: فأنا يا نبي الله! قال: أنت مع أبيك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٢٩۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حضرت عثمان بن عفان (رض) کا تذکرہ کیا گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ نور ہے صحابہ (رض) نے پوچھا : نور کیا ہے ارشاد فرمایا : نور آسمان و جنان میں ایک سورج ہے اور نور حورعین پر فضیلت رکھتا ہے میں نے عثمان کے ساتھ اپنی دو بیٹیوں کی شادی کرائی ہے فرشتوں کے پاس اللہ تعالیٰ نے انھیں ذوالنورین کا نام دیا ہے جب کہ بہشتوں میں ان کا نام ذالنورین۔ (دو نوروں والا) رکھا ہے سو جس نے عثمان کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔ (رواہ ابن عساکر)
36229- عن ابن عمر قال: ذكر عثمان بن عفان عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ذاك النور، فقيل له: ما النور؟ قال: النور شمس في السماء والجنان والنور يفضل على الحور العين، وإني زوجته ابنتي فذلك سماه الله عند الملائكة ذا النور وسماه في الجنان ذا النورين، فمن شتم عثمان فقد شتمني. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٠۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” جیش عسرت “ میں فرماتے ہوئے دیکھا کہ اس کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اسے نقصان نہیں پہنائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
36230- عن ابن عمر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في جيش العسرة يقول: ما ضر عثمان ما فعل بعد هذا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣١۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص بئر رومہ خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پیاس کی شدت میں پانی پلائے گا چنانچہ عثمان (رض) نے کنواں خریدا اور مسلمانوں کے لیے صدقہ کردیا ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : جب عثمان (رض) نے ” جیش عسرت “ کو جنگی سازوسامان سے لیس کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ اس غزوہ کو عثمان کے لیے نہ بھلانا۔ (رواہ ابن عدی وابن عساکر)
36231- عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يشتري لنا بئر رومة فيجعلها صدقة للمسلمين سقاه الله يوم القيامة من العطش فاشتراها عثمان بن عفان فجعلها صدقة للمسلمين، قال ابن عمر: لما جهز عثمان جيش العسرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم! لا تنساها لعثمان. "عد، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٢۔۔۔ حضرت عثمان (رض) کا تذکرہ کیا گیا تو ابن عمر (رض) نے فرمایا : انھوں نے فلاں کام کیا فلاں کام کیا اور جیش عسرت کو سازو سامان سے لیس کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36232- عن ابن عمر أنه ذكر عثمان فقال: فعل كذا وفعل كذا وجهز جيش العسرة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٣۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر پر تشریف فرما تھے عائشہ (رض) آپ کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں اتنے میں ابوبکر (رض) نے اجازت طلب کی وہ اندر داخل ہوئے پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی اور وہ بھی اندر داخل ہوئے پھر علی (رض) نے اجازت طلب کی وہ بھی اندر داخل ہوگئے پھر سعد بن مالک (رض) اجازت طلب کرکے اندر داخل ہوئے پھر عثمان بن عفان (رض) نے اجازت طلب کی اور اندر داخل ہوئے۔ (اس سے قبل) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گٹھنے ننگے لیے ہوئے گفتگو کرتے رہے جوں ہی عثمان (رض) داخل ہوئے آپ نے کپڑا گٹھنوں پر کھینچ لیا اور اپنی بیوی (عائشہ (رض)) سے فرمایا : میرے پاس سے پیچھے ہوجاؤ پھر یہ صحابہ (رض) تھوڑی دیر باتیں کرتے رہے اور پھر باہر نکل گئے حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کے پاس آپ کے صحابہ (رض) داخل ہوئے اور آپ نے گٹھنوں پر کپڑا نہیں کھینچا اور نہ ہی مجھے پیچھے ہٹایا حتیٰ کہ جب عثمان (رض) داخل ہوئے اس وقت آپ نے کپڑا بھی درست کیا اور مجھے بھی پیچھے کردیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ (رض) ! اس شخص سے میں حیاء کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے بلاشبہ فرشتے عثمان سے حیاء کرتے ہیں جیسا کہ اللہ اور اس کے رسول سے حیاء کرتے ہیں اگر عثمان داخل ہوئے حالانکہ تم میرے قریب ہوتی وہ اپنا سر ہی اوپر نہ اٹھاتے اور نہ ہی کوئی بات کرتے حتیٰ کہ باہر نکل جاتے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36233- عن ابن عمر قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس وعائشة وراءه إذا استأذن أبو بكر فدخل ثم استأذن عمر فدخل ثم استأذن علي فدخل ثم استأذن سعد بن مالك فدخل، ثم استأذن عثمان بن عفان فدخل ورسول الله صلى الله عليه وسلم يتحدث كاشفا عن ركبتيه فمد ثوبه على ركبتيه وقال لامرأته: استأخري عني؟ فتحدثوا ساعة ثم خرجوا، قالت عائشة: فقلت: يا رسول الله! دخل عليك أصحابك فلم تصلح ثوبك على ركبتيك ولم تؤخرني عنك حتى دخل عثمان! فقال: يا عائشة! ألا أستحيي من رجل تستحيي منه الملائكة؟ والذي نفس محمد بيده! إن الملائكة لتستحيي من عثمان كما تستحيي من الله ورسوله،
ولو دخل وأنت قريبة مني لم يرفع رأسه ولم يتحدث وخرج. "ع، كر".
ولو دخل وأنت قريبة مني لم يرفع رأسه ولم يتحدث وخرج. "ع، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٤۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا ہوا تھا یکایک ایک شخص آیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مصافحہ کیا آپ نے اس وقت تک ہاتھ نہیں ہٹایا جب تک کہ اس شخص نے خود اپنا اہاتھ نہیں ہٹا دیا پھر ا سنے آپ سے پوچھا : یا رسول اللہ ! عثمان کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : وہ اہل جنت میں سے ایک شخص ہے۔ (رواہ الطبرانی وابن عساکر)
36234- عن ابن عمر قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أتى رجل فصافحه فلم ينزع يده من يد الرجل حتى انتزع الرجل يده، ثم قال له: يا رسول الله؟ ما عثمان؟ قال: ذاك امرؤ من أهل الجنة. "طب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٥۔۔۔ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب مجھے آسمانوں کی سیر کے لیے لے جایا گیا میں چوتھے آسمان پر تھا یکایک میری گود میں ایک سیب گرا میں نے اسے اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا جونہی میں نے اسے توڑا تو اس سے ایک حور برآور ہوئی جو کھلکھلا کر ہنس رہی تھی میں نے اس سے کہا : بات کرو تم کس کی ملکیت ہو وہ بولی : میں اس مقتول کے لیے ہو جو شہید کیا جائے گا یعنی عثمان بن عفان (رض) ۔ (رواہ الخطیب وابن عساکر وقال : ھذا الحدیث منکر بھذا الاسناد وکل رجالہ ثقات سوی ابی جعفر بن محمد بن سلیمان بن ہشام والحمل فیہ علیہ)
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ترتیب الموضوعات ٢٥٣ والتشریۃ ٣٧٤١۔
کلام : ۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ترتیب الموضوعات ٢٥٣ والتشریۃ ٣٧٤١۔
36235- عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لما أسري بي إلى السماء فصرت إلى السماء الرابعة سقط في حجري تفاحة، فأخذتها بيدي فانفلقت فخرج منها حوراء تقهقه، فقلت لها: تكلمي لمن أنت؟ قالت: للمقتول شهيدا عثمان بن عفان. "خط، كر" وقال: هذا الحديث منكر بهذا الإسناد، وكل رجاله ثقات سوى أبي جعفر محمد بن سليمان بن هشام والحمل فيه عليه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٦۔۔۔ ابن عساکر ، ابو العز احمد بن عبید اللہ ابو محمد جوہری ابو الحسین محمد بن مظفر بن موسیٰ الحافظ احمد بن عبداللہ بن سابر دقاق ایوب بن محمد وزان ولید ابن ثوبان بکر بن عبداللہ مزنی عبود اللہ مزنی ابن عباس (رض) کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ ام کلثوم (رض) خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے فاطمہ (رض) کی شادی میرے خاوند سے بہتر شخص سے کرائی ہے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑی دیر خاموش رہے پھر فرمایا : میں نے ایسے شخص سے تمہاری شادی کرائی ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتا ہے اور وہ اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے جب ام کلثوم (رض) اٹھ کر چلی گئیں تو آپ نے انھیں دوبارہ اپنے پاس بلایا اور فرمایا میں نے کیسے کیا ہے ؟ کہتی ہیں : میں نے عرض کیا : میں نے تمہاری شادی ایسے شخص سے کرائی ہے جس سے اللہ اور اللہ کا رسول محبت کرتا ہے اور وہ بھی اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے فرمایا : جی ہاں میں اس میں اضافہ کرتا ہوں کہ اگر تو جنت میں داخل ہوگی تم اس کا مقام دیکھ لوگی اور میرے صحابہ (رض) میں ایسا عالی مقام کسی کا نہیں دیکھو گی۔ (قال ابن عساکر : رواہ غیرہ عن ایوب فقال ان ام کلثوم)
36236- قال ابن عساكر أنبأنا أبو العز أحمد بن عبيد الله حدثنا أبو محمد الجوهري أنبأنا أبو الحسين محمد بن المظفر بن موسى الحافظ حدثنا أحمد بن عبد الله بن سابور الدقاق حدثنا أيوب بن محمد الوزان حدثنا الوليد بن الوليد حدثني ابن ثوبان عن بكر بن عبد الله المزني عن أبيه عن ابن عباس عن أم كلثوم أنها جاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! زوجت فاطمة خيرا من زوجي! فأسكت النبي صلى الله عليه وسلم مليا ثم قال: زوجتك من يحبه الله ورسوله ويحب الله ورسوله! فلما ولت دعاها فقال: كيف قلت؟ قالت: قلت: زوجتك من يحبه الله ورسوله ويحب الله ورسوله، قال: نعم، وأزيدك: لو قد دخلت الجنة فرأيت منزله لم تري أحدا من أصحابي يعلوه في منزله. "قال "كر": رواه غيره عن أيوب فقال: إن أم كلثوم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٧۔۔۔ جس کی روایت ہے کہ : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری بیٹی وفات پاگئیں تو آپ نے فرمایا : اے ابو ایم یا اس کی بہن عثمان کی شادی کرا دی جائے ؟ کاش اگر ہمارے پاس تیسری بیٹی ہوتی ہم اس کی شادی بھی عثمان سے کرا دیتے ۔ (رواہ ابن عساکر)
36237- عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما ماتت ابنته الثانية: ألا أبا أيم أو أخاها يزوج عثمان؟ فلو كانت عندنا ثالثة لزوجناه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٨۔۔۔ حسن کہتے ہیں : عثمان (رض) کو ذوالنورین اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے علاوہ کسی شخص نے بھی کسی نبی کی دو بیٹیوں پر دروازہ بند نہیں کیا۔ (رواہ ابن عساکر)
36238- عن الحسن قال: إنما سمي عثمان ذا النورين لأنه لا يعلم أحد أغلق بابه على ابنتي نبي غيره. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٣٩۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر حضرت عثمان (رض) کثیر مقدار میں دینار لائے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گود میں ڈال دیئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیناروں کو الٹنے پلٹنے لگے اور فرمایا : اس کے بعد عثمان جو عمل بھی کریں ان پر کوئی حرج نہیں ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابن عساکر وقال : کذا قال یوم حنین وانما ھو یوم تبرک)
36239- عن الحسن أن عثمان جاء بدنانير في غزوة تبوك - ولفظ كر: يوم حنين - فنثرها في حجر النبي صلى الله عليه وسلم فجعل يقلبها ويقول: ما على عثمان ما عمل بعد هذا. "ش، كر" وقال: كذا قال: يوم حنين، وإنما هو: يوم تبوك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৪৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٠۔۔۔ حسن کی روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر تشریف لائے جب آپ کو عثمان (رض) نے دیکھا تو آپ کے ساتھ معانقہ کیا اور پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے بھائی عثمان کے ساتھ معانقہ کیا ہے جس شخص کا کوئی بھائی ہو اسے چاہیے کہ اس کے ساتھ معانقہ کرے۔ (رواہ ابن عساکر)
36240- عن الحسن قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رآه عثمان عانقه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد عانقت أخي عثمان، فمن كان له أخ فليعانقه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤١۔۔۔ حسن (رح) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے ایک شخص کی سفارش سے ربیعہ اور مضر کی تعداد کے بقدر لوگ جنت میں داخل ہوں گے پوچھا گیا وہ کون شخص ہے آپ نے فرمایا : عثمان بن عفان۔ (رواہ ابن عساکر)
36241- عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليدخلن الجنة بشفاعة رجل من أمتي عدد ربيعة ومضر، قيل: من هو يا رسول الله؟ قال: عثمان بن عفان. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৫১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٢۔۔۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ عثمان (رض) بنی آدم میں سب سے بہتر تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36242- عن الحسن قال: كان عثمان كخير ابني آدم. "كر".
তাহকীক: