কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি

হাদীস নং: ৩৬২৫২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٣۔۔۔ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں سرخ رنگ کی اونٹنی بھیجی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اللہ ! عثمان کو پل صراط سے پار کر دے۔ (رواہ ابن عساکر)
36243- عن زيد بن أسلم قال: بعث عثمان إلى النبي صلى الله عليه وسلم بناقة صهباء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اللهم جوزه على الصراط. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৫৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٤۔۔۔ حسن (رح) کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے نو سو پچاس (٩٥٠) اونٹ اور پچاس (٥٠) گھوڑے یا فرمایا : کہ نو سو ستر (٩٧٠) اونٹ اور تیس (٣٠) گھوڑے دئیے یعنی غزوہ تبوک میں۔ (رواہ ابن عساکر)
36244- عن الحسن قال: جهز عثمان تسعمائة وخمسين ناقة وخمسين فرسا - أو قال: تسعمائة وسبعين ناقة وثلاثين فرسا - يعني في غزوة تبوك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৫৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٥۔۔۔ حسان بن عطیہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان (رض) نے فرمایا اے عثمان اللہ تعالیٰ نے تمہاری بخشش کردی ہے جو کچھ پہلے کیا یا بعد میں کرو گے جو پوشیدہ کیا یا اعلانیہ کیا مخفی رکھا یا ظاہر کیا اور جو کچھ تاقیامت ہوگا سب بخش دیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ وابو نعیم فی فضائل الصحابۃ وابن عساکر)
36245- عن حسان بن عطية أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعثمان: غفر الله لك يا عثمان! ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أخفيت وما أبديت وما هو كائن إلى يوم القيامة."ش" وأبو نعيم في فضائل الصحابة، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৫৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٦۔۔۔ عصمہ بن مالک خطمی کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی اور عثمان (رض) کی بیوی وفات پاگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عثمان (رض) کی شادی کراؤ کاش اگر میری تیسری بیٹی ہوتی تو اسے بھی عثمان کے نکاح میں دے دیتا میں نے اللہ تعالیٰ کی وصیت کے ذریعے عثمان کی شادی کرائی ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
36246- عن عصمة بن مالك الخطمى قال: لما ماتت بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت عثمان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: زوجوا عثمان، لو كان لي ثالثة لزوجته، وما زوجته إلا بالوحي من الله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৫৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٧۔۔۔ ابو اسحاق کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) بن ابی طالب (رض) سے کہا عثمان دوزخ میں جائیں گے حضرت علی (رض) نے فرمایا : تمہیں کہاں سے اس کا علم ہوا ہے اس نے کہا چونکہ عثمان نے نئے نئے امور پیدا کیے ہیں حضرت علی (رض) نے اس سے فرمایا : مجھے بتاؤ بالفرض اگر تمہاری بیٹی ہو اس سے مشورہ کیے بغیر اس کی شادی کرا دو گے جواب دیا نہیں فرمایا : کیا یہ رائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے جو انھوں نے اپنی بیٹیوں کے متعلق قائم کی تھی وہ بہتر ہے مجھے بتاؤ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی معاملہ کا ارادہ کرتے تو اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتے تھے یا نہیں ؟ اس نے جواب دیا : بلکہ آپ استخارہ کرتے تھے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہتر راستہ فراہم کرتے تھے یا نہیں جواب دیا جی ہاں بہتر راہ فراہم کرتے تھے حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے عثمان (رض) کی شادی کے متعلق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا ہے یا کہ نہیں پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے ارادہ کیا تھا کہ تیری گردن اڑادوں لیکن اللہ تعالیٰ سے ناپسند فرماتا ہے اگر اس کے علاوہ تمہارا کوئی اور عقیدہ ہو تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ (رعاہ ابن عساکر)
36247- عن أبي إسحاق قال: قال رجل لعلي بن طالب: إن عثمان في النار، قال: ومن أين علمت؟ قال: لأنه أحدث أحداثا، فقال له علي: أتراك لو كانت لك بنت أكنت تزوجها حتى تستشير؟ قال: لا، قال: أفرأي هو خير من رأي رسول الله صلى الله عليه وسلم لابنتيه؟ وأخبرني عن النبي صلى الله عليه وسلم أكان إذا أراد أمرا يستخير الله أو لا يستخيره؟ قال: لا بل كان يستخيره، قال: أفكان الله يخير له أم لا؟ قال: بل يخير له، قال: فأخبرني عن رسول الله صلى الله عليه وسلم اختار الله في تزويجه عثمان أم لم يختر له؟ ثم قال له: لقد تجردت لك لأضرب عنقك فأبى الله ذلك، أما والله لو قلت غير ذلك ضربت عنقك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৫৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٨۔۔۔ ابو جنوب (عقبہ بن علقمہ یشکری کوفی) حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کے ساتھ ایسا معاملہ کیا ہے جو نہ میرے ساتھ کیا نہ ابوبکر کے ساتھ نہ عمر کے ساتھ ہم نے عرض کیا : بھلا کیا معاملہ کیا ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاؤں اور پنڈلیاں گٹھنوں تک ننگی تھیں اور پنڈلیاں ٹھنڈے پانی میں ڈال رکھی تھیں چونکہ آپ کو اس سے سکون ملتا تھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ گٹھنے کو کیوں ننگا نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : اے علی ! گٹھنہ ستر کی جگہ ہے اسی دوران ہم آپ کے اردگرد بیٹھے تھے اچانک عثمان (رض) نمودار ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی پنڈلی اور پاؤں کپڑے سے ڈھانپ دئیے میں نے عرض کیا : سبحان اللہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے آپ کے پاؤں اور پنڈلیاں ننگی تھیں لیکن جب عثمان نمودار ہوئے تو آپ نے فوراً ڈھانپ دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ؟ پھر عمر (رض) ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں عثمان کے متعلق آپ کو ایک عجیب بات نہ سناؤں فرمایا : وہ کیا عمر (رض) نے عرض کیا : میں ابھی ابھی عثمان کے پاس سے گزرا اور وہ غمزدہ و پریشانی میں بیٹھے تھے میں نے کہا : اے عثمان ! یہ غم اور پریشانی کیسی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : اے عمر (رض) میں غمزوہ و پریشان کیوں نہ ہوں حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر نسب اور رشتہ منقطع ہوجائے گا سوائے میرے نسب اور رشتہ کے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میرا جو رشتہ قائم تھا وہ ٹوٹ چکا ہے چنانچہ میں نے عثمان کو اپنی بیٹی حفصہ (رض) کا رشتہ پیش کیا لیکن وہ خاموش رہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! کیا میں حفصہ (رض) کی شادی ایسے شخص سے نہ کردوں جو عثمان سے بہتر ہو ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! چنانچہ اسی مجلس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ (رض) سے شادی کرلی اور عثمان (رض) سے اپنی بیٹی کی شادی کرا دی چنانچہ حضرت عثمان سے بغض حسد رکھنے والے کہنے لگے نہیں نہیں یا رسول اللہ ! آپ ایک بیٹی کے بعد دوسری بیٹی کی شادی بھی عثمان سے کرا رہے ہیں اسے سے بڑھ کر عثمان (رض) کے لیے اور کونسا شرف ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں میں ایک کے بعد دوسری کا عثمان سے نکاح کردیتا حتی کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کی طرف دیکھ کر فرمایا : اے عثمان ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہیں میرے بعد آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا عثمان (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس وقت کیا کروں آپ نے فرمایا اے عثمان ! اس وقت بس صبر ہی صبر ہے حتیٰ کہ میرے ساتھ تمہاری ملاقات ہوجائے اور رب تعالیٰ تم سے راضی ہو۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن عساکر)
36248- عن أبي الجنوب عن علي قال: لقد صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثمان أمرا ما صنعه بي ولا بأبي بكر ولا بعمر، قلتا: وما صنع به؟ قال: كنا حول رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوسا وقدمه وساقه مكشوفة إلى رأس ركبته وساقه في ماء بارد كان يضرب عليه عضلة ساقه فكان إذا جعله في ماء بارد سكن عنه، فقلت: يا رسول الله! ما لك لا تكشف عن الركبة؟ فقال: إن الركبة من العورة يا علي! فبينا نحن حوله إذ طلع علينا عثمان فغطى ساقه وقدمه بثوبه، فقلت: سبحان الله يا رسول الله! كنا حولك وساقك وقدمك مكشوفة فلما طلع علينا عثمان غطيته! فقال: ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكة؟ ثم طلع علينا عمر فقال: يا رسول الله! ألا أعجبك من عثمان؟ قال: وماذاك؟ قال: مررت به آنفا وهو حزين كثيب فقلت: يا عثمان! ما هذا الحزن والكآبة التي بك؟ قال: مالي لا أحزن يا عمر وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كل نسب وصهر مقطوع يوم القيامة إلا نسبي وصهري - وقد قطع صهري من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فعرضت عليه حفصة بنت عمر فسكت عني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عمر! أفلا أزوج حفصة من هو خير من عثمان؟ قال: بلى يا رسول الله! فتزوج رسول الله حفصة في ذلك المجلس وزوج عثمان بنته الأخرى، فقال بعض من حسد عثمان: بخ بخ يا رسول الله! تزوج عثمان بنتا بعد بنت! فأي شرف أعظم من ذا؟ قال: لو كان لي أربعون بنتا زوجت عثمان واحدة بعد واحدة حتى لا تبقى منهن واحدة، ونظر إلى عثمان فقال: يا عثمان! أين أنت وبلوى تصيبك من بعدي؟ قال: ما أصنع يا رسول الله؟ قال: صبرا صبرا يا عثمان حتى تلقاني والرب عنك راض. "ص، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৫৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٤٩۔۔۔ کثیر بن مرہ کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) سے حضرت عثمان (رض) کے متعلق سوال کیا گیا حضرت علی (رض) نے فرمایا : جی ہاں چوتھے آسمان پر انھیں ذوالنورین کے نام سے پکارا جاتا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک بیٹی کے بعد دوسری بیٹی سے ان کا نکاح کردیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص گھر خرید کر مسجد میں شامل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمائے گا۔ چنانچہ عثمان (رض) نے وہ گھر خرید کو مسجد میں اضافہ کردیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : جو شخص بنی فلاں کا باڑا خرید کر مسلمانوں کے لیے صدقہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا چنانچہ عثمان (رض) نے وہ باڑا خرید کر مسلمانوں پر صدقہ کردیا ایک بار پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص لشکر یعنی جیش عسرت کو سازو سامان فراہم کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی بخشش کوے گا چنانچہ پورے لشکر کو عثمان (رض) نے جنگی سازو سامان سے لیس کردیا حتیٰ کہ فوجیوں کو اسی کی کمی بھی محسوس نہ ہونے دی۔ (رواہ ابن عساکر)
36249- عن كثير بن مرة قال: سئل علي عن عثمان قال: نعم يسمى في السماء الرابعة ذا النورين، وزوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم واحدة بعد أخرى، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يشتري بيتا يزيده في المسجد غفر الله له، فاشتراه عثمان فزاده في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يبتاع مربد بني فلان فيجعله صدقة للمسلمين غفر الله له! فاشتراه عثمان فجعله صدقة على المسلمين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يجهز هذا الجيش - يعني جيش العسرة - غفر الله له! فجهزهم عثمان حتى لم يفقدوا عقالا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৫৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٠۔۔۔ محمد بن جعفر اپنے آباء سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ لیٹے ہوئے تھے اور ٹانگوں کو الگ الگ اوپر کئے ہوئے تھے اور آپ کی رانیں ننگیں تھیں اتنے میں ابوبکر و عمر داخل ہوئے پھر عثمان (رض) نے اجازت طلب کی چنانچہ عثمان (رض) داخل نہیں ہونے پائے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑا لٹکا لیا اور رانوں کو ڈھانپ دیا میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں یا رسول اللہ ! ہم جماعت کی صورت میں آپ کے پاس موجود تھے آپ نے رانوں کو ڈھانپا نہیں لیکن جونہی عثمان آئے آپ نے رانیں ڈھانپ لیں ارشاد فرمایا : بلاشبہ میں اس شخص سے حیاء کرتا ہیں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36250- عن محمد بن جعفر عن آبائه عن علي قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو مستلق رافعا رجلا عن رجل وفخذه مكشوفة فدخل عليه أبو بكر وعمر، ثم جاء عثمان فاستأذن فلم يدخل حتى أرخى النبي صلى الله عليه وسلم على فخذه فغطاها، فقلت له: بأبي أنت وأمي يا رسول الله! قد كنا عندك جماعة فما غطيتها وجاء عثمان فغطيتها! فقال: إني لأستحيي ممن استحيت منه الملائكة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥١۔۔۔ نعیم بن ابی ھند کی روایت ہے کہ کوفہ میں لوگوں کے سامنے جب کوئی شخص حضرت عثمان (رض) کا ذکر خیر کرتا لوگ اسے مارتے تھے چنانچہ حضرت علی (رض) نے لوگوں سے فرمایا : ایسا مت کرو بلکہ اسے میرے پاس لیتے آؤ چنانچہ ایک شخص کہنے لگا : حضرت عثمان (رض) کو شہید کیا گیا ہے لوگ اسے پکڑ کر حضرت علی (رض) کے پاس لے آئے اور کہنے لگے یہ شخص کہتا ہے کہ عثمان شہید کیے گئے ہیں حضرت علی (رض) نے اس سے پوچھا : تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا اس شخص نے جواب دیا : کیا آپ کو وہ دن یاد ہے جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے ایک اوقیہ چاندی عطا کی ایک اوقیہ ابوبکر (رض) نے دی ایک عمر (رض) نے اور ایک عثمان نے جب کہ ابوحسن (علی (رض)) کے پاس کچھ نہیں تھا تاہم عثمان (رض) نے مجھے ان کی طرف سے ایک اوقیہ عطا کردی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے لیے دعا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اس مال میں برکت عطا فرمائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بھلا تمہارے اس مال میں برکت کیوں نہیں ہوگی حالانکہ تمہیں یا تو نبی نے عطا کیا ہے یا صدیق نے یا شہید نے حضرت علی (رض) نے سن کر فرمایا : اس شخص کا رستہ چھوڑ دو ۔ (رواہ الشاشی وابن عساکر)
36251- عن نعيم بن أبي هند قال: كان الناس بالكوفة إذا سمعوا أحدا يذكر عثمان بخير ضربوه، فقال لهم علي: لا تفعلوا وائتوني به، فقال رجل: قتل عثمان شهيدا، فأتوا به عليا فقالوا: إن هذا يقول: إن عثمان قتل شهيدا، فقال له علي: وما علمك؟ قال: أتذكر يوم أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعطاني أوقية وأعطاني أبو بكر أوقية وأعطاني عمر أوقية وأعطاني عثمان أوقية ولم يكن عند أبي حسن شيء فأعطاني عنه عثمان أوقية فقلت: يا رسول الله! ادع الله أن يبارك لي، قال: وما لك لا يبارك لك ولم يعطك إلا نبي أو صديق أو شهيد؟ فقال علي خلوا سبيل الرجل. الشاشي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٢۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : بلاشبہ عثمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بہت سی بھلائیوں میں سبقت لے گئے ہیں ان کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں کبھی عذاب نہیں دے گا۔ (رواہ ابن عساکر)
36252- عن علي قال: لقد سبق في عثمان من رسول الله صلى الله عليه وسلم سوابق لا يعذبه الله بعدها أبدا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٣۔۔۔ ” ایضاً “ ثابت بن عبید کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے کہا : اے امیر المومنین ! میں مدینہ واپس جا رہا ہوں اہل مدینہ میں مجھ سے حضرت عثمان کے متعلق سوال کریں گے میں ان سے کیا کہوں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : انھیں بتاؤ کہ عثمان کا تعلق ان لوگوں سے تھا ” جو لوگ ایمان لائے نیک اعمال کیے اور تقوی اختیار کیا پھر ایمان تقویٰ اور نیکوکاری پر ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ نیکوکاروں کو پسند فرماتا ہے “۔ (رواہ ابن مردویہ وابن عساکر)
36253- "أيضا" عن ثابت بن عبيد أن رجلا قال لعلي: يا أمير المؤمنين! إني أرجع إلى المدينة وإنهم سائلي عن عثمان فماذا أقول لهم؟ قال: أخبرهم أن عثمان كان من الذين {آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} .ابن مردويه، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٤۔۔۔ مکحول کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عثمان (رض) سے فرمایا : اے ابو عمرو۔ (رواہ ابن عساکر)
36254- عن مكحول قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعثمان: يا أبا عمرو. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٥۔۔۔ ” مسند علی (رض) حسن کی روایت ہے کہ لوگوں کو جب فتوحات نصیب ہوئیں کوئی شخص اگر کسی سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افاضل صحابہ کرام (رض) کے متعلق پوچھتا تو اسے حضرت سعد بن مالک کی طرف دلالت کردیتا تھا چنانچہ کوئی شخص اگر ان سے پوچھتا کہ مجھے عثمان (رض) کے متعلق خبر دو تو وہ فرماتے : جب ہم سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوتے تو عثمان ہم سب میں سے زیادہ اچھا وضو کرتے سب سے زیادہ لمبی نماز پڑھتے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب سے زیادہ خرچ کرتے تھے۔ (رواہ ابن عساکر)
36255- "مسند علي رضي الله عنه" عن الحسن قال: لما كان من بعض فتح الناس ما كان جعل رجل يسأل عن أفاضل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل لا يسأل أحدا إلا دله على سعد بن مالك، فقال له: أخبرني عن عثمان، قال: إذ كنا نحن جميعا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أحسننا وضوءا وأطولنا صلاة وأعظمنا نفقة في سبيل الله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٦۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمائے سنا ہے کہ اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں میں ایک کے بعد دوسری کی شادی عثمان سے کرا دیتا حتیٰ کہ ان میں سے ایک بھی باقہ نہ رہتی۔ (رواہ ابن شاہین وابن عساکر وفیہ العلاء بن عمر الخفی وقال ابن حبان لایحتج بہ)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ۔
36256- عن علي قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لو كان لي أربعون بنتا لزوجت عثمان واحدة بعد واحدة حتى لا تبقى منهن واحدة. ابن شاهين، "كر"، وفيه العلاء بن عمر الحنفي، قال "حب": لا يحتج به.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٧۔۔۔ حضرت علی (رض) عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ وہ اس وقت حاضر تھے جب عثمان (رض) بن عفان نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جیش العسرۃ (غزوہ تبوک) کے موقع پر ساز و سامان دیا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سات سو (٧٠٠) اوقیہ سونا لے کر آئے تھے۔ (رواہ ابو یعلی وابن عساکر)
36257- عن عبد الرحمن بن عوف أنه شهد ذلك حين أعطى عثمان بن عفان رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يجهز به جيش العسرة وجاء بسبعمائة أوقية ذهبا. "ع، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٨۔۔۔ حضرت اسامہ بن زید (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ایک دیگچہ جس میں گوشت تھا دے کر عثمان (رض) کے گھر بھیجا چنانچہ دیکھا کہ عثمان (رض) حضرت رقیہ (رض) کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں میں نے زوجین کا ان سے اچھا جوڑا کوئی نہیں دیکھا میں کبھی عثمان (رض) کے چہرے کی طرف دیکھتا اور کبھی رقیہ (رض) کی طرف دیکھتا جب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس لوٹ آیا تو آپ نے فرمایا : کیا تم ان کے پاس داخل ہوئے تھے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں فرمایا : کیا تم نے ان سے اچھا جوڑا کوئی دیکھا ہے میں نے جواب دیا یا رسول اللہ : نہیں میں کبھی عثمان (رض) کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی رقیہ (رض) کی طرف۔ (رواہ البغوی وابن عساکر)
36258- عن أسامة بن زيد قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى منزل عثمان بصحفة1 فيها لحم فدخلت عليه فإذا هو جالس مع رقية، ما رأيت زوجا أحسن منهما، فجعلت مرة أنظر إلى وجه عثمان ومرة أنظر إلى وجه رقية، فلما رجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي: دخلت عليهما؟ قلت: نعم، قال: هل رأيت زوجا أحسن منهما؟ قلت: لا يا رسول الله! وقد جعلت أنظر إلى وجه رقية ومرة أنظر إلى وجه عثمان. البغوي، "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٥٩۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایات ہے کہ مسلمانوں میں سب سے پہلے اپنے گھر والوں کے ساتھ حبشہ کی طرف حضرت عثمان (رض) نے ہجرت کی ہے چنانچہ عثمان (رض) اپنی بیوی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی کو ساتھ لے کر نکل گئے تھے چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے متعلق کوئی خبر نہیں ملنے پاتی تھی آپ نے ان کے متعلق خبریں دینی شروع کردیں ایک عورت جس کا تعلق قریش سے تھا وہ حبشہ سے آتی آپ نے اس سے پوچھا ! کہنے لگی : اے ابو القاسم ! میں نے ان دونوں کو دیکھا ہے فرمایا : تم انھیں کس حال میں دیکھا ہے ؟ میں نے انھیں اس حال میں دیکھا کہ عثمان (رض) نے رقیہ (رض) کو گدھے پر سوار کر رکھا تا وہ گدھے کو ہانک رہے تھے اور پیچھے پیچھے چل رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہی ان کا ساتھی ہے بلاشبہ لوط (علیہ السلام) کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ اللہ کی طرف ہجرت کی۔ (رواہ الطبرانی والبیہقی وابن عساکر)
36259- عن أنس أن أول من هاجر من المسلمين إلى الحبشة بأهله عثمان بن عفان، فخرج وخرج معه بابنة النبي صلى الله عليه وسلم، فاحتبس على النبي صلى الله عليه وسلم خبرهما، فجعل يخرج يتوكف2 الأخبار، فقدمت امرأة من قريش من أرض الحبشة فسألها فقالت: يا أبا القاسم! رأيتهما، قال: على أي حال رأيتهما؟ قالت: رأيته وقد حملها على حمار من هذه الذبابة وهو يسوق بها يمشي خلفها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:صحبهما الله، إن كان عثمان بن عفان لأول من هاجر إلى الله بأهله بعد لوط. "طب، ق في ... ، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٠۔۔۔ ” ایضاً “ عیسیٰ بن طہمان حضرات انس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ہماری اس مسجد میں توسیع کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا چنانچہ عثمان (رض) نے ایک گھر خرید کر مسجد میں توسیع کردی۔ (رواہ العقیلی وابن عساکر)
36260- "أيضا" عن عيسى بن طهمان عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من وسع لنا في مسجدنا هذا بنى الله له بيتا في الجنة! فاشترى البيت عثمان فوسع به في المسجد. "عق، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৭০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦١۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیعت رضوان کا حکم ملا تو عثمان (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کے پاس بھیجا تھا آپ نے لوگوں سے بیعت لی اور پھر فرمایا : یا اللہ ! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام میں مصروف ہیں چنانچہ آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھا تو گویا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ تھا جو دیگر لوگوں کے اپنے ہاتھوں سے بدرجہا افضل تھا۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی ٧٦٥۔
36261- عن أنس قال: لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببيعة الرضوان كان عثمان بن عفان بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أهل مكة، فبايع الناس وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم! إن عثمان في حاجة الله وحاجة رسوله - فضرب بأحدى يديه على الأخرى، وكان يد رسول الله صلى الله عليه وسلم - يعني لعثمان - خيرا من أيديهم لأنفسهم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৭১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٢۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا اور میرے ہاتھ پر ایک سیب رکھ دیا گیا جسے میں اپنے ہاتھ میں الٹنے پلٹنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیب دو حصوں میں پھٹ گیا اور اس سے ایک خوبصورت حور برآمد ہوئی اس کی آبروئیں گدھ کے پروں کے ریشوں جیسی تھیں میں نے کہا : تو کس کی ملکیت ہے اس نے کہا : میں اس شخص کی ملکیت ہوں جو ظلما قتل کیا جائے یعنی عثمان بن عفان (رض) ۔ (رواہ ابن عساکر)
36262- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دخلت الجنة فوضعت في يدي تفاحة فجعلت أقلبها في يدي، فبينا أنا أقلبها في يدي فانفلقت عن حوراء مرضية كأن حاجبها مقاديم أجنحة النسور، فقلت: لمن أنت؟ قالت: للمقتول ظلما عثمان بن عفان. "كر".
tahqiq

তাহকীক: