কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
فضائل کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৫৬৯ টি
হাদীস নং: ৩৬২৭২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٣۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا مجھے ایک سیب تھما دیا گیا میں نے اسے توڑا اس سے ایک حور ظاہر ہوئی چنانچہ اس کی آنکھوں کی پلکیں گدھے کے پروں جیسی تھیں میں نے پوچھا تو کس کی ملکیت ہے اس نے جواب دیا عثمان بن عفان (رض) کی۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ترتیب الموضوعات ٢٥٦ واللآلی ٣١٣١۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ترتیب الموضوعات ٢٥٦ واللآلی ٣١٣١۔
36263- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دخلت الجنة فتناولت تفاحة فكسرتها فخرج منها حوراء أشفار عينيها كريش النسر، قلت: لمن أنت؟ قالت: لعثمان بن عفان. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٤۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں جنت میں داخل ہوا جبرائیل امین نے مجھے ایک سیب دیا وہ میرے ہاتھ میں ٹوٹ گیا اس سے ایک لڑکی نکلی جس کی پلکیں گدھ کے پروں کی طرح (باریک) تھیں میں نے اس سے پوچھا تو کس کی ملکیت ہے اس نے جواب دیا : میں اس شخص کی ملکیت ہوں جو آپ کے بعد ظلما قتل کیا جائے گا یعنی حضرت عثمان بن عفان (رض) ۔ (رواہ ابن عساکر)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی ٣١٤١۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے اللآلی ٣١٤١۔
36264- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أدخلت الجنة فناولني جبريل تفاحة فانفلقت في يدي فخرجت منها جارية كأن أشفار عينيها مقاديم النسور، فقلت لها: لمن أنت؟ فقالت: أنا للمقتول بعدك ظلما عثمان بن عفان. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٥۔۔۔ ” ایضاً “ بکر بن مختار بن فلفل اپنے والد سے حضرت انس (رض) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں ایک باغ میں نبی کریم کے ساتھ تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور دروازے پر دستک دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ذرا دیکھو یہ کون ہے میں نے نکل کر دیکھا تو وہ ابوبکر صدیق (رض) تھے میں نے عرض کیا ابوبکر صدیق (رض) میں فرمایا : واپس جاؤ اور دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو انھیں یہ بھی خبر دو کہ میرے بعد خلیفہ ہوں گے میں نے آکر ابوبکر (رض) کو خبر کردی پھر ایک اور شخص آیا اور دروازے پر دستک دی اور آپ نے ۔۔۔ دیکھو کون ہے ؟ میں نے آکر دیکھا تو عمر بن خطاب (رض) تھے واپس جا کر میں نے عرض کیا : عمر ہیں فرمایا واپس جاؤ اور دروازہ کو لو اور میں جنت کی بشارت دو انھیں یہ بھی خبر کر دو کہ وہ ابوبکر کے بعد خلیفہ ہوں گے میں نے آکر عمر (رض) کو خبر دی پھر ایک اور شخص نے دروازے پر دستک دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیکھو یہ کون ہے ؟ میں نے باہر نکل کر دیکھا تو وہ عثمان (رض) تھے میں نے عرض کیا : عثمان ہیں فرمایا : واپس جاؤ اور دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی خوشخبری سناؤ اور انھیں یہ بھی بتاؤ کہ وہ عمر (رض) کے بعد خلیفہ ہوں گے اور ان کا معاملہ یہاں تک پہنچے گا کہ ان کا خون بہایا جائے گا اس وقت تم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑنا۔ (رواہ ابن عساکر)
36265- "أيضا" عن بكر بن المختار بن فلفل عن أبيه عن أنس قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في حائط بالمدينة فجاء رجل فاستفتح الباب، فقال: يا أنس! انظر من هذا؟ فخرجت فإذا أبو بكر الصديق، فقلت: أبو بكر الصديق، قال: ارجع وافتح له وبشره بالجنة وأخبره أنه الخليفة من بعدي، فخرجت فأخبرته، ثم جاء آخر فاستفتح الباب، فقال: انظر من هذا؟ فخرجت فإذا عمر بن الخطاب، قلت: عمر، قال: ارجع وافتح له وبشره بالجنة وأخبره أنه الخليفة من بعد أبي بكر، فخرجت فأخبرته، ثم جاء آخر فاستفتح الباب، قال: انظر من هذا؟ فخرجت فإذا هو عثمان، قلت: عثمان بن عفان، قال: ارجع فافتح له وبشره بالجنة وأخبره أنه الخليفة من بعد عمر وأنه سيبلغ منه يهراق دمه فعليك بالصبر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٦۔۔۔ ” ایضاً “ عبد الاعلیٰ بن ایما مساور مختار بن فلفل سے حضرت انس (رض) روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے باہر تشریف لے گئے میں بھی آپ کے ساتھ تھا آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہوگیا آپ (رض) نے فرمایا : اے انس دروازہ بند کر دو ۔ میں نے دروزاہ بند کردیا تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی آپ نے فرمایا : اے انس دروازہ کھولو اور آنے والے کو جنت کی خوشخبری دو نیز اسے خبر دو کہ وہ میرے بعد میری امت کا والی ہوگا چنانچہ میں دروازہ کھولنے کے لیے چل پڑا جب کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہے۔ دروازہ کھولا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ابوبکر کھڑے ہیں میں نے انھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کی خبر دے دی آپ (رض) کہنے لگے : الحمدللہ پھر باغ میں داخل ہوگئے کچھ دیر بعد دروازے پر پھر دستک ہوئی آپ نے فرمایا : اے انس دروازہ کھولو اور آنے والے کو جنت کی خوشخبری دو اور اسے کہو کہ وہ ابوبکر کے بعد میری امت کا والی ہوگا میں دروازہ کھولنے کے لیے چل پڑا حالانکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہے دروازہ کھولا دیکھا تو عمر (رض) کھڑے ہیں میں نے انھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمایا ن کی خبر دی آپ نے الحمدللہ کہا اور پھر اندر داخل ہوگئے جو پھر ایک اور شخص آیا اور دروازے پر دستک دی آپ نے فرمایا اے انس اس شخص کے لیے دروازہ کھولو اور اسے جنت کی بشارت دو نیز اسے بتاؤ کہ وہ ابوبکر و عمر کے بعد میری امت کا والی ہوگا اور یہ کہ اسے آزمائش سے دو چار ہونا پڑے گا حتیٰ کہ لوگ اس کا خون بہائیں گے میں دروازہ کھولنے کے لیے چل پڑا مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ کون ہے چنانچہ دیکھا تو وہ عثمان بن عفان (رض) تھے میں نے دروازہ کھولا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کی انھیں خبر کردی عثمان (رض) نے الحمدللہ اور اناللہ وانا الیہ راجعون کہا۔ (رواہ ابن عساکر)
36266- "أيضا" عن عبد الأعلى بن أبي المساور عن المختار بن فلفل قال: سمعت أنس بن مالك يقول: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وخرجت معه فدخل حائطا من حيطان الأنصار فدخلت معه وقال يا أنس! أغلق الباب، فأغلقت الباب فإذا رجل يقرع الباب، فقال: يا أنس افتح لصاحب الباب وبشره بالجنة وأخبره أنه يلي أمتي من بعدي، فذهبت أفتح له وما أدري من هو؟ فإذا هو أبو بكر، فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، فحمد الله ودخل، ثم جاء رجل آخر فقرع الباب، فقال: يا أنس! افتح لصاحب الباب وبشره بالجنة وأخبره أنه يلي أمتي من بعدي أبي بكر، فذهبت أفتح له وما أدري من هو؟ فإذا هو عمر بن الخطاب، فأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، فحمد الله ودخل، ثم جاء آخر فقرع الباب، فقال: يا أنس! افتح لصاحب الباب وبشره بالجنة وأخبره أنه يلي أمتي من بعد أبي بكر وعمر وأنه سيلقى منهم بلاء يتلفون دمه، فذهبت أفتح له وما أدري من هو؟ فإذا هو عثمان بن عفان، ففتحت له الباب وأخبرته بما قال النبي صلى الله عليه وسلم، فحمد الله واسترجع. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٧۔۔۔ ” مسند انس “ ابو حصین مبارک بن فلفل اخ مختار بن فلفل کی سند سے حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم تشریف لائے اور باغ میں داخل ہوئے اتنے میں ایک شخص آیا اور دروازے پر دستک دی آپ نے فرمایا : اے انس کھڑے ہوجاؤ اور دروازہ کھولو اور آنے والے کو جنت اور میرے بعد خلافت کی خوشخبری دو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے بتادوں کی بشارت ہے پھر ایک نے ۔۔۔ والا آیا اور دروازے پر دستک دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! کھڑے ہوجاؤ اور دروازہ کھولو اور اے جنت اور ابوبکر کے بعد خلافت کی خوشخبری سناؤ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اسے بتادوں ؟ فرمایا : اسے بتادو میں نکل پڑا دیکھتا ہوں کہ عمر (رض) کھڑے ہیں میں نے آپ کے لیے جنت اور ابوبکر کے بعد خلافت کی خوشخبری ہے پھر ایک اور شخص آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا آپ نے فرمایا اے انس ! کھڑے ہو اور دروازہ کھولو اور اسے جنت اور عمر کے بعد خلافت کی خوشخبری دو اور یہ کہ اسے قتل کیا جائے گا میں باہر نکلا دیکھا تو حضرت عثمان (رض) کھڑے تھے میں نے کہا آپ کے لیے جنت اور خلافت کی خوشخبری ہے نیز آپ کو قتل کیا جائے گا چنانچہ عثمان (رض) اندر داخل ہوئے اور عرض کیا ! یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میں نے نہ گانا گایا نہ اس کی تمنا کی اور جب سے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی ہے تب سے اپنا ہاتھ شرمگاہ سے مس نہیں کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عثمان ! یہ معاملہ اسی طرح ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر وابو یعلی وابن عساکر من طریق عبداللہ بن ادریس عن المختار بن فلفل عن انس)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرہ الحفاظ ٢٦٠٢۔
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرہ الحفاظ ٢٦٠٢۔
36267- "مسند أنس" عن أبي حصين عن المبارك بن فلفل أخي المختار بن فلفل عن أنس قال: جاء النبي صلى الله عليه وسلم فدخل إلى بستان فأتى آت فدق الباب، فقال: يا أنس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة والخلافة من بعدي، قلت: يا رسول الله! أعلمه؟ فقال: أعلمه، فخرجت فإذا أبو بكر، قلت له: أبشر بالجنة وأبشر بالخلافة من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم جاء آت فدق الباب، فقال: يا أنس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة وبالخلافة من بعد أبي بكر قلت: يا رسول الله! أعلمه؟ فقال: أعلمه، فخرجت فإذا عمر، فقلت: أبشر بالجنة وأبشر بالخلافة من بعد أبي بكر، ثم جاء آت فدق الباب، فقال: يا أنس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة وبالخلافة من بعد عمر وأنه مقتول، فخرجت فإذا عثمان، قلت: أبشر بالجنة وبالخلافة من بعد عمر وأنك مقتول، فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! والله ما تغنيت ولا تمنيت ولامسست ذكري بيميني منذ بايعتك بها، قال: هو ذاك يا عثمان.
"كر"، ورواه "ع، كر" من طريق عبد الله بن إدريس عن المختار بن فلفل عن أنس.
"كر"، ورواه "ع، كر" من طريق عبد الله بن إدريس عن المختار بن فلفل عن أنس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٨۔۔۔ ” ایضاً “ ابو حازم حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں تھے اتنے میں ابوبکر (رض) آئے اور اجازت طلب کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو چنانچہ ابوبکر (رض) بھی کنویں کے منڈیر پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گئے جس طرح کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیے ہوئے دیکھا پھر عمر (رض) آئے اور انھوں نے اجازت طلب کی آپ (رض) فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو عمر (رض) بھی داخل ہوئے اور انھوں نے بھی ایسے ہی کیا جیسے انھیں دیکھا پھر علی (رض) نے اجازت طلب کی آپ نے فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو چنانچہ علی (رض) نے بھی ایسا ہی کیا جیسے انھیں دیکھا (یعنی انھوں نے بھی کنویں میں ٹانگیں لٹکا دیں) پھر عثمان آئے اور آپ نے فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں بھی جنت کی بشارت دو لیکن انھیں ایک سخت آزمائش سے پالا پڑے گا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کو دیکھا اپنے گھٹنے کپڑے سے ڈھانپ دئیے صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جب ہم آئے آپ نے ایسا نہیں کیا لیکن عثمان آئے آپ نے گھٹنوں پر کپڑا کردیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس شخص سے حیاء کرتا ہوں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں (رواہ ابن عساکر
36268- "أيضا" عن أبي حازم عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في حائط من حوائط المدينة فجاء أبو بكر فاستأذن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: افتح له وبشره بالجنة، فجلس على رأس البئر ودلى رجليه كما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع، ثم جاء عمر فاستأذن،فقال: افتح له وبشره بالجنة، فدخل فصنع مثل ما رآهم صنعوا، ثم استأذن علي، فقال: افتح له وبشره بالجنة، فصنع مثل ما رآهم صنعوا، ثم جاء عثمان، قال: افتح له وبشره بالجنة بعد بلاء شديد يصيبه، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم غطى ركبتيه، فقالوا: يا رسول الله! مالك لم تصنع هذا حين جئنا وصنعته حين جاء عثمان؟ فقال: ألا استحيي من رجل يستحيي منه الملائكة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٦٩۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) حواریوں میں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک حواری ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)
36269- عن أنس أن عثمان أحد الحواريين حواري رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৭৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٠۔۔۔ اوس بن اوس ثقفی کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد رمایا : میں بیٹھا ہوا تھا کہ یکایک جبرائیل امین تشریف لائے مجھے اپنے اوپر سوار کرکے رب تعالیٰ کی جنت میں داخل کردیا میں جنت میں بیٹھا ہوا تھا اچانک میرے ہاتھ میں ایک سیب آگیا وہ دو حصوں میں پھٹ گیا اور اس سے ایک خوبصورت لڑکی ظاہر ہوئی میں نے اس سے زیادہ حسین کوئی لڑکی نہیں دیکھی وہ ایسی تسبیح کر رہی تھی جو نہ اولین نے سنی نہ آخرین نے میں نے کہا : اے لڑکی تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں حورعین ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کے نور سے پیدا کیا ہے میں نے کہا : تو کس کی ملکیت ہے ؟ جواب دیا : میں خلیفہ مظلوم عثمان بن عفان کی ملکیت ہوں۔ (رواہ ابن عساکر والطبرانی)
36270- عن أوس بن أوس الثقفي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بي نا أنا جالس إذ جاءني جبريل فحملني فأدخلني جنة ربي، فبينا أنا جالس في الجنة إذ جعلت في يدي تفاحة فانفلقت التفاحة بنصفين فخرجت منها جارية لم أر جارية أحسن منها حسنا ولا أجمل منها جمالا تسبح تسبيحا لم يسمع الأولون والآخرون بمثله، فقلت، من أنت يا جارية؟ قالت: أنا من الحور العين، خلقني الله تعالى من نور عرشه، فقلت: لمن أنت؟ قالت: أنا للخليفة المظلوم عثمان بن عفان. "كر، طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧١۔۔۔ ” مسند عثمان “ ابوسلمہ بن عبد الرحمن کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) اپنے گھر سے جھانکے جب کہ آپ گھر ہی میں محصور کیے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں اس شخص کو جس نے حراء کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہو جب کہ حرار پہاڑ جھومنے لگا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑ پر پاؤں مارا اور پھر فرمایا : اے حراء رک جاؤ تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے میں آپ کے ساتھ تھا لوگوں نے عثمان (رض) کی بات کی تصدیق کی پھر فرمایا : میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر حاضر تھا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مشرکین اہل مکہ کے پاس بھیجا تھا اور آپ نے فرمایا تھا : یہ ہاتھ میرا ہے اور یہ ہاتھ عثمان کا ہے چنانچہ آپ نے خود میرے لیے بیعت کی چنانچہ لوگوں نے آپ کا واسطہ قبول کیا۔ پھر فرمایا : میں اس شخص کو واسطہ دیتا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر تھا جب آپ نے فرمایا تھا : کون شخص اس گھر کو خرید کر مسجد میں توسیع کرے گا اس کے بدلہ میں اس کے لیے جنت میں گھر ہوگا ؟ چنانچہ میں نے گھر خرید کر مسجد میں توسیع کردی لوگوں نے آپ کا واسطہ قبول کیا۔ پھر عثمان (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جیش عسرت کے موقع پر حاضر تھا آپ نے فرمایا تھا : کون شخص آج کے دن مقبول خرچہ کرے ؟ چنانچہ نصف لشکر کو میں نے اپنے مال سے ساز و سامان فراہم کیا لوگوں نے آپ کا واسطہ قبول کیا : پھر آپ نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جو بئر رومہ کے موقع پر حاضر تھا کہ اس کا پانی مسافروں کیلئے خرید کر صدقہ کردیا جائے میں نے اپنے دل سے وہ کنواں خریدا اور مسافروں کے لیے وقف کردیا لوگوں نے آپ کا یہ واسطہ بھی تسلیم کیا۔ (رواہ احمد بن حنبل والنسائی والشاشی والدار قطنی وابن ابی عاصم و سعید بن المنصور
36271- "مسند عثمان" عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال:أشرف عثمان من القصر وهو محصور فقال: أنشد بالله من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حراء إذا اهتز الجبل فركله1 برجله ثم قال له: اسكن حراء! فليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد - وأنا معه، فانتشد له رجال، فقال: أنشد بالله من شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بيعة الرضوان إذ بعثني إلى المشركين إلى أهل مكة قال: هذه يدي وهذه يد عثمان رضي الله عنه فبايع لي، فانتشد له رجال، قال: أنشد بالله من شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يوسع لنا بهذا البيت في المسجد ببيت له في الجنة؟ فابتعته بمالي فوسعت به، فانتشد له رجال، قال: وأنشد بالله من شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم جيش العسرة قال: من ينفق اليوم نفقة متقبلة؟ فجهزت نصف الجيش من مالي، فانتشد له رجال، قال: وأنشد بالله من شهد رومة يباع ماؤها لابن السبيل، فابتعتها بمالي وأبحتها لابن السبيل، قال: فانتشد له رجال. "حم، ن" والشاشي، "قط" وابن أبي عاصم، "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٢۔۔۔ ” ایضا “ احنف بن قیس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم حج کی نیت سے چلے اور مدینہ سے گزرے ہم مسجد میں داخل ہوئے مسجد میں علی بن ابی طالب زبیر، طلحہ، سعید بن ابی وقاص بیٹھے تھے تھوڑی دیر کے بعد حضرت عثمان (رض) تشریف لائے آپ پر زرد رنگ کی چادر تھی جس سے آپ نے سر ڈھانپ رکھا تھا آپ (رض) نے فرمایا : کیا یہاں علی ہیں لوگوں نے جواب دیا جی ہاں فرمایا کیا یہاں ؟ زبیر ہیں ؟ جواب دیا : جی ہاں فرمایا : کیا یہاں طلحہ (رض) ہیں ؟ جواب دیا : جی ہاں فرمایا : کیا یہاں سعید (رض) ہیں : جواب دیا جی ہاں آپ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جو شخص بئر رومہ خریدے گا اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمائے گا میں نے وہ کنواں اتنے اتنے درہم میں خریدا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے وہ کنواں خرید لیا ہے آپ نے فرمایا : اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کردو اس کا اجر وثواب تمہیں ملے گا صحابہ (رض) ع نہم نے کہا جی ہاں پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تمہیں معلوم کے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جیش عسرہ کے موقع پر لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا : جو شخص لشکر کو سازو سامان سے لیس کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمائے گا : چنانچہ لشکر کو میں نے ساز و سامان سے لیس کیا حتی کہ فوجیوں نے نکیل اور رسی تک کی معمولی چیز بھی گم نہیں پائی صحابہ (رض) نے کہا : جی ہاں حضرت عثمان (رض) نے فرمایا اللہ گواہ رہنا یا اللہ گواہ رہنا پھر آپ واپس لوٹ گئے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والنسائی وابو یعلی وابن خزیمۃ وابن حبان والدار قطنی وابن ابی عاصم فی السنۃ والضیاء)
36272- "أيضا" عن الأحنف بن قيس قال: انطلقنا حجاجا فمررنا بالمدينة فدخلنا المسجد فإذا علي بن أبي طالب والزبير وطلحة وسعد بن أبي وقاص فلم يكن بأسرع من أن جاء عثمان عليه ملاءة صفراء قد قنع بها رأسه فقال: أههنا علي؟ قالوا: نعم، قال: أههنا الزبير؟ قالوا: نعم، قال: أههنا طلحة؟ قالوا: نعم، قال: أههنا سعد؟ قالوا: نعم؛ قال: أنشدكم بالله الذي لا إله إلا هو أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يبتاع مربد بني فلان غفر الله له، فابتعته بعشرين ألفا أو بخمسة وعشرين ألفا، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: إني قد ابتعته، فقال: اجعله في مسجدنا وأجره لك؟ قالوا: نعم؛ قال: أنشدكم بالله الذي لا إله إلا هو أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يبتاع بئر رومة غفر الله له، فابتعتها بكذا وكذا، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: إني قد ابتعتها، فقال: اجعلها سقاية للمسلمين وأجرها لك؟ قالوا: نعم؛ قال: أنشدكم بالله الذي لا إله إلا هو أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نظر في وجوه القوم يوم جيش العسرة فقال: من يجهز هؤلاء غفر الله له، فجهزتهم حتى ما يفقدون خطاما ولا عقالا؟ قالوا: نعم؛ قال اللهم اشهد! اللهم اشهد! اللهم اشهد ثم انصرف. "ش، حم، ن، ع" وابن خزيمة، "حب، قط" وابن أبي عاصم في السنة، "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮২
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٣۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) عثمان (رض) سے کہا : آپ نے آل فلاں کی جائیداد خریدی ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے پانی کا حق وقف کردیا ہے میں تو یہی سمجھتا تھا کہ آپ کے علاوہ اسے کوئی نہیں خرید سکتا۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
36273- عن سعيد بن المسيب قال: قال علي لعثمان: اشتريت ضيعة آل فلان وتوقف رسول الله صلى الله عليه وسلم في مائها حق، أما! إني قد علمت أن لا يشتريها غيرك. "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮৩
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٤۔۔۔ ” مسند عثمان “ قیس بن ابی حازم کی روایت ہے کہ ابوسہلہ نے مجھے حدیث سنائی کہ حضرت عثمان (رض) (رح) نے بلوی والے دن جب آپ محصور تھے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ایک وعدہ کر رکھا ہے میں اس پر صبر کرتا ہوں قیس کہتے ہیں : چنانچہ لوگوں سے آپ کو اس دن صابر دیکھا ہے۔ (رواہ ابن سعد احمد بن حنبل وابن ابی شیبۃ والترمذی وقال : حسن صحیح وابن ابی عاصم فی السنۃ و ابو یعلی وابو نعیم فی الحلیۃ و سعید ابن المنصور)
36274- "مسند عثمان" عن قيس بن أبي حازم قال: حدثني أبو سهلة أن عثمان قال يوم الدار حين حصر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي عهدا فأنا صابر عليه، قال قيس: فكانوا يرونه ذلك اليوم. ابن سعد، "حم، ش، ت" وقال: حسن صحيح، وابن أبي عاصم في السنة، "ع، حل، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮৪
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٥۔۔۔ حضرت عثمان (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میرے بعد تم عنقریب آزمائش سے دو چار ہوگے تم ہرگز قتال نہ کرنا۔ (رواہ ابو یعلی و سعید بن المنصور)
36275- عن عثمان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنك ستبتلى بعدي فلا تقاتلن.
"ع، ص".
"ع، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮৫
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٦۔۔۔ ” ایضاً “ ابوسہلہ مولائے عثمان کی روایت ہے کہ بلوی کے موقع پر میں نے عثمان (رض) سے کہا : اے امیر المومنین آپ بھی جواباً جنگ کریں۔ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں جنگ نہیں کروں گا چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے ایک چیز کا وعدہ کر رکھا ہے اس پر صبر کرتا ہوں۔ (رواہ ابن عساکر)
36276- "أيضا" عن أبي سهلة مولى عثمان قال: قلت لعثمان يوم الدار: قاتل يا أمير المؤمنين! قال: لا والله لا أقاتل! قد وعدني رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرا فأنا صابر عليه. "كر، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮৬
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٧۔۔۔ ” ایضا “ شقیق کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کی ولید بن عقبہ سے ملاقات ہوئی ولید نے عبد الرحمن (رض) سے کہا : آپ کیوں امیر المومنین عثمان (رض) سے کنارہ کش ہوئے عبد الرحمن (رض) نے جواب دیا : عثمان (رض) کو میرا پیغام پہنچا دو کہ میں احد کے موقع پر جنگ سے نہیں بھاگا جنگ بدر میں بھی پیچھے نہیں رہا ہوں اور عمر کی سنت کو بھی نہیں ترک کیا چنانچہ ولید نے جا کر عثمان (رض) کو اس کی خبر کی آپ (رض) نے فرمایا : وہ جو کہتے ہیں کہ میں جنگ اور میں بھاگا نہیں ہوں، مجھے اس کی عار کیوں دلا رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کردیا ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
ان الذین تولو منکم یوم التقی الجمعان انما استر لھم الشیطان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنھم
جن لوگوں نے دو جماعتوں کے باہم مقابل ہونے کے ان روگردانی کی انھیں شیطان نے پھسلا دیا تھا ان کے بعض اعمال کی وجہ سے البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔ اور ان کا یہ کہنا کہ میں بدر میں پیچھے نہیں رہا ہوں میں تو رقیہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیمار داری میں لگا ہوا تھا بالآخر وہ وفات پاگئیں جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مال غنیمت سے حصہ دیا تھا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حصہ دے دیں گویا وہ حاضر تھا اور رہا ان کا یہ کہنا کہ میں نے سنت عمر کو نہیں چھوڑا بلاشبہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی عبدالرحمن اس کی طاقت رکھتے ہیں ان کے پاس جاؤ اور انھیں یہ بتادو ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو یعلی والطبرانی والبغوی فی مسند عثمان والضیاء)
ان الذین تولو منکم یوم التقی الجمعان انما استر لھم الشیطان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنھم
جن لوگوں نے دو جماعتوں کے باہم مقابل ہونے کے ان روگردانی کی انھیں شیطان نے پھسلا دیا تھا ان کے بعض اعمال کی وجہ سے البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔ اور ان کا یہ کہنا کہ میں بدر میں پیچھے نہیں رہا ہوں میں تو رقیہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیمار داری میں لگا ہوا تھا بالآخر وہ وفات پاگئیں جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مال غنیمت سے حصہ دیا تھا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حصہ دے دیں گویا وہ حاضر تھا اور رہا ان کا یہ کہنا کہ میں نے سنت عمر کو نہیں چھوڑا بلاشبہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی عبدالرحمن اس کی طاقت رکھتے ہیں ان کے پاس جاؤ اور انھیں یہ بتادو ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو یعلی والطبرانی والبغوی فی مسند عثمان والضیاء)
36277- "أيضا" عن شقيق قال: لقي عبد الرحمن بن عوف الوليد بن عقبة فقال له الوليد: مالي أراك قد جفوت أمير المؤمنين عثمان؟ فقال له عبد الرحمن: أبلغه أني لم أفر يوم عينين - يعني يوم أحد - ولم أتخلف يوم بدر ولم أترك سنة عمر، قال فانطلق فخبر ذلك عثمان، قال فقال: أما قوله: إني لم أفر يوم عينين، فكيف يعيرني بذلك وقد عفا الله عني؟ فقال: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} وأما قوله: إني تخلفت عن بدر، فإني كنت أمرض رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ماتت وقد ضرب لي رسول الله صلى الله عليه وسلم بسهمي، ومن ضرب له رسول الله صلى الله عليه وسلم بسهمه فقد شهد؛ وأما قوله إني لم أترك سنة عمر، فإني لا أطيقها ولا هو، فأته فحدثه بذلك."حم، ع، طب" والبغوي في مسند عثمان، "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮৭
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٨۔۔۔” ایضاً “ سعید بن عاص کی روایت ہے کہ عائشہ (رض) زوجہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عثمان (رض) نے مجھے حدیث سنائی کہ حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی آپ اپنے بستر پر عائشہ (رض) کی چادر پہنے لیٹے ہوئے تھے ابوبکر (رض) کو اجازت دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حالت میں رہے ابوبکر (رض) نے آنے کی حاجت پوری کی اور پھر واپس لوٹ گئے پھر عمر (رض) نے اجازت طلب کی آپ نے انھیں اجازت دی اور آپ اسی حالت پر برقرار رہے عمر (رض) نے اپنا کام پورا کیا اور پھر واپس لوٹ گئے عثمان (رض) کہتے ہیں پھر میں نے آپ کے پاس داخل ہونے کے لیے اجازت طلب کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ بیٹھے اور عائشہ (رض) سے فرمایا : اپنے اوپر اپنے کپڑے درست کرلو میں نے اپنی حاجت پوری کی اور پھر واپس لوٹ گیا حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا وجہ ہے ابوبکر و عمر (رض) آئے آپ نے حرکت نہیں کی لیکن جب عثمان (رض) آئے آپ فوراً سنبھل گئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عثمان حیا دار شخص ہیں مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے اسی حالت میں انھیں اجازت دی وہ اپنی حالت مجھ تک۔ (کما حقہ) نہیں پہنچا پائیں گے۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم وابو عوانۃ وابو یعلی وابن ابی عاصم والبیہقی)
36278- "أيضا" عن سعيد بن العاص، أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وعثمان حدثاه أن أبا بكر استأذن على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مضجع على فراشه لابس مرط عائشة فأذن لأبي بكر وهو كذلك فقضى إليه حاجته ثم انصرف، ثم استأذن عمر فأذن له وهو على تلك الحال فقضى إليه حاجته ثم انصرف، قال عثمان: ثم استأذنت عليه فجلس وقال لعائشة: أجمعي عليك ثيابك، فقضيت إليه حاجتي ثم انصرفت، قالت عائشة: يا رسول الله! مالي لم أرك فزعت لأبي بكر وعمر كما فزعت لعثمان؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن عثمان رجل حي وإني خشيت إن أذنت له على تلك الحال أن لا يبلغ إلي في حاجته. "حم، م1 ع" وابن أبي عاصم، "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮৮
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٧٩۔۔۔ ” ایضاً “ ابو عبد الرحمن سلمی کی روایت ہے کہ جب عثمان (رض) کا محاصرہ جاری تھا آپ نے بلوائیوں پر گھر کے اوپر سے جھانک کر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یاد کراتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ حراء پہاڑ ہلنے لگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حراء ثابت قدم رہ چونکہ تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے بلوائیوں نے کہا : جی ہاں یاد ہے آپ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یاد کراتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر فرمایا : کون شخص لشکر کے اخراجات برداشت کرے گا جب کہ لوگ تنگدستی کا شکار تھے میں نے ہی لشکر کا سازوسامان سے لیس کیا تھا ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یاد کرواتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رومہ کے کنویں سے کوئی شخص پانی نہیں پی سکتا تھا الا یہ کہ کوئی پیسوں سے خریدلے چنانچہ میں نے وہ کنواں خرید کر مالدار فقیر و مسافر کے لیے وقف کردیا ؟ لوگوں نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا جی ہاں اس کے علاوہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت ساری چیزیں کیں۔ (رواہ الترمذی وقال : حسن صحیح والنسائی والشاشی وابن حزیمۃ وابن حبان والبغوی فی مسند عثمان والحاکم و سعید بن المنصور والدارقطنی والبیہقی)
36279- "أيضا" عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: لما حصر عثمان أشرف عليهم فوق داره ثم قال: أذكركم بالله هل تعلمون أن حراء حين انتفض قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اث بت حراء! فليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد، قالوا: نعم، قال أذكركم بالله هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في جيش العسرة من ينفق نفقة متقبلة - والناس مجهدون معسرون، فجهزت ذلك الجيش؟ قالوا نعم، ثم قال: أذكركم بالله تعلمون أن رومة لم يكن يشرب منها أحد إلا بثمن فابتعتها فجعلتها للغني والفقير وابن السبيل؟ قالوا: اللهم نعم - وأشياء عدها."ت"، قال: حسن صحيح،2 ن والشاشي وابن خزيمة، "حب" والبغوي في مسند عثمان، "ك، ص، قط، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮৯
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٨٠۔۔۔ ثمامثہ بن حزن قشیری کی روایت ہے کہ بلوی کے موقع پر میں موجود تھا جب عثمان (رض) نے لوگوں پر جھانک کر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت ” بشر رومہ “ کے علاوہ مدینہ میں میٹھا پانی کہیں بھی دستیاب نہیں تھا آپ (رض) نے فرمایا : جو شخص روم کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے موقف کرے گا اسے جنت میں اس سے بہتر صلہ ملے گا چنانچہ میں نے کنواں اپنے ذاتی مال سے خریدا ؟ جب کہ تم مجھے آج اس کنویں سے پانی پینے سے روک رہے ہو اور میں سمندر کا پانی پی رہا ہوں لوگوں نے اس کا اعتراف کیا۔ آپ نے پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص آپ فلاں کی زمین خرید کر مسجد میں اضافہ کرے گا اسے جنت میں اس سے بہتر صلہ ملے گا چنانچہ میں نے اپنے ذاتی مال سے وہ زمین خرید کرے مسجد میں اضافہ کردیا حالانکہ تم آج اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے مجھے روک رہے ہو۔ لوگوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا : جی ہاں فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ جیش عسرت کو میں نے اپنے مال سے سازو سامان فراہم کیا : لوگوں نے کہا : جی ہاں : پھر آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے ثبیر پہاڑ پر تھے آپ کے ساتھ ابوبکر عمر اور میں تھا اچانک پہاڑ حرکت میں آگیا حتیٰ کہ حرکت کی وجہ سے پہاڑ سے پتھر گرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑ پر پاؤں مارا اور فرمایا اے ثبیر رک جا تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا دو شہید ہیں۔ لوگوں نے کہا : جی ہاں آپ (رض) نے فرمایا : اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم ان لوگوں نے گواہی دے دی کہ میں شہید ہوں۔ آپ نے تین بار فرمایا۔ (رواہ الترمذی وقال حسن والنسائی وابو یعلی وابن خزیمہ والدار قطنی وابن ابی عامر والبیہقی والضیاء)
36280- عن ثمامة بن حزن القشيري قال: شهدت الدار حين أشرف عليهم عثمان فقال: أنشدكم بالله وبالإسلام هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بئر رومة فقال: من يشتري بئر رومة فيجعل دلوه مع دلاء المسلمين بخير له منها في الجنة، فاشتريتها من صلب مالي؟ فأنتم اليوم تمنعوني أن أشرب منها حتى أشرب من ماء البحر! قالوا: اللهم نعم، فقال: أنشدكم بالله والإسلام هل تعلمون أن المسجد ضاق بأهله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يشتري بقعة آل فلان فيزيدها في المسجد بخير له منها في الجنة، فاشتريتها من صلب مالي؟ فأنتم اليوم تمنعوني أن أصلي فيها ركعتين! قالوا: اللهم نعم، قال: أنشدكم بالله وبالإسلام هل تعلمون أني جهزت جيش العسرة من مالي؟ قالوا: اللهم نعم، قال: أنشدكم بالله والإسلام هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على ثبير مكة ومعه أبو بكر وعمر وأنا فتحرك الجبل حتى تساقطت حجارته بالحضيض قال: فركضه برجله فقال: اسكن ثبير! فإنما عليك نبي وصديق وشهيدان؟ قالوا: اللهم نعم، قال: الله أكبر شهدوا لي ورب الكعبة أني شهيد ثلاثا. "ت" وقال حسن1 ن، ع وابن خزيمة، "قط" وابن أبي عامر، "ق، ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯০
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٨١۔۔۔ حضرت عثمان (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اپنی دوسری بیٹی کی شادی مجھے سے کرائی ایک روایت میں ہے کہ آپ کی دوسری بیٹی کی وفات کے بعد مجھ سے فرمایا : اگر میری دس (١٠) بیٹیاں ہوتیں میں ایک کے بعد دوسری کی شادی تم سے کروا دیتا یقیناً میں تم سے رواضی ہوں۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط والدار قطنی فی الافراد وابن عساکر
36281- عن عثمان قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم حين زوجني ابنته الأخرى وفي لفظ: بعد موت ابنته الأخيرة - يا عثمان! لو أن عندي عشرا لزوجتكهن واحدة بعد واحدة فإني عنك راض. "طس1، قط" في الأفراد، "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯১
فضائل کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل حضرت عثمان بن عفان ذوالنورین (رض)
٣٦٢٨٢۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) نے حضرت عبد الرحمن بن عوف پر آواز بلند کردی عبد الرحمن (رض) نے ان سے فرمایا : تم اپنی آواز کیوں بلند کرتے ہو حالانکہ میں بدر میں شریک تھا جب کہ تم شریک نہیں تھے میں نے۔ (حدیبیہ کے موقع پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی اور میں نے (عثمان نے) بیعت نہیں کی سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مشرکین کے پاس بھیجا تھا تمہیں اس کا علم بھی ہے جب مجھے تاخیر ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دائیاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ دیا اور فرمایا : یہ ہاتھ عثمان بن عفان کا ہے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بایاں ہاتھ میرے دائیں ہاتھ سے افضل ہے اور رہا تمہارا یہ کہنا کہ ” تم غزوہ احد میں بھاگ گئے تھے میں نہیں بھاگا سو اس متعلق اللہ تعالیٰ فرمایا ہے :
” ان الذین تولو منکم یوم التقی الجمعان انما استزلھم الشیان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنم “
بیشک تم میں سے جن لوگوں نے دو جماعتوں کے باہم مقابل ہونے کے دن روگردانی کی تو ان کے بعض اعمال کی وجہ سے شیطان نے انھیں پھیلا دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
لہٰذا آپ مجھے اس گناہ کے ذریعے کیوں رسوا کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کردیا ہے۔ (رواہ البزار وابن عساکر
” ان الذین تولو منکم یوم التقی الجمعان انما استزلھم الشیان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنم “
بیشک تم میں سے جن لوگوں نے دو جماعتوں کے باہم مقابل ہونے کے دن روگردانی کی تو ان کے بعض اعمال کی وجہ سے شیطان نے انھیں پھیلا دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
لہٰذا آپ مجھے اس گناہ کے ذریعے کیوں رسوا کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کردیا ہے۔ (رواہ البزار وابن عساکر
36282- "أيضا" عن سعيد بن المسيب قال: رفع عثمان صوته على عبد الرحمن بن عوف فقال له عبد الرحمن: لأي شيء ترفع صوتك وقد شهدت بدرا ولم تشهد، وبايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم تبايع، وفررت يوم أحد ولم أفر؟ فقال له عثمان: أما قولك: أنك شهدت بدرا ولم أشهد، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفني على ابنته وضرب لي بسهم وأعطاني أجري، وأما قولك: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم أبايع، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثني إلى أناس من المشركين وقد علمت ذلك فلما احتبست ضرب بيمينه على شماله فقال: هذه لعثمان بن عفان، فشمال رسول الله صلى الله عليه وسلم خير من يميني، وأما قولك: فررت يوم أحد ولم أفر، فإن الله تعالى قال: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} فلم تعيرني بذنب قد عفا الله عنه.البزار، "كر"
তাহকীক: